60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsروح القرآن

Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں کہ وہ آپ سے بیعت کریں اس بات پر کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کا ارتکاب کریں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امرمعروف میں آپ کی نافرمانی کریں گی، تو آپ ان سے بیعت لے لیجیے اور ان کے لیے اپنے اللہ سے دعائے مغفرت کیجیے، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

یٰٓـاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَـکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّیُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلاَ یَسْرِقْنَ وَلاَ یَزْنِیْنَ وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلاَدَھُنَّ وَلاَ یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَـہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاْرْجُلِھِنَّ وَلاَ یَعْصِیْنَـکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَھُنَّ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 12) (اے پیغمبر ! جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں کہ وہ آپ سے بیعت کریں اس بات پر کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کا ارتکاب کریں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امرمعروف میں آپ کی نافرمانی کریں گی، تو آپ ان سے بیعت لے لیجیے اور ان کے لیے اپنے اللہ سے دعائے مغفرت کیجیے، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ) مسلمان ہونے کے لیے آنے والی عورتوں کے بارے میں ہدایات جس طرح اس سے پہلے کی آیات میں ہجرت کرنے والی خواتین کے امتحان کی ہدایت فرمائی تھی اسی طرح پیش نظر آیت کریمہ میں یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب آپ کے پاس اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے لیے عورتیں آئیں تو آپ ان سے بیعت لینے سے پہلے منکرات سے بچنے اور معروفات کی پابندی کا عہد لیجیے اور اگر وہ ان باتوں کا عہد کرلیں تو پھر ان سے بیعت لیجیے یعنی ان کو اسلام کے دائرے میں داخل کر لیجیے اور پھر ایمان اور اسلام پر استقامت، منکرات سے اجتناب اور معروفات کی پابندی میں کوتاہیوں کے سلسلے میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ تو گویا اس آیت میں اس بات کا اشارہ تھا کہ عنقریب ایسے حالات پیش آنے والے ہیں جس میں مردوں کی طرح عورتیں بھی چوق در چوق اسلام میں داخل ہونے کے لیے آئیں گی، اس سلسلے میں آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ چناچہ سب سے پہلے ان منکرات سے بچنے کا عہد لینے کا حکم دیا گیا جن کا چلن اس وقت عرب معاشرے میں عام تھا۔ اور اچھے گھرانے کی عورتوں میں بھی وہ برائیاں برداشت کی جاتی تھیں۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ اب وہ نیا معاشرہ جو اسلام کی بنیاد پر بن رہا ہے اور جسے دنیا کے لیے ایک نمونہ بننا اور رہنما کا کردار ادا کرنا ہے اس میں ایسی کوئی خرابی نہیں ہونی چاہیے جو معاشرے کے کردار کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس لیے چند ان منکرات کا ذکر کیا گیا جن کی حیثیت ام الخبائث کی ہے۔ اور باقی اس کے مقابلے میں جو ان ہی منکرات سے پیدا ہونے والی برائیاں ہیں یا ان برائیوں کے مقدمات ہیں ان سے اجتناب خودبخود اس عہد میں سمجھا گیا۔ ان میں سب سے پہلی برائی جس سے بچنے کا حکم دیا گیا وہ یہ تھی کہ مسلمان عورتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی۔ کیونکہ دین کی بنیاد توحیدِخالص پر ہے۔ اور توحید کا تصور اس وقت تک واضح نہیں ہوتا جب تک شرک کی تمام آلودگیوں سے دل و دماغ پاک نہیں ہوتے۔ اور شرک کرنے والے مردو عورت خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا کیا مشرکانہ باتیں ہیں جو توحید کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے توحید کا حکم دینے سے پہلے مشرکانہ آلودگیوں سے بچنے کا عہد لیا گیا۔ جس کا نتیجہ خودبخود یہ نکلے گا کہ خالص توحید کا تصور دل کا نور بن جائے گا۔ اور دوسری چیز جس سے بچنے کا عہد لیا گیا وہ یہ تھا کہ وہ چوری نہیں کریں گی۔ شرک اور چوری حقوق کے اعتبار سے بہت قریب الفہم ہیں۔ آدمی شرک اس وقت کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے حق ملکیت میں خیانت کرتا ہے۔ اور چوری کا ارتکاب اس وقت کرتا ہے جب وہ مال کے حقیقی مالک سے خیانت کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کے حقوق میں غلط تصرف کا نام ہے۔ اور چوری بندوں کے مال میں بےجا تصرف کو کہتے ہیں۔ اسی لیے اس کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کو تاہی، فنڈز میں خیانت، مفوضہ فرائض میں مالی معاوضہ، درپردہ کسی کا مال کسی بھی طریقے سے اڑا لینا یہ سب چوری کی صورتیں ہیں۔ اور ان میں ہر جگہ چوری کا ارتکاب کرنے والا حقوق میں خیانت کرتا ہے۔ عورتیں عام طور پر اپنے شوہروں کے مال میں حدود سے تجاوز کرتی ہیں اس لیے اس سلسلے میں حضرت ہند کا واقعہ ہمارے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ احکام القرآن میں ابن عربی نے لکھا ہے کہ مکہ معظمہ میں جب عورتوں سے بیعت لی جارہی تھی اس وقت حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عقبہ نے اس حکم کی تشریح دریافت کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ابوسفیان ذرا بخیل آدمی ہیں کیا میرے اوپر اس میں کوئی گناہ ہے کہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے لیے ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں۔ آپ نے فرمایا، نہیں۔ مگر بس معروف کی حد تک۔ یعنی بس اتنا مال لے لو جو فی الواقع جائز ضروریات کے لیے کافی ہو۔ منکرات میں سے تیسری چیز جس کے اجتناب کا عورتوں سے عہد لیا گیا وہ یہ تھی کہ وہ بدکاری کا ارتکاب نہیں کریں گی۔ یعنی زنا نہیں کریں گی۔ زنا ایک ایسی برائی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا اور بندے کا حق دونوں مجروح ہوتے ہیں۔ اس سے جہاں اسلامی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے وہیں خاندانی خصوصیات بھی تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے اسے برا راستہ قرار دیا ہے۔ اور اسے ایسی بےحیائی ٹھہرایا جس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا۔ چوتھی برائی جس سے بچنے کا عہد لیا گیا وہ یہ تھی کہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ زمانہ جاہلیت میں قتل اولاد کا ارتکاب شرک کی ایک صورت بھی تھا۔ بعض لوگ اپنے دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی اولاد کی قربانی دیتے تھے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ان کو دخیل مانتے تھے۔ اور بعض قبائل میں اس کا سبب بیجا غیرت بھی تھی۔ یعنی جس کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی وہ یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوجاتا کہ اب اس کا کوئی نہ کوئی داماد ہوگا۔ اور بعض لوگ ایسے تھے جو اندیشہ ٔ فقر کی وجہ سے بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ اب اس جدید دور میں اس کے جدید محرکات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ عہد لے کر ان تمام نئی اور پرانی صورتوں سے روکا گیا ہے۔ پانچویں برائی جس سے بچنے کا عہد لیا گیا ہے وہ یہ تھی کہ وہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان نہ تراشیں گی۔ بہتان تو ظاہر ہے کہ ایسے جھوٹ اور الزام کو کہتے ہیں جس سے کسی دوسرے کی شہرت اور عزت کو نقصان پہنچانا مقصود ہو۔ لیکن بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاْرْجُلِھِنَّ ایک مہذب اور ملفوف انداز ہے جس سے اشارہ جنسی اعضاء کی طرف ہے۔ البتہ اس انداز سے اس میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر اس سے اشارہ کسی پر زنا کی تہمت لگانے سے ہوتا تو پھر بَیْنَ اَرْجُلِھِنَّکافی تھا۔ لیکن اَیْدِیْھِنَّ کے اضافے کے ساتھ زنا کے مقدمات بھی اس میں شامل ہوگئے۔ تقبیل اور ملامست کی جتنی شکلیں ہیں وہ سب اس میں شامل گئیں۔ اس سے یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے جسے بعض مفسرین نے لیا ہے کہ ایک عورت بچہ تو کسی کا جنے اور شوہر کو یقین دلائے کہ یہ تیرا ہی بچہ ہے۔ ابودائود میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ کہ جو عورت کسی خاندان میں کوئی ایسا بچہ گھسا لائے جو اس کے خاندان کا نہیں ہے تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کبھی اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اور اسی طرح کسی پر زنا کا بہتان باندھنا اسے ایک بہت بڑی برائی شمار کیا گیا ہے۔ کیونکہ جن جن چیزوں کا بہتان کسی پر باندھا جاسکتا ہے ان میں جنسی امور سے متعلق بہتان سب سے زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر اس بہتان کو باندھنے والی عورت ہو تو پھر اس کی خطرناکی کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ اور چٹھی چیز جس سے بچنے کا عہد لیا گیا وہ یہ ہے کہ بیعت کرنے والی عورتیں کسی معروف کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ آپ ذرا اس فہرست پر غور کیجیے جن سے اجتناب کا عہد لیا گیا ہے ان میں سے پہلے پانچ بڑے بڑے منکرات ہیں۔ اور معروفات میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا جبکہ دین دو ہی چیزوں سے مرکب ہے اسے اوامرونواہی کہہ لیجیے یا منکرومعروف۔ منکرات تو یہی پانچ ہیں اور باقی تمام یا اس کے مقدمات ہیں اس کے نتائج ہیں۔ اور معروفات کی ایک طویل فہرست ہے ان میں سے ایک ایک کا ذکر کرنے کی بجائے صرف معروف کا لفظ بول کر اور اس کی نافرمانی نہ کرنے کا عہد لے کر گویا کہ آنحضرت ﷺ کے حوالے سے اطاعتِ کاملہ کا عہد لے لیا گیا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو معروف کو قید یا شرط کے مفہوم میں لینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر اسے قید یا شرط کے مفہوم میں بھی لیا جائے تب بھی مفہوم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے اسے قید یا شرط کے معنی میں لیا ہے وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا رسول معروف کے سوا کسی چیز کا حکم دے ہی نہیں سکتا۔ اور دوسری یہ بات کہ یہ حق بھی صرف اللہ تعالیٰ کے رسول کو ہے کہ وہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو بتائے کہ معروف کیا ہے اور منکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اس کے سوا کسی چیز کو معروف قرار دینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر آپ معروف کو قید یا شرط کے معنی میں کیوں لیتے ہیں۔ اس کا جواب روح المعانی میں علامہ آلوسی نے یہ دیا ہے کہ یہ ارشاد ان جاہلوں کے خیال کی تردید کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ اولی الامر کی اطاعت مطلقاً لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو رسول کی اطاعت پر بھی معروف کی قید لگا دی ہے۔ حالانکہ رسول کبھی معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ اس سے مقصود لوگوں کو خبردار کرنا ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ منکرات کی وضاحت اور معروف کے ذکر کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان عورتوں سے بیعت لیجیے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیجیے۔ حدیث سے بیعت کا جو طریقہ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اگر خود بیعت لیتے تھے تو کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ بعض دفعہ ایک لمبا کپڑا بڑھا دیتے، ایک طرف سے حضور ﷺ اسے پکڑتے اور دوسری طرف سے عورتیں اسے پکڑ لیتیں۔ اور کبھی آپ پانی سے بھرے ہوئے پیالے میں ہاتھ ڈال دیتے اور پھر اسی پیالے میں عورتیں اپنے ہاتھ ڈالتیں۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ آپ نے بیعت لیتے ہوئے کبھی کسی عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ بعض دفعہ حضرت عمرفاروق ( رض) کو عورتوں سے بیعت لینے کا حکم دیا۔ لیکن ان کا بیعت لینے کا طریقہ بھی یہی تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کسی نامحرم عورت کے ہاتھ یا جسم کو چھو نہیں سکتا چاہے وہ بیعت کے ارادے سے ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جن پر اللہ کا غضب ہوا، جو آخرت سے اس طرح مایوس ہیں جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہیں

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ قَدْیَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْـکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ ۔ (الممتحنۃ : 13) (اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جن پر اللہ کا غضب ہوا، جو آخرت سے اس طرح مایوس ہیں جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔ ) آخر میں ابتدائی مضمون کا اعادہ صلبِ مضمون کے اعتبار سے اس آیت اور اس صورت کی پہلی آیت میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ اسی مضمون کی یاددہانی ہے جو پہلی آیت میں بیان فرمایا گیا۔ اسے یوں کہنا چاہیے کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا تھا آخری آیت میں اسے Someoff کیا گیا ہے۔ لیکن اس عاجز کی رائے یہ ہے کہ پہلی آیت اور اس کے بعد کی آیات میں جن لوگوں کی دوستی سے روکا گیا تھا وہ مکہ کے لوگ تھے جنھوں نے مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کیا، وطن سے بےوطن کیا، گھروں سے نکالا اور اذیت رسانی کی انتہا کردی۔ اور یہ سب لوگ مہاجرین کے قرابتدار تھے۔ اس لیے ان آیات میں قرابتداری کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں سے دوستی سے روکا گیا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا۔ اور قرآن کریم کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ یہود ہیں۔ اور مدینے میں منافقین مسلمانوں کے خلاف ان ہی کی دوستی پر اعتماد کرتے تھے۔ ان ہی کے اشاروں پر چلتے اور ان ہی کے وعدوں پر اپنی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہ یہود اہل کتاب ہوتے ہوئے بھی اپنی سوچ اور اپنے اعمال میں کفار سے مختلف نہیں تھے۔ کیونکہ یہ لوگ اگرچہ زبان سے آخرت کا اقرار کرتے لیکن ان کی دنیاپرستی، ان کی ہوس زر اور موت سے ان کا فرار گواہ ہیں کہ یہ آخرت کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ اگر انھیں آخرت کی امید ہوتی تو یہ نہ تو ان حرکتوں کے مرتکب ہوتے اور نہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں آسمانی کتابوں کی صریح پیشگوئیوں کی مخالفت کرتے، حقیقت میں یہ لوگ اسی طرح آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جس طرح کفار، یعنی مشرکینِ عرب اور بالخصوص قریش آخرت سے مایوس ہیں۔ انھیں ہزار سمجھایئے وہ کبھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ موت کے بعد انسان زندہ بھی ہوسکتے ہیں۔ وہ موت کو زندگی کا اختتام سمجھتے ہیں جس کے بعد کوئی نئی زندگی نہیں۔ اس لیے وہ علی الاعلان یہ بات کہتے ہیں ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا، ذٰلِکَ رَجْعُ م بَعِیْدٌ ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہ تو بہت بعیداز عقل بات ہے۔ “ یعنی کفار موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھ کر بعث بعدالموت اور قیامت کے آنے سے مایوس ہیں۔ اور یہود اپنے اعمال و اقوال کے باعث آخرت سے مایوس ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں ایک ہی برائی کے مرتکب ہیں۔ اور دینی زندگی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔