Ayahs 54:1–2اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَاِنْ یَّرَوْا اٰ یَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ (القمر : 1، 2)
(قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔ اور اگر یہ کوئی نشانی دیکھیں تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ )
شانِ نزول
ان آیات کا شان نزول جس پر قرآن کریم کے الفاظ بھی شاہد ہیں اور احادیث سے بھی اس کی نہ صرف تائید ہوتی ہے بلکہ تفصیلی حالات کا علم بھی ہوتا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور احادیث کی دیگر معتبر کتابوں میں بکثرت سندوں کے ساتھ مختلف صحابہ سے اس واقعہ کو روایت کیا گیا ہے۔ جن میں حضرت علی ( رض) ، حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) ، حضرت حذیفہ اور حضرت جبیر بن مطعم ( رض) اس واقعہ کے عینی شاہدوں میں سے ہیں۔ اور دیگر صحابہ نے ظاہر ہے کہ ان ہی سے سن کر اس واقعہ کو بیان کیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے قمری مہینے کی چودھویں شب میں جبکہ چاند ابھی ابھی طلوع ہوا تھا یکایک پھٹا اور اس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کی ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ یہ کیفیت بس ایک ہی لحظہ رہی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم جڑ گئے۔ نبی کریم ﷺ اس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ قرآن کریم نے بھی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت قریب آگئی جبکہ تم اسے بہت دور سمجھتے ہو اور اس کا وقوع بعیدازعقل تصور کرتے ہو۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چاند تمہارے سامنے پھٹا، اس کے دو ٹکڑے پہاڑ کے دائیں اور بائیں جاتے ہوئے دیکھے گئے اور پھر دونوں آپس میں مل گئے اور چاند چمکنے لگا۔ تمہارے لیے قیامت کو خلاف عقل قرار دینے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آخر یہ کائنات شکست و ریخت کا شکار کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ زمین یہ پہاڑ کیسے ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں۔ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چاند ایک بہت بڑا کُرّہ ہے، سیاروں میں سے ایک سیارہ ہے۔ اگر وہ دو حصوں میں پھٹ سکتا ہے اور جڑ بھی سکتا ہے تو تم اس عالم اور نظام عالم کو ابدی اور غیرفانی کیسے قرار دے سکتے ہو۔ چاند کا پھٹنا اس کا قطعی ثبوت ہے کہ جس طرح چاند جیسا سیارہ پھٹا ہے، اسی طرح باقی کُرّے اور باقی سیارے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے۔ اور چاند کے ٹوٹنے سے اس شکست و ریخت کا آغاز ہوگیا ہے۔ اور اس سے یہ بات خودبخود نکلتی ہے کہ اب قیامت کا وقوع بہت دور نہیں کیونکہ چاند کے ٹوٹنے نے اس کی ابتدا کردی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب لوگوں نے چاند کو اپنی آنکھوں سے دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا تو مشرکینِ مکہ میں سے جو لوگ وہاں موجود تھے انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے بھی وہ جادو کے زور سے ہم سے بعض چیزیں منوا لیتے ہیں، یہ جادو بھی اسی کا ایک حصہ ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ تو دوسرے لوگوں نے کہا کہ چلیے اگر ہم پر محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے تو ہم باہر سے آنے والے لوگوں سے پوچھیں گے کہ یہ واقعہ انھوں نے بھی دیکھا ہے یا نہیں۔ لیکن جب باہر سے آنے والوں نے بھی اس کی تصدیق کی تو تب بھی انھوں نے اسے جادو قرار دے کر ماننے سے انکار کردیا اور یہ وہ روش ہے جو ہمیشہ سے ہر رسول کی نبوت کے منکرین نے اختیار کی اور وہی روش مشرکینِ مکہ بھی اختیار کرچکے ہیں۔
بعض غیرمصدقہ باتیں
اس سلسلے میں بعض ایسی باتیں بھی کہی جاتی ہیں جو کسی نہ کسی حد تک محل نظر ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ شق القمر کا واقعہ ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ پیش آیا۔ اور اس کی تائید میں حضرت انس ؓ کی روایت پیش کی جاتی ہے جبکہ حضرت انس ؓ ہی کی دوسری روایات سے اس کی اصلاح بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسری روایات میں مرتین نہیں بلکہ فرقتین اور شقتین کے الفاظ آئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کتابت کی غلطی یا راوی کی غلطی سے یہ الفاظ مرتین میں تبدیل ہوگئے۔ اور اس کی تائید میں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ کسی اور مستند روایت سے اس بات کی تائید نہیں ہوتی اور مزید یہ کہ قرآن کریم میں بھی ایک ہی دفعہ انشقاق کا ذکر گیا کیا ہے۔
دوسری بات جو عام طور پر عوام میں بہت مشہور ہے اور ہمارے واعظینِ کرام بڑے شوق سے اسے بیان بھی کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ چاند آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے ہوا اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چاند کا ایک ٹکڑا آپ کے گریبان میں داخل ہو کر آپ کی آستین سے نکل گیا۔ یہ دونوں باتیں بالکل بےاصل اور حقیقت سے عاری ہیں۔ کسی حدیث میں ایسے کسی واقعہ کا ذکر نہیں۔
ایک دوسری بات جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی ؟ کہ کیا یہ ایک معجزہ تھا جو کفارِمکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا۔ یا ایک حادثہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اس کی طرف توجہ صرف اس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قرب قیامت کی ایک نشانی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم نے اسے قرب قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کیا، آنحضرت ﷺ کے معجزے کے طور پر نہیں۔ اس لیے اس میں علماء کی رائے میں اختلاف ہوا۔ بعض لوگ اسے معجزہ قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ اسے قرب قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے ان میں سے کسی میں بھی حضرت انس ( رض) کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔ اور کتب حدیث میں کسی مستند روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ علمائے اسلام کی قطعی اکثریت اسے ایک معجزے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن کریم اور مستند احادیث نے اسے اگر قرب قیامت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے تو وہ بالکل صحیح ہے اور علماء اگر اسے معجزے کے طور پر پیش کرتے ہیں تو ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مخالفین کی طرف سے ایسا کوئی معجزہ دکھانے کا آپ سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نہ سہی اس سے پہلے متعدد دفعہ ایسا ہوچکا تھا کہ کفارِمکہ آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی ایسی نشانی دکھایئے کہ ہمارے لیے اس سے انکار کرنا مشکل ہوجائے، تب ہم آپ کی نبوت کو تسلیم کرلیں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ ان ہی مطالبات کے تسلسل میں یہ واقعہ پیش آیا تو جس طرح یہ قرب قیامت کی علامت ہے اسی طرح یقینا آنحضرت ﷺ کا معجزہ بھی ہے، کیونکہ اس سے آپ کی نبوت کا اثبات ہوتا ہے۔
اعتراضات اور ان کا جواب
آج کے دور میں معترضین اس پر دو طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے نزدیک ایسا ہونا ممکن نہیں کہ چاند جیسا عظیم کُرّہ پھٹ کردو ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے اور پھر دونوں ٹکڑے آپس میں آکر مل جائیں۔ اور دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو پوری دنیا میں ایک دھوم مچ جاتی، تاریخوں میں اس کا تذکرہ ہوتا، جبکہ ایسا نہیں۔ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ گزشتہ زمانے میں تو یہ بات چل سکتی تھی، لیکن آج جبکہ سائنس نے سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات مہیا کی ہیں ان کی بناء پر کون پڑھا لکھا شخص اس کا انکار کرسکتا ہے کہ ایک کُرّہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ بھی سکتا ہے اور پھر اپنے مرکز کی مقناطیسی قوت کے سبب سے دوبارہ جڑ بھی سکتا ہے۔ اور یہ بات تو سکول کے طالب علم بھی جانتے ہیں جو سائنس ہی کے حوالے سے کہی جاتی ہے کہ ہماری یہ زمین سورج ہی کا ایک ٹکڑا ہے جو کسی بڑے سیارے کے قریب سے گزرنے کی وجہ سے کٹ کر اس سے الگ ہوا۔ لیکن آج تک اسے ناممکن نہیں کہا گیا۔ رہا دوسرا اعتراض تو حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک لمحے کے لیے پیش آیا جبکہ اس سے پہلے نہ کوئی اعلان ہوا تھا اور نہ کوئی دھماکہ ہوا کہ لوگ سر اٹھا کر دیکھنے لگتے۔ اور پھر مواصلاتی ذرائع اتنے محدود تھے کہ مؤرخین تک ایسے واقعات کی خبر کہاں پہنچتی تھی۔ آج کی طرح رصدگاہیں نہ تھیں جو ایسے واقعات کو ریکارڈ کرسکتیں۔ اس کے باوجود مالابار کی تاریخوں میں اس واقعہ کا ذکر موجود ہے کہ وہاں کے ایک راجہ نے یہ منظر دیکھا تھا اور اس نے اسے اپنے دربار میں بیان کیا اور اس ملک کی تاریخ میں اسے باقاعدہ لکھا گیا اور آج بھی اس کا ثبوت موجود ہے۔
Ayah 54:3وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَٓائَ ھُمْ وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ۔ (القمر : 3)
(اور انھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، اور ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ )
اتنی بڑی نشانی دیکھنے کے بعد بھی نہ ماننے کی وجہ
قریش اور دیگر مشرکینِ مکہ نے اتنے بڑے واقعہ کو دیکھنے یا معتبر راویوں سے سننے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کردیا۔ اور انھوں نے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی جاری رکھی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرلیں اور یہ بھی مان لیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کتاب نازل ہوئی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام اترتے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے بازپرس ہونے والی ہے تو پھر وہ زندگی جو شتر بےمہار کی طرح اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی میں ہم گزار رہے ہیں یکسر ترک کرنا پڑے گی۔ اپنے خیالات، تصورات، اعمال، ترجیحات اور اذواق کو اس سانچے میں ڈھالنا پڑے گا جس کے لیے حضور ﷺ اسوہ بن کر تشریف لائے ہیں۔ وہ اس پابند اور مہذب زندگی کا تصور کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ اس لیے انھوں نے اتنی بڑی نشانی دیکھ کر بھی اپنی خواہشِ نفس کے مطابق قیامت کو ماننے سے انکار کردیا۔
ایک سوال کا جواب
اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کے افہام و تفہیم، دعوت و نصیحت اور اتنی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد بھی راہ راست اختیار کرنے کو تیار نہیں تو پھر ایسے لوگوں کو زمین کے بوجھ کے طور پر باقی رکھنے کا کیا جواز ہے۔ یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا عذاب تباہ کردے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ ہر چیز کی ایک اجل ہے۔ اسی طرح انسانوں کو بھی سنبھلنے، زاویہ نگاہ اور طرزعمل بدلنے کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ جبکہ تک وہ مہلت ختم نہیں ہوتی اور فیصلے کی گھڑی نہیں آجاتی جس کا وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا عذاب اس قوم پر نہیں آتا۔ قریش اور مشرکینِ مکہ یا دیگر مخالفین جو اس عذاب سے بچے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ان کی مہلت عمل ختم نہیں ہوئی۔
Ayahs 54:4–5وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ الْاَنْـبَـآئِ مَافِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ حِکْمَۃٌ م بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۔ (القمر : 4، 5)
(ان لوگوں کے پاس (گزشتہ قوموں کی) سرگزشتیں آچکی ہیں جن میں کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ اور ایسی حکمت جو دلوں میں اتر جانے والی ہے۔ پس کیا کام آئیں تنبیہات ؟ )
انسان کی بےبصیرتی
انشقاقِ قمر جیسی نشانی دیکھنے کے بعد بھی قریش نے جو رویہ اختیار کیا اور انکار کی جس روش پر وہ آگے بڑھتے رہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں ایسی قومیں گزر چکی ہیں جن کے حالات سینہ بہ سینہ جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ قریش جیسا طرزعمل اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ جو شخص بھی ان کے طرزعمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب پر تدبر کی نگاہ سے غور کرے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ ان کے حالات میں قدم قدم پر عبرت کا سامان موجود ہے۔ اور غور و فکر کی ایسی باتیں ہیں جن کے اثرات دل میں اتر جاتے ہیں۔ لیکن جب قومیں ہٹ دھرمی کا شکار ہوجاتی ہیں اور ہَوائے نفس کی پیروکار بن کر اپنی من چاہی زندگی پر ایسی ریجھ جاتی ہیں کہ دوسری کوئی بات انھیں متأثر نہیں کرسکتی۔ بڑی سے بڑی مثال ان کے لیے عبرت کا سامان فراہم نہیں کرتی۔ قریش کا بھی یہی حال ہے کہ یہ ایسی بہت سی سرگزشتوں کو جانتے ہوئے بھی نہ اس سے عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان سرگزشتوں میں مضمر حکمت و دانش ان کے دلوں کو متأثر کرتی ہے۔ چناچہ اسی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے ہرچند انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بار بار آگاہ کیا۔ اس کی تنبیہات ان تک پہنچائیں، لیکن ان کے حالات کو دیکھئے کہ کیا یہ تنبیہات اور یہ ڈراوے ان کے کسی کام آئے۔ ظاہر ہے کہ اگر کام آتے تو وہ عذاب کا شکار نہ ہوتیں۔ قریش بھی اگر اسی روش پر آگے بڑھتے رہے تو اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی تنبیہات بھی شاید ان پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔
Ayahs 54:6–8فَتَوَلَّ عَنْھُمْ م یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْ ئٍ نُّـکُرٍ ۔ خُشَّعًا اَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ مُّھْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ ط یَقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۔ (القمر : 6 تا 8)
(پس اے پیغمبر ! آپ ان سے اعراض کیجیے، (اور اس دن کا انتظار کیجیے) جس دن پکارنے والا انھیں ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔ ان کی نگاہیں سراسیمگی سے جھکی ہوئی ہوں گی، اور یہ قبروں سے نکلیں گے گویا کہ وہ منتشر ٹڈیاں ہیں۔ دوڑتے ہوئے پکارنے والے کی طرف، کافر کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت
آیت میں تَوَلَّکا لفظ انتظر کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور قریش کے لیے سخت وارننگ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ جہاں تک تبلیغ و دعوت، ہمدردی و خیرخواہی اور افہام و تفہیم کا تعلق ہے آپ نے اس میں کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ ہر مرحلے پر آپ نے سخت باتیں سنیں، تہمتیں برداشت کیں اور اذیتیں سہیں، لیکن ہمیشہ انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش جاری رکھی۔ اب آپ ان سے اعراض کیجیے۔ آپ اپنی ذمہ داری ادا کرچکے۔ کیونکہ نہ ان پر آپ کی تبلیغ و دعوت کا اثر ہورہا ہے اور نہ تاریخی حقائق ان پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ اب تو آپ اس دن کا انتظار کیجیے جب ان کو پکارنے والا ایک ہولناک چیز کی طرف پکارے گا، یعنی اللہ تعالیٰ کا فرشتہ صور پھونکے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی۔ وہ دن ایسا ہولناک ہوگا اور ان کے لیے ایسا ناگوار کہ ایک طرف تو اس کی ہولناکی اور اس کی ہیبت ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی اور دوسری طرف یہ خیال انھیں چین نہیں لینے دے گا کہ جس دن کا ہم شدت سے انکار کرتے رہے ہیں آج اسی سے ہمیں سابقہ پیش آرہا ہے۔ اس احساس کے تحت ان کی نگاہیں سراسیمگی سے جھکی ہوئی ہوں گی اور ندامت انھیں سر اٹھانے نہیں دے گی۔ اور یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے گویا کہ منتشر ٹڈیاں ہیں اور تیزی سے پکارنے والے کی پکار کی طرف بھاگتے چلے جائیں گے۔ جس طرح برسات کے دنوں میں پتنگے زمین سے ابلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح یہ بھی اپنی قبروں یعنی ان جگہوں سے جہاں یہ لوگ مرے تھے چاہے وہ سمندر کا پانی ہو، زمین کا پیٹ ہو یا کسی درندے کا پیٹ اور یا جہاں بھی ان کی خاک کا کوئی ذرہ موجود ہوگا اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہیں سے ان کو اٹھایا جائے گا اور یہ بیشمار تعداد میں ٹڈیوں کی طرح زمین سے ابلتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اور میدانِ حشر کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے چلے جائیں گے۔ اور وہ قیامت کا انکار کرنے والے جو محض اسے ایک مذاق سمجھتے تھے وہ کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن اور سخت دن ہے۔ اے کاش ہم نے اس دن کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی ہدایت کے مطابق تیاری کی ہوتی۔
Ayah 54:9کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ ۔ (القمر : 9)
(ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا، انھوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہا یہ تو دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا گیا۔ )
قومِ نوح کے انجام کی تفصیل
آیت چار میں معذب قوموں کی جس تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا یہ اسی کی کسی حد تک تفصیل ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا گیا۔ کیونکہ معلوم تاریخ میں وہ سب سے پہلی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ اور قریش بھی اس حد تک انھیں جانتے تھے کہ دجلہ اور فرات کے دو آ بے میں ایک قوم آباد تھی جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے، ان کی صدیوں کی تبلیغ و دعوت کے باوجود جب اس قوم نے تکذیب کی انتہا کردی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے ان پر اتمامِ حجت ہوگیا تو تب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ اسی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس قوم نے ہمارے بندے یعنی حضرت نوح کو جھٹلایا، جھوٹا قرار دیا، تکذیب کی، ان کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا اور ان کے اس دعوے کا تمسخر اڑایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ہدایت کے لیے آئے ہیں۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جب انھوں نے عالم غیب کی خبریں دیں اور ان کی کامرانی و ناکامی کو ایمان سے مشروط کیا اور نافرمانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم کا رویہ اصلاح پذیر ہونے کی بجائے اور بگڑتا گیا اور تکذیب پر اڑتے چلے گئے اور پیغمبر کی ہر کوشش کو انھوں نے ناکام بنادیا تو پیغمبر نے قدم قدم پر انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی اور نہایت ہمدردی کے ساتھ انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ تو قوم نے گالیوں کے مقابلے میں ان کی دعائیں سن کر، اذیتوں کے مقابلے میں ان کی ہمدردی اور خیرخواہی دیکھ کر اور نہایت دلسوزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انذار اور قیامت کے عذاب کی تنبیہ کو دیکھ کر اسے مجنون کہنا شروع کردیا کہ یہ ایک ایسا دیوانہ ہے جسے سوائے عذاب اور قیامت کے اور کوئی بات نہیں آتی۔ ہم جبکہ اپنے علاقے میں ہر طرح سے محفوظ ہیں اور ہمیں ہر طرح سے عزت و دولت حاصل ہے تو ہم آخر کس طرح عذاب کا شکار ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اگر ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں دنیا میں عزت و وجاہت سے نہ نوازتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے۔ تو آخر وہ قیامت کے دن ہمیں عذاب کیوں دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پیغمبر کی باتیں دیوانگی اور پاگل پن کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسے تو عذاب اور قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اسی لیے ہر وقت عذاب کی رٹ لگائے رکھتا ہے۔ پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر موقع پر پیغمبر کی توہین کی، اسے بری طرح جھڑکا، حتیٰ کہ اس قدر برہمی کا اظہار کیا کہ سنگسار کرنے کی دھمکی دے دی۔ سورة شعراء میں اسی حکایت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا قَالُوْا لَئِنْ لَمَ تَنْتَہِ یَانُوْحُ لَـتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیَنَ ” قوم نوح نے کہا، اے نوح ! اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے ہوئے لوگوں میں سے ہو کے رہو گے۔ “
Ayah 54:10فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مُغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ۔ (القمر : 10)
(تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا اب تو ان سے انتقام لے۔ )
قومِ نوح جب ان کی جان کے درپے ہوگئی تو تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے پروردگار ! قوم کو سمجھانے بجھانے کے سلسلے میں، میں اپنی کوشش و توانائی کا آخری قطرہ تک نچوڑ چکا ہوں، میں نے ان کی ہدایت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن اب یہ لوگ میرے ہی خون کے پیاسے ہورہے ہیں اور مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ میں ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں۔ اب تجھ ہی سے فریاد ہے کہ تو ان سرکشوں سے انتقام لے۔
انتصار کے معنی مدافعت کرنے کے بھی ہیں اور انتقام لینے کے بھی۔ آیت میں انتقام کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ لوگ میری ہمدردی اور خیرخواہی کا صلہ جس طرح دشمنی کی صورت میں دے رہے ہیں اور میری جان کے دشمن ہوگئے ہیں تو ہی ان سے نمٹ اور ان سے انتقام لے۔
Ayahs 54:11–12فَفَتَحْنَـآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْھَمِرٍ ۔ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَـآئُ عَلٰٓی اَمْرٍقَدْ قُدِرَ ۔ (القمر : 11، 12)
(پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلادھار بارش سے کھول دیئے ہیں۔ اور زمین کو چشموں کی صورت میں پھاڑ دیا، پس پانی جا ٹکا اس نشان پر جو ٹھہرا لیا گیا تھا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور پروردگار نے اس طرح ان کی قوم سے انتقام لیا کہ ایسی موسلادھار اور تیز بارش ہوئی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور زمین سے ہر طرف سے پانی ابلنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری زمین چشموں کی صورت اختیار کرگئی ہے اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا اور ہر چیز پانی میں غرقاب ہو کر رہ گئی تھی۔ زمین کا کوئی حصہ تو کیا نظر آتا چھوٹے موٹے پہاڑ بھی پانی میں چھپ گئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے ایک نشان مقرر کردیا تھا کہ جب پانی وہاں تک پہنچے تو بارش کو روک دیا جائے گا۔ چناچہ جب پانی اس نقطہ تک پہنچ گیا اور پوری قوم نوح اس پانی سے تباہ و برباد ہوگئی تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طوفان روک دیا گیا۔
Ayahs 54:13–14وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ ۔ تَجْرِیْ بِاَعْیُـنِنَا ج جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ۔ (القمر : 13، 14)
(اور ہم نے نوح کو ایک تختوں والی اور میخوں والی پر سوار کردیا۔ جو ہماری حفاظت میں چل رہی تھی، یہ ہم نے اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ )
ایسے طوفان کے سامنے کسی کے کھڑے ہونے یا بچنے کا کیا سوال تھا، انسان ہی نہیں ہر چیز غرقاب ہو کر رہ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ عذاب کی صورت میں پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا جاتا۔ چناچہ اسی کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس کشتی پر سوار ہونے کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی مقصد کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) تیار کرچکے تھے۔ لیکن اس کشتی کا نام لیے بغیر اسے تختوں والی اور میخوں والی کہہ کر یاد فرمایا گیا ہے۔ شاید اشارہ اس جانب ہے کہ دیکھو ایسے خوفناک طوفان میں جبکہ بحری جہاز بھی غرقابی سے بچ نہیں سکتے ہم نے ایسی کشتی میں پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچایا جو محض چند تختے اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔ سمندر میں جب طوفان اٹھتے ہیں تو بعض دفعہ بڑے بڑے جہاز ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ طوفانِ نوح سے بڑھ کر اور طوفان کیا ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جنھیں بچانا تھا انھیں محض ایک ایسی کشتی پر سوار کرکے بچایا جو چند تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس کشتی میں بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی کہ وہ طوفانِ نوح کا مقابلہ کرسکتی۔ بجز اس کے کہ اس کا چلنا اور پانی پر اس کا رواں ہونا اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تھا۔ وہ چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچانے کا وعدہ کرچکا تھا اس لیے اس کشتی کو اس نے ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھا۔ نہ تیز ہوا اسے نقصان پہنچا سکی اور نہ تیز بارش اس کا کچھ بگاڑ سکی۔
مزید فرمایا کہ قوم نوح نے عرصہ دراز سے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کا رویہ اپنا رکھا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے سنبھلنے کی مہلت دیتا رہا۔ لیکن جب اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور آپ کی جان کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا۔ یہ اس بات کا بدلہ تھا کہ جو قوم بھی اللہ تعالیٰ کے سفیر اور اس کے رسول کی نہ صرف توہین کرے گی بلکہ اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کی کوشش کرے گی، اللہ تعالیٰ اس سے ضرور انتقام لے گا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے مطابق ان سے ایسا انتقام لیا گیا کہ ان کی جڑ تک اکھاڑ کر رکھ دی گئی۔
Ayah 54:15وَلَقَدْ تَّرَکْنٰـھَـآ اٰ یَۃً فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 15)
(اور ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ )
ضمیر کے مرجع میں اختلاف اور عبرت آموزی کی ترغیب
تَرَکْنٰـھَـآ کی ضمیر مفعول کا مرجع متعین کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس کا مرجع وہ سرگزشت ہے جس کا ذکر اس واقعہ میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اس کا ذکر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد تک محدود نہیں رکھا بلکہ بعد میں آنے والے آسمانی صحیفوں میں بھی مسلسل اس کا ذکر ہوتا رہا ہے تاکہ بعد کی آنے والی قومیں اس سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس ضمیر کا مرجع وہ کشتی ہے جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی گئی۔ اور اس کشتی کو اللہ تعالیٰ نے نشان عبرت کے طور پر عرصہ دراز تک باقی رکھا۔ امام بخاری، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتحِ عراق و الجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر اور ایک روایت کے مطابق باقرویٰ نامی بستی کے قریب موجود تھی۔ اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اس کو دیکھا تھا۔ موجودہ زمانے میں بھی ہَوائی جہازوں سے پرواز کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اس علاقے کی ایک چوٹی پر ایک کشتی نما چیز پڑی دیکھی ہے جس پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ سفینہ نوح ہے۔ اتنے بڑے واقعہ اور اتنے بڑے حوالے کے بعد بھی کیا عبرت حاصل کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کو عبرت حاصل کرنا ہے اس کے لیے تو اس واقعہ میں عبرت کا بہت سامان موجود ہے۔
Ayah 54:16فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ (القمر : 16)
(دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ )
قومِ نوح پر عذاب آنے سے پہلے ایک طویل عرصے تک حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا دین پہنچایا اور ان کے انکار کی صورت میں بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انھیں ڈرایا۔ اور ہر موقع پر انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اختیار نہ کیا اور اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے لیے تیار نہ ہوئے تو پھر تم کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آسکتے ہو اور تمہاری بداعمالیاں کسی وقت بھی اس کے غضب کا باعث بن سکتی ہیں۔ لیکن اس قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت پر کان نہیں دھرا۔ حتیٰ کہ انھیں سنگسار کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ تب ان پر وہ عذاب آیا جسے ہم طوفانِ نوح کے نام سے جانتے ہیں اور جس نے انھیں بالکل تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اس کے حوالے سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ دیکھ لو میں نے عذاب سے پہلے اپنے پیغمبر کی معرفت کتنے طویل عرصے تک انھیں تنبیہات کیں اور انھیں سنبھلنے کا موقع دیا۔ لیکن جب ان کی تکذیب اور سرکشی میں کوئی کمی نہ آئی تو پھر بالآخر میرا عذاب ان پر آیا اور اس عذاب کو غور سے دیکھو کہ اس نے ایک ایک بات سچی کر دکھائی جس سے ہمارا رسول ان کو ڈراتا رہا۔
Ayah 54:17وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 17)
(اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ )
قرآن کے آسان ہونے کا مفہوم
اس آیت کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کریم ایک آسان کتاب ہے جس کے لیے کسی محنت اور جان ماری کی ضرورت نہیں، حتیٰ کہ عربی زبان جانے بغیر بھی اسے نہ صرف سمجھا جاسکتا ہے بلکہ اس کے عالم ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے نہ حدیث کی ضرورت ہے نہ علم تفسیر جاننے کی اور نہ اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کتاب سے احکام معلوم کرنے اور جزئیات کو استنباط کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ حالانکہ اس آیت میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے وہ سیاق وسباق کو اگر غور سے دیکھا جائے تو جو بات بالکل صاف اور سیدھی بات معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی دعوت کے مخالفین نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں اس تکذیب کے نتیجے میں عذاب سے ڈرایا تو وہ بجائے خوفزدہ ہونے کے اس پر اصرار کرنے لگے کہ آپ ہمیں عذاب لا کے دکھایئے تب ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانیں گے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لیے یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم کتنے نادان ہو کہ تم عذاب دیکھ کر قرآن کریم کی دعوت کو قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ حالانکہ عذاب آنے کے بعد تمہارے پاس اس کا موقع نہیں ہوگا کہ تم اس دعوت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکو۔ عذاب تو مکمل تباہی اور ہلاکت کا نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت حاصل کرنے کے لیے قرآن کریم کو تمہارے لیے نہایت آسان کردیا ہے۔ اس میں دلائلِ آفاق بھی ہیں اور دلائلِ انفس بھی۔ اس میں تمہاری ذہنی الجھنوں کو بھی دور کیا گیا ہے اور تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے تمہارے لیے عبرت حاصل کرنے کے مواقع مہیا کیے گئے ہیں۔ تمہاری عقل اور فطرت کے لیے وہ مقدمات مہیا کیے گئے ہیں جنھیں دیکھ کر تم آسانی سے اپنے اشتباہات سے نکل سکتے ہو۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ تم بجائے قرآن کریم کی تعلیم و تذکیر سے فائدہ اٹھانے کے عذاب کی نشانی دیکھنے پر اصرار کررہے ہو۔ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو اس عظیم نعمت کو چھوڑ کر عذاب کے تازیانے پر اصرار کرے۔
Ayah 54:18کَذَّبَتْ عَادٌ فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ (القمر : 18)
(عاد نے بھی تکذیب کی، تو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ )
عبرت آموزی کے لیے قوم عاد کا حوالہ
جس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی سرگزشت بیان فرمائی ہے اسی مقصد کے لیے عاد، ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کی سرگزشتیں بھی بیان کی جارہی ہیں۔ سب سے پہلے قوم عاد کا وہ مرض بیان فرمایا گیا ہے جو ساری قوموں کا ایک مشترکہ مرض ہے۔ کیونکہ کسی قوم نے بھی اپنی طرف آنے والے اللہ تعالیٰ کے رسول کو آسانی سے قبول نہیں کیا۔ چناچہ قوم عاد نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی اور ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) ان کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ انھوں نے بار بار انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں تنبیہات کی گئیں لیکن انھوں نے کوئی بات مان کر نہ دی، بلکہ ہَوائے نفس کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ڈگر پر چلتے رہے حتیٰ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چناچہ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ دیکھ لو کہ کس طرح میرے عذاب نے آخر ان کی جڑ کھود کر رکھ دی۔ اور اس سے پہلے میرے رسول نے بار بار ان تک میری تنبیہات پہنچائیں تاکہ وہ کل کو یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری طرف کوئی نذیر انذار کرنے کے لیے نہیں آیا تھا ورنہ ہم ضرور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بن جاتے۔
Ayahs 54:19–20اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ۔ تَنْزِعُ النَّاسَ لا کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ۔ (القمر : 19، 20)
(ہم نے ان پر ایک بادتند بھیجی مسلسل نحوست کے دن میں۔ جو لوگوں کو اکھاڑ کر پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ )
اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بادتند کا عذاب بھیجا، ایک تیز آندھی آئی اور اس کی تفصیل ہم اس سے پہلے مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ آندھی ایک دن نہیں بلکہ آٹھ دن اور سات راتیں پوری قوت سے چلتی رہی۔ اور اس کی وجہ سے اس قوم کے درودیوار، ان کے مکانات، ان کے چوپال اور ان کے بڑے چھوٹے محلات اس طرح نحوست کی منہ بولتی تصویر بن گئے کہ ہر دیکھنے والا یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ علاقہ کسی بڑے عذاب کا شکار ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس عذاب کا آغاز بدھ کے دن سے ہوا اور پھر اسی نسبت سے بدھ کو منحوس ٹھہرا دیا گیا اور اس کی تائید میں بعض روایات بھی گھڑی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بات صحیح نہیں ہے۔ روح المعانی میں علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ سارے دن یکساں ہیں، بدھ کی کوئی تخصیص نہیں۔ رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں جو کسی کے لیے اچھی اور کسی دوسرے کے لیے بری نہ ہو۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کسی کے لیے موافق اور کسی کے لیے ناموافق حالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ چناچہ اس تیز ہوا اور آندھی نے ان کا یہ حال کردیا کہ وہ لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ جب یہ بادتند چلنے لگی تو جو جہاں تھا وہیں زمین سے چمٹ کر رہ گیا، لیکن ہوا کا زور بڑھتا ہی گیا اس وجہ سے کسی کو اٹھنا نصیب نہ ہوا۔ اور ان کی لاشیں اس طرح بکھری ہوئی اور ہوا کے زور پر لڑھکتی پھرتی تھیں جس طرح کھجوروں کے کھوکھلے تنے لڑھکتے پھرتے ہیں۔
Ayahs 54:21–22فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 21، 22)
( تو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ )
یہ دونوں آیتیں قوم نوح کی سرگزشت کے آخر میں گزر چکی ہیں اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ یہ ہر واقعہ کے آخر میں ٹیپ کے بند کے طور پر بار بار آرہی ہیں۔ قریش اور مخالفین کے مخالفانہ رویئے کے باعث انھیں بار بار توجہ دلائی جارہی ہے۔
Ayahs 54:23–24کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاِحدًا نَّـتَّبِعُہٗٓ لا اِنَّـآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۔ (القمر : 23، 24)
(ثمود نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ انھوں نے کہا ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اس کی پیروی کریں گے، اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں جا پڑیں گے۔ )
قومِ ثمود کی سرگزشت کا حوالہ
قومِ ثمود نے بھی قوم عاد ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی۔ اور ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے تھے۔ اور تکذیب کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہا کہ ہم ایسی شخصیت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں جن میں تین باتیں ہیں جو ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ بشر ہے، نبوت اور رسالت بہت عظیم منصب ہے۔ وہ کسی بشر کو نہیں مل سکتا۔ اور دوسری یہ بات کہ وہ کہیں باہر سے نہیں آیا کہ ہم اس کی بڑائی تسلیم کرلیں۔ وہ ہماری اپنی ہی قوم کا ایک فرد ہے۔ اگر کہیں باہر سے آیا ہوتا جس کی نسبت عظیم ہوتی اور وہ ہم سے برتر قوم سے تعلق رکھتا تو تب بھی ہم اس کی پیروی کرلیتے۔ تیسری بات انھوں نے یہ کہی کہ وہ اکیلا ہے جس کے ساتھ کوئی لائولشکر نہیں۔ وہ کسی قبیلے کا سربراہ نہیں، وہ خدم و حشم کا مالک نہیں۔ تو آخر اس کی پیروی کیسے کریں۔ اور اگر ان تینوں باتوں کی موجودگی میں ہم اس کی پیروی کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم حقیقت سے بہت دور چلے گئے۔ اور آخرت میں ہم اسی کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ کیونکہ گمراہی اور جہنم میں ایسا التزام ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 54:25ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ (القمر : 25)
(کیا ہمارے اندر سے اسی پر اللہ کا ذکر نازل کیا گیا ہے، نہیں، بلکہ وہ پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ )
اول تو یہی بات قابل تسلیم نہیں کہ کسی بشر کو نبوت جیسا عظیم منصب مل جائے۔ لیکن اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کارعظیم کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جو قوم کا نہایت ناقابلِ ذکر آدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا یہ دعویٰ کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ بہت بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ شیخی باز بھی ہے اسی لیے رسالت کا دعویٰ کرکے اپنے آپ کو بڑا آدمی ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
Ayah 54:26سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْـکَذَّابُ الْاَشِرُ ۔ (القمر : 26)
(وہ کل کو جان لیں گے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ )
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ ہمارے پیغمبر کے بارے میں جو انتہائی غلط باتیں کہہ رہے ہیں انھیں کل ہی یعنی بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا ہمارا رسول ہے یا یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ شیخی باز اور برخودغلط، ان میں سے ایک ایک شخص ہے یا ہمارا رسول ہے۔
Ayah 54:27اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّھُمْ فَارْتَقِبْھُمْ وَاصْطَبِرْ ۔ (القمر : 27)
(ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں، تو آپ ان پر نگاہ رکھیے اور صبر کیجیے۔ )
مخالفین کی یا وہ گوئی کا جواب یہ ہے کہ ہم ایک خاص اونٹنی کو ان کے لیے آزمائش بنا کر بھیج رہے ہیں۔ ان سے اس اونٹنی کے بارے میں کچھ وعدے لیے جائیں گے جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں یا سچے۔ اب آپ کا کام صبر کے ساتھ ان کے رویئے کو دیکھنا ہے کہ وہ اونٹنی کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان میں شیخی باز کون ہے۔ آپ غور سے دیکھتے جایئے کہ اس آزمائش میں یہ پورا اترتے ہیں یا ناکام ہوجاتے ہیں۔
Ayah 54:28وَنَـبِّئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ م بَیْنَھُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ (القمر : 28)
(اور انھیں آگاہ کردیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہے، ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ )
یعنی ان کے درمیان اور اونٹنی کے درمیان پانی کے ذخیرے سے پانی لینے کے لیے باریاں مقرر کردی گئی ہیں۔ جو باری اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کے لیے مقرر کردی گئی ہے کسی کے لیے اس کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس کی باری میں کوئی اس سے تعرض کرے۔ اگر انھوں نے اس باری کی پابندی نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ کذابوں کا گروہ ہے۔ اور اگر ناقہ کو نقصان پہنچایا اور اپنی باری سے بڑھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شیخی باز لوگ ہیں۔
Ayah 54:29فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ۔ (القمر : 29)
(پس انھوں نے اپنے آدمی کو پکارا، پس وہ بڑھا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ )
اونٹنی کے سلسلے میں وہ جس آزمائش میں ڈالے گئے تھے یعنی ان کے لیے پانی تقسیم کردیا گیا تھا اور اس ناقہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فتنہ بنایا گیا تھا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ وہ اس کے حقوق ادا کرتے ہیں یا نہیں، لیکن وہ اس میں پورا نہ اترے۔ ایک عرصے تک تو اونٹنی ان کے درمیان دندناتی پھری اور یہ سمجھ کہ اس کی پشت پر کسی عظیم قوت کا ہاتھ ہے وہ اس سے تعرض نہ کرسکے۔ آخر اپنے میں سے ایک ایسے آدمی کو جو ان میں سب سے زیادہ شقی اور لڑاکا تھا اسے تیار کیا کہ وہ اونٹنی کو مار ڈالے۔ چناچہ وہ اٹھا اور اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈائیں۔
Ayahs 54:30–31فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ ۔ (القمر : 30، 31)
(تو دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھی میری تنبیہات۔ ہم نے ان پر ایک ہی ڈانٹ بھیجی، اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کے چورے کی طرح ہو کر رہ گئے۔ )
اس عذاب کی تفصیل ہم اس سے پہلے مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں۔ بادِتند اور تیز بارش نے ان کو اس طرح ریزہ ریزہ کر ڈالا کہ جس طرح مویشی پالنے والے جانوروں کے لیے ایک باڑہ بناتے ہیں اور پھر ان کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ جھاڑیاں سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔ قوم ثمود بھی اسی طرح ریزہ ریزہ ہو کر رہ گئی۔ یعنی ان کی لاشیں بھی سلامت نہ رہیں۔
Ayah 54:32وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 32)
(اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ )
اس کی تشریح گزر چکی ہے۔
Ayahs 54:33–35کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـھُمْ بِسَحَرٍ ۔ نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا ط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ ۔ (القمر : 33 تا 35)
(قومِ لوط نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا۔ تو ہم نے ان پر پتھرائو کرنے والی ہوا بھیج دی، صرف آل لوط اس سے بچے، ہم نے ان کو نجات دی سحر کے وقت۔ خاص اپنے فضل سے، اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ )
قومِ لوط کی سرگزشت کا حوالہ
قومِ لوط نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی تنبیہات کو درخورِاعتنانہ سمجھا اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کے نبی کی رسالت، اس کے لائے ہوئے پیغام اور نہ ماننے کی صورت میں اس کی تنبیہات کو جھٹلاتے رہے۔ حتیٰ کہ جب ان کی تکذیب اس حد تک پہنچی کہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی جان کے دشمن ہوگئے اور شرافت کی ہر قدر کو انھوں نے پامال کر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ہم نے ان پر ایک پتھرائو کرنے والی ہوا بھیجی۔ اس کی تفصیل ہم اس سے پہلے مختلف مواقع پر بیان کرچکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان کے طور پر بھیجا گیا۔ وہ لوگ اپنی خست اور دنائت کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر حملہ آور ہوئے اور ان سے مہمانوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی بےحد منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں، مگر انھوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں تک پہنچنے کی کوشش کی۔ تب لڑکوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) پر اپنی اصل حقیقت ظاہر کی۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایت کی کہ صبح ہونے سے پہلے وہ اس بستی سے نکل جائیں۔ اور ان کے نکلتے ہی ان پر ایک ہولناک عذاب نازل ہوگیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت لوط اور آل لوط کو ہر طرح کی ایذا سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نافرمان قوموں پر نازل ہونے والے عذاب سے انھیں متأثر نہیں ہونے دیتا۔
Ayah 54:36وَلَقَدْ اُنْذَرَھُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ۔ (القمر : 36)
(حضرت لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا، لیکن وہ تنبیہات میں شک کا ہی اظہار کرتے رہے۔ )
عذاب آنے سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی تکذیب اور ان کے مکروہ رویئے کی وجہ سے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ اور برابر انھیں تنبیہات کرتے رہے۔ لیکن قوم لوط نے کبھی سنجیدگی سے انھیں نہ لیا۔ بلکہ جب بھی حضرت لوط انھیں ایسی کوئی تنبیہ کرتے تو وہ ہمیشہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے۔
Ayah 54:37وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَھُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ (القمر : 37)
(اور انھوں نے حضرت لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا تو ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں، اور چکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات۔ )
اس بدنصیب قوم نے جب دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس چند خوبصورت لڑکے آئے ہیں تو انھوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ان لڑکوں کو حوالے کرنے کے لیے ہر طرح سے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کی اس کمینہ حرکت پر کسی طرح آمادہ نہ ہوئے تو تب انھوں نے گھر میں زبردستی داخل ہو کر لڑکوں کو پکڑنا چاہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں۔ جب کوئی قوم یا کسی قوم کے افراد اس حد تک بگاڑ کا شکار ہوجاتے ہیں تو پھر ان کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں ہوتا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے۔ چناچہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا کہ اب میرے اس عذاب کا اور ان تنبیہات کے نتیجے کا مزہ چکھو جنھیں تم نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
Ayah 54:38وَلَقَدْ صَبَّحَھُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ (القمر : 38)
(اور ان پر آگیا صبح سویرے ایک ٹک جانے والا عذاب۔ )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو جب بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو وہ رات کا پہلا حصہ تھا، لیکن صبح طلوع ہونے سے پہلے پہلے وہ اس علاقے سے باہر نکل چکے تھے تب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جبکہ سحر طلوع ہوچکی تھی۔ اس طرح سے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ اور ان پر ایمان لانے والے ہر طرح سے محفوظ رہے۔ اس عذاب کی صفت کے طور پر مستقر کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی مستقل یا ٹک جانے والا عذاب۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ عذاب ایسا نہ تھا جو ہوا کے ایک جھونکے کی طرح آیا اور نکل گیا۔ بلکہ ایسا عذاب تھا جو کسی قوم کی تباہی کے لیے آتا ہے اور پھر ان کی تباہی سے پہلے واپسی کا نام نہیں لیتا۔
Ayahs 54:39–40فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 39، 40)
(پس چکھو میرا عذاب اور میری تنبیہات۔ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ )
یہ وہی ٹیپ کی آیتیں ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔