57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsروح القرآن

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، وہ غالب اور حکیم ہے

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الحدید : 1) (اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، وہ غالب اور حکیم ہے۔ ) تسبیح کا مفہوم سَبَّحَ اگرچہ فعل ماضی ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس نے تسبیح کی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے مختلف مواقع پر یُسَبِّحُ یعنی فعل مضارع بھی استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ تسبیح کرتا ہے یا کرے گا۔ دونوں کو ملانے سے جو مفہوم نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے لیے کوئی زمانہ مخصوص نہیں۔ جب سے مخلوق کو وجود ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔ یہ عمل اس وقت بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ تسبیح کے اندر تنزیہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور بندگی و عبادت کا بھی۔ یعنی ہر چیز اپنے خالق کو اپنے قول اور عمل سے پاکیزہ اور منزہ ثابت کرتی ہے۔ یعنی وہ ایسی ذات ہے جو ہر نقص، ہر کمزوری، ہر عیب اور ہر خطا سے پاک ہے۔ یہ پاکیزگی اس کی ذات کا بھی حصہ ہے اور اس کی صفات کا بھی، اس کے افعال کا بھی اور اس کے احکام کا بھی۔ زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کی تقدیس بیان کرنا زبانی تسبیح ہے۔ اور نماز پڑھنا اور اس کے حضور میں قیام، رکوع اور سجود کرنا یہ عملی تسبیح ہے۔ اسی طرح اس کے احکام یعنی اس کے دین کو روئے زمین پر قائم کرنے کی کوشش کرنا اور دنیا کے ہر قانون، ہر ازم اور حسن و قبح کے ہر معیار پر اللہ تعالیٰ کے دین کی برتری ثابت کرنا اس کی قولی اور عملی تسبیح کا تقاضا ہے۔ قرآن کریم جب اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو یاددہانی کرائی جائے کہ جب کائنات کی وہ چیزیں جو درجہ اور مقام میں انسان کے مقابلے میں نہایت فروتر ہیں اور جنھیں نعمتیں بھی انسان کے مقابلے میں بہت کم ملی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں شب و روز مشغول ہیں تو انسان کو تو بدرجہ اولیٰ اس کی تسبیح کرنی چاہیے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انسان کے لیے اس میں حوصلہ افزائی کا سامان بھی ہے کہ جب دنیا ایسے بحران میں مبتلا ہوجائے کہ جس میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی یاد نظر نہ آتی ہو اور کہیں بھی اس کا حوالہ سنائی نہ دیتا ہو اور جو چند لوگ اس کی یاد سینے سے لگائے بیٹھے ہوں انھیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ انسان اگر اپنے مالک و خالق کو بھول چکے ہیں اور کسی طرح بھی اسے یاد کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کائنات کی ایک ایک چیز جو میرے گردوپیش میں ہے یا مجھ سے دور ہے وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی تسبیح سے غافل نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے اس کا یاد کرنے والا تنہا نہیں بلکہ ہر طرف اس کے ہم زبان اور ہم دل بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں اس لیے مشغول ہے اور انسانوں کو بھی اس لیے اس کی تسبیح کرنی چاہیے کہ وہ عزیز ہے۔ وہ ایسا زوردار، ایسا زبردست اور ایسا غالب ہے کہ کوئی شخص اس کے حکم کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ کوئی چیز اس کی دسترس سے باہر نہیں ہے اور کوئی شخص اس کے فیصلے کو رد نہیں کرسکتا جبکہ دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت کا دعویدار بھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی اس کی بڑائی کو چیلنج نہ کرسکے اور وہ ایسی ہمہ پہلو قوت رکھتا ہو کہ کہیں بھی اس کی احتیاج دکھائی نہ دے۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ حکیم بھی ہے۔ کیونکہ نری طاقت ایک اندھی قوت کا نام ہے۔ اسی لیے اقبال نے توجہ دلاتے ہوئے یہ بات کہی ع اے صاحب نظراں ! نشہ قوت ہے خطرناک یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم عزیز کی صفت کے ساتھ قوی، مقتدر، جبار اور ذوانتقام جیسے الفاظ خاص حوالے کے بغیر ذکر نہیں کرتا بلکہ حکیم اور اس سے ملتی جلتی صفات کا ذکر فرماتا ہے۔ کہیں علیم کا ذکر ملتا ہے اور کہیں رحیم کا، کہیں غفور کا اور کہیں وہاب کا۔ اور اس طرح صفات کا اجتماع اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور قوت و حشمت رکھنے والے کے ساتھ ممکن نہیں۔ اور پھر اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت بھی ہے تو کیا اس کا یہ تقاضا نہیں کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں کو صلہ عطا فرمائے جنھوں نے اس کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر زندگی گزاری۔ اور ان لوگوں کو سزادے جنھوں نے اس کی حدود سے تجاوز کیا۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک وہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

لَـہٗ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الحدید : 2) (آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک وہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے ہمہ مقتدر ہونے کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے ہمہ مقتدر اور غالب ہونے کی جو بات گزشتہ آیت میں فرمائی گئی یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ اتنی بڑی طاقت کا مالک اور اتنی بڑی حکومت کا حکمران ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے قبضے میں ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔ کوئی دوسرا اس کے اقتدار میں شریک نہیں، کسی کی یہ مجال نہیں کہ اس کے کسی کام میں مداخلت کرسکے۔ حتیٰ کہ زندگی اور موت جو ہر مخلوق کا اصل الاصول ہے اس کا سررشتہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے موت وارد کردیتا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا کسی کی زندگی نہیں چھین سکتا جب تک اسے منظور نہ ہو۔ اور کسی کو زندگی دے نہیں سکتا جب تک وہ نہ چاہے۔ اور اس کی قدرت کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ وہ کائنات کی بساط بچھانے میں کسی کا محتاج نہ تھا۔ اور جب اسے ختم کرنے کا وقت آئے گا اور پھر ازسرنو بنانے کا تب بھی اسے کسی کی احتیاج نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مملکت کے ایک ایک انچ پر پوری طرح قابض و متصرف ہے۔ جو چاہے اپنے کلمہ ٔ کن سے کرسکتا ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

ھُوَالْاَوَّلُ وُالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وُالْبَاطِنُ ج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الحدید : 3) (وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی مزید صفات وہ صرف قادرمطلق ہی نہیں بلکہ کلی علم کا تاجدار بھی ہے۔ اس کے احاطہ علم کا حال یہ ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ یعنی جب کچھ نہیں تھا، وہ تھا۔ اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔ وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے۔ کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے۔ اور وہی باطن ہے یعنی ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے۔ کیونکہ اس کا ادراک کرنے میں نہ حواس کام دیتے ہیں اور نہ عقل کام دیتی ہے۔ کسی طرح بھی اس کی حقیقت کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک دعا میں ان الفاظ کی جو وضاحت فرمائی ہے اس سے بہتر وضاحت ممکن نہیں۔ آپ نے فرمایا انت الاول فلیس قبلک شیء ” تو ہی سب سے پہلے ہے، کوئی تجھ سے پہلے نہیں۔ “ وانت الاخر فلیس بعدک شیء ” تو ہی آخر ہے، کوئی تیرے بعد نہیں۔ “ وانت الظاہر فلیس فوقک شیء ” تو ہی ظاہر ہے، کوئی تجھ سے اوپر نہیں۔ “ وانت الباطن فلیس دونک شیء “ تو ہی باطن ہے، کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ “ اور یہ معنی بھی اس کا ہوسکتا ہے کہ کوئی تجھ سے اوجھل نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم اندر اور باہر ہر چیز پر محیط ہے۔ چناچہ اس کو سمیٹتے ہوئے قائدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے لیے ظاہر و باطن سب یکساں ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو، اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے

ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَ یَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط یَعْلَمُ مَایَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یُخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یُنْزِلُ مِنَ السَّمَـآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا ط وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الحدید : 4) (وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو، اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ ) صفتِ علم کی وسعت اس کے علم کی وسعت کا حال یہ ہے کہ وہ صرف کلیات کا عالم نہیں بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ اس نے چھ دنوں میں یعنی چھ ادوار میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ اور پھر ایسا نہیں کہ پیدا کرکے کسی اور کے حوالے کرکے کہیں آرام کے لیے بیٹھ گیا ہو یا کسی گوشے میں جا چھپا ہو۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کا پیدا کرنا اس کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ اسی طرح اس کا انتظام و انصرام اور اس کی دیکھ بھال بھی اس کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔ ایک ایک دانہ جو زمین میں بویا جاتا اور اس کی تہوں میں اتر جاتا ہے اور پھر ہر دانے سے ایک سوئی نکلتی ہے اور ہر پودے سے جو کونپل پھوٹتی ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اسی طرح جو کچھ آسمان سے اترتا ہے چاہے وہ بارش کے قطروں کی شکل میں ہو یا اللہ تعالیٰ کے احکام کی صورت میں۔ چاہے وہ رحمت کا ظہور ہو یا عذاب کی نمود، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جو کچھ آسمانوں میں چڑھتا ہے وہ بخارات کی شکل میں ہو، یا مظلوموں کی دعائوں کی شکل میں، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ زمین و آسمان کے بیشمار تغیرات ہیں۔ اور زمین و آسمان سے مخلوقات کو ملنے والی بیشمار ضروریات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز بھی باہر نہیں۔ کوئی انسان کہیں بھی اور کسی حال میں بھی ہو اور انسانوں کے اعمال زمین پر کیسے بھی اثرات پیدا کررہے ہیں اور خیر و شر کے حوالے سے کیسے بھی معرکے برپا ہوں، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی سے بھی غافل نہیں۔ ہر وقت اس کا علم ہر چیز کی نگرانی کررہا ہوتا ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں

لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (الحدید : 5) (وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ ) یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح کائنات کی ہر چیز اور ہر تبدیلی سے واقف ہے اسی طرح وہ کائنات کی وسعتوں کے باوجود مکمل طور پر اس کا مرجع و ماویٰ بھی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ کارکنانِ قضاء و قدر اسی کے احکام کو نافذ کرتے ہیں۔ اور اسی کے سامنے جوابدہی کے پابند ہیں۔ کوئی کارکن بھی اپنی صوابدید پر کام کرنے کا مجاز نہیں۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ ط وَھُوَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الحدید : 6) (وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ) رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے سے مراد شب و روز کی آمد و رفت ہے۔ دن جاتا ہے تو رات آتی ہے اور رات جاتی ہے تو دن آتا ہے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک آٹومیٹک سسٹم ہے جو خودبخود ظہورپذیر ہورہا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں دن کی روشنی ہو یا رات کی تاریکی، دونوں کا لانے والا وہی ہے۔ جب رات کی تاریکی پوری طرح چھا جاتی ہے تو کوئی توقع نہیں کرسکتا کہ اب کبھی اجالے کی نمود بھی ہوگی۔ اور جب سورج کی گرمی پوری تمازت پر ہوتی ہے تو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ رات کی ٹھنڈک بھی آئے گی۔ لیکن ہم اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہر روز دیکھتے ہیں۔ اور پھر اتنا بڑا واقعہ اس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے کہ آہٹ تک سنائی نہیں دیتی۔ رات دن پر لپٹی چلی آرہی ہے اور دن رات پر لپٹا چلا آرہا ہے جس کو قرآن کریم نے تکویر سے تعبیر کیا ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے، پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے

اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَـکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْـکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (الحدید : 7) (ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے، پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ ) ایمان و انفاق کا مطالبہ اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کی چند صفات کو بیان فرمانے کے بعد مسلمانوں سے ایمان و انفاق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جب اپنی ذات میں ہمہ مقتدر اور غیرمعمولی وسعت علم کا مالک ہے تو کیا اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسے واقعی مقتدر مانا جائے، اس کے احکام کی اطاعت کی جائے اور اپنی اور اس کی حیثیت کا ادراک حاصل کرنے کے بعد اس کے تقاضوں پر عمل کیا جائے۔ چناچہ اسی اصول کے تحت سب سے پہلا حکم یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ لیکن اس کے فوراً بعد انفاق کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ انفاق کا حکم اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ خطاب غیرمسلموں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ایمان کا دعویٰ تو رکھتے ہیں لیکن ایمان کے تقاضوں سے جی چراتے ہیں۔ اس لحاظ سے اٰمِنُوْٓا اپنے حقیقی اور کامل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ایمان لانے کا صرف یہ مطلب نہ سمجھو کہ تم نے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہہ دیا تو گویا ایمان کا حق ادا ہوگیا۔ بلکہ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ویسے ایمان لائو جیسے ایمان لانے کا حق ہے کہ اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر اس طرح ایمان لائو کہ اس کی غیرمشروط اطاعت میں اپنے ارادے سے کبھی کمی نہ کرو۔ اور پھر اس ایمان کے لازمی تقاضے کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مال و دولت دے رکھا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد و قتال اور ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کی ضروریات کی فراہمی میں خرچ کرو۔ کیونکہ جس پروردگارِعالم کو تم نے سب سے بڑی ذات کے طور پر قبول کیا ہے اور جس کی عظمت کے سامنے تم سرنگوں ہوئے ہو اسی کا بھیجا ہوا دین آج حالت خطر میں ہے۔ اور اس کا گھر جسے اس کے بنانے والے نے توحید کا مرکز بنایا تھا وہ نہ صرف بت خانے میں تبدیل ہوچکا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے والوں کے لیے اس کے راستے بھی بند ہیں۔ اس صورتحال کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کفر کے اس تسلط کو ختم کیا جائے۔ ان کی طاقت کا بھرم توڑ کر اللہ تعالیٰ کے گھر کو واگزار کرایا جائے اور پھر سے اللہ تعالیٰ کے اس گھر کو مرکزتوحید بنایا جائے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد و قتال نہیں ہوگا۔ اور اس کا اس وقت تک امکان نہیں جب تک اس کے لیے مسلمانوں کے اندر ایثار و انفاق کے سوتے نہیں پھوٹیں گے۔ اس لیے ایمان کے ساتھ اس کے لازمی تقاضے کے طور پر انفاق کا ذکر فرمایا۔ لیکن انفاق ایسے شخص کے لیے جو مال و دولت سے بےپناہ محبت رکھتا ہو ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس لیے اس کی تسہیل کے لیے دلیل بھی ارشاد فرمائی کہ تمہارے پاس جو مال و دولت ہے یہ تمہاری اپنی ملکیت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا بخشا ہوا مال ہے۔ تم بذات خود اس کے مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے اسے تمہارے تصرف میں دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز کسی کے تصرف میں بطورامانت دی جاتی ہے مالک کو بجاطور پر اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ امانت کے بارے میں جواب طلب کرے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ مال و دولت چونکہ تمہارے پاس امانت ہے اس لیے جب اللہ تعالیٰ جو اس کے اصل مالک ہیں جب اس کو خرچ کرنے کا حکم دے رہے ہیں تو تمہارے لیے کسی طرح بھی جائز نہیں کہ تم اس مال کو خرچ کرنے سے جی چرائو۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انفاق کو ایمان کی شہادت کے طور پر لایا گیا ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد انفاق سے جی چراتے ہیں وہ دعوائے ایمان میں کچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہوتے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہر حکم کو ماننے کے دعویٰ کے بعد وہ اپنی مال کو اس کے راستے میں خرچ کرنے سے دریغ کرتے۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ نہیں کرسکتا، وہ پسینہ کیسے بہائے گا اور ضرورت پڑی تو خون کیسے دے گا۔ یہ تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایمان لانے والا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے تیاگ چکا ہو۔ اور قرآن کریم کی زبان میں حیات دنیا کو آخرت کے بدلے میں بیچ چکا ہو۔ جس شخص نے ایمان و انفاق کو جمع کرلیا اسے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے۔ اس نے اسے ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگایا ہے جس میں نقصان کا تو کوئی اندیشہ نہیں البتہ نفع کے ایسے امکانات ہیں جس کا دنیا میں تصور بھی مشکل ہے۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی مومن ہو

وَمَا لَـکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّـکُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (الحدید : 8) (اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔ ) کمزور مسلمانوں کو نصیحت اس آیت کریمہ میں کمزور مسلمانوں اور منافقین کو ملامت کے انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ ظاہر ہے اس سے مراد صرف اقرار و اعتراف نہیں بلکہ مکمل ایمان مراد ہے جس میں عبادت اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت غیرمشروط طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول کی۔ اور محبت دونوں سے جس پر کوئی اور محبت غالب نہ آسکے۔ اور مزید ملامت کی بات یہ ہے کہ تمہیں ایمان لانے کی دعوت کوئی اور نہیں خود اللہ تعالیٰ کا رسول دے رہا ہے جس کی تشریف آوری سے اتمامِ حجت ہوجاتا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ جب تم نے ایمان کا اقرار کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کے رسول نے تم سے سمع و اطاعت کا عہد لیا تھا۔ اور بار بار تمہیں تاکید کی گئی تھی۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ کا رسول اس عہد کے بعد تمہیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کہہ رہا ہے تو تم اس سے اعراض کررہے ہو یا جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہو۔ اگر تم واقعی ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو پھر یہ روش تمہیں کسی طرح زیب نہیں دیتی۔ اور اگر اس روش کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو پھر ایمان کا دعویٰ بہت بڑی مسٔولیت بن جائے گا۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے

ھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحدید : 9) (وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ ) آیات کا نزول تاریکی سے نور میں لانے کا سبب ہے مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ خدائے بزرگ و برتر جو ہر لحاظ سے تمہاری غیرمشروط عبادت اور اطاعت کا مستحق ہے اور جس کے دین کی بالاتری اور سربلندی تمہاری زندگی کا مقصداولین ہے وہ جب تمہیں اس کے حوالے سے انفاق کی دعوت دے رہا ہے تو چونکہ اس میں مال اپنے ہاتھ سے دینا پڑتا ہے جو طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ تو ایسا نہ ہو کہ یہ گرانی تمہیں بھی لاحق ہو، جبکہ ایسی کسی بات کی پرچھائیں بھی تم پر نہیں پڑنی چاہیے۔ کیونکہ مال اور جان کی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت اور اس کے دین کی بالادستی کے تقاضوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اور یہ ایک ایسی تاریکی ہے جس میں تمہارا حقیقی مقصد گم ہو کے رہ جاتا ہے۔ اس لیے وہ آیات جن سے حقیقی مقصد ابھر کر سامنے آجائے اور ہر طرح کی تاریکی کافور ہونے لگے ان آیات کو گراں سمجھنا اور خواہشاتِ نفس اور حُبِ دنیا کی تاریکیوں میں ڈوبتے چلے جانا یہ وہ حادثہ ہے جو کسی بھی دینی اور اخروی نقصان کا باعث ہوسکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے واضح احکام نازل کررہا ہے جو ان تمام تاریکیوں سے نکال کر انفاق کے اس راستے کو روشن کررہے ہیں جو زندگی کے بلند ترین مقصد کو غالب کرکے دنیا کو بھی آسان کردیتا ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی کا سامان کرتا ہے۔ اور چونکہ اس کا راستہ جہاد اور انفاق سے کھلتا ہے اس لیے جہاد اور انفاق سے متعلق ترغیبات یقینا اپنے اندر اس نور کو لیے ہوئے ہیں جو خواہشاتِ نفس اور حُبِ دنیا کی تمام تاریکیوں کو مٹا دینے کے لیے کافی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ایسے احکام نازل کرنا انسانوں کو کسی مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی اس رأفت و رحمت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ مسلمانوں کے حال پر رہتی ہے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے، تم میں سے جو لوگ فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے یکساں نہیں ہوں گے، ان لوگوں کا درجہ ان سے بڑا ہوگا جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے، اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

وَمَا لَـکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط لاَ یَسْتَوِیْ مِنْـکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَ ۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ م بَعْدُ وَقٰـتَلُوْا ط وَکُلاًّ وَّعَدَاللّٰہُ الْحُسْنٰی ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (الحدید : 10) (اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے، تم میں سے جو لوگ فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے یکساں نہیں ہوں گے، ان لوگوں کا درجہ ان سے بڑا ہوگا جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے، اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ ) انفاق کی مزید ترغیب اور وساوس کے ازالے کے دلائل انفاق کا حکم اگرچہ اس سے پہلے بھی مسلمانوں کو دیا جا چکا ہے لیکن یہاں مزید ترغیب دینے اور دلوں میں اٹھنے والے وساوس کے ازالے کے لیے باردگرنہ صرف حکم دیا جارہا ہے بلکہ وساوس کو ختم کرنے کے دلائل بھی دیئے جارہے ہیں۔ پہلی دلیل یہ دی گئی ہے کہ جب ہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو مال ہمیں میسر ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ ہمیں تو عارضی اور محدود طور پر اس میں تصرف کا حق دیا گیا ہے۔ اور اس لحاظ سے پروردگار نے ہمیں اپنی ملکیت میں خلیفہ اور امین کی حیثیت دے رکھی ہے۔ تو کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جب مالک امین سے اپنا مال دینے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ اس میں مارگنج بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اگر اسے دیتا بھی ہے تو بےدلی کے ساتھ۔ حالانکہ جس نے اس کی تحویل میں اپنی امانت رکھی ہے اس کے ساتھ اس کا یہ رویہ نہ عقل میں آنے والی بات ہے اور نہ اخلاق اس کی اجازت دیتے ہیں۔ اور دوسری دلیل جو اس سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی جب مال خرچ کرتا ہے تو ہمیشہ اسے فقر اور تنگدستی کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اگر میں اسی طرح مال خرچ کرتا رہا تو آخر ایک دن فقیر ہوجاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں یہ فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک ہے۔ یعنی سب کچھ اس کی ملکیت ہے اور اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ تم جب اس کے راستے میں اس کے حکم سے دینے کی ہمت کرو گے تو درحقیقت اس کے خزانوں کی کلید تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔ اس نے جتنا تمہیں پہلے دے رکھا تھا عین ممکن ہے کہ تمہارے اس انفاق اور ایثار سے خوش ہو کر وہ تمہیں اس سے بھی زیادہ عطا کرے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے : قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَـہٗ ط وَمَا اَنْفُقْتُمْ مِنْ شَیْ ئٍ فَھُوْ یُخْلِفُہٗ وَھُوْ خَیْرُالرَّازِقِیْنَ ۔ (سبا : 39) (اے پیغمبر ! ان سے کہیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کی جگہ وہی مزید رزق تمہیں دیتا ہے اور وہ بہترین رازق ہے ۔ ) تیسری دلیل جو اس آیت میں ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انفاق اور جہاد بلاشبہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ترین عبادات ہیں۔ لیکن حالات میں تبدیلی سے ان کے اجر وثواب میں بھی تبدیلی آتی ہے جن لوگوں نے اسلام ایسے حالات میں قبول کیا جبکہ ایمان کی قیمت کا تصور کرتے ہوئے کپکپی چھوٹ جاتی تھی۔ جان و تن کی بیشمار آزمائشیں منہ کھول دیتی تھیں اور فاقے روز کا معمول بن جاتے تھے۔ اور ایسے حالات میں انفاق سے کام لیا۔ جب دور دور یہ امکان نظر نہ آتا تھا کہ کبھی فتوحات سے ان قربانیوں کی تلافی ہوسکے گی۔ تو ظاہر ہے ایسے حالات میں انفاق و جہاد کا اجر وثواب بعد کے آنے والے کسی دور سے یقینا مختلف ہوگا۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ فتحِ مکہ سے بہت پہلے مکی اور مدنی دونوں طرح کی زندگی میں مسلمان جن حالات سے گزرے ہیں وہ پِتّہ پانی کردینے کے لیے کافی ہے۔ جن لوگوں نے ایسے حالات میں بالخصوص مدینہ منورہ میں جہاد و انفاق سے کام لیا اور اپنا پیٹ کاٹ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے رہے ان کے برابر وہ لوگ نہیں ہوسکتے جنھوں نے فتح مکہ کے بعد جہاد میں حصہ لیا اور اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور مسلمانوں کی آسودگی کا سامان کیا۔ یقینا وہ بھی اللہ تعالیٰ سے اجروثواب کے سزاوار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی اجروثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لیکن حالات میں اختلاف کی وجہ سے دونوں اجروثواب میں یکساں نہیں ہوسکتے۔ پہلی قسم کے لوگ یقینا درجے میں ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گے جنھوں نے فتح کے بعد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد و انفاق سے کام لیا۔ بعض اہل علم نے فتح سے مراد صلح حدیبیہ لیا ہے۔ یقینا یہ رائے غلط نہیں کہی جاسکتی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ فتح اس عظیم فتح کا پیش خیمہ تھی جسے فتحِ مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ نے یقینا فتحِ مکہ کے لیے اسباب پیدا کیے۔ راستے کھولے اور مسلمانوں کو تیاری کا موقع دیا۔ لیکن اسلام کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کے دین کی بالادستی اور کفر کی مغلوبیت کو جس واقعہ نے حقیقت میں تبدیل کیا ہے وہ فتحِ مکہ ہی ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تاکہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗ وَلَـہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ (الحدید : 11) (کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تاکہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے۔ ) جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل اس آیت کریمہ میں نہایت واضح اور موثر انداز میں جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل کی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی پورے جوش میں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں ایثار کا جذبہ ابھار کر درحقیقت انھیں مالامال کردینا چاہتا ہے۔ اس نے جس مال کا مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے اسے اس نے اپنے ذمے قرض کا نام دیا ہے حالانکہ ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس شخص کے پاس اس کی امانت ہے۔ امانت کو امین کا مال قرار دینا اور پھر اس مال کو بطور قرض کے طلب کرنا یہ ایک ایسی عنایت اور مہربانی ہے جس کی توقع صرف اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہی سے کی جاسکتی ہے انسان کے بس کی بات نہیں۔ اور پھر دینے والے کے لیے اس میں ایک ضمانت بھی ہے کیونکہ آدمی مال خرچ کرتا ہوا اس لیے گھبراتا ہے کہ یہ مال پھر لوٹ کر نہیں آئے گا۔ لیکن جب اسے قرض قرار دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرض تو قرض دینے والے کو واپس کیا جاتا ہے اور مقروض اس حد تک اس کا ذمہ دار ہوتا ہے کہ قرض خواہ کسی وقت بھی اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ البتہ اس میں ایک شرط لگائی گئی ہے کہ اس قرض کو قرض حسن ہونا چاہیے۔ یعنی یہ قرض خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی غرض کے بغیر دیا جائے۔ کسی قسم کی ریاکاری اور شہرت اور ناموری کی حرص اس میں شامل نہ ہو، دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے۔ جو مال دیا جائے وہ اچھا مال ہو، محض چھدا اتارنے کی کوشش نہ ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ عطا و بخشش محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہو، کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو۔ مزید حوصلہ افزائی کے لیے فرمایا کہ ایسا قرض نہ صرف کہ واپس ملتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دیتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ دیئے ہوئے مال میں جو بڑھوتری ہوگی اس کا تعلق یقینا دیئے ہوئے مال سے ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ایسا اجر بھی عطا فرمائیں گے جس کا تعلق دیئے ہوئے مال سے نہیں بلکہ اس جذبے سے ہے جس کے تحت یہ ایثار اور انفاق کیا گیا ہے۔ چناچہ اس جذبے کی مثالیں یوں تو دورصحابہ میں بیشمار ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک مثال استفادے کے لیے عرض کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابوالدحداح انصاری نے عرض کیا، یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا، ہاں، اے ابوالدحداح۔ انھوں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انھوں نے آپ ﷺ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا : میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض دے دیا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اسی میں ان کا گھر تھا اور وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کرکے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا : دحداح کی ماں نکل آئو، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ وہ بولی تم نے نفع کا سودا کیا، دحداح کے باپ۔ اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جس دن تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، (ان سے کہا جائے گا کہ) آج بشارت ہے تمہارے لیے باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے وہ بڑی کامیابی

یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ بُشْرٰ کُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الحدید : 12) (اس دن کو یاد رکھو جس دن تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، (ان سے کہا جائے گا کہ) آج بشارت ہے تمہارے لیے باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے وہ بڑی کامیابی۔ ) اجرِکریم کا ایک پہلو گزشتہ آیت میں جس اجرِکریم کا ذکر فرمایا گیا یہ اسی کے ایک خاص پہلو کی وضاحت ہے کہ میدانِ حشر میں نور ان انفاق و جہاد کرنے والوں کے آگے آگے دوڑ رہا ہوگا اور ان کے دائیں جانب ساتھ ساتھ چل رہا ہوگا۔ اور کفار و منافقین اور فساق و فجار تاریکی میں بھٹک رہے ہوں گے۔ ہدایت کی روشنی سے جس طرح وہ دنیا میں محروم رہے اسی طرح آج ایمان و عمل کی روشنی سے بھی محروم رہیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے مشکل حالات میں انفاق و جہاد کی جو شمع روشن کی ہوگی وہی میدانِ حشر میں روشنی بن کر کام آئے گی۔ کیونکہ انفاق سے ہی نفاق کی چڑ کٹتی ہے۔ اور اسی سے وہ نورحکمت عطا ہوتا ہے جو اس دنیا کی تاریکیوں میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرت میں بھی یہ رہنمائی کرے گا۔ جس شخص کا ایمان و عمل اور انفاق و جہاد جتنا تابندہ ہوگا اس کے وجود کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ مدینہ سے عدن تک مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہا ہوگا۔ اور کسی کا نور مدینہ سے صنعاء تک۔ اور کسی کا اس سے کم۔ یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا۔ (ابنِ جریر) میدانِ حشر میں نور کی یہ بخشش جنت کے راستے کو آسان کرنے کے لیے ہوگی۔ اس دن کی اصل بشارت تو وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور جس میں جانے والے ہمیشہ اس کے مکین بن کر رہیں گے۔ یہی وہ بڑی کامیابی ہے جو اسلامی زندگی اور جہاد و انفاق کا اصل ثمرہ ہے۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں کو آواز دیں گی، ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب میں رحمت ہوگی اور ان کے باہر کی طرف عذاب ہوگا

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّـہٗ بَابٌ ط بَاطِنُـہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ ۔ (الحدید : 13) (جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں کو آواز دیں گی، ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب میں رحمت ہوگی اور ان کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔ ) منافقین کی نور سے محر ومی اس آیت کریمہ میں منافقین کا حال بیان کی گیا ہے جس سے وہ میدانِ حشر میں دوچار ہوں گے۔ انھوں نے ایمان و عمل سے چونکہ اپنے سیرت و کردار میں کوئی روشنی پیدا نہیں کی ہوگی تو میدانِ حشر میں اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے۔ جب وہ اچانک دیکھیں گے کہ صاحب ایمان لوگ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی میں چل رہے ہیں اور وہ روشنی پوری طرح ان کی رہنمائی کررہی ہے۔ وہ ان کے آگے آگے دوڑ رہی ہے اور ان کی دائیں جانب پوری طرح اجالا بکھرا ہوا ہے۔ تو وہ نہایت حسرت کے ساتھ اہل ایمان سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہماری طرف توجہ کیجیے اور ہمیں بھی موقع دیجیے کہ ہم تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تو اہل ایمان کی طرف سے ان کو جواب ملے گا کہ اپنے پیچھے پلٹ جاؤ۔ کیونکہ روشنی پیدا کرنے کی جگہ وہ تھی جو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ مراد اس سے دنیا ہے کہ اب تم دارالجزاء میں ہو۔ یہاں تو روشنی اسے نصیب ہوگی جس نے دنیا میں اپنے اندر ایمان و عمل سے روشنی کی ہوگی۔ وہاں اگر جاسکتے ہو تو جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ یہاں تو حسرت و ندامت اور تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس جواب کے بعد ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں صرف ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندر کے حصے میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب میں عذاب ہوگا۔ اہل ایمان اس دروازے سے جنت میں چلے جائیں گے اور دروازہ بند ہوجائے گا۔ منافقین کے لیے اس حدِافصل کو عبور کرنا ممکن نہ ہوگا جو ان کے اور جنت کے درمیان حائل ہوگی۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ مومن جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا رکھا، اور موقعوں کے انتظار میں رہے، اور شبہات میں مبتلا رہے، اور آرزوئیں تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے بارے میں مبتلائے فریب ہی رکھا

یُنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّعَکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّـکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْـکُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُاللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (الحدید : 14) (وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ مومن جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا رکھا، اور موقعوں کے انتظار میں رہے، اور شبہات میں مبتلا رہے، اور آرزوئیں تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے بارے میں مبتلائے فریب ہی رکھا۔ ) منافقین کی استدعا کا جواب منافقین جب دیکھیں گے کہ وہ روشنی جو ہمارے لیے راستہ روشن کرسکتی تھی وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی اور وہ ہم سے بالکل جدا ہوگئے ہیں اور روشنی ہم سے اوجھل ہوگئی ہے۔ تو وہ نہایت پریشان ہو کر مسلمانوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ مسلم معاشرہ میں نہیں رہتے تھے، تو تم نے ہم سے یکسر رابطہ منقطع کیوں کردیا، تو مومن جواب میں کہیں گے کہ تم ہمارے ساتھ رہتے تو تھے لیکن تمہارے دل ہمارے ساتھ کبھی نہیں رہے بلکہ تم ان ہی فتنوں میں مبتلاء رہے جن سے اللہ تعالیٰ نے تم کو نکالنا چاہا۔ تَرَبَّصْتُمْ ، تَرَبَّصْسے ہے جس کا معنی انتظار کرنا ہے۔ اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ تم نے ہمیشہ ہمارے لیے گردش روزگار اور آفاتِ زمانہ کا انتظار کیا۔ کوئی جنگ ہوئی تو ہمارے لیے شکست کی امید میں رہے۔ حالات بگڑے تو تم ہماری ناکامیوں اور تباہی کے امیدوار ہو کر بیٹھ گئے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں تم ہمیشہ موقع شناسی سے کام لیتے رہے۔ یعنی تم نے ہمیشہ یہ دیکھا کہ ہمارا فائدہ کس طرف جانے میں ہے، کفر کی طرف یا اسلام کی طرف۔ تم نے کبھی بھی کھل کر اپنا وزن اسلام کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ مسلمانوں پر کیسی ہی قیامت یں ٹوٹیں لیکن تمہارے دلوں نے کبھی اس کا اثر قبول نہ کیا۔ بلکہ تمہارا حال ہمیشہ یہ رہا : وہ شاخ گل پہ زمزموں کی دھن تراشتے رہے اور آشیاں پہ بجلیوں کا کارواں گزر گیا رسول اللہ ﷺ نے یقینیات کی جو دولت تقسیم کی اور حالات کے بارے میں بعض پیشگوئیاں بھی فرمائیں، لیکن تمہیں ہر بات میں ہمیشہ شک رہا۔ منافق کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کا یقین آتا ہے اور نہ رسول کی صداقت کا۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سنتا ہے لیکن اس کے کلام اللہ ہونے کا یقین نہیں آتا۔ آخرت کی بازپرس اس کے اندر کوئی تہلکہ نہیں مچاتی۔ حق و باطل کی کشمکش کو وہ ہمیشہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہی حال ہمیشہ ان لوگوں کا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ایمان نے نہ دنیا میں برگ و بار پیدا کیے اور نہ اخروی اجروثواب کی کوئی صورت پیدا ہوئی۔ تمہاری آرزوئوں نے جو جھوٹے گھروندے بنا رکھے تھے وہ کبھی مسمار نہ ہوئے۔ تم اسی شش و پنج میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آگیا، یعنی تمہاری موت کا وقت آگیا یا اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہوگیا اور تمہاری خواہشات نے دم توڑ دیا۔ شیطان نے تمہیں ہمیشہ دھوکے میں رکھا اور یہی دھوکہ تمہاری تباہی کا باعث بنا جس سے دنیا بھی تباہ ہوئی اور آخرت بھی تباہ ہوئی۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، تم سب کا ٹھکانہ آگ ہے، وہی تمہارا مرجع ہے اور بدترین ٹھکانہ ہے

فَالْیَوْمَ لاَ یُؤْخَذُ مِنْـکُمْ فِدْیَۃٌ وَّلاَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط مَاْوٰ کُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلَـکُمْ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الحدید : 15) (پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، تم سب کا ٹھکانہ آگ ہے، وہی تمہارا مرجع ہے اور بدترین ٹھکانہ ہے۔ ) جب تم نے اپنے آپ کو بری طرح فتنوں میں مبتلا رکھا اور مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ تحفظات کا شکار رہے، کبھی بھی تمہارے اندر ایمان کی شمع روشن نہ ہوسکی۔ تم ایمانیات کے بارے میں بھی ہمیشہ شک وشبہ میں مبتلاء رہے۔ تو اس کے بعد کیا امید کی جاسکتی تھی۔ اس لیے صاف صاف فرما دیا گیا ہے کہ آج تم سے کوئی فدیہ اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ قیامت کے دن یوں تو فدیہ دینے کے لیے کوئی چیز میسر نہیں آئے گی۔ لیکن سزا کی سختی اور قیامت کی ہولناکی کو دیکھ کر ہر مجرم یہ کوشش کرے گا کہ کاش میں کوئی بھی معاوضہ دے کر چھوٹ جاتا۔ لیکن وہاں ایسا نہ ہوسکے گا۔ بلکہ تمہارا انجام ان کافروں جیسا ہوگا جنھوں نے کھلا کھلا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔ کیونکہ عملاً تم میں اور ان میں کوئی فرق نہ رہا۔ بلکہ تم دونوں گروہ اسلام دشمنی میں ایک دوسرے کے مددگار رہے۔ تم دونوں کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہوگا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کو چونکہ کبھی اپنا کارساز نہ بنایا اور نہ کبھی اپنا ہمدرد و غمگسار اور مرجع سمجھا اس لیے اب تمہارا مولیٰ اور مرجع اور کارساز سب کچھ جہنم کی آگ ہوگا۔ اس لیے اب تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دادوفریاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب تمہیں دوزخ ہی میں رہنا ہے اور جو کچھ پائو گے وہیں سے پائو گے اور یہ دوزخ بدترین ٹھکانہ ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِاللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ لا وَلاَ یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ ط وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 16) (کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ ) کمزور ایمان والوں کو تنبیہ اور آگہی اس آیت کریمہ میں جن ایمان لانے والوں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ خاص گروہ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرکے مسلمانوں میں شامل تو ہوگیا تھا لیکن ایمان کی حقیقت ان کے دلوں میں اتری نہیں تھی۔ اور یا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو مرض نفاق میں تو مبتلا نہ تھے لیکن ابھی ان کے ایمان میں پختگی نہیں آئی تھی۔ اگر اس سے پہلا گروہ مراد لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جس حقیقت پر یہ زبانی حد تک ایمان لائے ہیں اس کے لیے عرب کی سرزمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ کفر کی تمام طاقتیں اس کو مٹا دینے پر تلی ہوئی ہیں۔ مسلمان ہر طرف سے سمٹ کر مدینے میں پناہ لینے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔ لیکن اہل مدینہ کے لیے یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہے وہ اگرچہ انصار ہونے کا ہر ممکن حق ادا کررہے ہیں۔ باایں ہمہ مسلمانوں کی ضروریات کی فراہمی تنہا ان کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی۔ پھر مصائب کا یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مخلص مسلمانوں کو بار بار میدانِ جہاد و قتال میں بھی آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ عرب کی تمام قوتیں ان کو تہہ تیغ کردینا چاہتی ہیں اور یہ مٹھی بھر مسلمان ان کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہیں۔ ایسے خطرناک اور دل ہلا دینے والے حالات میں منافقین کا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہورہا۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے ان کے اندر ایثار و قربانی اور سرفروشی کا جذبہ پیدا ہونے کا نام نہیں لیتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کے ایمان میں کچھ بھی سچائی ہے تو کیا ان کا یہ رویہ کچھ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کے دل پگھل جاتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی عزت و حرمت کو قائم رکھنے کے لیے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردیتے۔ لیکن ان کا یہ رویہ اگر ایسے ہی قائم رہا تو اندیشہ ہے کہ اہل کتاب کی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دل مزید سخت نہ ہوجائیں۔ اور اگر ایسا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی سنت دیکھتے ہوئے اس کا شدید خطرہ ہے تو پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے نور سے بہت حد تک محروم کردیئے جائیں گے جیسے اہل کتاب محروم ہوئے۔ اور آج ان کی نافرمانی کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے تورات کو بھی اپنے ہاتھوں سے کھویا اور اب قرآن کریم کے فیضان سے بھی اپنے آپ کو محروم کرلیا ہے۔ اور اگر کمزور مسلمانوں کو اس آیت کریمہ کا مخاطب سمجھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں اس بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دعوت حق کی صداقت و حقانیت کے شواہد کھلتے جارہے ہیں۔ اور جن لوگوں کو اسلام ایک اجنبی چیز معلوم ہوتا تھا اور وہ اسے چند دنوں کی بات سمجھتے تھے وہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اسلام نہ صرف جزیرہ عرب کی ایک قابل ذکر قوت بنتا جارہا ہے بلکہ اس کی صداقت بھی دلوں پر واضح ہوتی جارہی ہے۔ تو کیا ان لوگوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے ایمان میں استحکام پیدا ہو۔ اور اسلام کی بنیادی صداقتوں کے بارے میں انھیں جو شکوک و شبہات لاحق ہیں وہ ختم ہوجائیں اور یہ پورے اخلاص کے ساتھ اسلام کو اپنے دلوں کا نور بنالیں۔ انھیں آگاہ رہنا چاہیے کہ آج تو صرف معاملہ شکوک و شبہات تک ہے لیکن اگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ان کے دل سخت ہوسکتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ان کے سنبھلنے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ ایمان درحقیقت دل کے یقین کا نام ہے۔ زبان کا اقرار آغاز کا کام دیتا ہے اور دماغ کا اطمینان اس میں اضافہ کرتا ہے۔ صرف ایک دل کا یقین ہے کہ جو زبان کے اقرار اور دماغ کے اطمینان کی حفاظت کرتا ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کی طرف اس آیت کریمہ میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ اور اس کے لیے ذکر اللہ اور نزول حق دو تعبیریں اختیار کی گئی ہیں۔ ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ سے وہ تعلق ہے جو کبھی محبت کی شکل اختیار کرتا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے خوف کی۔ اور نزول حق سے مراد اسلام کے بنیادی عقائد، کلیات اور احکام کا وہ مجموعہ ہے جو شریعت کے نام سے قرآن کریم میں نازل کیا گیا ہے۔ اولاً تو دل میں اللہ تعالیٰ کا یقین پیدا نہیں ہوتا۔ اور پھر اس کے راستے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ غیبی امور کو عقیدے کے طور پر ماننا اور شرعی احکام پر عمل کرنا ہے جس سے عام طور پر طبیعتیں ابا کرتی ہیں۔ لیکن جب تک اعضاء وجوارح اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے پر مستعد نہیں ہوتے اور دل کا یقین ان کو غذا فراہم نہیں کرتا اس وقت تک انسان میں وہ چیز پیدا نہیں ہوتی جو اس آیت کریمہ کا حاصل ہے۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

خوب جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کرکے بیان کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو

اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط قَدْ بَـیَّـنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الحدید : 17) (خوب جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کرکے بیان کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ) مزید تنبیہ اور امید کی جھلک گزشتہ آیت کریمہ میں منافقین اور کمزور مسلمانوں کو جس طرح جھنجھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے پیش نظر آیت کریمہ میں بھی اسی حقیقت کی طرف مزید توجہ دلانے کے لیے زیادہ پرزور انداز اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے لفظ سے ہی خواب غفلت سے جگانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ خوب جان لو، آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی آمد اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی بعثت اپنے اثرات و نتائج میں ایسے ہی ہے جیسے نزول باراں۔ بارش کے نزول سے پہلے زمین سورج کی گرمی سے جھلس چکی ہوتی ہے، کسی جگہ ہریاول کا نشان تک نظر نہیں آتا، کسی جگہ سے کوئی کونپل پھوٹتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، زمین بالکل مردہ ہوچکی ہوتی ہے کہ بارانِ رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہیں زمین لہلہا اٹھتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف ہریاول پھیل جاتی ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے زمین نے مخملی لباس پہن لیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس ملک میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی و کتاب کا نزول اس پر شروع ہوتا ہے تو مری ہوئی انسانیت میں زندگی کی لہر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ عقائدِ صحیحہ، اخلاقِ فاضلہ اور اعمالِ حسنہ کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور وہ تمام نیکیاں جو جاہلیت کے اثر سے مٹ چکی ہوتی ہیں، ازسرنو زندہ ہونے لگتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے بھی چند ہی سالوں میں شدید مخالفت کے باوجود انسانیت نے وہ برگ و بار پیدا کیے کہ جس کی مثال اس سے پہلے بہت کم دیکھی گئی تھی۔ صحابہ کرام کے پاکیزہ معاشرے میں ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جن میں عبادت سے لے کر اخلاق تک اور دیانت و امانت سے لے کر احساس کی پاکیزگی تک ایسی حیرت انگیز تبدیلی دکھائی دیتی ہے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ یہ ہمہ گیر تبدیلی اور حسنات و خیر کا یہ خوشگوار منظر منافقین اور کمزور مسلمانوں کے سامنے تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ اگر انسان خوبصورت انسانیت کے پتلے کا نام ہے اور وہی اس دھرتی کا اصل زیور ہے اور انسانوں کی زندگی اسی کی وجہ سے آسودہ اور خوشگوار ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا دین انفرادی اور اجتماعی زندگی میں غالب آسکتا ہے تو پھر اس کی ابتدا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور وہ دن دور نہیں جب یہ تبدیلی پہلے جزیرہ ٔ عرب کو اور پھر دنیا کے بیشتر حصے کو اپنی آغوش میں لے لے گی۔ تو اتنی بڑی دلیل اور اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر بھی اگر وہ صحیح رویہ اختیار نہیں کرتے اور ان کے دل حق کے سامنے نہیں پگھلتے تو پھر اور ایسی کیا نشانی ہوسکتی ہے جو ان کے اندر تبدیلی کی ضمانت بن سکتی ہے۔