Ayah 62:1یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الجمعۃ : 1)
(اللہ کی تسبیح کر رہی ہیں وہ ساری چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، جو بادشاہ ہے، قدوس ہے، عزیز اور حکیم ہے۔ )
یہ آیت آنے والے مضمون کی تمہید ہے۔ الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ یہ آیت گزشتہ سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ اور سابق سورة میں یہ آیت سَبَّحَ کے ساتھ شروع ہوئی۔ اور اس سورة میں یُسَبِّحُکے ساتھ آغاز کیا جارہا ہے۔ دونوں میں نفس مفہوم میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ وقوع فعل اور کیفیتِ فعل کے اعتبار سے فرق یہ ہے کہ فعل ماضی فعل کے حتمی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور فعل مضارع دوام اور استمرار پر۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کائنات کی ہر چیز کررہی ہے اور یہ تسبیح کا عمل مخلوقات کی پیدائش سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ نہ اس میں انقطاع کا کوئی اندیشہ ہے کیونکہ یہ حتمی ہے۔ اور نہ اس کے استمرار اور دوام میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ گزشتہ سورة میں اس آیت کی وضاحت ہوچکی ہے اس لیے اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس میں جو پروردگار کی چار صفات بیان ہوئی ہیں اگلی آیت کے مضمون سے ان کا تمہیدی رشتہ معلوم ہوتا ہے۔ یہود اور ان کے زیراثر نصاریٰ بھی بالعموم یہ بات کہتے تھے کہ نبوت بنی اسرائیل کے خاندان سے باہر نہیں آسکتی۔ اس لیے کہ اس خاندان کو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم انعام کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ وہ صاف صاف یہ بات کہتے تھے کہ ہم تو صرف اس بات کو مانیں گے اور اس رسول پر ایمان لائیں گے جو بنی اسرائیل میں سے اٹھے گا۔ اور اس رسول پر جو کچھ نازل ہوگا۔ ہم اس کے علاوہ کسی اور کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی بات تسلیم کریں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے تسبیح کے لفظ سے سب سے پہلے اسی گمراہی کی تردید فرمائی ہے کہ تم اس بات کو مانتے ہو کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہے اور تسبیح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام نقائص اور کمزوریوں سے اللہ تعالیٰ کے منزہ ہونے کا اعلان کرتی ہے اور بار بار اس بات کو دہراتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے اور کسی نقص اور کمزوری سے اس کے متصف ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ ایسی ہر چیز سے پاک ہے۔ چناچہ کائنات کی ہر چیز کی اسی تسبیح سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانبداری نہیں کرسکتا۔ اس کا کسی سے کوئی رشتہ نہیں، ساری مخلوق کے ساتھ وہ یکساں عدل، رحمت اور ربوبیت کا معاملہ کرتا ہے۔ اس نے کسی نسل کو کسی دوسری نسل پر فوقیت نہیں دی۔ کسی نسل کے لیے اس کی نوازشات مخصوص نہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو نبوت کے لیے مخصوص کرلے اور بنی اسماعیل کو اس سے محروم کردے۔ مزید فرمایا کہ وہ بادشاہ ہے۔ شریعت یعنی قانون کا بھیجنا اور اپنے بندوں سے اس کی پابندی کا تقاضا کرنا یہ اس کے بادشاہ ہونے کا تقاضا ہے۔ کوئی طاقت اس کے اختیارات کو محدود نہیں کرسکتی۔ اور رعایا کا کوئی فرد اس کی حکومت اور سلطنت کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ وہ جس خاندان کو چاہتا ہے شرف نبوت سے نوازتا ہے۔ کسی کو کیا حق ہے کہ وہ اس اختیار کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ اسی طرح وہ قدوس ہے۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے رسول اور اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے لوگوں کو پاکیزہ بنائے۔ چناچہ اس کی اسی صفت کے تحت اس کا رسول لوگوں کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اپنے ان فیصلوں میں کہ وہ کسی قوم کے ساتھ کیا معاملہ کرے اور کس کے سر پر رسالت کا تاج سجائے کبھی غلطی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح وہ عزیز ہے اس سے لڑ کر کوئی نہیں جیت سکتا۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی کام مقتضائے دانش کیخلاف نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے ہر کام میں مضمر حکمتوں کو کوئی چیلنج تو کیا کرے گا پوری طرح سمجھنے کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتا۔
Ayah 62:2ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الجمعۃ : 2)
(وہی ہے جس نے اٹھایا ہے اُمّیوں میں ایک رسول ان ہی میں سے جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ )
آخری جملے کی وضاحت
اس مضمون کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی یہ صفات اس سے پہلے تین جگہ گزر چکی ہیں اور ہم بقدر توفیق ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ خاص طور پر سورة بقرۃ میں پہلی دفعہ آنے والی اس آیت کو اور اس میں بیان کی جانے والی آنحضرت ﷺ کی صفات کو وہاں نکال کر دیکھ لیا جائے۔ البتہ اس آیت کا آخری جملہ کہ بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے، شاید یہ پہلی دفعہ آیا ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں خاص طور پر دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک بات یہ کہ اُمِّیوں کے جذبہ شکر کو ابھارنے کے لیے ان کی گمراہی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ لوگ اگر اپنی حالت کا جائزہ لیں تو انھیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے وہ جاہلیت کے کس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈبکیاں کھا رہے تھے۔ انھیں عقائد و افکار سے لے کر معاملات و آداب تک کسی بات کا ہوش نہ تھا۔ انسانیت کی کوئی رمق ان کے اندر دکھائی نہ دیتی تھی، اخلاقی قدریں تقریباً فنا ہوچکی تھیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس جہالت اور گمراہی پر نازاں تھے اور کسی دوسری قوم کو اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایک رسول بھیجا، اپنی کتاب اتاری۔ اور اس طرح سے ان کو چاہ ظلمت سے نکال کر آسمان کی رفعتوں پر پہنچا دیا۔ وہ اس پر جتنا بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تھوڑا ہے۔ بالخصوص وہ لوگ جو ابھی تک ایمان نہیں لائے انھیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو پہچان کر آگے بڑھ کر اسے قبول کرنا چاہیے۔
دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ یہود بھی جزیرہ عرب میں صدیوں سے آباد تھے اور اُمّی بھی۔ دونوں ایک دوسرے کو خوب جانتے پہچانتے تھے۔ یہودی اہل عرب کو حقارت کی نگاہ سے اُمّی کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ ان کی تمام گمراہیوں اور خرابیوں سے واقف تھے۔ ان کی معاشرتی اور تمدنی زندگی کا کوئی گوشہ ان سے مخفی نہ تھا۔ لیکن وہ ان کے امراض کا لاعلاج سمجھتے تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کے لیے انھوں نے کبھی کوئی کوشش نہ کی۔ چند سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مکہ میں اپنا رسول بھیجا، ان پر اپنی آخری کتاب اتاری۔ چند سالوں کی تربیت سے اس مذہب کو قبول کرنے والے لوگوں میں جو فکری، عملی اور اخلاقی تبدیلیاں آئیں وہ یہود اور دوسرے لوگوں کے سامنے ہیں۔ کیا انھیں دیکھ کر اس بات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کے سوا ایسی بگڑی ہوئی قوم میں ناموافق ماحول کے باوجود حیرت انگیز طور پر ایسے اخلاق کا پیدا ہوجانا اور ایسی سیرت و کردار کا جنم لے لینا کیا اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول کے سوا بھی کسی سے ممکن ہوسکتا تھا۔ گزشتہ رسولوں کی امتیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ان کی تاریخ بھی ہم سے مخفی نہیں۔ خود بنی اسرائیل کی تاریخ سے کون ناواقف ہے۔ لیکن جو بات مسلمانوں کی سیرت و کردار میں نظر آتی ہے جو چند سالوں کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی صداقت کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔
Ayah 62:3وَّاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الجمعۃ : 3)
(اور ان ہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں، اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ )
یہ دعوت ان کے لیے بھی ہے جو ابھی اسلام نہیں لائے
اس کا عطف امیین پر ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں کی طرف رسول بھیجا، اسی طرح اس نے ان لوگوں کی طرف بھی بھیجا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے۔ اور جس طرح وہ اُمّی جو اسلام قبول کرچکے اور آنحضرت ﷺ انھیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں، ان کا تزکیہ فرماتے ہیں اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اسی طرح ان لوگوں کو بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے لیکن ان کے شامل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول ان ہی چاروں فرائض کا ہدف ان کو بھی بنائیں گے۔ کیونکہ جو شخص بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا جائے گا اللہ تعالیٰ کے رسول کی تربیت میں بھی داخل ہوتا جائے گا۔ اس لحاظ سے مِنْھُمْ کی ضمیر کا مرجع اُمّی ہے۔ لیکن وہ ابھی اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے گریزاں ہیں۔ لیکن انھیں سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت ان پر اتاری ہے اور جو خوان نعمت ان کے لیے بچھایا ہے اور ساری دنیا سے پہلے ان ہی کو اس کی دعوت دی گئی ہے کیا وہ اس کی قدر کرنے کی بجائے اس سے بھاگے پھریں گے اور اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کردیں گے۔ لیکن اسلوبِ بیان سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ لوگ جو ابھی اُمّیوں میں سے ہونے کے باوجود اسلام کے قریب نہیں آئے تھے وہ بھی زیادہ دیر تک اسلام سے دور نہیں رہیں گے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی اسلام انھیں اپنی آغوش میں لے لے گا۔
آخر میں عزیز اور حکیم دو صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں جس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر غالب اور مقتدر ہے کہ وہ ایک نہایت گری پڑی قوم میں بھی ایسا رسول بھیجنے پر قادر ہے جس کی تعلیم و تربیت اس درجہ انقلاب انگیز ہو کہ اس کے نتیجے میں بننے والی امت کے افراد پوری دنیا کے معلم اخلاق بن کر اٹھیں۔ اور دنیا کو ایسے زریں اصولوں سے بہرہ ور کرے جو ان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کے ضامن ہوں۔
اور دوسرا اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان و ہدایت انسان کے اپنے اختیار کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ عزیز ہونے کے باوجود کسی قوم کو زبردستی ہدایت عطا نہیں فرماتا۔ وہ چونکہ حکیم ہے اس وجہ سے وہ ہدایت سے ان ہی لوگوں کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کی حکمت کے تحت اس کے سزاوار ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اُمّیوں کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ہر جگہ مراد ایک ہی نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ تو اُمّی سے مراد اَن پڑھ اور جاہل ہوتے ہیں۔ بالخصوص جو کتاب و شریعت سے واقف نہیں۔ لیکن عموماً اُمّی کا لفظ بنی اسماعیل کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ میں وسعت پیدا ہوجانے کے بعد اہل عرب کے لیے استعمال ہونے لگا۔ یہود بنی اسماعیل کو حقارت کی نگاہ سے اُمّی کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے۔ یوں تو ان کا ہر غیراسرائیلی سے رویہ ایسا ہی تھا، لیکن بنی اسماعیل اور اہل عرب کے ساتھ ان کا رویہ خاص طور پر توہین آمیز تھا۔ وہ اپنے آپ کو اہل کتاب اور صاحب علم و فضل سمجھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا چہیتا گردانتے تھے۔ لیکن بنی اسماعیل کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ لیکن بنی اسماعیل اور اہل عرب نے اس لفظ کو اپنے لیے عَلَمْ کے طور پر اختیار کرلیا تھا۔ اور انھیں اس میں کسی کمتری کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ قرآن کریم نے بھی بالعموم انھیں اُمّی کے لفظ سے یاد کیا ہے اور مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو بنی اسرائیل کے مقابلے میں کتاب و شریعت کے علم سے بالکل بیخبر تھے۔ لیکن انھوں نے اپنے طور پر اسے اعزاز سمجھ رکھا تھا۔ اور جب قرآن کریم نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو بطور ایک وصفِ امتیازی کے ذکر فرمایا تو اس لفظ کا رتبہ اتنا بلند ہوگیا کہ اہل عرب اس کو مزید ایک اعزاز سمجھنے لگے۔ البتہ اسی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور بھی ہوا۔ وہ اس طرح کہ جن کو یہود حقارت کی نگاہ سے اَن پڑھ اور اُمّی کہہ کر پکارتے تھے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تشریف آوری کے بعد وہ تمام دنیا کے لیے تعلیم و تہذیب کا سرچشمہ ثابت ہوئے۔ جو خود راہ گم کردہ تھے دوسروں کے لیے ہادی بن کر اٹھے۔ اور یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی شان اور قدرت کا اظہار ہے۔
Ayah 62:4ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الجمعۃ : 4)
(یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
یہود کے حسد پر تعریض
اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں پر اپنا رسول بھیج کر اور کتاب اتار کر جو فضل و احسان فرمایا یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے پہلے بھی دنیا کو ہدایت ملتی رہی ہے اور اسی کی عنایت سے افراد اور خاندان ممتاز ہوتے رہے ہیں۔ یہ اسی کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہے اس اعزاز سے نواز دے، کسی کا اس پر کوئی اجارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت جس کو نوازنا چاہتی ہے اس کے راستے میں کوئی حائل نہیں ہوسکتا۔ یہود اپنے حسد کے پھپھولے جتنے چاہیں پھوڑ لیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں کو اس کے لیے انتخاب فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا انتخاب کبھی بےسبب اور بےمحل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جس عظیم مقصد کے لیے اہل عرب کا انتخاب کیا تھا اس مقصد کی بجا آوری کے لیے کوئی اور قوم شاید مناسب بھی نہیں تھی۔ ایشیا اور یورپ کی قوموں کو باہمی اختلافات، حصول جاہ و حکومت کے لیے برپا ہونے والی لڑائیوں، جاگیرداروں کے مظالم اور عام طبقہ کی اپنی قسمت پر مطمئن ہو کر بےحسی نے ہر طرح کی صلاحیتوں سے محروم کردیا تھا۔ ترقی یافتہ قومیں پر تکلف اور پر تعیش زندگی کی رسیا ہو کر کسی بڑی مہم جوئی کے قابل نہیں رہی تھیں انھیں زندگی میں آرام و راحت کے سوا اور کسی چیز کی طلب نہ تھی۔ لیکن دنیا میں ایک اصلاحی انقلاب برپا کرنے کے لیے جس قدر محنت، توانائی اور مہم جوئی کے جذبے اور سرفروشی اور جان پر کھیل جانے کے جس جنون کی ضرورت تھی اس کے لیے ایک ایسی قوم کی ضرورت تھی جو فطری سادگی پر زندگی گزارنے کی وجہ سے طبعی خصوصیات اور توانائیوں سے محروم نہ ہوئی ہو۔ اسے یونانی فلسفوں جیسے فلسفوں نے فکری طور پر مسموم نہ کیا ہو، جو اونٹوں اور گھوڑوں پر طویل سفر کرنے کی ہمت رکھتی ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر چاردانگِ عالم میں پھیل سکے جسے نفسانی خواہشوں اور ذاتی نام و نمود کی خاطر جان پر کھیل جانا مشکل نہ ہو تاکہ جب اس کے جذبوں کا امالہ کرکے ایک بڑے مقصد کے لیے اس راستے پر نکلنے کا موقع آئے تو وہ کسی خوف و خطر کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ ہو۔ عرب میں آئے دن قحط سالی کی وجہ سے بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی ہمت اس کی جبلت کا حصہ بن چکی ہو تاکہ راہ حق میں بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل معلوم نہ ہو۔ اُمّی ہونے کی وجہ سے معاملات کو مصنوعی طریقوں سے چلانے کی بجائے وہ صرف اپنے قلب و دماغ پر تکیہ کرنے کی عادی ہو اور مسلسل قوت حفظ کو آزمانے کی وجہ سے اس میں اتنی ترقی ہوچکی ہو کہ کسی لمبے سے لمبے علمی شہ پارے کو محفوظ کرلینا اس پر گراں نہ ہو۔ ایسی خصوصیات کی حامل ظاہر ہے کہ دنیا میں عرب قوم کے سوا کوئی قوم نہ تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی قوم کو اپنے دین کی علمبرداری کے لیے انتخاب فرمایا۔ اور آنحضرت ﷺ کے آخری رسول ہونے کی وجہ سے اپنے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا ذمہ دار بنایا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں پورا جزیرہ عرب اس طرح اسلامی زندگی میں ڈھل گیا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسے اسلامی قوتوں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے بیس اور مرکز کی حیثیت دے دی۔ اور آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد خلافتِ راشدہ کے مختصر دور میں اس دور کی بظاہر متمدن حکومتیں اور ریاستیں اسلامی حکومت میں شامل ہوگئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جس سے اہل عرب نوازے گئے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت نے انھیں انتخاب کی عزت بخشی اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے وہ جس کو چاہتا ہے کسی مقصد کے لیے منتخب فرما لیتا ہے۔
Ayah 62:5مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰ ۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا ط بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 5)
(مثال ان لوگوں کی جن پر تورات لادی گئی پھر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا، اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو، کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
یہود کے پندار پر چوٹ
نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دین کی حامل امت یہود تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تورات نازل کی تھی۔ لیکن انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب سے اپنے آپ کو اس عظیم منصب سے محروم کرلیا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری تک وہ اسی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم آج بھی تورات کے حامل ہونے کی وجہ سے سب سے بڑی امت ہیں، اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور برگزیدہ ہیں ہمارے سوا کسی اور خاندان یا قبیلے میں کسی نبی کے مبعوث ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے پندار پر چوٹ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہود کو اپنے اس پندار سے نکل جانا چاہیے۔ کیونکہ ان پر تورات کی ذمہ داری ضرور ڈالی گئی تھی اور انھیں اس کی تعلیمات کا حامل بنایا گیا تھا لیکن آغاز ہی میں انھوں نے جس طرح تورات کو قبول کیا وہ قبولیت بالرضا نہیں بلکہ بالجبر تھی۔ طور کو ان کے سروں پر لاکھڑا کیا اور انھیں کہا گیا کہ تورات کو تھام لو ورنہ تمہیں کچل دیا جائے گا۔ تب جا کے انھوں نے تورات کو قبول کیا۔ غالباً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے یہ تعبیر اختیار کی ہے کہ ان لوگوں پر تورات لادی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس پر عمل اور اس کے حوالے سے ذمہ داریوں کی ادائیگی یکسر چھوڑ دی۔ اس طرح سے انھوں نے اس عظیم ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کردیا۔ اس دور میں ان کی مثال ایسے ہی تھی جیسے کسی گدھے پر کتابوں کا بوجھ لادا جائے لیکن اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے علم کا کتنا بڑا خزانہ اپنی کمر پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ اپنے پاس تورات رکھتے تھے لیکن تورات کے علم سے نابلد تھے۔ اور جو جانتے تھے وہ اس پر عمل کرنے سے بیگانہ تھے۔ تو ایسی قوم کی مثال کیسی بری مثال ہوگی جنھوں نے عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کر ڈالی۔ وہ اپنی مشیخیت کے تقدس میں چاہے کیسے بھی دعوے کریں اور بنی اسماعیل کے مقابلے میں چاہے کتنی بڑی بڑائی کا اپنے آپ کو حقدار سمجھیں لیکن حقیقت میں وہ کتاب الٰہی کو اٹھانے سے انکار کرچکے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اٹھانے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ گدھے کی طرح اسے سر پر رکھ لیا جائے یا لائبریری کی الماریوں میں اسے سجا دیا جائے لیکن عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ لوگ تو درحقیقت بدعملی کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین پر بھی انھوں نے اس کا ایک ایک حکم توڑ کر ظلم کیا ہے۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس لیے یہ اگر اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی تکذیب کررہے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ ہدایت و ضلالت کی گرفت میں آچکے ہیں۔
اس آیت کے مضمون کو غور سے دیکھا جائے تو دل کانپنے لگتا ہے۔ کیا امت مسلمہ کا حال اس سے مختلف ہے جس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے۔ ہم بھی اپنے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب رکھتے ہیں بلکہ اس سے لائبریریاں بھری ہوئی ہیں، کوئی گھر اس سے خالی نہیں ہے، بیشمار اس کے حفاظ موجود ہیں، بڑے بڑے مدارس اس کی تعلیم کے لیے کام کررہے ہیں۔ باایں ہمہ ہماری اجتماعی زندگی قرآن کریم کی تعلیم اور اس کی روح سے خالی ہے۔ وہ ایک زندہ کتاب ہے لیکن ہم نے اسے گھروں میں بند کر رکھا ہے۔ وہ ایک کتاب انقلاب ہے ہم اسے صرف کتاب تلاوت سمجھتے ہیں۔ وہ ایک علمی کتاب ہے ہم اس کو بےسوچے سمجھے اور بےجانے بوجھے پڑھتے ہیں۔ وہ کتاب ہدایت ہے لیکن ہم اسے صرف حصول ثواب یا ایصالِ ثواب کے لیے پڑھتے ہیں۔ لیکن وہ جس عظیم مقصد کے لیے نازل ہوئی تھی ہم کبھی اس حوالے سے سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
Ayah 62:6قُلْ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْآ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّـکُمْ اَوْلِیَـآئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 6)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے لوگو ! جو یہودی بن گئے ہو اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم ہی اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہو، تو موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ )
خطاب کے الفاظ کی وضاحت
سب سے پہلے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے خطاب کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ یہ نہیں فرمایا گیا، اے یہودیو ! بلکہ یہ فرمایا گیا ہے اے لوگو ! جو یہودی بن گئے ہو۔ یعنی جن لوگوں نے یہودیت اختیار کرلی ہے۔ یہ درحقیقت یہودی کہلانے والے لوگوں کی ایک بہت بڑی گمراہی کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن کریم نے جہاں ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کا تعلق اسرائیل کی اولاد سے تھا تو انھیں اے بنی اسرائیل، کہہ کر خطاب کیا گیا۔ کیونکہ ان لوگوں نے اپنا اصل دین اسلام قرار دیا تھا اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے۔ جب تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا لایا ہوا اصل دین زندہ رہا تو اسلام ہی بنی اسرائیل کا دین رہا اور وہ اسی حوالے سے پکارے جاتے رہے۔ لیکن جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تو ایک کا نام سامریہ قرار پایا اور دوسری ریاست یہودیہ کے نام سے موسوم ہوئی۔ یہوداء درحقیقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چوتھے بیٹے کا نام ہے۔ ان کی نسل سے جو قبیلہ بنا اسے یہوداء کہا جانے لگا۔ یہ دوسری بننے والی ریاست اسی خاندان کے نام سے موسوم ہوئی اور یہودیہ کہلائی۔ چناچہ یہی خاندان اس ریاست کا مالک ٹھہرا اور اس کے بعد جو لوگ اس ریاست سے تعلق قائم کرکے اپنا مذہب تبدیل کرتے رہے وہ بھی یہود کہلائے۔ ملک شام جس کو اس وقت اسیریا کہا جاتا تھا نے حملہ کرکے سامریہ کو تو بہت جلد برباد کردیا اور پھر ان اسرائیلی قبیلوں کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا جو اس ریاست کے بانی تھے۔ اس کے بعد صرف یہوداہ اور اس کے ساتھ بن یامین کی نسل باقی رہ گئی جس پر یہوداہ کی نسل کے غلبے کی وجہ سے یہود ہی کے لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ اس ریاست میں مذہب کا جو ڈھانچہ تیار ہوا یا جس نے قبولیت حاصل کی یہ وہ مذہب نہیں تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے بلکہ چوتھی صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی قبل مسیح تک کاہنوں اور ربیوں اور احبار نے اپنے اپنے خیالات، نظریات اور رجحانات کے مطابق عقائد اور رسوم اور مذہبی ضوابط کا جو ڈھانچہ تیار کیا اس کا نام یہودیت قرار پایا۔ اور آج جو کچھ یہودیت کے نام سے دنیا میں موجود ہے یہ درحقیقت وہی مذہب ہے جو چوتھی اور پانچویں صدی میں تیار ہوا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کا بہت تھوڑا عنصر باقی ہے۔ قرآن کریم جب الَّذِیِنَ ھَادُوْاکہہ کر خطاب کرتا ہے تو اس سے مراد یہی لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے ماننے والے صرف اسرائیلی ہی نہیں بلکہ غیراسرائیلی لوگ بھی ہیں۔ لیکن جہاں قرآن کریم نے بنی اسرائیل کو خطاب کیا ہے وہاں یابنی اسرائیل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ چناچہ ان ہی لوگوں کو خطاب کرکے جو مذہب یہود سے تعلق رکھتے تھے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم نے اپنے طور پر اپنے بارے میں جو اعتقادات بنا رکھے ہیں جن کی حیثیت دعاوی سے زیادہ نہیں، ان ہی میں سے ایک دعویٰ یہ ہے لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ کَانَ ھُوْدًا ” جنت میں صرف یہودی داخل ہوں گے۔ “ اسی طرح لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلاَّ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً ” ہمیں جہنم کی آگ ہرگز نہ چھوئے گی، اگر ہم کو سزا ملے گی بھی تو بس چند روز۔ “ اسی طرح نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہِ وَاَحِبَائُ ہٗ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں۔ “ ان سب کا حاصل یہ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب ہیں اور محب اپنے محبوب کو کبھی سزا نہیں دیا کرتا۔ اس لیے ہم دنیا میں کچھ بھی کریں آخرت میں ہمارے لیے بیش بہا نعمتیں ہیں جو ہمارے انتظار میں ہیں۔ تو پروردگار نے ان کے اس دعویٰ کی بنیاد پر ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے یہ دعوا سچے ہیں اور تم واقعی ان اعتقادات میں سچے ہو تو پھر تم موت کی تمنا کرو۔ کیونکہ دنیا تو دارالمحن ہے جس میں ایک خوشی کے مقابلے میں سینکڑے دکھ ہیں۔ ہزار کوششوں کے باوجود محرومیاں جان نہیں چھوڑتیں۔ قدم قدم پر دشواریاں ہیں، الجھنیں ہیں، اڑچنیں ہیں۔ تو اگر واقعی آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں تمہارے ہی لیے ہیں تو پھر تمہیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم اس دنیا میں بیٹھے رہو۔ موت کی تمنا کرو اور جنت کے محلات میں جا کر دادعیش دو ۔
جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت کے حالات کو سامنے رکھا جائے تو مزید ایک بات بھی واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ یہ وہ زمانہ ہے جب یہ مسلمانوں سے کئی معرکوں میں شکست کھانے کے بعد اپنی جنگی اور اجتماعی قوت سے محروم ہوچکے تھے۔ ان کی تعداد کا بھرم کھل چکا تھا اور ان کے وسائل کی بہتات بےثمر ہوچکی تھی۔ وہ اپنی تمام تر قوت اور رعب و دبدبہ کے باوجود اس انجام کو اس لیے پہنچے تھے کہ موت کا خوف کبھی ان میں استقامت اور جان دینے کا جذبہ پیدا نہیں ہونے دیتا تھا اور وہ کسی موقع پر بھی بہادری اور جانثاری کی تاریخ پیدا نہیں کرسکے۔ میدانِ جنگ میں ان لوگوں کو کامیابی نصیب ہوتی ہے جو جان پر کھیل کر لڑتے ہیں۔ ان کے پیش نظر زندگی نہیں بلکہ کامیابی یا شہادت ہوتی ہے۔ لیکن یہودی چونکہ ہر صورت میں زندگی ہی کے طالب تھے چاہے وہ کیسی بھی زندگی ہو اس لیے باوجود افرادی قوت اور وسائلِ جنگ کے وہ ہر جگہ مسلمانوں کے سامنے شکست کھاتے چلے گئے۔
Ayah 62:7وَلاَ یَتَمَنَّوْنَـہٗٓ اَبَدًا م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالظّٰلِمِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 7)
(لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کرچکے، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ )
قرآن کریم کا اعجاز
یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ جب یہود کی طرف سے قرآن کریم کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ آیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کو غلط ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس ایک نادر موقع تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں، لیکن ان کو سانپ سونگھ گیا۔ ایک مکمل سناٹا دیکھ کر قرآن کریم نے مزید ان کو اکسایا کہ یہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر اس وقت ان میں کوئی بھی موت کی تمنا کرتا تو اسی وقت مرجاتا۔
ان کی خاموشی کے دو سبب تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول سمجھتے تھے۔ انھیں خوب معلوم تھا کہ اگر اس چیلنج کے جواب میں ہم نے موت کی تمنا کی تو پھر موت سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اور دوسرا سبب یہ تھا کہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہمارے دعاوی خانہ ساز ہیں۔ ہمارے بڑوں نے اپنی طرف سے یہ باتیں گھڑ رکھی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ قیامت کے دن فیصلہ ایمان و عمل پر ہوگا۔ اور ہم آنحضرت ﷺ کی تکذیب سے پہلے بھی جس طرح کی زندگی گزار چکے ہیں وہ ایسے اعمال پر مشتمل نہیں جو ہماری نجات کا ذریعہ ہوں بلکہ وہ ایسے اعمال ہیں جو بخشش کی بجائے سزا کا باعث ہوں گے اور ہمیں جہنم میں جانا پڑے گا۔ قرآن کریم نے اس کو خاص طور پر واضح فرمایا تاکہ لوگ ان کے دعوئوں کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور یہ بھی جان لیں کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانا ان کے خبث باطل اور بدعملی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ان کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جسے وزن دیا جاسکے۔
Ayah 62:8قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْـہُ فَاِنَّـہٗ مُلٰـقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 8)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تمہیں آکر رہے گی، پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو غائب و حاضر کو جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ )
گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظاموں کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اس آیت میں اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے کہ تم دنیا میں تو موت سے ڈر کر میدانِ جنگ ہو تو بھاگ نکلتے ہو اور زندگی کے دوسرے مواقع میں کسی ایسے کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے ہو جس میں تمہیں موت کا اندیشہ ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم موت سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ وہ تو تمہارے تعاقب میں رہتی ہے۔ جب تمہاری طبعی عمر کی آخری ساعت آئے گی تو پھر ایک منٹ کی نہ تقدیم ہوسکے گی نہ تاخیر، تم موت کا شکار ہوجاؤ گے۔ اس کے بعد اپنے وقت پر آخرت میں تم اس اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے جو غائب و حاضر کا جاننے والا ہے اور تمہارا نامہ عمل تم سے پہلے وہاں پہنچ چکا ہوگا، پھر تمہارے ہاتھوں میں دے کر تم سے کہا جائے گا کہ اپنے اس نامہ عمل کو پڑھو تاکہ تمہیں یاد آئے کہ تم دنیا میں کیا کرتوت کرتے رہے ہو۔ تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ جس کی بارگاہ میں تم کھڑے ہو اس سے تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں۔ تم کسی چیز کو چھپانا بھی چاہو گے تو وہ تمہارا تمام کچا چٹھا تمہارے سامنے کھول دے گا۔ تمہارے اپنے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ اس طرح سے تمہیں اپنے ہر جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
یاد رہے کہ آیت کریمہ میں اس بات پر نکیر کی گئی ہے کہ تم جس موت سے بھاگتے ہو وہ تو آکے رہے گی اس لیے بھاگنے کا کیا فائدہ۔ لیکن اس سے مراد راہ حق میں موت سے بھاگنا ہے۔ رہیں وہ چیزیں جو عادتاً موت کا سبب ہوتی ہیں تو ان سے بھاگنا مقتضائے عقل بھی ہے اور مقتضائے شرع بھی۔ ان کا تعلق اس مذمت سے نہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایک جھکی ہوئی دیوار کے نیچے سے گزرے تو تیزی کے ساتھ نکل گئے کیونکہ وہ دیوار کسی وقت بھی گر سکتی تھی اور پھر اس کے نیچے کھڑے ہونے کا تعلق نہ کسی مقصد سے تھا اور نہ کسی نیکی سے۔ اسی طرح کہیں آگ لگ جائے تو وہاں یہ سمجھ کے بیٹھے رہنا کہ موت تو اپنے وقت پر آئے گی یہ عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے۔ اگر آدمی کے اندر عقیدے کی یہ پختگی پائی جاتی ہے کہ جب موت آئے گی تو مجھے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ تو پھر نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنا اور گریز کرنا شریعت میں مذموم نہیں۔
Ayah 62:9یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِاللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 9)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چلو، اور خریدوفروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ )
جمعہ کی اصطلاح کی وضاحت اور اہمیت
جمعہ درحقیقت ایک اسلامی اصطلاح ہے جس سے مراد وہ دن ہے جس میں مسلمان تذکیر و عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور اس اجتماع کی وجہ سے اس کو جمعہ کا نام دیا گیا ہے۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم العروبہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے عرب میں کعب بن لؤی نے اس کا نام جمعہ رکھا۔ قریش اس دن جمع ہوتے اور کعب بن لؤی خطبہ دیتے تھے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے 560 سال پہلے کا ہے۔ کعب بن لؤی آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے تھے۔ قریش میں ان کی عظمت کا عالم یہ تھا کہ ان کی وفات سے وہ اپنی تاریخ شمار کرنے لگے۔ جب واقعہ فیل پیش آیا تو پھر واقعہ سے عرب کی تاریخ کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا اہتمام عرب میں کعب بن لؤی کے زمانے میں ہوچکا تھا اور اس دن کا نام جمعہ رکھنا بھی ان کی طرف منسوب ہے۔ لیکن اس کو زیادہ شہرت نہیں ہوسکی۔ اس لیے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس نام کو اسلام ہی نے سب سے پہلے انتخاب کیا اور عام کیا۔
اسلام سے پہلے عبادت کے لیے اور شعارملت کے طور پر ہفتے کا دن اہل کتاب کو دیا گیا تھا۔ یہود کے یہاں اس دن کی اہمیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی۔ تو جن دن کی اہمیت اس خاص وجہ سے ان کے دلوں میں پہلے سے موجود تھی، اسی کو ان کے لیے عبادت کا دن مقرر کیا گیا۔ عیسائیوں کو اگرچہ کسی مخصوص دن میں عبادت کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن انھوں نے اپنے طور پر اپنے آپ کو یہود سے ممیز کرنے کے لیے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کرلیا اور اس کو شعار ملت قرار دیا۔ لیکن عیسائیوں نے اس دن کے تعین میں جس اہم واقعہ کو اس کا سبب قرار دیا وہ بجائے خود محل نظر ہے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف چلے گئے تھے۔ اسی بناء پر بعد کے عیسائیوں نے اسے اپنی عبادت کا دن قرار دے دیا اور پھر 321 عیسوی میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعے سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کردیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت اور شعارملت کے طور پر اختیار کیا۔
جمعہ کے حوالے سے پاکستان کی روش پر اظہارِافسوس
اس بات پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے تھوڑا ہے کہ پاکستان جسے اسلام کی خاطر وجود میں لایا گیا تھا اس میں جمعے کے دن کو نہ صرف شعارملت کے طور پر نہیں بلکہ عبادت کے لیے بھی مخصوص کرنے سے انکار کردیا گیا۔ بازاروں کے کھلے رہنے پر کوئی پابندی نہیں، سرکاری تقریبات عین جمعہ کی نماز کے وقت جاری رہتی ہیں اور سرکاری دفاتر اس وقت بند ہوتے ہیں کہ جب دوڑ بھاگ کر وہ ملازم جو کسی صورت جمعہ چھوڑنا نہیں چاہتا ادھورا سا جمعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہود نے اسرائیل کے نام سے اپنی سلطنت قائم کی تو سب سے پہلے سبت کا اہتمام کیا۔ اس کو چھٹی کا دن مقرر کیا اور اس کو عبادت کے لیے مخصوص کردیا۔ عیسائی اگرچہ بہت حد تک اپنے مذہب سے بیگانہ ہوچکے ہیں تاہم ان کا حال یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی حکومتوں میں بلکہ اپنے مقبوضات میں بھی ہمیشہ اتوار کے دن کو چھٹی کا دن قرار دیتے ہیں۔ ہندوستان میں جیسے ہی ان کو اقتدار ملا تو جمعہ کی چھٹی کو جو ہمیشہ مسلمان حکومتیں کیا کرتی تھیں اتوار کی چھٹی سے بدل دیا۔
حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم ہجرت سے کچھ مدت پہلے ہی مکہ معظمہ میں نازل ہوچکا تھا۔ لیکن مکہ معظمہ میں چونکہ کسی اجتماعی عبادت کا امکان نہ تھا اس لیے آپ نے ان لوگوں کو جو آپ سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہاں جمعہ قائم کریں۔ چناچہ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) نے بارہ آدمیوں کے ساتھ مدینہ میں پہلا جمعہ پڑھا۔ عجیب اور قابل فخر بات یہ ہے کہ مدینہ کے مسلمان اس حکم کے پہنچنے سے پہلے ہی اسلامی فکر کے تحت اس بات کا فیصلہ کرچکے تھے کہ جس طرح یہودی اور عیسائی ہفتے میں ایک دن مل کر عبادت کرتے ہیں ہم بھی ہفتے میں ایک دن مل کر عبادت کیا کریں گے۔ اس کے لیے انھوں نے جمعہ کا دن انتخاب کیا۔ اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن زرارہ ( رض) نے بنی بیاضہ کے علاقہ میں پڑھا جس میں چالیس آدمی شریک ہوئے۔
ندا سے مراد اذان ہے
آیتِ کریمہ میں نماز کے لیے ندا دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس ندا سے مراد وہ اذان ہے جو نمازوں کے لیے کہی جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں نہ اذان کا لفظ آیا ہے اور نہ اذان کے کلمات ذکر کیے گئے ہیں۔ لیکن آج اذان شعائراسلام میں داخل ہے اور اس کے کلمات مسلمانوں میں معروف و معلوم ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بعض احکام یا احکام کی وضاحت آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کے علاوہ بھی نازل ہوتی تھی اسی کو حدیث کہا جاتا ہے۔
مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ میں مِنْ بیان کے لیے ہے۔ اور اس سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ آیت کریمہ میں جس نماز کے لیے اذان کہنے کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد جمعہ کے دن کی نماز ہے۔ اور یہ جمعہ کی نماز ہی واحد چیز ہے جو جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے ممتاز کرتی ہے۔
یہاں جس اذان کا ذکر ہورہا ہے ظاہر ہے کہ اس سے وہی اذان مراد ہے جو خطبہ جمعہ سے پہلے کہی جاتی تھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اور شیخین کے عہدمبارک میں ایک ہی اذان ہوتی تھی جو خطبہ سے پہلے دی جاتی تھی۔ اب تمام عالم اسلام میں جو پہلی اذان دی جاتی ہے اس کا اضافہ حضرت عثمانِ غنی ( رض) نے کیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مدینہ منورہ کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور مسجد کے اندر ہونے والی اذان کی آواز ہر جگہ پہنچنا مشکل ہے تو انھوں نے اپنے مکان زورا پر پہلی اذان کہنے کا حکم دیا۔ آپ کا مکان مدینہ کے بازار میں تھا۔ اس سے سارے مدینہ میں یہ اطلاع ہوجاتی تھی کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ اس کے بعد دوسری اذان خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے دی جاتی تھی جو مسجد کے اندر ہوتی ہے۔ یہ اضافہ اگرچہ حضرت عثمانِ غنی ( رض) نے کیا تھا لیکن اس اضافے کو تمام امت نے بالاتفاق قبول کیا اور اس پر اجماع ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری امت اسلامیہ اس پر عمل کرتی ہے۔
سعی کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلا حکم دیا گیا ہے کہ ” تم دوڑو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف۔ “ سعی کا معنی دوڑنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کام کو اہتمام کے ساتھ کرنے کے بھی۔ اس جگہ یہی دوسرے معنی مراد ہیں۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑتے ہوئے آنے کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا۔ ارشاد فرمایا ہے کہ جب نماز کے لیے آئو تو سکینت اور وقار کے ساتھ آئو۔ یعنی اذان سنتے ہی نماز اور خطبہ کے لیے مسجد کی طرف چلنے کا اہتمام کرو۔ ذکر اللہ سے یہاں مراد نماز جمعہ بھی ہوسکتی ہے اور خطبہ جمہ بھی۔ بہتر یہ ہے کہ اس سے دونوں مراد لیے جائیں۔ عام طور پر ذکر سے مراد خطبہ لیا جاتا ہے۔ اگر یہ بھی مراد لیا جائے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ اذان کے بعد پہلا عمل جو نبی کریم ﷺ کرتے تھے وہ نماز نہیں بلکہ خطبہ تھا، اور نماز آپ ہمیشہ خطبہ کے بعد ادا فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کے روز ملائکہ ہر آنے والے کا نام اس کی آمد کی ترتیب کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ پھر جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ نام لکھنے بند کردیتے ہیں اور ذکر یعنی خطبہ سننے میں لگ جاتے ہیں۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے۔
بیع سے مراد
دوسرا حکم یہ دیا کہ ” اور بیع چھوڑ دو ۔ “ بیع اگرچہ فروخت کرنے کو کہتے ہیں لیکن مراد اس سے بیع و شراء ہے۔ لیکن صرف بیع پر اکتفا کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب بیع رک جائے گی یعنی دکانیں بند ہوجائیں گی، بازار بند ہوجائیں گے، سب چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والے جمعہ کے لیے چلے جائیں گے، تو شراء یعنی خرید بھی رک جائے گی۔ کیونکہ خریدار تب کسی چیز کو خریدتا ہے جب بیچنے والا موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جمعے کا انعقاد چونکہ صرف شہروں میں ہوتا ہے اور وہاں کا کاروبار اس زمانے میں عام طور پر بیع و شراء ہی سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ لیکن مراد اس سے تمام مشاغل کا ممنوع کرنا مقصود ہے۔ یعنی دفاتر بھی بند ہوجائیں اور تمام ایسی مصروفیات ختم ہوجائیں جو جمعے کی شرکت میں مانع ہوسکتی ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی آدمی اگر قرآن کریم پڑھنے میں مصروف ہے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں، اور اس مصروفیت کی وجہ سے جمعہ کے لیے نہیں جاتا یا اس میں تاخیر کردیتا ہے تو یہ جرم ہے اور وہ اس جرم کے ارتکاب میں پکڑا جائے گا۔ کیونکہ نماز جمعہ کے وقت نماز جمعہ ہی پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے باقی ہر مصروفیت ممنوع ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ یعنی بظاہر یہ حکم تم میں سے بعضوں پر گراں گزرے گا۔ وہ کاروبار روکنے میں نقصان محسوس کریں گے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہی طریقہ تمہارے لیے موجبِ خیروبرکت ہے۔ کیونکہ رزق و فضل سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی خوشنودی کے لیے تم کوئی نقصان گوارا کرو گے تو ابدی زندگی میں اس کا اجر اپنے رب کے پاس محفوظ کرلو گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی تمہارے لیے ایسے اسباب پیدا کردے جو تمہارے ہر نقصان کی تلافی بن جائے۔
اذان سنتے ہی ہر طرح کی مصروفیت کو چھوڑ دینے کا حکم بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ فرض ہے۔ نیز ایک فرض اسی وقت ساقط ہوتا ہے جب اس کی جگہ لینے والا فرض اس سے زیادہ اہم ہو۔ تو ظہر کی فرض نماز کا جمعہ کے روز ساقط ہوجانا اور نماز جمعہ کا اس کی جگہ لے لینا اور پھر بیع جیسی حلال اور طیب چیز کو چھوڑ دینا یہ جمعہ کی فرضیت کا صریح ثبوت ہے۔ بکثرت احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کردوں اور جا کر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے جمعہ کے خطبہ میں حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے ” لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے۔ “ علاوہ ازیں متعدد روایات میں نبی کریم ﷺ نے جمعہ کو باالفاظ صریح فرض اور حق واجب قرار دیا ہے۔
Ayah 62:10فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 10)
(پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو۔ )
یہود کے بالمقابل جمعہ کے احکام میں وسعت
کاروبار چھوڑ دینے کی پابندی اور ہر طرح کی مصروفیت سے دستبرداری کا حکم صرف نماز جمعہ کے لیے تھا اس کے بعد اجازت دی گئی ہے کہ تم جہاں چاہو اور جس شکل میں چاہو اللہ تعالیٰ کے رزق و فضل کو تلاش کرو۔ یہود پر سبت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی، لیکن مسلمانوں پر جمعہ کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختم نماز تک کے لیے عائد کی گئی۔ باقی پورے دن میں اسی طرح آزادی ہے جس طرح باقی دنوں میں۔ اس آیت کریمہ میں بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد رزق و فضل کی تلاش میں پھیل جانے کا شاید حکم دیا گیا ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ اذانِ جمعہ کے بعد بیع و شراء وغیرہ تمام دنیوی امور کو ممنوع قرار دیا گیا تھا، اس آیت میں اس کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ نماز ختم ہوجانے کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہوجاؤ اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو، کرو۔ قرآن کریم میں متعدد مثالیں اس کی موجود ہیں جہاں امر کو اجازت کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً حالت احرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا فَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ” جب احرام کھول چکو تو شکار کرو۔ “ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی پابندی باقی نہیں رہتی۔ اس آیت کریمہ میں بھی جمعہ کی نماز کے بعد تلاش رزق کی اجازت دی گئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عراک بن مالک ( رض) جب نماز جمعہ سے فارغ ہو کر باہر آتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ دعا کیا کرتے تھے : اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَجْبَتُ دَعَوَتَکَ وَصَلَیْتُ فَرِیْضَتَکَ وَاَنْتَشَرْتُ کَمَااَمَرْتَنِیْ فَارْزُقْنِیْ مِنْ فَضْلِکَ وَاَنْتَ خَیْرُالرَّازِقِیْنَ (رواہ ابن ابی حاتم) ” اے اللہ ! میں نے تیرے حکم کی اطاعت کی، اور تیرا فرض ادا کیا اور جیسا کہ تو نے حکم دیا ہے نماز پڑھ کر میں باہر جاتا ہوں، تو اپنے فضل سے مجھے رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ “
بعض سلف صالحین سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص نماز جمعہ کے بعد تجارتی کاروبار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے 70 مرتبہ برکات نازل فرماتے ہیں۔ (ابنِ کثیر)
آیتِ کے آخر میں فرمایا کہ تمہارے لیے رزق و فضل کی تلاش میں کوئی پابندی نہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس جدوجہد میں دنیا ہی مطمح نظر نہیں ہونی چاہیے بلکہ پیش نظر ہمیشہ آخرت کی فلاح ہو۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا جائے، نفس کے شرور سے اور شیطان کے فریبوں سے بچا جائے۔ جیسے عوام کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کار کی طرف، دل یار کی طرف۔ کہ آدمی جو بھی محنت کرے اور جیسی بھی جدوجہد کرے یقینا فائدے کی طلب ہی میں یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔ لیکن دل سے کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد محو نہ ہونے پائے اور اس کے احکام کبھی نظرانداز نہ ہونے پائیں۔
Ayah 62:11وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَا نِ انْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا ط قُلْ مَاعِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌمِّنَ اللَّھْوِوَمِنَ التِّجَارَۃِ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 11)
(اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف منتشر ہوگئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا، کہہ دیجیے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ )
واقعہ جو متذکرہ بالا احکام کے نزول کا سبب بنا
اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو متذکرہ بالا احکام اور تنبیہات کے نزول کا سبب بنا۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ خطبہ جمعہ نماز جمعہ کے بعد دیا کرتے تھے، جیسا کہ عیدین میں اب بھی یہی معمول ہے۔ ایک جمعہ کے روز یہ واقعہ پیش آیا کہ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک تجارتی قافلہ مدینہ طیبہ کے بازار میں پہنچا اور ڈھول باجا وغیرہ سے اس کا اعلان ہونے لگا۔ اس وقت نماز جمعہ سے فراغت ہوچکی تھی، خطبہ ہورہا تھا، بہت سے حضرات صحابہ بازار چلے گئے اور آپ ﷺ کے ساتھ تھوڑے سے حضرات رہ گئے جن کی تعداد بارہ بتلائی گئی ہے۔ بعض روایاتِ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس واقعہ پر فرمایا کہ اگر تم سب کے سب چلے جاتے تو مدینہ کی ساری وادی عذاب کی آگ سے بھر جاتی۔ امامِ تفسیر مقاتل کا بیان ہے کہ یہ تجارتی قافلہ دحیہ بن خلف کلبی کا تھا جو ملک شام سے آیا تھا اور تجارِمدینہ میں اس کا قافلہ عموماً تمام ضروریات لے کر آیا کرتا تھا۔ اور جب مدینہ کے لوگوں کو اس کی آمد کی خبر ملتی تھی تو سب مردو عورت اس کی طرف دوڑتے تھے۔ یہ دحیہ بن خلف اس وقت تک مسلمان نہ تھے، بعد میں داخل اسلام ہوئے۔ اور حسن بصری اور ابومالک نے فرمایا کہ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ مدینہ میں اشیائے ضرورت کی کمی اور سخت گرانی تھی۔ (تفسیر مظہری)
یاد رہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے جلدی بعد پیش آیا۔ جمعہ تو چونکہ ہجرت سے پانچویں دن ہی شروع ہوگیا تھا لیکن جمعے کے احکام اس وقت تک نازل نہیں ہوئے تھے۔ لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا کہ چاہے کیسی ہی حاجت اور مصروفیت پیدا ہوجائے خطبہ جمعہ سے اٹھ کر جانا جائز نہیں۔ اور ابھی تک تربیت بھی اس سطح تک نہیں پہنچی تھی جو صحابہ کرام کا امتیاز ہے اور جسے صحیح اسلامی تربیت کہنا چاہیے۔ اس وقت چونکہ نماز پہلے ہوتی تھی اور خطبہ ٔ جمعہ بعد میں۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ قحط سالی کی وجہ سے ضرورتیں بہت شدید ہیں اور شہر میں ابھی غیرمسلموں کی اکثریت ہے، وہ یقینا جلدازجلد سامانِ قافلہ خریدنے کی کوشش کریں گے۔ ہم اگر پیچھے رہ گئے تو اپنی ضروریات سے بھی محروم رہیں گے۔ نماز چونکہ ہو ہی گئی ہے اس لیے خطبہ ٔ جمعہ سے اٹھ جانے میں شاید کسی گناہ کا اندیشہ نہ ہو، اس لیے وہ اٹھ کر چلے گئے۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ خطبہ ٔ جمعہ اور آنحضرت ﷺ سے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔
یوں تو خطبہ ٔ جمعہ سے اٹھ کر چلے جانا اور ضروریاتِ دنیا کو ضروریاتِ دین پر ترجیح دینا بجائے خود ایک بہت بڑی کوتاہی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہوئی کہ خطبہ ٔ جمعہ خود آنحضرت ﷺ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ کو اس طرح چھوڑ کے چلے جانا دین کی ناقدری کے ساتھ ساتھ سوئِ ادب کا پہلو بھی رکھتا ہے اور دین میں اس کی جو اہمیت ہے وہ سب پر واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول کو دین میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر اس میں ذرا بھی فرق آجائے تو مومن کا رشتہ مرکز سے ٹوٹ جاتا ہے جس سے بڑھ کر کوئی خطرے کی بات نہیں ہوسکتی۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ تجارت ایک ضرورت سہی اور لہو ولعب انسان کی کمزوری سہی لیکن جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے اور وہی مقصد زندگی ہے اور تمہیں طالب اس کا ہونا چاہیے نہ کہ دنیا کے خزف ریزوں کا۔ اگر تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض کرکے ساری دنیا کی دولت بھی جمع کرلی تو یہ کتنے دنوں کام آئے گی۔ تم آخرت میں جب پہنچو گے تو تمہارے ہاتھ خالی ہوں گے۔ اس لیے عقل مندی کی بات یہ ہے کہ بجائے دنیا طلبی کے اس چیز کے طالب بنو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کیونکہ وہی بہترین روزی دینے والا ہے۔ وہ ایسے طریقے سے روزی دیتا ہے جہاں سے انسان کو سان گمان بھی نہیں ہوتا۔