58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsروح القرآن

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے تکرار کررہی تھی، اور ساتھ ہی اللہ سے فریاد کیے جارہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُـکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَـکِیْٓ اِلَی اللّٰہِصلے ق وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (المجادلۃ : 1) (اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے تکرار کررہی تھی، اور ساتھ ہی اللہ سے فریاد کیے جارہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ ) شانِ نزول اسلام میں سب سے پہلے ظہار کا جو واقعہ پیش آیا وہ حضرت اوس ( رض) ابن الصامت اور حضرت خولہ ( رض) بنت ثعلبہ کے درمیان پیش آیا۔ اس آیت کا شان نزول وہی واقعہ ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت عبادہ ( رض) کے بھائی اوس ( رض) ابن الصامت اپنی بیوی حضرت خولہ ( رض) بنت ثعلبہ پر کسی وجہ سے ناراض ہوگئے۔ بڑھاپے کی وجہ سے ان کا مزاج بڑا چڑچڑا ہوگیا تھا۔ غصے میں مغلوب الغضب ہوجایا کرتے تھے۔ حالت غضب میں اپنی بیوی سے کہا اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمِّیْ ” تو مجھ پر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ “ زبان سے تو یہ بات کہہ بیٹھے لیکن لگے پچھتانے۔ خولہ کو پاس بلانے کی کوشش کی، اس نیک بندی نے جواب دیا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں خولہ کی جان ہے جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہمارے بارے میں فیصلہ نہ فرما دیں تم میرے نزدیک نہیں آسکتے۔ حضرت خولہ ( رض) اٹھیں اور حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے پیارے رسول ! اوس نے جب میرے ساتھ شادی کی تھی تو اس وقت میں جوان تھی، صاحب مال تھی، میرے گھر والے بھی موجود تھے، اب میرا شباب رخصت ہوچکا، میں بوڑھی ہوگئی، میرے گھر والے بھی نہ رہے، مال بھی خرچ ہوگیا۔ اب اوس نے مجھے یہ الفاظ کہے ہیں۔ حضور ﷺ کیا ہمارے لیے کوئی گنجائش ہے کہ ہم ایک ساتھ رہ سکیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تیرے بارے میں ابھی تک مجھے کوئی حکم نہیں ملا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تو اپنے شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے۔ تو اس پر حضرت خولہ ( رض) نے عرض کیا، یارسول اللہ ! اس نے طلاق کا لفظ تو نہیں کہا۔ حضرت خولہ ( رض) انتہائی پریشانی کی حالت میں بار بار اپنی بات کو دہراتی رہیں اور آنحضرت ﷺ سے اصرار کرتی رہیں کہ حضور ﷺ ہمارے لیے کوئی راستہ نکالیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے بھی شکایت، شکوہ اور فریاد کرتی رہیں کہ الٰہی ! میں اپنی تنہائی اور اپنے خاوند سے جدائی کا شکوہ تجھ سے کرتی ہوں۔ ایک روایت میں ان کے یہ الفاظ درج ہیں اپنے فاقہ اور خستہ حالی کا شکوہ میں اللہ سے کرتی ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اگر میں انھیں ان کے باپ کے سپرد کرتی ہوں تو وہ ضائع ہوجائیں گے، اور ان کو اپنے پاس رکھتی ہوں تو وہ بھوکوں مریں گے۔ بار بار وہ آسمان کی طرف منہ اٹھاتیں اور فریاد کرتیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی وہ آنحضرت ﷺ کی طرف متوجہ ہوتیں اور آپ سے مدد کی درخواست کرتیں اور کبھی اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگتیں کہ وہ میرے حسب حال کوئی حکم نازل فرمائے۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔ افاقے کے بعد آپ نے سر اٹھایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا : اے خولہ ! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں حکم نازل فرما دیا۔ اس میں نہایت سبق آموز بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک نیک بندی اپنا معاملہ لے کر اللہ تعالیٰ کے رسول کے حضور پہنچتی ہے۔ تو کس قدر کریم النفس ہے اللہ تعالیٰ کا رسول کہ وہ بار بار ان سے اپنے مسئلے کا حل چاہتی ہیں۔ لیکن وہ ناراض ہونے یا تنگ آنے کی بجائے نہایت تحمل سے اس کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ اور پھر کتنا رحیم و کریم ہے ہمارا پروردگار کہ وہ اپنی اس بندی کی باتیں سنتا ہے، وہ اس کے رسول سے بحث و تکرار کرتی ہے اور وہ برابر سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے۔ وہ بار بار اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نظرانداز کرنے کی بجائے اس کے مسئلے کا حل نازل فرماتا ہے اور اس کی عزت میں ایسے چارچاند لگا دیتا ہے جو قیامت تک کے لیے اسے مخدومہ کا مقام دے دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ ( رض) ان کی اس عزت افزائی کو دیکھتے ہوئے پکار اٹھتی ہیں کہ پاک ہے وہ ذات جس کا سماع تمام آوازوں کو محیط ہے۔ ہر ایک کی آواز سنتا ہے۔ میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھی جب خولہ بنت ثعلبہ اپنے شوہر کی شکایت بیان کررہی تھیں۔ مگر اتنے قریب ہونے کے باوجود ان کی بعض باتیں نہ سن سکی تھی۔ مگر حق تعالیٰ نے ان سب کو سنا اور قرآن پاک میں یہ آیت نازل فرمائی۔ ان کی بات کو بارگاہِ ایزدی میں مسموع ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام میں وہ عزت ملی کہ انھیں صحابہ کرام میں ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہوگیا۔ بیہقی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ( رض) کچھ صحابہ کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔ راستے میں ایک عورت ملی، اس نے ان کو روکا، آپ فوراً رک گئے۔ سر جھکا کر دیر تک اس کی بات سنتے رہے۔ اور جب تک اس نے بات ختم نہ کرلی، آپ ( رض) کھڑے رہے۔ ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا : امیرالمومنین ! آپ ( رض) نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کے لیے اتنی دیر روکے رکھا ؟ فرمایا : جانتے بھی ہو یہ کون ہے۔ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں۔ یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔ خدا کی قسم اگر یہ رات تک مجھے کھڑا رکھتی تو میں کھڑا رہتا۔ میں نمازوں کے اوقات پر اس سے معذرت کرلیتا۔ استیعاب میں قتادہ ( رض) کی روایت نقل کی گئی ہے کہ یہ خاتون راستے میں حضرت عمر ( رض) کو ملی تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ یہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں، او ہو، اے عمر ! ایک وقت تک جب میں نے تم کو بازارِعکاظ میں دیکھا تھا اس وقت تم عمیر کہلاتے تھے، لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے تھے، پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے، پھر ایک وقت آیا کہ تم امیرالمومنین کہے جانے لگے۔ ذرا رعیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور یاد رکھو کہ جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو موت سے ڈرتا ہے اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اس چیز کو کھو دے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔ اس پر جارود عبدی جو حضرت عمر ( رض) کے ساتھ تھے بولے، اے عورت تو نے امیرالمومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ حضرت عمر ( رض) نے فرمایا : انھیں کہنے دو ۔ جانتے بھی ہو یہ کون ہیں، ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔ عمر ( رض) کو تو بدرجہ اولیٰ سننی چاہیے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے، بیشک یہ لوگ کہتے ہیں بہت بری بات اور جھوٹ، اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت درگزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے

اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْـکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰـتِھِمْ ط اِنْ اُمَّھٰـتُھُمْ اِلاَّ الّٰـِٔیْ وَلَدْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْـکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ (المجادلۃ : 2) (جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے، بیشک یہ لوگ کہتے ہیں بہت بری بات اور جھوٹ، اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت درگزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔ ) ظہار کی حقیقت اور اس کا پہلا حکم اس آیت کریمہ میں ظہار کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی حیثیت واضح فرمائی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ظہار کی حقیقت جاننی چاہیے۔ اس آیت میں یُظٰھِرُوْنَبکسرظاء ظہار سے مشتق ہے جو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی ایک خاص صورت کے لیے بولا جاتا ہے۔ دور جاہلیت میں جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو یہ کہہ دیتا تھا اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمِّیْ تو اس کی بیوی اس پر طلاق مغلظہ سے بھی بڑھ کر حرام ہوجاتی تھی جس میں دوبارہ میاں بیوی کے یکجا ہونے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اس جملے میں تو صرف ظہر کا لفظ ہے جو پشت پر بولا جاتا ہے۔ لیکن اصطلاحِ شرع میں ظہار کی تعریف یہ ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی محرماتِ ابدیہ ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کو دیکھنا اس کے لیے جائز نہیں، ماں کی پشت بھی اس کی ایک مثال ہے۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہ لفظ دائمی حرمت کے لیے بوتا جاتا تھا۔ جس میں رجعت یا نکاح جدید کا کوئی سوال نہ تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ اور بعد کی آیات میں اس رسم بد کی اصلاح فرمائی۔ سب سے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ بیوی سے علیحدگی کا طریقہ طلاق ہے، ظہار نہیں۔ کیونکہ اپنی بیوی کو ماں، بہن یا بیٹی کے کسی عضو سے تشبیہ دینا سراسر ایک لغو اور جھوٹی بات ہے۔ چونکہ ان کا عام معمول بیوی کو ماں کی پشت سے تشبیہ دینے کا تھا اس لیے خاص طور پر اس کے بارے میں فرمایا کہ ماں تو صرف وہ ہے جس نے اسے جنا ہے۔ کوئی دوسری عورت اس کی ماں کیسے ہوسکتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک نہایت بےہودہ اور لغو بات بھی ہے اور سراسر جھوٹ بھی۔ یعنی اگر وہ شخص یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں تمہیں اطلاع دیتا ہوں کہ میری بیوی آج سے میری ماں ہے۔ اس بنا پر اسے ابدی حرمت حاصل ہے تو یہ اطلاع سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، کیونکہ جس نے اسے جنا نہیں وہ محض کہہ دینے یا فرض کرلینے سے تو ماں نہیں بن جاتی۔ اور ویسے بھی بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا ایک بےہودہ حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی مہذب شخص ایسی بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایسی بات صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اخلاقی لحاظ سے انتہائی پست واقع ہوا ہو۔ چناچہ یہ پہلا فیصلہ ہے جو پروردگار نے ظہار کے بارے میں ارشاد فرمایا اور اس میں دورجاہلیت کے اس تصور کو رد کردیا گیا کہ ایسا کہنے سے عورت شوہر سے ہمیشہ کے لیے الگ ہوجاتی ہے۔ یوں تو اس بےہودہ بات پر بہت سخت سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ بہت درگزر فرمانے والے ہیں اس لیے وہ اس پر سزا نہیں بلکہ عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ کس قدر پروردگار کی مہربانی ہے کہ اس نے اول تو ظہار کے معاملہ میں جاہلیت کے قانون کو منسوخ کرکے خانگی زندگی کو تباہی سے بچا لیا۔ اور مزید کرم اس کا یہ ہے کہ اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے نہ صرف ایک ہلکی سی سزا تجویز کی بلکہ اس سزا کو عبادات اور نیکیوں کی شکل دے دی جو نفس کی اصلاح کرنے والی اور معاشرے میں بھلائی پھیلانے والی ہے۔
Ayahs 58:3–4

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر وہ پلٹنا چاہیں اس بات سے جو انھوں نے کہی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا، یہ ہے جس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پس جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے، قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یہ حکم اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ تم تابع فرمان ہوجائو اللہ اور اس کے رسول کے، یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے

وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ط ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 3، 4) (جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر وہ پلٹنا چاہیں اس بات سے جو انھوں نے کہی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا، یہ ہے جس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ پس جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے، قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یہ حکم اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ تم تابع فرمان ہوجاؤ اللہ اور اس کے رسول کے، یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے۔ ) ظہار کا کفارہ اس آیت کریمہ میں ظہار کے حوالے سے دوسری اصلاح فرمائی گئی ہے کہ ظہار تو بجائے خود ایک لغو اور بےہودہ بات اور جھوٹ کا شاہکار ہے جس پر سرزنش اور طلب مغفرت کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن اگر کوئی شخص ایسی حرکت کر ہی ڈالے اور پھر وہ یہ بھی چاہے کہ بیوی سے پہلے کی طرح اختلاط و انتفاع کرتا رہے اور اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اسلام نے ایسی کھلی چھٹی بھی نہیں دی، بلکہ اس پر ایک جرمانہ کفارہ کا لگایا گیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہئیں یعنی وہ اپنے ظہار سے تائب ہو کر دوبارہ بیوی سے تعلقات پیدا کرنا چاہیں، اور حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت کے مطابق وہ اس پر نادم بھی ہوں تو ان کے لیے بیوی سے اختلاط سے پہلے کفارہ کا ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بغیر بیوی حلال نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار اس کفارہ کی علت نہیں بلکہ ظہار کرنا ایک گناہ ہے جس کا کفارہ توبہ و استغفار ہے۔ اس لیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ کوئی شخص ظہار کر بیٹھے اور پھر بیوی سے اختلاط نہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ البتہ اس میں بیوی کی حق تلفی ہے جو سراسر ناجائز ہے۔ اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کرکے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دے کر آزاد کرنا واجب ہے۔ اگر یہ خود نہ کرے تو بیوی حاکم اسلام کی طرف مراجعت کرکے شوہر کو اس پر مجبور کرسکتی ہے۔ تو ظہار کا وہ کفارہ جو بیوی سے اختلاط کو جائز کرنے کا ذریعہ ہے وہ یہ ہے کہ شوہر ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے۔ اور اس پر قدرت نہ ہو تو دو مہینے کے لگاتار مسلسل روزے رکھے۔ اور اگر کسی بیماری یا ضعف کے سبب اتنے روزوں پر بھی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ البتہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو فی کس ایک فطرہ کی مقدار گندم یا اس کی قیمت دے دے۔ فطرہ کی مقدار ہمارے موجودہ وزن کے اعتبار سے پونے دو سیر گندم ہے البتہ اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔ ان سزائوں کا حقیقی فائدہ آخر میں فرمایا کہ تمہیں یہ احکام اس لیے دیئے گئے اور یہ سزائیں اس لیے تجویز کی گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر تمہارا ایمان مستحکم ہو۔ یہاں لِتُؤْمِنُوْا میں فعل عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق اپنے کامل معنی میں ہے کہ ایمان اس آخری درجے کو پہنچ جائے جس میں اشتعال یا شدت غضب میں ظہار جیسی حرکتیں ایک مومن سے سرزد نہ ہوں بلکہ جب بھی وہ ایسی لغو بات کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان اسے روک دے۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے ای ذالک لتکونوا مطیعین للہ تعالیٰ واقفین عندحدودہ ولاتتعدوھا ” یعنی تم اللہ تعالیٰ کے مطیع ہوجاؤ، اس کی مقرر کی ہوئی حدود کے پاس کھڑے ہوجاؤ اور ان کو پامال مت کرو۔ “ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پامال کرتے اور اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں، دراصل وہ کافر ہیں۔ یہاں کافر سے مراد منکر خدا و رسالت نہیں ہے بلکہ وہ شخص ہے جو خدا اور رسول کو ماننے کا اقرار اور اظہار کرنے کے بعد بھی وہ طرزعمل اختیار کرے جو ایک کافر کے کرنے کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ایسا کرنا کافروں کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کا حکم سنیں اور اپنی مرضی کرتے رہیں۔ دنیا میں تو ہم ایسے لوگوں کو کافروں میں شمار نہیں کرسکتے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے لوگوں کا شمار مومنین میں نہیں ہے۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے گئے، بیشک ہم نے اتاری ہیں روشن آیتیں اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَسُوْلَـہٗ کُبِتُوْا کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَقَدْ اَنْزَلْـنَـآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ ط وَلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (المجادلۃ : 5) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے گئے، بیشک ہم نے اتاری ہیں روشن آیتیں اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ ) محاداۃ کا مفہوم اور ایسا کرنے والوں کا انجام یُحَآدُّوْنَکا مصدر محاداۃ ہے۔ لسان العرب کے مصنف نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے المحاداۃ المماداۃ والمخالفۃ والمنازعۃ وھومفاعلۃ من الحد کان کل واحد منہما یجاوزحداہ الی الاخر ” محاداۃ کا معنی عداوت کرنا، مخالفت کرنا اور جھگڑا کرنا ہے۔ اس کا اصل ماخذحَدٌّہے۔ کیونکہ دونوں اپنی اپنی حد سے تجاوز کرکے دوسرے کی حد میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسے محاداۃ کہا جاتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بندگی کی حدود کو پھاند کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی حدود میں مداخلتِ بےجا کا ارتکاب کرتے ہیں قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ اور اس رسول کے لیے مخصوص ہے اس حق کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے خود قانون وضع کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت طیبہ میں کیا جارہا ہے۔ علامہ آلوسی نے اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے اور بتایا ہے کہ حکومت کو نئی قانون سازی کا کہاں کہاں اختیار ہے اور کہاں اختیار نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے : فوجوں کی تربیت، انھیں جنگی مشقیں کرانا، انھیں ہر قسم کا اسلحہ مہیا کرنا جس سے دشمن پر غلبہ پانے کے امکانات روشن ہوں۔ جنگ کے لیے منصوبہ بندی، میدانِ جنگ میں فوجوں کی نقل و حرکت کے ضابطے۔ ان تمام امور میں حکام وقت کو کلی اختیارات حاصل ہیں۔ مسلمانوں کے لیے جو بہتر اور مفید ہو اس کے لیے تدابیر اختیار کی جائیں۔ اسی طرح مناسب مقامات پر قلعوں کو تعمیر کرنا۔ شہروں کی حفاظت کے لیے تجاویز سوچنا بھی حکام کا کام ہے۔ وہ جرائم جن کی سزا شریعت میں مقرر نہیں ان کے لیے مناسب سزائیں مقرر کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ان جرائم کے لیے ایسی موثر سزائیں مقرر کرنی چاہئیں جن سے جرائم کا سدباب ہوسکے، لیکن ان تعزیرات کو اتنا سخت کرنا بھی درست نہیں جو بسا اوقات قتل سے بھی زیادہ دردناک اور اذیت رساں ہوں۔ اسی طرح کاروبار اور لین دین کے لیے ایسے قواعد و ضوابط مرتب کرنا جن سے کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو، درست ہے لیکن کوئی ایسا ضابطہ بنانا جس سے کسی شرعی حکم کی صراحتاً خلاف ورزی لازم آئے ہرگز جائز نہیں جیسے سود کے جواز کا قول کرنا اور اس کے بغیر معاشی اور صنعتی ترقی کو محال سمجھنا یہ سب حرام ہے۔ بیت المال اور اراضی کے بارے میں جو احکام صحیح روایات سے حضور رحمت ِ عالم ﷺ سے ثابت ہیں ان کی خلاف ورزی کسی صورت میں بھی جائز نہیں، لیکن جو احکام خلفاء کرام نے اپنے اجتہاد سے وضع کیے اگر زمانہ کے حالات کے پیش نظر ان کے بارے میں ایسے احکام وضع کیے جائیں جن میں لوگوں کے لیے آسانی اور سہولت ہو اور ان میں عوام کا فائدہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن خلفاء کے اجتہادی احکام کے بجائے ایسے جدید قوانین مرتب کرنا جن میں لوگوں کی مشقتوں میں اضافہ ہوجائے یہ کسی طرح جائز نہیں۔ وہ حدود جو اللہ تعالیٰ نے چوروں، بدکاروں اور راہزنوں کے بارے میں مقرر کی ہیں ان میں کسی قسم کا ردوبدل روا نہیں ہے۔ آخر میں فرماتے ہیں کہ جو شخص اسلامی قوانین کو ناقص سمجھتا ہے اور ان کی تحقیر کرتا ہے اور جدید وضع کردہ قوانین کو ان سے بہتر اور زیادہ مفید کہتا ہے اس کے کفر میں شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور اس کے احکام سے بغاوت کرنے والے اسی طرح رسوا کیے جائیں گے۔ دنیا میں ہر عزت کے مقام سے دھکے دے کر نکال دیئے جائیں گے اور ان کی ہر جگہ تذلیل ہوگی جس طرح ان سے پہلے ذلیل کیے گئے اور رسوا کیے گئے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کیخلاف خود قوانین بنائے یا دوسروں کے بنائے ہوئے قوانین کو اختیار کیا۔ یہ رسوائی تو صرف دنیا میں ہوگی اور آخرت میں رسوا کن عذاب ہوگا۔