55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsروح القرآن

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمن نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن کی تعلیم دی ہے

اَلرَّحْمٰنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ (الرحمن : 1، 2) (رحمن نے۔ قرآن کی تعلیم دی ہے۔ ) نزولِ قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے اس سورة کا پہلا لفظ الرحمن ہے جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کا تعارف بھی ہے اور بعض اعتراضات کا جواب بھی۔ تعارف ان معنوں میں کہ انسان ایک مخلوق ہے اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کا خالق ہے۔ اس مخلوق کی جسمانی ضروریات ہیں، ان ضروریات کی فراہمی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع دسترخوانِ ربوبیت پھیلا رکھا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا رب ہے۔ لیکن یہ تعارف جس طرح انسان کے لیے کافی ہے اسی طرح حیوانات اور دیگر مخلوقات کے لیے بھی کافی ہے۔ کیونکہ تمام مخلوقات اسی نے تخلیق فرمائی ہیں اور وہی ہے جو ہر مخلوق کو روزی فراہم کررہا ہے اور ان کی ہر طرح کی ضروریات کو مہیا فرما رہا ہے۔ لیکن انسان اس کے علاوہ بھی اپنے وجود کے تقاضے رکھتا ہے۔ اس کے اندر ایک جمالیاتی ذوق بھی ہے۔ اسے جوہرِعقل سے بھی نوازا گیا ہے۔ اس کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی قوت بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اندر منفی جذبات بھی رکھتا ہے۔ خواہشات کا اسیر بھی ہے۔ ہَوائے نفس کے تقاضے اسے راہ سے اتار بھی سکتے ہیں۔ اور اس کے منفی جذبات اس سے ان امور کو بھی صادر کروا سکتے ہیں جنھیں خود اس کی عقل اور اس کی اخلاقی حس غلط سمجھتی ہے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے رحمن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی صفت تخلیق نے تو دوسری مخلوقات کی طرح انسان کو پیدا کیا۔ لیکن اس کی صفت رحمت نے اسے ذوق جمال سے نوازا۔ اسے تنوع پسند بنایا۔ اسے نازک احساسات اور پاکیزہ جذبات سے آراستہ کیا۔ وہ دوسری مخلوقات کی طرح صرف جسمانی ضرورتیں نہیں رکھتا بلکہ اپنے اندر ایک ایسے نظام کی طلب رکھتا ہے جو اس کے منفی جذبات کو سرد رکھے اور مثبت جذبات کو بروئے کار لائے، جو اس کی خواہشات اور ہَوائے نفس کو عقل اور اخلاق پر غالب نہ آنے دے۔ اور جو معاملات کی دنیا میں اسے ہوس اور مفاد کی محبت کی بجائے ایک توازن، عدل اور ایثار کا پیکر بنائے۔ چناچہ یہ وہ ربوبیتِ معنوی اور روحانی ہے جس نے انسان کی انسانیت کو محفوظ رکھا، اور جس نے اسے باقی مخلوقات پر شرف عطا فرمایا۔ اور یہ اس کی صرف صفت ربوبیت نہیں بلکہ اس کی رحمت کا ظہور ہے۔ چناچہ اسے بروئے کار لانے کے لیے اس نے جن و انس کو سختی، تشدد اور عذاب کے ذریعے راہ راست پر رکھنے کی بجائے تعلیم و تربیت سے راہ راست پر چلانے کو پسند فرمایا۔ اسی لیے ارشاد فرمایا کہ رحمن وہ ہے جس نے قرآن کی تعلیم دی۔ کیونکہ قرآن کریم کے اندر وہ رہنمائی اور وہ نظام زندگی موجود ہے جس کو بروئے کار لانے سے انسانی زندگی میں ہمواری اور خوش اطواری پیدا ہوسکتی ہے۔ اور ساتھ یہ ساتھ اسی سے مشرکینِ مکہ کا یہ اعتراض بھی رد کیا گیا ہے کہ قرآن شاید محمد ﷺ کی اپنی تصنیف ہے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ ان کی تصنیف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا معاملہ کرتے ہوئے اسے اس کی تعلیم دی ہے۔ اور اسے باقی نوع انسانی کی تعلیم کے لیے واسطہ بنایا ہے۔
Ayahs 55:3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اور اسے گویائی سکھائی

خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ۔ (الرحمن : 3، 4) (اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ اور اسے گویائی سکھائی۔ ) تخلیقِ انسان کا تقاضا انسان کی ہدایت ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک ایسی صفت کا ذکر فرمایا ہے جسے اہل عرب تسلیم کرتے تھے، لیکن اسے تسلیم کرنے کے بعد اس سے جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں ان پر کان دھرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانتے ہو تو تمہیں یہ بات کیوں سجھائی نہیں دیتی کہ جو کسی چیز کو تخلیق کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنے مقصدوجود کو پورا کرسکے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ خالق نہیں اور یا وہ تخلیق کے تقاضوں کو نہیں جانتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بدرجہا بلند ہے کہ اس کے بارے میں ایسی بدگمانی کی جائے۔ چناچہ اس نے اپنے خالق ہونے کی وجہ سے اپنے اوپر یہ لازم کرلیا ہے کہ وہ انسانوں کو اپنا مقصدوجود پورا کرنے کا ایک نظام بھی عطا فرمائے گا اور اس کا فہم بھی بخشے گا۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اِنَّ عَلَیْنَا لِلْھُدٰی ” بیشک ہدایت اور رہنمائی ہماری ذمہ داری ہے۔ “ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُالسَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَائِرْ ” یہ اللہ کے ذمہ ہے کہ سیدھا راستہ بتائے، اور ٹیڑھے راستے بہت سے ہیں۔ “ چناچہ اس نے سیدھا راستہ بتانے کے لیے قرآن اتارا، اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت گویائی عطا فرمائی۔ بیان : بولنے اور گویائی کو کہتے ہیں۔ لیکن معمولی تدبر کے بعد یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ صرف بول لینا انسانی ضرورت کی کفایت نہیں کرتا۔ کیونکہ بول تو طوطا بھی سکتا ہے اگر اس کے سدھایا جائے۔ لیکن صرف بولنے سے اس کے اندر آدمیت تو نہیں آجاتی۔ ذوق نے ٹھیک کہا : آدمی کچھ اور شے ہے، آدمیت اور ہے لاکھ طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا کیونکہ اس گویائی اور اظہار مافی الضمیر کے پیچھے خیر و شر اور بھلائی اور برائی میں امتیاز کی قوت اور جوہرِعقل کی نمود بھی ضروری ہے ورنہ ان کے بغیر صرف بول لینا انسانی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔ ایک آدمی اگر عقل و شعور، فہم و ادراک، تمیز و ارادہ، اور دوسری ذہنی قوتوں سے مالامال نہیں تو محض اس کے بولنے کی قوت اسے نہ تو دوسرے حیوانات سے ممیز کرتی ہے اور نہ اس سے انسانیت کی خدمت ہوتی ہے۔ اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد اس پر ایمان لانے والوں کو اس کے دیئے ہوئے پیغام کو دوسرے تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے اور جس ذات عزیز پر یہ قرآن کریم اتارا گیا ہے اسے خاتم النبیین بنایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر ایمان لاکر اور اللہ تعالیٰ کے قرآن کو مان کر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ درحقیقت ایک مبلغ اور مناد کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس پہلو سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان، یعنی دوسروں تک اس پیغام کو پہنچانے کی صلاحیت دے کر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اور انسان نے اسی صلاحیت کو آگے بڑھاتے ہوئے استدلال، استنباط اور اجتہاد کے اصول وضع کیے، اس کی تربیت کے ادارے کھولے، اس کے لیے کتابیں مرتب کی گئیں، پھر اس کے لیے رجال سازی کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے مدارس کھولے گئے اور ایک باقاعدہ نظام تعلیم و تربیت وجود میں آیا۔ اور یہ سب کچھ اس بیان کا تقاضا اور اس کا شاخسانہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا۔
Ayahs 55:5–6

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُبِحُسْبَانٍ ۔ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۔ (الرحمن : 5، 6) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔ اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں۔ ) کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابند ہے انسانوں کے لیے قرآن کی صورت میں ایک نظام زندگی کا ذکر کرنے کے بعد ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جس سے انسانوں کے لیے اس نظام زندگی کی پیروی، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کی تنفیذ، اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی نشرواشاعت کی پابندی کا احساس ابھرتا ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ یہی درحقیقت وہ چیز ہے جو ہماری بقاء اور فوزوفلاح کی ضامن ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ تم اجرامِ فلکی کو دیکھو جن میں سب سے بڑے سیارے سورج اور چاند ہیں۔ تم نے کبھی دیکھا ہے کہ سورج نے کبھی اپنا فرض انجام دینے میں کوتاہی کی، کبھی اس نے اپنا محور بدلا ہو، کبھی اس نے راستہ بدلنے کی کوشش کی ہو، اور اس نے کبھی طلوع و غروب میں پس و پیش کا ثبوت دیا ہو۔ اسی طرح چاند، اس نے کبھی اپنے فرائض میں کوتاہی کی ہو، کبھی اس نے اپنی منزلیں بدلی ہوں، کبھی اس نے اپنے فرائض کے ضابطے میں تبدیلی کی ہو۔ دونوں نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اس فرض کو انجام دے رہے ہیں جو ان پر عائد کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا لاَالشَّمْسُ یَنْـبَغِیْ لَہَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ کُلٌّ فِیْ فَـلَـکِ یَسْبَحُوْنَ ” نہ سورج کے لیے یہ روا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے، اور نہ رات کو یہ حق ہے کہ وہ دن سے سبقت کرجائے، ہر ایک اپنے مدار میں گردش کررہا ہے۔ “ اس کے نظم و ضبط نے انسانوں کے لیے حساب کا ایک ایسا معیار قائم کردیا ہے کہ نہ کبھی شمسی حساب میں کوئی گڑبڑ ہوتی ہے اور نہ قمری حساب میں آج تک کبھی کسی غلطی کا امکان ہوا ہے۔ ورنہ ہماری جنتریاں اور ہمارے حساب کے تمام قواعد و ضوابط غلط ہو کر رہ جاتے۔ اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ستارے ہوں یا درخت یعنی دیگر اجرامِ فلکی ہوں یا زمین پر سر اٹھا کر کھڑے ہونے والے درخت یا دیگر نباتات وہ سب اللہ تعالیٰ کے نافذ کردہ قانون کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ زمین نے آج تک کبھی نباتات کو اگانے میں پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ سورج نے کبھی غلے کو پکانے میں تساہل نہیں برتا۔ اس کی کرنوں نے کبھی سمندر سے پانی کے بھاپ اٹھانے میں دریغ نہیں کیا اور ہَوائوں نے آبیاری میں اپنا فرض انجام دینے میں کوتاہی نہیں کی۔ اور پھر یہ عناصر باہمی تخالف کے باوجود ایک برتر قانون کے سامنے اس طرح توافق کا اظہار کرتے ہیں کہ کبھی اس میں انحراف کا پہلو سامنے نہیں آتا۔ اور کبھی کسی جگہ کوئی فساد رونما نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نافذ کردہ تکوینی نظام پوری طرح کائنات کی ہر مخلوق اور ہر ذرے پر نافذ ہے اور اس قانون کی اطاعت میں جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے کبھی کسی کی طرف سے معصیت یا سرکشی کا ظہور نہیں ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پوری کائنات جن و انس کے علاوہ اپنے اپنے سفر پر رواں دواں ہے، اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے اور کبھی اس میں کسی فساد یا خلل کا اندیشہ تک پیدا نہیں ہوا۔ جن و انس کے لیے بھی عافیت کا راستہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ وہ نظام جو اس نے قرآن کی صورت میں جن و انس کا عطا فرمایا ہے اگر خوش دلی، خوش اسلوبی اور پوری آمادگی سے زندگی کے ہر دائرے میں اس کی اطاعت اور پابندی قبول کرلی جائے تو ہر طرح کی خرابی دور ہوسکتی ہے۔ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے، حقوق کے ادا کرنے میں پس و پیش نہ ہو، اپنی حیثیت کو پہچان کر اپنی حدود میں رہا جائے اور دوسرے کی حیثیت کو جان کر کبھی اس میں خلل انداز ہونے کی کوشش نہ کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون حواس و عقل، فہم و ادراک سے لے کر گھروں، محلوں، بازاروں، منڈیوں، عدالتوں سے گزرتا ہوا ایوان ہائے حکومت تک پوری طرح کارفرما ہو تو کسی جگہ کسی خرابی کے پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں میزان رکھی

وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ (الرحمن : 7) (اور اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں میزان رکھی۔ ) آسمان کا وجود اور اس کی بلندی عدل اور توازن کے باعث ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس قدر بلند کیا ہے کہ آج تک اس کی بلندی کا اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ سائنس دان آج تک اس کے وجود کو نہ جان سکے اور اس دکھائی دینے والی نیلگونی چیز کو حدِنگاہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن آسمان کے وجود سے ان کی بیخبر ی کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ عدم علم، عدمِ وجود کو مستلزم نہیں ہوتا۔ کتنے ایسے حقائق ہیں جن سے آگاہی سائنس نے رفتہ رفتہ حاصل کی ہے۔ اسی طرح آج بھی بہت سی ایسی حقیقتیں ہیں جن کی طرف سفر جاری ہے لیکن منزل اب تک بھی کوسوں دور معلوم ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نہ کسی دن سائنس آسمان کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے۔ لیکن ہمارے لیے مخبرصادق ﷺ کی خبر کافی ہے کیونکہ آپ معراج کے سفر میں نہ صرف آسمانوں کو دیکھ چکے ہیں بلکہ ان کی سیر بھی کرچکے ہیں۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک جتنے بھی عظیم انبیاء و رسل تشریف لائے ہیں سب نے آسمان کے وجود کا اعتراف کیا اور خبر دی ہے۔ اور مزید یہ کہ اتنی عظیم مخلوق کے اعتراف کے باوجود آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ستونوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ یہ ایک بےستون چھت ہے جس نے ساری کائنات کو گھیر رکھا ہے۔ اور اس کے ثابت و قائم ہونے کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک میزان رکھی ہے۔ اور بیشتر مفسرین نے میزان سے مراد عدل اور توازن لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ اور یہ بےحد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں اور یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کررہی ہیں اور یہ لاتعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہان میں پائی جاتی ہیں ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا ہوتا تو یہ کارگاہِ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

یہ کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

اَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ۔ (الرحمن : 8) (یہ کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۔ ) انسان کی عافیت بھی عدل اور توازن میں ہے یعنی جس طرح ساری کائنات توازن اور عدل کے ذریعے اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اور اپنے مقاصدِحیات کو بروئے کار لارہی ہے اور جس میں کہیں جھول پیدا نہیں ہوتا، تم بھی اسی طرح اپنی زندگی کے نظام کو عدل پر قائم کرو۔ یعنی زندگی کے جس دائرے میں تمہیں اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے اس میں اپنے اختیار کی صحیح حدود کو سمجھو، اور پھر اس سے سرمو انحراف نہ کرو۔ جن حقداروں کے حقوق تمہارے تصرف میں ہیں ان کے حقوق ادا کرو۔ اور اپنے فرائض کے کبھی تارک نہ بنو۔ جب زندگی کے ہر دائرے میں تم ظلم اور سرکشی کو ختم کردو گے تو تمہاری زندگی بھی باقی کائنات کی طرح ہر طرح کے فساد اور ہر طرح کی خرابی سے بچ جائے گی۔
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور ٹھیک تولو انصاف کے ساتھ، اور وزن میں کمی نہ کرو

وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ (الرحمن : 9) (اور ٹھیک تولو انصاف کے ساتھ، اور وزن میں کمی نہ کرو۔ ) میزان کی حقیقت کو انسانی زندگی میں ملحوظ رکھنے کا حکم اوپر کی دو آیات میں ہمیں اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آسمان کا بےستون قائم ہونا اور کائناتی نظام کا بےغل و غش جاری وساری رہنا صرف ایک میزان اور توازن کی وجہ سے ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کائنات کے قیام وبقاء کا ذریعہ بنایا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھیں۔ اس حقیقت کے انکشاف کے بعد اب ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام ایک میزان پر قائم کیا ہے اور وہ انسانوں سے بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے دائرہ کار میں اس توازن، عدل اور قسط کو قائم رکھے۔ وہ اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ انسان روزمرہ کے لین دین اور ناپ تول میں ڈنڈی مارے، توازن اور انصاف کے اصولوں کو مجروح کرے۔ کیونکہ ایسا کرنا ایک منفرد برائی نہیں بلکہ پورے نظام تمدن کو درہم برہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور جب کوئی قوم اس فساد کو قبول کرلیتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے نظام بقاء کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ قوم شعیب کی سرگزشت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ نہ صرف اس برائی میں مبتلا تھے بلکہ یہ برائی ان کی دوسری برائیوں سے بھی نمایاں ہوگئی تھی، اور جس نے ان کی پوری زندگی پر اثرانداز ہونا شروع کردیا تھا۔ تو آخر یہی برائی ان کی تباہی کا باعث بنی۔ اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناپ تول میں کمی صرف کاروبار اور تجارت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے برے اثرات زندگی کے ہر دائرئے میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس طرح سے اس قوم کے تمدن کا ہر ٹانکا ادھڑ کے رہ جاتا ہے۔ اور وہ قوم نہ صرف اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے توڑ لیتی ہے بلکہ اس کے اندر سے عدل اور انصاف بھی رخصت ہوجاتا ہے۔
Ayahs 55:10–12

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو اس نے بچھایا مخلوقات کے لیے

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور بھس والے غلے بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی

وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ ۔ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ ص لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ (الرحمن : 10 تا 12) (اور زمین کو اس نے بچھایا مخلوقات کے لیے۔ اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ اور بھس والے غلے بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔ ) زمین پر پھیلے ہوئے خوانِ ربوبیت کا ذکر آسمان کے ذکر کے حوالے سے بعض اہم حقائق کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب زمین کا ذکر فرمایا جارہا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خوان ربوبیت بچھا رکھا ہے۔ اور الفاظ کا انتخاب بلاغت کا شاہکار ہے۔ آسمان کے لیے رفع کا لفظ استعمال فرمایا، اور زمین کے لیے وضع کا لفظ۔ اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ آسمان کو اس طرح بلند کیا جس طرح چھت کو بلند کیا جاتا ہے۔ اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا۔ اس طرح سے مخلوقات کے لیے زمین و آسمان کی صورت میں ایک آرام دہ مکان بنادیا۔ اور پھر جس طرح آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے روشن کیے تاکہ اس گھر کو روشنی اور حرارت ملے۔ اسی طرح زمین کو مختلف قسم کے پھلوں، غلوں اور پھولوں سے گراں بار کردیا تاکہ اس زمین پر رہنے والوں کو غذا میسر آئے۔ اور غذا بھی ایسی جس سے ہر نوع کی مخلوق متمتع ہوسکے۔ اور پھر ان نعمتوں کی صورت میں صرف پیٹ بھرنے کا انتظام نہیں کیا بلکہ لذت کام دہن کا سامان بھی کیا اور جمالیاتی ذوق کی تسکین کا بھی۔ پیٹ بھرنے کے لیے اگر غلے پیدا فرمائے تو لذت کام و دہن کے لیے قسم قسم کے میوے پیدا کیے۔ اور ذوق جمال کی تسکین کے لیے خوشبودار پھول پیدا فرمائے۔ اور شوق آرائش کا سامان کرنے کے لیے ان کو ایسے رنگ بخشے کہ جس میں نگاہ ٹھٹھک کے رہ جاتی ہے۔ اور پھر اس ربوبیت کا اہتمام ایسا ہے کہ میوے عطا فرمائے تو ان کی پیکنگ میں ایسا کمال پیدا کیا کہ انسان دیکھ کے دنگ رہ جاتا ہے۔ اور غلے عطا فرمائے تو ان کی حفاظت کا ایسا سامان کیا کہ انھیں ذوالعسف بنایا۔ یعنی اس طرح غلے اور پھل عطا نہیں کیے جیسے کسی فقیر کو خیرات دی جاتی ہے۔ بلکہ اس طرح عطا فرمائے جیسے نہایت عزت کے ساتھ کسی مہمان کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اور اس اہتمام سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پروردگاری کا حق پہچانے اور اس کا شکرگزار رہے۔ اور ہمیشہ اس حقیقت کو پیش نظر رکھے کہ جس ذات والا تبار نے بغیر کسی استحقاق کے سب کچھ عطا فرمایا ہے وہ ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے کو یونہی شتر بےمہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ حساب کا ایک دن بھی آئے گا۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے

فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 13) (پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ ) یہ آیت ترجیع ہے اس میں لفظ اٰ لَآئِاور دیگر حقائق کا مفہوم یہ آیت اس سورة میں بار بار آرہی ہے۔ ایسی آیت جو بار بار آئے اس کو آیت ترجیع کہتے ہیں جس سے سامعین کو غور و فکر کی طرف متوجہ کرنا اور جھنجھوڑنا مقصود ہوتا ہے۔ اس آیت کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کا جاننا بہت ضروری ہے۔ اس میں لفظِ اٰ لَآئِ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے مترجمین بالعموم اس کا ترجمہ نعمتوں سے کرتے ہیں۔ اور یہ ترجمہ صحیح ہے۔ لیکن اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں یہ لفظ صرف نعمتوں کے حوالے سے ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس کے اور معانی بھی ہیں۔ اٰ لَآئِ جمع ہے اِلًی۔ اَلًی اور اِلْیٌ کی۔ نعمتوں کے علاوہ اس لفظ کے دوسرے جو معانی مستعمل ہیں ان میں سے ایک ہے قدرت اور عجائبِ قدرت یا کمالاتِ قدرت۔ ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا کے معنی ہیں فَبِاَیِّ قُدْرَۃِ اللّٰہِ امامِ رازی نے بھی آیات 14، 15 اور 16 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیات بیان نعمت کے لیے نہیں، بیانِ قدرت کے لیے ہیں۔ اور آیات 22، 23 کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے عجائبِ قدرت کے بیان میں ہیں نہ کہ نعمتوں کے بیان میں۔ اس کے دوسرے معنی ہیں خوبیاں، اوصافِ حمیدہ اور کمالات و فضائل۔ اس معنی میں اس لفظ کو اہل لغت اور اہل تفسیر نے تو بیان نہیں کیا لیکن دور جاہلیت کے شعراء جن کا کلام حجت سمجھا جاتا ہے انھوں نے کثرت سے اس لفظ کو اس معنی میں استعمال کیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ِ اٰ لَآئِ کے تین معنی ہیں 1 نعمتیں، 2 قدرت، عجائبِ قدرت یا کمالاتِ قدرت، 3 خوبیاں، اوصافِ حمیدہ اور کمالات و فضائل۔ بہتر یہ ہے کہ اس لفظ کو اس کے وسیع معنی میں لیا جائے اور ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے جو معنی مناسب نظر آئے وہ مراد لیے جائیں۔ دوسری بات جو اس آیت میں قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس میں رَبِّـکُمَا تثنیہ کی ضمیر استعمال ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا مخاطب ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ آگے چل کر آیت نمبر 33 میں جن و انس کو خطاب کرکے اس حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے کہ یہاں مخاطب انسانوں کے ساتھ جن بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خطاب بےسبب تو نہیں ہوسکتا۔ اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جس طرح انسان نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے اس دین کے مخاطب اور مکلف ہیں اور ان کے لیے لازم ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانیں، اسی طرح نبی کریم ﷺ کی رسالت اور ختم رسالت کو بھی تسلیم کریں اور آخرت پر بھی یقین لائیں۔ یہی باتیں جنات کے لیے بھی لازمی ہیں۔ چناچہ اس سورة اور بعض دوسری سورتوں میں بھی جنات کے لیے ان ہی باتوں کو لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ اسی سورة میں دیکھ لیجیے کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات اور اس کے بےحد و حساب احسانات، اس کے مقابلے میں ان کی عاجزی اور بےبسی اور اس کے حضور ان کی جواب دہی کا احساس دلا کر اس کی نافرمانی کے انجامِ بد سے ڈرایا گیا ہے۔ اور فرماں برداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔ سورة الاحقاف میں بھی جنات کے سابقہ انبیائے کرام پر ایمان کا ذکر ہے۔ اور ان کی سابقہ کتابوں کے مطالعہ ہی کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے قرآن کریم کو سنتے ہی یقین کرلیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہے۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والے جنات تھے۔ سورة الجن میں بھی جنات کا ذکر ایمان و اسلام کے حوالے سے آیا ہے اور کفر و شرک سے ان کی بیزاری کا اظہار فرمایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی انسانوں ہی کی طرح کافر و مومن اور مطیع اور سرکش پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس خطاب نے قطعی طور پر اس بات کو واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں ہی کے لیے ہے اور حضور ﷺ کی رسالت صرف انسانوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ اور اگر احادیث و روایات کو دیکھا جائے تو اس میں جنات کے حوالے سے ہمیں احکام دیئے گئے ہیں اور ہمارے حوالے سے جنات کو دیئے گئے احکام کا بھی ذکر ہے۔ اسی طرح جو چیزیں ان کے لیے حرام کی گئی ہیں حدیث میں اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقائد، اخلاق، آدابِ زندگی میں تو جن و انس میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن ان کی زندگی کے حوالے سے بعض ایسے احکام بھی ہیں جو ان کے ساتھ مخصوص ہیں۔ اور وہ بھی انھیں نبی کریم ﷺ کی معرفت دیئے گئے ہیں۔ جس طرح ہمارے لیے شرعی احکام کی بنیاد تو یقینا قرآن کریم ہے لیکن تفصیلی احکام اور مبہمات کی وضاحت اور عملی دشواریوں کا حل سنت میں موجود ہے اور ہم اسی سے رہنمائی حاصل کرنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح جنات سے جو آنحضرت ﷺ کی ملاقاتوں کا ذکر حدیث میں آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی معرفت انھیں اسلام کی وہ تعلیم بھی پہنچی ہے جس کے جن و انس دونوں مکلف ہیں۔ اور وہ احکام بھی دیئے گئے ہیں جو صرف ان کے لیے مخصوص تھے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے اور اس کے اس قدر شواہد موجود ہیں کہ جن کا انکار کرنا آسان نہیں کہ جنات انسانی شکلوں میں بعض دینی مدارس یا بعض بڑے علماء سے شخصی طور پر استفادہ کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ اور کبھی یہ سوال نہیں اٹھا کہ ان کا مذہب اسلام کے علاوہ کچھ اور ہے۔ اور ان کی طرف کوئی نبی مبعوث کیے گئے ہیں۔ پیشِ نظر آیت میں ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات جن و انس سے بار بار فرمائی گئی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں، اس کی قدرت کے کرشموں میں سے کس کس کا انکار کرو گے اور کس کس کو جھٹلائو گے۔ سوال یہ ہے کہ جھٹلانے سے کیا مراد ہے ؟ اس کی متعدد صورتیں ہیں جو تھوڑے سے غور و فکر سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ 1 اللہ تعالیٰ کو ان نعمتوں کا خالق ماننے سے انکار کردیا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ جو کچھ ہم اپنے گردوپیش میں دیکھ رہے ہیں یہ سب مادے کے اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے، یا ایک حادثہ ہے جس میں کسی حکمت اور صناعی کا کوئی دخل نہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسا کہنے والے عام لوگ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنھیں علم و دانش کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب موجود نہیں کہ اس کائنات میں ایک نظم و ضبط ہے، ایک ترتیب ہے، ایک حکمت ہے، ایک قانون ہے جو غیرمرئی ہونے کے باوجود تمام مخلوقات پر مسلط ہے جبکہ ہم اپنے تجربے سے اس بات کا انکار نہیں کرسکتے کہ اگر کسی بندر کو ایک ہزار سال تک کسی ٹائپ رائٹر پر بٹھا دیا جائے اور وہ مسلسل ٹائپ کرتا رہے تو کبھی اس کے اندر سے نہ کوئی ڈکشنری نکلے گی، نہ شکسپیئر کے ڈرامے برآمد ہوں گے، اور نہ افلاطون کے مکالمے نکلیں گے۔ تو آخر مادے میں ایک اتفاقی ہیجان یہ حکمت سے بھرپور کائنات کو وجود کیسے دے سکتا ہے۔ اور یہ حکمت اور صناعی ایک حادثے کے نتیجے میں کیسے وجود میں آسکتی ہے۔ 2 تکذیب کی یہ بھی ایک صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالق تو مانا جائے لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے جس سے یہ دلچسپ صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ نعمتیں دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، لیکن شکریہ دوسروں کا ادا کیا جارہا ہے، اور گن دوسروں کے گائے جارہے ہیں۔ 3 تکذیب کی ایک تیسری شکل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک تو مانا جائے مگر اس بات کو تسلیم نہ کیا جائے کہ اس خالق ومالک کے احکام کی اطاعت اور اس کی ہدایات کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یا اگر اسے زبانی حد تک تسلیم بھی کیا جائے لیکن عملی حیثیت سے دور دور تک اس کا وجود نہ ہو۔ اور اس کی زندگی پر اس کے کوئی اثرات نہ ہوں۔ ایسی تمام ممکن صورتیں اس تکذیب سے مراد ہیں اور ان ہی پر ملامت اور تنبیہ کی جارہی ہے۔
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے انسان کو پیدا کیا ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو پیدا کیا، آگ کے شعلہ سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 14 تا 16) (اس نے انسان کو پیدا کیا ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے۔ اور جنات کو پیدا کیا، آگ کے شعلہ سے۔ تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ ) جن و انس کے مادہ خلقت سے یاددہانی انسان کے اندر جو شرک پایا جاتا ہے اور آخرت سے انکار یا اعراض عام دیکھا جاتا ہے اس کا اصل سبب صرف یہ ہے کہ انسان زبان سے اپنے رب کو سب کچھ تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کو اس طرح ماننے کو تیار نہیں ہوتا جس سے دل میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ اس کے یہاں کوئی چیز ناممکن نہیں اور کوئی ذات اس کے برابر نہیں۔ اس کے سوا کسی کو کبریائی زیب نہیں دیتی۔ اسی وجہ سے کبھی کسی کو اس کا شریک ٹھہرادیا جاتا ہے اور کبھی آخرت کو بعیداز عقل قرار دے کر انکار کردیا جاتا ہے۔ اس لیے پیش نظر آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کی تخلیق کے حوالے سے اپنی قدرت کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اس کا احساس ہوسکے کہ اس کی قدرت کتنی عظیم اور کتنی بےپناہ ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی کہ یہ انسان جو آج اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھ رہا ہے اور جس کی فتوحات نے فی الواقع زمین پر ایک تہلکہ مچا رکھا ہے اور جس کی قوت ایجاد نے ایسی حیرت انگیز چیزوں کو وجود بخشا ہے کہ عام آدمی کے لیے جس کا جاننا بھی مشکل ہوگیا ہے اور جسکی سائنس فہم و ادراک کی حدود سے آگے نکل گئی ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے قدرت نے جس طریقے او جن عناصر سے تخلیق فرمایا ہے وہ انسان کی بےبسی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ چناچہ جب ہم اس حوالے سے قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں تخلیقِ انسانی کے مختلف مراتب نظر آتے ہیں جن کو اگر ایک ترتیب سے بیان کیا جائے تو وہ اس طرح سے ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تراب یعنی مٹی سے پیدا فرمایا ہے اور پھر کبھی اسے طِیْنٌ کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ گارا جو مٹی میں پانی ملا کر بنایا جاتا ہے۔ پھر اسی کو طِیْنِ لاَزِبْ قرار دیا گیا یعنی لیس دار گارا۔ اور پھر اسے حَمَأٍمَسْنُوْنَ قرار دیا گیا۔ یعنی وہ گارا جس کے اندر بو پیدا ہوجائے۔ اور پھر اسے صَلْصَالٍ کَالْفَخَّار سے یاد کیا گیا یعنی وہ سڑا ہوا گارا جو سوکھنے کے بعدپ کی ہوئی مٹی کے ٹھیکرے جیسا ہوجائے۔ اور آخری مرحلہ میں اسے بشر کا نام دیا گیا۔ یہ تخلیقِ انسانی کی آخری صورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونکی اور اسے فرشتوں کا مسجود بنادیا گیا۔ اور پھر آگے اس کی نسل ایک حقیر پانی کے ست سے چلائی گئی جسے نطفہ بھی کہا گیا ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے مراتب پر غور کرے تو اسے اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت نظر آئے گی تو دوسری طرف اپنی کم مائیگی اور بےبسی کا احساس بھی ہوگا۔ اور پھر جنوں کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے انھیں آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ہے۔ یہ آگ دنیا کی آگ نہیں بلکہ وہ خاص نوعیت کی آگ ہے اور مارج اس شعلہ کو کہتے ہیں جس میں دھواں نہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جدِامجد کو اسی شعلہ ٔ آتش سے پیدا کیا گیا۔ اور بعد میں اس کی ذریت سے جنوں کی نسل پیدا ہوئی۔ اور اب آگے ان کی ذریت کیسے بڑھ رہی ہے ہم ان کے توالد و تناسل کی حقیقت سے کماحقہ واقف نہیں۔ لیکن جن بھی جب اس اپنی تخلیق پر غور کریں تو انھیں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت اور اپنی بےبسی کا احساس پیدا ہوگا۔ اور اسی حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس عظیم ذات نے تم پر یہ احسانات کیے ہیں اور تم اس کی قدرت کے شاہکار کے طور پر آج دنیا میں موجود ہو تو تم اس کی قدرتوں کا کس طرح انکار کرسکتے ہو۔ اور اس کے تقاضوں کی صورت میں تم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انھیں کیسے جھٹلا سکتے ہو۔
Ayahs 55:17–18

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرق کا رب ہے اور وہی دونوں مغرب کا رب ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 17، 18) (وہی دونوں مشرق کا رب ہے اور وہی دونوں مغرب کا رب ہے۔ تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ ) مشرقین و مغربین کا مفہوم ہم چونکہ چار جہتوں سے مانوس ہیں مشرق، مغرب، شمال اور جنوب۔ اس لیے دو مشرق اور دو مغرب عجیب سے بات معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں صورتوں میں آئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ تثنیہ کی صورت میں دونوں اطراف کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ اور جمع کی شکل میں اس میں اطراف و اکناف کی بےنہایت وسعت بھی شامل ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ لفظ کسی طرح بھی استعمال ہو معنی کے اعتبار سے بالکل واضح ہے اس میں کسی الجھن کا امکان نہیں۔ اور دوسری توجیہ یہ ہے کہ موسموں کی تبدیلی کے حوالے سے یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن کے مشرق و مغرب الگ الگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زوایہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور گرمیوں کے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان ہر روز اس کا مطلع اور مغرب مختلف ہوتا رہتا ہے۔ اس کی بےنہایت وسعت کو دیکھ کر ان الفاظ کو جمع بھی لایا جاسکتا ہے اور دونوں بدلتے ہوئے اطراف کو دیکھ کر مثنیٰ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ زمین کے نصف کُرّے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت دوسرے نصف کُرّے میں وہ غروب ہوتا ہے۔ اس طرح زمین کے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔ لیکن تمام صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ ایک مشرق کا بھی رب ہے اور تمام مشارق کا بھی۔ اور ایک مغرب کا بھی رب ہے اور تمام مغارب کا بھی۔ ہر لحاظ سے تمام کُرّے اسی کے احکام کے پابند ہیں اور اسی سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کاملہ کا تصور دل و دماغ میں ابھرتا ہے۔ اور اسی حوالے سے اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں، ذرا سوچ کر بتائو کہ تم ان قدرتوں میں سے کس کس کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:19–21

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اس نے چھوڑے دو سمندر اور وہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

لیکن ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ ۔ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَّیَبْغِیٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 19 تا 21) (اس نے چھوڑے دو سمندر اور وہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں۔ لیکن ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے۔ ) اللہ تعالیٰ کی مزید قدرت کا بیان اللہ تعالیٰ اپنی مزید قدرت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ تم سمندروں کو غور سے دیکھو، تمہیں بعض جگہ نظر آئے گا کہ سمندر میں دو لہریں چل رہی ہیں اور وہ دونوں سمندر کا حصہ ہیں۔ ان کی موجوں اور طغیانی میں دوسرے سمندر کی نسبت کوئی فرق نہیں۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کھاری ہے اور دوسرا شیریں۔ آپس میں دونوں ٹکرا رہے ہیں لیکن کیا مجال ہے جو ایک دوسرے میں شامل ہونے پائیں۔ ہر ایک اپنے اپنے مزاج پر قائم رہتا ہے۔ کھاری پانی شیریں نہیں ہونے پاتا۔ اور شیریں پانی میں کڑواہٹ نہیں آتی۔ بحرین کے قریب اور دمام کے جوار میں دونوں طرح کے پانیوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اور ماضی میں بیشمار بحری جہاز وہاں سے اپنی ضرورت کے لیے ٹھنڈا اور شیریں پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد مواقع پر سمندر میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سمندروں کے درمیان ایک غیر مرئی پردہ حائل کر رکھا ہے۔ وہ نگاہوں میں نہیں آتا، لیکن بہنے والا پانی اس سے تجاوز نہیں کر پاتا۔ اس کے طوفانوں کی موجیں اس پردے کو عبور نہیں کر پاتیں۔ یہی وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے جس کی طرف توجہ دلانے کے بعد فرمایا کہ تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے اور کن کن کمالات سے انکار کرو گے۔
Ayahs 55:22–23

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلائو گے

یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وُالْمَرْجَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 22، 23) (ان دونوں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلائو گے۔ ) اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا بیان اور ایک اعتراض کا جواب یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال یہ ہے کہ پانی دو طرح کا ہے جس کے صرف مزے ہی میں فرق نہیں بلکہ خواص میں بھی فرق ہے۔ اس کے باوجود ان دونوں پانیوں سے الگ الگ یا اس کے مجموعے سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ موتی اور مونگے تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے یہ چیزیں نکلتی ہیں۔ اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں جن میں سے کوئی بھی غلط نہیں۔ لیکن وہ جواب جو آج کے ذہن کو زیادہ اپیل کرتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ اعتراض اہل مغرب کی طرف سے آیا ہے جبکہ ان کی علمی کتاب انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا جس کے مندرجات اہل علم کی نگاہوں میں بہت وقعت رکھتے ہیں قرآن کریم کی تائید کررہی ہے میں اس کا ایک اقتباس نقل کر رہا ہوں۔ اس کا مضمون نگار لکھتا ہے : نصف کُرّہ شمالی کے منطقہ معتدلہ میں میٹھے پانی کے سیپ کے کیڑے بہت قیمتی موتی پیدا کرتے رہے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے میٹھے پانی کے موتی زیادہ تر دریائے مس سس پی سے نکلتے ہیں۔ برطانیہ میں موتی نکالنے کی صنعت اب زوال پر ہے، لیکن سکاٹ لینڈ کے دریائوں، سفے اور طے اور شمالی ویلز کے دریا کان وے سے نکلنے والے موتیوں کی ایک زمانے میں بہت مانگ رہی ہے۔ چین میں میٹھے پانی سے موتی نکالنے کی صنعت ہزار برس قبل مسیح سے معروف ہے۔ اس اقتباس سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ موتی صرف کھاری پانی سے ہی نہیں نکلتے بلکہ میٹھے پانی سے بھی نکلتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ سے یہ بات بھی مترشح ہورہی ہے کہ سمندروں میں جہاں میٹھا اور کھاری دونوں طرح کا پانی جمع ہوتا ہے ان دونوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ اور کچھ عجب نہیں کہ اس کی تہ میں میٹھے پانی کے چشمے پھوٹتے ہوں۔ بحرین میں جہاں قدیم ترین زمانے سے موتی نکالے جارہے ہیں وہاں تو یہ بات ثابت ہے کہ خلیج کی تہ میں میٹھے پانی کے چشمے موجود ہیں۔ تو کوئی تعجب نہیں کہ موتیوں کی پرورش میں ان دونوں پانیوں کا عمل دخل رہا ہو۔
Ayahs 55:24–25

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کی ملکیت اور اختیار میں ہیں سمندر میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے

وَلَـہُ الْجَوَارِالْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 24، 25) (اور اسی کی ملکیت اور اختیار میں ہیں سمندر میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور نشانی پانی کی فطرت یہ ہے کہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی بڑی چیز پانی کے اندر ڈالی جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی قدرت ہے کہ وہ بحری جہاز جو ہزاروں ٹن سامان لے کر پانی کو چیرتے ہوئے چلتے ہیں، لیکن پھر بھی ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ باہمی دو متضاد چیزوں میں موافقت و سازگاری پیدا کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، ورنہ پانی کبھی بھاری چیز کو اٹھانے پر تیار نہیں ہوتا۔ اور کوئی بھی بھاری چیز اپنے ارادے سے پانی پر تیر نہیں سکتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے تضادات کی موجودگی کے باوجود انھیں اپنے قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ انسان ایک محدود طاقت رکھنے والی مخلوق ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے یہ صلاحیت بخشی ہے کہ سمندروں کو پار کرنے کے لیے جہاز بنائے۔ اور پھر جو سامان جہاز کی تیاری کے لیے ضروری ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا ہے۔ اور پانی کو بھی اپنے حکم سے اس خدمت پر مامور کردیا ہے۔ یہ اس کی قدرت اور اس کے کمالات کے کرشمے ہیں، ان سے صرف وہی انکا کرسکتا ہے جو انتہائی برخودغلط اور یا اپنی کھوپڑی میں عقل نام کی کوئی چیز نہ رکھتا ہو۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

ہر چیز جو روئے زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

صرف آپ کے رب کی عظمت اور عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۔ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّـکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 26 تا 28) (ہر چیز جو روئے زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے۔ صرف آپ کے رب کی عظمت اور عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ ) پہلی آیت میں ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے، جس کا ذکر آیت دس سے چلا آرہا ہے۔ جن و انس کو ایک اہم حقیقت کی طرف رہنمائی جن و انس جو دونوں مکلف مخلوق ہیں، مختلف حوالوں سے ان سے خطاب ہورہا ہے۔ زمین پر ان کی ذمہ داری اور تکلیفِ شرعی کے پیش نظر یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن ہو یا انسان ان دونوں میں بگاڑ کا سب سے بڑا سبب عرفانِ ذات سے محرومی ہے۔ جب بھی ان میں سے کوئی اپنی ذات کی حقیقت سے بیخبر ہوتا یا غفلت کا شکار ہوتا ہے تو وہ اپنی حدودوقیود پامال کرتا ہوا ایسے امور انجام دیتا ہے جس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا۔ استکبار اس پر نسیان کا پردہ تان دیتا ہے۔ جواب دہی سے غفلت اسے حقوق کی ادائیگی سے محروم کردیتی ہے۔ اور اگر اس بات کا احساس دلا دیا جائے کہ تم اس زمین پر ہمیشہ رہنے والے نہیں بلکہ تمہاری زندگی اور یہاں قیام اس قدر ناپائیدار ہے کہ تمہیں کسی وقت بھی بلاوا آسکتا ہے۔ پانی کے بلبلے کو ٹوٹتے ہوئے کچھ دیر لگتی ہے لیکن تمہاری حیات کا بلبلہ جب ٹوٹنے پر آتا ہے تو ایک لمحے میں ٹوٹ جاتا ہے۔ نہ یہاں کسی کا تخت سلامت ہے اور نہ کسی کی کرسی۔ عہدہ و منصب کا فخروناز اپنی جگہ رہ جاتا ہے اور اس کا موصوف اچانک سفر پر چلا جاتا ہے۔ اس لیے ان دونوں کو احساس دلایا گیا کہ تم اگر اپنی حیثیت کے جامہ میں رہنا چاہتے اور اپنی اصل حیثیت کو جاننا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اس بات کو دل و دماغ میں اتار لو کہ اس زمین پر بسنے والی ہر چیز فنا کی گھاٹ اترنے والی ہے۔ تم بھی اپنی زندگی کا سفر ختم کرکے کسی وقت بھی رخصت ہوجاؤ گے۔ لیکن جس ذات نے تمہیں زندگی جیسی بیش قیمت نعمت عطا فرمائی ہے اس کو فنا نہیں، وہ ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہاں مختلف لوگوں نے جھوٹی عزتوں کے دعوے کیے ہیں۔ اور جھوٹی نام و نمود کی سروں پر کلغیاں سجائی ہیں، لیکن ان میں سے کسی کو بقا نہیں۔ ہر چیز معرض خطر میں ہے۔ اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر دنیا میں اپنے کیے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس وقت اندازہ ہوجائے گا کہ حقیقی عزت اور حقیقی عظمت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے تھی باقی سب فریبِ نظر کا شکار تھے۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ یہ زندگی اور پھر اس کی بقا کے لیے بیشمار اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، احساسات، خیالات اور تصورات کی صورت میں بیشمار احسانات، یہ سب اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں۔ جب بھی جن و انس میں سے کوئی اپنی حیثیت کو بھولتا ہے تو وہ درحقیقت ان نعمتوں اور ان احسانات کو جھٹلاتا ہے۔ اس لیے دونوں سے خطاب کرکے فرمایا کہ اے جن و انس ! تم اپنے گردوپیش اور اپنی شخصیتوں کے اندر اور باہر طائرانہ نظر ڈال کے دیکھو کہ تم کس قدر نعمتوں اور احسانوں سے گراں بار ہو۔ تو آخر تم اللہ تعالیٰ کے کس کس احسان کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے مانگتا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے

یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 29، 30) (اسی سے مانگتا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے۔ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ ) سب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی بستی ہے حقیقت میں اس کا دست سوال صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلتا ہے۔ اس کا جسم، اس کی جان، اس کی صلاحیتیں، اس کے احساسات سب اس کی دین ہیں۔ اسے جتنی ضرورتیں لاحق ہوتی ہیں وہ چاہے کسی واسطے سے بھی اسے ملیں حقیقی واسطہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ درجہ بدرجہ دینے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کے گھر کے سوالی ہیں۔ اس لیے عقل مندی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مولیٰ و مرجع سمجھا جائے اسی سے التجا اور درخواست کی جائے۔ اور اگر کسی اور ذریعے سے بھی واسطہ پڑے تو یہ یقین رہے کہ اس واسطے کو توفیق دینے والی بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور میرے حال پر اسے متوجہ کرنے والی بھی وہی ذات بابرکات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔ کسی کو پیدا کررہا ہے، کسی کو مار رہا ہے، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے۔ کسی کو بیماری میں مبتلا کررہا ہے اور کسی کو شفا دے رہا ہے۔ کہیں کوئی نئی کونپل پھوٹتی ہے تو اسی کے اختیار سے پھوٹتی ہے۔ اور کہیں کوئی پھول کھلتا ہے تو اسی کے حکم سے مہک دیتا ہے۔ بیشمار مخلوقات اس کے سامنے اپنی ضرورتیں پیش کرتی ہیں اور وہ ہر وقت ان کی ضرورتوں کو پورا فرما رہا ہے۔ خوشی اور غم، بخشش اور محرومی، عزت اور ذلت، حکمرانی اور محکومی، سب اسی کے گھر کی لونڈی ہیں۔ اور وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو ان میں مبتلا کررہا ہے۔ اسی طرح کی ان گنت اس کی شانیں ہیں جنھیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن وہ ہر وقت کسی نہ کسی شان میں ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ ہر وقت دنیا کے انتظام و انصرام میں لگا ہوا ہے اور اس کی شانیں اس کائنات کے گوشہ گوشہ سے نمایاں ہورہی ہیں تو اے جن و انس ! تم اس کی کس کس شان کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے زمین کے بوجھو، ہم عنقریب تمہارے لیے فارغ ہورہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔

سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 31، 32) (اے زمین کے بوجھو، ہم عنقریب تمہارے لیے فارغ ہورہے ہیں۔ تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ ) ثقلان اور فراغت کا مفہوم ثََقَلٰنِ ، ثَقَلْکا تثنیہ ہے۔ اس کا مادہ ثقل ہے۔ ثِقلبوجھ کو کہتے ہیں۔ اور ثقلاس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ اس لحاظ سے ثَقَلٰنکا مفہوم یہ ہوگا کہ تم جن اور انس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی زمین پر دو بوجھوں کی طرح لدے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی سے انحراف اور اس کے دیئے ہوئے تصورات سے انکار کی وجہ سے تم زمین کے خلیفہ اور زمین کے سنگھار نہیں رہے بلکہ اس دھرتی کا بوجھ بن گئے ہو۔ دھرتی پر تمہیں برداشت کیا جارہا ہے ورنہ حقیقت میں تم اپنا استحقاق کھو بیٹھے ہو۔ ہم عنقریب تمہاری بازپرس کے لیے اور تمہاری شتر بےمہار زندگی کے حوالے سے جواب طلبی کے لیے فارغ ہورہے ہیں۔ بعض اہل علم کے نزدیک ثَقَلٰنسے مراد جن و انس کی دونوں جماعتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک چونکہ اپنے آپ کو بڑی حیثیت کی مالک سمجھتی ہیں اور اپنی قوت اور اپنی تعداد پر بڑا ناز رکھتی ہیں، ان سے یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ تم اپنے آپ کو کتنا بھی طاقتور سمجھو لیکن وہ وقت دور نہیں جب تم اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے اور وہ تنہا تم دونوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں مفہوم میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، کہنا ان سے صرف یہ ہے کہ تم نے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے دین سے بےنیاز ہو کر اپنی مرضی کا مختار سمجھ لیا ہے اور کسی کے سامنے جواب دہی کا تمہیں کوئی اندیشہ نہیں، ہم تمہیں تنبیہ کیے دیتے ہیں کہ ہم نے کائنات کے نظم و نسق کا ایک اوقات نامہ بنا رکھا ہے اس اوقات نامہ کے تحت انسانوں اور جنوں کے لیے ایک مہلت عمل ہے جس میں انھیں اپنے اپنے طریقے سے زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اور یہ موقع اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ پھر ایک دن اچانک تمام جن و انسان اور دیگر مخلوقات پر ہلاکت غالب آجائے گی اور ہر چیز تباہ و برباد ہوجائے گی۔ پھر ایک مدت کے بعد نوع انسانی اور نوع جن دونوں سے بازپرس کے لیے ان کے اولین و آخرین کو ازسرنو زندہ کرکے میدانِ حشر میں جمع کردیا جائے گا۔ اور وہاں ہم ان سے ان کے ایک ایک عمل کا حساب لیں گے۔ ابھی دنیا پہلے مرحلے میں ہے، فنا ہوجانے کے بعد پھر وہ مرحلہ آئے گا جب انھیں زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کا حساب لے گا۔ آیت کریمہ میں جس فراغت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہی آخری مرحلہ ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پروردگار کو ایک ایک کام کے لیے الگ الگ وقت نکالنا پڑتا ہے اور وہ بیک وقت سب کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جس میں ہم کو نوع جن اور نوع انسانی کے اعمال کا حساب لینا ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو پھر ہم اس کے لیے فارغ ہوں گے۔ اس وقت تم سے پوچھیں گے کہ تم جو دنیا میں ہماری ناشکریاں کرتے رہے ہو آج بتائو کہ تم ہماری نعمتوں کا کس طرح انکار کرتے رہے ہو۔ اور آج بھی سوچو کہ تمہیں مہلت عمل دے کر اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا کی ہیں آخر تم اسے کس طرح جھٹلا سکتے ہو۔
Ayahs 55:33–34

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو، تم نہیں بھاگ سکتے، مگر سلطان کے ساتھ

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن اختیارات کو جھٹلائو گے

یٰمَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ط لاَ تَنْفُذُوْنَ اِلاَّ بِسُلْطٰنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 33، 34) (اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو، تم نہیں بھاگ سکتے، مگر سلطان کے ساتھ۔ تو تم اپنے رب کے کن کن اختیارات کو جھٹلائو گے۔ ) کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں براہِ راست جنوں اور انسانوں سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ تم بالکل غیرمسؤل اور مطلق العنان ہو۔ نہ اس دنیا میں تم پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ آخرت میں تمہیں کسی بازپرس کا اندیشہ ہے۔ بلکہ اس زمین و آسمان کو تم اپنی جولان گاہ سمجھتے ہو کہ جب چاہو اس کی حدود سے نکل سکتے ہو۔ اور کوئی ایسی بڑی ذات نہیں جو تمہیں اس سے نکلنے سے روکے۔ جس طرح آج خلائی فتوحات کے بعد بعض غیرذمہ دار حکمرانوں نے اس طرح کی باتیں کیں کہ ہم نے تو خلا میں بھی اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈا لیکن وہ ہمیں کہیں نہیں ملا۔ گویا وہ اپنے آپ کو یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم اگر چاہیں تو زمین کی حدود سے نکل کر خلا میں کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ اولاً تو ان کی عمر کی مہلت ہی کتنی ہے یہ وہ نہیں جانتے۔ اور پھر جس خلا کو وہ نہ جانے کیا سمجھ رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا ایک حصہ ہے۔ جس طرح زمین اس کی ہے، زمین سے اوپر بھی جو کچھ ہے وہ سب کچھ اس کا ہے۔ وہ عالم بالا اور عالم زیریں دونوں کا مالک ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اگر اپنی طاقت کا ایسا ہی گھمنڈ ہے تو پھر اس دنیا میں بھی اور جب آخرت کا وقت آئے گا تو اس وقت بھی کائنات سے نکلنے کی کوشش کر دیکھو، لیکن تم ایسا کبھی نہیں کرسکو گے۔ کیونکہ کائنات سے نکلنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں یا تو طاقت اور اختیار و اقتدار اور یا سند یعنی اجازت نامہ۔ لیکن ان یہ دونوں چیزیں تمہارے پاس نہیں۔ تم نہ تو وہ اختیار و اقتدار اور طاقت رکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگو اور نہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نامہ ملا ہے کہ تم جہاں چاہے چلے جاؤ تمہیں کوئی روکنے والا نہ ہو۔ سلطان ان دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آگے آیت ترجیع ہے جو بار بار آرہی ہے تاکہ جن و انس کے غفلت کے پردے کو اتارا جائے۔
Ayahs 55:35–36

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر مارے جائیں گے آگ کے شعلے اور تانبے، جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھلائو گے

یُرْسَلُ عَلَیْـکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ 5 لا وَّنُحَاسٌ فَلاَ تَنْتَصِرٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 35، 36) (تم پر مارے جائیں گے آگ کے شعلے اور تابنے، جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھلائو گے۔ ) صاحبِ تدبرِقرآن نے اس کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے ہم استفادہ کے لیے اسے نقل کررہے ہیں : یعنی اگر تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے مقررہ حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس پر آگ کے شعلوں اور پگھلے ہوئے تانبے کی مار پڑے گی اور وہ ایسی بےپناہ ہوگی کہ تم میں سے کوئی بھی اس سے اپنا بچائو نہیں کرسکے گا۔ شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ سے مراد شہاب ثاقب ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں تصریح ہے کہ یہ ان شیاطین الجن پر پھینکے جاتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے حدود میں دراندازی اور غیب کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن میں خود جنوں کی زبان سے اس امرواقعی کا اعتراف یوں نقل ہوا ہے : وَاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَاللّٰہَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ھَرَبًا۔ (الجن : 12) (اور ہم نے اچھی طرح اندازہ کرلیا ہے کہ نہ ہم زمین میں چھپ کر اللہ کی گرفت سے بچ سکتے ہیں نہ آسمانوں میں بھاگ کر اس سے نکل سکتے ہیں) شُوَاظٌ اور نُحَاسٌ کا مفہوم نُحَاسٌ کے معنی عام طور پر ہمارے مفسرین و مترجمین نے دھوئیں کے لیے ہیں لیکن یہ لفظ اس معنی میں معروف نہیں ہے۔ بعض اہل لغت نے اگرچہ ایک شاذ معنی کی حیثیت سے اس کا ذکر کیا ہے اور نابغہ کے ایک شعر کا بھی حوالہ دیا ہے لیکن اول تو وہ شعرمحلِ نظر ہے دوسرے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ دھوئیں کے لیے معروف لفظ دُخَانٌچھوڑ کر، جو قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے، ایک غیرمعروف لفظ لانے کی وجہ کیا ہے جبکہ قرآن عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ اس وجہ سے ہم کو نُحَاسٌکے یہ معنی قبول کرنے میں تردد ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اپنے معروف معنی ہی میں استعمال ہوا ہے اور یہ انہی شہابوں کی ایک قسم ہے جن کا ذکر شُوَاظٌ مِّنَ نْارٍ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سائنس کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بیشتر شہابیے تو گرتے ہی فضا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے فلزّاتی اور حجری گولوں کی شکل میں گرتے ہیں لیکن اشیاء کی حر کی توانائی (KINETIC ENERGY) غلافِ جوی میں داخل ہوتے ہی زیادہ تر حرارت میں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے شہاب پگھل کر آگ کے گولوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور زمین کی طرف گرنے کے دوران ان کا فلزّاتی اور حجری مادہ بڑی حد تک ضائع ہوجاتا ہے یا عمل تبخیرا سے غبار کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔ تاہم جو شہاب زمین پر پائے گئے ہیں ان کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1 فلزّائی شہاب (SIDERITES) 2 حجری شہاب (AER۔ LITES) 3 حجری۔ فلزّاتی شہاب (SIDER۔ LETES) ان شہابوں کے اندر جس طرح لوہے اور پتھر کے اجزاء پائے گئے ہیں اسی طرح تحقیق سے ان کے اندر کانسی و تابنے کے اجزاء بھی پائے گئے ہیں جس کا آیت زیربحث میں نُحَاسٌکے لفظ سے ذکر آیا ہے۔ یہ فلزّاتی اجزاء زیادہ تر شدت حرارت سے تحلیل ہوجانے والے ہیں تاہم زمین پر گرنے والے شہابوں میں ان کا پایا جانا قرآن کی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے بعد ترجیع کی آیت ہے جو اپنے مفہوم میں واضح ہے۔