53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsروح القرآن

Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جن لوگوں نے برے کام کیے اور ان لوگوں کو اچھی جزاء دے جن لوگوں نے اچھے کام کیے

وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لا لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی۔ (النجم : 31) (اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جن لوگوں نے برے کام کیے اور ان لوگوں کو اچھی جزاء دے جن لوگوں نے اچھے کام کیے۔ ) ہدایت و ضلالت کا سررشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے ہدایت و ضلالت کا سررشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اسے بجاطور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ان پر اپنی حکمت و مشیت کے مطابق احکام اور شریعت نافذ کرے۔ اور پھر ایک ایسا دن لائے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کون لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاری اور نہایت خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلتے رہے۔ اور کون لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔ پھر اسے ہی حق پہنچتا ہے کہ وہ نیک عمل کرنے والوں کو جزاء دے۔ اور برائی کرنے والوں کو سزا دے۔ البتہ اس نے ان دونوں باتوں میں ایک نہایت نازک فرق رکھا ہے کہ وہ برائی کرنے والوں کے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ عادل ہے۔ عدل کا معاملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کے سامنے وہ بےکم وکاست ان کے اعمال پیش کردے گا۔ ان میں نہ کمی کرے گا نہ زیادتی کرے گا۔ اور انھوں نے جس درجے کی نافرمانی کی ہوگی نہایت ناپ تول کے اس کے مطابق ان کو سزا ملے گی۔ لیکن جہاں تک نیک لوگوں کا تعلق ہے ان کے ساتھ اس کا معاملہ صرف عدل کا نہیں بلکہ فضل و انعام کا ہوگا۔ وہ چونکہ عادل ہے اس لیے کسی کے ساتھ بےانصاف نہیں کرے گا وہ صاحب فضل و انعام بھی ہے اس لیے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جو دو فضل کا معاملہ کرے گا۔ ان کی چھوٹی موٹی کمزوزیوں سے درگزر فرمائے گا اور ان کے کارناموں پر زیادہ سے زیادہ اجروثواب عطا کرے گا۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو لوگ بچتے رہے بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے، مگر کچھ ہلکے اور گناہ کی شروعات، بیشک تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے، وہ تم کو خوب جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے، پس تم اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ کس نے تقویٰ اختیار کیا ہے

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَالْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلاَّ اللَّمَمَ ط اِنَّ رَبَّـکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ ج فَلاَ تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۔ (النجم : 32) (جو لوگ بچتے رہے بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے، مگر کچھ ہلکے اور گناہ کی شروعات، بیشک تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے، وہ تم کو خوب جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے، پس تم اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ کس نے تقویٰ اختیار کیا ہے۔ ) نیک لوگوں کی صفات نیک لوگوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے اور کھلی بےحیائیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مزاج اس طرح اسلامی سانچے میں ڈھل جاتا ہے کہ ایسی صاف نافرمانی اور ایسی کھلی بےحیائی جسے جذبات کے ہیجان میں بھی آدمی محسوس نہ کرسکے کبھی ان سے صادر نہیں ہوتی۔ وہ کبھی فرائض و واجبات کے تارک نہیں ہوتے۔ دوسروں کی حق تلفیاں اور دوسروں پر ظلم و تشدد ان کے مزاج کے قریب بھی نہیں جاتا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کبھی حالات کے دبائو، خواہشات کے ہجوم یا نسیان کا شکار ہو کر کوئی صغیرہ گناہ ان سے سرزد ہوجائے۔ یا کبھی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھیں تو تنبہ ہوتے ہی ان کے اندر ایک آگ سلگ اٹھے کہ میں یہ کیا کر بیٹھا اور فوراً توبہ کے ذریعے اس کی اصلاح کے درپے ہوجائیں۔ لَمَمْ سلف صالحین کے یہاں اس کا اطلاق دو ہی چیزوں پر ہوتا ہے، ایک صغائر پر اور دوسرا ایسے کبائر پر جس کی شروعات کے بعد آدمی اس سے تائب ہوجائے۔ اور یا وہ اسے کر بیٹھے تو فوراً اس پر ندامت کا اظہار کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے صغائر پر بھی دلیر نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ شعلہ ایک صغیر سے چیز ہے لیکن اسے الائو بنتے دیر نہیں لگتی۔ اس لیے جو الائو سے بچنا چاہتا ہے اسے شعلے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص صغائر میں بےاحتیاطی برتتا ہے اس کا کبیرہ گناہوں میں آلودہ ہوجانا بہت دور کی بات نہیں رہتی۔ لیکن جو شخص سختی سے کبیرہ گناہوں سے دور رہتا ہے اس سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ صغائر پر دلیر ہوگا۔ کیونکہ جو شخص لاکھوں میں خیانت نہیں کرتا وہ چند روپوں میں بھی خیانت نہیں کرسکتا۔ رہی یہ بات کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس قسم کے گناہ صغیرہ اور کس قسم کے کبیرہ ہیں تو اس معاملے میں صاحب تفہیم القرآن کا ایک چھوٹا سے ایک نوٹ ہے ہم اسے نقل کیے دیتے ہیں : ” ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نص صریح نے حرام قرار دیا ہو یا اس کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو۔ “ اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوا جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ کی محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں بلکہ صغیرہ ہے حتیٰ کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کر جانا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کر گزرے۔ البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جبکہ وہ دین کے استخفاف اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں استکبار کے جذبہ سے کیا جائے اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتناء کے لائق نہ سمجھے جس نے اسے ایک برائی قرار دیا ہے۔ (تفہیم القرآن) شیطان نے انسانوں میں جو گناہ کا بیج بویا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو طبیعتوں کے لیے آسان کردیا ہے تو اس کے لیے جو طریقے اختیار کیے گئے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بعض انسانوں کو اپنے نام و نسب اور اپنی نسبتوں کے حوالے سے یہ بات ذہن میں ڈال دی گئی ہے کہ تم تو اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہو، تمہاری نسبتیں بہت عظیم ہیں اور جن کے تم دامن گرفتہ ہو وہ تمہاری بخشش کے لیے قیامت کے دن کافی ہوں گے۔ اس لیے تمہیں گناہوں کی کیا فکر۔ یہود کو اس بات نے تباہ کیا کہ ہم انبیاء کی اولاد اور اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں۔ اور نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عجیب و غریب عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس نہ رہا۔ اور مسلمانوں میں جن لوگوں کا نسبی تعلق آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے ہے یا وہ بزرگوں کی اولاد ہیں یا انھیں یہ خیال ہے کہ فلاں بزرگ ہماری شفاعت کریں گے تو ان کے اندر گناہوں پر ایسی جرأت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے بھی ذرا نہیں گھبراتے کہ جنت تو ہمارے لیے ہی بنی ہے اس لیے ہمیں جہنم میں جانے کا کوئی ڈر نہیں۔ ایسے سب لوگوں کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ تمہیں اس نے زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے اور اس سے بڑھ کر اس بات سے کون واقف ہے کہ جب تم ایک ناپاک قطرے کے نتیجے میں رحم مادر میں پل رہے تھے اور تمہاری حالت ابھی جنین کی تھی اور تمہیں جس طرح کی غذا دی جارہی تھی اور تمہارے اندر جو تبدیلیاں آرہی تھیں ان میں سے ہر حالت سے وہ واقف ہے۔ جو مخلوق زمین کے اجزاء سے پیدا ہو اور رحم مادر میں ان تبدیلیوں سے گزر کر عالم وجود میں آئے کیا اسے یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اپنی پاکی کا دعویٰ کرے۔ اور پھر جس طرح کے احساسات اس کے اندر پیدا کیے گئے ہیں اور جس طرح کی خواہشات کے سائے میں وہ زندگی گزارتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ اس نے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہاں اس نے تقویٰ کا خلعت زیب تن کیا ہے۔ اس لیے تم اپنی پاکیزگی کا دعویٰ مت کرو۔ ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرو اور اس میں بھی کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ یہی وہ دولت ہے جو قیامت کے دن کام آنے والی ہے۔
Ayahs 53:33–35

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو پشت پھیر گیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا دے کر رک گیا

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے، کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے

اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً وَّاَکْدٰی۔ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَھُوَ یَرٰی۔ (النجم : 33 تا 35) (اے پیغمبر ! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو پشت پھیر گیا۔ اور تھوڑا دے کر رک گیا۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے، کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ ) قریش کے سرداروں کی فکری نارسائیاں اسلام نے ایمان لانے والوں میں جو خصائل و فضائل پیدا کیے ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد یہود اور قریش کے بڑے بڑے لوگوں کی فکری نارسائیوں اور عملی بےہودگیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ ہر عقل رکھنے والا شخص اندازہ کرسکے کہ اسلام اپنے اندر کیا فکری اور عملی تبدیلی کا پیغام لے کر آیا ہے جس کے نتیجے میں جو لوگ تیار ہوتے ہیں ان میں وہ فضائل پیدا ہوجاتے ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اور جو لوگ اس سے دور رہتے ہیں اور اپنی مالی برتری اور معاشرتی تفوق کے پیدا کردہ استکبار کے نتیجے میں جن گمراہیوں اور کمزوزریوں کا شکار ہیں انھیں ممثل شکل میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ابن جریر طبری کی روایت کے مطابق اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا۔ یہ شخص کسی حد تک نبی کریم ﷺ کی دعوت سے متأثر ہوا اور قبولیتِ ایمان کی طرف قدم بڑھایا۔ لیکن جب اس کے ایک مشرک دوست کو علم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کررہا ہے تو اس نے آکر اس سے بات کی۔ اسے اندازہ ہوا کہ ولید عذاب آخرت کے خوف میں مبتلا ہو کر یہ اقدام کرنا چاہتا ہے۔ تو اس نے اس سے کہا کہ تم اگر اتنی رقم مجھے دینے کا وعدہ کرو تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آخرت ہوئی تو میں تمہارے حصے کا عذاب اپنے اوپر لے لوں گا اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچنے دوں گا۔ ولید نے اس کی بات مان لی اور ایمان کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور اس کی محرومی گہری ہوگئی۔ مگر اس کے بعد اس نے اپنے مشرک دوست سے کیا ہوا وعدہ بھی پورا نہ کیا۔ کچھ رقم دی پھر ہاتھ روک لیا۔ اس میں بتانا یہ ہے کہ ایسے بڑے بڑے سرداروں کی فکری نارسائیوں کا یہ عالم تھا کہ نہ وہ آخرت کی حقیقت کو جانتے تھے اور نہ جزاء و سزا کے صحیح تصور سے آگاہ تھے۔ اور دوسری طرف حال ان کا یہ تھا کہ ایفائے عہد میں انتہائی کچے، اور مالی معاملات میں نہایت ناقص۔ نہ وعدہ پورا کرنا جانتے تھے اور نہ مالی معاملات میں پورا اترتے تھے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اولاً تو یہ روایت ہی روایت و درایت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ لیکن اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ ان آیات میں اسی واقعہ کا حوالہ ہے۔ غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ پہلی آیت میں شخص معہود کے تذکرے کے لیے اَلَّذِیْ کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ عام طور پر معرفہ ہونے کی وجہ سے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کوئی خاص شخص مراد ہے اور جب اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تو اس روایت پر ان کی نظر پڑگئی اور انھوں نے اس سے مراد ولید بن مغیرہ کو لے لیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اَلَّذِیْیا اَلَّتِیْکسی خاص مرد یا کسی خاص عورت ہی کے لیے نہیں آتے بلکہ بعض مواقع میں تمثیل کے لیے آتے ہیں۔ اور مقصود اس سے کسی گروہ یا جماعت کے مجموعی کردار کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ اور قرآن کریم میں جابجا اس کی مثالیں موجود ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی قریش اور یہود کے مجموعی کردار کو ایک تمثیل کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ اَکْدٰییہ اکدی الحافر سے نکلا ہوا محارہ ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کھودنے والے کے آگے کھدائی کے وقت کوئی ایسی چٹان آگئی جس کا توڑنا اس کے لیے دشوار ہوگیا۔ اس کا استعمال ایسے بخیلوں کے لیے کیا جاتا ہے، کہ اولاً تو یہ غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور مارے باندھے کبھی کچھ خرچ کرتے بھی ہیں تو فوراً اندر کا بخل ان کا ہاتھ روک دیتا ہے۔ اور اندیشہ ہائے دوردراز کا شکار ہو کر پیسے پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس لفظ سے قریش اور یہود کے بڑے بڑے سرداروں کے بخل کی تصویر کھینچنا مقصود ہے۔
Ayahs 53:36–38

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے خبر نہیں دی گئی ان باتوں کی جو حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی۔ وَاِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیٓ۔ اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (النجم : 36 تا 38) (کیا اسے خبر نہیں دی گئی ان باتوں کی جو حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں۔ اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ) تاریخ سے استدلال قریش میں جو فکری اور عملی گمراہیاں پیدا ہوگئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے بڑے بڑے سردار اور ان کا طبقہ امراء یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں جزیرہ ٔ عرب میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے، قبائل ہماری عظمت کو تسلیم کرتے ہیں، قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ ہمیں اسی طرح نعمتوں سے نوازے گا اور عزتوں اور رفعتوں سے سرافراز کرے گا، کیونکہ ہماری موجودہ حالت اس بات کی غماز ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقبول اور پسندیدہ لوگ ہیں۔ ظاہر ہے وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو قیامت کے دن سزا نہیں دے گا۔ دوسری خرابی ان میں یہ تھی کہ اولاً تو وہ قیامت کے وجود ہی کے منکر تھے۔ لیکن مفروضے کے طور پر اگر وہ قیامت کے وجود کو تسلیم بھی کرتے تھے تو ان کو اس بات نے ایمان و عمل کی پابندیوں سے نچنت کردیا تھا کہ جن بزرگوں اور انبیائے کرام کے ہم ماننے والے ہیں وہ یقینا وہاں ہمارے کام آئیں گے اور ہماری شفاعت کریں گے۔ پیش نظر آیات کریمہ میں ان ہی دونوں باتوں کی تردید فرمائی گئی ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ تم میں علم کے دعویدار اور مذہب کے وارث کہلانے والے یہود ہیں۔ اور تم اپنے آپ کو ابراہیمی وراثت کا مالک سمجھتے ہو۔ کیا ان دونوں کے صحیفوں میں جو کچھ تھا کیا تم تک اس کی خبر نہیں پہنچی۔ جہاں تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں کا تعلق ہے وہ تو آج بھی تورات میں موجود ہیں۔ اور ان میں جابجا ایمان و عمل کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔ قیامت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ لوگوں کو اس سے ڈرایا گیا اور اس کے لیے تیاری کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ دولت و امارت کو اس کی بنیاد بنانے کی بجائے ایمان و عمل کو اخری سرافرازی کی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اور شفاعت کے اس تصور سے انکار کیا گیا ہے جس میں ایمان و عمل کا کوئی حصہ نہ ہو۔ اسی طرح قریش جو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات کا وارث سمجھتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عہدِوفا کے سب سے زیادہ پورا کرنے والے تھے۔ انھوں نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اس کی رضا کے حصول کے لیے انھوں نے سب کچھ راہ خدا میں جھونک دیا۔ جہاں تک ان کے صحیفوں کا تعلق ہے آج ہمارے پاس ان کا کوئی صحیفہ موجود نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صحیفوں میں پیش کی جانے والی تعلیم عربوں میں اُمّی ہونے کی وجہ سے سینہ بہ سینہ پھیلتی رہی۔ لیکن مرورایام کے ساتھ ساتھ وہ تعلیمات نسیان کا شکار ہوتی گئیں اور ان میں حک واضافہ بھی ہوتا رہا۔ قرآن کریم نے ان کی تعلیمات کو صرف دو جگہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک یہاں اور دوسرا سورة الاعلیٰ میں۔ البتہ جب تورات کی مٹ جانے کے بعد ازسرنو تدوین کی گئی تو اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ اور ان کی تعلیمات بھی جمع کردی گئیں۔ ممکن ہے صحفِ ابراہیم سے وہی صحیفے مراد لیے گئے ہوں۔ جو تعلیمات ان صحیفوں میں ذکر کی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ یعنی ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ بجز اس کے کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ اس طرح اگر کوئی شخص چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ اصل مجرم کو اس بنا پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کررہا ہے۔ لیکن کس قدر حیران کن بات ہے کہ نجات کے بارے میں یہ بنیادی تصورات حضرت ابراہیم کی تعلیمات میں بھی تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات میں بھی۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ماننے والوں نے نہ جانے کس کس کو شفیع بنایا۔ حتیٰ کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر اپنی شفاعت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اسی طرح یہود نے بھی اہل کتاب ہونے کے باوجود کہیں حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا بنایا اور کہیں اپنے بزرگوں اور انبیائے کرام کو اپنا شفیع قرار دیا۔ اور ایمان و عمل کی ہزار خرابیوں کے باوجود اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اس لیے ہمیں جہنم کی آگ چھو بھی نہیں سکتی۔
Ayahs 53:39–41

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی۔ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ ثُمَّ یُجْزٰہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی۔ (النجم : 39 تا 41) (اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی۔ اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی۔ اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اس آیت میں اوپر والی آیت کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ یعنی گزشتہ صحیفوں میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اپنی محنت کا حاصل پائے گا۔ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ نیکی کوئی کرے اور اس کا پھل کسی اور کو ملے۔ اس طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس کی سزا کوئی اور بھگتے۔ یعنی مالک اور زمیندار کے جرم میں مملوک اور ہاری پکڑا جائے۔ اور صاحب کو اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ اسے پکڑنے کی قانون میں ہمت نہیں یا اسے گرفت میں نہیں لایا جاسکتا۔ اس سے خودبخود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گزشتہ امتوں میں اور اس امت میں بھی یہ تصور کہ اگر آبائواجداد بڑے نیک لوگ اور بڑی فضیلت کے مالک تھے تو ان کے جانشین چاہے وہ سیرت و کردار کی کیسی قباحتوں میں ملوث ہوں وہ اپنے آبائواجداد کی خوبیوں کی وجہ سے بخشے جائیں گے۔ یہ برائی چونکہ بہت پرانی ہے اس لیے قرآن کریم نے کئی جگہ اس کا ذکر فرمایا۔ سورة البقرۃ آیت 134 میں ارشاد فرمایا گیا تِلْـکَ اُمَّۃٌ قَدْخَلَتْ لَھَامَا کَسَبَتْ وَلَـکُمْ مَّاکَسَبْتُمْ ” یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا، اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تمہیں ملے گا جو تم کمائو گے۔ “ اگر نیک باپ کے اعمال کے صلہ میں بیٹے کی بخشش ہوسکتی ہے تو حضرت نوح (علیہ السلام) سے زیادہ نیک کون ہوسکتا ہے۔ اور اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے خلیل اللہ کی دعا کافر باپ کے لیے قبول ہوسکتی، تو آذر رانداہ درگاہ نہ ہوتا۔ ایک مومن کو دوسرے مومن کی نیکی کا فائدہ صرف دو صورتوں میں پہنچتا ہے۔ ایک یہ کہ نیکی ایمان کے رشتہ محبت پر مبنی ہو۔ مثلاً ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے دعا کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ اور دوسرا یہ کہ آدمی کو بلاواسطہ یا بالواسطہ اس نیکی میں کوئی دخل ہو۔ مثلاً باپ کا حُسنِ تربیت، استاد کا اخلاص کے ساتھ شاگردوں کو تعلیم دینا اور اپنا عملی نمونہ پیش کرنا یا تعلیم کے لیے صاحب حیثیت لوگوں کا وسائل فراہم کرنا۔ اس طرح کا کوئی دخل بھی اس نیکی میں اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ورنہ اصولی طور پر نیکی اسی کے لیے مفید ہے جس سے وہ صادر ہوتی ہے۔ اور برائی بھی اسی کے لیے نقصان دہ ہے جو اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ مزید فرمایا کہ نیکی کا اجر اور برائی پر سزا یہ محض خیالی باتیں نہیں۔ بلکہ جس نے بھی نیکی یا برائی کا ارتکاب کیا وہ قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ اس کے نامہ عمل میں اس کی ایک ایک نیکی موجود ہوگی اور اس کے تمام اعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور پھر ایسا نہیں ہوگا کہ کسی کی نیکی کے بدلے میں کمی کی جائے اور کسی برائی کی سزا میں اضافہ کردیا جائے۔ ہر شخص جزاء و سزا کے معاملے میں عدل و انصاف کو بروئے کار آتے دیکھے گا۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ سب کا منتہیٰ تیرے رب ہی کی طرف ہے

وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی۔ (النجم : 42) (اور یہ کہ سب کا منتہیٰ تیرے رب ہی کی طرف ہے۔ ) سب کا مرجع صرف اللہ تعالیٰ ہے ہر مسافر کی ایک منزل ہے، اور ہر چیز کا ایک مرجع ہے۔ تمام مخلوقات بالخصوص جن و انس اپنے رب ہی کی طرف پلٹیں گے چونکہ وہی ان کی انتہا اور وہی ان کی منزل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا مولیٰ و مرجع کوئی نہیں، جو اسے اللہ تعالیٰ کی بازپرس سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا اس کی عدالت کے بعد کوئی عدالت نہیں۔
Ayahs 53:43–47

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

بیشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ وَاَنَّـہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 43 تا 47) (بےشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رولاتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اور بیشک وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے۔ ایک بوند سے جب وہ ٹپکا دی جاتی ہے۔ اور بیشک دوبارہ اٹھانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وسعت کی مثالیں اب چند ایسی باتیں بیان کی جارہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت، بےپناہ علم اور بیش بہا نعمتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جس ذات عزیز کے اس قدر احسانات ہوں گے اور جو اپنی قدرت و علم میں اس قدر مخلوقات پر چھائی ہوئی ہوگی اس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو مولیٰ اور مرجع ہو۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ ہنسنا خوشی کا نتیجہ ہے اور رونا غم کا نتیجہ ہے۔ اور مسلسل خوشیاں اچھی قسمت کی علامت ہیں اور مسلسل غم قسمت کے بگڑ جانے کی۔ قسمت کا بنانا یا بگاڑنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور اگر تھوڑا سا تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ طبیعت میں خوشی کی لہر کا اٹھنا اور یا صحیح موقع پر طبیعت میں حقیقی غم کا پیدا ہونا، یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جن کو ہجومِ کار اور دولت کی ریل پیل نے احساسات سے محروم کردیا۔ اور کتنے ایسے لوگ ہیں جنھیں اقتدار کے نشے اور کرسی کی محبت نے خوشی اور غم کے تصورات سے بےنیاز کردیا۔ اس لیے جس کسی کو بھی یہ پاکیزہ احساسات نصیب ہوتے ہیں یقینا اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہے۔ کسی نے سچ کہا تھا : گلشن میں جتنے پھول تھے، رنگ سب کے فق ملے میں ہنس دیا کہ ان کو بھی ہنسنے کا حق ملے دل کا ہر ایک گوشہ ٹٹولا بہ ایں خیال ممکن ہے دوستی کی یہیں کچھ رمق ملے اس کے بعد ارشاد فرمایا موت بھی وہی دیتا ہے اور زندگی بھی وہی عطا کرتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی حقیقتیں حیات و ممات ہیں۔ ساری دنیا مل کر بھی کسی کو زندگی نہیں دے سکتی۔ اور اگر کوئی شخص زندگی سے مایوس ہو کر موت مانگے تو ظلم کے سوا دنیا اسے موت نہیں دے سکتی۔ غالب نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا : منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے مزید فرمایا کہ وہی ذات ہے جس نے مرد اور عورت کے جوڑے پیدا کیے، پانی کی ایسی بوند سے جسے ٹپکا یا جاتا ہے۔ یعنی رحم مادر میں جب پانی کی بوند ٹپکتی ہے تو اس کے بعد کوئی نہیں بتاسکتا کہ اس کی نشو و نما کیسے ہوگی۔ اس سے لڑکی پیدا ہوگی یا لڑکا، اس کی تکمیل ہوگی یا ناتمام ہی رہے گا، اس کی شکل و صورت کیسی ہوگی، اس کی سعادت و شقاوت کا کیا حال ہوگا، اس کی قسمت کیسی بنے گی۔ یہ ساری باتیں صرف وہ جانتا ہے جس نے مرد و عورت کے جوڑے پیدا کیے۔ پھر ان کے اندر جو حیرت انگیز تناسب پایا جاتا ہے یعنی کوئی ملک ایسا نہیں جس میں مرد زیادہ ہوں یا عورتیں زیادہ۔ معمولی فرق کے ساتھ کسی جگہ تناسب میں دراڑ نہیں پڑتی۔ یہ بجائے خود علم اور قدرت کی ایسی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کے مولیٰ و مرجع ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آخر میں فرمایا کہ جس کی قدرت اور علم کا حال ہم نے محولہ بالا مثالوں میں دیکھا اس کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ وہ ایک دفعہ انسان کو پیدا کرکے تھک گیا ہے اب دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا یا اس کا علم اس قدر لاغر ہوگیا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ کوئی شخص کہاں مرا اور کہاں دفن ہوا اور اس کے جسم کے ذرات کہاں ہیں۔ اور نہ اسے یہ خبر ہے کہ ہر شخص کے اعمال کیا ہیں اور کتنے ہیں۔ اس کی سوچ اور اس کے زاویہ ٔ نگاہ پر تأسف کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 53:48–49

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

یہ کہ اسی نے غنی کیا اور اسی نے سرمایہ دار کیا

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے

وَاَنَّـہٗ ھُوَ اَغْنٰی وَاَقْنٰی۔ وَاَنَّـہٗ ھُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی۔ (النجم : 48، 49) (یہ کہ اسی نے غنی کیا اور اسی نے سرمایہ دار کیا۔ اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے۔ ) اللہ تعالیٰ ہی سب کا مرجع اور مولیٰ ہے۔ اس لیے وہی ہر شخص کو غنی کرتا ہے یعنی فقر کو غنا سے بدلتا ہے اور تنگ حالی اور بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرتا ہے۔ آج کے غریب اور نادار کل کو رئیس بن جاتے ہیں۔ کیونکہ فقر کو غنا میں تبدیل کرنا اس کی قدرت میں بھی ہے اور وہ اپنے علم سے بھی جانتا ہے کہ کب کسی کے لیے غنا بہتر ہے اور کب کسی کے لیے فقر بہتر ہے۔ وہی ذات ہے جس کے بس میں ہے کہ جس آدمی کو اس نے غنی کیا ہے اسے وہ مالدار بھی کردے۔ اس کے لیے سرمایہ داری کے راستے کھول دے۔ وہ صرف ضروریات سے ہی مستغنی نہ ہو بلکہ اتنی دولت کا مالک بھی ہوجائے کہ وہ دوسروں کی مدد کرسکے۔ اسی کو عربی زبان میں قُنْیَۃٌ کہتے ہیں۔ اَقْنٰیاسی سے مشتق ہے۔ قُنْیَۃٌ جمع کیے ہوئے مال کو کہتے ہیں، یعنی محفوظ رہنے والا مال۔ جیسے مکان، اراضی، باغات، مویشی وغیرہ۔ اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ناداری کے چنگل سے نجات کو غنا کہتے ہیں۔ اور اس غنا کے بعد مال و اسباب اور جائیداد کا جمع ہوجانا قُنْیَۃٌ کہلاتا ہے۔ اور یہ دو الگ الگ صفتیں ہیں جو بیک وقت پروردگار میں پائی جاتی ہیں۔ شعریٰ ایک ستارے کا نام ہے جو موسم بہار میں طلوع ہوتا ہے۔ یہ آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے جو سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے، مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ مشرکینِ عرب اس کو بہت مبارک سمجھتے تھے۔ اور بہار کی تمام شادابیاں اور تمام تجارتی سرگرمیاں اسی سے منسوب کرتے تھے۔ مصر چونکہ زرعی ملک ہے اور ان کی زراعت کا دارومدار دریائے نیل پر ہے۔ اور اس ستارے کے طلوع کے زمانے میں نیل کا فیضان شروع ہوتا تھا۔ اس لیے ان کا گمان یہ تھا کہ دریائے نیل کے فیضان میں شعریٰ کے طلوع کا اثر ہے۔ ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اسی طرح ہر چیز کا فیضان اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔ نہ تخلیق میں کسی اور کا دخل ہے اور نہ کسی کے فیضان میں کوئی اور موثر ہے۔ تم شعریٰ کو بہار کی شادابیوں اور تجارتی سرگرمیوں میں موثر مانتے ہو جبکہ شعریٰ کا رب بھی وہی ہے جو تمہارا رب ہے۔
Ayahs 53:50–52

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاداولیٰ کو

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی، پس ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، بیشک وہ نہایت ظالم اور سرکش لوگ تھے

وَاَنَّـہٗٓ اَھْلَـکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی۔ وَثَمُوْدَا ْ فَمَآ اَبْقٰی۔ وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا ھُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰی۔ (النجم : 50 تا 52) (اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاداولیٰ کو۔ اور ثمود کو بھی، پس ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، بیشک وہ نہایت ظالم اور سرکش لوگ تھے۔ ) تاریخ کے حوالہ سے قریش کو تنبیہ یہ آیتیں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں کی آیتیں ہوں یا ان کی حیثیت توسیعِ کلام کی ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کلام دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اور اس سے مقصود قریش کو تنبیہ کرنا ہے کہ تم نے جو آج ہمارے رسول کے خلاف روش اختیار کر رکھی ہے اور تم اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہو اور تمہاری ایذارسانی حد سے بڑھتی جارہی ہے۔ یہی روش ان قوموں نے بھی اختیار کی جن میں سب سے پہلی قوم، قوم عاد تھی۔ اس سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ انھوں نے جب حضرت ہود (علیہ السلام) کی نہ صرف تکذیب کی بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہجرت کا حکم دیا اور اس قوم کو عذاب کے ذریعے تباہ و برباد کردیا۔ پھر ان میں جو لوگ باقی بچے اور وہ حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے ان کی نسل کو عاداخریٰ کہا جاتا ہے اور ثمود ان ہی کے بقایا میں سے تھے۔ انھوں نے اپنے زمانے میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دوائر میں خوب ترقی کی۔ انھوں نے پہاڑوں میں اپنے محلات کھودے۔ یہ اس زمانے کی ایسی ترقی یافتہ قوم تھی کہ جن کی قوت کی داستانیں آج بھی ضرب المثل ہیں۔ لیکن جب انھوں نے بھی تکذیب کا راستہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی دعوت کو قبول کرنا تو کجا سننا بھی گوارا نہ کیا۔ تو پھر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب برسا اور ان کو ایسا تباہ کیا کہ کسی ایک شخص کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ اسی طرح ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم گزر چکی ہے۔ وہ عاد وثمود سے بھی بڑھ کر ظالم اور سرکش تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی پانی کا سیلاب بھیجا اور انھیں تباہ کردیا۔ اس کے علاوہ بھی بعض قومیں ہلاک کی گئیں، لیکن ان میں سے کوئی قوم ایسی نہ تھی جن پر یہ تباہی اللہ تعالیٰ کے ظلم کا نتیجہ ہو۔ بلکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ ان کے حد سے بڑھے ہوئے بگاڑ اور سرکشی کا نتیجہ تھا۔ قریش کو اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عادل ہے۔ وہ نہ کسی بھی ظلم کرتی ہے اور نہ کسی کی سرکشی کو حد سے بڑھ کر برداشت کرتی ہے۔ قریش نے بھی اگر اپنی روش نہ بدلی تو یہ بھی اس انجام سے بچ نہیں سکیں گے جو اس سے پہلی امتوں کا ہوچکا ہے۔
Ayahs 53:53–54

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو بھی اٹھا پھینکا

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پس ان کو ڈھانک دیا جس چیز نے ڈھانک دیا

وَالْمُؤْتَفِکَۃَ اَھْوٰی۔ فَغَشّٰھَا مَا غَشّٰی۔ (النجم : 53، 54) (اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو بھی اٹھا پھینکا۔ پس ان کو ڈھانک دیا جس چیز نے ڈھانک دیا۔ ) قومِ لوط کے انجام کی طرف اشارہ ان آیتوں میں قوم لوط پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر ہے۔ اوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد، قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت حق نے اس دھرتی کو الٹ ڈالا، اور تمام بستیاں اوندھے منہ گرگئیں۔ لیکن بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ موتفکات سے مراد وہ ہَوائیں ہیں جو زمین کو بالکل تل پٹ کردیتی ہیں۔ قوم لوط پر بھی اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو تند ہو کر بالآخر حاصب یعنی کنکر پتھر برسانی والی طوفانی ہوا بن گئی۔ اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی، پھر اس نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ عذاب کی شدت کے اظہار کے لیے ان دونوں آراء میں کوئی اختلاف نہیں۔ کہنا صرف یہ ہے کہ قوم لوط پر ایسا ہولناک عذاب آیا جس نے ان کی بستیاں الٹ ڈالیں۔ اور پھر یہ ہوا کہ ان بستیوں کے اوپر وہ چیز چھا گئی اور اس نے انھیں ڈھانک دیا جو چیز چھا گئی۔ عربی اسلوب میں یہ انتہائی غیظ و غضب کی علامت بھی ہے اور عذاب کی شدت کی بھی۔ اور اگر اسے امرواقع کا بیان سمجھا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان پر بحرمردار کا پانی پھیل گیا۔ اور آج بھی وہ بستیاں ماہرینِ ارض کے خیال کے مطابق اس پانی کے نیچے مدفون ہیں۔ اور اس پانی نے اس طرح ان بستیوں کو ڈھانک لیا کہ ان کا نشان تک نظر نہیں آتا۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پس اے مخاطب اپنے رب کی کن کن نشانیوں کے بارے میں تو شک کرے گا

فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکَ تَتَمَارٰی۔ (النجم : 55) (پس اے مخاطب اپنے رب کی کن کن نشانیوں کے بارے میں تو شک کرے گا۔ ) قریش کو ملامت جن قوموں نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا، انھیں اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہلاک اور تباہ کیا اس کا ذکر کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ہر مخاطب کو فرداً فرداً متوجہ کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں پر شک کرو گے۔ اور پیغمبر جن عقائد، جن نظریات اور جن تصورات کا دعوت دیتا ہے ان میں سے تم کس کس کے بارے میں جھگڑا کرو گے۔ کیونکہ محولہ بالا قوموں کی تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے ہم بدترین انجام سے دوچار ہوئے ہیں لوگو ! تم اس سے پرہیز کرنا۔ اور وہ رویہ اختیار نہ کرنا جس کی پاداش میں ہم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا۔ آیتِ کریمہ میں اٰ لَآئِ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اِلٰیکی جمع ہے۔ اس کا معنی عام طور پر نعمت سے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس لفظ کا ادھورا مفہوم ہے۔ جس طرح اس کا اطلاق نعمت پر ہوتا ہے اسی طرح کرشمے، نشانیوں، عجائبِ قدرت اور کارناموں پر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح آیت میں تَتَمَارٰی کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی شک کرنا بھی ہوتا ہے اور جھگڑنا بھی۔ مقصود یہ ہے کہ سابقہ معذب قوموں نے اپنے نبیوں کی دعوت میں شک کیا۔ اور انھوں نے جن حقائق کے قبول کرنے کی دعوت دی ان کی صحت میں شک بھی کیا اور لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار بھی ہوگئے۔ اور پھر ان باتوں کو دشمنی کا موضوع بنا لیا۔ اور وہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور یہ اسی کی عطا ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور سابقہ امتوں کے انجام میں ہمارے لیے کیسی کیسی نشانیاں ہیں۔ انھوں نے ان نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے سے بھی انکار کردیا۔ اور ہر بات میں شک کے راستے پر چل نکلے۔ ان کا انجام واضح ہے تم ان سے عبرت حاصل کرو۔ اور وہ روش اختیار نہ کرو جو ان کے لیے ہلاکت کا باعث ہوئی۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ نذیر ہے پہلے آئے ہوئے نذیروں میں سے

ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِالْاُوْلٰی۔ (النجم : 56) (یہ نذیر ہے پہلے آئے ہوئے نذیروں میں سے۔ ) آنحضرت ﷺ ہی رسالت کی حقیقتِ ثابتہ کا استمرار ہیں یہاں نذیر سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی بھی۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا رسول بھی دنیا میں انذار کے لیے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ذریعے وہ انذار کرتا ہے۔ اس لیے دونوں مل کر اس انذار کی تکمیل کرتے ہیں جس کے لیے ان کی بعثت ہوئی ہے۔ یہاں کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی ان ہی رسولوں کی طرح رسول بن کر آئے ہیں جو سابقہ معذب قوموں کی طرف آئے تھے۔ اور انھوں نے ان ہی حقائق اور بنیادی صداقتوں کی طرف دعوت دی ہے جن کی طرف سابقہ انبیاء و رسل دیتے رہے ہیں۔ قریش کے لوگو ! اگر تم نے اس آخری نبی کی دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ وہی روش اختیار کی جو معذب قوموں نے کی تو پھر تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے ایسی امتوں کا ہوچکا ہے۔
Ayahs 53:57–58

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

قریب آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اسے کوئی ٹالنے والا نہیں

اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ۔ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ۔ (النجم : 57، 58) (قریب آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اللہ کے سوا اسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔ ) ایک حقیقتِ نفس الامری کا بیان اٰزِفَۃُ کا معنی ہے قریب آنے والی۔ اس سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے لوگوں کو بار بار ڈرایا جارہا تھا کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول نہ کیا تو کسی وقت بھی وہ عذاب آسکتا ہے جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے آجانے کے بعد مہلت دراز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کے لیے آتا ہے۔ جب اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور قوم رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آکر ان کا کام تمام کردیتا ہے۔ قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کے آجانے کے بعد تم پر اتمامِ حجت کردیا گیا ہے۔ اب اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو ماننے میں تاخیر کی تو یہ تاخیر تمہارے لیے بہت مہنگی ثابت ہوگی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس وقت کو غنیمت جانو اور بلاتاخیر فیصلہ کر ڈالو۔
Ayahs 53:59–60

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

تو کیا تم اس کلام پر اظہارِتعجب کرتے ہو

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۔ وَتَضْحَکُوْنَ وَلاَ تَبْکُوْنَ ۔ (النجم : 59، 60) (تو کیا تم اس کلام پر اظہارِتعجب کرتے ہو۔ اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ ) قریش کے روئیے پر اظہارِ تعجب پروردگار اظہارِ تعجب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کلام اور جس دعوت کے قبول نہ کرنے پر پہلی امتیں عذاب کا شکار ہوئیں جب اسی عذاب سے نبی کریم ﷺ ڈراتے ہیں تو عجیب بات ہے کہ تم اس عذاب کا منہ چڑاتے اور مذاق کرتے ہو۔ اور خوش فعلیوں کا موضوع بنا لیتے ہو۔ حالانکہ تمہاری یہ روش ہنسنے کی نہیں بلکہ رونے کا باعث ہے۔ کیونکہ جس شخص کو اندازہ ہو کہ میں عنقریب ایک بڑے خطرے سے دوچار ہونے والا ہوں تو وہ اس خطرے کی اطلاع دینے والے پر ہنسا نہیں کرتا۔ اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ میں اب اس برے انجام سے انھیں بچ سکتا جو میرے کرتوتوں کی وجہ سے میرے لیے مقدر ہوچکا ہے تو پھر وہ روتا ہے۔ لیکن تمہارا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم مدہوش پڑے ہو

وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۔ (النجم : 61) (اور تم مدہوش پڑے ہو۔ ) سَمَدْ اور سَمُوْد کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کتاب تو تمہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے جگا رہی ہے اور نبی کریم ﷺ پوری دلسوزی کے ساتھ تمہیں خواب غفلت سے بیدار کرکے اور تمہارے مستقبل کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کررہے ہیں۔ لیکن تمہارا عجیب حال ہے کہ تم سے غفلت کا پردہ ہٹنے میں نہیں آتا۔ اور تم ایسے مدہوش پڑے ہو کہ کسی طرح ہوش میں نہیں آتے۔ اور دوسرا معنی جو بعض تابعین سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ یمنی زبان میں سمود کا معنی گانے بجانے کے ہیں۔ اور اس آیت میں ان کی اس روش پر ملامت کی گئی ہے کہ بجائے اس کے کہ تم اپنی حالت پر رو وں اور اپنے انجام کی فکر کرو۔ اس کے برعکس تم گانے بجانے کے ذریعے قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ اس کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہو۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی بجا لائو

فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا۔ (النجم : 62) (پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی بجا لائو۔ ) خیرت و عافیت کے لیے نسخہ کیمیا سجدہ عاجزی اور فروتنی کی علامت ہے۔ اور عبادت پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں دے دینے کا نام ہے۔ یعنی تمہاری خیریت اب اسی میں ہے اور تم اپنے برے انجام سے اسی صورت بچ سکتے ہو کہ خواب غفلت سے جاگو اور دوسرے دیویوں اور دیوتائوں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی بجالائو۔ بجائے سرکشی کے عاجزی اور فروتنی کا رویہ اختیار کرو۔ اور وہ زندگی جو اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اسے دوسرے کی مرضی کے مطابق بسر کرنے کی بجائے اس کی اطاعت اور رضا کے تابع کردو۔ ہم اس سے پہلے یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جب اس سورة کو حرم میں لوگوں کے سامنے تلاوت کیا تھا تو آیت سجدہ پر پہنچ کر آپ نے سجدہ کیا اور مسلم اور کافر سب سجدے میں گرگئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اس کی آخری آیت کو آیت سجدہ سمجھتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ اسی سے استدلال کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور اکثر اہل علم اس آیت پر سجدہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن امام مالک اور بعض دیگر اہل علم حضرت زید بن ثابت ( رض) کی روایت کی وجہ سے اس سورة کی آخری آیت پر سجدہ کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ حضرت زید بن ثابت ( رض) یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورة نجم پڑھی اور حضور ﷺ نے سجدہ نہ کیا۔ لیکن اس سے آیت سجدہ پر سجدہ کا لازم نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ آیت سجدہ سننے کے فوراً بعد سجدہ کرنا ضروری نہیں ہوتا، دوسرے وقت میں بھی سجدہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت زید ( رض) نے جب یہ سورة آنحضرت ﷺ کے سامنے پڑھی تو ممکن ہے کسی عذر کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سجدہ نہ کرسکے ہوں۔ اس لیے صحیح رائے یہی ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے۔