Ayah 61:1سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الصف : 1)
(اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ )
آگے آنے والے مضمون کی تمہید
بعد کی آیات میں جو کچھ فرمایا جارہا ہے یہ اس کی مختصر تمہید ہے۔ اس آیت کے مضمون کے دو پہلو ہیں اور وہ دونوں ہی اس آیت کا مقصود معلوم ہوتے ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ اس آیت کے بعد جو کچھ فرمایا جارہا ہے اس کا بنیادی مضمون اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، اعلائے کلمۃ الحق کے لیے کاوشیں اور اس راستے پر سب کچھ قربان کردینا ہے۔ جب کسی کی خاطر چھوٹی یا بڑی قربانی کی ترغیب دی جاتی ہے تو یہ خیال دل میں آئے بغیر نہیں رہتا کہ میں جس کے لیے سب کچھ قربان کررہا ہوں کیا وہ صلہ دینے پر قدرت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ ایسا تو نہیں کہ وہ ایک بےبس اور بےکس ذات ہے جس سے کسی چیز کے ملنے کی توقع نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس ذات خداوندی کے راستے میں جہاد کی ترغیب دی جارہی ہے وہ ذات اتنی عظیم ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کی تسبیح وتحمید میں لگی ہوئی ہے۔ اور وہ اتنی طاقتور ہے کہ ہر چیز پر اس کا غلبہ ہے۔ اور اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ کیا ایسی ذات کی خاطر قربانی نہ دینا اور اس کی خوشنودی کے حصول کی کوشش نہ کرنا نقصان کا سودا نہیں۔ افسوس ہے ان لوگوں پر کہ جو ایسی ذات کو خوش رکھ کے کچھ حاصل کرنے کی بجائے محرومیوں کو اپنا مقدر بنالیں۔
دوسرا پہلو اس آیت کے مضمون کا یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں سرگرم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات ساری کائنات پر غالب اور کائنات کے نظم و تدبیر میں حکمتوں کی مالک ہے۔ کوئی شخص اگر ایسی ذات کی خوشنودی کے حصول کے لیے جہاد نہیں کرتا اور اپنا مال اور اپنی جان کا نذرانہ اس کے حضور پیش نہیں کرتا، تو ایسی عظیم ذات کو کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ وہ بےنیاز ہی نہیں بلکہ سب اس کے نیازمند اور محتاج ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے سلسلے میں کہیں فعل ماضی استعمال ہوا ہے جیسے اس سورة میں، اور کہیں فعل مضارع جسے آنے والی سورة میں۔ اس سے دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کائنات کے ہر دور میں واقع ہوتی رہی ہے۔ اور اس کا وقوع ایک ایسا سیل رواں ہے جس کی روانی میں کبھی فرق نہیں آتا۔ اور ایک ایسی لازمی حقیقت ہے جس کے انقطاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو ایسی ذات کی خوشنودی حاصل نہ کرنا اور اس کے راستے میں کسی طرح کی قربانی سے دریغ کرنا کتنی بڑی محرومی کا باعث ہوسکتا ہے۔
آیت کے آخر میں الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُدو صفات کو بغیر حرف عطف کے اکٹھا لایا گیا ہے۔ اس میں اشارہ شاید اس بات کی طرف ہے کہ یہ دونوں صفتیں بیک وقت موصوف میں پائی جاتی ہیں۔ یعنی وہ بیک وقت ہر چیز پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت و مصلحت بھی ہے۔ اس میں شاید اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے اور پھر تم سے اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے نصرت اور مدد کا تقاضا کیا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نصرت کا محتاج ہے۔ اور اس کے دین کی سربلندی اور اس کا نفوذواشاعت شاید تمہاری کاوشوں کا مرہونِ منت ہے۔ ایسا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں اور جو قانون تجویز کیا ہے اس میں وہ حق کو کبھی زبردستی غالب نہیں کرتا۔ اور کبھی شر اور باطل کو طاقت سے سرنگوں نہیں کرتا۔ بلکہ یہ کام اس نے اہل حق پر ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنی کاوشوں اور قربانیوں سے حق کے غلبے کے لیے راستہ صاف کرے اور باطل کی قوتوں سے لڑ کر انھیں سرنگوں کرے۔ اس راستے میں کام آجانے والوں کو بیش بہا انعامات سے نوازتا ہے۔ اور اس راستے پر چلنے والوں کو اپنی تائید و نصرت سے گراں بار کرتا ہے۔
Ayahs 61:2–3یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ کَبُرَمَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَالاَ تَفْعَلُوْنَ ۔ (الصف : 2، 3)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ )
بنیادی اخلاقی کمزوری قول و عمل کا تضاد ہے
الْمَقْتُ … اہل لغت اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں الْمَقْتُ اشدالابغاض۔ المقت بغض من امرقبیح رکیۃ ” یعنی حددرجہ کا بغض، خصوصاً وہ بغض جو کسی قبیح حرکت کے باعث ہو۔ انسان کی اخلاقی کمزوریوں میں سے یہ کمزوری بہت تکلیف دہ اور نقصان کا باعث ہے کہ انسان کے قول و عمل میں تضاد ہو۔ وہ جس بات کا دعویٰ کرے عمل کی دنیا میں اس پر پورا نہ اترے۔ اگر وہ ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس پر وہ عمل کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا تو یہ تو ایک بدترین عیب ہے۔ لیکن اگر وہ دعویٰ کرتے وقت عمل کا ارادہ تو رکھتا تھا لیکن بعد میں عملی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے اس نے عمل کا ارادہ بدل ڈالا۔ تو یہ چیز بھی بجائے خود ایک مسلمان کے لیے انتہائی قبیح حرکت ہے۔ جھوٹ بولنا، وعدے کی خلاف ورزی کرنا یا امانت میں خیانت کرنا یہ سب اسی خصلت کے ساخسانے ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ نے اسے منافق کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اور سیرت و کردار کی تعمیر میں اس کا جو حصہ ہے شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے ہر خطبہ جمعہ میں ہمیشہ اس کا ذکر ضرور فرماتے تھے۔ کبھی فرماتے لا ایمان لمن لاعہدلہ اور کبھی فرماتے لادین لمن اللہ امانۃ لہ کیونکہ جو شخص اپنے قول کا ایفاء کرنے والا ہے وہ نہ کبھی وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نہ کبھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں میں اس عیب کے پیدا ہونے کا کبھی امکان بھی محسوس نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں اس عام اخلاقی کمزوری سے بڑھ کر ایک اور بات کہی جارہی ہے جو نہ صرف قبیح ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے انتہائی غضب کا باعث ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے لیے سب سے بہتر عمل کا دعویٰ کرے یا حق و باطل کے معرکے میں جسم و جان کا نذرانہ پیش کرنے کی تمنا کا اظہار کرے۔ لیکن جب موقع آئے تو اس سے بچ نکلنے کی کوشش کرے، موت کا خوف اسے آپکڑے یا دنیا کی محبت اس کا راستہ روک لے۔ تو یہ وہ اخلاقی کمزوری ہے جو اللہ تعالیٰ کے انتہائی غضب کو دعوت دیتی ہے۔ چناچہ مدینہ کے مسلمان معاشرے میں جہاں صحابہ اخلاص و ایثار کی تصویر تھے اور شہادت کو وہ زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے وہیں کچھ ایسے ضعیف الایمان مسلمان بھی تھے جو ابھی تک موت کے خوف سے نجات نہیں پا سکے تھے اور آخرت میں کامیابی ان کا مقصود نہیں بن سکی تھی۔ اور ایسے منافقین بھی تھے جو صرف سخن سازی پر گزارہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس سے ناپسندیدہ بات اور کوئی نہیں کہ تم بڑھ چڑھ کر سرفروشی کا دعویٰ کرو، لیکن وقت آنے پر کمزوری دکھائو۔ چناچہ اسی سلسلے میں سورة النساء آیت 77 میں فرمایا گیا ہے کہ تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کے رکھو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ اب جو انھیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے۔ یا اس سے بھی کچھ بڑھ کر، کہتے ہیں ” خدا یا ! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی۔ “ ان کی یہ روش اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اس لیے تھی کہ حق و باطل کی کشمکش میں ایسی کوئی کمزوری صرف شخصی کمزوری نہیں رہتی بلکہ اہل حق کی فیروزمندیوں اور فتح مندیوں میں صورتحال کے بدل جانے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ حق کی سربلندی، سرنگونی میں بدل جاتی ہے۔ اور یہ چند لوگوں کی کمزوری بعض دفعہ اجتماعی حادثہ ثابت ہوتی ہے۔
Ayah 61:4اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔ (الصف : 4)
(بےشک اللہ ان لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مبغوض بندوں کے درمیان فرق
اس آیت کریمہ سے اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مبغوض لوگوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان، اخلاص اور سرفروشی کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن وہ وقت آنے پر نہایت کمزور ثابت ہوتے بلکہ بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ اور وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوسکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ صرف اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں سرفروشی کے لیے لمبی چوڑی ڈینگیں نہیں مارتے، اور وہ جاں نثاری کے بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی سے استقامت، ثابت قدمی اور ہر طرح کی آزمائش میں پورا اترنے کی توفیق مانگتے رہتے ہیں۔ اور جب کبھی حق و باطل کی کشمکش میں نوبت قتال تک پہنچتی ہے تو پھر ان کی متعدد خوبیاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ اور یہی لوگ فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں۔ ان میں پہلی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی فی سبیل اللہ لڑتے ہیں۔ وہ ایسی کسی جنگ اور کسی آویزش میں کبھی شریک نہیں ہوتے جو فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ ان کا مال و دولت، ان کا جسم و جان، ان کی صلاحیتیں اور توانائیاں، ان کی ذہانت و فطانت اور ان کے جذبات و عواطف صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ نہ وہ شیطان کے راستے پر چلتے ہیں نہ اپنی خواہشات کی پیروی میں کسی سے الجھتے ہیں، نہ مفادات کی ہوس انھیں کسی سے نبردآزما ہونے کے لیے اکساتی ہے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے سوچتے، اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ دوسری خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ وہ بدنظمی اور انتشار سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ ایک امیر کے تحت اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ایک مضبوط تنظیم کی معیت میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں۔ الگ الگ ٹولیوں کی شکل میں اپنے مفادات کو دین کا لبادہ پہنا کر اپنے گروہی مفادات کی خاطر وہ کبھی جنگ نہیں کرتے۔ بلکہ ان کی سوچ بھی اجتماعی ہوتی ہے اور ان کا عمل بھی اجتماعی ہوتا ہے۔ تیسری خوبی ان کی یہ ہے کہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ دشمن ان کے اندر دراڑیں ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ چونکہ ان کا کوئی فیصلہ انفرادی نہیں ہوتا اس لیے اجتماعیت کی دیوار میں کہیں شگاف پیدا ہونے میں نہیں آتا۔ جب دشمن سے تصادم ہوتا ہے تو دشمن محسوس کرتا ہے کہ اس اجتماعی قوت کو انتشار کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ میں بڑی معنویت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ کسی جماعت کا بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ میں ڈھل جانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ صرف ایسی جماعت ہی اس صفت کی حامل ہوسکتی ہے جن کا ایک ایک فرد ایک دوسرے کے خلوص پر اعتماد رکھتا ہے۔ اور ان میں ایک ایک مخلص بھی ہو اور ناپاک اغراض سے پاک بھی۔ ان میں اخلاق کا ایک بلند معیار ہو جس میں سپاہی اور افسر برابر کے شریک ہوں۔ وہ ایک عظیم مقصد کی خاطر ایک دوسرے سے اس قدر پیوست ہوچکے ہوں کہ وہ الگ الگ اپنے وجود کا احساس دوسرے کے بغیر مشکل محسوس کرتے ہوں۔ انھیں مقصد سے ایسا عشق ہو اور مقصد کو بروئے کار لانے کا ایسا پختہ عزم ہو کہ جس پر شکستگی کی کوئی پرچھائیں بھی نہ پڑ سکے۔ ایسے لوگ ہیں جو کسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں ڈھل سکتے ہیں۔ اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔
Ayah 61:5وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْتَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ ط فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَسِقِیْنَ ۔ (الصف : 5)
(اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو، حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پس جب انھوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا، اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ )
منافقین کو تنبیہ کے لیے قوم موسیٰ کی مثال
مسلمانوں میں ضعیف الایمان لوگوں کو عموماً اور منافقین کو خصوصاً سمجھانے کے لیے قوم موسیٰ یعنی یہود کی مثال دی جارہی ہے کہ وہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے بلکہ انھیں اپنا محسن خیال کرتے تھے۔ لیکن اس قول اور اعتقاد کے باوجود انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مختلف اوقات میں جو رویہ اختیار کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے ایذا دہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے پیش نظر ایک مضبوط جتھہ بنانا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی امت کی تشکیل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول کی اطاعت میں کسی کمزوری کا شکار نہ ہو۔ ان کی زندگی کا ہر شعبہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے تحت اور رسول کی ہدایت کے مطابق بسر ہوتا نظر آئے۔ ان کی صلح و جنگ ان کے اپنوں اور پرایوں سے معاملات اور ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اداروں پر ہر جگہ ایک ہی چھاپ دکھائی دے کہ یہ لوگ نفسانیت کے بندے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول کے فرماں بردار امتی ہیں۔ چناچہ جب بھی اس بنیادی تصور کو نافرمانی کی صورت میں کہیں بھی ضعف پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نبی کو اس سے اذیت پہنچتی ہے۔ وہ اپنی ذاتی تکلیف کو ہمیشہ نظرانداز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی شریعت کے کسی حکم کی شکست و ریخت اسے گوارا نہیں ہوتی۔ چناچہ اسی بنا پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی قوم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس کے باوجود تم مجھے ایذا پہنچاتے رہتے ہو۔ اور تم کوئی موقع میری نافرمانی کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور جس پروردگار نے تم پر بےپایاں احسانات کیے ہیں اس کے احسانات اور نیکیوں کی ناشکری کرنے سے بھی تمہیں کبھی عار محسوس نہیں ہوتی۔ چناچہ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ جب بنی اسرائیل بحراحمر کو سلامتی سے عبور کرکے ساحل پر پہنچے اور اپنی آنکھوں سے فرعون کو لشکر سمیت غرق ہوتے دیکھ لیا تو تب بھی ان کے عقیدہ توحید میں پختگی نہ آئی۔ جیسے ہی ایک بت پرست قوم کو دیکھا کہ وہ اپنے بتوں کی پوجا کررہی ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائش کر ڈالی کہ اے موسیٰ ! ہمارے لیے ایسے خدا بنادیں جس طرح اس قوم کے خدا ہیں۔ جب آپ ( علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سامری کی ایک معمولی سی انگیخت پر انھوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے جاں فروشی اور جا نثاری کا سوال ہے۔ اس میں بھی ان کا ہمیشہ یہی حال رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے بڑے جوش و جذبہ کا اظہار کرتے، لیکن جب وقت آتا تو ڈگ ڈال دیتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب انھیں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو وہ یہ جواب دے کر بیٹھ رہے کہ یہ بڑے زورآور لوگ ہیں، ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لیے تیار نہیں۔ آپ اپنے رب کے ساتھ جا کر ان سے لڑیں۔ جب وہ شہر خالی کر جائیں گے تو ہم شہر میں داخل ہوجائیں گے۔ ان میں سے بعض نادان لوگ تو اس حد تک جسارت کر جاتے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے الزام تراشتے۔ تورات کے صفحات ان گستاخیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ان کے ان کرتوتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب انھوں نے بار بار کی تنبیہ و تذکیر کے بعد بھی اپنے دلوں کا رخ سیدھا نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم کی جو صلاحیتیں انھیں بخشی تھیں انھوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا۔ اور دانستہ راہ حق کو چھوڑ کر گمراہی کے راستے پر چلتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ یعنی ان کے دلوں کو اسی رخ پر کج کردیا جس کو انھوں نے اپنے لیے پسند کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص جس راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی راستے پر چلنے کے اسباب پیدا کردیتا ہے۔ اگر کوئی شخص صحیح راہ پر چلنا چاہتا ہے تو اس کے لیے صحیح راہ پر چلنا آسان کردیا جاتا ہے۔ اور جو شخص برے راستوں کا مسافر بننا چاہتا ہے اور برائی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ برائی کے راستے اس کے لیے آسان کردیتا ہے اور برائی پر چلنے کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ اس کے یہاں جبر نہیں۔ نیکی کے راستے پر چلنے والوں کو وہ زبردستی برے راستے پر نہیں چلاتا۔ اور برائی اختیار کرنے والوں کو وہ زبردستی نیک نہیں بناتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرے تو یہ جبر ہے اس سے جزا و سزا کا تصور تمام تر غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ قیامت کے دن ہر برا آدمی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ آپ کے جبر سے ہم نے برائی اختیار کی، آج یہ سزا کیسی۔ اور یہ بھی اعتراض کرسکتا ہے کہ آپ کے جبر کی وجہ سے فلاں شخص نے نیکی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے لیے جزا اور انعام کیسا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ کسی شخص یا قوم کی گمراہی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ خود اس شخص یا اس قوم کی طرف سے ہوتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق گمراہی پسند کرنے والے کو راست روی کے لیے مجبور نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے گمراہی کے اسباب پیدا کردیتا ہے تاکہ جن جن راہوں پر وہ بھٹکنا چاہے بھٹکتا چلا جائے، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو خیروشر، نیکی اور بدی میں آزادی دے رکھی ہے، اسی پر اس کی جزا و سزا کا دارومدار ہے۔ چناچہ یہود جب اپنی کجروی پر چلتے رہے اور ہمیشہ انھوں نے کجی کے راستوں ہی کو پسند کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کجی پیدا کردی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نہیں ہے کہ کوئی ضلالت کو پسند کرے، لیکن وہ اس کے اندر زبردستی ہدایت ٹھونس دے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کی قدر کرتا اور اس کا طلب گار ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح سے منافقین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم بھی اگر یہود کی اس روش کی پیروی جاری رکھو گے تو تمہارے دل اسی طرح ٹیڑھے کردیئے جائیں گے جس طرح ان کے دل ٹیڑھے کردیئے گئے، پھر تم صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاؤ گے۔
Ayah 61:6وَاِذْقَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ط فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الصف : 6)
(اور یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا، اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں، میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا، مگر جب وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کے آیا تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ )
دل کی کجی کے اثرات جو بعد میں ظاہر ہوئے
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات سے انحراف اور آپ کو ایذارسانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کج کردیا، اور وہ ہمیشہ کے لیے صحیح سوچ اور صحیح فیصلہ سے محروم ہوگئے۔ یہ اسی کجی اور ٹیڑھ پن کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنے دورعروج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور ان کا دل دکھایا۔ اور اپنے دور زوال کے اختتام پر انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وہ رویہ اختیار کیا جو صاف صاف بولتا ہے کہ ایسا رویہ وہی قوم اختیار کرسکتی ہے جن کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہوں اور انھیں صراط مستقیم پر چلنے سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیا گیا ہو۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین ارشادات
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تو آپ نے اس آیت کے بیان کے مطابق ان سے تین باتیں ارشاد فرمائیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہیں ہوں، آپ کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنا یہ ان یہود کے دلوں کے ٹیڑھا ہونے کا نتیجہ تھا جس کی سزا پروردگار کی طرف سے مسلسل نافرمانیوں کے نتیجے میں انھیں ملی تھی۔ اور اسی سلسلے میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اِلَیْکُمْ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی میری رسالت کا دائرہ بنی اسرائیل تک محدود ہے۔ اسی کی تائید انجیل سے بھی ہوتی ہے۔ ( انجیل متی باب 15، آیت 24) جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔
دوسری بات آپ نے یہ فرمائی، میں موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کے لیے نہیں آیا بلکہ ان پر جو آسمانی کتاب تورات نازل ہوئی میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ یہ ایک طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سچا رسول ہونے کی دلیل بھی ہے کیونکہ کوئی سچا رسول پہلے گزرے ہوئے سچے رسول کی تکذیب نہیں کرتا، بلکہ تصدیق کرتا ہے۔
مُصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ کے تین مفہوم بیان کیے جاتے ہیں اور وہ تینوں صحیح ہیں۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ میں کوئی الگ اور نرالا دین لے کر نہیں آیا ہوں بلکہ وہی دین لایا ہوں جو موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ اسی طرح میں تورات کی تردید کرتا ہوا نہیں آیا بلکہ اس کی تصدیق کر رہا ہوں۔ جس طرح ہمیشہ سے خدا کے رسول اپنے سے پہلے آئے ہوئے رسولوں کی تصدیق کرتے رہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ تم میری رسالت کو تسلیم کرنے سے انکار کرو۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ان بشارتوں کا مصداق ہوں جو میری آمد کے متعلق تورات میں موجود ہیں۔ اگر کوئی شخص واقعی تورات کی ایک ایک بات پر یقین رکھتا ہے تو کس قدر عجیب بات ہے کہ جب تورات ہی کی بیان کردہ بشارتوں کا مصداق ان کے سامنے آجائے تو وہ اسے ماننے سے انکار کردیں۔
تیسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ ایک آنے والے رسول جس کی خبر تورات نے دی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ اور خود بھی اس کے آنے کی بشارت دیتا ہوں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک آنے والے عظیم رسول جن کا نام نامی احمد ہوگا کے لیے مبشر بن کر آئے تھے۔ اور تورات میں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی عظیم رسول کے آنے کی خبر دی تھی۔ مندرجہ ذیل اقتباس سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
تورات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں (خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کی سننا، یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، سو ٹھیک کہتے ہیں، میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کچھ میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا، نہ سنے تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا) ۔ (استثناء باب 18، آیات 15۔ 19) یہ تورات کی وہ صریح پیشگوئی ہے جو آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوسکتی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی کی تصدیق کرنے کے لیے تشریف لائے اور مزید یہ کہ آپ اسی بشارت کے مبشر بنا کر بھی بطورخاص مبعوث کیے گئے ہیں۔
اور تیسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ میرے بعد ایک عظیم رسول آئے گا جس کا اسم گرامی احمد ہوگا۔ اس آیت کریمہ کے اس فقرے پر مخالفینِ اسلام نے بڑی لے دے کی، کیونکہ اگر اس کو تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) واقعی رسول اللہ ﷺ کی نام کے ساتھ بشارت دینے کے لیے تشریف لائے تھے تو پھر مسیحیت کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہ جاتی۔ اس لیے عیسائی علماء نے نہایت زور و شور سے اس کی مخالفت کی اور بدترین خیانتِ مجرمانہ سے کام لیا۔ یوں تو تورات اور انجیل دونوں میں یہود نے بدترین تحریف سے کام لیا ہے، لیکن بالخصوص ان کتابوں کی وہ آیات جن میں نبی کریم ﷺ کی صفات اور علامات بیان ہوئی ہیں اور آپ ﷺ کے بارے میں بشارتیں دی گئی ہیں، وہ ان کی تحریف کا خاص نشانہ بنی ہیں۔ اسی تحریف کے سلسلے میں انھوں نے متذکرہ بالا بشارت کو بھی بگاڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی کے سلسلے میں عجیب و غریب خیانتوں کا ارتکاب کیا۔ اب بجائے اس کے کہ ہم اس پر تفصیلی بحث کریں، ہم سفارش کریں گے کہ حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب اظہارالحق کا مطالعہ کیا جائے جو مذہب عیسائیت کی حقیقت اور انجیل میں تحریفات اور باوجود تحریفات کے اسم رسول اللہ ﷺ کی بشارتیں موجود ہونے کے متعلق بینظیر کتاب ہے۔ خود بڑے عیسائیوں کے مقولے چھپے ہوئے ہیں کہ اگر دنیا میں یہ کتاب شائع ہوتی رہی تو عیسائیت کو کبھی فروغ نہیں ہوسکتا۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی تھی، پھر مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے، اب اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ اور مزید ہم یہ سفارش کریں گے کہ صاحب تفہیم القرآن نے اسی آیت کی تفسیر کے تحت جس تفصیل سے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے اسے ایک نظر ضرور دیکھ لیا جائے۔ اس سے تحقیق و تنقیح کے بعض نئے گوشے سامنے آتے ہیں۔
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دینے کے لیے تشریف لائے تھے جب ایسے معجزات لے کر تشریف لے آئے تو جن معجزات کو دیکھ کر کوئی سلیم الفطرت آدمی کبھی آپ کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا تھا ان ہی معجزات کو یہود نے صریحاً جادو قرار دے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کر ڈالی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے قوم کی حیثیت سے ان پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھٹکار پڑی اور ان کے دل ٹیڑھے کردیئے گئے یہ دلوں کی اسی کجی کا نتیجہ تھا کہ اتنے واضح معجزات بھی انھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا باعث نہ بن سکے۔ انجیل میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ یہود نے نہ صرف آپ کے معجزات کو جادو کا کرشمہ قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ کچھ دکھاتے ہیں اس میں روح القدس کی تائید کو کوئی دخل نہیں، بلکہ ان کو ایک بھوت بعلزبول کی مدد حاصل ہے۔
Ayah 61:7وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الصف : 7)
(اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے، حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جارہا ہے، ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
یہود کی بدقسمتی پر اظہارِ افسوس
یہ یہود کی بدقسمتی پر اظہارِ افسوس ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو اذیت رسانی کے نتیجے میں جو ان پر خدا کی مار پڑی کہ ان کے دل ٹیڑھے کردیئے گئے اس کا پہلا نتیجہ تو یہ ہوا کہ ان کے دورزوال کے اختتام پر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام تشریف لائے جو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بن کر آئے تھے، انھوں نے ان کی بھی تکذیب کردی اور ان کے واضح معجزات کو ایک بھوت کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا۔ اب ان کی کجروی کی انتہا یہ ہے کہ اب جبکہ نبی کریم ﷺ آخری رسول کی حیثیت سے تشریف لائے ہیں اور وہ ان کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور یہ دعوت کوئی نئی نہیں بلکہ ہر رسول نے ہمیشہ اسلام ہی کی طرف بلایا۔ لیکن بگڑنے والے لوگوں نے نہ صرف دعوت کو بدلا بلکہ عنوان تک کو بھی بدل ڈالا اور نام بھی بدل دیا۔ اب پھر اسی اصلی نام سے انھیں دعوت دی جارہی ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جو نبی انھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلا رہا ہے وہ اسے جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ جو کلام اس پر نازل کیا جارہا ہے اسے نبی کا اپنا گھڑا ہوا کلام ٹھہرا رہے ہیں۔ اور بعض باتیں جو انھوں نے خود گھڑ رکھی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے اپنے لیے اسلام کے انکار کا جواز پیدا کررہے ہیں۔ انھوں نے اپنے طور سے یہ بات بنا رکھی ہے کہ وہ ایک برگزیدہ اور اللہ تعالیٰ کی منظورِنظر امت ہیں۔ ہم امیوں کے اندر پیدا ہونے والے کسی پیغمبر پر کیونکر ایمان لاسکتے ہیں جبکہ نبوت اور رسالت ہمیشہ سے اسرائیل کے گھرانے سے اٹھتی رہی ہے۔ حالانکہ ان کی اپنی کسی کتاب میں بھی کہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا کہ بنی اسرائیل کا گھرانہ نبوت و رسالت کے لیے مخصوص ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ روئے زمین کے ہر ایسے حصے پر جہاں انسانی آبادی ہو اور ان کی طرف کوئی پیغمبر نہ آیا ہو تو وہ اپنے نبی اور رسول بھیجتا رہا ہے۔ لیکن انھوں نے ایک فرضی بات بنا رکھی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لانے کا بہانہ بنا لیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے یہ بات بھی گھڑ رکھی ہے کہ ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے دعوائے نبوت کی تصدیق نہ کریں جس کی پیش کی ہوئی قربانی کو کھانے کے لیے آسمان سے آگ نہ اترے۔ یہ سب خانہ ساز باتیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے انھوں نے اپنے اوپر ظلم توڑا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ یعنی ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی قدر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کریں اور اس طرح سے اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرلیں۔ یہ ظالم لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Ayahs 61:8–10یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ۔ (الصف : 8، 9)
(یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ )
یہود کا ہدف اور اس میں ناکامی
جزیرہ عرب کے رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ اس بات پر متفق تھے کہ جس طرح بھی ہوسکے اس نور کو بجھا دیا جائے جو آنحضرت ﷺ اسلام کے نام سے پھیلا رہے ہیں۔ قرآن کریم نے اسے تشبیہ کی صورت دے کر ایک سعی لاحاصل قرار دیا ہے۔ یعنی ان کی یہ کاوشیں ایسے ہی ہیں جیسے سورج یا چاند کی روشنی کو کوئی شخص یا انسانوں کا کوئی گروہ اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھانے کی کوشش کرے۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اور پھر مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کا دین جو اب ہلال کی شکل میں ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اسے بدر بنا کر رہے گا۔ یعنی دین کی وہ روشنی جو چراغ کی صورت مسلمانوں کے دلوں میں جل رہی ہے اور ابھی تک مدینہ منورہ کے گھروں میں بھی پوری طرح پھیل نہیں سکی اور لوگ اسے بجھانے کی تدبیریں کررہے ہیں اور بہت حد تک اس کے لیے پرامید بھی ہیں۔ لیکن یہ حیرت انگیز پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روشنی کو پہلے جزیرہ عرب کی حد تک اور اس کے بعد معلوم زمین کے بڑے حصے تک پھیلا کے رہے گا۔ دوسری آیت پہلی آیت کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ جس پروردگار نے اپنے نور کو کامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ نور درحقیقت وہ دین ہے نبی کریم ﷺ جسے دے کر بھیجے گئے ہیں اور پیش نظر یہ ہے کہ اس دین کو اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب کردے اور یہ فیصلہ تکمیل کو پہنچ کر رہے گا۔ اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ پہلی آیت کے آخر میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگرچہ یہ کفار پر کتنا ہی گراں گزرے اور دوسری آیت کے آخر میں فرمایا کہ اگرچہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔ پہلے کافرون کا لفظ ہے اور اس کے بعد مشرکون کا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافرون سے وہ تمام مخالفین مراد ہیں جو جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے تھے اور جن کا تعلق مختلف مذاہب سے تھا۔ اور مشرکین سے مشرکینِ قریش مراد ہیں۔ ان دو لفظوں کے استعمال سے تمام مخالف طاقتوں کا ذکر کردیا گیا ہے جو اس وقت عرب میں اسلام کی مخالفت کررہی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ تمام مخالفین کو چیلنج کردیا گیا ہے کہ تم مخالفت میں جتنا زور لگانا چاہو لگا لو، لیکن تم اللہ تعالیٰ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اس رسول کے ذریعہ سے اس دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرکے رہے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیات جنگ احد کے بعد 3 ہجری میں نازل ہوئی ہیں جبکہ اسلام ابھی مدینہ منورہ تک محدود تھا اور مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی اور ابھی کچھ عرصہ پہلے احد کے معرکے میں جو مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ چکی تھی اور گردوپیش کے قبائل ان پر شیر ہوگئے تھے۔ ان حالات میں اس دین کا تمام دینوں پر غالب آنا اور اللہ تعالیٰ کے نور کا کامل ہو کے رہنا ایک ایسی پیشگوئی تھی جس کا اس وقت یقین کرنا آسان نہ تھا۔ لیکن آج اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ اور چند ہی سالوں میں اللہ تعالیٰ کا دین جزیرہ عرب پر غالب آگیا۔ اور پھر ربع صدی نہیں گزری تھی کہ معلوم زمین کی ایک تہائی کا وہ مقدر بن گیا۔
Ayahs 61:11–12تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّـبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الصف : 11، 12)
(تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں داخل کرے گا جو ابد کے باغوں میں ہوں گے، یہ ہے بڑی کامیابی۔ )
آیت کے اسلوب کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کا اسلوب قابل توجہ ہے۔ سیاق کلام سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ اس آیت میں استعمال ہونے والے افعالِ مضارع امر کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں، لیکن ان کا اسلوب انشائیہ نہیں بلکہ خبریہ ہے۔ اس کی وجہ درحقیقت یہ ہے کہ عربی اسالیب میں یہ اسلوب قرآن کریم نے عام استعمال کیا ہے کہ جب امریا نہی کے اندر نصیحت اور ناصحانہ تلقین کا مضمون پیدا کرنا ہو تو ان کو خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں۔ چناچہ اس آیت میں بھی تُؤْمِنُوْنَاور تُجَاھِدُوْنَبظاہر تو خبر کے اسلوب میں ہیں لیکن یہ معنی میں امر کے ہیں کہ تم ایمان لائو اور تم جہاد کرو۔ لیکن اسلوب کے بدلنے سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب یہ سمجھتا ہے کہ مجھے یہ بات نہایت شفقت سے سمجھائی جارہی ہے۔ اور اس میں کہنے والے کا نہیں بلکہ میرا ہی نفع ہے۔ چناچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری تجارت تمہیں عذاب الیم سے بچا دے تو پھر تم حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ یعنی جس میں یقین کی پوری قوت شامل ہو۔ اور اطاعت کا جذبہ اپنے عروج پر ہو۔ پھر اپنے مالوں اور جانوں سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو کہ تمہارے مال بھی اللہ تعالیٰ کے ہوجائیں اور تمہاری جانیں بھی۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نہ تمہیں مال خرچ کرنے میں تأمل ہو اور نہ جان دینے میں۔ بلکہ تم یہ سمجھو کہ اگر ہم سے ان دونوں میں سے کسی کی بھی قربانی مانگی جائے تو یہ ہمارے لیے عین سعادت ہے اور یہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مال خرچ کردینا بظاہر خسارے کا سودا ہے اور وہ بھی اس وعدے پر کہ آخرت میں تمہیں اس کا صلہ ملے گا۔ اسی طرح جان دے دینا اللہ تعالیٰ کی رضا کی امید اور جنت کی طلب میں، یہ بھی بظاہر بہت بڑا نقصان معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ زندگی سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ لیکن اگر تم اس کی حقیقت کو جان لو تو تمہیں اندازہ ہوجائے کہ تم نے اپنا مال خرچ کرکے چند خزف ریزے پیش کیے ہیں۔ اور اپنی جان قربان کرکے ایک ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے راستے میں دی ہے جسے بہرحال فنا ہوجانا تھا۔ اور وہ تمہاری اپنی نہیں بلکہ اسی کی عطا کردہ تھی جس کے لیے تم نے اسے قربان کیا ہے۔ اور اس کے بدلے میں تمہیں ایسی دولت کونین مل رہی ہے جسے کبھی زوال نہیں۔ اندازہ کیجیے کہ یہ تجارت کس قدر نفع بخش ہے۔ انسان اپنی حقیر متاع مال اور جان کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہے۔ اور ان میں سے کسی کو بقاء حاصل نہیں، زوال ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں عذاب الیم سے نجات مل جائے گی، گناہ معاف ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ کی وہ جنت مل جائے گی جس کی نعمتوں کو کبھی زوال نہیں۔ اس سے بڑی نفع بخش تجارت اور کیا ہوسکتی ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اِک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
Ayah 61:13وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا ط نَصْرٌمِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصف : 13)
(اور ایک اور چیز بھی ہے جس کو تم چاہتے ہو، یعنی اللہ کی نصرت اور قریب ہی حاصل ہوجانے والی فتح، اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجیے۔ )
اس تجارت میں کامیابی اور غلبہ بشارت
اس تجارت کے نتیجے میں اخروی نعمتوں کے ساتھ ساتھ تمہیں ایک اور نعمت بھی ملنے والی ہے جس کی تم بہت تمنا رکھتے ہو، لیکن اس کے ذکر سے پہلے اخروی نعمتوں کا کر فرمایا اور اسے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں یقینا مسلمانوں کی فتح و کامرانی بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن سب سے بڑی کامیابی ایک مومن کے لیے آخرت کی کامیابی ہے۔ دنیوی کامیابیوں اور نعمتوں میں سے دو چیزوں کا ذکر فرمایا، ایک اللہ تعالیٰ کی نصرت اور دوسری عنقریب ہونے والی فتح۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مراد اسلام اور مسلمانوں کی وہ تمام کامرانیاں ہیں جو حق و باطل کی کشمکش میں انھیں قدم قدم پر حاصل ہورہی ہیں۔ بدترین دشمن دھیرے دھیرے دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہورہے ہیں، قبیلوں کا جمود ٹوٹ رہا ہے، اسلام کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے اور اہل مکہ کا حلقہ اثر روز بروز سمٹتا جارہا ہے۔ رہی وہ فتح جو عنقریب ہونے والی ہے۔ اس سلسلے میں ائمہ مفسرین کا خیال یہ ہے کہ اگر قریب کے لفظ کو آخرت کے مقابلہ میں لیا جائے تو پھر تمام اسلامی فتوحات اس میں داخل ہیں چاہے ان کا تعلق عرب سے ہو یا عجم سے۔ اور اگر قریب عرفی مراد لیا جائے تو پھر ان مفسرین کے نزدیک جو ان آیات کے زمانہ ٔ نزول کو جنگ احد کے قریب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک اس سے مراد فتح خیبر ہوگی۔ اور جو اس کا زمانہ ٔ نزول فتح مکہ سے کچھ پہلے کا زمانہ مراد لیتے ہیں تو ان کے نزدیک اس سے مراد فتح مکہ ہوگی۔ لیکن اس ناچیز کے خیال میں چونکہ زمانہ نزول کا ٹھیک ٹھیک تعین مشکل ہے اس لیے اس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ البتہ فتح خیبر اس کا مقصد نہ ہے۔ اور اسی فتح نے یہود کی کمر توڑ کر دشمن کا ایک بازو کمزور کردیا تھا۔ لیکن مسلمان جس کی حقیقی تمنا رکھتے تھے اور اصل نصب العین کی حیثیت سے اس کے آرزومند تھے وہ فتح مکہ ہے جس کے بعد غلبہ ٔ حق کا سفر تیز ہوگیا اور جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل مقابلے کی تاب نہ رکھتے ہوئے تیزی سے اسلام کی طرف آنے لگے۔
آخر میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ مومنوں کو اس فتح کی بشارت دے دیجیے کہ یہ مبارک ساعت دور نہیں اس کا ظہور جلد ہی ہونے والا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو اس کے لیے اپنی مساعی میں اور تیزی لانا ہوگی۔
Ayah 61:14یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَاللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہِ فَاٰ مَنَتْ طَّـآئِفَۃٌ مِّنْ م بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّـآئِفَۃٌ ج فَاَیَّدْنَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰھِرِیْنَ ۔ (الصف : 14)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار بنتا ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار، تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا، پھر ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہی غالب رہے۔ )
دل کی کجی سے بچنے کے لیے حواریوں کی تقلید کرنے کا حکم
اوپر آیت 5 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کی روش کی تقلید سے روکا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ اگر ان کے نقش قدم پر چلو گے تو جس طرح ان کے دل ٹیڑھے کردیئے گئے اور وہ اس زیغ نظر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے صراط مستقیم پر چلنے سے عاجز ہوگئے اور ہدایت سے محروم کردیئے گئے، اسی طرح تمہارے ساتھ بھی یہ حادثہ گزر سکتا ہے۔ البتہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم پر چلنے کا موقع دیا ہے اور ایک دین کو ان کے لیے سامانِ سفر بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول اور جنت کی طلب کو ان کا نصب العین بنادیا ہے۔ اس کے لیے ان کے سامنے پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قابل تقلید نمونہ پیش کیا جارہا ہے کہ انھیں تقلید کرنی ہے تو ان کی کریں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے میں اپنا سب کچھ قربان کر ڈالا۔ اس سے مراد وہ حواری ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ سورة آل عمران سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہود علماء کی طرف سے بڑھتے ہوئے انکار کو دیکھا اور آپ نے ان کی طرف سے خطرہ محسوس کیا تو آپ نے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کون اللہ کی طرف میرا مددگار ہوگا، تو حواریوں نے نحن انصار اللہ کہہ کر اس دعوت پر لبیک کہی۔ تمہیں بھی اس طرح آنحضرت ﷺ کی دعوت پر اللہ تعالیٰ کا انصار بننا چاہیے اور اس قربانی و ایثار میں حوارلوں کی تقلید کرنی چاہیے۔
لفظِ حواری کی تحقیق
حواری کی اصل حور ہے، جس کے معنی سفیدی کے ہوتے ہیں۔ دھوبی کو بھی حواری کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ کپڑے دھو کر سفید کردیتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دریا کے کنارے پر کپڑے دھونے والے دھوبی تھے جنھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرنے کی دعوت دی اور یہ فرمایا کہ تم لوگوں کے کپڑے صاف کرتے ہو، آئو میں تمہیں لوگوں کے دل صاف کرنے کا طریقہ بتائوں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ درحقیقت دریا کے کنارے مچھلیاں پکڑنے والے لوگ تھے جنھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اے مچھلیوں کو پکڑنے والو آئو میں تمہیں آدمیوں کے پکڑنے والا بنائوں۔ بالآخر انھیں کے اندر سے ایک مختصر سی جماعت پوری ہمت اور توانائی کے ساتھ اس کام میں تعاون کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے اور اہل لغت اس کی تائید کرتے ہیں کہ حواری کا معنی مخلص دوست کے ہیں جو ہر عیب سے پاک اور صاف ہو۔ یہ بھی ایسے ہی بےغرض لوگ تھے جو محض اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے جذبے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ہر موقع پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک گروہ آپ پر ایمان لایا اور دوسرا گروہ کفر پر کھڑا رہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس گروہ کو حاصل ہوئی جو ایمان لائے تھے۔ اور اسی تائید و نصرت کی وجہ سے وہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود اہل کفر پر غالب آگئے۔ یہ اسی تائید و نصرت کا نتیجہ ہے کہ جب سے یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تکذیب کی ہے اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے انھیں کبھی اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں وہ رومیوں کے محکوم تھے اور پھر قسطنطین کے نصرانیت قبول کرلینے کے بعد سے وہ برابر نصاریٰ کے محکوم رہے۔ اور آج بھی جبکہ اسرائیل کے نام سے ان کی ایک آزاد حکومت قائم ہے حقیقت میں وہ عیسائیوں کے زیردست ہیں۔ اگر آج امریکہ ان کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھا لے تو ان کی حکومت باقی نہیں رہ سکتی۔
بغوی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان میں اٹھا لیا تو عیسائیوں میں تین فرقے ہوگئے، ایک فرقہ نے کہا کہ وہ خود خدا ہی تھے آسمان میں چلے گئے، دوسرے فرقہ نے کہا کہ وہ خدا تو نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا اور دشمنوں پر فوقیت دے دی، تیسرے فرقہ نے وہ بات کہی جو صحیح اور حق ہے کہ وہ نہ خدا تھے اور نہ خدا کے بیٹے بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں سے حفاظت اور رفعتِ درجہ کے لیے اٹھا لیا۔ یہ لوگ صحیح مومن تھے، تینوں فرقوں کے ساتھ کچھ عوام لگ گئے اور باہمی نزاع بڑھتے بڑھتے باہم قتال کی نوبت آگئی، اتفاق سے دونوں کافر فرقے مومنین پر غالب آگئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول خاتم الانبیاء ﷺ کو مبعوث فرمایا جنھوں نے اس مومن فرقہ کی تائید کی۔ اس طرح انجام کار وہ مومن فرقہ بحیثیت حجت و دلیل کے غالب آگیا۔ (مظہری)
اس تفسیر کے مطابق اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا سے … مومنین امت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی مراد ہوں گے جو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تائید و حمایت سے مظفر و منصور ہوں گے۔ (مظہری) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسائیوں میں دو فرقے ہوگئے، ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دے کر مشرک ہوگیا، دوسرا صحیح دین پر قائم رہا جو ان کو اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول کہنے کا قائل تھا۔ پھر ان مشرکین و مومنین میں باہم جنگ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے مومنین امت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس امت کے کافروں پر غالب کردیا، مگر مشہور یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب میں جہاد و قتال کا حکم نہیں تھا، اس لیے مومنین کا قتال کرنا بعید معلوم ہوتا ہے۔ (روح المعانی) مگر اوپر خلاصہ تفسیر میں اس کے جواب میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ اس کا امکان ہے کہ جنگ کی ابتداء کفار نصاریٰ کی طرف سے ہوئی ہو اور مومنین مدافعت پر مجبور ہوگئے ہوں، تو یہ جہاد و قتال کے حکم میں نہیں آتا، واللہ اعظم۔ (معارف القرآن)