60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsروح القرآن

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو جو تمہارا رب ہے، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو، تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو میں ہر چیز کو جانتا ہوں، اور جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے گا وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ ج یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّـکُمْ ط اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِھَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِیْ صلے ق تُسِرُّوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ صلے ق وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَـآ اَخْفَیْتُمْ وَمَـآ اَعْلَنْتُمْ ط وَمَنْ یَّفْعَلْـہُ مِنْـکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ ۔ (الممتحنۃ : 1) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو جو تمہارا رب ہے، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو، تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو میں ہر چیز کو جانتا ہوں، اور جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے گا وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا۔ ) آیات کا سبب نزول اور مسلمانوں کو اس بارے میں ہدایات اس آیت کریمہ میں ان مخلص مسلمانوں کو جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ کر نکلے ہیں چند ہدایات دی گئی ہیں جس میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن ان آیات کے نزول کا سبب چونکہ خاص واقعہ ہوا ہے جس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے اور ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور عروہ بن زبیر وغیرہ حضرات کی متفقہ روایت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے اس واقعہ کا ذکر دیا جائے اور پھر اس کی روشنی میں ان آیات کی تشریح کی جائے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ جب قریش نے حدیبیہ کے معاہدے کی بعض دفعات کی مخالفت کرتے ہوئے اس معاہدے کے ٹوٹنے کے اسباب پیدا کردیئے تو آنحضرت ﷺ نے انھیں پیغام بھیجا کہ یا تو تم اعلان کردو کہ تم نے اس معاہدہ کو توڑ دیا ہے اور یا پھر ان اسباب کی تلافی کرو۔ تو انھوں نے معاہدے کو توڑنے کا اعلان کردیا۔ بعد میں انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ابوسفیان تجدیدِمعاہدہ کے لیے مدینہ طیبہ آئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور صحابہ ( رض) نے انھیں منہ نہ لگایا اور وہ ناکام واپس لوٹ گئے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں۔ مگر ان تیاریوں کو آپ نے اس حد تک پوشیدہ رکھا کہ چند مخصوص صحابہ کے سوا کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آپ کس مہم پر جانا چاہتے ہیں۔ اور جن صحابہ کو اس کا کچھ علم تھا ان ہی میں سے ایک حضرت حاطب بن ابی بلتعہ بھی تھے۔ یہ اصلاً یمن کے رہنے والے تھے لیکن پھر مکہ معظمہ میں قریش کی سرپرستی میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ لیکن قریش کے ساتھ براہ راست ان کا قرابتداری کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اگر اچانک حضور ﷺ نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تو ہوسکتا ہے کہ قریش اشتعال میں آکر جن لوگوں کو نقصان پہنچائیں ان میں میرا خاندان بھی شامل ہو۔ اس لیے انھوں نے اپنے خاندان کی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے قریش کو اس چڑھائی کی خبر دینا ضروری سمجھا۔ اتفاق سے اسی زمانہ میں سارہ نامی ایک خاتون مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ آئی جو پہلے بنی عبدالمطلب کی لونڈی تھی اور پھر آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام کرنے لگی تھی۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے ملاقات کی اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ تم تو ایک گانے بجانے والی عورت ہو، تمہارے بہت سے آشنا تھے اس لیے تمہیں تنگدستی کیسے پیش آسکتی ہے۔ اس نے بتایا کہ قریش کے بڑے بڑے لوگ مارے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوانوں نے بھی میرے پاس آنا چھوڑ دیا۔ اور آپ کا خاندان ایک بڑا خاندان تھا آپ لوگ مدینہ طیبہ آگئے۔ تو نہ آپ کے خاندان کی مدد رہی اور نہ میرا کاروبار۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں تنگدستی کا شکار ہوگئی، آپ اس سلسلے میں میری مدد فرمائیں۔ آپ نے بنی عبدالمطلب اور بنی المطلب سے اپیل کرکے اس کی حاجت پوری کردی۔ جب وہ مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے اور اس کو چپکے سے ایک خط بعض سردارانِ مکہ کے نام دیا اور دس دینار دیئے تاکہ وہ راز فاش نہ کرے اور چھپا کر یہ خط ان لوگوں تک پہنچا دے۔ ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا۔ آپ نے حضرت علی ( رض) ، حضرت زبیر ( رض) اور حضرت مقداد بن اسود ( رض) کو اس کے پیچھے جانے کا حکم دیا کہ تیزی سے جاؤ اور روضہ ٔ خاخ کے مقام پر مدینہ سے بارہ میل بجانب مکہ تم کو ایک عورت ملے گی جس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہے، جس طرح بھی ہوسکے اس سے وہ خط حاصل کرو۔ اگر وہ دے دے تو اسے چھوڑ دینا اور نہ دے تو اس کو قتل کردینا۔ یہ حضرت جب اس مقام پر پہنچے تو عورت وہاں اونٹ پر سوار جارہی تھی۔ انھوں نے اس کا اونٹ بٹھایا اور اس سے خط کا مطالبہ کیا۔ اس نے اپنے پاس کسی خط کے ہونے سے انکار کیا۔ انھوں نے تلاشی لی مگر کوئی خط نہ ملا۔ لیکن ان لوگوں کو آنحضرت ﷺ کی اطلاع پر پورا یقین تھا اس لیے انھوں نے اس سے کہا کہ خط ہمارے حوالے کردو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتروا کر تمہاری تلاشی لیں گے۔ جب اس نے دیکھا کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو اپنی چوٹی سے وہ خط نکال کر انھیں دے دیا اور یہ اسے حضور ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ کھول کر پڑھا گیا تو اس میں قریش کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ نبی کریم ﷺ تم پر چڑھائی کی تیاری کررہے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت حاطب سے پوچھا، یہ کیا حرکت ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ آپ میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں، میں نے جو کچھ کیا ہے اس بنا پر نہیں کیا ہے کہ میں کافر اور مرتد ہوگیا ہوں اور اسلام کے بعد اب کفر کو پسند کرنے لگا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے اقرباء مکہ میں مقیم ہیں، میں قریش کے قبیلہ کا آدمی نہیں ہوں، مگر بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا ہوں۔ مہاجرین میں سے جن کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ بچا لے گا لیکن میرے اہل و عیال کو کوئی بچانے والا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا فرمائے گا اور میری اطلاع سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش والوں پر میرا ایک احسان رہے جس کا لحاظ کرکے وہ میرے بال بچوں کو نہ چھیڑیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حاطب کی یہ بات سن کر حاضرین سے فرمایا قدصدقکم ” حاطب نے تم سے سچی بات کہی ہے۔ “ یعنی اس نے کسی بری نیت سے یہ کام نہیں کیا بلکہ اس کے پیش نظر صرف اپنے اہل و عیال کی حفاظت تھی۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے اٹھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ اس شخص نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، یہ شخص جنگ بدر کے شرکاء میں سے ہے، تمہیں کیا خبر، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرما کر کہہ دیا ہو، تم خواہ کچھ بھی کرو میں نے تم کو معاف کیا۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ( رض) رو پڑے اور انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہ ان تمام روایات کا خلاصہ ہے جنھیں بخاری، مسلم، ابودادئو، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبری، ابن ہشام، ابن حبان اور ابن ابی حاتم نے معتبر سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس واقعہ سے چونکہ ایک اجتماعی زندگی کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے اس لیے پروردگار نے آئندہ کے لیے مسلمانوں کو ایسی ہدایات سے نوازا جس میں کوئی شخص دوبارہ ایسی حرکت نہ کرسکے۔ کیونکہ حضرت حاطب ( رض) اپنے تمام اخلاص کے باوجود اس کا اندازہ نہ کرسکے کہ میری یہ حرکت کتنے بڑے بڑے نقصانات کا باعث ہوسکتی ہے۔ انھیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی کامیابی کا مکمل یقین تھا اس لیے وہ محض اپنے اہل و عیال کو بچانے کے جذبے کے پیش نظر اس بات کا ادراک نہ کرسکے کہ میری یہ حرکت ایمان کے تقاضوں سے کس قدر بعید ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان تمام باتوں کی طرف امت کو توجہ دلائی۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم لوگوں نے جن نامساعد حالات میں ہجرت کا سفر اختیار کیا، اپنا وطن اور اپنا گھر چھوڑا اور ہر طرح کے آرام کو چھوڑ کر ایک ایسی زندگی کے سفر پر چل نکلے جس کے نتیجے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ایک بہت بڑا ایثار تھا، لیکن تمہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ایسے ایثار کے کوئی تقاضے بھی ہیں۔ اور ایسے ایمان کے کچھ مقتضیات بھی ہیں۔ جن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تمہیں کبھی ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس میں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اور کفر کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ اور تمہارے ذہنوں میں واضح طور پر یہ تقسیم اتر جانی چاہیے کہ ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی دشمن ہیں۔ کیونکہ وہ اس دین کے دشمن ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ تو جب تک تم ان کی دشمنی کا صحیح ادراک نہیں کرو گے اس وقت تک تم ان سے پوری طرح ترک تعلق نہیں کرسکو گے۔ اور تمہیں اس بات کا احساس نہیں ہوگا کہ دشمن سے کسی خیرخواہی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اور اپنوں کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی نہیں کی جاسکتی۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ قریش اور اہل مکہ اور دیگر کفار کی دشمنی اپنے اندر کوئی اخفاء نہیں رکھتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حق آیا ہے اور جسے تم قبول کرچکے ہو وہ اس کا انکار کرچکے ہیں۔ اور اہل حق سے انھیں اس حد تک بیر ہے کہ محض اس حق کی وجہ سے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔ تمہارا اس کے سوا کوئی جرم نہیں تھا کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ تم کہہ سکتے ہو : خونے نہ کردہ ایم و کسے را نہ کشتہ ایم جرمم ہمیں کہ عاشقے روئے تو گشتہ ایم کس قدر عجیب بات ہے کہ وہ لوگ تمہارے خون کے پیاسے ہیں اور تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو اور انھیں خطوط لکھ رہے ہو۔ اور پھر تم نے یہ بات بھی نظرانداز کردی ہے کہ تم نہایت اخفاء اور رازداری کے ساتھ انھیں جو محبت کے پیغامات بھیج رہے ہو تو کیا پروردگار ان سے واقف نہیں۔ وہ تو تمہاری ہر مخفی بات کو بھی اور ظاہر کو بھی جانتا ہے۔ تو جو شخص بھی ان تمام احساسات کو نظرانداز کرتے ہوئے کفار سے کسی طرح کا تعلق باقی رکھنے کی کوشش کرے گا تو وہ درحقیقت راہ راست سے بھٹک گیا۔ تمہارے لیے ایک بالکل سیدھی راہ ہے کہ صاحب ایمان لوگ تمہارے دوست ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے تمہارا محبت کا رشتہ ہے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے دشمن ہیں وہ تم میں سے ہر مسلمان کے دشمن ہیں۔ یہ راستے کے دو کنارے ہیں ایک طرف دوستی ہے اور دوسری طرف دشمنی۔ تم اگر دوستی کے کنارے کو چھوڑ کر دشمنی کی طرف جاتے ہو تو اس سے زیادہ سیدھے راستے سے بھٹکنے کی اور کیا صورت ہوسکتی ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی مصلحت کا راستہ روک دیا جسے بہانہ بنا کر کوئی شخص کفر سے ایسی سازگاری کا راستہ اختیار کرسکتا تھا جس سے اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا۔ جو شخص اخلاص کے ہوتے ہوئے بھی محض ذاتی مصلحت کی خاطر ایسا کام کرے گا تو وہ راہ راست سے بھٹک جائے گا۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تم کو پاجائیں تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی، اور چاہیں گے کہ تم کافر ہوجائو

اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَـکُوْنُوْا لَـکُمْ اَعْدَآئً وَّیَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ وَاَلْسِنَتَھُمْ بِالسُّؤٓئِ وَوَدُّوْا لَوْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 2) (اگر وہ تم کو پاجائیں تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی، اور چاہیں گے کہ تم کافر ہوجاؤ۔ 2) گزشتہ مضمون کا تسلسل گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم جن لوگوں سے خیر کی توقع رکھتے ہو اور ان کے کفر کو نظرانداز کرتے ہوئے مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہو اور ان کی دوستی کے خواہشمند ہو، تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ کہیں تم پر قابو پاجائیں تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے اور نہ زبان درازی سے۔ بلکہ ان کی تمام تر کوششوں کا ہدف یہ ہوگا کہ تمہیں مرتد کرکے چھوڑیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ان کی دشمنی نہ انفرادی ہے اور نہ وقتی۔ جب تک تم اسلام سے وابستہ ہو وہ تمہارے دشمن ہیں۔ اور جب تک تم مسلمان امت میں ہو وہ کفر کی جماعت میں سے ہوتے ہوئے تمہیں مٹانے کے خواہشمند ہیں۔ اور اس معاملے میں اس قدر سخت ہیں کہ کسی رشتہ و قرابت یا کسی عہدوپیمان کا لحاظ کرنے والے نہیں۔ اس لیے تمہارے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم ان سے موالات کی ہر خواہش سے درستبردار ہوجاؤ۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہیں فائدہ پہنچائیں گی اور نہ تمہاری اولاد، اس دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے

لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُکُمْ ج یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ج یَفْصِلُ بَیْنَـکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الممتحنۃ : 3) (قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہیں فائدہ پہنچائیں گی اور نہ تمہاری اولاد، اس دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ) بات تو عمومی انداز میں فرمائی جارہی ہے لیکن اشارہ حضرت حاطب کی طرف ہی ہے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اہل و عیال کو بچانے کے لیے قریش کو خط لکھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد پر اپنے اہل و عیال کے مفاد کو ترجیح دی تھی۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ جن اہل قرابت اور جس اولاد کی خاطر تم نے اتنے بڑے قصور کا ارتکاب کیا وہ اہل قرابت اور وہ اولاد تمہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے بچا نہیں سکے گی۔ کوئی شخص وہاں آگے بڑھ کر یہ کہنے کی ہمت نہیں کرے گا کہ ہمارے باپ یا ہمارے بیٹے یا ہمارے بھائی نے ہماری خاطر یہ گناہ کیا تھا، ان کو ہماری خاطر چھوڑ دیا جائے۔ وہاں ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی۔ سورة عبس میں پروردگار کا ارشاد ہے یَوْمَ یَفِرُالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہِ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِیْہِ ۔ ” اس دن کو یاد رکھو جس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ “ یعنی ہر ایک اپنے ہی حال میں ایسا گرفتار ہوگا کہ جس میں اسے کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دوسرے سے بیگانہ کردے گا۔ ہر شخص اپنی ذاتی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اور ہر شخص کو اپنا ہی حساب دینا پڑے گا۔ اور وہاں وہی اعمال کام آئیں گے جو دنیا میں ہر شخص نے کیے اور جسے برابر اللہ تعالیٰ کی نگاہیں دیکھ رہی ہیں۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارہ ہوگئی تاآنکہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لائو، مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا اگرچہ اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے، اے ہمارے رب ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے

قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ ج اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْـکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِز کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ اِلاَّ قَوْلَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَـکَ وَمَـآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ (الممتحنۃ : 4) (تمھارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارہ ہوگئی تاآنکہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لائو، مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا اگرچہ اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے، اے ہمارے رب ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے۔ ) اسوہ ابراہیمی کی پیروی کی تلقین گزشتہ آیات میں جس بات پر زور دیا گیا ہے پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر عمل کی تسہیل کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے طرزعمل کو اسوہ کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اس معاملے میں رہنمائی کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، تم اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا داعی کہتے ہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمہارے جدِامجد ہیں۔ تمہارے لیے بھی اور تمہارے دشمنوں کے لیے بھی ان کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اس سے تمہیں اندازہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے اور اس راستے کے دشمنوں کی سمت سفر ایک نہیں ان کی منزل بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں یکجائی کا کوئی عنصر ایسا نہیں جو قدرمشترک کے طور پر کام آسکے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے جب اپنی قوم کو ہر طرح سے اپنا دشمن پایا اور فکری اور عملی طور پر بیگانگی محسوس کی تو انھوں نے صاف صاف ان سے برأت کا اعلان کردیا اور یہ کہا کہ ہم تم سے بھی اور ان قوتوں سے بھی جن کی تم پوجا کرتے ہو برأت اور بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔ اور چونکہ تمہارا مسلک اور مذہب ہم سے جدا ہے تو جس طرح آگ اور پانی اور تاریکی اور روشنی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، اسی طرح ہم بھی تمہارے ساتھ رہنے اور تم سے تعلق رکھنے سے انکار کرتے ہیں۔ جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے دین کے کافر ہو اسی طرح ہم تمہارے کافر ہیں۔ کیونکہ ایمان کا لازمی تقاضا طاغوت سے کفر ہے۔ قرآن کریم میں پروردگار کا ارشاد ہے فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُوْمِنْ م بِاللّٰہِ فَقَدَ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ” جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے اس نے درحقیقت مضبوط سہارا تھام لیا۔ “ اس برأت کا نتیجہ منطقی طور پر یہ ہے کہ مسلمانوں اور کفار میں دشمنی کی ایک ایسی دیوار حائل ہوجاتی ہے اور ان کے درمیان ایسی نفرت جنم لیتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ تاآنکہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لے آئیں۔ یہ ہے وہ بات جس کا اعلان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں نے کیا۔ اور یہی ان کا طرزعمل بن گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرزعمل کی پیروی میں ایک الجھن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس طرزعمل میں جو چیز کھٹکتی اور ذہنوں میں سوال پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے جب علیحدگی اور برأت کا اعلان کیا تو ساتھ ہی یہ کہا کہ میں عنقریب اللہ تعالیٰ سے آپ کی مغفرت کے لیے دعا کروں گا۔ اور یہ ایک طرح سے وعدہ تھا جو آپ نے اپنے والد سے کیا۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ نے مکمل طور پر ہر کافر سے برأت کا اظہار فرمایا تو پھر باپ کو اس سے مستثنیٰ کیوں کیا گیا۔ اور قرآن کریم کے ایک حکم سے بھی اس بات کا تصادم ہوتا ہے وہ حکم یہ ہے کہ پروردگار نے سورة توبہ اور آیت 113 میں فرمایا مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا اُوْلِی قُرْبٰی ” نبی کا یہ کام نہیں ہے اور نہ ان لوگوں کو یہ زیبا ہے جو ایمان لائے ہیں کہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ “ اس کو دیکھتے ہوئے بعض اہل علم نے کہا کہ اس آیت میں حضرت ابراہیم کے اعلانِ برأت سے جو استثنیٰ کیا گیا ہے وہ درحقیقت اس بات سے استثنیٰ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوری زندگی ایک مومن کے لیے اسوہ حسنہ ہے لیکن ان کا اپنے باپ کے بارے میں طرزعمل اس اسوہ میں شامل نہیں اور کسی مومن کو یہ جائز نہیں کہ وہ اس سلسلے میں آپ کی پیروی کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ استثنیٰ اسوہ حسنہ سے نہیں بلکہ اعلانِ برأت سے ہے۔ یعنی انھوں نے اپنی قوم سے برأت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے باپ کے سلسلے میں صرف اتنی رعایت برتی کہ میں ابنی مکمل برأت کا اعلان آپ سے نہیں کرتا بلکہ آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ اگرچہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا اور اس رعایت کی وجہ یہ تھی کہ ابھی آپ کو اپنے باپ کے لیے ہدایت کی امید تھی۔ ان پر یہ پوری طرح بات واضح نہیں تھی کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کے دین کے بدترین دشمنوں میں شامل ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ باپ کا سارا غصہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو گمراہی سے بچانا چاہتا ہے۔ لیکن جب قرآن کے بیان کے مطابق ان پر یہ بات کھل گئی کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کے دین کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے کلیۃً اعلانِ برأت کردیا۔ اور بیٹے کے ساتھ باپ کے خصوصی تعلق کی وجہ سے اتنی رعایت تو بہرحال دی جاسکتی ہے اور اس سے یہ بات ہرگز معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رعایت دیتے ہوئے بیٹے کے ذہن میں برأت کے جذبے میں کوئی کمی ہے بلکہ یہ ہدایت کی امید ہے جو ایک بیٹا اپنے باپ کے سلسلے میں رکھتا ہے۔ اس جملہ معترضہ کے ختم ہونے کے بعد اس دعا کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کا تعلق اعلانِ برأت سے ہے۔ اور اس دعا کا محل یہ ہے کہ جب کوئی حق کا داعی اپنے اہل خانہ اور اپنی قوم سے اعلانِ برأت کے بعد ہجرت کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جسے جذبات سے سر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں پوری شخصیت ہل کر رہ جاتی ہے جس میں قدم قدم پر کٹھن گھاٹیاں اور محرومیوں کی ایسی کھائیاں ہیں جنھیں پاٹنے کے لیے بڑے مضبوط ایمان کی ضرورت ہے۔ اور اس ایمان کو غذا اللہ تعالیٰ پر توکل، اس کی طرف انابت اور اس کے حضور حاضری کے احساس سے مہیا ہوتی ہے۔ اس لیے اس سفر پر نکلنے والا شخص اپنے اللہ سے سب سے پہلے اسی قوت کے حصول کی دعا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے بھی اسی کے لیے دعا مانگی اور مسلمانوں کو بھی اسی کی ترغیب دی جارہی ہے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنھوں نے کفر کیا ہے، اور اے ہمارے رب ! ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے

رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الممتحنۃ : 5) (اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنھوں نے کفر کیا ہے، اور اے ہمارے رب ! ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔ ) گزشتہ دعا کا ایک حصہ یہ بھی اوپر والی دعا کا حصہ ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ دعا مانگی ہے کہ یا اللہ ! ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ یہاں فتنہ سے مراد ہدف فتنہ ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کافر ہم پر غالب آجائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں کہ ہم حق پر ہیں ورنہ ہمیں غلبہ نصیب کیوں ہوتا۔ اور اس فتنہ سے مراد وہ اذیتیں اور تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں جو کفار مسلمانوں کو پہنچاتے ہیں۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی کہ اے ہمارے رب ! کفار کا ظلم و ستم ہماری حدبرداشت کے لیے چیلنج نہ بننے پائے، جس سے ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی حوصلہ ہار دیں اور کفار کی وہ باتیں ماننے پر مجبور ہوجائیں جو ایمان کے سراسر خلاف ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس سے ایمان اور اہل ایمان کی رسوائی ہوگی۔ یعنی اب جبکہ ہم نے تجھ پر ایمان اور تجھ سے تعلق کو اپنی منزل بنا لیا ہے تو اے ہمارے رب ! ایسے حالات پیدا فرما کہ ہم اس منزل کے حصول میں کامیاب ٹھہریں، اور ہم میں ایسی کوئی کمزوری پیدا نہ ہو جو دین کی رسوائی کا باعث بنے۔ اور مزید یہ دعا مانگی کہ یقینا ہم سے چھوٹی موٹی کمزوریاں سرزد ہوں گی تو ہماری ان کمزوریوں سے درگزر فرما۔ کیونکہ تو ہی ہر طرح کے حالات پر غالب اور تائید و نصرت میں حکمت رکھنے والا ہے۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بیشک تمہارے لیے ان لوگوں کے طرزعمل میں بہترین نمونہ ہے، (بالخصوص) ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتے ہیں، اور جو شخص اس سے اعراض کرے تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے

لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ ط وَمْن یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الممتحنۃ : 6) (بےشک تمہارے لیے ان لوگوں کے طرزعمل میں بہترین نمونہ ہے، (بالخصوص) ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتے ہیں، اور جو شخص اس سے اعراض کرے تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ ) اسوہ کی پیروی کے سلسلے میں ایک تنبیہ یہ قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلانِ برأت و عداوت میں نمونہ تو بیشک نہایت بہترین ہے لیکن اس نمونہ سے فائدہ اٹھانا اور اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ کہنے کو یہ بات آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنے کے لیے قربانیوں کا ایک سلسلہ ہے جسے سر کرنا پڑتا ہے۔ اپنے افکار کی قربانی، قومی تشخصات کی قربانی، اعزہ و اقرباء کی قربانی، زندگی بھر کے دوستوں کی قربانی، کاروبار کی قربانی، اپنے گھر اور وطن کی قربانی، ایک لامتناہی سلسلہ ہے جسے سوچتے بھی پِتّہ پھٹنے لگتا ہے۔ اس لیے ایسے اسوہ کی پیروی صرف وہی شخص کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کی امید رکھتا ہو۔ اور وہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دے چکا ہو۔ دنیا کے نقصانات میں اگر اسے آخرت کی کامیابیاں نظر آتی ہو تو وہ اسے حقیقی کامیابی سمجھتا ہو۔ اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اِک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں ہجرت کے راستے کا یہی زادراہ ہے۔ جو شخص اس کے علاوہ کسی اور زادراہ پر اعتماد کرتا ہے وہ چند قدم کے بعد حوصلہ ہار دیتا ہے۔ اس لیے جس شخص کو بھی اس اسوہ کی پیروی کا خیال پیدا ہو اسے سب سے پہلے اپنے اندر وہ قوت پیدا کرنی چاہیے جو ان صفات میں مضمر ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا : ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے اور آخر میں فرمایا کہ جو اسوہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی سے اعراض کرے انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں، اور نہ اسے ان سے کوئی سروکار ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ وہ سب سے مستغنی اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ اس کی حکمرانی کسی کے سہارے سے نہیں بلکہ خود اپنے بل پر قائم ہے۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کردے، اور اللہ قدرت والا ہے اور اللہ غفورورحیم ہے

عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ مَّوَدَّۃً ط وَاللّٰہُ قَدِیْرٌ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 7) (بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کردے، اور اللہ قدرت والا ہے اور اللہ غفورورحیم ہے۔ ) مسلمانوں کی وفاداری پر ایک انعام گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ایمان کی روح قرار دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ان اعزہ و اقرباء سے تعلقات منقطع کردے جو اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمن ہیں اور جنھوں نے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔ چناچہ جو شخص بھی ایمان لایا اس نے اپنے آپ کو فی الواقع اس بات کا اہل ثابت کیا کہ اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین سے بڑھ کر اور کسی کو ترجیح حاصل نہیں۔ وہ بڑے سے بڑے تعلق کو اس تعلق پر قربان کرسکتا ہے۔ چناچہ ہم جنگ بدر میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھتے ہیں کہ عتبہ، شیبہ اور ولید اگر کفار کی طرف ہیں تو عتبہ کے بیٹے مسلمانوں میں ہیں۔ حضرت صدیق اکبر مسلمانوں میں ہے اور بیٹا کافروں میں۔ حضرت عمر ( رض) مسلمانوں کی صف میں ہیں تو ان کے ماموں دشمنوں کی صف میں کھڑے ہیں۔ حضور ﷺ کے حقیقی چچا کفار کی صفوں میں ہیں اور ان کے بھائی اور ان کے بھتیجے مسلمانوں میں ہیں۔ اس طرح کی بیسیوں مثالیں ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنے اعزہ و اقرباء کے مقابلے میں شمشیربکف ہو کر ہر رشتے کو کاٹ ڈالا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس پر انعام کے طور پر یہ بشارت دے رہے ہیں کہ تم نے محض اپنے دین کی خاطر جن عزیزوں سے آج تک دشمنی مول لی ہے امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان کے درمیان محبت پیدا کردے۔ یعنی وہ دشمنی چونکہ ایمان اور کفر کے سبب سے ہے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو اسلام کی توفیق دے دے۔ چناچہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے اس وقت کسی کو گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ اس کی تعبیر کب اور کیسے ہوگی۔ لیکن زیادہ زمانہ نہیں گزر کہ مکہ فتح ہوگیا اور قریش کے لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے اپنی امیدوں کی عملی تعبیر دیکھ لی۔
Ayahs 60:8–9

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے، اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنھوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی، اور جو لوگ اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے وہی لوگ ظالم ہیں

لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِے الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ اِنَّمَا یَنْھٰـکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰـتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ وَظٰھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 8، 9) (اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے، اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنھوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی، اور جو لوگ اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے وہی لوگ ظالم ہیں۔ ) آیات کے مضمون کے سلسلے میں دو وضاحتیں ان آیتوں میں دو باتوں کی وضاحت فرمائی گئی ایک تو یہ بات کہ مسلمانوں کو جن کفار سے ترک تعلق کی ہدایت کی گئی ہے اس کا تعلق ان کے کفر سے نہیں بلکہ ان کی ظالمانہ روش سے ہے۔ یعنی اسلام ان سے ترک تعلق کا حکم دیتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر ہیں اور کافر ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اسلام ایسا کوئی حکم دیتا تو یہ معاشرتی، سماجی بلکہ ریاستی زندگی کے لیے بڑی تباہی کا باعث بنتا۔ اس لیے کہ جس دین نے اپنی ریاست میں غیرمسلموں کو پناہ دی اور ایک معمولی ٹیکس کے بدلے میں نہ صرف ان کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کی بلکہ ان کی مذہبی آزادی کو بھی باقی رکھا وہ ایسا حکم کیونکر دے سکتا تھا اور مزید یہ بات بھی اس دین کے بھیجنے والے کو خوب معلوم تھی کہ آئندہ بین الاقوامی زندگی کے طوراطوار کیا ہوں گے۔ اگر اس میں صرف مذہب کی تفریق کی وجہ سے خلیج حائل کردی گئی تو اس کا نقصان بنیادی طور پر انسانوں کو پہنچے گا اور مذہب ایک قابل نفرت چیز ہو کر رہ جائے گی۔ اس لیے اس بات کو واضح فرمایا کہ تمہیں جن لوگوں سے ترک تعلق کا حکم دیا گیا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے محض دین کی وجہ سے تم سے لڑائی کی، تمہارے خون کو مباح کردیا اور تمہارے لیے ہر زیادتی کو جائز ٹھہرایا اور پھر انھوں نے ایسے حالات پیدا کیے یا ایسے مظالم توڑے کہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ تو ایسے لوگوں کو ان کی دشمنی اور عداوت کے باعث کسی طرح بھی اپنا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تم ان کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہو لیکن وہ تمہیں کسی قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو عافیت اسی میں ہے کہ تم ان سے تعلقات منقطع کردو۔ دوسری اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے بِر اور اقساط سے منع نہیں فرمایا۔ بِر کا معنی ہے صلہ ٔ رحم، احسان اور ادائے حقوق۔ اور اقساط کا معنی عدل و انصاف کرنا ہے۔ یعنی جس کا جو حق واجب ہے وہ پورا پورا ادا کیا جائے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔ کسی کافر کے سلسلے میں اسلام ان دونوں باتوں سے منع نہیں کرتا۔ بشرطیکہ کفار مسلمانوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دشمن کافر اور غیردشمن کافر میں فرق کرتا ہے۔ وہ ترک تعلق کا حکم دشمن کافر کے بارے میں دیتا ہے صرف کافر کے بارے میں نہیں دیتا۔ اس کی بہترین تشریح حضرت اسماء بنت ابی بکر ( رض) کا واقعہ ہے۔ ان کی کافر ماں صلح حدیبیہ کے بعد حضرت اسماء ( رض) سے ملنے کے لیے آئیں۔ حضرت اسماء ( رض) کہتی ہیں کہ میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں سے مل سکتی ہوں اور کیا میں ان سے صلہ رحمی بھی کرسکتی ہوں ؟ حضور نے جواب دیا، ان سے صلہ رحمی کرو۔ چناچہ وہ ان سے ملیں اور جو ان کی مدد کرسکتی تھیں ان کی مدد کی۔ مکہ میں جب قحط پھیلا تو آنحضرت ﷺ نے کھجوروں کے لدے ہوئے اونٹ بھیج کر ان کی مدد کی۔ جس علاقے سے اہل مکہ کو غلہ پہنچتا تھا جب اس علاقے کا سردار مسلمان ہوگیا تو اس نے اہل مکہ کے لیے غلہ کی ترسیل بند کردی۔ تو آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ ایسا نہ کیا جائے۔ چناچہ غلہ کی ترسیل بحال کردی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کافروں کے ساتھ نہ صرف کہ ادائے حقوق اور عدل و انصاف کرنے سے روکتا نہیں بلکہ اس کا حکم دیتا ہے۔ البتہ وہ جس بات سے روکتا ہے وہ یہ ہے کہ کفار کو دوست بنایا جائے یعنی ان سے قلبی تعلق قائم کیا جائے اور ملت کے مفاد سے قطع نظر ہر معاملے میں ان کی طرف دست تعاون بڑھایا جائے جس سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچائیں۔ یعنی جس بات سے روکا گیا ہے وہ کفار کو دوست اور کارساز بنانا ہے نہ کہ ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنا۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کی جانچ پڑتال کرو، یوں اللہ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں، اور انھوں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ ان کو ادا کردو، اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ان سے نکاح کرلوجب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو، اور کافرہ عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو، اور جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو، اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انھیں وہ واپس مانگ لیں، یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ ط اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِھِنَّ ج فَاِنْ عَلِمْتُمُوْھُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْھُنَّ اِلَی الْـکُفَّارِ ط لاَ ھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلاَ ھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ ط وَاٰتُوْھُمْ مَّـآ اَنْفَقُوْا ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْـکِحُوْھُنَّ اِذَٓا اٰ تَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ط وَلاَ تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْـکَوَافِرِ وَسْئَلُوْا مَا اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَـآ اَنْفَقُوْا ط ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ ط یَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 10) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کی جانچ پڑتال کرو، یوں اللہ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں، اور انھوں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ ان کو ادا کردو، اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ان سے نکاح کرلوجب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو، اور کافرہ عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو، اور جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو، اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انھیں وہ واپس مانگ لیں، یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ ) آیتِ کریمہ میں بیان کردہ احکام کی وضاحت اور آیت کا پس منظر اس آیت کریمہ میں جو احکام دیئے گئے ہیں ان کا ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے معاہدے میں قریش کے نمائندے نے ایک شق لکھوائی تھی اور اسے جانبین نے منظور کرلیا تھا۔ بخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ تھے علی ان لا یاتیک منا رجل وان کان علی دینک الارددتہ الینا ” اور یہ کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد بھی آئے اگرچہ وہ تمہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کرو گے۔ “ چناچہ اس شق کی وجہ سے یہ لازم ہوگیا کہ مسلمان مکہ سے ہر آنے والے شخص کو واپس کرنے کے پابند ہیں۔ اور اسی وجہ سے حضرت ابوبصیر ( رض) کو آنحضرت ﷺ نے واپس کردیا۔ لیکن اس میں جو پیچیدگی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ مردوں کے علاوہ مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کرکے مدینے پہنچیں، کفار نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انھیں واپس لے جانے کے لیے مدینے پہنچ گئے۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ میں جو شق رکھی گئی تھی کیا اس کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے ؟ چناچہ قریش نے عورتوں پر بھی اس کا اطلاق کرتے ہوئے اپنے مطالبے کو جاری رکھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے امام زہری کی روایت کے مطابق ام کلثوم کو یہ کہہ کر واپس کرنے سے انکار کردیا کہ کان الشرط فی الرجال دون النساء ” شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔ “ کیونکہ ہم نے اوپر جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس میں واضح طور پر لفظ رجلکا ہے اور رجل ظاہر ہے آدمی کو کہتے ہیں عورت کو نہیں کہتے۔ اسی طرح عروہ، ضحاک، عبدالرحمن بن زید، زہری، مقاتل بن حیان اور سدی سے جو روایت ہے اس کے الفاظ یہ ہیں علی انہ لایاتیک منا احد وان کان علی دینک الا رددتہ الینا ” یعنی اس شرط پر صلح کی جاتی ہے کہ ہم میں سے کوئی خواہ وہ آپ کے دین پر ہی ہو اگر آپ کے پاس چلا جائے گا تو آپ اس کو لازماً واپس کریں گے۔ “ اس روایت میں اگرچہ اَحَدْ کا لفظ اپنے اندر عموم کا مفہوم رکھتا ہے، لیکن غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں جتنی ضمیریں اور فعل آئے ہیں سب مذکر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا لفظ جو اپنے اندر عموم رکھتا ہے اگر فریقین کا منشاء یہ ہوتا کہ اس میں عورتوں کو بھی شامل کیا جائے تو پھر اَحَدْ کے بعد ذکر کان اوانثی یا اس کے ہم معنی کوئی تصریح ضرور بڑھائی جاتی۔ ان دونوں روایات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ معاہدے میں عورتوں کی واپسی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر قریش نے شور نہیں مچایا، ورنہ اگر اس میں ذرا سی گنجائش بھی ہوتی تو وہ آنحضرت ﷺ پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے۔ چناچہ پروردگار نے پیش نظر آیت کریمہ میں اسی حوالہ سے ایک ایسا منصفانہ فیصلہ نازل فرمایا جس سے اہم فیصلے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ارشاد ہوا کہ مسلمانو ! اگر تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں یعنی ان کا دعویٰ ہو کہ ہم اسلام لاچکی ہیں تو سب سے پہلا حکم یہ ہے کہ تم ان کے اسلام کی جانچ پڑتال کرو کہ ان خواتین کا آنا کیا اسلام کی وجہ سے ہے یا اس کا کوئی اور مقصد ہوسکتا ہے اور پھر یہ کہ وہ اپنے دعوائے ایمان میں کیا واقعی سچی ہیں یا انھیں کسی اور غرض نے مدینہ آنے پر مجبور کیا ہے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایسی عورتوں کو قسم دے کر ان کے ایمان کے بارے میں اور ان کی آمد کی غرض وغایت کے حوالے سے تحقیق کرتے تھے۔ اس کے بعد جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا کہ آپ کا کام پوری طرح تحقیق کرنا ہے۔ البتہ اصل حقیقت اللہ تو جانتا ہی ہے۔ اگر کوئی خاتون کسی طرح غلط بیانی میں کامیاب ہوگئی تو وہ اللہ کے یہاں ماخوذ ہونے سے نہیں بچے گی۔ مزید حکم یہ دیا کہ جب تم تحقیق کے بعد اطمینان کرلو کہ آنے والی خاتون مومنہ ہے اور وہ اپنے ایمان اور اسلام کی حفاظت کے لیے ہجرت کرکے مدینہ پہنچی ہے تو پھر ایسی عورتوں کو کفار کی طرف واپس مت کرو، کیونکہ ایک مومنہ عورت کافر مرد کے لیے جائز نہیں، اور ایک کافرہ مومن مرد کے لیے جائز نہیں۔ ایمان دونوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اور یہی غیرمرد اور عورت کو جائز ٹھہرانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اندازہ فرمائیں کہ یہ حکم کس قدر منصفانہ ہے کہ ایک عورت جو ایمان لاچکی ہے اسے کافر مرد کے پاس واپس کیوں بھیجا جائے کیونکہ کسی مرد و عورت پر اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ ایمان و کفر کی تفریق کے باوجود انھیں ایک ساتھ رہنے پر مجبور کیا جائے۔ اور پھر اس کو مزید منصفانہ بناتے ہوئے یہ حکم دیا کہ آنے والی مومنہ خاتون اگر مکہ میں کسی کافر کے نکاح میں تھی تو اس کے شوہر نے یقینا اس کو مہر دیا ہوگا۔ یہ مہر مسلمانوں کی طرف سے اسے واپس کیا جائے۔ یعنی مسلمان ریاست بیت المال سے اس مہر کو واپس کرنے کی پابند ہوگی۔ حالانکہ ایمان ہی کی وجہ سے کفار نے مردوں اور عورتوں کو ہجرت پر مجبور کیا، گھروں سے نکالا، وطن سے بےوطن کیا، اچھے خوشحال لوگ بدحال کردیئے گئے۔ ایسی صورت میں ایک کافر کو مہر کی واپسی عجیب سی بات لگتی ہے لیکن پروردگار کے عدل و انصاف کی کیا بات ہے کہ ایسے کافروں کو بھی مہر کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید فرمایا گیا کہ ایسی مومنہ خواتین سے جو ہجرت کرکے مدینے پہنچیں اگر تم نکاح کرنا چاہو تو شوق سے کرسکتے ہو۔ یہ بات تمہارے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے کہ جو عورت پہلے کسی کافر کے نکاح میں رہ چکی ہے ہم اس سے نکاح کیوں کریں۔ ایسی خاتون نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہر چیز قربان کرکے اپنے لیے بہت بڑا استحقاق پیدا کرلیا ہے۔ اس لیے وہ تمہاری رفیقہ ٔ حیات بننے کی ہر طرح سے اہل ہے۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ تمہیں اسے مہر ادا کرنا ہوگا۔ جو مہر اس کے سابق شوہر کو بھیجا گیا ہے وہ تمہارے مہر کے قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ مزید حکم یہ دیا گیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے اور ان میں سے بعض حضرات کی بیویاں کفر کی وجہ سے مکہ میں رہ گئیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ان کی عصمتوں پر قابض رہو یعنی انھیں نکاح کی زنجیر پہنائے رکھو بلکہ تمہارے لیے ضروری ہے کہ انھیں نکاح کی قید سے آزاد کردو تاکہ وہ جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ اب اس کے بعد عملاً صورت یہ ہوگی کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آگئی ہیں ان کا نکاح ان کے کافر شوہروں سے ختم ہوجائے گا اور جو عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں تھیں لیکن وہ دارالکفر میں رہ گئیں اور کفر ہی پر قائم ہیں ان کے نکاح مسلمانوں کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں نے اپنی اپنی بیویوں کو مہر دیئے تھے اور یہی اہل عرب میں ایک شادی کا بڑا خرچ سمجھا جاتا تھا۔ اب دوسرے نکاح کے لیے یہی خرچ پھر ان کے پیش نظر ہوگا، اس لیے عملی زندگی کی آسانی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں اپنے اپنے مہروں کا معاملہ ایک دوسرے سے طے کرلیں۔ یعنی مسلمانوں نے جو مہر اپنی کافر بیویوں کو دیئے وہ کفار مسلمانوں کو واپس کردیں اور کفار نے جو مہر ان بیویوں کو دیئے تھے جو مسلمان ہو کر ہجرت کر گئیں ان کے مہر مسلمان کفار کو واپس کریں۔ آخر میں فرمایا کہ معاہدہ حدیبیہ کی تشریح میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان جو ایک معاملہ پیدا ہوا تھا یہ اس کا فیصلہ ہے۔ اور یہ ایسا فیصلہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا تھا۔ کیونکہ اگر انسان یہ فیصلہ کرتے تو یقینا کہیں نہ کہیں اپنے اپنے مفاد کی جھلک ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا منصفانہ فیصلہ فرمایا ہے جو نہایت مبنی برانصاف اور نہایت حکیمانہ ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے تو پھر جب تمہیں موقع ہاتھ آئے تو جن کی بیویاں گئی ہیں ان کو ادا کردو جو کچھ انھوں نے خرچ کیا، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے تم مومن ہو

وَاِنْ فَاتَـکُمْ شَیْ ئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْـکُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰ تُوا الَّذِیْنَ ذَھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ مِّثْلَ مَـآ اَنْفَقُوْا ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 11) (اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے تو پھر جب تمہیں موقع ہاتھ آئے تو جن کی بیویاں گئی ہیں ان کو ادا کردو جو کچھ انھوں نے خرچ کیا، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے تم مومن ہو۔ ) گزشتہ آیت کے حکم کا تتمہ اوپر کی آیت میں حکم دیا گیا تھا کہ مہروں کا معاملہ اور ان کا مبادلہ اجتماعی طور پر کرلیا جائے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ تم نے جن بیویوں کو ان کے کفر کی وجہ سے طلاق دی ہے کفار تمہارے دیئے ہوئے مہر کو واپس کرنے سے انکار کردیں، تو اس صورت میں مسلمانوں کا حق یہ ہوگا کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ پہنچیں اور مسلمان ان سے نکاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کے سابق کافر شوہروں کا دیا ہوا مہر مسلمان ان کو ادا کرنے کے پابند ہیں لیکن جب کفار مسلمانوں کو ادا کیے ہوئے مہر دینے سے انکار کریں تو مسلمان بھی اپنے مہر روک لیں۔ اور وہی مہر اس بھائی کو ادا کردیں جن کی چلی جانے والی بیوی کا مہر واپس نہیں ہوا۔ یہ گویا بدلہ لینے کی ایک منصفانہ اور مبنی برعدل کارروائی ہوگی جس کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ ایک فریق نے ناانصافی کی روش اختیار کی ہے۔ اور آخر میں فرمایا کہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کہ تمہاری طرف سے کسی زیادتی کا ارتکاب نہ ہونے پائے۔ کیونکہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری طرف سے کسی کے ساتھ بھی انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ اور نہ اپنے واجبی حق سے زیادہ کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہونی چاہیے۔