63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsروح القرآن

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں

اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّـکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ م وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّـکَ لَرَسُوْلُـہٗ ط وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ (المنافقون : 1) (جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ ) علامہ ابن منظور لفظ منافق کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یسمی المنافق منافقا للنفق وھوالسرب فی الارض وقیل انما سمی منافقالانہ نافق کالیربوع وھو دخولہ نافقاء ہ ولہ جحراخریقال لہ القاصعاء … وھویدخل فی النافقاء ویخرج من القاصعاء اویدخل فی القاصعاء ویخرج من النافقاء۔ (لسان العرب) لفظِ منافق کی وضاحت منافق نفق سے ماخوذ ہے، جس کا معنی سرنگ ہے۔ اور بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لومڑی اپنے بل کے دو منہ رکھتی۔ ایک کا نام نافقاء اور دوسرے کا نام قاصعاء ہے۔ ایک طرف سے وہ داخل ہوتی ہے۔ جب کوئی شکاری اس کا تعاقب کرتا ہے تو دوسری طرف سے نکل جاتی ہے۔ اور اگر دوسری جانب سے اس کا کوئی تعاقب کرتا ہے تو پہلے سوراخ سے نکل جاتی ہے۔ کیونکہ اس کے بل کی ایک طرف کا نام نافقاء ہے، اسی سے منافق ماخوذ ہے۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک کفر جو اس کے دل میں ہے دوسرا ایمان جو اس کی زبان پر ہے۔ اگر کفر سے اسے کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اسلام کے باعث اسے کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو تو فوراً اپنے کافر ہونے کا اعلان کردیتا ہے۔ یعنی وہ حقیقت میں عقیدے کا نہیں، مفاد کا آدمی ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کی زبان اور دل میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ وہ دل میں اپنے مفادات کی پرورش کرتا رہتا ہے اور زبان پر اس بات کو لاتا ہے جس سے اس کے دل میں اگنے والی فصل کی آبیاری ہوسکے۔ جب تک نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے تو وہاں آپ کو جن مخالفین سے واسطہ پڑا وہ زبان اور دل دونوں سے آپ کے مخالف تھے، جس کو شریعت کی زبان میں کافر کہا جاتا ہے۔ وہ زبان سے بھی آپ کو غلط کہتے تھے اور دل میں بھی ان کا یہی عقیدہ تھا۔ وہاں منافقین کو کوئی وجود نہیں تھا۔ اس لیے کہ نفاق کا مرض وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دل کی بات کو زبان پر لانا مشکل ہوجائے۔ مکہ مکرمہ میں ایسی کوئی مشکل نہیں تھی۔ کیونکہ وہاں جو شخص مسلمان ہوتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس ماحول میں اسلام کی قبولیت کا اعلان کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوست دشمن ہوجاتے ہیں اور اپنے اجنبی بن جاتے ہیں اور مکہ کی سرزمین نفرت کے شعلے اگلنے لگتی ہے۔ ایسے حالات میں کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس اسلام کا دعویٰ کیوں کرے گا جب تک اسلام اس کے دل میں نہیں اترے گا۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ میں نے جیسے ہی زبان سے ایمان کا اظہار کیا تو اسی وقت مصائب میری طرف متوجہ ہوجائیں گے۔ لیکن جب نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ایک مختصر عرصے میں اوس و خزرج کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔ اور جو لوگ اسلام کے بارے میں یکسو نہ ہوسکے ان کے لیے اس ماحول میں رہتے ہوئے اور اوس و خزرج سے تعلق کے باوجود مخالفت کرنا ممکن نہ رہا۔ چناچہ انھوں نے نفاق کا راستہ اختیار کیا کہ زبان سے وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت کا اعتراف کرتے، قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے اور تمام ضروریاتِ دین پر ایمان کا دعویٰ کرتے۔ لیکن دل سے ان میں سے ہر بات کی تردید کرتے۔ اور پیش نظر صرف یہ تھا کہ اگر اسلام کو غلبہ نصیب ہو تو وہ مفاد کے حصول میں پیش پیش رہیں۔ اور اگر خدانخواستہ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے اور کافروں کے غلبے کی صورت پیدا ہو تو فوراً کفار سے اپنے تعلق کا حوالہ دے کر اپنے مفادات محفوظ کرلیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا جارہا ہے۔ اور ایک طرح سے ان کے چہرے کا نقاب کھینچا جارہا ہے اور ان کی اصل حقیقت کو ظاہر کیا جارہا ہے کہ جب یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آیت میں شہادت کا مفہوم عربی زبان میں شہادت کا لفظ قسم کے مفہوم کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے جب ایک شخص اَشْھَدُ کہہ کے بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قسم کھا کر ایک بات کا اقرار کرتا ہے۔ اور ویسے بھی اہل عرب میں یہ طریقہ رہا ہے کہ گواہی ہمیشہ قسم سے مؤکد کرکے کھائی جاتی ہے۔ اور منافقین کا تو بالخصوص یہ معاملہ تھا کہ چونکہ ان کی باتوں پر شبہ کا اظہار کیا جاتا تھا اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر اپنے مومن اور مسلم ہونے کا یقین دلاتے تھے۔ اور انھیں خیال تھا کہ جب ایک آدمی قسم کھا کر بات کرتا ہے تو اس کا اعتبار کرلیا جاتا ہے۔ چناچہ جب وہ یہ کہتے تھے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں۔ چناچہ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو وہ تو ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے لیے گواہی دینے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔ یعنی ان کی یہ خبر کہ آپ سچے ہیں، یہ تو بالکل سچ ہے، لیکن وہ اس کا اپنے دل میں یقین نہیں رکھتے اس لیے خبر کے سچا ہونے کے باوجود ہم انھیں سچا نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ سچ کے لیے ضروری ہے کہ وہ امرواقعہ کے مطابق بھی ہو اور کہنے والے کے عقیدے کے بھی موافق ہو۔ اور اگر زبان کے اقرار اور دل کی تصدیق میں منافات ہوگی تو وہ بات سچ ہونے کے باوجود بھی کہنے والا سچا نہیں، جھوٹا کہلائے گا۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے وہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دوسروں کو روکتے ہیں، بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کررہے ہیں

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِنَّھُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المنافقون : 2) (انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے وہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دوسروں کو روکتے ہیں، بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کررہے ہیں۔ ) قسم کو سپر بنانے کی وجہ منافقین کے دل میں چونکہ کھوٹ بلکہ دشمنی تھی اس لیے جب بھی انھیں موقع ملتا وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے۔ یہود سے درپردہ ان کے روابط بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھے۔ دل کا کھوٹ ہمیشہ آدمی کو اپنے بارے میں بھی یکسو نہیں ہونے دیتا، اسے یہ گمان رہتا ہے کہ ممکن ہے کہ دوسرے لوگ میرے بارے میں بری رائے رکھتے ہوں۔ اس لیے جب بھی اسے موقع ملتا ہے وہ اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لیے قسمیں کھا کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہتا ہے۔ اور اگر کبھی آنحضرت ﷺ یا مسلمانوں کو ان کی کسی بات پر شک گزرتا تھا تو وہ قسموں کے ذریعے ان کے شک کو دور کرتے تھے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کے سامنے ایک ڈھال بنا رکھا تھا۔ اور ان ہی قسموں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر آگے بڑھنے سے رک گئے تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جب قسموں کے ذریعے سے اپنی وفاداریوں کا یقین دلایا جاسکتا ہے تو پھر آگے بڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ لفظ صَدٌّ جس طرح لازم استعمال ہوتا ہے، اسی طرح متعدی بھی آتا ہے۔ یعنی اس کا معنی رکنا بھی ہے اور روکنا بھی۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح وہ مجرد قسموں پر بھروسہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے، اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے دوسروں کو روکنے کی کوشش بھی کرتے تھے کہ جب کبھی کوئی شخص ان سے پوچھتا تو کہ آپ نے بھی ماشاء اللہ اسلام قبول کر رکھا ہے اور اپنے آپ کو مومن اور مسلم کہتے ہو تو تمہاری اسلام کے بارے میں کیا رائے ہے، ہم آپ پر اعتماد کرتے ہوئے آپ سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ تو وہ انھیں یہ کہہ کر اسلام سے متنفر کرتے تھے کہ ہم تو خود بڑے شوق سے اس دین میں شامل ہوئے تھے، لیکن کئی سال گزر چکے ہیں ہمیں تو آج تک اس میں کوئی اچھی چیز نظر نہیں آئی، ہم تو خود بڑے دلبرداشتہ ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اس جال میں پھنسنے سے بچائو۔ اس طرح سے وہ دوسروں کو اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ کس قدر بری ہے وہ حرکت جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ نہ صرف خود اسلام کے بارے میں یکسو نہیں، لیکن مسلمان انھیں برابر برداشت کررہے ہیں۔ اور پھر اسی کو ذریعہ بنا کر دوسروں کو بھی اسلام کے قریب آنے سے روکتے ہیں۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، پس وہ کچھ نہیں سمجھتے

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَھُمْ لاَ یَفْقَھُوْنَ ۔ (المنافقون : 3) (یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، پس وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ ) منافقین کے نفاق کا سبب ان کے دلوں پر مہر لگ جانا ہے منافقین کے جس رویئے کا ذکر اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے یہ اس کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ان کا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔ اور مہر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص فکرِسلیم سے محروم ہوجاتا ہے۔ صحیح بات کو سمجھنے کے دلائل اس کے سامنے ہوتے ہیں، لیکن وہ ان سے صحیح بات کو اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کا طرزعمل قدم قدم پر ٹھوکروں کا شکار ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا۔ اس نے جو رویہ بنا رکھا ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے وہ تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے ان کے دلوں پر مہر لگنے کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ انھوں نے پہلے ایمان قبول کیا اور پھر کفر کی راہ اختیار کرلی۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انھوں نے واقعی اخلاص کے ساتھ ایمان قبول کیا تھا لیکن پھر وہ اس پر مطمئن نہ رہ سکے تو انھوں نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ایمان لانا محض اس وجہ سے تھا کہ اوس و خزرج میں رہتے ہوئے ایمان نہ لاکر زندگی گزارنا ممکن نہ تھا، کیونکہ ان دونوں قبیلوں کی اکثریت مسلمان ہوچکی تھی۔ اب کسی میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ کھلم کھلم کفر کا رویہ اختیار کرتا۔ اور پھر ان کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ ایمان کا لبادہ اوڑھ کر انھیں مسلمانوں کو بدگمان کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔ اس لیے زبان سے انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار کیا، لیکن ان کا دل ویسے کا ویسے کافر رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایمان لا کر اسلام کے قریب آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روشنی کے سفر پر چل نکلا ہے۔ اور پھر اگر وہ عزت و احترام سے اس سفر کو جاری رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روشنی میں اضافہ فرماتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس میں یکسو نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس طرزعمل اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس روشنی سے محروم کردیتا ہے۔ یہی کچھ ان کے ساتھ ہوا۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ صحیح بات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اس آیت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی گمراہی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگانے سے نہیں ہوتا کہ جس سے یہ سمجھا جائے کہ بعض دفعہ انسان کو بےسبب بھی قبولیتِ ایمان سے محروم کردیا جاتا ہے، تو اب اس کا ایمان نہ لانا ظاہر ہے کہ ایک مجبوری ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان جب اپنے غلط طرزعمل پر اصرار کرتا اور افہام و تفہیم کی ہر کوشش کو رد کردیتا ہے۔ تو تب اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کردیتا ہے اور ہر اچھی بات کی توفیق اس سے سلب کرلی جاتی ہے۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوتے اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ توجہ سے ان کی بات سنتے ہیں، مگر ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندے ہیں جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہے، وہ ہر زور کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، اصلی دشمن وہی ہیں، پس ان سے ہوشیار رہئے، اللہ ان کو غارت کرے کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں

وَاِذَا رَاَیْتَھُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُھُمْ ط وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ ط کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ط یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْھِمْ ط ھُمُ الْعَدُوُّفَاحْذَرْھُمْ ط قٰـتَلَھُمُ اللّٰہُ ز اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (المنافقون : 4) (اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوتے اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ توجہ سے ان کی بات سنتے ہیں، مگر ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندے ہیں جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہے، وہ ہر زور کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، اصلی دشمن وہی ہیں، پس ان سے ہوشیار رہئے، اللہ ان کو غارت کرے کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں۔ ) منافقین کی تصویر یہ ان منافقین کی مکمل تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چند جملوں میں ان کا ظاہر بھی نمایاں کردیا گیا ہے اور باطن بھی کھول دیا گیا ہے۔ پہلے تو ان فقروں میں ان کی جسمانی ساخت اور ظاہری شخصیت کو نمایاں کیا گیا ہے کہ اگر آپ ان کو دیکھیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔ اور یہی شان ان کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ تاریخ میں خاص طور پر عبداللہ بن ابی کے ساتھ جدبن قیس اور معقب بن قشیر کا ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ بڑے خوبصورت لوگ تھے، نگاہیں ان کے چہروں پر جم کر رہ جاتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت چرب زبان بھی تھے۔ یعنی طلاقتِ لسانی میں اپنا جواب آپ تھے۔ ان کی گفتگو سن کر انسان اش اش کر اٹھتا تھا۔ ان کی دلکشی اور چرب زبانی کا سبب ان کے مالی حالات اور ان کی فارغ البالی تھی۔ مال و دولت کے حصول میں ان کے یہاں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ تھی۔ عبداللہ بن ابی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو باقاعدہ ایک چکلہ چلاتا تھا اور عورتوں کی آبرو کی کمائی کھاتا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ انتہا درجے کے بخیل بھی تھے۔ اس دولت و رفاہیت نے ان کی شخصیتوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اخلاص سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اپنا اعتبار پیدا کرنے کے لیے سارا زور چرب زبانی پر تھا۔ جب بھی ایسا موقع آتا تو اسلام کی حمیت و حمایت میں اس طرح زوردار تقریر کرتے کہ سننے والے مبہوت ہو کر رہ جاتے۔ اور اپنے دل کا روگ کو چھپانے کے لیے زیادہ سے زیادہ زور جادو بیانی پر صرف کرتے۔ لیکن یہ سب ان کی جسمانی شخصیت کے آثار تھے۔ اس کے بعد ان کی باطنی شخصیت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ یعنی ان کی ظاہری شخصیت سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت باوقار، مردِمیدان، بات کے پکے اور عقیدے پر جان دینے والے لوگ ہیں۔ لیکن ان کے باطن کا حال یہ ہے کہ ان کی حیثیت ایسی بیکار لکڑیوں جیسی ہے جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہو۔ کیونکہ لکڑی جب تک فائدہ دینے کے قابل ہوتی ہے تو اسے کسی چھت، کسی دروازے یا کسی فرنیچر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ بیکار ہوجاتی ہے تو اسے دیوار کے ساتھ لگا کر کندے کی شکل میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب یہ لکڑی سوائے جلانے کے اور کسی کام کی نہیں۔ یہ ظاہری طور پر کیسی بھی موثر شخصیت کے حامل ہوں لیکن ان کے دل اور ضمیر مردہ ہوچکے تھے۔ اور انسان کی اصل شخصیت دل اور ضمیر کی زندگی سے عبارت ہے جسم کی توانائی سے نہیں۔ جسمانی ساخت میں تو بیشمار مخلوقات ہیں جو انسان سے بڑھ کر ہیں۔ لیکن روحانی زندگی اور دل کی توانائی صرف انسان کو عطا کی گئی ہے۔ اور یہی اس کی اصل شخصیت ہے۔ ٹھیک کہا اقبال نے : دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ دلِ بیدار پیدا کر، کہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری ان کے باطن کی کمزوری کا حال یہ ہے کہ کوئی بڑی آواز بھی ان کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ صَیْحَۃ کے لغوی معنی تو چیخ کے ہیں، لیکن یہ کسی بھی بڑی آواز یا کسی خطرے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے طلاقتِ لسانی سے چاہے کیسا بھی اپنے آپ کو بہادر ثابت کریں اور یہ یقین دلا دیں کہ ہم ہر میدان میں ثابت قدم رہنے والے لوگ ہیں اور کوئی سی بھی بڑی سے بڑی قربانی ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ پرلے درجے کے بزدل ہیں۔ کہیں سے بھی خطرے کی گھنٹی بجے یہ اس طرح سہم جاتے ہیں جیسے کبوتر خطرے کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور ہر خطرے کو یہ اپنے گھر پر گرنے والی بجلی سمجھتے ہیں۔ اس لیے ایسے شخص سے کسی حقیقی خطرے میں جواں مردی دکھانے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منافقوں کا طرزعمل یہ تھا کہ وہ اپنا اعتبار جمانے کے لیے بعض دفعہ دوسروں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم سے بڑا خیرخواہ کوئی نہیں، باقی ہر شخص کی خیرخواہی میں کوئی نہ کوئی کمی باقی ہے۔ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کے اصلی دشمن دوسرے لوگ نہیں یہ ہیں۔ آپ کو ان سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں ان سے اظہارِبیزاری بھی کیا گیا ہے اور ان کے حال پر اظہارِافسوس بھی فرمایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے، کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں۔ یعنی یہ لوگ ہر صحیح بات کو قبول کرنے سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ اس لیے ان کا ہر قدم الٹا پڑ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ ان کا نفاق کھلتا جارہا ہے۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کرے تو وہ اپنے سر جھٹکتے ہیں، اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ حاضری سے رک رہے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کررہے ہیں

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْلَـکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوْا رُئُ وْسَہُمْ وَرَاَیْتَھُمْ یَصْدُّوْنَ وَھُمْ مُّسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ (المنافقون : 5) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کرے تو وہ اپنے سر جھٹکتے ہیں، اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ حاضری سے رک رہے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کررہے ہیں۔ ) منافقین کی بدنصیبی منافقین کی بدنصیبی کا حال یہ ہے کہ جب ان کے نفاق کا پردہ مختلف واقعات نے چاک کر ڈالا، بالخصوص غزوہ بنو مصطلق میں پیش آنے والے واقعہ نے جس طرح ان کے خبث باطن کو نمایاں کیا کہ تنگ آکر بعض اصحابِ کبار نے آنحضرت ﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ عبداللہ بن ابی کے قتل کا حکم دیں۔ تو بعض خیرخواہوں نے عبداللہ بن ابی کو مشورہ دیا کہ جا کر آنحضرت ﷺ سے معافی مانگ لو۔ وہ بہت کریم النفس ہیں، وہ ضرور تمہیں معاف کردیں گے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعا بھی کریں گے کہ وہ تمہارے گناہ بخش دے۔ تو اس نے بڑے غرور اور گھمنڈ سے سر کو جھٹکتے ہوئے یہ کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا، ہم اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے ان کے پاس کسی قیمت پر نہیں جائیں گے۔ اور اس کے لیے قرآن کریم نے جن بلیغ الفاظ میں ان کے انکار کی تصویر کھینچی ہے اس نے ان کے ظاہر اور باطن دونوں کو نمایاں کردیا ہے۔ اور اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر نہ کردی گئی ہوتی تو انکار کی یہ کیفیت ان میں کبھی پیدا نہ ہوتی۔ کیونکہ انسان کے اندر جو اخلاقی حس رکھی گئی ہے وہ کبھی نہ کبھی انسان کو جھکنے اور پھر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن ان منافقین کا اس طرح سے سر کو جھٹکنا اور پھر نہایت تکبر سے آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں جانے سے انکار کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ یہ لوگ واقعی دل کے نور سے محروم کردیئے گئے تھے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

یکساں ہے ان کے لیے آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا

سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ ط لَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المنافقون : 6) (یکساں ہے ان کے لیے آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔ ) منافقین کا طرزعمل ان کی محرومی کا باعث ہوا منافقین نے جس غرور اور تکبر سے آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں آنے سے انکار کیا تھا اس کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ آپ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، اللہ تعالیٰ ان کو کبھی معاف کرنے والا نہیں۔ سورة التوبہ جو سورة المنفقون کے تین سال بعد نازل ہوئی ہے اس میں پروردگار نے زیادہ تاکید کے ساتھ منافقین کے بارے میں فرمایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اگر آپ 70 مرتبہ بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات یوں تو اپنے بندوں کے لیے نہایت مہربان ہے۔ بڑے سے بڑا گنہگار بھی اس کے دروازے سے محروم نہیں جاتا۔ لیکن جب کوئی شخص اپنے گناہوں پر شرم سار ہونے کی بجائے اکڑتا اور تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ اور نبی کریم ﷺ بھی اگر اس شخص کے بارے میں استغفار کریں، تو اللہ تعالیٰ آپ کے استغفار کو بھی ان کے حق میں سندقبولیت عطا نہیں کرتا، کیونکہ انھوں نے نہ صرف آپ پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے بلکہ آپ کی توہین بھی کی ہے۔ آپ تو کریم النفس ہونے کی وجہ سے اپنی توہین کو معاف بھی فرما دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس جرم کو معاف نہیں فرماتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ گنہگاروں کو اس وقت معاف کرتا ہے جب وہ اس سے معافی طلب کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے تکبر کا یہ عالم ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بارگاہ میں بھی جانے کے لیے تیار نہ ہوں تو ایسے گنہگاروں یعنی فاسقوں کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت نہیں دیتا اور نہ ان کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تم خرچ نہ کرو ان لوگوں پر جو اللہ کے رسول کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائیں اور اللہ ہی کے ہیں آسمان و زمین کے خزانے، لیکن منافق سمجھتے نہیں

ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَرَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا ط وَلِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لاَ یَفْقَھُوْنَ ۔ (المنافقون : 7) (یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تم خرچ نہ کرو ان لوگوں پر جو اللہ کے رسول کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائیں اور اللہ ہی کے ہیں آسمان و زمین کے خزانے، لیکن منافق سمجھتے نہیں۔ ) ان محرومین کا گھنائونا کردار اوپر کی آیت میں جن لوگوں پر پروردگار نے غضب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ چاہیں ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا۔ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں اور انھوں نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب نازل ہورہا ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے استغفار کے باوجود مغفرت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک غریب مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان پیدا ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں جو ہر زہ سرائی کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنو مصطلق کے چشمے پر پانی لیتے ہوئے ایک انصاری اور ایک مہاجر میں تلخ کلامی ہوگئی اور مہاجر جو حضرت عمر فاروق ( رض) کا ملازم تھا اس نے انصاری کو لات کھینچ ماری۔ اس پر دونوں نے اپنے اپنے گروہوں کو پکارا۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف سے لوگ تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہوگئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے بروقت پہنچ جانے پر اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ٹھنڈا کردیا۔ لیکن اس موقع پر عبداللہ بن ابی نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کیخلاف انصار کے جذبات بھڑکانے کے لیے نہایت زہر آلود فقرے کہے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سَمِّن کلبُک یاکلک کہ اپنے کتے کو پال کر موٹا کر تاکہ وہ تجھے ہی کاٹ کھائے۔ اور اس نے انصار کو ملامت کرتے ہوئے کہا، یہ تمہاری اپنی غلطی کا خمیازہ ہے جو تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تم نے اپنے گھر میں ان کو اتارا اور اپنے مال میں ان کو حصہ دار بنایا۔ اللہ کی قسم کہ اگر تم ان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے تو یہ چلتے پھرتے نظر آتے۔ حضرت زید بن ارقم جو ابھی نوعمر لڑکے تھے انھوں نے اپنے چچا کے واسطے سے نبی کریم ﷺ تک بات پہنچائی۔ لیکن عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ کے استفسار پر صاف انکار کردیا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، اور اس پر قسم کھا گیا۔ تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے حضرت زید بن ارقم کی روایت کے مطابق خود انھیں ملامت کی۔ حتیٰ کہ انھیں یہ محسوس ہوا کہ حضور ﷺ نے بھی شاید انھیں جھوٹا سمجھا اور عبداللہ بن ابی کو سچا سمجھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس چیز سے مجھے ایسا غم لاحق ہوا جو عمر بھر کبھی نہیں ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنے خیمے میں بیٹھ گیا۔ پھر جب یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا : لڑکے کا کان سچا تھا، اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تصدیق فرما دی ہے۔ آیتِ کریمہ میں عبداللہ کے ان ہی فقروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جن کے دلوں میں ایسا زہر بھرا ہوا ہو کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کے خیالات رکھتے ہوں، وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ آپ کے استغفار کو قبول فرما لے۔ مزید فرمایا کہ ان منافقوں کو اس بات کا علم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، وہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ لیکن یہ نادان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم شاید مہاجرین کے رازق بن گئے ہیں، اگر ہم ان کی مدد کرنا چھوڑ دیں گے تو وہ بھوک سے تنگ آکر یہاں سے بھاگ جائیں گے۔ یہ سراسر ان کی حماقت کا ظہور ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور وہ ہر طرح کی فہم و فراست سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں میں ایمانی غیرت کے کمزور ہونے کے باعث منافقین پیدا ہونے لگتے ہیں تو مسلمانوں کے حالات کی خرابی کے وقت ان کے نفاق کا اظہار ہمیشہ اسی طرح ہوتا ہے اور یہ منافقین مدینہ کی ایسی وراثت ہے جس کو ہر دور کے منافقین نے سنبھالا ہے۔ اُندلس کے آخری دنوں کے حالات میں آپ دیکھیں گے کہ وہ لوگ جو عیسائیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے وہ بار بار مسلمانوں کو اور مسلمان حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے مہاجرین اور مسلمانوں کی عزت کی خاطر لڑنے والے مجاہدین کی مدد کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں، کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے ہمارے تعلقات غیرمسلم حکومتوں سے کشیدہ ہورہے ہیں۔ چند سال پہلے جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور ہم نے یہ سمجھ کر کہ روس درحقیقت گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے، اس لیے اس کے حملے کا اصل ہدف افغانستان نہیں بلکہ پاکستان ہے۔ ہم اگر اس عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے افغانستان میں روکنا چاہیے۔ چناچہ جب جنگ تیز ہوئی اور لاکھوں مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا اور آبادیوں پر بڑھتی ہوئی بمباری کی وجہ سے لاکھوں مہاجرین افغانستان سے پاکستان پہنچ گئے تو ہمارے یہاں کے پانچویں کلام نے اخبارات میں یہی دہائی دینا شروع کردی کہ یہ لوگ ہمارے وسائل نگل جائیں گے اور ہم ایک خطرناک قحط کا شکار ہوجائیں گے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اگر ہم اس تباہی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں مہاجرین کو یہاں سے نکال دینا چاہیے۔ اور اس کی صورت یہی ہے کہ ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا جائے تو تنگ آکر خود یہاں سے نکل جائیں گے۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو، تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور ان کے رسول اور مومنین کے لیے ہے، لیکن یہ منافقین نہیں جانتے

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَـآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لِیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ ط وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المنافقون : 8) (وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو، تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور ان کے رسول اور مومنین کے لیے ہے، لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل اسی موقع پر دوسری بات جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی وہ یہ تھی کہ اب ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے ہمارے لوگوں کو مارنے لگیں، اب مدینہ جانے کی دیر ہے وہاں پہنچتے ہیں پہلا کام یہ کرنا ہے کہ جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا۔ الفاظ چونکہ واحد پر دلالت کرتے ہیں۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں عزت والا ہوں اور نبی کریم ﷺ (نعوذباللہ من ذالک) ذلیل ہیں۔ تو میں مدینہ پہنچ کر ان کو وہاں سے نکال دوں گا۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ رَجَعْنَـآ جمع کا صیغہ ہے، اس پر عطف کرتے ہوئے جمع کے معنی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم میں سے جو عزت والے ہیں وہ ان لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے جو ذلیل ہیں۔ تو اشارہ منافقین اور مہاجرین کی طرف تھا۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس نے بھی وہی جاہلی نعرہ لگایا جو اہل عرب کا شعار تھا، کہ اس نے ایک طرف انصار کو رکھا جو اصل مدینے کے رہنے والے تھے اور دوسری طرف مہاجرین کو، جو باہر سے آئے ہوئے تھے۔ اس طرح سے اس نے انصار کو مہاجرین کیخلاف اکسایا۔ پروردگار نے اس نعرہ ٔ جاہلی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ حقیقی عزت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے۔ وہ عزت کیسی جو چند دنوں میں خاک میں ملنے والی ہے۔ کیونکہ وہ وقت دور نہیں جب اسلام کا غلبہ ہونے والا ہے اور دشمن ایک ایک کرکے سرنگوں ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں وہ حق کو غلبہ دیا کرتا ہے اور باطل اس کے سامنے ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کا حوالہ سورة المجادلہ میں بھی دیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ اُوْلٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّـیْنَ ۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کررہے ہیں ذلیل ہونے والے وہی بنیں گے، اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔ “
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں گے وہی خسارے میں رہنے والے ہیں

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُـکُمْ وَالَآ اَوْلاَ دُکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (المنافقون : 9) (اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں گے وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ ) مسلمانوں کو تنبیہ اب عام مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی جارہی ہے کہ ان منافقین کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد کی محبت میں ایسے ڈوبے کہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے، تم ان کی تقلید نہ کرنا۔ کیونکہ مال و دولت کی محبت جب حد سے گزر جاتی ہے تو انسان کے اندر آخرت کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ نہیں رہتا۔ اس کے پیش نظر ہمیشہ اپنی ذات رہتی ہے یا اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر۔ وہ ہر معاملے کو ان ہی دونوں حوالوں سے دیکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ یعنی اسے کبھی خیال نہیں آتا کہ میں جو سوچ رہا ہوں یا جو کرنے کی فکر میں ہوں کیا اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوگا یا ناراض ہوگا۔ اور آخرت میں، میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا جواب دے سکوں گا یا نہیں دے سکوں گا۔ اور اس میں مزید خطرے کی بات یہ ہے کہ مال و دولت کی محبت صرف اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہی غافل نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے انجام سے بھی بےنیاز کردیتی ہے۔ اب اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں خواہشات کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہوں یا شیطان کے اشاروں پر چل رہا ہوں۔ کیونکہ اسے تو صرف مال و دولت میں اضافہ کرنا ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کے لیے اسے کیا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ منافقین کو اسی مرض نے تباہ کیا ہے۔ اس لیے تم ان کا انجام دیکھ کر اپنے انجام کو بچانے کی فکر کرو۔ کیونکہ جو شخص یا جو قوم ایسا کرتی ہے یعنی مال و دولت کو اپنا مقصود بنا لیتی ہے انھیں نامرادی اور محرومی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ایسے ہی لوگ حقیقت میں خسارے میں رہنے والے ہیں۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے پھر وہ حسرت سے کہے، اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا

وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّارَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ لا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصٰلِحِیْنَ ۔ (المنافقون : 10) (اور خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے پھر وہ حسرت سے کہے، اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا۔ ) حُبِ دنیا کے نقصانات سے بچنے کا طریقہ مال و دولت کی محبت کے نقصانات سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ کیونکہ مال خرچ کرنے سے تمہارے دل میں یہ خیال یقین بن کر اتر جائے گا کہ اس مال کے تم مالک نہیں ہو بلکہ اس کے امین ہو۔ مالک وہ ہے جس کے راستے میں تم خرچ کررہے ہو۔ امین ہمیشہ امانت میں تصرف کرنے سے سو دفعہ پہلے یہ جائزہ لیتا ہے کہ کیا میں اس امانت میں تصرف کا حق رکھتا ہوں۔ اور اگر مجھے حق دیا گیا ہے تو اس کی حدود کیا ہیں۔ میں کہاں تک آگے بڑھ سکتا ہوں اور کہاں جا کے مجھے رک جانا ہوگا۔ اس سے اس کے ذہن میں یہ بات پختہ ہوجائے گی کہ جس طرح مال میں تصرف میں اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا کیونکہ میں اس کا مالک نہیں ہوں۔ اسی طرح میں اپنی ذات اور اپنے متعلقات میں بھی اپنی مرضی سے تصرفات نہیں کرسکتا، کیونکہ میں اپنی ذات کا بھی مالک نہیں ہوں۔ میری ذات، میری جان، میری صلاحیتوں، میرے ارادوں اور میرے ذہن کی رعنائیوں کا مالک صرف میرا وہ رب ہے جس نے یہ سب کچھ مجھے عطا کیا ہے۔ میں اس کا بندہ ہوں، وہ میرا آقا ہے۔ اور بندہ اپنے آقا کی مرضی اور احکام سے کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کو انجام کی بربادی سے بچا سکتا ہے۔ ورنہ اس بات سے کوئی نہیں بچ سکتا کہ موت کو بہرحال آنا ہے اور وہ اچانک آتی ہے۔ تو پھر آخرت میں انسان سراپا حسرت بن کر یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ پروردگار تو نے مجھے مزید مہلت عمل کیوں نہ دی، تاکہ میں تیرے راستے میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا۔ اب یہ حسرت اور پچھتاوا اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔ اس لیے بجائے اس کے کہ کل کو کسی کے ساتھ ایسی صورت پیش آئے، اسے آج ہی اس بارے میں سوچ لینا چاہیے۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ ہرگز کسی جان کو ڈھیل نہیں دیتا جب اس کی مقررہ مدت آجاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

وَلَنْ یُّؤَخِّرَاللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُھَا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المنافقون : 11) (اور اللہ ہرگز کسی جان کو ڈھیل نہیں دیتا جب اس کی مقررہ مدت آجاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ ) جو لوگ موت کے وقت یا آخرت میں اس قسم کی حسرت کا اظہار کریں گے ان کے جواب میں پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد مزید مہلت عطا نہیں کرتا، جو اس کی موت کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے پھر اس میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ کہنا کہ اگر مزید مجھے تھوڑی سے مہلت مل جاتی تو میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا۔ یہ بعد ازمرگ واویلا ہے۔ دنیا مہلت عمل ہے اور آخرت جزا کا دن ہے۔ اس لیے جزا کے دن میں مہلت عمل کے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عمل کا وقت گزر چکا، اب تو اعمال پر جزا دیئے جانے کا دن ہے۔ چناچہ یہاں جو بات بھی ہوگی وہ جزا و سزا کے حوالے سے ہوگی۔