Ayahs 54:41–42وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ۔ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّھَا فَاَخَذْنٰـھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ (القمر : 41، 42)
(اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔ انھوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو ایک غالب اور قوت والے کے پکڑنے کی طرح پکڑا۔ )
فرعون اور آل فرعون کا حوالہ
جن معذب قوموں کی سرگزشتوں سے استدلال کرتے ہوئے قریش کو سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں آخری سرگزشت فرعون اور آل فرعون کی بیان فرمائی گئی ہے۔ تفصیل اس لیے ذکر نہیں کی گئی کہ ہم اس سے پہلے متعدد مواقع پر اس سرگزشت کے مختلف اجزاء پڑھ چکے ہیں۔ یہاں اشارۃً صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ ہم نے فرعون اور آل فرعون کی طرف بھی اپنی تنبیہات بھیجیں۔ ہمارے رسول گئے اور انھیں ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔ اور ان کے سامنے ایسے ایسے معجزات ظاہر کیے گئے جن کو دیکھنے کے بعد انکار اور تکذیب اگر ناممکن نہیں تو محال ضرور ہوجاتی ہے۔ لیکن فرعون اور آل فرعون کے دل اس حد تک سخت ہوچکے تھے کہ انھوں نے ہر نشانی دیکھی اور اسے سحر قرار دے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ قرآن کریم نے ان مختلف نشانیوں کو جابجا ذکر کیا ہے اور تورات میں تو تفصیل کے ساتھ انھیں بیان کیا گیا۔ لیکن جب ان پر اتمامِ حجت ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کر بحرقلزم کے کنارے پہنچ گئے تو اس قوم نے آپ کا تعاقب کرکے آپ کو اور بنی اسرائیل کو تہِ تیغ کرنے کی کوشش کی۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح پکڑا جیسا ایک طاقتور کے پکڑنے کا حق ہوتا ہے۔ فرعون چونکہ اپنی حکومت کی قوت پر نازاں تھا۔ ہمعصر ممالک میں اس کی فوجوں کی برتری تسلیم کی جاتی تھی۔ اور کوئی ملک مصر کی طرح استحکام رکھتا تھا اور نہ خوشحالی رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مراعات نے بری طرح اس کا دماغ خراب کردیا تھا اور وہ تکبر کی وجہ سے کسی کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھا۔ تو اس کی قوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہم نے اسے پکڑا تو اس طرح پکڑا جیسے زبردست اور بےپناہ قوت والا پکڑتا ہے تاکہ اس کی بڑائی کا خناس نہ صرف اس کے دماغ سے نکلے بلکہ اس کی ہمعصر دنیا پر بھی اس کی حقیقت پوری طرح واشگاف ہوجائے۔
Ayah 54:43اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُوْلٰٓئِـکُمْ اَمْ لَـکُمْ بَرَآئَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ ۔ (القمر : 43)
(کیا تمہارے کفار ان قوموں کے کفار سے بہتر ہیں یا تمہارے لیے آسمانی کتابوں میں کوئی معافی لکھی ہوئی ہے۔ )
براہِ راست قریش سے خطاب
معذب قوموں کی سرگزشتوں کا حوالہ دینے کے بعد اب براہ راست قریش سے خطاب فرمایا جارہا ہے کہ تم نے متذکرہ بالا مثالوں میں دیکھا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اس لیے آیا کہ انھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کے انذار کا مذاق اڑایا۔ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی اسے سحر قرار دے کر ماننے سے انکار کردیا۔ اور مخالفت میں شرافت کے ہر ٹانکے کو توڑ ڈالا۔ تو تب اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ دی۔ اور آج بھی ان کے کھنڈرات عبرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ قریش کے لوگو ! تم نے بھی وہی روش اختیار کر رکھی ہے۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے انھوں نے تو سعادت اور ہدایت کی راہ اختیار کرلی۔ لیکن تم میں سے جن لوگوں نے بالکل گزشتہ قوموں کی طرح استکبار، انکار اور تمسخر کا طریقہ اختیار کیا تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آئے گا۔ جبکہ ان کا رویہ بالکل وہی ہے جس رویئے کی وجہ سے گزشتہ قومیں عذاب کا شکار ہوئیں۔ تو آخر تمہارے کفار میں ایسی کون سی خوبی ہے جس کی وجہ سے تم یہ سمجھتے ہو کہ جن پر عذاب آنا تھا آگیا لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آئے گا۔ جب جرم ایک ہے تو فیصلے مختلف کیوں ہوں گے۔ تمہاری اللہ تعالیٰ سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے کہ تم اپنے جرائم پر گرفت سے بچے رہو۔ اس کی ذات عادل ذات ہے وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ اس لیے وہ تمہارے ساتھ اپنے عدل کے تقاضے اور اپنے قانون کے تحت معاملہ کرے گا۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ محسنین کو دنیا و آخرت میں تقرب سے نوازتا ہے اور منکرین اور کافروں کو دنیا میں بھی تباہ کرتا ہے اور آخرت میں بدترین عذاب سے دوچار کرے گا۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے شاید اس لیے بےنیاز اور نچنت ہو کے بیٹھے ہو کہ شاید آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی گئی ہے کہ تم جو چاہو کرتے رہو ہم تمہیں کبھی سزا نہیں دیں گے۔ جس طرح یہود کو یہ غلط فہمی تھی کہ ہمیں جہنم کی آگ کبھی نہیں چھو ویگی۔ اور اسی تصور نے ان کی عملی زندگی تباہ کرکے رکھ دی۔ تمہیں بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی ہی خوش فہمی ہے جس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات ماننے سے انکار کرتے ہو۔ اور وہ عذاب سے ڈراتا ہے تو تم اس کا مذاق اڑاتے ہو۔ حالانکہ پہلی کتابوں کے پڑھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ بےایمان اور بدعمل قوم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کتاب میں کوئی معافی نامہ نازل نہیں فرمایا۔
Ayahs 54:44–45اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ (القمر : 44، 45)
(کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط جتھہ ہیں، اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ عنقریب ان کی جمعیت شکست کھاجائے گی، اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ )
قریش کی غلط فہمیاں اور ایک عظیم پیشگوئی
اب قریش سے منہ پھیر کر اور دوسروں کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کی خوش فہمیوں کا سلسلہ جو رکتا دکھائی نہیں دیتا تو کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ایک مضبوط جتھہ اور مضبوط جمعیت ہے۔ اور ہم دفاع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم پر کسی طرف سے حملہ ہوا یا ہمیں کسی عذاب کا نشانہ بنایا گیا تو ہماری جمعیت اس کا مقابلہ اور دفاع کرے گی۔ دوسری آیت کریمہ میں ان کی حماقت کا طلسم توڑتے ہوئے فرمایا کہ تم جس جمعیت کو بڑا مضبوط سمجھتے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہاری جمعیت تو کوئی شے ہی نہیں۔ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی ٹھہر نہیں سکتی۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا تو تم اس کے عذاب کی تاب نہیں لا سکو گے۔
بعض اہل علم کے نزدیک یہ ایک پیشگوئی ہے جو انتہائی نامساعد ماحول میں بڑے اعتماد کے ساتھ کی گئی ہے۔ اور سننے والوں میں اس کے وقوع کا دور دور تک کوئی امکان نہ تھا۔ کیونکہ اس آیت کریمہ کا نزول ہجرت سے پانچ سال پہلے ہوا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی طاقت کا عالم یہ تھا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد حبشہ کی طرف ہجرت کرکے جا چکی تھی اور وہاں وہ بادشاہ کی پناہ میں بہت آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ اور پیچھے رہ جانے والے شعب ابی طالب میں محصور رہنے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوچکے تھے کیونکہ قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے انھیں بھوکوں مار دیا تھا۔ ان حالات میں کون کہہ سکتا تھا کہ عنقریب حالات میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ وہ مسلمان جن کے پاس طاقت نام کی کوئی چیز نہیں وہ کفار کی قوت کو تباہ کرکے رکھ دیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ( رض) فرماتے تھے کہ جب سورة قمر کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں حیران تھا کہ آخر یہ کون سی جمعیت ہے جو شکست کھائے گی۔ مگر جب جنگ بدر میں کفار شکست کھا کر بھاگ رہے تھے اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ زرہ پہنے ہوئے آگے کی طرف جھپٹ رہے ہیں۔ اور آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ تب میری سمجھ میں آیا کہ یہ تھی وہ ہزیمت جس کی خبر قرآن کریم میں دی گئی تھی۔ (ابنِ جریر، ابن ابی حاتم)
Ayah 54:46بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرُّ ۔ (القمر : 46)
(بلکہ ان کے وعدے کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی سخت اور بڑا ہی کڑوا ہوگا۔ )
قریش ہی کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں ان کی جمعیت تو مسلمانوں کے ہاتھوں یقینا شکست کھائے گی اور یہ لوگ سر پر پائوں رکھ کر بھاگیں گے۔ لیکن یہ ان کی آخری سزا نہیں۔ ان کو جو وعید سنائی جارہی ہے ان کے ظہور کا اصلی دن قیامت کا دن ہے۔ اس دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ قیامت کا دن بڑا کٹھن دن ہے یعنی ایسی مصیبت کا دن ہوگا کہ اس دن کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے گا۔ اور ایسا کڑوا اور تلخ ہوگا کہ جس کی شدت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 54:47اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰـلٍ وَّسُعُرٍ ۔ (القمر : 47)
(بےشک یہ گمراہ لوگ گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑیں گے۔ )
عذابِ دنیا کے بعد عذاب آخرت
آج ان مخالفین کو اپنی قوت و شوکت پر بڑا ناز ہے اور وہ عذاب اور جہنم کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں لیکن قیامت کے دن وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جن لوگوں نے بھی رسول کے انذار کی تکذیب کی وہ سب گمراہی میں تھے۔ اور اس گمراہی کا نتیجہ جہنم کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزاری ہوئی زندگی جنت کا استحقاق پیدا کرلیتی ہے اسی طرح گمراہی میں ڈوب کر جو زندگی گزرتی ہے اس کا ٹھکانہ یقینا جہنم ہوگا۔
Ayah 54:48یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ ط ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ۔ (القمر : 48)
(جس دن یہ کافر لوگ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اس روز ان سے کہا جائے گا) اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزہ۔ )
قیامت کے روز بدترین انجام
قریش اور دیگر کفار کو آئینہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آج یہ لوگ کیسے ہی استکبار کا اظہار کریں اور اپنے بارے میں کیسی ہی خودفریبی میں مبتلا ہوں، قیامت کے دن یہ ذلت کی بدترین تصویر ہوں گے۔ انھیں جہنم میں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا۔ چہروں کے بل کسی کا گھسیٹا جانا ذلت کی بدترین صورت ہے۔ لیکن ان کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے ہوگا کہ انھوں نے محض غرور کے سبب سے ایک واضح حقیقت کو جھٹلایا۔ اور پھر انھیں یاد دلایا جائے گا کہ تم نہ قیامت کو مانتے تھے اور نہ قیامت کے عذاب کو۔ آج تم جہنم کے عذاب کی لپٹ کا مزہ چکھو تاکہ تمہیں اچھی طرح قیامت کا یقین آجائے۔
Ayah 54:49اِنَّا کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ ۔ (القمر : 49)
(ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔ )
ایک سوال کا جواب
یہ ایک سوال کا جواب ہے جو ذہنوں میں ابھرتا ہے ممکن ہے زبانوں پر بھی آتا ہو کہ قریش اور دیگر مخالفین نے افہام و تفہیم اور دعوت و تبلیغ اور ہمدردی اور خیرخواہی کی ہر کوشش کو حقارت سے ٹھکرایا۔ حتیٰ کہ گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتیں ان کے سامنے دہرائی گئیں کہ شاید وہ ان سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایسے لوگوں کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے۔ تو قریش اور دیگر مخالفین اب تک اس سے بچے ہوئے کیوں ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقررہ وقت پر بنتی ہے۔ ایک خاص شکل اختیار کرتی اور ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے۔ اور ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے تحت یہ دنیا ایک خاص وقت تک باقی رکھی جائے گی اور ایک وقت خاص پر اسے ختم کردیا جائے گا۔ اسی کو اجل مسمیٰ کا نام بھی دیا جاتا ہے قوموں کے ساتھ معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کا اسی اصول پر ہے۔ کوئی قوم سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی خیر و شر کی تمام صلاحیتیں اجاگر کرسکے، تاکہ اس پر حجت تمام ہوجائے۔ یہی معاملہ قریش اور دیگر منکرین کا بھی ہے۔ انھیں ایک مہلت عمل دی گئی ہے تاکہ وہ اگر اپنی اصلاح کرنی چاہیں تو اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہدایت کے مطابق اصلاح کرلیں۔ اور اگر انھیں ہدایت سے یکسر انکار ہے تو پھر ان کو اس لیے مہلت دی گئی ہے کہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ جب پکڑے جائیں تو انھیں یہ شکایت نہ ہو کہ ہمارے ساتھ جلدی کی گئی ہے۔ چناچہ جیسے ہی ان کی مہلت ختم ہوگی تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان پر نافذ ہوجائے گا۔
Ayah 54:50وَمَـآ اَمْرُنَـآ اِلاَّ وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ ۔ (القمر : 50)
(اور ہمارا حکم تو بس ایک ہی دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوگا۔ )
ہر کام کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت
اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دونوں مرحلے ایک شکست و ریخت کا اور دوسرا نئی زندگی اور محشر میں حساب و کتاب کا۔ لوگ ان میں سے ہر مرحلے کو بیشک ناممکن کہیں اور امکان کی صورت میں اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیے لمبی مدت کا گمان کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے کوئی چھوٹی بڑی بات تیاری کی محتاج نہیں ہوتی۔ ہم کسی چیز کے وجود میں آنے کے لیے ایک ہی دفعہ حکم دیتے ہیں اور پھر اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس حکم پر عمل اس قدر تیزی سے ہوتا ہے جس طرح چشم و ابرو کا اشارہ ظہور میں آتا ہے۔ اس لیے قریش اور دیگر مخالفین اگر قیامت یا عذاب سے اس لیے بےفکر بیٹھے ہیں کہ اولاً تو یہ ممکن ہی نہیں لیکن اگر امکان ہوا بھی تو اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔ انھیں اچھی طرح اس بات کا استحضار پیدا کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کسی کام کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو قیامت برپا کرنے یا عذاب لانے کے لیے بھی اسے کسی تیاری کی ضرورت کیوں ہوگی۔
Ayah 54:51وَلَقَدْ اَھْلَـکْنَـآ اَشْیَاعَکُمْ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ (القمر : 51)
(ہم تم جیسے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے والا۔ )
آنحضرت ﷺ جب عذاب یا قیامت کا ذکر فرماتے تو مخالفین یہ کہتے کہ اگر عذاب کو آنا ہوتا تو اب تک آچکا ہوتا۔ اس کی تاخیر کا تو کوئی سبب ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو یہ بےسبب تاخیر ہمارے نزدیک اس وجہ سے ہے کہ سرے سے عذاب یا قیامت کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس واہمے کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتیں پڑھی ہیں جو سابقہ آیات میں ذکر کی گئی ہیں۔ آخر ان کے انجام سے تمہارے ذہنوں میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر وہ ہلاک کیے جاسکتے ہیں جو تمہاری نسبت ہر پہلو سے زیادہ مضبوط اور زیادہ ترقی یافتہ تھے تو تمہیں ہلاک کیے جانے میں آخر کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ تمہارے لیے عقل کی بات یہ ہے کہ دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرو۔ جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل نہیں کرتا اسے پھر زمانہ سبق سکھاتا ہے۔
Ayahs 54:52–53وَکُلُّ شَیْ ئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ ۔ وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ۔ (القمر : 52، 53)
(اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے سب رجسٹروں میں درج ہے۔ اور ہر چھوٹی بڑی بات ان میں لکھی ہوئی ہے۔ )
مخالفین کے ایک اور واہمے کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ زندگی میں جو اعمال کیے جاتے ہیں ان کا ریکارڈ کہاں ہوگا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی عمل ایسا نہیں جو کیا گیا ہو وہ سب رجسٹروں میں موجود ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات ان رجسٹروں میں لکھی ہوئی ہے۔ اور یہی وہ نوشتے ہیں جو قیامت کے دن ہر شخص کے ہاتھوں میں دے دیئے جائیں گے۔ اور ہر شخص اپنا اعمال نامہ دیکھ کر چیخ اٹھے گا کہ مَالِھٰذَاالْـکِتَابِ لاَ یُغَادِرُ صَغَیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلاَّ اَحْصَاھَا ” یہ اعمال نامہ کیسا ہے جس میں کوئی چھوٹی بڑی بات چھوڑی نہیں گئی بلکہ ہر بات کا شمار کرلیا گیا ہے۔ “
Ayah 54:54اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَھَرٍ ۔ (القمر : 54)
(بےشک اللہ سے ڈرنے والے یقینا باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے۔ )
اس سے پہلے مجرمین اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے، اب متقین کا ذکر کیا جارہا ہے۔ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے حضور پیشی اور جزاء و سزا سے برابر ڈرتے رہے۔ انھوں نے ہر عمل کرنے سے پہلے کتاب و سنت کو دیکھا اور اس کے مطابق عمل کو شکل دی۔ اور پھر ہمیشہ عمل کے محرکات اور اپنے احساسات کو زیادہ سے زیادہ پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ باغات عنایت فرمائے گا جن میں نہریں رواں دواں ہوں گی۔ ہر جنتی کے لیے کئی کئی باغات ہوں گے۔ اور وہ ان میں اپنی چاہت کے مطابق محظوظ ہوگا۔
Ayah 54:55فِیْ مَقْعَدِ صَدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ (القمر : 55)
(سچی عزت کی جگہ میں ایک بڑے مقتدر بادشاہ کے پاس۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا اصل اعزاز یہ ہوگا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا اور وہ ایسا شہنشاہ ہے جس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ ملیک میں ملک سے بڑھ کر زور ہے اور مقتدر کی صفت اس زور میں مزید اضافہ کررہی ہے۔ اس میں ایک بہت بڑی غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی عزت و وجاہت کی اصل منزل یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واصل ہوجائے۔ اور یا وہ اللہ تعالیٰ میں ضم ہوجائے۔ لیکن یہاں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوجانے کا تصور ایک ایسی بےہودگی ہے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ البتہ ایک انسان کا بلند سے بلند مقام اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے قرب کی عزت عطا فرمائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایک محیط بےکراں ہے اور انسان اس کے سامنے ذرا سی آب جُو ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر ایک بےپایاں سمندر ہے تو انسان ایک قطرہ ہے۔ اس کی عزت یہ نہیں کہ وہ سمندر میں غرق ہوجائے۔ کیونکہ سمندر سے مل جانے میں اس کی فنائیت مضمر ہے۔ اس کی عزت اس میں ہے کہ وہ قطرہ رہ کر اپنے اندر سمندر کے خواص پیدا کرے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو قرب الٰہی کہتے ہیں۔ اور اسی کو آنحضرت ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا تخلقوا باخلاق اللہ ” اپنے اندر اللہ کے اخلاق پیدا کرو۔ “ اور آخرت میں بھی انتہائی قرب کے حوالے سے فرمایا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے عرش الٰہی کے سایہ تلے ہوں گے۔