56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsروح القرآن

Ayahs 56:1–2

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

یاد رکھو جبکہ واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

تو اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَـۃٌ۔ (الواقعۃ : 1، 2) (یاد رکھو جبکہ واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی۔ تو اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ ) قیامت کا آنا یقینی ہے سورة قٓ سے لے کر گزشتہ سورة تک مسلسل ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وقوع قیامت کے بارے میں کیے جارہے تھے۔ اور اس قیامت کے واقع ہونے پر ہر طرح کے دلائل بھی پیش کیے گئے جن میں دلائلِ آفاق بھی اور دلائلِ انفس بھی۔ اخلاقی دلائل بھی ہیں اور عقلی دلائل بھی۔ اب بجائے وقوع پر دلیل دینے کے براہ راست یہ بات فرمائی گئی ہے کہ تم اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قیامت کے وقوع کو تسلیم کرو یا نہ کرو اور تمہارے شبہات و سوالات کا جو جواب دیا گیا ہے ان پر اطمینان محسوس کرو یا نہ کرو، لیکن تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ وہ اخلاقی ضرورت بھی ہے اور عقل کا تقاضا بھی۔ اور کائنات کے وجوہ کی توجیہ بھی۔ اور انسان کو مکلف مخلوق بنانے اور بیشمار نعمتوں سے نوازنے کا جواز بھی۔ اس لیے اس کا آنا ایسا حتمی اور یقینی ہے کہ جس سے انکار کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسی لیے قیامت کے لیے واقعہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی قریب قریب وہی ہیں جس کے لیے اردو زبان میں ہونی شدنی کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ دوسری آیت میں اس کے واقعہ ہونے کے بارے میں کَاذِبَۃٌ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اگر اس کو اسم فاعل کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس قیامت کا آنا ایسا یقینی ہے کہ جب وہ قیامت آجائے گی تو اس کا جھٹلانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی کوشش کرے کہ اس کو روک دیا جائے اور اس حادثے کو وقوع پذیر نہ ہونے دیا جائے تو ایسا کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ کَاذِبَـۃٌ کو عاقبۃ اور عافیۃ کی طرح مصدر سمجھا جائے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے واقع ہونے میں کسی شک و شبہ اور جھوٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ محض ایک ڈراوا ہے اور اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ لوگ راہ راست پر آجائیں تو یہ اس کی بھول ہے۔ یہ ایک امرواقعہ ہے جس سے بہرحال ہر شخص کو دوچار ہونا ہے۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی

خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۔ (الواقعۃ : 3) (وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔ ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قریش اور بعض دیگر منکرینِ قیامت نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر بالفرض قیامت آہی گئی تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جو سربلندی ہمیں آج حاصل ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دین ہے، وہ ہمیشہ حاصل رہے گی۔ ہم دنیا میں بھی سربلند ہیں اور آخرت میں بھی سربلند رہیں گے۔ اور جنھیں دنیا میں نہایت حقیر سمجھا جاتا ہے اور مال و دولت کے اعتبار سے تہی دامن ہیں ان کا آخرت میں بھی یہی حال ہوگا۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے آنے کے بعد جو محض دنیا کی وجہ سے سربلند ہیں وہ حقیر اور پست ہوجائیں گے۔ اور جنھیں محض ایمان اور سیرت و کردار کی سزا کے طور پر دنیا میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا اور انھیں تکلیف میں مبتلا رکھا گیا وہ وہاں سربلند ہوں گے۔ آخرت کی دنیا نئے قوانین کے تحت وجود میں آئے گی۔ آج عزت و شرف کے جو معیارات ہیں وہ یکسر تبدیل ہوجائیں گے۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ قیامت گرانے والی اور اٹھانے والی ہوگی۔ یعنی ہر چیز تہ وبالا ہو کر رہ جائے گی۔ اور وہ ہر چیز کو الٹ پلٹ کر رکھ دے گی۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، زمین پر پانی پھیل جائے گا اور زمین شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گی۔ بلاشبہ قیامت کے بارے میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں اور اس آیت کے مفہوم میں ان دونوں باتوں کی گنجائش ہے۔
Ayahs 56:4–6

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جبکہ زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پس وہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔ فَـکَانَتْ ھَبَـآئً مُّنْبَثًّا۔ (الواقعۃ : 4 تا 6) (جبکہ زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پس وہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ ) قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر یہ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر ہے کہ اس وقت ساری زمین یکبارگی ہلا دی جائے گی۔ یہ کوئی مقامی زلزلہ نہیں ہوگا جو کسی محدود علاقے میں آتا ہے بلکہ قیامت کا وقوع پوری زمین پر ہوگا۔ اور اس کو اس طرح ہلایا جائے گا کہ اونچے اونچے پہاڑ جنھیں لوگ غیرفانی اور غیرمتزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی ساری بلندیاں پست کردی جائیں گی۔ تمام ایوان اور محلوں کو زمین بوس کردیا جائے گا۔ اسی مضمون کو سورة الحاقۃ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃٌ۔ لا فَیُوْمَئِذً وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ ” اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کردیئے جائیں گے۔ پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔ “
Ayahs 56:7–10

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجائو گے

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں

وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰـثَۃً ۔ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 7 تا 10) (اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجاؤ گے۔ دائیں بازو والے، تو کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ اور بائیں بازو والے، تو کیا حال ہوگا بائیں بازو والوں کا۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ ) لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں آیت میں خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطب تھے، لیکن حقیقت میں اس کی مخاطب پوری نوع انسانی ہے۔ کیونکہ یہ تین گروہوں کی تقسیم قیامت کے دن ہونے والی ہے جس کی بنیاد ایمان اور اعمالِ صالح ہوگی۔ ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک سب لوگ اس تقسیم میں شریک ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ وہ قیامت گرانے والی اور اٹھانے والی ہوگی، یہ دراصل اسی کی تفصیل ہے۔ اس تقسیم میں سب سے پہلے اصحاب المیمنۃ کا ذکر فرمایا گیا جس کے معنی ہیں سیدھے ہاتھ والے، دائیں بازو والے یا داہنے والے۔ اس کی لغوی بحث میں اسے یمین سے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے اور یمن سے بھی۔ لیکن ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں اس کی تصریح موجود ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورة الحاقۃ میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَـہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ ہَاؤُمُ اقْرَأُوا کِتَابِیَـہُ ” تو اس دن جس کا اعمال نامہ اس کے دہنے پکڑایا جائے گا وہ لوگوں سے خوش ہو کر کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ، پڑھو۔ “ اور دوسرے وہ لوگ ہوں گے جنھیں اصحاب المشئمۃ کہا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے بائیں بازو والے۔ اس کی بھی لغوی تحقیق کی ضرورت نہیں، قرآن کریم میں اس کی مراد کی صراحت کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے : وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَـہُ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یَالَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَـہُ ” رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ کاش میرا اعمال نامہ مجھ کو نہ ملتا۔ “ تیسرا گروہ وہ ہے جس کو سابقون کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کرگئے۔ بھلائی کے ہر کام میں سب سے آگے رہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہی۔ جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق کا، ہمیشہ دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور اس کے سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔ یہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن سب سے آگے رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نعمتیں ان پر نچھاور ہوں گی۔ یہ لوگ وہاں تک پہنچیں گے جو انسانی شرف و فضیلت کا آخری نقطہ ہے۔ اور اس نقطہ کمال کا اندازہ آج کسی کے بس میں نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب الیمین وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاص اور نیکیوں کی کثرت کی وجہ سے ان کی بخشش کا فیصلہ ہوگا۔ اور اعزاز کے طور پر ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ رہے وہ مسلمان جو اپنے گناہوں کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور سزا جھیلنے کے بعد ایمان پر خاتمے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور آخر وہ جنت میں بھیج دیئے جائیں گے۔ ان لوگوں کا شمار اصحاب الیمین میں نہیں ہوگا۔ اسی طرح اصحاب المشئمہوہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین سے انکار یا نفاق کی وجہ سے نفرت و کراہت کے سزاوار ٹھہریں گے۔ ان کی بدبختی اور بدانجامی کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا اور الفاظ اس کے بوجھ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 56:11–14

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہی لوگ مقرب ہوں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

اگلوں میں سے بہت ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور پچھلوں میں تھوڑے ہوں گے

اُوْلٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 11 تا 14) (وہی لوگ مقرب ہوں گے۔ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے۔ اور پچھلوں میں تھوڑے ہوں گے۔ ) سابقون کا اعزاز جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تائید و نصرت کے لیے سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں دیں اور خدمت انجام دی وہی لوگ سب سے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔ اور وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوں گے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں گل سرسبد اور سرخیلِ قافلہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس لیے سب سے پہلے ان کا ذکر فرمایا گیا۔ انھیں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ قیامت کے دن یہ نعمتوں سے بھرپور باغوں میں قیام پذیر ہوں گے۔ جنت تو ان تمام لوگوں کو ملے گی جو بخشش کے سزاوار ٹھہریں گے۔ لیکن سب کا درجہ برابر نہیں ہوگا اور درجے کے اعتبار سے انعام میں بھی تفاوت ہوگا۔ اس لحاظ سے سب جنتیں یکساں نہیں ہوں گی۔ اور نہ سب کو ایک ہی جنت ملے گی، بلکہ جو مقربینِ بارگاہ ہیں انھیں کئی کئی جنتوں سے نوازا جائے گا۔ ایسے خوش نصیب لوگ اگلوں میں زیادہ ہوں گے اور پچھلوں میں کم۔ ثُلَّۃٌ ویسے تو گروہ اور جماعت کے معنی میں بولا جاتا ہے لیکن یہاں چونکہ اس کے مقابل میں قَلَیْلٌکا لفظ استعمال ہوا ہے، اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے معنی میں لیا جائے۔ اولین و آخرین سے مراد کیا ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے نبی کریم ﷺ کی بعثت تک جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لوگ آخرین میں شامل ہیں۔ بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے مراد نبی کریم ﷺ کی امت کے اولین و آخرین ہیں۔ یعنی آپ کی امت میں ابتدائی دور کے لوگ اولین ہیں جن میں سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اور بعد کے لوگ آخرین ہیں جن میں سابقین کی تعداد کم ہوگی۔ قرآن کریم کو دیکھتے ہوئے دوسرا مفہوم راجح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں یہ صراحت فرمائی گئی ہے کہ جن خوش نصیبوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کی، بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہوگا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے۔ یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبے کو تو نہ پہنچیں گے تاہم اپنے اخلاص و حُسنِ عمل سے ان کے لیے اصحاب الیمین میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہوگی۔ وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور جن کو بیش از بیش انعامات سے نوازا جائے گا ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ اگلوں میں بڑی تعداد میں ہوں گے اور پچھلوں میں کم ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت اور راہ خدا میں انفاق میں سبقت کرگئے وہ یقینا مقربین میں شامل ہوں گے۔ لیکن سب کا مقام یکساں نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا تو ثُلَّۃٌکا لفظ استعمال نہ کیا جاتا۔ ان کی اکثریت کو تو یہ مقام ضرور حاصل ہوگا لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اصحاب الیمین میں تو شمار ہوں گے لیکن مقربین کے مقام تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اور اس امت کے پچھلوں میں اگرچہ تھوڑے ہوں گے لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی عزیمت اور استقامت کی وجہ سے مقربین میں جگہ پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
Ayahs 56:15–24

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

مرصع تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا اور نہ وہ فتورِعقل میں مبتلا ہوں گے

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے ان کی پسند کے

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کے گوشت ان کی رغبت کے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گے

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی مانند

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

صلہ ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے

عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ۔ مُّتَّـکِئِیْنَ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ 5 لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ لاَّیُصَدَّعُوْنَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُوْنَ ۔ وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ وَحُوْرٌعِیْنٌ۔ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ ۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 15 تا 24) (مرصع تختوں پر۔ ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی خدمت میں لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ پیالے، جگ اور شراب خالص کے ساغر لیے ہوئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا اور نہ وہ فتورِعقل میں مبتلا ہوں گے۔ اور میوے ان کی پسند کے۔ اور پرندوں کے گوشت ان کی رغبت کے۔ اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گے۔ چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی مانند۔ صلہ ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ ) مقربین کی جنت کی تصویر اللہ تعالیٰ ان مقربین کو جنت میں جن نعمتوں سے نوازے گا اس کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ سب سے پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے اندازِنشست کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ جن تختوں پر تشریف فرما ہوں گے وہ سونے چاندی سے مرصع ہوں گے۔ اور گائو تکیوں سے ٹیک لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ اور بےتکلفی سے آمنے سامنے بیٹھنے کا ذکر اس لیے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ دل کے صاف، کدورت سے دور اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ گویا ان کی نشست ایسی ہوگی جیسے دنیا میں شاہانِ عجم کا دربار ہوتا تھا۔ اس کے بعد سامانِ ضیافت کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے مقربین کی تواضع کی جائے گی۔ اور خدمت گزار مختلف عمروں کے لوگ نہیں بلکہ ایسے نوعمر لڑکے ہوں گے جنھیں قرآن کریم نے دوسری جگہ غلمان کے نام سے یاد کیا ہے جو ہمیشہ ایک ہی عمر کے رہیں گے۔ اور وہ ان کی نشستوں میں پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت چکر لگاتے رہیں گے تاکہ جس کو جس چیز کی اشتہا پیدا ہو وہ اس کے سامنے موجود رہے۔ بلاشبہ خدام کے لیے مستعد اور چست ہونا خدمت کا پہلا زینہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے نوعمری سے بہتر اور کوئی عمر نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں شاید پیدا ہی اس کام کے لیے کیا گیا ہوگا۔ بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے بارے میں مختلف باتیں کہیں ہیں کہ یہ کفار کے بچے ہوں گے جو نابالغی میں وفات پا گئے، یا ان مسلمانوں کی اولاد ہوگی کہ جن کے والدین جنت میں نہ جاسکے اور وہ خود نابالغ ہونے کی وجہ سے حساب کتاب سے بچے رہے۔ لیکن صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑکے مقربین کی خدمت ہی کے لیے ایک ہی عمر کے پیدا کیے جائیں گے اور اسی کے مطابق ان کو تربیت دی جائے گی۔ وہ جن برتنوں میں مقربین کو شراب طہور پیش کریں گے ان کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ کسی حد تک وضاحت طلب ہیں۔ اکواب، کو ب کی جمع ہے۔ کو ب اور کپ ایک ہی چیز ہے جو پیالے پر بولا جاتا ہے۔ اباریق، ابریق کی جمع ہے، یہ فارسی کے آب ریز سے معرب معلوم ہوتا ہے۔ کأس ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جامِ شراب دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور مَعِین شرابِ خالص کا ایک چشمہ ہے جو جنت میں ہے۔ اس شراب کے بارے میں فرمایا کہ دنیا میں پی جانے والی شراب سے جو مضر اثرات ہوتے ہیں یہ شراب ان تمام مضر اثرات سے پاک ہوگی۔ دنیوی شراب سے جس طرح جسم ٹوٹتا، خمار پیدا ہوتا اور دردسر لاحق ہوتا ہے، جنت کی شراب ایسے تمام مفاسد سے پاک ہوگی۔ دنیوی شراب سے عقل جاتی رہتی ہے لیکن جنت کی شراب اس زہر سے محفوظ ہوگی۔ جنت کے ساتھ جو لوازم مہیا کیے جائیں گے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان کے سامنے بڑی مقدار میں ایسے پھل پیش کیے جائیں گے جو ان کا اپنا انتخاب ہوگا۔ اور اگر وہ گوشت کھانا چاہیں گے تو ان پرندوں کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا جائے گا جو ان کو پسند ہوں گے۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ یہ چیزیں غیرمعمولی طریقے سے جنت ہی میں ان کے لیے مہیا کی جائیں۔ یعنی وہاں صرف پیٹ ہی کی غذا مہیا نہیں کی جائے گی بلکہ ہر شخص کے ذوق اور انتخاب کا بھی لحاظ کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس نعمت کا ذکر کیا گیا ہے جس کے بغیر ہر شخص کی شخصیت میں خلاء باقی رہ جاتا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو انسان کی شخصیت کو مکمل کرتی اور اس کے لطف و لذت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ اس سے مراد وہ بیویاں ہیں جو خوبصورت حوروں کی شکل میں انھیں ملیں گی۔ اور وہ اس قدر اچھوتی اور پاکیزہ ہوں گی جیسے دُرِمکنون ہوتا ہے۔ یعنی وہ موتی جسے نگاہوں سے بھی چھپا کے رکھا گیا ہو اور جس کے حسن کا عالم یہ ہو کہ : ہَوا بھی چھو جائے تو رنگ ہو میلا ان ساری نعمتوں کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ ساری نعمتیں ان کو ان کے اعمال کے صلے میں ملیں گی۔ انھوں نے دنیا میں اپنی اطاعت اور استقامت سے ان نعمتوں کا استحقاق پیدا کیا ہوگا۔ اور رب کریم ان کو حق کے طور پر یہ سب کچھ عطا فرمائے گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی کریمی کا جس حد تک بھی شکرادا کیا جائے کم ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ یقینا عطا و بخشش سے بھی خوش ہوتا ہے لیکن اسے حقیقی خوشی اس وقت نصیب ہوتی ہے جب اسے کوئی غیرمعمولی چیز حق کے طور پر ملتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کا حال یہ ہے کہ کوئی شخص ہزار کوشش بھی کرے تو اس کا کوئی عمل اس قابل نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل ہو۔ اس لیے اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور فضل کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے کمزور اعمال کو بھی اتنی عزت عطا فرمائے گا کہ اپنی بیش از بیش نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دے گا۔
Ayahs 56:25–26

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہ اس جنت میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر ایک بولنا سلام سلام

لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلاَ تَاْثِیْمًا۔ اِلاَّ قِیْلاً سَلٰـمًا سَلٰـمًا۔ (الواقعۃ : 25، 26) (وہ اس جنت میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر ایک بولنا سلام سلام۔ ) اہلِ جنت کے ذوق کی پاسداری اہلِ جنت جس پاکیزہ ذوق کے مالک ہوں گے اگر تمام نعمتوں کے باوجود ان کے ذوق کی تسکین کا سامان نہ ہوتا تو وہ نعمتیں شاید انھیں وہ خوشی مہیا نہ کرسکتیں جو انھیں ملنی چاہیے تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے اس بہت بڑی نعمت کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کو کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ چونکہ دنیا میں مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی تہمتوں، نکتہ چینیوں اور ژاژ خائیوں کے ہدف بنے رہے ہیں۔ اب ان کا صلہ یہ دیا جائے گا کہ وہاں وہ کسی بکواس کرنے والے کی بکواس نہیں سنیں گے، کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔ وہاں انھیں ہر طرف وہ کچھ سننے کو ملے گا جو ان کے ذوق کی طلب ہوگی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ وہ کوئی بےہودہ اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے بلکہ ہر طرف فرشتوں کی طرف سے اور ساتھیوں کی طرف سے سلام ہی سلام سننے کو ملے گا۔
Ayahs 56:27–38

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ بےخار بیریوں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور پھیلے ہوئے سایوں میں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور بہایا ہوا پانی

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور فراواں میوے

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے بستر ہوں گے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

اور ان کی بیویوں کو ہم نے خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

دلربا اور عمر میں ہم سِن

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یہ نعمتیں دائیں بازو والوں کے لیے ہوں گی

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔ اور اونچے بستر ہوں گے۔ اور ان کی بیویوں کو ہم نے خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں۔ دلربا اور عمر میں ہم سِن۔ یہ نعمتیں دائیں بازو والوں کے لیے ہوں گی۔ ) اصحابُ الیمین کو جنت میں ملنے والی نعمتوں کا ذکر یہاں سے اصحاب الیمین کو جنت میں جو انعامات ملیں گے اور جن نعمتوں سے انھیں نوازا جائے گا، ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اوپر جن خوش نصیبوں کا ذکر اصحاب المیمنۃ کے الفاظ سے ہوا ہے ان ہی کا ذکر اب اصحاب الیمین کے الفاظ سے ہورہا ہے۔ ان کی عظمت و شان اور ان کے مقام و مرتبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دائیں بازو والوں کی کیا بات ہے۔ یعنی الفاظ اس کے ذکر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پھر جن پھلوں سے جنت میں ان کی تواضع کی جائے گی ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کو ایسی بیریوں کے بیر کھانے کو ملیں گے جن کے کانٹے نہیں ہوں گے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی آدمی خود سے بیری سے بیر اتار کر کھانا چاہے تو کانٹے اس کے ہاتھوں کو زخمی کردیں۔ اور دنیا میں بھی یہ دیکھا ہے کہ جن بیریوں کے بیر خوش ذائقہ اور خوشبودار ہوتے ہیں ان بیریوں پر کانٹے بہت کم ہوتے ہیں۔ اور مزید یہ بات بھی ہے کہ ہمارے علاقے میں تو بیری کے درخت کی کوئی خاص وقعت نہیں۔ لیکن بعض علاقوں میں اس پھل کو نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ نہایت لذیذ، خوشبودار اور خوش رنگ ہوتا ہے۔ اس لیے سورة سبا میں جن جنت نشان باغوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں بیری کے درخت بھی تھے جو تباہ ہونے کے بعد جھاڑ بن کر رہ گئے تھے۔ اور سب سے زیادہ جو قابل توجہ بات ہے وہ یہ ہے کہ یہاں جن بیریوں کا ذکر ہے یہ جنت کی بیریاں ہیں جن کی اصل حقیقت جاننے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس درخت کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ اسی وجہ سے وہ درخت جس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی بارش ہوتی ہے اور جسے آنحضرت ﷺ نے عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے نقطہ ٔ اتصال پر دیکھا تھا جس کا نام سدرۃ المنتٰہی ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس درخت سے اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اور تجلیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کیا، کوئی تعجب نہیں کہ وہ بھی بیری ہی کا درخت ہو۔ جنت کے جس دوسرے پھل کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ کیلا ہے۔ اور وہ کیلا بھی ایسا ہوگا جو تہ در تہ ایک دوسرے سے پیوست ہوگا۔ پھلوں کے بعد جنت کی شادابی اور خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہاں کے درخت ایک دوسرے سے متصل اور اس قدر شاداب اور سرسبز ہوں گے کہ ان کے اندر دھوپ کا گزر نہیں ہوگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر طرف سایہ ہی سایہ ہوگا۔ اور پانی چونکہ وہاں کبھی ختم نہیں ہوگا اس مسلسل پانی کی وجہ سے اس کی شادابی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ مزید فرمایا کہ اوپر جن پھلوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا ذکر محض مثال کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ وہاں اہل جنت کو بکثرت دوسرے پھل بھی دیئے جائیں گے۔ اور وہ پھل ایسے ہوں گے جو کسی موسم کے بدلنے سے متأثر نہیں ہوں گے۔ بلکہ ہر وقت دستیاب اور سدابہار رہیں گے۔ ایسا بھی نہیں ہوگا کہ کبھی کوئی روکنے والا ان پھلوں سے روکے، یا باغوں پر ایسی افتاد آئے کہ پھل ضائع ہو کے رہ جائے۔ پھر اہل جنت کی نشست گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچی نشست گاہیں بنائی جائیں گی۔ آرام کرنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے۔ اور اسی کی نسبت سے بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم ان کی بیویوں کو نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انھیں خاص اٹھان پر اٹھایا جائے گا۔ حوروں کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہ بیویاں مراد ہیں جو اپنے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے جنت کی مستحق ٹھہریں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں ازسرنو جوان بنا دے گا چاہے ان کا انتقال کسی عمر میں بھی ہوا ہو۔ اور وہ شکل و صورت میں کیسی بھی رہی ہوں انھیں نہایت خوبصورت، کنواری اور باکرہ بنادیا جائے گا۔ اور یہ کیفیت ان کی ہمیشہ رہے گی۔ اور ایسی شکل و صورت ان کو عطا کی جائے گی جنھیں عُرُبٌ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ عُرُوبٌ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہیں محبوب اور دلربا بیوی، جو بہترین نسوانی خوبیوں کی حامل ہو۔ خوش اطوار اور خوش گفتار ہو، اور شوہر کو دل و جان سے چاہتی ہو اور اس کا شوہر بھی اس پر فدا ہو۔ اور مزید ان کی خوبی یہ ہے کہ انھیں اتراب بنایا جائے گا۔ اتراب، تِرْبٌ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ہم سِن اور ہم عمر۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ اپنی شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی۔ یعنی تمام جنتی عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں گی اور ہمیشہ اسی عمر کی رہیں گی۔ کوئی بعید نہیں کہ یہ دونوں باتیں ہی بیک وقت صحیح ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا کی زندگی میں اس حال میں مری ہیں کہ وہ بوڑھی پھونس تھیں، آنکھوں میں چیپڑ، سر کے بال سفید۔ اس بڑھاپے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو پھر سے باکرہ پیدا کردے گا۔ حضرت ام سلمہ ( رض) نے پوچھا کہ اگر کسی عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہ چکے ہوں اور وہ سب جنت میں جائیں تو وہ ان میں سے کس کو ملے گی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جسے چاہے چن لے۔ اور وہ اس شخص کو چنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب ! اس کا برتائو میرے ساتھ سب سے اچھا تھا، اس لیے مجھے اس کی بیوی بنا دے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اے ام سلمہ ( رض) ! حُسنِ اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیا ہے۔ اس کے بعد پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ یہ ساری نعمتیں جو اوپر یبان ہوئی ہیں اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ یعنی دائیں بازو والے ان نعمتوں سے متمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں بیش از بیش شرف عطا فرمائے گا۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

ان اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ

ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 39، 40) (ان اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ سابقون کی تعداد تو پہلے لوگوں میں زیادہ ہوگی۔ اور پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ سعادت کم خوش بختوں کو حاصل ہوگی۔ لیکن دائیں بازو والے پہلوں میں بھی اور بعد کے آنے والوں میں بھی بڑی تعداد میں ہوں گے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد تو سارے صحابہ ہی اصحاب الیمین میں شامل ہیں اور اسی طرح تابعین بھی بڑی تعداد میں شامل رہے ہوں گے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا حتیٰ کہ قیامت تک جتنے مسلمان آئیں گے ان میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کا شمار دائیں بازو والوں میں ہوگا۔