58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsروح القرآن

Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

یاد کرو جس روز اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا اور انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو گن رکھا ہے اور وہ بھلا چکے ہیں، اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے

یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (المجادلۃ : 6) (یاد کرو جس روز اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا اور انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو گن رکھا ہے اور وہ بھلا چکے ہیں، اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ ) آخرت میں مخالفین کا انجام جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کے قانون کی توہین کرتے ہیں اور ان کی نگاہوں میں وضعی قوانین کی تو عزت ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو اذکاررفتہ سمجھتے ہیں اور انھیں اپنی یہ نافرمانیاں کبھی بھول کر بھی یاد نہیں آتیں کیونکہ وہ ان باتوں کو یاد رکھنے کے قابل نہیں سمجھتے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب آخرت میں ان کو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا اور یہ لوگ میدانِ حشر میں جمع کیے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی ایک ایک نافرمانی کو شمار کرکے ان کے سامنے رکھ دے گا۔ اور انھیں بتائے گا کہ یہ تمہاری زیادتیاں اور نافرمانیاں ہیں اور حدود سے تجاوز ہے جنھیں تم نے بیکار سمجھ کے بھلا دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی اور اس کے رسول کی کوئی بھی نافرمانی ایسی نہیں جس کو بھلایا جاسکے۔ آج تمہیں اپنی ان جسارتوں اور تجاوزات کا جواب دینا ہوگا۔ تمہارے ان باتوں کو بھول جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس پروردگار سے تمہیں واسطہ ہے وہ تو ہر چیز کا شاہد ہے۔ دو آیتیں پہلے ظہار کا قانون بیان ہوچکا اور اللہ تعالیٰ نے جو اس کے بارے میں احکام دیئے تھے فی الجملہ ان کا ذکر کردیا گیا۔ لیکن فقہاء اسلام نے اس آیت کے الفاظ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں اور اسلام کے اصول عامہ سے جو قانون اخذ کیا ہے اس کی تفصیلات یہ ہیں جسے ہم تفہیم القرآن سے نقل کررہے ہیں۔ قانونِ ظہار کی فقہی تفصیلات 1 ظہار کا یہ قانون عرب جاہلیت کے اس رواج کو منسوخ کرتا ہے جس کی رو سے یہ فعل نکاح کے رشتے کو توڑ دیتا تھا اور عورت شوہر کے لیے ابداً حرام ہوجاتی تھی۔ اسی طرح یہ قانون ان تمام قوانین اور رواجوں کو بھی منسوخ کرتا ہے جو ظہار کو بےمعنی اور بےاثر سمجھتے ہوں اور آدمی کے لیے اس بات کو جائز رکھتے ہوں کہ وہ اپنی بیوی کو ماں یا محرمات سے تشبیہ دے کر بھی اس کے ساتھ حسب سابق زن و شو کا تعلق جاری رکھے، کیونکہ اسلام کی نگاہ میں ماں اور دوسری محرمات کی حرمت ایسی معمولی چیز نہیں ہے کہ انسان ان کے اور بیوی کے درمیان مشابہت کا خیال بھی کرے، کجا کہ اس کو زبان پر لائے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اسلامی قانون نے اس معاملہ میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ تین بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ ظہار سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عورت بدستور شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ظہار سے عورت وقتی طور پر شوہر کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک شوہر کفارہ ادا نہ کردے اور یہ کہ صرف کفارہ ہی اس حرمت کو رفع کرسکتا ہے۔ 2 ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ اس شوہر کا ظہار معتبر ہے جو عاقل و بالغ ہو اور بحالتِ ہوش و حواس ظہار کے الفاظ زبان سے ادا کرے۔ بچے اور مجنون کا ظہار معتبر نہیں ہے۔ نیز ایسے شخص کا ظہار بھی معتبر نہیں جو ان الفاظ کو ادا کرتے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو، مثلاً سوتے میں بڑبڑائے، یا کسی نوعیت کی بےہوشی میں مبتلا ہوگیا ہو۔ اس کے بعد حسب ذیل امور میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے : الف۔ نشے کی حالت میں ظہار کرنے والے کے متعلق آئمہ اربعہ سمیت فقہاء کی عظیم اکثریت یہ کہتی ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی نشہ آور چیز جان بوجھ کر استعمال کی ہو تو اس کا ظہار اس کی طلاق کی طرح قانوناً صحیح مانا جائے گا کیونکہ اس نے یہ حالت اپنے اوپر خود طاری کی ہے۔ البتہ اگر مرض کی وجہ سے اس نے کوئی دوا پی ہو اور اس سے نشہ لاحق ہوگیا ہو، یا پیاس کی شدت میں وہ جان بچانے کے لیے شراب پینے پر مجبور ہوا ہو تو اس طرح کے نشے کی حالت میں اس کے ظہار و طلاق کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ احناف اور شوافع اور حنابلہ کی رائے یہی ہے اور صحابہ کا عام مسلک بھی یہی تھا۔ بخلاف اس کے حضرت عثمان ( رض) کا قول یہ ہے کہ نشے کی حالت میں طلاق و ظہار معتبر نہیں ہے۔ احناف میں سے امام طحاوی ( رح) اور کرخی ( رح) اس قول کو ترجیح دیتے ہیں اور امام شافعی ( رح) کا بھی ایک قول اس کی تائید میں ہے۔ مالکیہ کے نزدیک ایسے نشے کی حالت میں ظہار معتبر ہوگا جس میں آدمی بالکل بہک نہ گیا ہو بلکہ وہ مربوط اور مرتب کلام کررہا ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ وہ کیا کررہا ہے۔ ب۔ امام ابوحنیفہ ( رح) اور امام مالک ( رح) کے نزدیک ظہار صرف اس شوہر کا معتبر ہے جو مسلمان ہو۔ ذمیوں پر ان احکام کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْـکُمْ کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں جن کا خطاب مسلمانوں سے ہے اور تین قسم کے کفاروں میں سے ایک کفارہ قرآن میں روزہ بھی تجویز کیا گیا ہے جو ظاہر ہے کہ ذمیوں کے لیے نہیں ہوسکتا۔ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک یہ احکام ذی اور مسلمان، دونوں کے ظہار پر نافذ ہوں گے، البتہ ذمی کے لیے روزہ نہیں ہے۔ وہ یا غلام آزاد کرے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ج۔ کیا مرد کی طرح عورت بھی ظہار کرسکتی ہے ؟ مثلاً اگر وہ شوہر سے کہے کہ تو میرے لیے میرے باپ کی طرح ہے، یا میں تیرے لیے تیری ماں کی طرح ہوں، تو کیا یہ بھی ظہار ہوگا ؟ آئمہ اربعہ کہتے ہیں کہ یہ ظہار نہیں ہے اور اس پر ظہار کے قانونی احکام کا سرے سے اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں یہ احکام صرف اس صورت کے لیے بیان کیے ہیں جبکہ شوہر بیویوں سے ظہار کریں اَلَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ھِمْاور ظہار کرنے کے اختیارات اسی کو حاصل ہوسکتے ہیں جسے طلاق دینے کا اختیار ہے۔ عورت کو شریعت نے جس طرح یہ اختیار نہیں دیا کہ شوہر کو طلاق دے دے اسی طرح اسے یہ اختیار بھی نہیں دیا کہ اپنے آپ کو شوہر کے لیے حرام کرلے۔ یہ رائے سفیان ثوری، اسحاق بن راہویہ، ابوثور اور لیث بن سعد کی ہے کہ عورت کا ایسا قول بالکل بےمعنی اور بےاثر ہے۔ امام ابویوسف کہتے ہیں کہ یہ ظہار تو نہیں ہے، مگر اس سے عورت پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا کیونکہ عورت کا ایسے الفاظ کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی ہے۔ امام احمد بن حنبل کا مسلک بھی ابن قدامہ نے یہی نقل کیا ہے۔ امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اگر شادی سے پہلے عورت نے یہ بات کہی ہو کہ میں اس شخص سے شادی کروں تو وہ میرے لیے ایسا ہے جیسے میرا باپ، تو یہ ظہار ہوگا اور اگر شادی کے بعد کہے تو یہ قسم کے معنی میں ہوگا جس سے کفارہ ٔ یمین لازم آئے گا۔ بخلاف اس کے حسن بصری، زہری، ابراہیم نخعی اور حسن بن زیاد لولوئی کہتے ہیں کہ یہ ظہار ہے اور ایسا کہنے سے عورت پر کفارہ ٔ ظہار لازم آئے گا، البتہ عورت کو یہ حق نہ ہوگا کہ کفارہ دینے سے پہلے شوہر کو اپنے پاس آنے سے روک دے۔ ابراہیم نخعی اس کی تائید میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ ( رض) کی صاحبزادی عائشہ سے حضرت زبیر کے صاحبزادے مصعب نے نکاح کا پیغام دیا۔ انھوں نے اسے رد کرتے ہوئے یہ الفاظ کہہ دیئے کہ اگر میں ان سے نکاح کروں تو ھُوَ عَلَیَّ کَظَہْرِ اَبِیْ ۔ (وہ میرے اوپر ایسے ہوں جیسے میرے باپ کی پیٹھ) ۔ کچھ مدت بعد وہ ان سے شادی کرنے پر راضی ہوگئیں۔ مدینہ کے علماء سے اس کے متعلق فتویٰ لیا گیا تو بہت سے فقہاء نے جن میں متعدد صحابہ بھی شامل تھے، یہ فتویٰ دیا کہ عائشہ پر کفارہ ظہار لازم ہے۔ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد ابراہیم نخعی اپنی یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ اگر عائشہ یہ بات شادی کے بعد کہتیں تو کفارہ لازم نہ آتا، مگر انھوں نے شادی سے پہلے یہ کہا تھا جب انھیں نکاح کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل تھا اس لیے کفارہ ان پر واجب ہوگیا۔ 3 جو عاقل و بالغ آدمی ظہار کے صریح الفاظ بحالتِ ہوش و حواس زبان سے ادا کرے اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ اس نے غصے میں، یا مذاق مذاق میں، یا پیار سے ایسا کہا، یا یہ کہ اس کی نیت ظہار کی نہ تھی۔ البتہ جو الفاظ اس معاملہ میں صریح نہیں ہیں، اور جن میں مختلف معنوں کا احتمال ہے، ان کا حکم الفاظ کی نوعیت پر منحصر ہے۔ آگے چل کر ہم بتائیں گے کہ ظہار کے صریح الفاظ کون سے ہیں اور غیرصریح کون سے۔ 4 یہ امر متفق علیہ ہے کہ ظہار اس عورت سے کیا جاسکتا ہے جو آدمی کے نکاح میں ہو۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا غیر عورت سے بھی ظہار ہوسکتا ہے، اس معاملہ میں مختلف مسالک یہ ہیں : حنفیہ کہتے ہیں کہ غیر عورت سے اگر آدمی یہ کہے کہ ” میں تجھ سے نکاح کروں تو میرے اوپر تو ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ “ تو جب بھی وہ اس سے نکاح کرے گا کفارہ ادا کیے بغیر اسے ہاتھ نہ لگا سکے گا۔ یہی حضرت عمر ( رض) کا فتویٰ ہے۔ ان کے زمانہ میں ایک شخص نے ایک عورت سے یہ بات کہی اور بعد میں اس سے نکاح کرلیا۔ حضرت عمر ( رض) نے فرمایا اسے کفارہ ظہار دینا ہے۔ مالکیہ اور حنابلہ بھی یہی بات کہتے ہیں، اور وہ اس پر یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اگر عورت کی تخصیص نہ کی گئی ہو بلکہ کہنے والے نے یوں کہا ہو کہ تمام عورتیں میرے اوپر ایسی ہیں، تو جس سے بھی وہ نکاح کرے گا اسے ہاتھ لگانے سے پہلے کفارہ دینا ہوگا۔ یہی رائے سعید بن المسیب، عروہ بن زبیر، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری اور اسحاق بن راہویہ کی ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ظہار بالکل بےمعنی ہے۔ ابن عباس اور قتادہ کی بھی یہی رائے ہے۔ 5 کیا ظہار ایک خاص وقت تک کے لیے ہوسکتا ہے ؟ حنفی اور شافعی کہتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی خاص وقت کی تعیین کرکے ظہار کیا ہو تو جب تک وہ وقت باقی ہے، بیوی کو ہاتھ لگانے سے کفارہ لازم آئے گا اور اس وقت کے گزر جانے پر ظہار غیرمؤثر ہوجائے گا۔ اس کی دلیل سلمہ بن صخر بیاضی کا واقعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی بیوی سے رمضان کے لیے ظہار کیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے ان سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ وقت کی تعیین بےمعنی ہے۔ بخلاف اس کے امام مالک اور ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ظہار جب بھی کیا جائے گا، ہمیشہ کے لیے ہوگا اور وقت کی تخصیص غیرمؤثر ہوگی کیونکہ جو حرمت واقع ہوچکی ہے وہ وقت گزر جانے پر آپ سے آپ ختم نہیں ہوسکتی۔ 6 مشروط ظہار کیا گیا ہو تو جس وقت بھی شرط کی خلاف ورزی ہوگی، کفارہ لازم آجائے گا۔ مثلاً آدمی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ ” اگر میں گھر میں آئوں تو میرے اوپر تو ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ “ اس صورت میں وہ جب بھی گھر میں داخل ہوگا، کفارہ ادا کیے بغیر بیوی کو ہاتھ نہ لگا سکے گا۔ 7 ایک بیوی سے کئی مرتبہ ظہار کے الفاظ کہے گئے ہوں تو حنفی اور شافعی کہتے ہیں کہ خواہ ایک ہی نشست میں ایسا کیا گیا ہو یا متعدد نشستوں میں، بہرحال جتنی مرتبہ یہ الفاظ کہے گئے ہوں اتنے ہی کفارے لازم آئیں گے۔ اِلاَّ یہ کہ کہنے والے نے ایک دفعہ کہنے کے بعد اس قول کی تکرار محض اپنے پہلے قول کی تاکید کے لیے کی ہو۔ بخلاف اس کے امام مالک اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ خواہ کتنی ہی مرتبہ اس قول کی تکرار کی گئی ہو، قطع نظر اس سے کہ اعادہ کی نیت ہو یا تاکید کی، کفارہ ایک ہی لازم ہوگا۔ یہی قول شعبی، طائوس، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، اور اوزاعی رحمہم اللہ کا ہے۔ حضرت علی کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر تکرار ایک نشست میں کی گئی ہو تو ایک یہ کفارہ ہوگا، اور مختلف نشستوں میں ہو تو جتنی نشستوں میں کی گئی ہو اتنے ہی کفارے دینے ہوں گے۔ قتادہ اور عمرو بن دینار کی رائے بھی یہی ہے۔ 8 دو یا زائد بیویوں سے بیک وقت اور بیک لفظ ظہار کیا جائے، مثلاً ان کو مخاطب کرکے شوہر کہے کہ تم میرے اوپر ایسی ہو جیسے میری ماں کی پیٹھ تو حنفیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ ہر ایک کو حلال کرنے کے لیے الگ الگ کفارے دینے ہوں گے۔ یہی رائے حضرت عمر ( رض) ، حضرت علی ( رض) ، عروہ بن زبیر، طائوس، عطاء، حسن بصری، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری اور ابن شہاب زہری کی ہے۔ امام مالک ( رح) اور امام احمد ( رح) کہتے ہیں کہ اس صورت میں سب کے لیے ایک ہی کفارہ لازم ہوگا۔ ربیعہ، اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور ابوثور کی بھی یہی رائے ہے۔ 9 ایک ظہار کا کفارہ دینے کے بعد اگر آدمی پھر ظہار کر بیٹھے تو یہ امر متفق علیہ ہے کہ پھر کفارہ دیئے بغیر بیوی اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔ 0 کفارہ ادا کرنے سے پہلے اگر بیوی سے تعلق زن و شو قائم کر بیٹھا ہو تو آئمہ اربعہ کے نزدیک اگرچہ یہ گناہ ہے اور آدمی کو اس پر استغفار کرنا چاہیے، اور پھر اس کا اعادہ نہ کرنا چاہیے، مگر کفارہ اسے ایک ہی دینا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے ایسا کیا تھا ان سے آپ نے یہ تو فرمایا تھا کہ استغفار کرو اور اس وقت تک بیوی سے الگ رہو جب تک کفارہ ادا نہ کردو، مگر یہ حکم آپ نے نہیں دیا تھا کہ کفارہ ظہار کے علاوہ انھیں کوئی اور کفارہ بھی دینا ہوگا۔ حضرت عمرو بن عاص، قبیصہ بن ذؤیب، سعید بن جبیر، زہری اور قتادہ کہتے ہیں کہ اس پر دو کفارے لازم ہوں گے۔ اور حسن بصری اور ابراہیم نخعی کی رائے یہ ہے کہ تین کفارے دینے ہوں گے۔ غالباً ان حضرات کو وہ احادیث نہ پہنچی ہوں گی جن میں اس مسئلہ پر حضور ﷺ کا فیصلہ بیان ہوا ہے۔ ! بیوی کو کس سے تشبیہ دینا ظہار ہے ؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے : عامر شعبی کہتے ہیں کہ صرف ماں سے تشبیہ ظہار ہے، اور ظاہر یہ کہتے ہیں کہ ماں کی بھی صرف پیٹھ سے تشبیہ ظہار ہے، باقی اور کسی بات پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مگر فقہاء امت میں سے کسی گروہ نے بھی اس سے اس معاملہ میں اتفاق نہیں کیا ہے، کیونکہ قرآن نے ماں سے تشبیہ کو گناہ قرار دینے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ نہایت بےہودہ اور جھوٹی بات ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن عورتوں کی حرمت ماں جیسی ہے ان کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینا بےہودگی اور جھوٹ میں اس سے کچھ مختلف نہیں ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کا حکم وہی نہ ہو جو ماں سے تشبیہ کا حکم ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں اس حکم میں تمام وہ عورتیں داخل ہیں جو نسب یا رضاعت، یا ازدواجی رشتہ کی بنا پر آدمی کے لیے ابداً حرام ہیں۔ مگر وقتی طور پر جو عورتیں حرام ہوں اور کسی وقت حلال ہوسکتی ہوں وہ اس میں داخل نہیں ہیں، جیسے بیوی کی بہن، اس کی خالہ، اس کی پھوپھی، یا غیر عورت جو آدمی کے نکاح میں نہ ہو۔ ابدی محرمات میں سے کسی عورت کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دینا جس پر نظر ڈالنا آدمی کے لیے حلال نہ ہو، ظہار ہوگا۔ البتہ بیوی کے ہاتھ، پائوں، سر، بال، دانت وغیرہ کو ابداً حرام عورت کی پیٹھ سے، یا بیوی کو اس کے سر، ہاتھ، پائوں جیسے اجزائے جسم سے تشبیہ دینا ظہار نہ ہوگا کیونکہ ماں بہن کے ان اعضاء پر نگاہ ڈالنا حرام نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ تیرا ہاتھ میری ماں کے ہاتھ جیسا ہے، یا تیرا پائوں میری ماں کے پائوں جیسا ہے، ظہار نہیں ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ اس حکم میں صرف وہی عورتیں داخل ہیں جو ہمیشہ حرام تھیں اور ہمیشہ حرام رہیں، یعنی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ۔ مگر وہ عورتیں اس میں داخل نہیں ہیں جو کبھی حلال رہ چکی ہوں، جیسے رضاعی ماں، بہن، ساس اور بہو، یا کسی وقت حلال ہوسکتی ہوں، جیسے سالی۔ ان عارضی یا وقتی حرام عورتوں کے ماسوا ابدی حرمت رکھنے والی عورتوں میں سے کسی کے ان اعضا کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینا ظہار ہوگا جن کا ذکر بغرض اظہارِاکرام و توقیر عادۃً نہیں کیا جاتا۔ رہے وہ اعضاء جن کا اظہار اکرام و توقیر کے لیے کیا جاتا ہے تو ان سے تشبیہ صرف اس صورت میں ظہار ہوگی جبکہ یہ بات ظہار کی نیت سے کہی جائے۔ مثلاً بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں کی آنکھ یا جان کی طرح ہے، یا ماں کے ہاتھ، پائوں یا پیٹ کی طرح ہے، یا ماں کے پیٹ یا سینے سے بیوی کے پیٹ یا سینے کو تشبیہ دینا، یا بیوی کے سر، پیٹھ یا ہاتھ کو اپنے لیے ماں کی پیٹھ جیسا قرار دینا، یا بیوی کو یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے، ظہار کی نیت سے ہو تو ظہار ہے اور عزت کی نیت سے ہو تو عزت ہے۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ ہر عورت جو آدمی کے لیے حرام ہو، اس سے بیوی کو تشبیہ دینا ظہار ہے، حتیٰ کہ بیوی سے یہ کہنا بھی ظہار کی تعریف میں آتا ہے کہ تو میرے اوپر فلاں غیر عورت کی پیٹھ جیسی ہے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ ماں اور ابدی محرمات کے کسی عضو سے بیوی کو یا بیوی کے کسی عضو کو تشبیہ دینا ظہار ہے، اور اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اعضاء ایسے ہوں جن پر نظر ڈالنا حلال نہ ہو، کیونکہ ماں کے کسی عضو پر بھی اس طرح کی نظر ڈالنا جیسی بیوی پر ڈالی جاتی ہے، حلال نہیں ہے۔ حنابلہ اس حکم میں تمام ان عورتوں کو داخل سمجھتے ہیں جو ابداً حرام ہوں، خواہ وہ پہلے کبھی حلال رہ چکی ہوں، مثلاً ساس، یا دودھ پلانے والی ماں۔ رہیں وہ عورتیں جو بعد میں کسی وقت حلال ہوسکتی ہوں (مثلاً سالی) ، تو ان کے معاملہ میں امام احمد کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے تشبیہ بھی ظہار ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے تشبیہ ظہار نہیں ہے۔ نیز حنابلہ کے نزدیک بیوی کے کسی عضو کو محرمات کے کسی عضو سے تشبیہ دینا ظہار کی تعریف میں آجاتا ہے۔ البتہ بال، ناخن، دانت جیسے غیرمستقل اجزاء جسم اس حکم سے خارج ہیں۔ @ اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ بیوی سے یہ کہنا کہ ” تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے “ صریح ظہار ہے کیونکہ اہل عرب میں یہ ظہار کا طریقہ تھا اور قرآن مجید کا حکم اس کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ البتہ اس امر میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ دوسرے الفاظ میں سے کون سے ایسے ہیں جو صریح ظہار کے حکم میں ہیں، اور کون سے ایسے ہیں جن کے ظہار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ قائل کی نیت پر کیا جائے گا۔ حنفیہ کے نزدیک ظہار کے صریح الفاظ وہ ہیں جن میں صاف طور پر حلال عورت (بیوی) کو حرام عورت (یعنی محرماتِ ابدیہ میں سے کسی عورت) سے تشبیہ دی گئی ہو، یا تشبیہ ایسے عضو سے دی گئی ہو جس پر نظر ڈالنا حلال نہیں ہے، جیسے یہ کہنا کہ تو میرے اوپر ماں یا فلاں حرام عورت کے پیٹ یا ران جیسی ہے۔ ان کے سوا دوسرے الفاظ میں اختلاف کی گنجائش ہے۔ اگر کہے کہ ” تو میرے اوپر حرام ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ “ تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ صریح ظہار ہے، لیکن امام ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک ظہار کی نیت ہو تو ظہار ہے اور طلاق کی نیت ہو تو طلاق ہے۔ اگر کہے کہ ” تو میری ماں جیسی ہے یا میری ماں کی طرح ہے “ تو حنفیہ کا عام فتویٰ یہ ہے کہ یہ ظہار کی نیت سے ظہار ہے، طلاق کی نیت سے طلاق بائن، اور اگر کوئی نیت نہ ہو تو بےمعنی ہے۔ لیکن امام محمد کے نزدیک یہ قطعی ظہار ہے۔ اگر بیوی کو ماں یا بہن یا بیٹی کہہ کر پکارے تو یہ سخت بےہودہ بات ہے جس پر نبی کریم ﷺ نے غصے کا اظہار فرمایا تھا، مگر اسے ظہار نہیں قرار دیا۔ اگر کہے کہ ” تو میرے اوپر ماں کی طرح حرام ہے “ تو یہ ظہار کی نیت سے ظہار ہے، طلاق کی نیت سے طلاق ہے، اور کوئی نیت نہ ہو تو ظہار ہے۔ اگر کہے کہ ” تو میرے لیے ماں کی طرح یا ماں جیسی ہے ” تو نیت پوچھی جائے گی۔ عزت اور توقیر کی نیت سے کہا ہو تو عزت اور توقیر ہے۔ ظہار کی نیت سے کہا ہو تو ظہار ہے۔ طلاق کی نیت سے کہا ہو تو طلاق ہے۔ کوئی نیت نہ ہو اور یونہی یہ بات کہہ دی ہو تو امام ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک بےمعنی ہے، امام ابویوسف کے نزدیک اس پر ظہار کا تو نہیں مگر قسم کا کفارہ لازم آئے گا، اور امام محمد کے نزدیک یہ ظہار ہے۔ شافعیہ کے نزدیک ظہار کے صریح الفاظ یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے تو میرے نزدیک، یا میرے ساتھ، یا میرے لیے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ یا تو میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ یا تیرا جسم، یا تیرا بدن، یا تیرا نفس میرے لیے میری ماں کے جسم یا بدن یا نفس کی طرح ہے۔ ان کے سوا باقی تمام الفاظ میں قائل کی نیت پر فیصلہ ہوگا۔ حنابلہ کے نزدیک ہر وہ لفظ جس سے کسی شخص نے بیوی کو یا اس کے مستقل اعضاء میں سے کسی عضو کو کسی ایسی عورت سے جو اس کے لیے حرام ہے، یا اس کے مستقل اعضاء میں سے کسی عضو سے صاف صاف تشبیہ دی ہو، ظہار کے معاملہ میں صریح مانا جائے گا۔ مالکیہ کا مسلک بھی قریب قریب یہی ہے، البتہ تفصیلات میں ان کے فتوے الگ الگ ہیں۔ مثلاً کسی شخص کا بیوی سے کہنا کہ ” تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے یا میری ماں کی طرح ہے “ مالکیوں کے نزدیک ظہار کی نیت سے ہو تو ظہار ہے، طلاق کی نیت سے ہو تو طلاق ہے، اور کوئی نیت نہ ہو تو ظہار ہے۔ حنبلیوں کے نزدیک یہ بشرط نیت صرف ظہار قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بیوی سے کہے کہ ” تو میری ماں ہے “ تو مالکیہ کہتے ہیں کہ یہ ظہار ہے اور حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ بات اگر جھگڑے اور غصے کی حالت میں ہی گئی ہو تو ظہار ہے، اور پیار محبت کی بات چیت میں کہی گئی ہو تو گویہ بہت ہی بری بات ہے لیکن ظہار نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کہے ” تجھے طلاق ہے تو میری ماں کی طرح ہے “ تو حنابلہ کے نزدیک یہ طلاق ہے نہ کہ ظہار، اور اگر کہے ” توی میری ماں کی طرح ہے تجھے طلاق ہے “ تو ظہار اور طلاق دونوں واقع ہوجائیں گے۔ یہ کہنا کہ ” تو میرے اوپر ایسی حرام ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ “ مالکیہ اور حنابلہ دونوں کے نزدیک ظہار ہے خواہ طلاق ہی کی نیت سے یہ الفاظ کہے گئے ہوں، یا نیت کچھ بھی ہو۔ الفاظِ ظہار کی اس بحث میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فقہاء نے اس بات میں جتنی بحثیں کی ہیں وہ سب عربی زبان کے الفاظ اور محاورات سے تعلق رکھتی ہیں، اور ظاہر ہے کہ دنیا کی دوسری زبانیں بولنے والے نہ عربی زبان میں ظہار کریں گے، نہ ظہار کرتے وقت عربی الفاظ اور فقروں کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ زبان سے ادا کریں گے۔ اس لیے کسی لفظ یا فقرے کے متعلق اگر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ ظہار کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں، تو اسے اس لحاظ سے نہیں جانچنا چاہیے کہ وہ فقہاء کے بیان کردہ الفاظ میں سے کس کا صحیح ترجمہ ہے، بلکہ صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قائل نے بیوی کو جنسی (Sexual) تعلق کے لحاظ سے محرمات میں سے کسی کے ساتھ صاف صاف تشبیہ دی ہے یا اس کے الفاظ میں دوسرے مفہومات کا بھی احتمال ہے ؟ اس کی نمایاں ترین مثال خود وہ فقرہ ہے جس کے متعلق تمام فقہاء اور مفسرین کا اتفاق ہے کہ عرب میں ظہار کے لیے وہی بولا جاتا تھا اور قرآن مجید کا حکم اسی کے بارے میں نازل ہوا ہے، یعنی اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمِّیْ (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں، اور کم از کم اردو کی حد تک تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس زبان میں کوئی ظہار کرنے والا ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتا جو اس عربی فقرے کا لفظی ترجمہ ہوں۔ البتہ وہ اپنی زبان کے ایسے الفاظ ضرور استعمال کرسکتا ہے جن کا مفہوم ٹھیک وہی ہو جسے ادا کرنے کے لیے ایک عرب یہ فقرہ بولا کرتا تھا۔ اس کا مفہوم یہ تھا کہ ” تجھ سے مباشرت میرے لیے ایسی ہے جیسے اپنی ماں سے مباشرت “ یا جیسے بعض جہلا بیوی سے کہہ بیٹھتے ہیں کہ ” تیرے پاس آئوں تو اپنی ماں کے پاس جاؤں۔ “ # قرآن مجید میں جس چیز کو کفارہ لازم آنے کا سبب قرار دیا گیا ہے وہ محض ظہار نہیں ہے بلکہ ظہار کے بعد ” عود “ ہے۔ یعنی اگر آدمی صرف ظہار کرکے رہ جائے اور عود نہ کرے تو اس پر کفارہ لازم نہیں آتا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ عود کیا ہے جو کفارہ کا موجب ہے ؟ اس بارے میں فقہاء کے مسالک یہ ہیں : حنفیہ کہتے ہیں کہ عود سے مراد مباشرت کا ارادہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محض ارادے اور خواہش پر کفارہ لازم آجائے، حتیٰ کہ اگر آدمی ارادہ کرکے رہ جائے اور عملی اقدام نہ کرے تب بھی اسے کفارہ دینا پڑے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس حرمت کو رفع کرنا چاہے جو اس نے ظہار کرکے بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو کے معاملہ میں اپنے اوپر عائد کرلی تھی وہ پہلے کفارہ دے، کیونکہ یہ حرمت کفارہ کے بغیر رفع نہیں ہوسکتی۔ امام مالک ( رح) کے اس معاملہ میں تین قول ہیں، مگر مالکیہ کے ہاں ان کا مشہور ترین اور صحیح ترین قول اس مسلک کے مطابق ہے جو اوپر حنفیہ کا بیان ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ظہار سے جس چیز کو اس نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا وہ بیوی کے ساتھ مباشرت کا تعلق تھا۔ اس کے بعد عود یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ یہی تعلق رکھنے کے لیے پلٹے۔ امام حمد بن حنبل ( رح) کا مسلک بھی ابن قدامہ نے قریب قریب وہی نقل کیا ہے جو اوپر دونوں اماموں کا بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ظہار کے بعد مباشرت کے حلال ہونے کے لیے کفارہ شرط ہے۔ ظہار کرنے والا جو شخص اسے حلال کرنا چاہے وہ گویا تحریم سے پلٹنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے حکم دیا گیا کہ اسے حلال کرنے سے پہلے کفارہ دے، ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی شخص ایک غیر عورت کو اپنے لیے حلال کرنا چاہے تو اس سے کہا جائے گا کہ اسے حلال کرنے سے پہلے نکاح کرے۔ امام شافعی ( رح) کا مسلک ان تینوں سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد اسے حسب سابق بیوی بنائے رکھنا یا بالفاظِ دیگر اسے بیوی کی حیثیت سے روکے رکھنا عود ہے۔ کیونکہ جس وقت اس نے ظہار کیا اسی وقت گویا اس نے اپنے لیے یہ بات حرام کرلی کہ اسے بیوی بنا کر رکھے۔ لہٰذا اگر اس نے ظہار کرتے ہی فوراً اسے طلاق نہ دی اور اتنی دیر تک اسے روکے رکھا جس میں وہ طلاق کے الفاظ زبان سے نکال سکتا تھا، تو اس نے عود کرلیا اور اس پر کفارہ واجب ہوگیا۔ اس کے معنی یہ ہے کہ ایک سانس میں ظہار کرنے کے بعد اگر آدمی دوسرے ہی سانس میں طلاق نہ دے دے تو کفارہ لازم آجائے گا، خواجہ بعد میں اس کا فیصلہ یہی ہو کہ اس عورت کو بیوی بنا کر نہیں رکھنا ہے، اور اس کا کوئی ارادہ اس کے ساتھ تعلق زن و شو رکھنے کا نہ ہو۔ حتیٰ کہ چند منٹ غور کرکے وہ بیوی کو طلاق بھی دے ڈالے تو امام شافعی ( رح) کے مسلک کی رو سے کفارہ اس کے ذمہ لازم رہے گا۔ ۔ قرآن کا حکم ہے کہ ظہار کرنے والا کفارہ دے قبل اس کے کہ زوجین ایک دوسرے کو ” مس “ کریں۔ آئمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں مس سے مراد چھونا ہے، اس لیے کفارہ سے پہلے صرف مباشرت ہی حرام نہیں ہے بلکہ شوہر کسی طرح بھی بیوی کو چھو نہیں سکتا۔ شافعیہ شہوت کے ساتھ چھونے کو حرام کہتے ہیں، حنابلہ ہر طرح کے تلذُّذ کو حرام قرار دیتے ہیں، اور مالکیہ لذت کے لیے بیوی کے جسم پر بھی نظر ڈالنے کو ناجائز ٹھہراتے ہیں اور ان کے نزدیک صرف چہرے اور ہاتھوں پر نظر ڈالنا اس سے مستثنیٰ ہے۔ % ظہار کے بعد اگر آدمی بیوی کو طلاق دے دے تو رجعی طلاق ہونے کی صورت میں رجوع کرکے بھی وہ کفارہ دیئے بغیر اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ بائن ہونے کی صورت میں اگر اس سے دوبارہ نکاح کرے تب بھی اسے ہاتھ لگانے سے پہلے کفارہ دینا ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر تین طلاق دے چکا ہو، اور عورت دوسرے آدمی سے نکاح کرنے کے بعد بیوہ یا مطلقہ ہوچکی ہو، اور اس کے بعد ظہار کرنے والا شوہر اس سے ازسرنو نکاح کرلے، پھر بھی کفارے کے بغیر وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔ کیونکہ وہ اسے ماں یا محرمات سے تشبیہ دے کر اپنے اوپر ایک دفعہ حرام کرچکا ہے اور یہ حرمت کفارے کے بغیر رفع نہیں ہوسکتی۔ اس پر آئمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔ ^ عورت کے لیے لازم ہے کہ جس شوہر نے اس کے ساتھ ظہار کیا ہے اسے ہاتھ نہ لگانے دے جب تک وہ کفارہ ادا نہ کرے۔ اور چونکہ تعلق زن و شو عورت کا حق ہے جس سے ظہار کرکے شوہر نے اسے محروم کیا ہے، اس لیے اگر وہ کفارہ نہ دے تو بیوی عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ عدالت اس کے شوہر کو مجبور کرے گی کہ وہ کفارہ دے کر حرمت کی وہ دیوار ہٹائے جو اس نے اپنے اور اس کے درمیان حائل کرلی ہے۔ اور اگر وہ نہ مانے تو عدالت اسے ضرب یا قید یا دونوں طرح کی سزائیں دے سکتی ہے۔ یہ بات بھی چاروں مذاہبِ فقہ میں متفق علیہ ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ مذہب حنفی میں عورت کے لیے صرف یہی ایک چارہ ٔ کار ہے، ورنہ ظہار پر خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے عورت کو اگر عدالت اس مشکل سے نہ نکالے تو وہ تمام عمر معلق رہے گی، کیونکہ ظہار سے نکاح ختم نہیں ہوتا، صرف شوہر کا حق تمتع سلب ہوتا ہے۔ مالکی مذہب میں اگر شوہر عورت کو ستانے کے لیے ظہار کرکے معلق چھوڑ دے تو اس پر ایلاء کے احکام جاری ہوں گے یعنی وہ چار مہینے سے زیادہ عورت کو روک کر نہیں رکھ سکتا۔ (احکامِ ایلاء کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرۃ، حواشی 245 تا 247) شافعیہ کے نزدیک اگرچہ ظہار میں احکام ایلاء تو صرف اس وقت جاری ہوسکتے ہیں جبکہ شوہر نے ایک مدت خاص کے لیے ظہار کیا ہو اور وہ مدت چار مہینے سے زیادہ ہو، لیکن چونکہ مذہب شافعی کی رو سے شوہر پر اسی وقت کفارہ واجب ہوجاتا ہے جب وہ عورت کو بیوی بنا کر رکھے رہے، اس لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ کسی طویل مدت تک اس کو معلق رکھے۔ قرآن اور سنت میں تصریح ہے کہ ظہار کا پہلا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے۔ اس سے آدمی عاجز ہو تب دو مہینے کے روزوں کی شکل میں کفارہ دے سکتا ہے۔ اور اس سے بھی عاجز ہو تب 60 مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے۔ لیکن اگر تینوں کفاروں سے کوئی شخص عاجز ہو تو چونکہ شریعت میں کفارے کی کوئی اور شکل نہیں رکھی گئی ہے اس لیے اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک وہ ان میں سے کسی ایک پر قادر نہ ہوجائے۔ البتہ سنت سے یہ ثابت ہے کہ ایسے شخص کی مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ تیسرا کفارہ ادا کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے بیت المال سے ایسے لوگوں کی مدد فرمائی ہے جو اپنی غلطی سے اس مشکل میں پھنس گئے تھے اور تینوں کفاروں سے عاجز تھے۔ قرآن مجید کفارہ میں رقبہ آزاد کرنے کا حکم دیتا ہے جس کا اطلاق لونڈی اور غلام دونوں پر ہوتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ شیرخوار بچہ بھی اگر غلامی کی حالت میں ہو تو اسے آزاد کردینا کفارہ کے لیے کافی ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مومن اور کافر، دونوں قسم کے غلام آزاد کیے جاسکتے ہیں یا صرف مومن غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔ حنفیہ اور ظاہریہ کہتے ہیں کہ غلام خواہ مومن ہو یا کافر، اس کا آزاد کردینا کفارہ ظہار کے لیے کافی ہے، کیونکہ قرآن میں مطلق رقبہ کا ذکر ہے، یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ مومن ہی ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ اس کے لیے مومن کی شرط لگاتے ہیں، اور انھوں نے اس حکم کو ان دوسرے کفاروں پر قیاس کیا ہے جن میں رقبہ کے ساتھ قرآن مجید میں مومن کی قید لگائی گئی ہے۔ ( غلام نہ پانے کی صورت میں قرآن کا حکم ہے کہ ظہار کرنے والا مسلسل دو مہینے کے روزے رکھے قبل اس کے کہ زوجین ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اس فرمانِ الٰہی پر عمل کرنے کی تفصیلات مختلف فقہی مذاہب میں حسب ذیل ہیں : الف۔ اس امر پر اتفاق ہے کہ مہینوں سے مراد ہلالی مہینے ہیں۔ اگر طلوع ہلال سے روزوں کا آغاز کیا جائے تو دو مہینے پورے کرنے ہوں گے۔ اگر بیچ میں کسی تاریخ سے شروع کیا جائے تو حنفیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ 60 روزے رکھنے چاہئیں اور شافعیہ کہتے ہیں کہ پہلے اور تیسرے مہینے میں مجموعی طور پر 30 روزے رکھے اور بیچ کا ہلالی مہینہ خواہ 29 کا ہو یا 30 کا، اس کے روزے رکھ لینے کافی ہیں۔ ب۔ حنفیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ روزے ایسے وقت شروع کرنے چاہئیں جبکہ بیچ میں نہ رمضان آئے نہ عیدین نہ یوم النحر اور ایام تشریق، کیونکہ کفارہ کے روزے رکھنے کے دوران میں رمضان کے روزے رکھنے اور عیدین اور یوم النحر اور ایام تشریق کے روزے چھوڑنے سے دو مہینے کا تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے پڑیں گے۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ بیچ میں رمضان کے روزے رکھنے اور حرام دنوں کے روزے نہ رکھنے سے تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ ج۔ دو مہینوں کے دوران میں خواہ آدمی کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑے یا بلاعذر، دونوں صورتوں میں حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ یہی رائے امام محمد باقر، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر اور سفیان ثوری کی ہے۔ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک مرض یا سفر کے عذر سے بیچ میں روزہ چھوڑا جاسکتا ہے اور اس سے تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ البتہ بلاعذر روزہ چھوڑ دینے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ کفارہ کے روزے رمضان کے فرض روزوں سے زیادہ موکد نہیں ہیں۔ جب ان کو عذر کی بنا پر چھوڑا جاسکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو نہ چھوڑا جاسکے۔ یہی قول حضرت عبداللہ بن عباس، حسن بصری، عطاء بن ابی رباح، سعید بن المسیب، عمرو بن دینار، شعبی، طائوس، مجاہد، اسحاق بن راہویہ، ابوعبید اور ابوثور کا ہے۔ د۔ دو مہینوں کے دوران میں اگر آدمی اس بیوی سے مباشرت کر بیٹھے جس سے اس نے ظہار کیا ہو تو تمام آئمہ کے نزدیک اس سے تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے کیونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ) قرآن اور سنت کی رو سے تیسرا کفارہ (یعنی 60 مسکینوں کا کھانا) وہ شخص دے سکتا ہے جو دوسرے کفارے (دو مہینے کے مسلسل روزوں) کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ اس حکم پر عملدرآمد کرنے کے لیے فقہاء نے جو تفصیلی احکام مرتب کیے ہیں وہ حسب ذیل ہیں : الف۔ آئمہ اربعہ کے نزدیک روزوں پر قادر نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی یا تو بڑھاپے کی وجہ سے قادر نہ ہو، یا مرض کے سبب سے، یا اس سبب سے کہ وہ مسلسل دو مہینے تک مباشرت سے پرہیز نہ کرسکتا ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ اس دوران میں کہیں بےصبری نہ کر بیٹھے۔ ان تینوں عذرات کا صحیح ہونا ان احادیث سے ثابت ہے جو اوس بن صامت انصاری اور سلمہ بن صخر بیاضی کے معاملہ میں وارد ہوئی ہیں۔ البتہ مرض کے معاملہ میں فقہاء کے درمیان تھوڑا سا اختلاف ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ مرض کا عذر اس صورت میں صحیح ہوگا جبکہ یا تو اس کے زائل ہونے کی امید نہ ہو، یا روزوں سے مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر روزوں سے ایسی شدید مشقت لاحق ہوتی ہو جس سے آدمی کو یہ خطرہ ہو کہ دو مہینے کے دوران میں کہیں سلسلہ منقطع نہ کرنا پڑے تو یہ عذر بھی صحیح ہوسکتا ہے۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ اگر آدمی کا گمان غالب یہ ہو کہ وہ مستقبل میں روزہ رکھنے کے قابل ہوسکے گا تو انتظار کرے اور اگر گمان غالب اس قابل نہ ہوسکنے کا ہو تو مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ روزے سے مرض بڑھ جانے کا اندیشہ بالکل کافی عذر ہے۔ ب۔ کھانا صرف ان مساکین کو دیا جاسکتا ہے جن کا نفقہ آدمی کے ذمہ واجب نہ ہوتا ہو۔ ج۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ کھانا مسلمان اور ذمی، دونوں قسم کے مساکین کو دیا جاسکتا ہے، البتہ حربی اور مستامن کفار کو نہیں دیاجاسکتا۔ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ صرف مسلمان مساکین ہی کو دیاجاسکتا ہے۔ د۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ کھانا دینے سے مراد دو وقت کا پیٹ بھر کھانا دینا ہے۔ البتہ کھانا دینے کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ دو وقت کی شکم سیری کے قابل غلہ دے دینا، یا کھانا پکا کردو وقت کھلا دینا، دونوں یکساں صحیح ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں اطعام کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی خوراک دینے کے بھی ہیں اور کھلانے کے بھی۔ مگر مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ پکا کر کھلانے کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ غلہ دے دینا ہی ضروری قرار دیتے ہیں۔ غلہ دینے کی صورت میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ وہ غلہ دینا چاہیے جو اس شہر یا علاقے کے لوگوں کی عام غذا ہو۔ اور سب مسکینوں کو برابر دینا چاہیے۔ ھ۔ حنفیہ کے نزدیک اگر ایک ہی مسکین کو 60 دن رات کھانا دیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے، البتہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک ہی دن اسے 60 دنوں کی خوراک دے دی جائے۔ لیکن باقی تینوں مذاہب ایک مسکین کو دینا صحیح نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک 60 ہی مساکین کو دینا ضروری ہے۔ اور یہ بات چاروں مذاہب میں جائز نہیں ہے کہ 60 آدمیوں کو ایک وقت کی خوراک اور دوسرے 60 آدمیوں کو دوسرے وقت کی خوراک دی جائے۔ و۔ یہ بات چاروں مذاہب میں سے کسی میں جائز نہیں ہے کہ آدمی 30 دن کے روزے رکھے اور 30 مسکینوں کو کھانا دے۔ دو کفارے جمع نہیں کیے جاسکتے۔ روزے رکھنے ہوں تو پورے دو مہینوں کے مسلسل رکھنے چاہئیں۔ کھانا کھلانا ہو تو 60 مسکینوں کو کھلایا جائے۔ ز۔ اگرچہ قرآن مجید میں کفارہ ٔ طعام کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں کہ یہ کفارہ بھی زوجین کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ادا ہونا چاہیے لیکن فحوائے کلام اس کا مقتضی ہے کہ اس تیسرے کفارے پر بھی اس قید کا اطلاق ہوگا۔ اسی لیے آئمہ اربعہ نے اس کو جائز نہیں رکھا ہے کہ کفارہ ٔ طعام کے دوران میں آدمی بیوی کے پاس جائے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ جو شخص ایسا کر بیٹھے اس کے متعلق حنابلہ یہ حکم دیتے ہیں کہ اسے ازسرنو کھانا دینا ہوگا۔ اور حنفیہ اس معاملہ میں رعایت کرتے ہیں، کیونکہ اس تیسرے کفارے کے معاملے میں مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا کی صراحت نہیں ہے اور یہ چیز رعایت کی گنجائش دیتی ہے۔ یہ احکام فقہ کی حسب ذیل کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں : فقہ حنفی : ہدایہ۔ فتح القدیر۔ بدائع الصنائع۔ احکام القرآن للجصاص۔ فقہ شافعی : المنہاج للنووی مع شرح مغنی المحتاج۔ تفسیر کبیر۔ فقہ مالکی : حاشیۃ الدُّسُوقیِ علی الشرح الکبیر۔ ہدایۃ المجتہد۔ احکام القرآن ابن عربی۔ فقہ حنبلی : المغنی لابن قدامہ۔ فقہ ظاہری : المُحَلّٰی لابن حزم۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا سمجھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ میں مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم میں اور نہ زیادہ میں، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں وہ ہوں، پھر وہ انھیں قیامت کے دن آگاہ کرے گا کہ انھوں نے کیا کچھ کیا ہے، بیشک اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَایَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُہُمْ وَلاَخَمْسَۃٍ اِلاَّ ھُوَ سَادِسُھُمْ وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلاَّ ھُوَ مَعَھُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا ج ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 7) (کیا سمجھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ میں مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم میں اور نہ زیادہ میں، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں وہ ہوں، پھر وہ انھیں قیامت کے دن آگاہ کرے گا کہ انھوں نے کیا کچھ کیا ہے، بیشک اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا ہے۔ ) نجویٰ ، اسم مصدر ہے۔ صاحب لسان العرب کی رائے کے مطابق دو آدمیوں کے رازداری سے بات کرنے کو نجویٰ کہتے ہیں۔ اردو زبان میں اسی کے لیے سرگوشی کا لفظ مروج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت سے منافقین کو تنبیہ اوپر کی آیت سے یہ مضمون چلا آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور ہر بھید سے باخبر ہے۔ کوئی شخص ہزار کوشش سے بھی اس سے کسی بات کو چھپا نہیں سکتا۔ دنیا میں بعض باتوں پر پردہ پڑا ہوا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق تمام لوگوں کو بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے رہے ہو۔ کرنے والے بیشک اپنے کرتوتوں کو بھول چکے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کسی بات کو نہیں بھولتا، وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ چناچہ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ منافقین اور یہود جو آپ کی مجلسوں میں آتے اور بظاہر اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہیں، یہ نہ جانے اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ جب اللہ تعالیٰ ہر بات کو جانتا ہے اور زمین و آسمان میں کوئی بات اس سے مخفی نہیں تو کیا وہ ان کی سرگوشیوں کو نہیں جانتا۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ سرگوشیاں کرنے والے دو ہوں تو تیسرا ان میں اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ چار یا پانچ ہوں تو چھٹی اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے۔ اس سے کم و بیش ہوں تو جب بھی ان کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے دور نہیں ہوتی۔ وہ جہاں بھی ہوں اور جس حال میں بھی ہوں اللہ تعالیٰ ان کے پاس ہوتا ہے۔ پاس ہونے سے یہ مراد نہیں کہ اس کا کوئی جسم ہے اور وہ وہیں کہیں قریب چھپ کر ان کی باتیں سنتا رہا ہے۔ بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ وہ ہر وقت علیم وخبیر ہے، سمیع وبصیر ہے۔ کائنات کی کوئی بات اس سے مخفی نہیں، تو ان کی باتیں اس سے کیسے مخفی ہوسکتی ہیں ؟ یہ الگ بات ہے کہ دنیا میں اپنے رسول کی معرفت کبھی کسی بات کو ظاہر کردیتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ لیکن قیامت کے دن ان کو بتائے گا کہ وہ مسلمانوں میں گھلے ملے ہونے کے باوجود مسلمانوں کیخلاف کیا سرگوشیاں کرتے تھے، کیا منصوبے بناتے اور کیا سازشیں تیار کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان منافقین نے اپنے گروہ اور دھڑے بنا رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی مجلسوں میں جاتے تاکہ ان کے نفاق پر پردہ پڑا رہے۔ لیکن ان مجلسوں میں بھی ان کی دھڑے بندی جاری رہتی۔ وہ ہمیشہ ایک ساتھ مل کر بیٹھتے اور دبی زبان میں جس کی آواز دوسروں تک نہ پہنچ سکے آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر تبصرے جاری رکھتے۔ کبھی مسلمانوں کے معمولات پر رائے زنی کرتے اور کبھی بعض مسلمانوں کو اپنی نگاہوں کا ہدف بنا کر پریشان کرتے۔ آنحضرت ﷺ اپنی کریم النفسی کے باعث بہت کم ان سے تعرض کرتے۔ لیکن مسلمان ان کی وجہ سے مستقل پریشانی میں تھے۔ اور یہ آنحضرت ﷺ کے بلند اخلاق سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جارہے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یہ لوگ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو وہ آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں بھیجا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے، اس میں داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نُھُوْا عَنِ النَّجْوٰی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَیَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ ز وَاِذَا جَآئُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ لا وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ ط حَسْبُہُمْ جَھَنَّمُ ج یَصْلَوْنَہَا ج فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (المجادلۃ : 8) (کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جارہے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یہ لوگ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو وہ آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں بھیجا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے، اس میں داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ) نجویٰ سے منافقین کا مقصد معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ( رض) نے منافقین کی اس حرکت کی آنحضرت ﷺ سے شکایت کی۔ آپ نے انھیں سرگوشیاں کرنے سے روک دیا لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا انھوں نے نہ صرف اپنا طرزعمل جاری رکھا بلکہ اس میں اور اضافہ ہوگیا۔ تب پروردگار نے پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا نوٹس لیا۔ مسلمان اب تک صرف ان کی اشارہ بازی کو دیکھتے اور ان کے سر جوڑ کر بیٹھنے سے پریشان ہوتے تھے کہ یہ ضرور مسلمانوں ہی کیخلاف کوئی منصوبہ بندی کررہے ہوں گے۔ لیکن وہ چونکہ اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے تھے اس لیے یقینی طور پر ان کے بارے میں کوئی بات کہنا مناسب نہ تھا۔ اس لیے پروردگار نے ان کے راز کو افشا کردیا اور ساتھ ہی منافقین پر بھی یہ بات واضح کردی کہ تم جو باتیں سرگوشیوں میں کرتے ہو، ہم چونکہ انھیں سنتے ہیں اس لیے ہم ان سے آگاہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان منافقین کی سرگوشیاں گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اِثم حق تلفی کو کہتے ہیں اور عدوان ہر طرح کی تعدی اور تجاوز کو۔ لیکن جب ان دونوں کا ایک ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس میں گناہ کی تمام اقسام شامل ہوجاتی ہیں۔ یعنی ان لوگوں میں نہ ایمان ہے نہ اخلاق۔ یہ ہر طرح کی باتیں کرتے اور ہر بری سے بری بات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن ان کا اصل ہدف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی نافرمانی کا ارتکاب کیا جائے اور مسلمانوں میں کسی طرح اس کی تخم ریزی کی جائے۔ اس کے بعد اس کی ایک مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کی جسارت کا عالم یہ ہے کہ جب اے پیغمبر یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو آکر سلام کہنے کی بجائے جس سے مراد سلامتی کی دعا ہوتی ہے۔ سلام کے لفظ کو بگاڑ کر اس طرح کہتے ہیں کہ وہ سلامتی کی بجائے موت کے مفہوم میں تبدیل ہوجاتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ آپ پر سلامتی اور رحمت بھیجتا ہے اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجیں۔ لیکن ان بدبختوں کا طریقہ یہ تھا اور اس میں یہود اور منافقین دونوں شامل تھے کہ آنحضرت ﷺ سے دبی زبان میں کہتے السام علیکم، جس کا معنی ہے تمہیں موت آئے۔ اور اس لفظ کو اس طرح ادا کرتے کہ سننے والا غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک روز انھوں نے اسی طرح آنحضرت ﷺ کو سلام کیا، یعنی انھوں نے سلام کی بجائے سام کہا۔ حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا وعلیکم، (اور تم پر بھی) ۔ حضرت عائشہ ( رض) کہیں سن رہیں تھیں، ان سے برداشت نہ ہوسکا، غصہ سے فرمایا السام علیکم، ولعنکم اللہ، وغضب علیکم۔ ” موت تمہیں آئے، اور تم پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے۔ “ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا : مہلاً یاعائشہ، علیک بالرفق وایاک والعنف والفحش ” اے عائشہ ! صبر کرو، نرمی سے پیش آئو، اور بدکلامی نہ کرو۔ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ نے غور نہیں فرمایا انھوں نے کیا کہا ؟ فرمایا میں نے جواب میں کہہ دیا۔ وعلیکم، اور تم پر بھی موت آئے۔ اس طرح سے وہ ذات رسالت مآب کو دبی زبان میں بدزبانی کا نشانہ بنا کر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے اور درپردہ کوشش یہ ہوتی کہ آپ کی مرکزیت کو مجروح کیا جائے اور مسلمانوں کی آپ سے وابستگی کو جہاں تک ممکن ہوسکے ہلکا کیا جائے۔ اور آنحضرت ﷺ کی تربیت سے جو ایک عظیم امت تیار ہورہی ہے اس کے شیرازے کو پراگندہ کیا جائے۔ اور پھر اپنی اس روش کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کیخلاف آپس میں ایک دلیل کے طور پر پیش کرتے کہ دیکھو ہم انھیں سلام کی بجائے بددعا دیتے ہیں، لیکن ان کو پتہ تک نہیں چلتا۔ اور اگر چلتا بھی ہے تو ہمارا آج تک کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے نبی کی توہین کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ اگر یہ سچے نبی ہوتے تو ہمیں ہماری گستاخی کی سزا ضرور ملتی اور ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجاتا۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ صاحب اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی اس بات کو افشا کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم دنیا میں اگر لوگوں کی بداعمالیوں کی سزا دینے لگتے تو کوئی کافر اور منافق زمین پر زندہ نظر نہ آتا۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرتے اس لیے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے، دارالجزاء نہیں۔ قیامت کے دن ہم انھیں پکڑیں گے، وہاں انھیں ان کی بداعمالیوں اور گستاخیوں کی سزا کے طور پر جہنم میں ڈالیں گے اور وہ اتنی بڑی سزا ہے کہ اس سے بڑھ کر سزا کا کوئی تصور ممکن نہیں۔ وہ ایسا برا ٹھکانہ ہے کہ اس سے زیادہ کسی اور بدتر ٹھکانے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں کوئی خفیہ مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو، اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم جمع کیے جائو گے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ط وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 9) (اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں کوئی خفیہ مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو، اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم جمع کیے جاؤ گے۔ ) نجویٰ ایک اجتماعی ضرورت ہے لیکن اس کا مقصد پاکیزہ ہونا چاہیے منافقین پر تنقید کے بعد مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ آپس میں رازداری کی باتیں اور سرگوشیاں کرنا کوئی بری بات نہیں بلکہ یہ اجتماعی زندگی کی ضرورت ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ بعض معاملات میں کچھ ذمہ دار لوگوں کو الگ تھلگ بیٹھ کر مشاورت کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ ادارے جو باہمی مشاورت ہی کے لیے بنائے جاتے ہیں ان میں بھی بعض مسائل پر کھلی بحث نہیں ہوتی، کیونکہ بعض معاملات کی ہر بات ہر شخص کے سمجھ میں آنے والی نہیں ہوتی۔ لازماً اس میں سے کچھ چیدہ چیدہ لوگ الگ بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں اور کسی ایک نتیجے پر پہنچ کر باقی سب کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ باہمی مشاورت اور رازداری کی باتیں کوئی برائی نہیں، برائی صرف یہ ہے کہ اس رازداری کو خیر کا واسطہ بنانے کی بجائے شر کا واسطہ بنایا جائے، جیسا منافقین کرتے تھے۔ ان کے یہاں نجویٰ اور سرگوشی، گناہ تعدی اور معصیتِ رسول کے مقصد سے ہوتی تھی۔ اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ کی سرگوشیاں بھلائی اور نیکی کے لیے ہونی چاہئیں۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مستحضر رکھ کر باہمی مشاورت ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہوگا تو آدمی ہرحال میں ایسی بات کہے گا جس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کرسکے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں کو غم پہنچائے، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ ان کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیْسَ بِصَآرِّھِمْ شَیْئًا اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 10) (یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں کو غم پہنچائے، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ ان کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ) مسلمانوں کو تسلی اس میں ان مخلص مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو منافقین کی سرگوشیوں سے بعض دفعہ پریشان ہوجاتے تھے، اور وہ چونکہ بار بار انھیں اپنی نگاہوں کا ہدف بنائے رکھتے تھے اس لیے انھیں گمان ہوتا کہ شاید وہ ہمارے خلاف کوئی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ منافقین اور یہود کی اس طرح کی سرگرمیاں شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ ہے۔ اور شیطان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ وہ آپ کے دلوں میں رنج اور ملال پیدا کردے۔ اس سے زیادہ ضرر پہنچانا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کسی بات کا حکم نہیں دیتا اس وقت تک وہ بات وجود میں نہیں آسکتی۔ اس لیے اہل ایمان کو چاہیے کہ جو کچھ منافقین کررہے ہیں وہ چونکہ شیطانی اثرات ہیں اس لیے ان کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور اس کے بھیجے ہوئے دین پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنا کام جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل ایک ایسی ڈھال ہے جس پر شیطان کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوتا۔ بلاشبہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع پیش آتے ہیں جب نجویٰ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لیے بجائے خود اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں، لیکن بعض دفعہ اگر اس میں احتیاط نہ برتی جائے تو باہمی غلط فہمیوں کا باعث بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں جو آداب مجلس کی تعلیم دی ہے اس میں واضح طور پر ارشاد فرمایا اذاکان ثلثۃ فلایتنا جی اثنان دون الواحد۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے جسے صحیحین نے روایت کیا ہے اذا کنتم ثلاثۃ فلاینتاجی اثنان دون الاخر حتی تختلطوا بالناس من اجل ان یحزنہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم تین آدمی بیٹھے ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو مشورہ نہ کرنے لگ جاؤ، کیونکہ یہ تیسرے آدمی کے لیے باعث رنج ہوگا، یعنی وہ یہ خیال کرے گا کہ ان دونوں نے مجھے بیگانہ سمجھا ہے یا ان کی نظروں میں میری کوئی عزت نہیں۔