58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsروح القرآن

Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو، تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو، تو اٹھ جایا کرو، اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، درجات بلند فرمائے گا اور اللہ اس چیز سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَـکُمْ ج وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْـکُمْ لا وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (المجادلۃ : 11) (اے ایمان والو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو، تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ، تو اٹھ جایا کرو، اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، درجات بلند فرمائے گا اور اللہ اس چیز سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے۔ ) مجلسی آداب کی تعلیم پیشِ نظر آیت کریمہ میں مسلمانوں کی مجالس میں آنے والوں اور پہلے سے موجود لوگوں کو کچھ آداب سکھائے گئے ہیں۔ جن کا لحاظ کرنے سے ایک مجلس حقیقی آداب کی نمائندہ بن جاتی ہے اور جنھیں نظرانداز کرنے سے اچھی بھلی مجلس مچھلی منڈی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس لیے جماعتِ مسلمین کو جو ہر لحاظ سے تربیت کے مراحل سے گزر رہی تھی اور انھیں عبادات کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کی ہر بات کی تعلیم بھی دی جارہی تھی۔ باہمی میل جول اور اٹھنے بیٹھنے کے آداب بھی سکھائے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے سرگوشیوں کے حوالے سے جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے ان کا تعلق بھی مجلسی زندگی سے تھا۔ لیکن اس سے ہمیں ایک خاص ہدایت ملتی ہے وہ یہ کہ یہاں آیت کریمہ میں اگرچہ لفظ مجالس کا آیا ہے جو مجلس کی جمع ہے لیکن مقصود اس سے مجلسِ نبوی ہے۔ رہی یہ بات کہ پھر جمع کا لفظ کیوں آیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح تمام مساجد مسجد ِنبوی کی اولاد ہیں اس لحاظ سے لفظ جمع بھی بولا جائے تو مسجدِنبوی اس میں شامل ہوتی ہے۔ اور اگر صرف مسجد کا لفظ بولا جائے تو تمام مساجد اس سے مراد ہوتی ہیں۔ یہاں بھی یہی مراد ہے۔ یہاں جو ہدایات دی جارہی ہیں وہ مجلسِ نبوی کے حوالے سے ہیں لیکن باقی مسلمانوں کی مجالس بھی اسی کا عکس اور پرتو ہوں گی۔ اور پھر یہ مجلسیں ہی تھیں جن میں منافقین کو اپنے خبث باطن کا اظہار کرنے اور اپنے مقاصدِباطلہ کو بروئے کار لانے کا موقع ملتا تھا۔ اور اسی میں وہ جتھے کی صورت میں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے، کسی اور کو اپنے اندر جگہ لینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ مسلمانو ! جب تمہیں کہا جائے کہ دوسروں کے لیے جگہ چھوڑو اور کھل کے بیٹھو، یعنی اس طرح سکڑ کے بیٹھو کہ دوسروں کو بھی آسانی سے جگہ لینا ممکن ہوسکے۔ چناچہ اس حکم کے ذریعے منافقین کے کھلنے سے دوسروں کو بھی ان کے جتھے میں بیٹھنے کی گنجائش پیدا ہوگئی۔ اور وہ جس طرح باہمی رازداری سے ناپسندیدہ حرکتیں اور تبصرے کرتے تھے اس کا سدباب ہوگیا۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی اس بات کی تربیت مل گئی کہ صدرمجلس کی اطاعت بہرحال ہونی چاہیے کہ جب وہ حاضرین کی کثرت کو دیکھ کر تمہیں سکڑنے اور ادھرادھر ہٹ کے بیٹھنے کا حکم دے تو تم پر اس کی اطاعت ضروری ہے۔ اور جب مجلس کا پروگرام ختم ہوجائے اور اگر کوئی تقریب ہے اور وہ اپنے اختتام کو پہنچ جائے اور میرمجلس شرکائے مجلس کو منتشر ہونے اور اٹھ جانے کا حکم دے دے تو اس کا برا مت مانو۔ اس لیے کہ صاحب مجلس کی کچھ دوسری مصروفیات بھی ہوسکتی ہیں جو چند لوگوں کے بیٹھے رہنے سے متأثر ہوسکتی ہیں۔ تمہارے کھل جانے سے اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے کھول دے گا۔ اور قیامت کے دن جنت میں تمہارے لیے وسعتیں پیدا ہوجائیں گی۔ اور جب تمہیں اٹھنے کے لیے کہا جائے تو اس سے یہ مت سمجھو کہ اس سے تمہاری سبکی ہوئی ہے اور تمہارے حقیقی مقام و مرتبہ کا لحاظ نہیں کیا گیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقام و مرتبہ ان لوگوں کا بلند رہتا ہے جو ایمان اور علم میں دوسروں سے بڑھے ہوئے ہوں۔ اس میں ایک طرح سے منافقین پر تعریض بھی ہے کہ ان کا ایمان جیسا کچھ ہے وہ خوب جانتے ہیں۔ اور جہاں تک علم دین کا تعلق ہے ان سے ان کی شناسائی بالکل واجبی سی ہے۔ لیکن مجلسوں میں دیر تک بیٹھنا اور پھر دوسروں پر طنز اور تعریض کرنا اور اپنے برے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے دلوں میں وسوسہ اندازی کرنا ایسے گھٹیا اعمال ہیں جن کا نہ ایمان سے کوئی تعلق ہے نہ علم سے۔ اس لیے جب انھیں کہا جائے کہ تم اب مجلس سے چلے جاؤ تو وہ بعض دفعہ اس لیے بھی اس کو مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ انھیں اپنے مقاصد کو بروئے کار لانے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔ اس لیے مسلمانوں کو صرف دیکھنا چاہیے کہ حکم کی پابندی ایمان کا لازمی حصہ اور علم کا زیور ہے۔ اس لیے جو شخص مجلسی آداب کی پابندی کرے گا اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کو حرز جان بنائے گا، وہی اللہ تعالیٰ کے یہاں سرافراز ہوگا۔ اس آیت میں مجلسی زندگی کے کچھ آداب تو وہ ہیں جو قرآن کریم نے سکھائے اور اس کا بنیادی علم اور اس سے بننے والا مزاج اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو مزید کھولتے ہوئے کچھ ہدایات ارشاد فرمائیں۔ استفادہ کے لیے جن کا جاننا ضروری ہے۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ جب کسی مجلس میں پہلے سے لوگ موجود ہوں اور بعد میں مزید کچھ لوگ آئیں تو جس طرح پہلے بیٹھے ہوئے لوگوں میں یہ علم اور شائستگی ہونی چاہیے کہ وہ آنے والوں کو جگہ دیں اور سکڑ کر بیٹھیں۔ اسی طرح آنے والوں میں بھی یہ شائستگی ہونا ضروری ہے کہ وہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کا لحاظ کریں، زبردستی ان کے اندر گھس کر کسی شخص کو اٹھا کر اس شخص کی جگہ بیٹھنے کی کوشش نہ کریں۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) اور حضرت ابوہریرہ ( رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ فیجلس فیہ ولکن تفسحوا وتوسعوا ” کوئی شخص کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم لوگ خود دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرو۔ “ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ( رض) کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پس اگر تم کوئی صدقہ نہ پائو تو بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ط ذٰلِکَ خَیْرٌلَّـکُمْ وَاَطْھَرُ ط فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 12) (اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پس اگر تم کوئی صدقہ نہ پائو تو بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ ) نجویٰ کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی حکم سابقہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ منافقین کو سرگوشیاں کرنے سے روکا گیا اور وہ جن ارادوں سے سرگوشیاں کرتے تھے ان محرکات کو بھی بےنقاب کیا گیا۔ تو ان منافقین کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ ہمیں کوئی ایسی تدبیر کرنی چاہیے کہ ہمارے نفاق پر پردہ پڑا رہے۔ چناچہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے تنہائی میں مل کر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ اور طریقے طریقے سے اپنے آپ کو ان الزامات سے بچایا جو ان آیات کی روشنی میں ان پر لگائے جاسکتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے تخلیہ میں آپ سے بات کرنے کی اجازت چاہی۔ اس سے ایک تو انھیں اپنی سخن سازی کے جوہر دکھانے کا موقع ملا اور دوسرا جب وہ حضور ﷺ سے وقت لے کر بار بار آپ سے تخلیہ میں ملنے لگے تو دیکھنے والوں کو ان کے بارے میں حُسنِ ظن پیدا ہونے لگا۔ چناچہ ان کے اس فریب کو بےاثر کرنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا۔ منافقین چونکہ انتہائی بخیل لوگ تھے ان کے لیے یہ بات بہت گراں تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں معمولی صدقہ بھی کریں۔ اس لیے اس حکم نے ان کی کمرتوڑ کر رکھ دی۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سادہ دل مسلمان بھی جب یہ دیکھا کہ بعض لوگ آنحضرت ﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور آپ اپنی کریم النفسی کے باعث اسے رد نہیں فرماتے تو انھوں نے بھی آنحضرت ﷺ کا قرب چاہنے کے لیے بار بار آپ سے تخلیہ میں بات کرنے کی اجازت چاہی اور اسے اپنا معمول بنا لیا۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو اپنے معمولات کے سلسلے میں دشواری پیش آنے لگی۔ کیونکہ جب بہت سا وقت تخلیہ کی ان ملاقاتوں میں گزرنے لگا تو دوسرے ضروری کام نظرانداز ہونے لگے۔ اور اس سے امت کے مجموعی مفاد یا تربیت کے عمل کو نقصان پہنچنے لگا۔ اور ایک عجیب اس کا نقصان کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ شیطان لوگوں کے کان میں پھونک دیتا کہ فلاں شخص جو دیر تک حضور سے علیحدگی میں بات کرتا رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلاں قبیلے کے حملہ آور ہونے کی خبر لایا ہے۔ چناچہ اس سے مدینہ میں افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا اور منافقین کو آنحضرت ﷺ کے بارے میں قسم قسم کی باتیں کرنے کا موقع ملتا۔ تو یہ اپنوں اور بیگانوں کے پیدا کردہ کچھ مسائل تھے جن کو روکنے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ جو شخص بھی آنحضرت ﷺ سے تخلیہ میں ملاقات کرنا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔ اور غریب لوگ چونکہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے اس لیے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر تم صدقہ دینے کی مقدرت نہ پائو تو اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے، وہ درگزر فرمائے گا۔ لیکن یہ جو حکم دیا گیا ہے یہ تمہارے مفاد اور تمہاری تربیت اور تمہارے تزکیہ کے لیے نہایت بہتر اور نہایت پاکیزہ ہے اس کا فائدہ کسی اور کو نہیں خود تمہیں پہنچے گا۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تم صدقات پیش کرو گے، پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا، تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے

ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ ط فَاِذْلَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتوُا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 13) (کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تم صدقات پیش کرو گے، پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا، تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔ ) یہ آیت پہلی آیت کی ناسخ ہے اور دونوں حکموں میں فاصلہ پیشِ نظر آیت کریمہ کے نزول سے اس سے پہلے کی آیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ دونوں آیتیں ایک دوسرے کے متصل ہیں اس لیے یہ دوسری آیت جس نے پہلی آیت کا حکم منسوخ کیا ہے، پہلی آیت کے نزول کے بعد بہت جلدی نازل ہوئی ہوگی۔ روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ ان دونوں آیتوں کے نزول میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں، لیکن دونوں کا اتصال اس بات کی دلیل نہیں کہ دوسری آیت پہلی آیت کے جلدی بعد نازل ہوئی ہوگی۔ کیونکہ قرآن کریم میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض آیات بہت بعد میں نازل ہوئیں لیکن مضمون کی مناسبت سے انھیں کسی آیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اب رہی یہ بات کہ یہ دوسری آیت کتنا عرصہ بعد نازل ہوئی، حضرت قتادہ ( رض) کہتے ہیں کہ ایک دن سے بھی کم مدت تک یہ حکم باقی رہا اور پھر دوسری آیت کے نزول سے یہ منسوخ ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں ایک دن سے بھی کم فاصلہ ہے۔ لیکن اس سے ایک بات دل میں کھٹکتی ہے وہ یہ کہ جس فتنہ کو روکنے کے لیے یہ آیات نازل ہوئی تھیں اس کے رکنے سے پہلے تو وہ حکم منسوخ نہیں ہوسکتا تھا ورنہ حکم بےفائدہ ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ آیات کی تنقید اور صدقہ پیش کرنے کے حکم میں اللہ تعالیٰ کی جس ناراضگی کی جھلک نظر آتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے سادہ دل مسلمان تو سہم کر رہ گئے اور منافقین کچھ اپنے بخل کی وجہ سے اور کچھ افشائے راز سے ڈر کر فوراً سنبھل گئے۔ اس لیے مقاتل بن حیان کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ حکم دس دن تک باقی رہا اور اس کے بعد منسوخ ہوگیا۔ اور دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد کسی فتنے کا رک جانا عین قرین عقل ہے۔ جو لوگ محض قرب کی خواہش کے پیش نظر آنحضرت ﷺ سے بار بار تخلیہ میں ملنے کی کوشش کرتے تھے انھیں جب اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نظر آئی تو وہ بالکل سہم کر رہ گئے۔ چناچہ انھیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے جس طرح اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف بسایا، اللہ تعالیٰ نے اس پر کرم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ یعنی تم پر رحمت کی نظر فرمائی اور تم سے کہیں اگر کوئی زیادتی سرزد ہوئی بھی تو اس سے درگزر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرنے کے لیے تمہارے پاس پہلے سے ایک ذریعہ موجود ہے وہ یہ کہ نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ نہایت اہتمام سے دیتے رہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا خاص اہتمام رکھو۔ یہ وہ ذرائع ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو آسانی سے اپنی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا، یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ط مَاھُمْ مِّنْـکُمْ وَلاَ مِنْھُمْ لا وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْـکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 14) (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا، یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں۔ ) جملہ معترضہ کے بعد اصل مضمون سے ربط اور منافقین کی اصل حقیقت منافقین کے بعض کرتوتوں سے پردہ اٹھایا جارہا تھا، درمیان میں دو آیتیں جملہ معترضہ کے طور پر آگئیں اب ان کے بعد دوبارہ سلسلہ کلام منافقین کے ذکر سے مربوط ہوگیا ہے کہ یہ منافقین جنھیں مسلمان ان کی چرب زبانی کے باعث مومن سمجھتے اور ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں، ان کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی دوستی کے رشتے اس قوم کے ساتھ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوچکا ہے، مراد اس سے یہود ہیں۔ کیونکہ سورة الفاتحہ میں جو قرآن کریم کی پہلی سورة ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں المغضوب علیہم سے یاد فرمایا ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوچکا۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اگرچہ درپردہ یہود کے ساتھ روابط رکھتے اور انھیں اپنی دوستی کا یقین دلاتے رہتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا قلبی رشتہ ان کے ساتھ بھی نہیں۔ یہ صرف اپنے مفاد کے بندے ہیں۔ یہ نہ آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور نہ یہود کے ساتھ ہیں۔ جب بھی کبھی کسی ایسی افتاد کا شکار ہوئے جس میں انھیں یہود سے تعلقات کی قیمت ادا کرنا پڑی تو وہ فوراً یہود کے ساتھ تعلقات سے انکار کردیں گے۔ اور جہاں تک مسلمانوں کے ساتھ ان کی دوستی کا تعلق ہے اس میں وہ اس لیے جھوٹے ہیں کہ ایمان اور اللہ تعالیٰ کے مغضوبوں کے ساتھ دوستی دونوں میں نسبت ضدین کی ہے۔ جس دل میں ایمان ہوگا اس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ضروریاتِ دین کے علاوہ کسی اور سے دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالخصوص ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بدترین دشمن ہیں اور وہ کسی قیمت پر اسلام کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے جب یہ لوگ تمہیں اپنی دوستی کا یقین دلاتے ہیں تو وہ محض تمہیں فریب دینا چاہتے ہیں۔ اور اگر کبھی تمہیں فریب کا شبہ ہونے لگتا ہے تو وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ قسمیں ایک ایسی بات پر ہوتی ہیں جنھیں جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ جو بات ان کے دل میں ہے وہ ان کی زبان پر نہیں ہے۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بہت ہی بری حرکتیں ہیں جو وہ کررہے ہیں

اَعَدَّاللّٰہُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط اِنَّھُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 15) (اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بہت ہی بری حرکتیں ہیں جو وہ کررہے ہیں۔ ) یہ ایسے بیوقوف لوگ ہیں کہ اپنی روش کو بڑی کامیاب سیاست سمجھتے ہیں اور انھیں اس بات پر بڑا ناز ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو کس طرح فریب دے رکھا ہے۔ وہ ہمارے اخلاص پر اعتماد رکھتے ہیں جبکہ ہمارا ان سے کوئی قلبی رشتہ نہیں، ایک مجبوری ہے جسے ہم نبھا رہے ہیں، ہمارے اصل رشتے اور روابط تو اعدائے دین کے ساتھ ہیں۔ یہ سراسر ان کی حماقت ہے کیونکہ انھیں اندازہ ہی نہیں کہ جن لوگوں سے انھوں نے تعلقات پیدا کر رکھے ہیں اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آسکتا ہے۔ اور یہ اپنے روابط کی وجہ سے اس عذاب سے حصہ پائیں گے۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے وہاں تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب شدید تیار کر رکھا ہے۔ کیونکہ آخرت ہی درحقیقت ان تمام کرتوتوں کی سزا ہے جن کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ان پر اخفا کا پردہ ڈال رکھا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے۔ اور اسے خوب معلوم ہے کہ وہ کیسے برے کرتوت ہیں۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (المجادلۃ : 16) (انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ) جھوٹی قسموں سے منافقین فریب دیتے تھے منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی نبی کریم ﷺ یا مسلمان ان کی کسی غلطی پر گرفت کرتے یا ان کی بعض باتوں پر شبے کا اظہار کرتے تو وہ جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم ہر طرح آپ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہیں اس لیے آپ کو ہمارے بارے میں فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کے کوئی بات کہتا ہے تو ایک مسلمان کے لیے یہ مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ اس پر اعتبار نہ کرے۔ اور آنحضرت ﷺ تو اس بات کا بہت لحاظ فرماتے تھے۔ تو اس طرح جھوٹی قسمیں کھا کھا کر منافقین نے اپنے لیے ایک جائے پناہ بنا رکھی تھی اور وہ ہر طرح کی گرفت سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے تھے۔ اور دوسری طرف ان کا حال یہ تھا کہ مسلمانوں کے اعتماد کی وجہ سے وہ سادہ دل مسلمانوں میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور بعض دفعہ اس میں کامیاب بھی ہوجاتے تھے۔ اور سننے والے یہ سمجھتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان ہیں اس لیے جھوٹ تو نہیں بول سکتے۔ یقینا جو کچھ کہتے ہیں اس میں کچھ تو صداقت ہوگی۔ یہ مفہوم اس صورت میں ہے کہ ہم فَصَدُّوْاکو متعدی معنی میں لیں۔ لیکن اگر اس کو لازم معنی میں لیا جائے تو لفظ میں اس کی گنجائش بھی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ تو پھر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان منافقین نے ایمان کے اظہار کے ساتھ ایمان کے ثمرات کے حاصل کرنے کے لیے جو قدم اٹھایا تھا اپنی اغراض کے پیش نظر ان کے حصول سے بھی رک گئے۔ اور آگے بڑھنے کی بجائے قسموں کے ذریعے سے اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں لگے رہے اور اس بات کی کبھی خواہش نہ کی کہ ہم ایمان کی حقیقت کو جاننے اور اپنے دل میں اتارنے کی کوشش کریں۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ہرگز کام نہیں آئیں گے ان کے مال اور ان کی اولاد، ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے، یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَا لُھُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 17) (ہرگز کام نہیں آئیں گے ان کے مال اور ان کی اولاد، ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے، یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) سیاقِ کلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ منافقین کو درحقیقت آخرت سے زیادہ اپنی ذات اور اپنی ذات کے علائق سے دلچسپی ہے۔ مخلصانہ ایمان چونکہ ایثار اور قربانی کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی کامل اطاعت سے ہٹ کر اس کا وجود ہی بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے ایمان سے جی چراتے اور اپنی دنیا طلبی اور دنیاداری میں لگے رہتے ہیں اور جھوٹی قسمیں جس طرح ان کے لیے جائے پناہ بنی ہوئی ہیں وہ اسی میں خوش ہیں۔ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ دنیا اور دنیا کے مال و دولت میں سے کوئی چیز بھی تمہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکے گی۔ منافقین کے اصل مرض کی نشاندہی اور اگر ذرا گہری نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں منافقین کے اصل مرض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وہ مرض یہ ہے کہ انھیں حقیقی تعلق اور محبت کا رشتہ اگر کہیں ہے تو وہ صرف اپنے مال و دولت اور اپنی اولاد سے ہے۔ یہی ان کی دنیا ہے اور یہی ان کی منزل ہے۔ وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ یہ ان کے پائوں کی ایسی زنجیریں ہیں کہ انھیں کاٹ پھینکنا یا کسی عظیم مقصد کے لیے قربان کردینا ان کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے علائقِ دنیوی انھیں جس طرف لے جانا چاہتے ہیں یہ ادھر چل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کی راہ میں اگر ایمان حائل ہوتا ہے تو وہ ایمان کو ان علائق پر قربان کردیتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ آخر ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر بھی ہونا ہے۔ وہاں یہ اولاد اور دولت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے پر قادر نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی محبت سزا کا باعث بنے گی۔ اور بالآخر ان لوگوں کا انجام یہ ہوگا کہ انھیں اصحاب النار قرار دے دیا جائے گا اور یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ آیت میں جو مِنَ اللّٰہَکا لفظ آیا ہے اس میں اللہ سے پہلے مضاف محذوف ہے اور وہ ہے عذاب۔ تو اصل عبارت یوں ہوگی مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ ۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں، خوب جان لو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں

یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ عَلٰی شَیْ ئٍ ط اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْـکٰذِبُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 18) (جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں، خوب جان لو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں۔ ) قیامت کے روز منافقین کی حسب عادت کوشش جھوٹ اس طرح ان کے رگ و پے میں اتر گیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ انھیں ازسرنو زندہ کرے میدانِ حشر میں لا کھڑا کرے گا اور وہاں ان سے جواب طلبی ہوگی تو وہاں اللہ کریم کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔ اور وہ یہ سمجھیں گے کہ جس طرح ہم نے دنیا میں جھوٹ بول کر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو دھوکے میں رکھا اور وہ ہمیشہ ہم پر اعتماد کرتے رہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ہم فریب دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہم نے جھوٹ بول کر اپنے لیے ایک بچ نکلنے کا راستہ تلاش کرلیا ہے اور ہمیں بہت امید ہے کہ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانو ! اس بات سے تمہیں اندازہ ہوجانا چاہیے کہ وہ کس قدر جھوٹے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے اور جس کے سامنے سخن سازی کام نہیں دیتی بلکہ وہاں ہر طرح کی چرب زبانی بیکار ہوجاتی ہے تو یہ وہاں بھی یہ سمجھیں گے کہ ہم نے اپنی باتوں سے اللہ تعالیٰ کو بھی اپنی باتوں کا یقین دلا دیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ آدمی کسی غلط عادت کا اس قدر رسیا ہوجاتا ہے کہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ میں کوئی غلط کام کررہا ہوں اور وہ غلط کام کو اپنی عادت کے مطابق اس طرح انجام دیتا ہے جیسے وہ کسی صحیح کام کو انجام دے رہا ہے۔ لیکن اس کے غلط اندازے سے غلط بات صحیح تو نہیں ہوسکتی، یہ لوگ بھی شاید اسی فریب کا شکار ہوں گے۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان ان پر مسلط ہوگیا، پس اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے، یہ لوگ شیطان کی پارٹی ہیں، جان لو کہ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَاللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ ط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 19) (شیطان ان پر مسلط ہوگیا، پس اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے، یہ لوگ شیطان کی پارٹی ہیں، جان لو کہ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ ) منافقین پر شیطان کا تسلط منافقین کا جو حال اوپر کی آیت میں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فکری اور عملی سلامتی سے بالکل محروم ہوگئے ہیں۔ ایک گیا گزرا آدمی بھی کبھی نہ کبھی حقیقت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ یا کم از کم اس کی تلاش کی فکر کرتا ہے۔ لیکن یہ لوگ جس طرح جھوٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل و دماغ اپنے قبضے میں نہیں، کسی اور کے قبضے میں ہے۔ چناچہ اسی بات سے پردہ اٹھاتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ درحقیقت شیطان ان پر پورا تسلط جما چکا ہے۔ اور جس پر بھی وہ تسلط جمانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کردیتا اور اس کے تعلق کو بالکل منقطع کردیتا ہے۔ جہاں تک شیطان کی وسوسہ اندازی کا تعلق ہے اس سے تو کوئی آدمی بچا ہوا نہیں۔ وہ سب پر اپنا ہنر آزمانے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی آزادی بھی دے رکھی ہے۔ لیکن اس کا تسلط انھیں پر ہوتا ہے جو اس کی وسوسہ اندازیوں کے لیے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ اور اس کو اپنا ناصح و مرشد سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اس طرح اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ جو وہ انھیں دکھاتا ہے وہ دیکھتے ہیں، جو وہ سوجھاتا ہے وہ سوچتے ہیں۔ وہ اپنی عاقبت سے بالکل بےپرواہ ہو کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اب شیطان ان کا لیڈر بن کر ان کو جدھر چاہتا ہے لیے پھرتا ہے۔ شیطانی اثرات سے انسان کو بچانے والی اللہ تعالیٰ کی یاد ہے جب کوئی شخص اس کی یاد سے محروم ہوجاتا ہے تو وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، پھر اس سے بچ نکلنا اس کے لیے آسان نہیں رہتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطانی گروہ اور اس کی پارٹی کو ایک خاص حد تک مہلت تو دیتا ہے لیکن آخرکار شیطانی گروہ ہی نامراد ہونے والا ہے۔ اس کی بظاہر کامیابیاں اس وقت تک ہوتی ہیں جب تک حزب الشیطان کے جواب میں حزب اللہ وجود میں نہیں آتی۔ اور وہ اپنے حُسنِ عمل، قربانی و ایثار اور استقامت سے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں نہیں اترتی۔ لیکن جب دونوں میں تصادم ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حزب اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗٓ اُوْلٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ۔ (المجادلۃ : 20) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے مخالفین کی ذلت جیسے پہلے ہم نے عرض کیا ہے کہ شیطانی قوتوں کو اس وقت تک کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کی قوت میدان میں نہیں آتی۔ اور جب مسلسل آویزش سے حق و باطل میں تصادم پیدا ہوتا ہے تو پھر جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کیخلاف زورآزمائی کررہے ہوتے ہیں وہی آخرکار ذلیل ہونے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی جو ان سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مقابلے میں ذلیل ہو کر سامانِ عبرت بن چکے ہیں یہ لوگ بھی ان میں شامل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے، بیشک اللہ ہی قوی و عزیز ہے

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط اِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (المجادلۃ : 21) (اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے، بیشک اللہ ہی قوی و عزیز ہے۔ ) رسولوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت پہلے روز سے اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرما چکا ہے یعنی یہ اس کی سنت قرار پائی ہے کہ جب بھی حق و باطل میں کشمکش ہوگی تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو غلبہ دے گا۔ اور اس کی مقابل قوت ہمیشہ ناکام ہو کر ذلیل و خوار ہوگی یا تباہ و برباد ہوجائے گی۔ رسول دنیا میں جب بھی لوگوں کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں تو دو ہی صورتیں سامنے آتی ہیں کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں شب و روز کی مساعی سے لوگوں کو ہدایت ہوتی ہے وہ رسول پر ایمان لے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا دین اس دھرتی کا مقدر بن جاتا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے کفر کا راستہ اختیار کرتی ہے تو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاچکے ہوتے ہیں انھیں رسول کے ساتھ اس سرزمین سے نکال لیا جاتا ہے یعنی انھیں ہجرت کا حکم دیا جاتا ہے اور باقی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے۔ اور اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد ایسی ہوتی ہے کہ جو میدانِ غزا میں دشمنوں سے عہدہ برآ ہوسکتی ہے تو پھر انھیں جہاد و قتال کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت سے اصحابِ ایمان کو غالب کرتا ہے اور کفر کی طاقتیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو کفار کے ہاتھوں ناکام ہونے کے لیے بےسہارا چھوڑ دیا ہو۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ایسے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ میں غالب رہتا ہوں۔ یعنی میری فرمانبردار قوتیں اور میرے بھیجے ہوئے رسول اور ان پر ایمان لانے والے وہی غالب رہتے ہیں اور مخالف قوتیں کبھی مغلوب ہوجاتی ہیں اور کبھی تباہ کردی جاتی ہیں۔ رسولوں کی تمام تر تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہیں۔ آخر میں اس کی دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ غالب رہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ قوی اور عزیز ہے۔ جو رسول بھی دنیا بھی اس کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے وہ درحقیقت اس قوی اور عزیز کا سفیر ہوتا ہے جو لوگوں کے پاس ان کے حقیقی بادشاہ کے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جو قوت قوی و عزیز ہو وہ اپنے سفیر کو بےسہارا چھوڑ دے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے کہ جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک فیضانِ خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہی لوگ اللہ کی پارٹی والے ہیں، خبردار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں

لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَـآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْ ط اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ ط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 22) (تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے کہ جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک فیضانِ خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہی لوگ اللہ کی پارٹی والے ہیں، خبردار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ ) یہ سورة کی آخری آیت ہے جس میں منافقین کے سامنے ایک واضح کسوٹی رکھ دی گئی ہے تاکہ انھیں اپنے رویئے اور ایمان میں فرق کا اندازہ ہوسکے۔ اور یہ بھی معلوم ہوسکے کہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان وہ حدفاصل کیا ہے جس کے عبور کر جانے سے ایمان اور نفاق میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ منافقین کے سامنے ایک واضح کسوٹی اس کسوٹی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر، اللہ تعالیٰ کے رسول پر، آخرت پر اور تمام ضروریاتِ دین پر دل کی گہرائیوں سے یقین رکھتا ہو۔ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک نہیں کرتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات میں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں بھی کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ اور ذات رسالت مآب کے بارے میں وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد ان کی کامل اطاعت اور ان سے کامل محبت میرے ایمان کے ایسے اجزاء ہیں جن کے بغیر ایمان کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وہ دین جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور آپ نے قرآن و سنت کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کیا، اس میں کسی طرح کی کمی بیشی اور ہرحال میں اس کی اشاعت اور نصرت میرے ایمان کا ایسا حصہ ہے کہ جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ارشاد فرمایا کہ تم کسی شخص یا کسی قوم کو اس حال میں نہیں پائو گے کہ وہ ان ہی احساسات کے ساتھ ایمان لا کر مومن بھی ہوں اور پھر وہ اعدائے دین کے ساتھ محبت کا رشتہ بھی رکھتے ہوں۔ کیونکہ اگر ایسا تسلیم کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جن افکار اور جن ترجیحات کا حامل ہے ان کا تعلق صرف اس کی زبان سے ہے۔ نہ اس کے عمل سے ہے اور نہ اس کے احساسات سے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ ان احساسات کے دشمن ہوں اس تعلیم کو ماننے سے انکار کرتے ہوں جس نے ان کے سیرت و کردار کو تعمیر کیا ہے اور ان احکام کی پرواہ نہ کرتے ہوں جن کے نتیجے میں اس کے اعمال وجود پذیر ہوئے ہیں۔ ان سے یہ کبھی اس قسم کا ربط و ضبط رکھیں جس کو موافقت یا محبت کا نام دیا جاسکے۔ ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک شخص اپنی ذات کا دشمن بھی ہوسکتا ہے۔ وہ بیک وقت پسند و ناپسند کو جمع بھی کرسکتا ہے۔ وہ جن چیزوں کے صحیح ہونے پر یقین رکھتا ہے ان ہی کے مخالفین سے راہ و رسم بھی رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں کبھی ایسا اعجوبہ وجود میں نہیں آیا۔ انسان کی محبت کا رشتہ صرف وہیں ہوتا ہے جہاں اس کی دشمنی نہ ہو۔ اور اگر ان کے درمیان کسی وجہ سے دشمنی موجود ہے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہونے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے چہ جائیکہ وہ ایک دوسرے کے دوست اور ہمنوا ہوجائیں۔ اسی اصول کے پیش نظر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں اور ان میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جو ہم نے اوپر عرض کی ہیں وہ کبھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دوستوں سے محبت کی پینگیں نہیں بڑھا سکتے۔ بلکہ انھیں برداشت کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ چاہے یہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے دشمن ان کے قریبی عزیز کیوں نہ ہوں۔ اور پھر قریبی عزیزوں کا نام لے کر بتلایا کہ یہ رشتے تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ لیکن اگر یہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے دشمن ہیں جن پر تم ایمان لاچکے ہو تو پھر تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ وہ تمہارے آبائواجداد ہوں، بیٹے یا پوتے ہوں، تمہارے بھائی ہوں یا قبیلے اور برادری کے لوگ ہوں، ان سے تمہارے تعلقات کی بنیاد صرف ایمان ہے اور جہاں ایمان مفقود ہے وہاں تمہارا کوئی اور رشتہ تعلقات کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ صحابہ کرام ( رض) ایمان کی علامت اور تصویر اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اس سے پہلے ان ہی رشتوں کو عزیز رکھتے تھے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ جس قبیلے سے تھے اس قبیلے کی حمایت اپنا فرض سمجھتے تھے، جن کی اولاد تھے اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے تھے، جو ان کے قریبی اقرباء تھے وہ دوسروں کو ان پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔ لیکن جب وہ ایمان لا کر اسلام کی آغوش میں آگئے اور ایمان ان کے دلوں میں اتر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فیضِ خاص سے ان کے دلوں کے تمام میلانات کو بدل کر صرف اللہ تعالیٰ اور رسول کے تعلق کو ان کے دل کی امنگ اور ان کے دماغ کی سوچ بنادیا اور جب بھی کبھی انھیں ان لوگوں سے تصادم کا موقع آیا جو ان کے اپنے تھے لیکن ایمان نہ لا کر اب پرائے بن چکے تھے تو انھوں نے ایک لمحے کے تأمل کے بغیر صرف ایمان کے رشتے کو باقی رکھا اور باقی تمام رشتوں کو کاٹ دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہم صحابہ کرام کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کی حقیقت کو جانا چاہتے ہو تو ان لوگوں کو دیکھو کہ ایمان آدمی کے اندر کس طرح کی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل میں پہلا معرکہ بدر کے مقام پر ہوا۔ دونوں فوجیں جو آمنے سامنے تھیں ان میں مہاجرین اور قریش ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار تھے۔ ان میں سے بیشتر کا خاندان ایک تھا، باہمی قرابتداریاں تھیں۔ لیکن جب سوال ایمان و کفر کا درمیان میں حائل ہوا تو اہل حق اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے ٹکرا گئے۔ حضرت ابوعبیدہ ( رض) نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو قتل کیا۔ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو تہِ تیغ کیا، حضرت عمر ( رض) نے اپنے ماموں عاص بن ہشام پر تلوار چلائی، حضرت صدیق اکبر ( رض) کے بیٹے عبداللہ میدان میں آئے تو آپ نے اس کے مقابلے جانے کے لیے آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا دعنی اکون فی الرعلۃ الاولی مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں شہداء کے پہلے گروہ میں داخل ہوجاؤں۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا متعنا بنفسک یا ابابکر ماتعلم انک عندی بمنزلۃ سمعی وبصری ” اے ابوبکر ! ہمیں اپنی ذات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دو ، تم نہیں جانتے کہ تم میرے نزدیک میرے کان اور میری آنکھ کی طرح ہو۔ “ اس جنگ بدر میں حضرت مصعب بن عمیر ( رض) کے سگے بھائی ابوعزیز بن عمیر کو ایک انصاری پکڑ کر باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعب نے دیکھا تو پکار کر کہا : ذرا مضبوط باندھنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے، اس کی رہائی کے لیے وہ بہت سا فدیہ دے گی۔ ابوعزیز نے کہا ! تم بھائی ہو کر یہ بات کہہ رہے ہو۔ حضرت مصعب نے جواب دیا اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو، وہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کررہا ہے۔ اندازہ کیجیے دونوں کا خون تبدیل نہیں ہوا تھا صرف دل کی کیفیت بدلی تھی کہ ایک کے دن میں کفر بسا ہوا تھا اور دوسرے کے دل میں ایمان کا نور روشن تھا۔ اسی جنگ بدر میں خود نبی کریم ﷺ کے داماد ابوالعاص گرفتار ہو کر آئے۔ اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی دامادی کی بنا پر قطعاً کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ اس طرح دنیا پر یہ بات واضح کردی کہ مخلص مسلمان کیسے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوا کرتا ہے۔ دلوں میں اتنی بڑی تبدیلی کا پیدا ہوجانا کہ تمام رشتے کٹ جائیں اور صرف ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا رشتہ باقی رہ جائے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اللہ تعالیٰ اپنا خصوصی فضل نہ فرمائے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں ان صحابہ کے بارے میں فرمایا گیا اَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ یہاں روح سے مراد اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل اور اس کا خصوصی فیضان ہے جو اتنی بڑی تبدیلی کا ضامن بنتا ہے۔ اور یہ ہر اس شخص کو نصیب ہوسکتا ہے جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتا ہے۔ اس روح کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ روح سے مراد وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے۔ اس نور سے اس کو طمانیت اور تسکین نصیب ہوتی ہے۔ (روح المعانی) صحابہ کرام کو یہی طمانیت اور تسکین نصیب تھی کہ وہ جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہو کر گرتے تھے تو بجائے واویلا کرنے کے نہایت اطمینان کے ساتھ یہ بات کہتے تھے فُزْتُ وَ رَبِّ الْـکَعْبَۃِ ” ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ “ یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ جنھیں ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جو سب سے بڑا انعام ملے گا وہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی پارٹی اور اس کا گروہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔