53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsروح القرآن

Ayahs 53:1–4

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے

وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُـکُمْ وَمَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : 1 تا 4) (قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے۔ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے۔ ) اَلنَّجْم سے مراد کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین اَلنَّجْمِ سے ثریا مراد لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے زہرہ مراد لیا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کو مراد لینے پر بھی کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابوعبید نحوی کا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں النجم بول کر جنسِ نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی یہ اسم جنس کے مفہوم میں ہے۔ جیسے قرآن کریم نے سورة النحل اور سورة الرحمن میں اس سے اسم جنس ہی مراد لیا ہے۔ جیسے وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ” وہ ستاروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ “ یا وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدَانِ ” اور ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی آیت کے پہلے لفظ یعنی النجم سے پروردگار نے ستاروں کی قسم کھائی ہے لیکن ان ستاروں کی جب وہ غروب ہوجاتے ہیں۔ یعنی صرف ستاروں کی قسم نہیں بلکہ غروب ہونے والے ستاروں کی قسم ہے۔ اور ہم کئی دفعہ یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ قسم کی حیثیت گواہ یا دلیل کی ہوتی ہے اور اس کے بعد کا آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوسری آیت میں یہ جو فرمایا گیا کہ تمہارے صاحب یعنی نبی کریم ﷺ نہ بھٹکے ہیں اور نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ یہ جوابِ قسم ہونے کی وجہ سے دعویٰ ہے جس کے ثبوت کے لیے قسم کی صورت میں دلیل پیش کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے اور قرآن کریم کو لوگوں کے لیے اجنبی بنانے میں جس پر اپیگنڈے سے کام لیا ہے اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بھٹک گئے اور گمراہ ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جو ان کی دعوت کا مضمون ہیں۔ حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ محمد ﷺ تمہارے صاحب اور تمہارے ساتھی ہیں۔ تمہارے لیے وہ کوئی اجنبی آدمی نہیں۔ تم ان کے بچپن، ان کے لڑکپن، ان کی جوانی اور ان کی ڈھلتی عمر سے واقف ہو۔ ان کے معاملات کی ایک ایک چیز تمہارے سامنے واضح ہے، ان کی زندگی ایک ایسی کھلی کتاب کی طرح ہے جس کے ایک ایک ورق سے تم آگاہ ہو۔ ان کی سیرت و کردار اور ان کے عادات و خصائل میں سے کوئی چیز بھی تمہاری نگاہوں سے مخفی نہیں۔ تو ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ گمراہ ہیں یا وہ بھٹکے ہوئے آدمی ہیں یہ ایک ایسی جسارت ہے جسے دشمنی میں اندھے آدمی کے سوا کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا۔ اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ستارے جب ٹمٹماتے رہتے ہیں تو ان کی دھیمی دھیمی اور مدہم سے روشنی میں چلنے والے، دیکھنے والے اور اندازہ لگانے والے قدم قدم پر غلطیاں کرتے ہیں۔ وہ اشیاء کی دھندلی سی شکلیں دیکھتے ہیں اور حقیقت کی پہچان میں عجیب و غریب غلطیاں کرتے ہیں۔ کسی درخت کو بھوت سمجھ بیٹھتے ہیں، ریت میں کوئی ابھری ہوئی چٹان دیکھ کر درندہ گمان کرتے ہیں۔ کیونکہ دھندلی روشنی جس میں اندھیرا غالب اور روشنی مغلوب ہوتی ہے آدمی کو غلط اندازہ لگانے سے بچا نہیں سکتی۔ لیکن جب ستارے ڈوب جائیں اور صبح روشن نمودار ہوجائے تو ہر چیز اپنی اصلی شکل میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس وقت کسی چیز کی اصلیت میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔ یہی معاملہ نبی کریم ﷺ کا ہے۔ اگر وہ تمہارے صاحب نہ ہوتے، یعنی تمہارے لیے اجنبی ہوتے اور کہیں باہر سے اچانک تمہارے شہر میں آکر نبوت کا دعویٰ کرتے تو تمہارے لیے اس بات کا ہزار دفعہ امکان تھا کہ تم ان کے بارے میں کچھ بھی گمان کرسکتے تھے۔ لیکن اب جبکہ ان کی زندگی اور شخصیت صبح روشن کی طرح تم پر پوری طرح عیاں ہے تو پھر تم انھیں گمراہ یا بھٹکا ہوا آدمی قرار دیتے ہو، تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ چالیس سال کی عمر تک جو شخص تمہارے لیے الامین، الصادق، نہایت عقیل اور معاملہ فہم انسان تھا آج یکلخت گمراہ کیسے ہوگیا ؟ اور اس نے جان بوجھ کر ایک ٹیڑھی راہ کیسے اختیار کرلی اور دوسرے لوگوں کو بھی اس ٹیڑھی راہ کی طرف دعوت دینے لگا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم اس معاملہ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہو۔ پھر اسی سلسلہ ٔ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بھٹکا ہوا اور بہکا ہوا آدمی وہ ہوتا ہے جو خواہشِ نفس کی پیروی کرتا ہے۔ خواہشات کی تکمیل اور مفادات کے حصول کے لیے اپنے جی سے غلط سلط باتیں بناتا ہے اور لوگوں کے سامنے پیش کرکے اپنی غلط شخصیت کو استوار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایسی حرکتیں کرنے اور ایسے غلط عزائم پالنے کی عمر جوانی کی ہوتی ہے، ڈھلتی جوانی کی نہیں۔ اور جس شخص نے جوانی ایسی گزاری ہو کہ دشمن بھی اس کی پاکیزگی کی قسم کھاتے ہوں اور اسے جاننے والے اس کی اصابتِ رائے کے گن گاتے ہوں اس کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہَوائے نفس کے تحت ایسا کلام لوگوں کے سامنے پیش کرے گا جو اس کی اندرونی خواہشات کا آئینہ دار ہوگا۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عظیم بندہ کبھی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا، بلکہ جب بھی بولتا ہے وہ وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی جاتی ہے۔ آیت میں وحی کے لفظ کا سب سے پہلا مصداق یقینا قرآن کریم ہے کہ آنحضرت ﷺ اس قرآن کریم کو اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے، وہ ان کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہوتا۔ ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ آپ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتے بلکہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپ پر نازل کی جاتی ہے۔ کیا اس کا اطلاق صرف قرآن کریم پر ہوتا ہے یا کسی اور چیز پر بھی، اسے بہت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت چار حوالوں سے عبارت ہے۔ پہلا حوالہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام کے اصول، اسلام کی بنیادی تعلیمات، اسلام کے بنیادی نظریات یعنی عقائد، اسلام کی عائد کردہ عبادات اور احکام۔ انھیں نہایت اختصار کے ساتھ قرآن کریم کی صورت میں پیش کیا اور اسے لوگوں تک پہنچایا۔ دوسرا حوالہ آپ کی شخصیت کا یہ ہے کہ آپ نے ان اصولوں کو فروع کے ساتھ مرتبط کرکے قابل فہم اور قابل عمل بنایا۔ آپ نے ہر مجمل کی تفصیل بیان فرمائی، ہر مبہم چیز کو کھولا اور تھیوری کو پریکٹس میں لا کر عملی شکل مہیا فرمائی۔ اور یہ وہ چیز ہے جو وحی کی صورت میں آپ پر نازل کی گئی لیکن اسے وحی خفی کہتے ہیں۔ تیسرا حوالہ آپ کی شخصیت کا یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں وحی نازل نہیں ہوئی تو آپ نے اس پر اجتہاد فرمایا۔ یعنی پیش آمدہ معاملہ کے لیے ایسا حکم تجویز کیا جسے اسلامی حکم قرار دیا گیا۔ لیکن اس میں ہم ایک عجیب حیرت انگیز چیز دیکھتے ہیں کہ بعض اجتہادات کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاح فرمائی گئی اور ضرورت محسوس ہوئی تو اس میں کسی چیز کو بدل دیا گیا اور باقی اجتہادات کو کبھی صراحتاً دین کی شکل دی گئی اور کبھی اس پر خاموشی اختیار کرکے اسے آنحضرت ﷺ کی سنت بنادیا گیا۔ آپ کی شخصیت کا چوتھا حوالہ یہ ہے کہ آپ نے عادات و خصائل کے طور پر بعض چیزیں اختیار کیں، بعض چیزوں کو آپ نے پسند و ناپسند کا شرف بخشا، بعض چیزوں پر آپ نے خاموشی اختیار کی، اور بعض چیزیں آپ کی عادات کی صورت اختیار کرگئیں۔ ان تمام چیزوں کا تعلق آپ کے مزاج اور آپ کے ذوق سے ہے۔ مزاج ہمیشہ ایسے تصورات سے جنم لیتا ہے جو کسی بھی شخصیت کے بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور ذوق کبھی جمالیاتی ذوق کی صورت اختیار کرتا ہے اور کبھی عفو و درگزر کے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔ ایسی تمام صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نہیں آتی اور آپ اس کے لیے اجتہاد بھی نہیں فرماتے۔ لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جو مزاج اور ذوق کی صورت میں خود بخود عملی صورت اختیار کرتی جاتی ہیں۔ لیکن انھیں حق اس معنی میں قرار دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم پیدا فرمایا ہے۔ عصمت ہرحال میں آپ کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ کبھی آپ سے ایسا فعل سرزد نہیں ہونے دیتے جو اسلام کے کسی تقاضے سے بھی متصادم ہوتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ پر قرآن کریم نازل کیا ہے، میرے ہونٹوں سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اور اسی طرح آپ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ مجھ سے جس بات کا ظہور رات کی تاریکی میں دیکھو، دن کے اجالے میں اس کا اعلان کردو۔ کیونکہ میں کوئی ایسا کام نہیں کرسکتا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل نہ ہو اور جسے اسلامی قرار نہ دیا جاسکے۔
Ayahs 53:5–7

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اور اس کو تعلیم دی ہے زبردست قوتوں والے نے

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو بڑا صاحب حکمت ہے، وہ نمودار ہوا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ بالائی افق پر تھا

عَلَّمَہٗ شَدِیْدُالْقُوٰی۔ ذُوْمِرَّۃٍ ط فَاسْتَوٰی۔ وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ (النجم : 5 تا 7) (اور اس کو تعلیم دی ہے زبردست قوتوں والے نے۔ جو بڑا صاحب حکمت ہے، وہ نمودار ہوا۔ اور وہ بالائی افق پر تھا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات قریش کا یہ بھی الزام تھا کہ محمد ﷺ پر کوئی جن اترتا ہے جو اسے مختلف باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ اور کبھی وہ یہ کہتے کہ کوئی غلام ہے جو نہایت پڑھا لکھا ہے اور وہ آپ کو قرآن کریم کی عبارت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ چناچہ ایسی تمام لایعنی باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو نہ کسی جن نے سکھایا ہے اور نہ کسی انسان نے آپ کو کوئی تعلیم دی ہے بلکہ آپ کو تعلیم دی ہے اس فوق البشر شخصیت نے جو بہت قوتوں والی ہے اور اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ پروردگار نے انھیں شدیدالقویٰ یعنی بہت قوتوں والا قرار دیا ہے اور اگلی آیت میں اسے ذُوْمِرَّۃٍ فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ وہ صاحب حکمت ہے۔ یعنی نہ اس کی قوت میں کوئی مقابل ہوسکتا ہے اور نہ عقل اور کردار میں اس کا کوئی مثیل ہوسکتا ہے۔ سورة التکویر میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا ذکر بدیں الفاظ میں ہے انہ لقول رسول کریم، ذی قوۃ عند ذی العرش مکین، مطاع ثم امین ” یہ ایک باعزت فرشتے کا بیان ہے، وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بارسوخ ہے، اس کی اطاعت کی جاتی ہے، مزیدبرآں وہ نہایت امین ہے۔ “ یعنی وہ فرشتہ جو ان خصوصیات کا حامل ہے اور ایسی اعلیٰ صلاحیتوں سے بھرپور ہے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی دوسری روح اس کو متأثر یا مرعوب کرسکے اور نہ کوئی قوت اس کی امانت میں نقص پیدا کرسکتی ہے یا اس کی تعلیم میں خلط مبحث کرسکتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب اس کا حکم لے کر رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا ہے تو وہ اسے بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ آپ تک پہنچاتا ہے۔ اور دوسری آیت میں مزید فرمایا کہ وہ غیرمعمولی قوتوں کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ عقل اور کردار میں بھی نہایت محکم ہے۔ اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکہ کھا سکے یا کوئی اس کو دھوکہ دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے یا کوئی اس کو خرید سکے۔ پھر اس فرشتے کی شخصیت محض تصوراتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس کی اصلی شکل میں بھی اور دوسری شکلوں میں بھی۔ پھر اس رویت کی منظرکشی کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ مستوی القامت ہو کر آپ کے سامنے نمودار ہوا اور اس کی نمودار ہونے کی جگہ آسمان کے افقِ اعلیٰ میں تھی۔ افقِ اعلیٰ سے مراد آسمان کا بالائی مشرقی کنارہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ پہلی مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب نبی کریم ﷺ کو نظر آئے تو اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے اور متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے۔ اور جس کے بارے میں حدیث میں کہا گیا ہے کہ آپ کے جسم نے پورے افق کو بھر دیا تھا۔
Ayahs 53:8–9

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ (النجم : 8، 9) (پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت کا منظر جب حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے اور نبی کریم ﷺ نے انھیں دیکھا تو انھوں نے آپ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے آپ کے اوپر آکر فضا میں معلق ہوگئے۔ اور آپ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ قَابَ قَوْسَیْنِ کا ترجمہ تو ہے دو کمانوں کے بقدر۔ لیکن اہل عرب اسے غایت قرب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اہل عرب چونکہ تیر و کمان سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ان کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ اور حضرت جبرائیل امین علیہ اسلام کی قربت کو دو کمانوں کے بقدر کہہ کر واضح فرمایا ہے۔ اَوْاَدْنٰی کا معنی ہے یا اس سے بھی زیادہ قریب۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار کو اس فاصلے کے بارے میں شاید شک تھا، اس لیے اَوْ کا استعمال فرمایا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں شک کا گزر نہیں ہوتا۔ یہاں اَوْ کا استعمال شک کے لیے نہیں بلکہ اس بات کی طرف اشارے کے لیے ہے کہ ساری کمانیں ایک ناپ کی نہیں ہوتیں۔ اس لیے جب بھی دو کمانوں کے بقدر فاصلے کا ذکر کیا جائے گا تو کمانوں کے کم و بیش ہونے کی وجہ سے فاصلے کی مقدار میں بھی کمی بیشی ہوجائے گی۔ لیکن اگر یہ بات ذہن میں رہے کہ ان الفاظ کا استعمال صرف غایت قرب کے لیے ہوتا ہے تو پھر اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی

فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَـآ اَوْحٰی۔ (النجم : 10) (پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ ) آیت کا مفہوم اس آیت کے تین ترجمے ممکن ہیں۔ 1 حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ اس صورت میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہوگا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی کی۔ اس صورت میں اَوْحٰیکا فاعل حضرت جبرائیل نہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے۔ 3 حضرت جبرائیل نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو کچھ بھی کی۔ اس صورت میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع حضرت جبرائیل ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ تیسرا ترجمہ ہر لحاظ سے مردود ہے۔ نہ سیاق وسباق اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ حقیقتِ نفس الامری اس کی اجازت دیتی ہے۔ البتہ پہلے دونوں ترجمے صحیح ہیں۔ لیکن مفسرین نے بالعموم سب سے پہلے ترجمے کو اختیار کیا ہے۔ یعنی اَوْحٰی کا فاعل حضرت جبرائیل ہیں اور یہ سیاق وسباق سے ثابت ہے۔ اور عَبْدِہٖ میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ تو پھر اسے مرجع کیسے بنایا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرجع کا تعین ہمیشہ قرینہ سے ہوتا ہے۔ اور یہاں منشائِ کلام قرینہ ہے اس بات کا کہ یہاں ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور سیاق کلام اس کی تائید کررہا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً اِنَّا اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ” ہم نے اس کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ “ یہاں قرآن کا سرے سے کہیں ذکر نہیں، مگر سیاق کلام خود بتارہا ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے۔ اسی طرح سورة یٰسین میں فرمایا گیا وَمَا عَلَمَّنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَـہٗ ” ہم نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی اور نہ شاعری اس کو زیب دیتی ہے۔ “ یہاں نبی کریم ﷺ کا کوئی ذکر نہیں، مگر کلام بتارہا ہے کہ ضمیروں کے مرجع آپ ﷺ ہیں۔ اسی طرح اور بھی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ مختصر یہ کہ پہلا ترجمہ ہی بہتر ہے اور وہی فحوائے کلام سے واضح ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ تعالیٰ کے بندے کی طرف وحی کی۔ اور وحی سے مراد وہ سب کچھ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے واسطے سے آپ پر نازل کرنا چاہا۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ آپ نے دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہیں ملایا

مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ (النجم : 11) (جو کچھ آپ نے دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہیں ملایا۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے مشاہدے کی تصویب پروردگار کی جانب سے آنحضرت ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق و تصویب کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس مشاہدے کی حقیقت اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور کون جانتا ہے۔ اس کی تصدیق ہی اصل تصدیق ہے۔ اس کے باوجود کسی کا انکار یا تکذیب فریبِ نفس اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور اس تصدیق کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ نبی کریم ﷺ جب اس طرح کے مشاہدات مخالفین کے سامنے ذکر کرتے تھے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے، اور لوگوں کو یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے کہ یہ شخص جس طرح کے ارمان اپنے دل میں رکھتا ہے اور جیسی کچھ اس کی آرزوئیں ہیں انھیں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت اس کے اپنے ذہن کی خیال آرائی کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے خیالات کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ باتیں آنحضرت ﷺ کے ذہنی خیالات کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تو مشاہدے میں آئی ہوئی باتیں ہیں۔ جو فرشتہ آپ پر وحی لے کر آتا ہے آپ نے نہ صرف اسے انسانی شکل میں بارہا دیکھا بلکہ اس کی اصلی شکل میں بھی اس کو اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ جس میں دل و دماغ کی خیال آرائی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ کیونکہ آپ کا یہ مشاہدہ پوری بیداری کی حالت میں اور دن کی پوری روشنی میں تھا۔ اسے نہ نظر کا دھوکہ کہا جاسکتا ہے نہ کسی واہمہ کا نتیجہ۔
Ayahs 53:12–15

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور اس نے اس کو دوسری مرتبہ دیکھا

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے

اَفَـتُمَارُوْنَـہٗ عَلٰی مَایَرٰی۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَـۃً اُخْرٰی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ (النجم : 12 تا 15) (تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اس نے اس کو دوسری مرتبہ دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔ ) شک کرنے والوں کو ملامت جو لوگ آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے یا شبے کا اظہار کررہے تھے انھیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اور نبی کریم ﷺ کا معاملہ عجیب ہے کہ حضور ﷺ تمہیں ان باتوں کی خبر دے رہے ہیں جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اور وہ باتیں اس جہان کی ہیں جو تمہاری دسترس سے بہت دور ہے۔ تم ہزار کوشش کرو اس کا سراغ تک نہیں پاسکتے۔ لیکن تمہاری جسارت کی داد دینی چاہیے کہ بجائے اپنی کوتاہ علمی اور بےبضاعتی پر نادم ہونے کے تم آنحضرت ﷺ کا مذاق اڑاتے اور ان کے مشاہدات پر ہنستے ہو۔ یہ جسارت تو اس سے بھی بڑی ہے کہ کوئی اندھا آنکھوں والوں کی کسی خبر پر ہنسے اور وہ کسی چیز کی جو کیفیت بیان کریں یہ اسے ماننے سے انکار کردے۔ حالانکہ اندھا جن باتوں کا انکار کررہا ہے وہ اسی دنیا کی ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے۔ لیکن تم تو اس دنیا کے مشاہدات کا انکار کررہے ہو جو تمہارے احساسات اور عقل و خرد سے بھی بلند وبالا ہے۔ مزید فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ حضرت جبرائیل کے حوالے سے جس رویت کا ذکر کررہے ہیں وہ ایک دفعہ نہیں ہوئی بلکہ آپ نے حضرت جبرائیل کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ اس وقت بھی آپ اصلی حالت میں تھے جس میں آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی پہلا مشاہدہ اس دنیا کا تھا اور دوسرا مشاہدہ اس دنیا کا جہاں عالم ناسوت ختم ہوجاتا ہے۔ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی کی وضاحت سوال یہ ہے کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ؟ سدرۃ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ اور منتہیٰ کا معنی ہے آخری سرا۔ تو سدرۃ المنتہیٰ کا ترجمہ ہوگا وہ بیری کا درخت جو اس کائنات کے آخری سرے پر واقع ہے۔ علامہ آلوسی روح المعانی میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں، اس پر ہر عالم کا علم ختم ہوجاتا ہے، آگے جو کچھ ہے اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہمارے بیشتر مفسرینِ کرام اسی مفہوم کو روایت نقل کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ ایک ایسا مقام ہے جہاں عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ اور عالم لاہوت کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ دونوں جہانوں کے درمیان ایک حدفاصل ہے۔ نیچے کے امور وہاں جا کر رک جاتے ہیں اور اوپر سے آنے والے احکام یہاں فرشتوں کی تحویل میں دیئے جاتے ہیں۔ گویا یہ دونوں جہانوں کے درمیان جنرل پوسٹ آفس کے مانند ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کو یہ نام کیوں دیا گیا ہے، یہ چیز متشابہات میں داخل ہے۔ اس لیے ہم صرف اس پر ایمان لانے کے پابند ہیں، اس کی حقیقت سے واقف نہیں۔ اور اس کی حقیقت جاننے کے درپے ہونے سے ہمیں روکا گیا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی نشان دہی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سدرۃ المنتہیٰ عالم ناسوت کی آخری سرحد پر ہے، اسی طرح جنت الماویٰ عالم لاہوت کے نقطہ آغاز پر ہے۔ اس نشان دہی سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبرائیل کا دوبارہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطہ اتصال پر ہوا ہوگا۔ جنت الماویٰ کے لغوی معنی ہیں وہ جنت جو قیام گاہ ہے۔ حضرت حسن بصری ( رح) کہتے ہیں کہ یہ وہی جنت ہے جو آخرت میں اہل ایمان وتقویٰ کو ملنے والی ہے۔ اور پیش نظر آیت سے استدلال کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا ہے کہ وہ جنت آسمان میں ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں۔ اس سے مراد وہ جنت نہیں ہے جو آخرت میں ملنے والی ہے۔ ابن عباس بھی یہی کہتے ہیں۔ اور اس پر وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ آخرت میں جو جنت اہل ایمان کو دی جائے گی وہ آسمان میں نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ یہی زمین ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اس وقت چھا رہا تھا سدرۃ پر جو کچھ بھی چھا رہا تھا

اِذْیَغْشٰی السِّدْرَۃَ مَایَغْشٰی۔ (النجم : 16) (اس وقت چھا رہا تھا سدرۃ پر جو کچھ بھی چھا رہا تھا۔ ) سدرۃ پر تجلیات کا ورود نبی کریم ﷺ نے جب سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا تو اس مشاہدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس وقت سدرۃ کا حال یہ تھا کہ اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر تھی سدرۃ پر ایسی تجلیات چھا رہی تھیں کہ ہر لحظہ اس کا رنگ تبدیل ہورہا تھا۔ اور ایسے انوار برس رہے تھے کہ ہر آن اس کی کیفیت میں تبدیلی آرہی تھی۔ اور اس پر ایک ایسا حسن برس رہا تھا جس کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نہ نگاہ کج ہوئی اور نہ حد سے متجاوز ہوئی

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی۔ (النجم : 17) (نہ نگاہ کج ہوئی اور نہ حد سے متجاوز ہوئی۔ ) تجلیات کے ہجوم پر آنحضرت ﷺ کا قرار و سکون زَاغَ کا مصدر زَیْغ ہے۔ اس کا معنی ہے کج ہونا۔ اور طَغٰی طغیان سے ہے۔ یہ حد سے متجاوز ہونے کو کہتے ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ پر بلاشبہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا جسے الفاظ بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں کوئی چکاچوند پیدا نہیں ہوئی اور آپ ﷺ پورے سکون کے ساتھ اس کو دیکھتے رہے۔ ایسے کیفیات کو دیکھتے ہوئے کہ نظر جن کو دیکھنے کی عادی نہ ہو۔ عام طور پر نگاہوں میں کجی آجاتی اور چکاچوند پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ ایسی حیران کن تجلیات کے سامنے بھی ایسی کسی بےبسی کا شکار نہیں ہوئے۔ اور ساتھ ہی ساتھ آپ کے ضبط اور یکسوئی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے جو کچھ بھی دیکھا نہایت توجہ اور یکسوئی کے ساتھ دیکھا۔ اور کہیں بھی آپ کی نظر حدود سے متجاوز نہیں ہونے پائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی نگاہوں میں ایسی قوت اور وسعت پیدا کردی تھی کہ ایسی غیرمعمولی کیفیات میں بھی وہ بےقابو نہیں ہونے پائے۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْـکُبْرٰی۔ (النجم : 18) (اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ) آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کی حقیقت گزشتہ آیات میں آپ نے جو حیران کن مشاہدات کیے ان میں خاص طور پر ایک ایسے وجود کا افقِ اعلیٰ پر نمودار ہونا اور پھر انتہائی قریب آجانا اور آپ پر وحی کا اتارنا، اس سے کسی کو غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ نہ جانے اس سے کیا مراد ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ نے ایسے تمام واہموں کو ختم کرکے رکھ دیا اور حتمی انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ عالم ناسوت کی انتہا اور عالم لاہوت کی ابتداء کے نقطہ اتصال پر آپ نے جسے دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات تھیں۔ یعنی وہ بڑی بڑی نشانیاں تھیں جنھیں صرف آنحضرت ﷺ ہی دیکھ سکتے تھے۔ اور پھر ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ کیونکہ وہ نہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں اور نہ ہمارا وجدان ان کا ادراک کرسکتا۔ البتہ کبریٰ کے لفظ نے اس بات کا تعین کردیا کہ وہ نشانیاں ان نشانیوں سے بالاتر تھیں جن کا مشاہدہ آفاق وانفس میں ہر قدم پر ہر صاحب نظر کو ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان مشاہدات میں سے چند کا تذکرہ معراج کی روایات میں کیا گیا ہے۔ اور جس وجود کو آپ نے افقِ اعلیٰ پر پہلی مرتبہ دیکھا اور پھر اسے دوسری دفعہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ وہ بھی اللہ نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم فرشتے حضرت جبرائیل تھے۔ کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر پروردگار کی زیارت کی ہوتی تو یہ ایک ایسا غیرمعمولی واقعہ ہوتا جس کا ذکر قرآن کریم میں ضرور ہوتا جبکہ قرآن کریم اس بات کا ذکر کرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جلالتِ قدر کے باوجود جب اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تو پروردگار نے انکار فرما دیا کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شرف صرف آنحضرت ﷺ کو عطا کیا گیا کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ قرآن کریم آنے والی دنیا کو اس عظیم شرف کی آگاہی سے محروم رکھتا۔ لیکن قرآن کریم میں کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا۔ بلکہ سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے کہ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔ اور یہاں سدرۃ المنتہیٰ پر حاضری کے سلسلے میں بھی یہ فرمایا گیا کہ اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اس لیے اس بحث کی کوئی گنجائش نہیں کہ آپ نے معراج کے سفر میں پروردگار کو دیکھا تھا یا نہیں۔ مزیدبرآں یہ کہ حضرت عائشہ ( رض) کی روایات نے اس معاملے کو اس قدر مبرہن کردیا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بخاری، کتاب التفسیر میں حضرت مسروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ( رض) سے عرض کیا ” اماں جان، محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ “ انھوں نے جواب دیا : ” تمہاری اس بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ تم یہ کیسے بھول گئے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کا اگر کوئی شخص دعویٰ کرے تو جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ “ (ان میں سے پہلی بات حضرت عائشہ ( رض) نے یہ فرمائی) کہ ” جو شخص تم سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹ کہتا ہے۔ “ پھر حضرت عائشہ ( رض) نے یہ آیتیں پڑھیں لاَ تُدْرِکُـہُ الْاَبْصَارُ (نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں، اور مَاکَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّـکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلاَّ وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اَوْیُرْسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیْ بِاِذْنِہٖ مَایَشَآئُ (کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یا تو وحی کے طور پر، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ ایک فرشتہ بھیجے اور وہ اس پر اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ وہ چاہے) ۔ اس کے بعد انھوں نے فرمایا ” لیکن رسول ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا تھا۔ “ اس حدیث کا ایک حصہ بخاری، کتاب التوحید، باب 4 میں ہے اور کتاب بدء الخلق میں مسروق کی جو روایت امام بخاری نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ( رض) کی یہ بات سن کر عرض کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہوگا ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَـکَان قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی ؟ اس پر انھوں نے فرمایا ” اس سے مراد جبرئیل ہیں۔ وہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے انسانی شکل میں آیا کرتے تھے مگر اس موقع پر وہ اپنی اصلی شکل میں آپ کے پاس آئے اور سارا افق ان سے بھر گیا۔ “ مسلم کتاب الایمان باب فی ذکر سدرۃ المنتہیٰ میں حضرت عائشہ ( رض) سے مسروق کی یہ گفتگو زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہے : حضرت عائشہ ( رض) نے فرمایا ” جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے۔ “ مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ یہ بات سن کر میں اٹھ بیٹھا اور میں نے عرض کیا، ام المومنین جلدی نہ فرمایئے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ ؟ اور لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَـۃً اُخْرٰی ؟ حضرت عائشہ ( رض) نے جواب دیا اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے اس معاملے کو دریافت کیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا انما ھوجبریل علیہ السلام، لم ارہٗ علٰی صورتہ التی خلق علیھا غیرھا تین المرتین، رایتہٗ منھبطا من السمآء سادّا عظم خلقہ مابین السّماء والارض ” وہ تو جبریل (علیہ السلام) تھے۔ میں نے ان کو ان کی اس اصلی صورت میں جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ “ ابنِ مزدویہ نے مسروق کی اس روایت کو جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں ” حضرت عائشہ ( رض) نے فرمایا، سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا نہیں، میں نے تو جبرئیل (علیہ السلام) کو آسمان سے اترتے دیکھا تھا۔ “ (تفہیم القرآن)
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

کیا تم نے غور کیا ہے لات اور عزیٰ

اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی۔ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 19، 20) (کیا تم نے غور کیا ہے لات اور عزیٰ ۔ اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے۔ ) قریش کو ملامت اس آیت کریمہ کے اندر سوال میں تعجب کا پہلو بھی ہے اور استخفاف اور تحقیر کا بھی۔ تعجب اس بات پر کہ جس ذات عزیز نے تمہارے اندر نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ذات تمہارے لیے اجنبی نہیں۔ تم اس کی زندگی کے ہر دور سے پوری طرح آگاہ ہو۔ اس کا حُسنِ کردار اور اصابتِ رائے ہمیشہ تمہاری نظروں میں قابل اعتماد رہی ہے اور تم نے ہمیشہ اسے عزت و احترام سے یاد کیا ہے۔ اور پھر زندگی کے جن حقائق کی تمہیں وہ دعوت دے رہا ہے ان میں سے ایک ایک بات نہ صرف اپنے اندر معقولیت رکھتی ہے بلکہ حقیقت اور صداقت کا اعلیٰ ترین معیار بھی ہے۔ اور تمہیں اس نے جس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی صفات کو تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے تم اسے خالق ومالک مانتے، رزق رساں سمجھتے اور تمام ترعظمتوں کا مالک گردانتے ہو۔ اسے بجاطور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ ایک مکلف مخلوق پر شریعت نازل کرے اور اس پر عمل کے لیے اس کو پابند بنائے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ تم اس کے مقابلے میں دیویوں کے سامنے سر جھکاتے ہو، ان سے مرادیں مانگتے ہو اور انھیں اپنا معبود سمجھتے ہو۔ اور ان کی طرف منسوب رسم و رواج کو اپنے لیے شریعت سمجھتے ہو۔ سوال میں تخفیف اور تحقیر کا پہلو ان معنوں میں ہے کہ محمد کریم ﷺ نے تمہارے سامنے ایک ایسا کلام پیش کیا ہے جس کی نظیر لانے پر تم قادر نہیں۔ اور جو فرشتہ ان پر یہ کلام لے کر اترا ہے وہ اپنی حددرجہ بلندوبالا اور مقدس و محترم صفات کے حوالے سے اپنی نظیر آپ ہے۔ اور پھر جن حقائق کو اللہ تعالیٰ کا رسول تمہارے سامنے پیش کررہا ہے وہ اپنی نگاہوں سے انھیں دیکھ بھی چکا ہے۔ اور پھر جتنی صفات اس فرشتے کی ذکر کی گئی ہیں وہ تمام مردانہ ہیں جن میں نسوانیت کی بو تک نہیں۔ کس قدر ذلت کی بات ہے کہ تم اس مردانہ صفات کے حامل فرشتے کے لائے ہوئے پیغام اور اللہ تعالیٰ جیسے خالق ومالک کی بجائے چند دیویوں پر ایمان رکھتے ہو۔ جنھیں تم فرشتہ سمجھتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں گردانتے ہو۔ تین دیویوں کی وضاحت ان میں نمونے کے طور پر تین دیویوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو عقیدت اور مرجعیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھیں۔ اور عرب کا ہر قبیلہ ان کی عظمت کی زنجیر میں بندھا ہوا تھا۔ ان تین دیویوں کا نام لات، عزیٰ اور منات تھا۔ جن اہل علم نے اَ لْاُخْرٰی کا ترجمہ ادنیٰ کے متضاد کے طور پر کیا ہے یعنی کم درجے والی۔ وہ اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ عقیدت و عظمت میں عرب اس کا بھی ویسے ہی احترام کرتے تھے جیسے پہلی دونوں کا، لیکن پھر بھی یہ مرتبے میں ان سے دوسرے درجے پر تھیں۔ لیکن دیگر اہل علم نے اس کا ترجمہ دوسری یا ایک اور کے لفظ سے کیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی دونوں دیویوں کی طرح یہ تیسری دیوی بھی تھی۔ یہ تینوں ایک ہی زمرے میں شمار ہوتی تھیں۔ اور سب اپنے مراتب اور مدارج میں برابر تھیں اور سب کے ساتھ ایک ہی طرح عرب عقیدت رکھتے تھے۔ ان میں سے پہلی ہے لات۔ اس کا استھان طائف میں تھا۔ بنو ثقیف اس کے بہت زیادہ معتقد تھے۔ اس کے معنی اور مادہ استقاق میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو لَتّ کے مادہ سے لیا ہے جس کے معنی گوندنے اور متھنے کے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ یہ دراصل ایک شخص تھا جو طائف کے قریب ایک چٹان پر رہتا تھا۔ اور زمانہ ٔ حج میں حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس چٹان پر اس کا استھان بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن یہ رائے صحیح معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کریم نے اس لفظ کی تا کو ساکن بیان فرمایا ہے جبکہ مادہ اشتقاق کے اعتبار سے اسے مشدد پڑھا گیا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اس رائے میں اس شخص کو مذکر کہا گیا ہے جبکہ قرآن کریم اسے دیوی قرار دیتا اور مؤنث روایت کرتا ہے۔ عزیٰ … یہ عزیز اورا عز کی مؤنث ہے۔ اس کا معنی ہے عزت والی۔ اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر واقع تھا۔ قریش اور دوسرے قبائل کے لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس کے لیے قربانیاں کرتے تھے۔ منات… اس کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر تھا۔ اسے مُنْـیَـۃٌ کے مادہ سے بنایا گیا ہے اس کا معنی ہے وہ دیوی جو آرزوئوں کے برآنے کا ذریعہ ہو۔ اوس و خزرج اور خزاعہ کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔
Ayahs 53:20–22

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی

اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَـہُ الْاُنْثٰی۔ تِلْـکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ (النجم : 21، 22) (کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے۔ یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ ) دیویوں کے پرستاروں پر طنز ان دیویوں کے پرستاروں پر طنز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم ان بتوں کو دیویاں ٹھہرا کر مؤنث قرار دیتے ہو۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ گویا کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہونا باعث شرم اور باعث ذلت ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور رازق بھی مانتے ہو اور خود مخلوق ہوتے ہوئے خالق کی عظمت کے قائل بھی ہو۔ اور بیٹیوں کو توہین کی علامت بھی سمجھتے ہو۔ باایں ہمہ تم نے اپنے لیے نرینہ اولاد منتخب کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں پسند کرتے ہو۔ غور کرو یہ تقسیم کس قدر بھونڈی تقسیم ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پیدا تو ہر چیز اللہ تعالیٰ نے کی ہے لیکن بیٹیاں تم اس کے حصے میں ڈالو اور بیٹے اپنے حصے میں۔ ایک معمولی آدمی بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ جو چیز تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کیا تمہیں شرم دامن گیر نہیں ہوتی۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ کچھ نہیں ہیں مگر چند نام، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی، یہ لوگ محض گمان اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

اِنْ ھِیَ اِلاَّ ٓ اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَـآئُ کُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ ج وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنْ رَّبِّھِمُ الْھُدٰی۔ (النجم : 23) (یہ کچھ نہیں ہیں مگر چند نام، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی، یہ لوگ محض گمان اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ ) نام جن کا کوئی مسمیٰ نہیں جن بتوں کو فرشتوں کی دیویاں قرار دے کر لوگ پوج رہے تھے ان کی حقیقت واضح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ محض تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے رکھے ہوئے نام ہیں جن کا مسمیٰ کوئی نہیں۔ جو شخص بھی غیرجانبدار طریقے سے ان کی حقیقت کا کھوج لگائے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ کسی کو دیوی یا دیوتا ماننا اور پھر اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی طرف منسوب کرنا اور اس کی اسی طرح پوجاپاٹ کرنا جیسے ایک معبود کی جاتی ہے اس کے لیے یقینا کوئی سند یا دلیل ہونی چاہیے۔ اور ایسی سند مہیا کرنے کا حق نہ تمہیں ہے اور نہ تمہارے آبائواجداد کو۔ تم اگر کسی کو پوجنا شروع کردو تو تمہارا کسی کو پوجنا دلیل نہیں بن سکتا۔ اسی طرح تمہارے آبائواجداد کی یہ روش بھی تمہارے لیے دلیل نہیں۔ دلیل اور سند اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ وہی ہے جو ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے، باقی سب مخلوق ہیں وہ ان کا خالق ہے، یہ عابد ہیں اور وہ ان کا معبود ہے، یہ مربوب ہیں اور وہ ان کا رب ہے۔ تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اس کو ہے۔ جب تک اس کی طرف سے ایسی کوئی سند یا دلیل نازل نہ ہو جس میں کسی کو خاص صفات یا خاص حقوق الاٹ کیے گئے ہوں اس وقت تک اسے سند یا دلیل نہیں کہا جاسکتا۔ تم جس طرح ان دیویوں کی پوجا کررہے ہو یا بتوں کی پرستش کررہے ہو اس کے پیچھے صرف تمہارا ظن و گمان کام کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ظن حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتا اور یا پھر تم اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کررہے ہو۔ جہاں تمہارا جی چاہا وہیں تم نے استھان بنا لیا۔ اور جہاں تمہاری طبیعت کا تقاضا ہوا اسے تم نے معبود بنا لیا۔ اور یہ حرکت تم صرف اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں دراصل اپنی بےروک زندگی پر کوئی قدغن گوارا نہیں۔ تم شتر بےمہار بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہو، جس میں حلت و حرمت کا کوئی سوال نہ ہو۔ اور جائز اور ناجائز کی کوئی تقسیم نہ ہو۔ ایک من چاہی زندگی جس پر کوئی قدغن نہ ہو۔ اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ محض اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کے لیے کسی کو معبود بنا لو لیکن وہ اپنے طور پر کوئی قانون دینے یا کوئی شریعت نافذ کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔ اور تم یہ سب کچھ ایسے حالات میں کررہے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ہدایت نازل ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اللہ تعالیٰ کی شریعت لے کر تمہارے درمیان مبعوث ہوچکے ہیں۔ اسے تمہاری بدنصیبی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کے لیے وہی حق ہے جس کی وہ تمنا کرے

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

سو یاد رکھو کہ آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَاتَمَنّٰی۔ فَلِلّٰہِ الْاٰخِرَۃُ وَالْاُوْلٰی۔ (النجم : 24، 25) (کیا انسان کے لیے وہی حق ہے جس کی وہ تمنا کرے۔ سو یاد رکھو کہ آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ) ایک اہم حقیقت کا اظہار اس آیت کریمہ میں نہایت اختصار سے ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوتی، اس کی شکل و صورت میں اس کے اختیار کو دخل نہیں، وہ اپنی قسمت اپنی مرضی سے نہیں بناتا، دنیا میں اسے مکمل طور پر ہر چیز کو حاصل کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح اسے اس بات کا بھی اختیار نہیں کہ وہ جسے چاہے حق بنا دے اور جسے چاہے باطل ٹھہرا دے۔ جسے چاہے حلال قرار دے دے اور جسے چاہے حرام کردے۔ جس طرح اس کی دنیوی زندگی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی طرح اسے زندگی گزارنے کے لیے شریعت دینا، ایک آئین مہیا کرنا، آدابِ زندگی طے کرنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ انسان کی خرابی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جو بات میری خواہشِ نفس تقاضا کرے گی وہی میرے لیے حق ہوگا۔ حالانکہ انسان کو عقل معقولات میں استعمال کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ اور احساس محسوسات میں استعمال کرنے کے لیے۔ لیکن جن چیزوں کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رضا مندی یا ناراضی سے ہے اور جن کاموں سے آخرت بنتی یا بگڑتی ہے یا جن امور کا تعلق برزخی یا اخری زندگی سے ہے اور جو معاملات عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ نظام اخلاق جس سے انسانیت کی تعمیر ہوتی ہے اور فوزوفلاح کے وہ اصول جن سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کامیاب و کامران ہوتی ہے، انھیں طے کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ان کی حقیقت کو صرف وہ ذات جانتی ہے اور وہی اس کے لیے ہدایت بھی دے سکتی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا اور جو دنیا اور آخرت کی مالک ہے۔ دنیا کے مالک ہونے کی وجہ سے وہ دنیا میں رہنے والی اپنی مخلوقات کو رہنمائی دینے کا حق رکھتی ہے۔ اور جن مخلوقات کو اس نے تکلیفِ شرعی سے گراں بار کیا ہے اس کے بارے میں آخرت میں جواب طلبی کا حق بھی رکھتی ہے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی کام آنے والی نہیں، مگر بعد اس کے کہ اللہ اجازت دے جس کو چاہے اور جس کے لیے پسند کرے

وَکَمْ مِّنْ مَّلَـکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لاَ تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ اَنْ یَّاذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی۔ (النجم : 26) (اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی کام آنے والی نہیں، مگر بعد اس کے کہ اللہ اجازت دے جس کو چاہے اور جس کے لیے پسند کرے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل اوپر والے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارے جی نے چاہا تو تم نے بعض دیویوں اور دیوتائوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اولاً تو قیامت آئے گی نہیں اور اگر آہی گئی تو یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم ان دیویوں کو فرشتے قرار دے کر اپنے لیے شفاعت کا ایک ذریعہ سمجھتے ہو حالانکہ آسمانوں پر بیشمار فرشتے ہیں۔ لیکن کسی کے اختیار میں اپنے طور سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں شفاعت کرنا نہیں ہے۔ اگر وہ سارے مل کر بھی کسی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کریں تو ان کی سفارش سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا بجز اس کے کہ جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس کی اجازت دے دے۔ اور پھر وہ سفارش اسی معاملے میں کرسکیں گے جس میں اللہ تعالیٰ سفارش کو پسند فرمائے گا۔ یعنی اپنے طور پر نہ وہ سفارش کے لیے زبان کھول سکتے ہیں اور نہ کوئی سفارش اللہ تعالیٰ کے یہاں بار پا سکے گی۔ صرف اِذنِ خداوندی ہے جس سے کسی کو یہ موقع مل سکتا ہے۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان ہی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَـیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی۔ (النجم : 27) (بےشک جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان ہی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں۔ ) شرک کی بےسروپا باتیں کرنے والے کون ہیں ؟ اب اس بات کی وجہ بیان کی جارہی ہے کہ آخر ایسی بےسروپا باتیں کون اختیار کرتا ہے اور کس نے ایسی نامعقول باتوں کا آغاز کیا ہے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینا اور انھیں مؤنث ٹھہرانا اور اپنے لیے بیٹیوں کو ذلت کا باعث سمجھنا ایسی گری ہوئی باتوں کی ایک عام آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔ چہ جائیکہ ایک پوری قوم اس میں مبتلا ہوجائے۔ اس گرہ کو کھولتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بات دراصل یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت کا ایک جھونکا زندگی کے چراغ کو ہمیشہ کے لیے گل کردے گا اس کے بعد نہ کوئی زندگی ہے، نہ کوئی عدالت جہاں زندگی کے اعمال کے لیے جواب دہی کرنا پڑے۔ یہ لوگ زندگی کے اعمال کے بارے میں لاپرواہی کا شکار ہیں۔ جو ان کے منہ میں آتا ہے کہہ گزرتے ہیں، جس تصور کو عقیدہ بنانا چاہیں ان کے لیے کوئی روک نہیں۔ یہ سب کچھ ان ہی لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کسی نے نہ کسی فرشتے کو دیکھا اور نہ ہی یہ اس وقت حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا تھا۔ تو پھر تذکیر و تانیث کی بحث اس بیخبر ی کے باوجود کیسے وجود میں آگئی۔ اس لیے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ایسے لوگوں کی ترنگ ہے جو زندگی میں سنجیدگی سے محروم اور لاابالی پن کا شکار ہیں۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ اس معاملہ میں ان کو کوئی علم نہیں، وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں، اور گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ہوسکتا

وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ ج وَاِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔ (النجم : 28) (حالانکہ اس معاملہ میں ان کو کوئی علم نہیں، وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں، اور گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ہوسکتا۔ ) شرک کی بنیاد ظن پر ہے انکارِآخرت کا یہ عقیدہ اور ملائکہ کے بارے میں یہ بےسروپا تصورات انھوں نے اس لیے اختیار نہیں کیے کہ ان کے پاس اس کا کوئی علم آگیا ہے بلکہ شریعت کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اور کسی حد تک اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لیے انھوں نے متعدد تصورات اختیار کر رکھے ہیں جو سراسر ان کے ظن و گمان کا نتیجہ ہیں۔ یہاں ظن علم اور حق کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ بعض چیزوں کا علم انسان کو فطرت اور عقل کے ذریعے سے ملتا ہے اور بعض چیزوں کا علم وحی الٰہی کے ذریعے سے۔ اور یہی وہ علم ہے جس کو الھدیٰ بھی کہا گیا ہے۔ اور ایسا علم ہر شبہ سے بالاتر ہوتا ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اس طرح کے خرافات کے اختیار کرنے میں نہ فطرت اور عقل سے کوئی رہنمائی لی ہے اور نہ کبھی وحی الٰہی کی رہنمائی کو جاننے کی کوشش کی۔ ان دونوں ذرائع سے بےنیاز ہو کر جو راستہ اختیار کیا جائے گا وہ ظن و گمان کا راستہ ہے جو سراسر باطل ہے۔ اور حق جب وحی الٰہی کی صورت میں نازل ہوچکا ہو پھر اس کے مقابلے میں ظن و گمان سے کام لینا ہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایسا ظن و گمان حق کی ذمہ داریوں سے بچانے کے کام نہیں آسکتا۔ البتہ تباہی اور ہلاکت کو قریب کردیتا ہے۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس اے نبی ان لوگوں سے اعراض کیجیے جنھوں نے ہمارے ذکر سے منہ پھیرا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی لا 5 عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلاَّالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ (النجم : 29) (پس اے نبی ان لوگوں سے اعراض کیجیے جنھوں نے ہمارے ذکر سے منہ پھیرا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں۔ ) ہدایت سے اعراض کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ اس شخص کی ہدایت کے لیے فکرمند نہ ہوں اور اسے راہ راست پر لانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو نچوڑ دینے کی کوشش نہ کریں۔ اور اگر وہ آپ کی بات قبول نہ کرے تو آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں جس شخص نے حیات آخرت کے بارے میں غور کرنے کی بھی کبھی زحمت نہیں کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف دنیا کی زندگی ہے، یہیں کے دکھ اور یہیں کی خوشیاں آدمی کے اصل دکھ اور اصل خوشیاں ہیں۔ جس شخص نے اس زندگی میں شہرت اور ناموری حاصل کرلی اسے کامیابیوں کا خزانہ مل گیا۔ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اور کوئی ایسا دن کبھی نہیں آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا پڑے۔ آپ کی دعوت ایسے شخص کے لیے بالکل بیکار ہے۔ آپ اس کے سامنے قرآن کریم کا معجزانہ نظام بھی پیش کریں تو وہ اس کو بےوقت کی راگنی سمجھتا ہے۔ آپ اسے آخرت کے دن سے ڈرائیں تو وہ اسے واہمہ سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں۔ ایسے شخص کو سمجھانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ جس بات کی طرف آپ اسے دعوت دے رہے ہیں وہ اسے محض آپ کی خوش فہمی یا آپ کی ضعیف الاعتقادی یا آپ کے وہم کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اور قرآن کریم کا چونکہ مرکزی مضمون یہی ہے اس لیے وہ اس سے بھی روگردانی کرتا ہے اور سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ذکر سے مراد یاددہانی اور نصیحت بھی ہوسکتی ہے اور قرآن کریم بھی۔ لیکن قرین صواب یہ ہے کہ اس سے قرآن کریم مراد لیا جائے کیونکہ قرآن کریم نے بیشتر مواقع پر اس لفظ کو قرآن کریم کے طور پر استعمال کیا ہے اور اہل علم نے بھی اسے قرآن کریم کے ذاتی ناموں میں شمار کیا ہے۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

یہ ہے ان کے علم کی رسائی، بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے، اور وہ اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پا گیا ہے

ذٰلِکَ مُبْلَغُھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ط اِنَّ رَبَّـکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ لا وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اھْتَدٰی۔ (النجم : 30) (یہ ہے ان کے علم کی رسائی، بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے، اور وہ اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پا گیا ہے۔ ) علمی نارسائی جن لوگوں نے حیات دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے وہی ان کا مطلوب بھی ہے اور وہی منتہائے فکر بھی۔ ان کی کمزوری یہ ہے کہ ان کے علم کی رسائی یہیں تک ہے۔ وہ صرف ظاہر کے پردے کو دیکھتے ہیں اس کے پیچھے جو حقائق مضمر ہیں انھیں نہ ان کا علم ہے اور نہ وہ انھیں جاننا چاہتے ہیں۔ دنیا اور دنیوی معاملات چونکہ ان کا موضوعِ فکر رہے ہیں اس لیے اس میں ان کے علم نے خوب ترقی کی ہے۔ لیکن آخرت کبھی ان کے فکر کا حصہ نہیں رہی، اس لیے وہ اس سے بالکل بیخبر ہیں۔ قرآن کریم نے اسی کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُوْنَ ” وہ حیات دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ “ حالانکہ اگر آخرت کا انکار کردیا جائے تو یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک بازیچہ اطفال بن کر رہ جاتی ہے۔ اور یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ ایک قدیر و حکیم ذات نہیں جس کے کاموں میں حکمت پائی جاتی ہے، بلکہ وہ ایسا کھلنڈرا ہے کہ جس نے یہ سارا کارخانہ ایک کھیل کے طور پر بنا ڈالا۔ زندگی اگر محض اکل وشرب، عیش و عشرت، آرام و راحت اور ہَوائے نفس کی پیروی کا نام ہوتا تو پھر تو یقینا حیات دنیا پر اکتفا کرلینا صحیح بات ہوتی۔ لیکن زندگی ان چیزوں سے آگے بڑھ کر کچھ چیزوں کے جاننے اور پھر ان پر عمل کرنے کا نام ہے۔ انسان ایک مکلف مخلوق ہے۔ وہ عقل بھی رکھتا ہے اور شعور بھی۔ یقینا وہ یہ بات طے کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں ایک مخلوق ہوں تو میرا خالق کون ہے ؟ میں ایک عبد ہوں تو میرا معبود کون ہے ؟ میری یہ زندگی جو قسم قسم کی نعمتوں سے گراں بار اور مختلف قسم کے احساسات سے بھرپور ہے آخر اس زندگی کا کوئی مقصد تو ہوگا۔ اگر حیات دنیا ہی میرا مقصود ہے تو پھر مجھ میں اور دیگر حیوانات میں کیا فرق ہے۔ اور اگر میری زندگی کی انتہا موت ہے تو پھر میری زندگی کے مقاصد اور میرے خالق ومالک کا دیا ہوا نظام زندگی، اس کے بارے میں کون فیصلہ کرسکے گا کہ میں نے اس کا حق ادا کیا ہے یا نہیں۔ اور میں نے اگر کوئی بھلے کام کیے ہیں تو کیا مجھے اس کا بھرپور صلہ نہیں ملنا چاہیے۔ اور اگر میں نے جان بوجھ کر غلط کام کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی رضا کو پامال کیا ہے اور اپنے دیگر ابنائے جنس کو نقصان پہنچایا ہے تو کیا مجھے اس کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو بالکل سامنے کی باتیں ہیں اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی کہ جس طرح زندگی دینا پھر اس کی بقاء کا سامان کرنا اور اس کے لیے غذا فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے اسی طرح زندگی کا صحیح شعور دینا، حقوق کی معرفت عطا کرنا، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضی کے عقدے کو کھولنا اور جزاء و سزا کے تصور کے لیے آخرت کو لانا بھی میری ذمہ داری ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ تیرا رب ہی اس بات کو جانتا ہے کہ کون ہے جو راہ سے بھٹک گیا اور کون ہے جو راہ ہدایت پر چلنے میں کامیاب ٹھہرا۔