59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsروح القرآن

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الحشر : 1) (اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ ) تسبیح کا مفہوم تسبیح اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کو ہر عیب سے منزہ ٹھہرانے کا نام ہے۔ یعنی اس کا اصل استعمال اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی مخلوقات ہیں چاہے وہ ہمارے نزدیک ذی روح ہوں یا جامد اور مردہ، سب اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال کی پاک بیان کرتی ہیں۔ اور یہ کام مخلوقات نے ہر دور میں کیا ہے۔ ماضی میں بھی کیا ہے، حال میں بھی جاری ہے اور مستقبل میں بھی ہوگا۔ اسی لیے قرآن کریم نے کہیں اس کے لیے فعل ماضی استعمال کیا ہے اور کہیں فعل مضارع استعمال کیا ہے۔ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال ہر طرح کی کمزوری، عیب اور نارسائی سے پاک ہیں، اسی طرح اس کے احکام بھی اپنی تنفیذ میں حتمی اور محکم ہیں۔ کوئی مخلوق اس کی نافرمانی کرنے پر قادر نہیں۔ البتہ جن مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے فی الجملہ اس کا اختیار دے رکھا ہے وہ بھی نافرمانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے اس کا علم بھی لامحدود ہے اور اس کی قدرت بھی بےپناہ ہے۔ کیونکہ وہ عزیز اور غالب ہے جسے کسی مرحلے پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس کا اقتدارِمطلق اور اس کی قدرت کاملہ چونکہ ہر کمزوری اور ہر عیب سے پاک ہیں اس لیے وہ اپنے اظہار میں صرف قدرت کی نمود نہیں رکھتے بلکہ ان کا اظہار کامل علم اور کامل حکمت کے ساتھ ہوتا ہے۔ بلاشبہ اقتدار مقتدر کو اندھا کردیتا ہے۔ غصہ آئے تو بےقابو ہوجاتا ہے، انتقام پر اتر آئے تو عدل کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت باقی صفات کی طرح اپنے اندر بھی پاکیزگی کی شان رکھتی ہیں۔ اس لیے جب بھی اس کا اظہار ہوتا ہے تو حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں عزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے حکیم کی صفت کا استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 59:2

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشراول کے لیے، تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، ان کا گمان بھی یہ تھا کہ ان کے قلعے انھیں اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے، تو آیا ان کے پاس اللہ جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں تھا، اور اس نے ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا، وہ برباد کررہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی، پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو

ھُوَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ؔ ط مَاظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مَّانِعَتُھُمْ حُصُوْنُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا ق وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ یُحْزِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ ق فَاعْتَبِرُوْا یٰٓـاُولِی الْاَبْصَارِ ۔ (الحشر : 2) (وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشراول کے لیے، تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، ان کا گمان بھی یہ تھا کہ ان کے قلعے انھیں اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے، تو آیا ان کے پاس اللہ جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں تھا، اور اس نے ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا، وہ برباد کررہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی، پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو۔ ) اَوَّلِ الْحَشْرِ کا مفہوم اس آیت کریمہ میں معنوی لحاظ سے لِاَوَّلِ الْحَشْرِ قابل توجہ ہے۔ حشر کے معنی ہیں منتشر افراد کو اکٹھا کرنا یا بکھرے ہوئے افراد کو جمع کرکے نکالنا۔ اور لِاَوَّلِ الْحَشْرِ کا معنی ہے پہلے حشر کے لیے یا پہلے حشر کے موقع پر۔ البتہ اس کی مراد میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے بنونضیر کا اخراج مراد لیا ہے۔ اور اس کو ان کا پہلا حشر قرار دیا ہے۔ کیونکہ دوسرا حشر حضرت عمر ( رض) کے زمانہ میں ہوا تھا جب انھیں جزیرۃ العرب سے نکالا گیا اور وہ مختلف ملکوں میں بکھر گئے۔ اور آخری حشر ان کا قیامت کے روز ہوگا۔ اور بعض مفسرین اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ جیسے ہی مسلمان ان سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے اور ان کا محاصرہ کیا اور ابھی کشت و خون کی نوبت نہ آئے تھی کہ انھوں نے حوصلہ ہار دیا اور وہ جلاوطنی کے لیے تیار ہوگئے۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ پہلے ہی مرحلے میں جبکہ ابھی لڑائی کی نوبت نہیں آئی تھی اللہ تعالیٰ کی قدرت نے ان کو نکال باہر کیا۔ دونوں میں سے کوئی معنی بھی مراد لے لیا جائے، مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بنو نضیر کی فکری شکست کا حقیقی سبب اس آیت کریمہ میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور آخر میں مسلمانوں کو ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے یہود کا ایک قبیلہ بنو قینقاع جنگ بدر کے بعد اپنی سرکشی کے باعث مدینہ منورہ سے نکالا جا چکا تھا۔ لیکن وہ اگرچہ جنگی صلاحیت میں کسی سے کم نہ تھے، وسائل کی بھی ان کے پاس فراوانی تھی، اسلحہ ٔ جنگ کی بہتات نے انھیں سرکش بنادیا تھا۔ لیکن وہ مدینہ کے دوسرے محلوں کے ساتھ ایک محلے کی صورت میں رہتے تھے جس میں نہ ان کی گڑھیاں تھیں اور نہ ان کے قلعے جو ان کے دفاع میں معاون ہوتے۔ اس لیے مسلمانوں کے محاصرے کے بعد وہ جلدی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔ لیکن بنو نضیر کا حال یہ تھا کہ وہ صدیوں سے ایسے گھروں میں جمے ہوئے تھے جن کو انھوں نے قلعوں اور گڑھیوں کی شکل دے رکھی تھی۔ جس طرح قبائلی علاقوں میں جہاں ہر طرف بدامنی پھیلی ہوتی ہو وہ اپنے گھروں کو اس طرح بناتے ہیں کہ باہر سے ان پر حملہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور وہ اندر محصور ہو کر دیر تک مقابلہ کرسکتے ہیں، یہی حال ان کا بھی تھا۔ پھر ان کی تعداد بھی مسلمانوں سے کم نہ تھی، مدینہ کے منافقین ان کی پشت پر تھے، اسلحہ ٔ جنگ میں وہ مسلمانوں کی نسبت بہت بہتر پوزیشن میں تھے۔ اس لیے کسی شخص کے گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ محاصرہ ہوتے ہی حوصلہ ہار دیں گے۔ اور خود مسلمان بھی اس کی امید نہیں رکھتے تھے۔ لیکن یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ تمام سرورسامان رکھتے ہوئے موافق ماحول کے باوجود اور منافقین کی حوصلہ افزا ہلہ شیریوں کے ہوتے ہوئے بھی انھوں نے بہت جلد ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ بظاہر حالات اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ بجز اس وجہ کے جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی قوت نے ان کو نکلنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے نکالا۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کی تنفیذ میں کوئی قوت رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی۔ ان نادانوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے جس طرح مقابلے کا سروسامان تیار کر رکھا ہے اور ہم نے دشمن کے لیے اپنے گھروں تک پہنچنے کا کوئی راستہ کھلا نہیں رہنے دیا بلکہ ہر جگہ ایسی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں کہ جنھیں عبور کرنا مسلمانوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہود اللہ تعالیٰ پر ایمان اور توکل کے داعی تھے لیکن ان کا حال آج کے مسلمانوں سے مختلف نہیں تھا کہ ہم بھی کہنے کی حد تک اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں لیکن وسائل ہمیشہ غیر اللہ سے مانگتے ہیں۔ اور اگر کبھی ہمارا معاملہ کسی طاقتور سے پڑجاتا ہے تو ہم چاہے اپنے موقف میں کیسے ہی برسرحق کیوں نہ ہوں اور ہم سراسر اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے میدان میں ہوں تب بھی ہم حریف کی طاقت کو دیکھ کر اپنے طاقت کا اندازہ کرتے ہیں۔ اور اس میں کبھی اپنے اللہ کی قوت کو شامل نہیں کرتے۔ چناچہ اپنی کمزور حالت کا گمان کرکے اپنے حریف کی بات کو تسلیم کرلیتے ہیں چاہے اس میں ہماری دینی اقدار کی کیسی ہی پامالی کیوں نہ ہو۔ اور پھر یہود تو اپنی مذہبی تاریخ کے حوالے سے ایسی باتوں کے بھی قائل رہے ہیں جن میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے کشتی لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کشتی میں نعوذباللہ ہی من ذالک اللہ تعالیٰ کو شکست ہوئی۔ اور یہ ایک ایسی کافرانہ بات ہے جس کا ذکر آج بھی تورات میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس قوم کا آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سچا نبی مان کر بھی ان کے مقابل میں کھڑے ہوجانا چنداں قابل تعجب نہیں۔ اسی لیے یہاں پروردگار نے ان کے مقابلے میں براہ راست اپنا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ان کے پاس آیا یعنی اس کی پکڑ آئی یا اس کا عذاب آیا کہ وہ کبھی اس کا گمان بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس نے بجائے اسباب کی دنیا کو حرکت دینے کے براہ راست ان کے دلوں کو نشانہ بنایا اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا۔ اور یہ رعب کیا تھا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور دینی قوتوں کی ہیبت۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود سپرانداز ہوگئے۔ یہود کی مرعوبیت کی تصویر پھر یہود کی مرعوبیت کی تصویر کھینچتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے یہ قلعے اور گڑھیاں کتنے ارمانوں سے تعمیر کی تھیں اور کس قدر محنت سے یہ گھر بنائے تھے۔ لیکن اب ان کا حال یہ تھا کہ پہلے اپنے دفاع کے لیے اور پھر جب انھیں یقین ہوگیا کہ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے تو پھر اس خیال سے کہ یہ گھر مسلمانوں کے لیے آسودگی کا باعث نہ بنیں، انھیں اپنے ہاتھوں سے توڑنا شروع کردیا۔ اور جب ان سے یہ کہا گیا کہ تم جو کچھ اونٹوں پر لاد کے لے جاسکتے ہو تو لے جاؤ۔ تو انھوں نے مکانوں کے شہتیر، کڑیاں، دروازے اور کھڑکیاں بھی اپنے اونٹوں پر لادنے کی کوشش کی۔ اور جس چیز کو اونٹوں پر لاد کے ساتھ نہیں لے جاسکے اسے مسلمان دشمنی میں ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔ آخر میں فرمایا کہ اے آنکھیں رکھنے والو ! یعنی دیدہ بینا رکھنے والو، بنی نضیر کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرو کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد کہتے تھے۔ اور انھیں گمان یہ تھا کہ نبوت ہمارے خاندان سے باہر نہیں جاسکتی۔ اور انبیاء کی اولاد ہونے کی وجہ سے جہنم کی آگ ہمیں چھو بھی نہیں سکتی۔ اور پھر مدینے میں ایسے مضبوط مکان جو رہنے کے لیے بھی نہایت پر آسائش اور دفاعی نقطہ نگاہ سے بھی نہایت مضبوط تھے تعمیر کر رکھے تھے۔ مدینے کا بیشتر کاروبار ان کے ہاتھ میں تھا۔ علمی تفوق کے باعث انھیں عرب معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ان کی پشت پر تھے۔ اور بنو قریظہ اور بنو عطفان کی طرف سے ہر وقت انھیں حوصلہ افزا پیغام مل رہے تھے۔ باایں ہمہ وہ اللہ تعالیٰ اور ان کے بندوں کے مقابلے پر نہ ٹھہر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قوت اللہ تعالیٰ سے بےنیاز ہو کر ایسے لوگوں کے مقابل آتی ہے جو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیاگ دیتے ہیں تو وہ قوت اپنا سب کچھ تباہ کرلیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انھیں عذاب دے ڈالتا، اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے

وَلَوْلَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآئَ لَعَذَّبَھُمْ فِی الدُّنْیَا ط وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ۔ (الحشر : 3) (اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انھیں عذاب دے ڈالتا، اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ ) دنیا کے عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں قوموں پر آتا رہا ہے اور جس عذاب کے نتیجے میں ان کی جڑ اکھاڑ دی جاتی ہے۔ اسی عذاب کے حوالے سے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر پر رعایت فرمائی کہ انھیں صرف جلاوطنی کی سزا دی، تاکہ اگر ان کے اندر کچھ بھی عبرت پذیری کی صلاحیت موجود ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی اصلاح کریں۔ ورنہ ان کے کرتوت اس قابل تھے کہ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آتا اور ان کا استیصال کردیا جاتا۔
Ayah 59:4

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، اور جو اللہ کا مقابلہ کرے، اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَمَنْ یُّشَآقِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (الحشر : 4) (یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، اور جو اللہ کا مقابلہ کرے، اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ ) یہود کو عبرت بنانے کے لیے نرم سزا دی گئی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر نرمی فرمائی کہ دنیا میں ایسا عذاب ان پر نہیں بھیجا جو ان کی مکمل بیخ کنی کردیتا، تو پھر یہ جلاوطنی کی سزا انھیں کیوں دی گئی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سزا ان کو اس لیے دی گئی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مخاصمت کی کوشش کی۔ اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سخت سزا دیا کرتا ہے۔ لیکن انھیں حصول عبرت کا موقع دیا گیا ہے۔ اگر انھوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو یا تو انھیں دنیا میں عبرت بنادیا جائے گا اور یا انھیں مکمل تباہ کردیا جائے گا۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو یہ اللہ ہی کے اذن سے تھا تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے

مَاقَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَـآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (الحشر : 5) (کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو یہ اللہ ہی کے اذن سے تھا تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ ) لِیْنَۃٌ …کھجور کے پھلدار درخت کو کہتے ہیں۔ ایک اعتراض کا جواب اس آیت کریمہ میں یہود اور ان کے حلیفوں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا۔ اعتراض کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بنونضیر کی بستی کا محاصرہ کیا تو اس کے اطراف میں جو نخلستان واقع تھے ان میں بہت سے درخت فوجی کارروائی کے سلسلے میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے۔ چناچہ مسلمانوں نے فوجی ضرورت و مصلحت کے تحت ان درختوں کو کاٹ ڈالا تاکہ محاصرہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔ اور جو درخت محاصرے میں رکاوٹ نہیں تھے انھیں کھڑا رہنے دیا۔ اسے یہود اور ان کے حلیفوں نے پر اپیگنڈے کا ذریعہ بنا لیا۔ اور جگہ جگہ اس طرح کی باتیں کہی جانے لگیں کہ ان مسلمانوں کا حال دیکھو ان کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ ملک میں اصلاح کے لیے اٹھے ہیں جبکہ عمل ان کا اس کے بالکل برعکس ہے۔ پھل لانے والے درختوں کو کاٹنا یہ اصلاح کا عمل ہے یا فساد کا۔ یہ تو فساد فی الارض کی ایک واضح مثال ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر اقتدار حاصل کرنے کے سوا اور کوئی مقصد نہیں۔ فرض کریں انھیں لکڑی کی ضرورت تھی تو وہ درخت جو پھلدار نہ تھے انھیں کاٹ کر ان سے ضرورت پوری کی جاسکتی تھی۔ لیکن ایسے درخت انھوں نے نہیں کاٹے بلکہ وہ درخت کاٹے ہیں جو پھل دے رہے تھے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کے پیش نظر کچھ اور ہے اور زبان سے کچھ اور کہتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے اذن سے تھا۔ اور فوجی کارروائی کی ضرورت کو پورا کرنا پیش نظر تھا۔ اسے فساد فی الارض نہیں کہا جاسکتا۔ اسلام کا عام قانون یہ ہے کہ وہ دشمن کے ملک میں گھس کر بھی کھیت، مویشی، باغات اور عمارات کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ البتہ جہاں فوجی کارروائی کے لیے اس کی ضرورت ہو تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے فوجوں کو شام کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پھلدار درختوں کو نہ کاٹنا، فصلوں کو خراب نہ کرنا اور بستیوں کو ویران نہ کرنا۔ اور حضرت صدیق اکبر ( رض) کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے حکم کے عین مطابق تھا۔ کیونکہ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے ان مفسد انسانوں کی مذمت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب انھیں اقتدار مل جاتا ہے تو پھر وہ فصلوں اور نسلوں کو تباہ کرتے پھرتے ہیں۔ لیکن جب دشمن کو سرنگوں کرنے اور فوجی کارروائی کو کامیاب کرنے کے لیے ایسی ضرورت پیش آئے تو وہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مقصود کا مقدمہ ہونے کی وجہ سے عین مطلوب بھی ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے یہی بات فرمائی۔ ان کا ارشاد ہے قَطَعُوْا مِنْھَا مَاکَانَ مَوْضِعًا لِلْقِتَالِ مسلمانوں نے بنو نضیر کے درختوں میں سے صرف وہ درخت کاٹے تھے جو جنگ کے مقام پر واقع تھے۔ (تفسیر نیسابوری) رہی یہ بات جو بعض روایات میں کہی گئی ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کا اجتہاد تھا یا صحابہ نے اپنے اجتہاد سے یہ کام کیا تھا اور بعد میں انھوں نے آنحضرت ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ صورتحال کچھ بھی ہو یہ سب کچھ یقینا اللہ تعالیٰ کے اذن سے تھا۔ کیونکہ مجتہدین کا اجتہاد اگر اصول دین کے مطابق ہو تو باہمی اختلاف کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اس کی تصویب فرمائی ہے۔ اور جہاں تک آنحضرت ﷺ کے اجتہاد کا تعلق ہے اس کے برسرحق ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کی تصویب فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے تھا۔ فاسق کا مفہوم اور ان کی رسوائی کا مطلب آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ مسلمانوں کا درختوں کو کاٹنا اور بعض درختوں کو چھوڑ دینا یہ اس لیے تھا تاکہ ان فاسقوں کو رسوا کیا جائے۔ فاسقوں سے مراد وہ نافرمان اور کافر ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کیا۔ اور پھر سرکشی کی اس انتہا کو پہنچے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ وجدال میں کود پڑے۔ سوال یہ ہے کہ ان فساق کی رسوائی درختوں کے کاٹنے یا ان کو چھوڑنے سے کیونکر ہوئی۔ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ یہ درخت انھوں نے بڑے ارمانوں سے لگائے تھے اور ایک طویل مدت سے ان سے فائدہ اٹھا رہے اور ان کی پاسبانی کررہے تھے۔ یہ درخت ان کے لیے نہ صرف غذائی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے بلکہ آرائش و آسائش کا سبب بھی تھے۔ اب جبکہ ان کی آنکھوں کے سامنے مسلمان انھیں کاٹ رہے تھے اور وہ کسی طرح مسلمانوں کو روکنے کے قابل نہ تھے تو وہی جان سکتے ہیں کہ ان کے دل پر کیا گزرتی تھی۔ ایک معمولی کسان اور باغبان بھی اپنے کھیت یا باغ میں کسی دوسرے کے تصرف کو برداشت نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی زبردستی ایسا کرے تو وہ جان پر کھیل کر اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری اس سے بڑھ کر ذلت و رسوائی نہیں ہوسکتی۔ چناچہ رسوائی کا یہی وہ پہلو ہے جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جن درختوں کو مسلمانوں نے کھڑا رہنے دیا وہ ان کے لیے رسوائی کا باعث کیونکر تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب یہ لوگ اپنے قلعوں اور اپنے باغوں سے نکالے جارہے تھے تو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ ان کے باغات میں کتنے درخت ابھی باقی ہیں جن سے اب مسلمان فائدہ اٹھائیں گے۔ وہ ان کے سائے میں بیٹھیں گے اور ان کے پھلوں سے محظوظ ہوں گے۔ تو یقینا دل میں کڑھتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ کاش ہم انھیں تباہ کردیتے تاکہ مسلمانوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ لیکن وہ بےبسی کی حالت میں یہ سب کچھ دیکھنے پر مجبور تھے۔ یہ رسوائی کی ایسی حالت تھی جس کا اندازہ وہی کرسکتے تھے۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا، تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَمَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْھُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلاَ رِکَابٍ وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَـہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الحشر : 6) (اور جو مال اللہ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا، تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) بنو نضیر کے اموال اور باغات کی حیثیت یہاں سے آیت 10 تک اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کی ملک سے نکلنے والے باغات، اموال اور زمینوں کی حیثیت اور ان کے انتظامی معاملات کے سلسلے میں احکام دیئے ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ بنو نضیر کی ملک سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف لوٹایا گیا ہے وہ درحقیقت بنونضیر کی ملکیت نہیں تھا بلکہ اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے باغی تھے اس لیے اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی چیزوں پر ان کا تسلط غاصبانہ تھا۔ ان کی حیثیت ایک ایسے خائن ملازم کی تھی جو اپنے آقا کا مال دبائے رکھتا ہے اور پھر اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرتا ہے۔ ان اموال کا اصل حق یہ ہے کہ یہ ان کے حقیقی مالک اللہ رب العالمین کی اطاعت میں اس کی مرضی کے مطابق استعمال کیے جائیں۔ اور ان کا یہ استعمال صرف مومنین صالحین ہی کرسکتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے تمام اموال اور جائیدادوں کو ان کے غاصبانہ قبضے سے نکال کر اپنے فرمانبردار بندوں کی طرف پلٹا دیا۔ ایسے مال کو اسلامی اصطلاح میں فے قرار دیا گیا ہے۔ مالِ غنیمت اور مال فے کا فرق اور دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ یوں تو مال غنیمت بھی غاصبوں کے قبضے سے نکالا جانے والا وہ مال ہے جو جنگ کے نتیجے میں قوت و طاقت کے ذریعے ان سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیکن اس میں اور مال فے میں فرق یہ ہے کہ مال غنیمت جہاد و قتال کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مال ہے۔ اور سورة الانفال آیت 41 میں اس کے بارے میں حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے پانچ حصے کیے جائیں، چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں داخل کرکے ان مصارف میں صرف کیا جائے جو اس آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور فے کا حکم یہ ہے کہ اسے فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ وہ پوری کی پوری ان مصارف کے لیے مخصوص کردی جائے جو آگے کی آیات میں بیان ہورہے ہیں۔ اور ان دونوں قسم کے اموال میں فرق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ گھوڑے اور اونٹ دوڑانے سے مراد جنگی کارروائی ہے۔ یعنی جو اموال جنگی کارروائی کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں وہ تو مال غنیمت ہیں لیکن جو اموال اس طرح حاصل ہوتے ہیں کہ وہاں جنگی کارروائی کی نوبت نہیں آتی بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور حق کی ہیبت سے دشمن مرعوب ہوجاتا ہے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلتا ہے یا مصالحت کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے۔ تو اس صورت میں حاصل ہونے والے مال کو مال فے قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہ کل کا کل اللہ تعالیٰ اور رسول یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت کی ملکیت ہوگا اور اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعی بہبود پر صرف ہوگا۔ فقہائے اسلام نے مال غنیمت اور مال فے میں اس فرق کو مزید تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ غنیمت صرف وہ اموالِ منقولہ ہیں جو جنگی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے لشکروں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے ماسوا دشمن ملک کی زمینیں، مکانات اور دوسرے اموالِ منقولہ و غیرمنقولہ غنیمت کی تعریف سے خارج ہیں۔ وہ اپنی اس تشریخ کی تائید میں حضرت عمرفاروق ( رض) کے اس خط کو پیش کرتے ہیں جو انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) کو فتح عراق کے بعد لکھا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے ” جو مال و متاع فوج کے لوگ تمہارے لشکر میں سمیٹ لائے ہیں اس کو مسلمانوں میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے اور زمینیں اور نہریں ان لوگوں کے پاس چھوڑ دو جو ان پر کام کرتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی مسلمانوں کی تنخواہوں میں کام آئے۔ “ اس سے بھی زیادہ جو چیز غنیمت اور فے کے فرق کو واضح کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ نہاوند کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہوچکا تھا اور مفتوحہ علاقہ اسلامی حکومت میں داخل ہوگیا تھا ایک صاحب سائب بن اقرع کو قلعہ میں جواہر کی دو تھیلیاں ملیں۔ ان کے دل میں یہ الجھن پیدا ہوئی کہ آیا یہ مال غنیمت ہے جسے فوج میں تقسیم کیا جائے یا اس کا شمار اب فے میں ہے جسے بیت المال میں داخل ہونا چاہیے۔ آخر انھوں نے مدینہ حاضر ہو کر معاملہ حضرت عمر ( رض) کے سامنے پیش کیا۔ اور انھوں نے فیصلہ فرمایا کہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت بیت المال میں داخل کردی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غنیمت صرف وہ اموالِ منقولہ ہیں جو دوران جنگ میں فوج کے ہاتھ آئیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جو مال بھی ہاتھ آئے گا وہ اموالِ غیرمنقولہ کی طرح فے کے حکم میں داخل ہوگا۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹا دے تو وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، اور کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو، اور جس سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جائو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے

مَآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُوْلَـۃً م بَیْنَ الْاَغْنِیَـآئِ مِنْـکُمْ ط وَمَـآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ق وَمَا نَھٰـکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا ج وَاتَّقُواللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (الحشر : 7) (جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹا دے تو وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، اور کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو، اور جس سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ) مالِ فے کے مصارف مالِ غنیمت اور مال فے کے درمیان فرق واضح کرنے کے بعد اب مال فے کا مصرف بیان فرمایا گیا ہے کہ یہ سارے کا سارا مال اللہ تعالیٰ ، رسول، رسول کے قرابتدار، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہوگا، اس میں جنگ کرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس میں سب سے پہلا حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کسی مال و متاع کا محتاج نہیں، اس لیے اس کا ذکر یہاں ایک تو تبرکاً آیا ہے اور دوسرا اس لیے کہ مسلمان بھی اگر صدقہ دیں تو آنحضرت ﷺ کے لیے اس کا قبول کرنا جائز نہیں۔ تو مال فے تو کفار کے مال کو کہتے ہیں جو جنگ کیے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر صرف اس مال کے جواز اور حلال ہونے کے لیے ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مصارف کے لیے اس کو حلال کیا گیا ہے۔ اور تیسرا مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کا حصہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی طرف لوٹتا ہے اور اسلامی حکومت امیر کی حیثیت سے اس کو مستحقین اور مسلمانوں کے اجتماعی بہبود کے کاموں میں صرف کرتی ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے جس طرح عمل کیا اس کی تفصیل مالک بن اوس بن الحدثان نے حضرت عمر ( رض) کی روایت سے نقل کی ہے کہ حضور اس حصہ میں سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نفقہ لے لیتے تھے اور باقی آمدنی جہاد کے لیے اسلحہ اور سواری کے جانور فراہم کرنے پر خرچ فرماتے تھے۔ (بخاری و مسلم) آنحضرت ﷺ کا یہ حصہ چونکہ بحیثیت رسول کے نہیں بلکہ بحیثیت اسلامی حکومت کے سربراہ کے تھا۔ آپ کے بعد یہ حصہ خلیفہ ٔ وقت کو منتقل ہوگیا۔ لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ آپ کا یہ حصہ مسلمانوں کے دینی و اجتماعی مصالح کے لیے ہے کسی شخص خاص کے لیے نہیں ہے۔ دوسرا حصہ رشتہ داروں کا ہے۔ اس سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن کی کفالت آپ کی ذمہ داری ہے۔ اور یا جن کی مدد کی آپ ضرورت محسوس فرماتے تھے۔ ان میں بنی ہاشم اور بنی المطلب شریک تھے۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد یہ بھی ایک الگ اور مستقل حیثیت سے باقی نہ رہا۔ کیونکہ اس کی حیثیت آپ کی ذاتی ضرورت کی تھی۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی جائیداد کی نہ تھی کہ آپ کے بعد یہ وراثت کی حیثیت سے آپ کے خاندان کی طرف لوٹے۔ جس طرح اسلام پر کسی خاص خاندان کا اجارہ نہیں ہے، اسی طرح اسلام کی حکومت یا اس کے بیت المال کے کسی حصہ پر بھی کبھی کسی خاندان کا اجارہ نہ ہوا، نہ ہوسکتا ہے۔ البتہ بنی ہاشم اور بنی مطلب چونکہ زکوٰۃ سے حصہ نہیں لے سکتے اس لیے وہ اپنی ضرورت کے تحت فے کے حصول میں دوسروں سے فائق ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کا یہی معمول رہا کہ ان کے زمانے میں پہلے دونوں حصے ساقط کردیئے گئے اور باقی تین حصے فے کے حقداروں کے طور پر شامل رکھے گئے۔ خود حضرت علی ( رض) خلیفہ ہونے کی حیثیت سے پہلے تینوں خلفاء کے طرزعمل کے پابند رہے۔ باقی تینوں حصوں کے بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ البتہ اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اقرباء کے بعد یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق سب سے زیادہ ہے۔ اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کے حق کے ساتھ فرمایا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری ان لوگوں کی کفالت اور سرپرستی ہے جو معاشرے کے اندر بےوسیلہ ہیں۔ بلاشبہ بیت المال کی آمدنی دوسری ضرورتوں پر بھی خرچ ہونی چاہیے جو رفاہی اور تمدنی نقطہ نظر سے اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن ان کا مرتبہ بےوسیلہ لوگوں کی مدد کے بعد ہے۔ جس حکومت میں سرکاری خزانہ ترقیاتی کاموں یا فضول قسم کی نمائشوں اور عیاشیوں پر بےدریغ خرچ ہو اور غریب، غریب تر ہوتے جائیں ایسی حکومت اسلامی حکومت تو کجا مسلمانوں کی حکومت کہلانے کی بھی مستحق نہیں۔ اس کی وجہ بیان فرماتے ہوئے اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت اسلام کے پیش نظر یہ ہے کہ ملک کے وسائل اور دولت کا بہائو امیروں سے غریبوں کی طرف ہونا چاہے، غریبوں سے امیروں کی طرف نہیں۔ ملک کے زیادہ تر وسائل غریبوں کے درمیان حرکت میں آئیں تاکہ بےوسیلہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کا راستہ امیروں کے لیے آسان کردیا جائے گا اور غریبوں کے لیے مشکل تو پھر وہ دولت امیروں کے درمیان حرکت کرے گی جیسے آج کررہی ہے اور غریب اس سے محروم رہیں گے۔ مَـآاٰ تٰـکُمُ الرَّسُوْلُ …الخ کا مفہوم مزید ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اموالِ فے کو مکمل طور پر آنحضرت ﷺ کی تحویل میں دیا ہے۔ اس کے لیے بعض مصارف کو بیان ضرور کیا گیا ہے لیکن کسی مصرف میں کتنا خرچ کیا جائے اسے آنحضرت ﷺ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ آنحضرت ﷺ مسلمانوں میں سے جس کو جو اور جتنا دے دیں وہ خوشی سے اسے قبول کریں۔ اور اس سے اختلاف کرتے ہوئے نہ زبان کھولیں، نہ اپنے طرزعمل سے کسی رویئے کا اظہار کریں۔ البتہ آیت میں الفاظ اس طرح کے استعمال کیے گئے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سیاق کلام سے تو بنی نضیر کے اموال کی تقسیم ہی مراد ہے۔ لیکن الفاظِ کلام سے حکومت میں عموم معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ رسول جو کچھ تمہیں نہ دے تو پھر تمہیں کیا کرنا چاہیے۔ بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جس چیز سے وہ تمہیں روک دے یا منع کردے اس سے رک جاؤ۔ تو اس سے صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں اموالِ فے کی تقسیم کا معاملہ ہی نہیں بلکہ حکم کا مقصود آنحضرت ﷺ کے امرونہی کی اطاعت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے خود بھی مختلف وقتوں میں اس بات کی وضاحت فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا اذا امرتکم بامر فائتو منہ ما استطعتم وما نہیتکم عنہ فاجتنبوہ ” جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرو۔ اور جس بات سے روک دوں اس سے اجتناب کرو۔ “ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی ایک روایت سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔ ایک دفعہ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں فیشن کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اس تقریر کو سن کر ایک عورت ان کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ یہ بات انھوں نے کہاں سے اخذ کی ہے ؟ کتاب اللہ تو میں یہ مضمون کہیں میری نظر سے نہیں گزرا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ تو نے اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھی ہوتی تو یہ بات ضرور تجھے اس میں مل جاتی۔ کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی وَمَـآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰـکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔ اس نے عرض کیا ہاں میں نے یہ آیت تو پڑھی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس فعل سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فعل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ عورت نے عرض کیا اب میں سمجھ گئی۔ (بخاری، مسلم، مسنداحمد)
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(یہ مال) ان غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے املاک سے نکالے گئے، یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی راست باز لوگ ہیں

لِلْفُقَرَآئِ الْمُھٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۔ (الحشر : 8) (یہ مال) ان غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے املاک سے نکالے گئے، یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی راست باز لوگ ہیں۔ ) مالِ فے کا ایک خصوصی مصرف اموالِ فے کے عام مصارف بیان کرنے کے بعد ایک خصوصی مصرف بیان فرمایا گیا ہے جو بعض دفعہ بہت اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی ہے تو اس وقت یقینا ان مصارف میں سب سے اہم مصرف یہی تھا۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے صرف اس بات پر نکال دیئے گئے تھے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرلیا ہے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے۔ اور وہ اس حال میں مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے کہ ان کے پاس سوائے جسم اور جان کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ تن کے کپڑوں کے سوا شاید ہی کوئی چیز اپنے ساتھ لے کے نکلے ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلے انصار اور مہاجرین میں مواخات قائم فرمائی تاکہ ان کے رہنے اور فوری ضرورتوں کی کفالت ہوسکے۔ جب بنونضیر کا یہ علاقہ فتح ہوا تو خاص طور پر پروردگار نے اس کے مصارف میں ان کو شامل فرمایا۔ اور توجہ دلاتے ہوئے ان کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بالکل خالی ہاتھ اور تہی دامن آپ کے پاس آئے ہیں یہ اپنے گھروں میں نہایت خوشحالی کے دن گزار رہے تھے۔ لیکن یہ اس حال کو اس لیے پہنچے ہیں کہ ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی خوشنودگی کو حاصل کریں۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھروں سے صرف اس جذبے کے تحت نکلے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور خوشنودی سے بہرہ ور فرمائے گا۔ اور یہ لوگ اپنے اس جذبے اور اپنے اس عمل میں بالکل سچے ہیں۔ اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ حکم صرف عہدرسالت کے مہاجرین کے لیے مخصوص نہیں تھا بلکہ جب بھی کبھی مسلمانوں کو ایسے مہاجرین کا معاملہ پیش آئے کہ مسلمان محض اپنے دین کی بقاء کے لیے جلاوطن ہو کر کسی مسلم مملکت کی پناہ لینے پر مجبور ہوجائیں تو ان کو بسانا اور ان کی ضروریات مہیا کرنا اس ملک کی اسلامی حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ انھیں زکوٰۃ کے علاوہ اپنے دیگر وسائل کو بھی ان کے لیے آسان کردینا چاہیے۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور یہ مال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے دارالہجرت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ایمان کو محکم کرچکے ہیں، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آرہے ہیں، اور جو کچھ ان کو دیا جارہا ہے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انھیں خود احتیاج ہو، اور جو دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ قف ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الحشر : 9) (اور یہ مال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے دارالہجرت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ایمان کو محکم کرچکے ہیں، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آرہے ہیں، اور جو کچھ ان کو دیا جارہا ہے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انھیں خود احتیاج ہو، اور جو دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) مالِ فے کا ایک دوسرا خصوصی مصرف اموالِ فے میں صرف مہاجرین ہی کا حصہ نہیں بلکہ انصار بھی اس کے مستحق ہیں۔ البتہ اس کا اختیار آنحضرت ﷺ کو دیا گیا ہے کہ وہ کسے مستحق سمجھتے ہیں اور اس کی ضرورت کا احساس کرکے اس کو کتنا عطا فرماتے ہیں۔ انصار کی تعریف میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ مہاجرین سے پہلے مدینہ طیبہ جو مہاجرین کے لیے دارالہجرت بنا وہ ان کا وطن مالوف تھا، لیکن اپنے وطن کی محبت میں مٹی کو ماں بنانے کی بجائے انھوں نے اپنا سرمایہ دین کو بنایا اور اس پر ایمان لا کر زیادہ سے زیادہ اس میں استواری پیدا کی۔ یہ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح عَلَّفْتُہُ تِبْنًا وَمَائً ” میں نے اس کو چارہ کھلایا اور پانی پلایا۔ “ اس میں دوسرے مفعول سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں بھی الایمان سے پہلے مناسبت رکھنے والا ایک فعل محذوف ہے۔ اَحْکَمُوْا یا اس کا کوئی ہم معنی فعل مراد لیا جاسکتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ پہلے سے ٹھکانے بنائے ہوئے اور ایمان استوار کیے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد انصار ہیں۔ یہ لوگ پہلے سے مدینہ میں موجود اور ایمان سے آراستہ تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر کی کاوشوں سے آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اوس و خزرج کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوچکی تھی۔ اور انھوں نے اپنے ایمان کو اس حد تک مضبوط بنا لیا تھا کہ جب مہاجرین ایک بڑی تعداد میں وہاں پہنچے تو بجائے دل تنگ ہونے کے انھوں نے نہ صرف اپنے دل ان کے لیے کھول دیئے بلکہ گھروں اور نخلستانوں کے دروازے بھی کھول دیئے اور پروردگار گواہی دے رہا ہے کہ وہ مہاجرین سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی نصرت کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ ہمارے باغ اور نخلستان حاضر ہیں، آپ انھیں ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو باغبانی نہیں جانتے اور یہ اس علاقے سے آئے ہیں جہاں باغات نہیں ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپنے ان باغوں اور نخلستانوں میں کام تم کرو اور پیداوار میں سے حصہ ان کو دو ۔ انھوں نے کہا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (بخاری) اس پر مہاجرین نے عرض کیا، ہم نے کبھی ایسے لوگ نہیں دیکھے۔ اسی طرح جب نبونضیر کا علاقہ فتح ہوا تو انصار نے عرض کیا کہ یہ جائیدادیں آپ ان میں بانٹ دیں اور ہماری جائیدادوں میں سے بھی جو کچھ آپ چاہیں ان کو دے سکتے ہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر ( رض) پکار اٹھے، جزاکم اللّٰہ یامعاشرالانصار خیرا۔ اسی طرح جب بحرین کا علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا تو انصار نے کہا کہ ہم اس میں سے کوئی حصہ نہ دیں گے جب تک اتنا ہی ہمارے مہاجر بھائیوں کو نہ دیا جائے۔ انصار کا یہی وہ ایثار ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انھیں جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں بنیادی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بھائیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اور نفس کی خودغرضی اور دل کی تنگی سے انھیں بچا لیا گیا تھا۔ یہ خودغرضی اور دل کی تنگی وہ عیب ہے جو انسان سے انسانیت چھین لیتا ہے۔ اور جو اس سے بچ جاتا ہے وہ تقویٰ کی اعلیٰ منازل کو پا لیتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی لوگوں کو قرآن کریم نے کامیاب قرار دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا، حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے اتقوا الشح فان الشح اہلک من قبلکم حملھم علی ان سفکوا دماء ھم واستحلوا محارمھم (مسلم، مسنداحمد، بیہقی) حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت میں الفاظ یہ ہیں امرھم بالظلم فظلموا وامرھم بالفجور ففجروا وامرھم بالقطیعۃ فقطعوا (مسنداحمد، ابودائود، نسائی) ” شح سے بچو، کیونکہ شیح ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے ان کے ایک دوسرے کے خون بہانے اور دوسرے کی حرمتوں کو اپنے لیے حلال کرنے پر اکسایا، اس نے ان کو ظلم پر آمادہ کیا، اور انھوں نے ظلم کیا، فجور کا حکم دیا اور انھوں نے فجور کیا، قطع رحمی کرنے کے لیے کہا، اور انھوں نے قطع رحمی کی۔ “
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور جو ان کے بعد آئے ہیں وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کینہ نہ پیدا ہونے دے، اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور مہربان ہے

وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْ م بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلاَ تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّـنَـآ اِنَّـکَ رَئُ ْوفٌ رَّحِیْمٌ۔ (اور جو ان کے بعد آئے ہیں وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کینہ نہ پیدا ہونے دے، اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ 10) اموالِ فے کا آخری مصرف یہ اموالِ فے کا آخری مصرف ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اور اقربائے رسول، اور یتامیٰ اور مساکین اور ابن السبیل، اور مہاجرین اور انصار اور قیامت تک آنے والی مسلمان نسلوں کے حقوق ہیں۔ قرآن پاک کا یہی وہ قانونی فیصلہ ہے جس کی روشنی میں حضرت عمر ( رض) نے عراق، شام اور مصر کے مفتوحہ علاقوں کی اراضی اور جائیدادوں کا اور ان ممالک کی سابق حکومتوں اور ان کے حکمرانوں کی املاک کا نیا بندوبست کیا۔ اگرچہ بعض بڑے بڑے صحابہ اسے مال غنیمت قرار دے کر ہر چیز کے تقسیم کرنے کے حق میں تھے لیکن بہت طویل بحث و مذاکرہ کے بعد آخر یہ فیصلہ ہوگیا کہ اموالِ فے کو تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ حضرت علی ( رض) شروع سے حضرت عمر فاروق ( رض) کی رائے کے حق میں تھے۔ انھوں نے ارشاد فرمایا تھا دعھم یکونوا مادۃ للمسلمین ” ان زمینوں کو ان کے کاشتکاروں کے پاس رہنے دیجیے تاکہ یہ مسلمانوں کے لیے ذریعہ آمدنی بنے رہیں۔ “ اسی طرح حضرت معاذبن جبل کی یہ رائے تھی کہ اگر آپ نے ان زمینوں کو تقسیم کیا تو اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔ اس تقسیم کی بدولت بڑی بڑی جائیدادیں ان چند لوگوں کے قبضے میں چلی جائیں گی جنھوں نے یہ علاقے فتح کیے ہیں۔ پھر یہ لوگ دنیا سے رخصت ہوجائیں گے اور ان کی جائیدادیں ان کے وارثوں کے پاس رہ جائیں گی۔ جن میں بسا اوقات کوئی ایک ہی عورت ہوگی یا کوئی ایک ہی مرد ہوگا، لیکن آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہ رہے گا جس سے ان کی ضروریات پوری ہوں اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے مصارف بھی پورے کیے جاسکیں۔ لہٰذا آپ ایسا بندوبست کریں جس میں موجودہ اور آئندہ نسلوں کے مفاد کا یکساں تحفظ ہو۔ (ابوعبید، ص : 59، فتح الباری، ج 6، ص : 138) حضرت عمر ( رض) نے اسی آخری آیت سے استدلال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھے کتاب اللہ سے حجت مل گئی ہے جو اس مسئلے کا فیصلہ کردینے والی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے یہی آیات تلاوت کیں۔ اس فیصلے کے مطابق اراضیِ مفتوحہ کی اصل حیثیت یہ قرار پائی کہ مسلم ملت بحیثیت مجموعی ان کی مالک ہے۔ جو لوگ پہلے سے ان زمینوں پر کام کررہے تھے ان کو ملت نے اپنی طرف سے بطور کاشتکار برقرار رکھا ہے وہ ان اراضی پر اسلامی حکومت کو ایک مقرر لگان ادا کرتے رہیں گے، نسلاً بعدنسلٍ یہ کاشتکارانہ حقوق ان کی میراث میں منتقل ہوتے رہیں گے اور وہ ان حقوق کو فروخت بھی کرسکیں گے۔ مگر زمین کے اصل مالک وہ نہ ہوں گے بلکہ مسلم ملت ان کی مالک ہوگی۔ اس آیت میں اگرچہ اصل مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ فے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کا ہی نہیں، بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے۔ لیکن ساتھساتھ اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی مسلمانوں کو دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے بغض نہ ہونا چاہیے، اور مسلمانوں کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں، نہ یہ کہ وہ ان پر لعنت بھیجیں اور تبرا کریں گے مسلمانوں کو جس رشتے نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے وہ دراصل ایمان کا رشتہ ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں ایمان کی اہمیت دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہو تو لامحالہ وہ ان سب لوگوں کا خیرخواہ ہوگا جو ایمان کے رشتہ سے اس کے بھائی ہیں۔ ان کے لیے بدخواہی اور بغض اور نفرت اس کے دل میں اسی وقت جگہ پاسکتی ہے جبکہ ایمان کی قدر اس کی نگاہ میں گھٹ جائے اور کسی دوسری چیز کو وہ اس سے زیادہ اہمیت دینے لگے۔ لہٰذا یہ عین ایمان کا تقاضا ہے کہ ایک مومن کا دل کسی دوسرے مومن کے خلاف نفرت و بغض سے خالی ہو۔ اس معاملہ میں بہترین سبق ایک حدیث سے ملتا ہے جو نسائی نے حضرت انس ( رض) سے روایت کی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ تین دن مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے، اور ہر بار وہ آنے والے شخص انصار میں سے ایک صاحب ہوتے۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کو جستجو پیدا ہوئی کہ آخر یہ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر حضور ﷺ نے ان کے بارے میں بار بار یہ بشارت سنائی ہے۔ چناچہ وہ ایک بہانہ کرکے تین روز مسلسل ان کے ہاں جا کر رات گزارتے رہے تاکہ ان کی عبادت کا حال دیکھیں۔ مگر ان کی شب گزاری میں کوئی غیرمعمولی چیز انھیں نظر نہ آئی۔ ناچار انھوں نے خود ان ہی سے پوچھ لیا کہ بھائی، آپ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے حضور ﷺ سے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سنی ہے ؟ انھوں نے کہا میری عبادت کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔ البتہ ایک بات ہے جو شاید اس کی موجب بنی ہو، اور وہ یہ ہے کہ لا اجد فی نفسی غِلاًّ لاحد من المسلین ولا احسدہ علی خیرٍا عطاہ اللّٰہ تعالیٰ ایاہ ” میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کپٹ نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اسے عطا کی ہو اس سے حد کرتا ہوں۔ “ (تفہیم القرآن)
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے نفاق کی روش اختیار کی ہے، وہ اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے، کہتے ہیں کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلاَ نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا لا وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ (الحشر : 11) (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے نفاق کی روش اختیار کی ہے، وہ اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے، کہتے ہیں کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ ) اَلَمْ تَرَکا خطاب یا تو اظہارتعجب کے لیے ہے اور یا اس لیے ہے کہ منافقین کی جن باتوں کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے مسلمان عام طور پر ان سے واقف تھے اور سینہ بہ سینہ وہ باتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ لیکن قرآن کریم نے ان کا تجزیہ کرکے نہ صرف ان باتوں کی تائید کی بلکہ منافقین کی تذلیل کا سامان بھی کیا۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ سورة بنونضیر کے مدینے سے اخراج کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ یہ رکوع اپنے نزول میں مقدم ہو، اور اب کتابت میں اسے دوسرے نمبر پر کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس سورة کا نزول یا اس رکوع کا نزول غزوہ بنی نضیر سے پہلے ہوا ہو۔ لیکن جب یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ سورة غزوہ بنی نضیر کے بعد نازل ہوئی ہے تو پھر جو ترتیب اس وقت سورة میں ہم دیکھ رہے ہیں یہی ترتیب نزول میں بھی یقینا ہوگی۔ منافقین کو اہل کتاب کا بھائی کہنے کا مفہوم آیتِ کریمہ میں منافقین کو اہل کتاب کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے یہ منافق درحقیقت یہود ہی میں سے تھے جنھیں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا لیکن حقیقت میں یہ مومن نہیں تھے۔ لیکن اس کی حقیقت گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لیے کہ روایات سے یہ بات ثابت ہے اور تاریخ بھی اس کی تائید میں ہے کہ یہ عبداللہ بن ابی کا گروہ تھا جنھوں نے غزوہ بنی قینقاع کے وقت بھی بنی قینقاع کا ساتھ دیا تھا اور آنحضرت ﷺ ان کے بارے میں سخت فیصلہ فرمانے والے تھے کہ عبداللہ بن ابی نے نہایت اصرار کے ساتھ آپ کو ان کی جان بخشی پر راضی کیا۔ یہی وہ لوگ تھے جو بنی نضیر کو بھی درپردہ پیغامات بھیج رہے تھے ان میں اس بات کا امکان تو ہے کہ اکادکا افراد یہود میں سے بھی ہوں ورنہ عام طور پر یہود کا کوئی شخص ایمان لانے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اجتماعی طور پر آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کو مسترد کرچکے تھے۔ اور اس عصبیت میں مبتلا تھے کہ نبوت بنی اسرائیل سے باہر نہیں جاسکتی۔ منافقین کی درپردہ کوششوں کا انکشاف اس آیت کریمہ میں منافقین جو درپردہ بنی نضیر کو پیغامات بھیجتے تھے ان کا پول کھولا گیا اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انھوں نے ان کو ہر ممکن طریقے سے حوصلہ دینے کی کوشش کی اور ان سے جھوٹے وعدے بھی کیے۔ اور یہاں تک کہا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ۔ اور اگر لڑائی کی نوبت آگئی تو ہم لڑائی میں تمہارا ساتھ دیں گے اور ہر ممکن طریقے سے تمہاری مدد کریں گے۔ اور اگر شہر سے نکلنے کا موقع آیا تو تم اکیلے شہر سے نہیں نکالے جاؤ گے بلکہ ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن جب مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا تو منافقین اپنی کسی بات پر قائم نہ رہ سکے۔ بنونضیر کو اندازہ ہوگیا کہ یہ لوگ صرف زبان کے غازی ہیں۔ اس لیے وہ بہت جلد حوصلہ ہار بیٹھے اور مدینے سے نکل جانے پر مجبور ہوگئے۔ اس آیت کریمہ میں منافقین کا یہ قول بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ہم تمہارے معاملے میں کسی کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ اپنے آپ کو مومن کہتے تھے اور ایمان ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں آدمی اپنی ساری وفاداریاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر وقف دیتا ہے۔ اور دین کے معاملے میں وہ کسی کو ترجیح دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے یہود نے یقینا ان سے یہ کہا ہوگا کہ جب تمہیں تمہارے ایمان کے حوالے سے آنحضرت ﷺ یا مسلمان یہود سے ترک تعلق پر مجبور کریں گے اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے تمہاری وفاداری کا تقاضا کریں گے تو پھر تم کیا کرو گے ؟ انھوں نے جواب میں یہ بات کہی کہ ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات تسلیم نہیں کریں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنے وعدوں میں جھوٹے ہیں۔ ان کی زبانوں پر جو کچھ ہے وہ ان کے دلوں میں نہیں۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ لوگ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر یہ ان کی مدد کریں گے بھی تو پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لاَ یَخْرُجُوْنَ مَعَھُمْ ج وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لاَ یَنْصُرُوْنَھُمْ ج وَلَئِنْ نَّصَرُوْھُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الحشر : 12) (اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ لوگ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر یہ ان کی مدد کریں گے بھی تو پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ ) منافقین کے وعدوں کی حقیقت منافقین نے بنی نضیر کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے جو کوششیں کیں اور جس طرح جھوٹے وعدوں سے انھیں اپنی بات پر اڑے رہنے کی ترغیب دی یہ اس کی مزید تفصیل ہے کہ انھوں نے ان کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ نکالے گئے تو ہم بھی ان کے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جس سیرت و کردار کے لوگ ہیں اس کے حوالے سے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ بنی نضیر کو اگر نکالا گیا تو یہ کبھی ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر انھوں نے ان کی باتوں پر اعتماد کرکے مسلمانوں سے لڑائی چھیڑ دی تو یہ کبھی ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر کسی حد تک ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی تو منہ کی کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اور پھر اس کے بعد یہود کو کسی اور طرف سے کوئی اور مدد نہیں پہنچے گی۔ چناچہ عملی طور پر ایسا ہی ہوا کہ شروع شروع میں انھوں نے ہیکڑی دکھائی لیکن پھر حوصلہ ہار بیٹھے اور مسلمانوں کی شرائط کے مطابق مدینے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔