Ayahs 52:1–8وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8)
(قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ )
قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر
ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ پر شہادت مہیا کی گئی یا دلیل لائی گئی ہے تاکہ اس جوابِ قسم یا مقسم علیہ کے ثبوت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے یا ہو کے رہے گا اور اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ یعنی اس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ قسمیں یا شہادتیں اس مقسم علیہ کو کس طرح ثابت کرتی ہیں اور اس قسموں کا صحیح مفہوم کیا ہے۔
قسموں کا مفہوم
سب سے پہلے طور کی قسم کھائی گئی ہے۔ طور اگرچہ ایک پہاڑ ہے، لیکن مراد اس سے وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب و قاہر قوم کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور یہ فیصلہ قانونِ طبیعی کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانونِ اخلاقی اور قانونِ مکافات کی بنیاد پر تھا۔ اس لیے آخرت کے حق میں اسے تاریخی استدلال کے طور پر پیش کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل نہایت پسے ہوئے اور دبے ہوئے لوگوں کی ایک قوم تھی۔ ان کی بےبسی نے پیغمبروں کی اولاد ہونے کے باوجود انھیں غلاموں کی تصویر بنا رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو خود بےبسی اور بےمائیگی کی تصویر تھا۔ اقتدار اور نبوت کی دعوت میں تصادم ہوا۔ طاقت نے اخلاقی قوت کو اپنے سامنے جھکانا چاہا۔ لیکن آخر اقتدار اور طاقت کا نمائندہ اس اخلاقی قوت سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا اور چونکہ اس کی روشنی کوہ طور سے پھوٹی تھی اور کوہ طور ہی سے بنی اسرائیل کو وہ زندگی کا نظام ملا جسے تورات کہتے ہیں۔ اور ان کی اجتماعی غلطیوں کے نتیجے میں کوہ طور ہی سے ان کو تنبیہات ہوتی رہیں۔ اس لیے کوہ طور کی پوری تاریخ یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافات جب حرکت میں آتا ہے تو طاقت اور اقتدار اس کا راستہ نہیں روک سکتے۔ قریش کو بھی اس آئینے میں اپنا مستقبل دیکھنا چاہیے۔
اور دوسری قسم کھائی گئی ہے کتاب مسطور کی۔ اس سے مراد تورات بھی ہوسکتی ہے اور کتب مقدسہ کا مجموعہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور طور کے معاً بعد کتاب کے ذکر سے تورات کی طرف ذہن جاتا ہے کیونکہ یہ طور ہی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھی۔ اور باقی کتابیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک نازل ہوئی ہیں ان میں احکام چونکہ تورات ہی کے باقی رکھے گئے اور اسی پر عمل کرنے کا سب کو حکم دیا گیا۔ اس لیے اگر کتب مقدسہ کا مجموعہ اس سے مراد لیا جائے تو وہ بھی غلط نہیں۔ مقسم علیہ پر اس کی گواہی اس معنی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے رسول مختلف قوموں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور ان پر کتابیں نازل ہوئی ہیں ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جن میں آخرت کی خبر نہ دی گئی ہو، جس میں بعث بعدالموت کا حوالہ نہ ہو اور جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر جواب دہی کا ذکر نہ ہو۔ یہ گویا ان تمام سچے لوگوں کی گواہی ہے جن پر سچائی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی اور جن کی نبوت اور رسالت کی سب سے بڑی دلیل ان کی عظمت کردار اور ان کی صداقت رہی ہے۔ اگر ان پر نازل ہونے والی کتابیں آخرت کی خبر دیتی ہیں تو یہ خبر ایک ایسی گواہی ہے جس کے پیچھے مذہب کی پوری تاریخ کھڑی ہے اور جسے انبیائے کرام کے عظمت کردار نے توانا کر رکھا ہے اور جس کی صداقت پر تمام قومیں اختلاف کے باوجود اتفاق رکھتی ہیں۔
تیسری قسم بیت المعمور کی کھائی گئی ہے۔ البیت المعمور سے مفسرین نے مختلف مفاہیم مراد لیے ہیں اور بعض اہل علم نے ان کے مصادیق متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دل کو لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اس سے مراد بیت اللہ ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسا آباد گھر ہے جو طواف کرنے والوں اور عبادت کرنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہا۔ اس کی تاریخ اور اس کا وجود اس امر کی ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ اس گھر کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی تائید، اس کا قانونِ مکافات، اس کے پیغمبروں کی صداقت اور ان کی دی ہوئی خبروں کی حقانیت قائم ہے۔ کیونکہ یہ ان آیات کے نزول سے اڑھائی ہزار سال پہلے بےآب وگیاہ اور غیرآباد پہاڑوں میں ایک شخص کسی لائولشکر اور سروسامان کے بغیر آتا ہے اور اپنی ایک بیوی اور ایک شیرخوار بچے کو بالکل بےسہارا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ پھر وہی شخص کچھ مدت کے بعد اسی سنسان جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بناتا ہے اور پکار کر کہتا ہے کہ لوگو، آئو اور اس گھر کا حج کرو۔ اس تعمیر اور اس پکار کو یہ حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ پورے ملک کا مرکز بن جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ اور پھر صرف اس گھر کی وجہ سے یہ پورا علاقہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ وہ لوگ جو پورے ملک میں کشت و خون کی داستان دہراتے ہیں وہ جب اس گھر میں داخل ہوتے ہیں تو بےدست و پا ہو کے رہ جاتے ہیں۔ کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اور اگر کسی بگڑے ہوئے حکمران نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور اسے ڈھا دینے کی کوشش کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا ایسا شکار ہوا کہ عبرت بن کر رہ گیا۔ ابرہہ اور اس کے لشکر کی تباہی کی صورت میں یہ واقعہ ان آیات کے نزول سے صرف 45 برس پہلے پیش آیا۔ اس کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے اس گھر کی عظمت، اس کے بنانے والے کی حقانیت اور اس میں مبعوث کیے جانے والے پیغمبر اور وہ آخرت کے جس عقیدے کی وہ شدومد سے دعوت دے رہا ہے اس کی صداقت پر کسی مزید دلیل کی حاجت ہو۔ اس گھر کی تاریخ اور اس کے ایک ایک ورق اور اہل عرب پر اس کے بےپناہ اثرات اور اس کی طاقت وہیبت کا مظاہرہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس گھر سے اٹھنے والی صدا جس میں آخرت کے تصور کو بنیادی عقیدے کی حیثیت حاصل ہے یقینا آخرت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
اس کے بعد السقفُ المرفوع یعنی بلند چھت کی قسم کھائی گئی ہے۔ قرآن کریم بار بار اللہ تعالیٰ کی عظمت اور لوگوں پر اس کی کرم گستری کو بیان کرنے کے لیے آسمان کی تخلیق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ ایک ایسی نیلگوں چھت جس کے اور چھور کا کوئی اندازہ نہیں، جس کی نہ ابتداء معلوم ہے اور نہ انتہاء معلوم ہے، جس کے نیچے کوئی ستون نہیں، جو بیشمار صدیوں سے ستونوں کے بغیر کھڑا ہے اور اس میں کہیں شگاف واقع نہیں ہوا، بیشمار مخلوقات اس میں آباد ہیں، بیشمار کُرّے ثوابت اور سیاروں کی شکل میں اس کے نیچے رواں دواں ہیں، بیشمار نعمتیں وہاں سے اہل زمین پر اترتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو ذات اس عظیم اور ناپیدا کنار چھت کے بلند کردینے پر قادر ہے، کون سا کام ہے جو اس کے دائرہ قدرت سے باہر ہوسکتا ہے۔ جو شخص روزانہ اس آسمان کو دیکھتا ہے اس کے دل و دماغ پر اللہ تعالیٰ کی ہیبت چھا جاتی ہے۔ اگر دوسرے عوارض اس کو لاحق نہ ہوں تو وہ کبھی یہ کہنے کی غلطی نہیں کرسکتا کہ جس اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ اور جس نے ہم پر اس قدر احسانات اور انعامات کیے اور ہمیں غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ کبھی ہمیں شتر بےمہار کی طرح چھوڑ سکتا ہے۔ وہ یقینا ایک دن ایسا لائے گا جس میں ہمارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
اس کے بعد البحر المسجور کی قسم کھائی ہے جس کا معنی ہے لبریز سمندر۔ سجر کے معنی بھرنے کے ہیں۔ سجرالماء النہر ” پانی نے نہر کو لبریز کردیا۔ “ سمندر کی ناقابلِ بیان وسعت، اس میں بےحد و حساب حیوانات کی موجودگی، پھر ان حیوانات کے جسمانی نظام کا ٹھیک ٹھیک اس طرح بن جانا کہ وہ سمندر کی گہرائی کے لیے موزوں ہو۔ اور پھر پانی کا نمکین ہونا تاکہ اس میں مرنے والی مخلوقات کی لاشیں سڑنے نہ پائیں۔ اور پھر سمندر کے پانی کا ایک خاص حد پر رکے رہنا کہ نہ وہ زمین کے اندر اترے اور نہ خشکی پر چڑھ کر اسے غرق کردے۔ اور پھر اس کے ذخیرہ آب سے بھاپ کا اٹھ کر بادل بننا اور زمین کے خشک حصوں کو پانی سے سیراب کردینا، اور پھر اس سے انسانوں کو مختلف غذائوں کی شکل میں بہت سی چیزوں کا حاصل ہونا، کیا یہ سب کچھ کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ یقینا سمندر کا وجود اپنے اندر بیشمار حکمتیں رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ جس ذات نے زمین کی سطح پر ایسا بےپایاں سمندر پیدا کیا ہے اس پیدا کرنے والے کی ہیبت اور عظمت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اور جس نے انسانوں کے لیے رزق اور دیگر منافع کا ایسا سرچشمہ پیدا فرمایا ہے کیا وہ انسان سے کبھی نہیں پوچھے گا کہ تو نے میرا رزق کھا کر اس کا حق کیسے ادا کیا ؟ انسان سمندر کے سینے پر جہاز تو دوڑاتا پھرے لیکن یہ قدرت دینے والا اسے کبھی نہ پوچھے گا کہ تو نے یہ حق کس طرح استعمال کیا ؟ اور اگر یہ سوالات اپنی کوئی اہمیت رکھتے ہیں تو یقینا اس کا ایک ہی جواب ہے کہ یقینا ایک دن ایسا آئے گا جب انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا اور اسی کا نام آخرت ہے۔
یہ شہادتیں مہیا کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ قریش کو جس عذاب سے ڈرا رہے ہیں اور جس یوم آخرت کی خبر دے رہے ہیں یہ دونوں اپنے اپنے وقت میں ہو کر رہیں گی۔ جب وہ عذاب آئے گا تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہوگا۔ اور ان کی قوت و جمعیت ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اور نہ کوئی انھیں آخرت میں سہارا دے سکے گا۔ اگر اتنی بڑی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی ان لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور وہ عذاب کا مطالبہ کیے جارہے ہیں تو اگر ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی گرجائے تو یہ اسے بھی ابرباراں سمجھ کر خوشی کا اظہار کریں گے۔ لیکن جب وہ ان کے تباہ کرکے رکھ دے گا تو پھر ان کو پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔
Ayahs 52:9–12یَّوْمَ تَمُوْرُالسَّمَـآئُ مَوْرًا۔ وَّتَسِیْرُالْجِبَالُ سَیْرًا۔ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ ۔ (الطور : 9 تا 12)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان بری طرح ڈگمگائے گا۔ اور پہاڑ چلنے لگیں گے۔ پس تباہی ہے اس روز ان جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو اپنی حجت بازیوں میں کھیل رہے ہیں۔ )
قیامت کی تصویر اور شبہات کا ازالہ
اہلِ عرب کی عادت یہ تھی کہ جب آنحضرت ﷺ ان کے سامنے قیامت برپا ہونے کا ذکر فرماتے جس میں پہلے مرحلے پر ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور دوسرے مرحلے پر ازسرنو زندگی برپا ہوگی تو وہ اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ یہ اتنا مستحکم بنا ہوا آسمان کیسے ٹوٹ پھوٹ جائے گا ؟ اور زمین پر جمے ہوئے پہاڑ کیسے اپنی جگہ چھوڑ دیں گے ؟ تو ان کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن آسمان بھی اپنی جگہ قائم نہ رہ سکے گا۔ وہ مضطرب اور متردد ہو کر ادھر ادھر حرکت کرتا نظر آئے گا۔ یعنی اس روز عالم بالا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور وہ پہاڑ جنھیں تم بہت مستحکم سمجھتے ہو وہ ہوا میں اڑتے پھریں گے اور ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ چل رہے ہیں۔ اور دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار ان پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردے گا۔ پھر اس دن ان لوگوں کے لیے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑاتے اور آپ کی ہر بات میں میں میخ نکالتے، اور ان بنیادی موضوعات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی بجائے محض تفریحاً ان پر باتیں چھانٹتے، ان کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ انھوں نے ہر صداقت کی تکذیب کی اور پھر ان ہلا دینے والی باتوں کو استہزاء اور مذاق کا موضوع بنایا۔
خوض کا مفہوم
خوض کا معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ خَاضَ الْقَوْمُ فِی الْحَدِیْثِ کا محاورہ اسی سے نکلا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا پہنچے۔ یہاں اس کے ساتھ یَلْعَبُوْنَ کا اضافہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وہ نہ صرف آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےجا اور بےمحابا گفتگو کا موضوع بناتے اور پھر کہیں کا کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ بلکہ وہ یہ سب کچھ محض تفریحِ طبع کے لیے کرتے ہیں۔ متانت اور سنجیدگی انھیں چھو کر بھی نہ گزرتی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ قیامت کے دن ان کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔ اور حق کی مخالفت میں ان کی یہ نکتہ آفرینیاں انھیں بہت مہنگی پڑیں گی۔
Ayahs 52:13–14یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَھَنَّمَ دَعًّا۔ ھٰذِہِ النَّارُالَّتِیْ کُنْتُمْ بِھَا تُـکَذِّبُوْنَ ۔ (الطور : 13، 14)
(جس دن انھیں آتش دوزخ کی طرف دھکے مار مار کرلے جایا جائے گا۔ کہ یہ ہے وہ دوزخ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ )
مذاق اڑانے والوں کا انجام
یہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کو دل لگی کا موضوع بناتے اور اس کا تمسخر اڑاتے تھے، قیامت کے دن انھیں دھکے دیتے ہوئے نارِجہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ دَعّ کا معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں۔ جہنم کی طرف یہ لوگ اسی طرح دھکے دے دے کے لے جائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم دنیا میں مذاق اڑاتے اور انکار کرتے تھے۔
Ayah 52:15اَفَسِحْرٌ ھٰذَٓا اَمْ اَنْتُمْ لاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الطور : 15)
(کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سجھائی نہیں دے رہا۔ )
دنیا میں جب نبی کریم ﷺ انھیں آخرت سے ڈراتے یا عذاب کی دھمکی دیتے تھے، تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ قیامت کے دن ان کی اس یا وہ گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اب تمہیں جس جہنم میں پھینکا جارہا ہے، غور سے دیکھو یہ جادوگری ہے یا حقیقت ہے۔ کیا اب بھی تمہیں دکھائی دے رہا ہے یا نہیں ؟
Ayah 52:16اِصْلَوْھَا فَاصْبِرُوْٓا اَوْ لاَ تَصْبِرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الطور : 16)
(اس میں داخل ہوجاؤ، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔ )
ان کی یا وہ گوئی کا جواب دینے کے بعد انھیں حکم دیا جائے گا کہ جاؤ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ، یہ جگہ باتیں بنانے کی نہیں، یہاں تو حکم کی تعمیل کرنا ہوگی، اب تم صبر کرو یا بےصبری کرتے ہوئے واویلا مچائو، دونوں باتیں تمہارے لیے برابر ہیں۔ صبر پر داد کی امید نہ رکھو اور بےصبری پر شنوائی کی توقع نہ کرو۔ تمہیں یہاں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم دنیا میں عمل کرتے رہے ہو۔ یہ عدل کی جگہ ہے یہاں کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں ہوگی۔ ہر عمل کا صلہ ویسا ہی ملتا ہے جیسا وہ عمل ہوتا ہے۔ اس لیے اگر تم بےصبری کرکے فریاد بھی کرو گے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 52:17اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ ۔ (الطور : 17)
(بےشک متقی لوگ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ )
مکذبین کے انجام کے بعد متقین کے اعزاز کا ذکر
مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب متقین کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اضداد کے ذکر سے حقائق کی وضاحت کرتا اور انھیں دلوں میں اتارتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہوں گے جو مکذبین کی ضد ہوں گے۔ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت اور نبوت کی تکذیب کرنے کی بجائے دل و جان سے قبول کیا ہوگا۔ مکذبین اگر جنت اور دوزخ کو ایک مذاق سمجھتے تھے یہ لوگ اسے حقیقت مان کر جنت کے استحقاق اور جہنم سے بچائو کی تیاری کرچکے ہوں گے۔ مکذبین نے اگر زندگی کو شتر بےمہار کی طرح گزارا ہوگا تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بندے اور غلام بن کر بندگی کے حقوق ادا کرتے ہوئے اور احکام کے حصار میں رہ کر زندگی گزارتے رہے ہوں گے۔ چناچہ اسی اصول کے تحت مکذبین کا انجام اگر جہنم کا عذاب ٹھہرا ہے تو یہ اپنی بندگی اور غلامی کے باعث جنت میں جائیں گے اور جنت کی نعمتوں کے سزاوار ٹھہریں گے۔
Ayah 52:18فٰـکِھِیْنَ بِمَآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْ ج وَوَقٰـہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ (الطور : 18)
(وہ محظوظ ہورہے ہوں گے ان نعمتوں سے جو ان کے رب نے ان کو دے رکھی ہوں گی، اور اس بات سے کہ ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ )
متقین کا اظہارِطمانیت
جنت میں متقین کو اللہ تعالیٰ جس طرح کی زندگی سے بہرہ ور فرمائے گا اب اس کی ہلکی سی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی نعمتوں سے نوازے گا جن سے وہ نہایت خوشی اور مسرت سے محظوظ ہوں گے۔ اور جو کچھ ان کو عطا کیا جائے گا اس کی تفصیل کو مضمر رکھتے ہوئے ان نعمتوں کے بےپایاں اور انتہائی مسرت افزاء ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور ان نعمتوں میں سب سے زیادہ جو چیز اہل جنت کو خوشی اور مسرت سے نہال کرے گی وہ یہ بات ہوگی کہ وہ جب اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں جہنم کے عذاب سے بچایا ہے۔ ورنہ جہاں تک ہمارے اعمال کا تعلق ہے ہمارا کوئی عمل اس قابل نہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا مقام حاصل کرسکے۔ بشری کمزوریاں انسان کے اندر ایسی خرابیاں پیدا کردیتی ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہو ان کا احساس بھی دشوار ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ آدمی یہ سمجھے کہ میں واقعی ایسی ہر کمزوری سے مبرا ہوگیا ہوں۔ اگر ہمارے اعمال کا انصاف اور عدل کے پیمانوں میں ٹھیک اس طرح تول تلتا جو عدل کا تقاضا ہے تو ہم کبھی جنت میں نہ پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت فضل و کرم فرمایا، ہماری کمزوریوں سے درگزر کیا، ہماری معمولی قربانیوں کو عزت بخشی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت کی نعمتوں سے سرافراز فرمایا۔
Ayah 52:19کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِٓیْئًا م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الطور : 19)
(ان سے کہا جائے گا) کہ کھائو اور پیو رچتا ہوا، اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ )
مہمانوں کی قدر افزائی
اہلِ جنت کی حیثیت چونکہ مہمانوں کی بھی ہوگی اور جنت کے مالکوں کی بھی۔ لیکن جنت کی بےپایاں نعمتیں دیکھ کر طبیعتوں میں ایک ہچکچاہٹ ضرور ہوگی کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں جنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں لیکن یہ ان کا بےپایاں اور بیشمار ہونا یہ ایک ایسا انعام ہے جو ہمیں حیرت میں مبتلا کیے جارہا ہے۔ اس لیے ان کی اس ہچکچاہٹ اور حیرت کو دور کرنے کے لیے فرمایا جائے گا کہ یہ سب نعمتیں تمہارے لیے ہیں۔ اب جس طرح چاہو، جتنا چاہو اور جب چاہو کھائو پیو۔ تمہیں ان نعمتوں کے حصول کے لیے نہ کوئی محنت کرنا ہوگی، نہ تمہیں ان نعمتوں کے چھن جانے کا اندیشہ ہونا چاہیے۔ پھر ان میں سے کوئی نعمت ایسی نہیں جو کبھی ختم ہوجائے اور پھر ان کے حصول کے لیے تمہیں کسی کا احسان نہیں لینا پڑے گا بلکہ تمہیں جس چیز کی خواہش ہوگی وہ چیز تمہارے سامنے حاضر ہوجائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے یہ سب کچھ اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے لیکن تأثر یہ دیا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے اعمال کا صلہ ہے۔ اور ہماری کمائی کا ثمرہ ہے۔
دنیا میں قیمتی سے قیمتی نعمت بھی اگر بےمحابا طریقے سے استعمال کی جائے تو عموماً نقصان دیتی ہے۔ پیٹ میں گرانی پیدا کرتی ہے، بعض دفعہ سوئِ ہضم لاحق ہوجاتا ہے۔ لیکن جنت کی نعمتیں ان تمام آلائشوں سے پاک ہوں گی۔ بلکہ وہاں ایسا بھی نہیں ہوگا کہ غذا کسی قسم کی غلاظت پیدا کرے۔ آدمی ہرحال میں سبک اور توانا ہوگا۔
ھَنِیٔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں راس آنے والی چیز۔ ہم نے اسی کا لحاظ کرتے ہوئے اس کا ترجمہ رچتا ہوا کیا ہے۔
Ayah 52:20مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍ ج وَزَوَّجْنٰـھُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ ۔ (الطور : 20)
(وہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے صف بہ صف تختوں کے اوپر، اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان سے بیاہ دیں گے۔ )
اہلِ جنت کی مجلسی زندگی
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں جنت کی نعمتوں سے اہل جنت کے محظوظ ہونے کا ذکر فرمایا گیا، یہ اسی کی مزید وضاحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو کھانے پینے کی اشیاء کی وہ فراوانی ہوگی کہ آدمی دیکھتا ہی رہ جائے، لیکن کیا مجال ہے کہ اس سے ہاتھ رکے، طبیعت میں اکتاہٹ پیدا ہو یا آدمی اجنبیت محسوس کرے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے لوازم ایسے کہ جس سے ہر شخص کی خوشیوں میں اضافہ ہو، محبتیں بڑھیں اور بےتکلفی کے سوتے پھوٹنے لگیں۔ ایسے قرینے سے ان کے لیے مسندیں بچھائی جائیں گی کہ کوئی مسند دوسری مسند سے آگے یا پیچھے نہیں ہوگی۔ اس قدر ہنرمندی سے ان مسندوں کو آراستہ کیا گیا ہوگا کہ لوگ جب ان مسندوں پر بیٹھیں گے تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ جسے قرآن کریم نے دوسری جگہ مُتَقَابِلِیْنَ کے لفظ سے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہتے اور احترام کرتے ہوں گے۔ آج کل کی نشستوں کی طرح کوئی شخص دوسرے سے بیزار اور برگشتہ نظر نہیں آئے گا۔ مزید اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہوگا کہ مرد و عورت میں ایک دوسرے کے لیے جو خلاء پایا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہتا ہے اس خلاء کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ خوشیوں کی تکمیل کے لیے ہر شخص کو ایسی بیوی ملے گی اور ہر شخص کے ساتھ ایسی رفیقہ ٔ حیات ہوگی جو حسن اور دلکشی میں اپنی مثال آپ ہوگی۔ اور اس کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس سے ہمیں ایک تصور قائم کرنے میں مدد ملتی ہے ورنہ حقیقت ہمارے تصور سے کہیں خوبصورت ہوگی۔ لیکن آج اس کا علم ہمیں حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ عالم آخرت کی باتیں ہیں جن کی حقیقت سے آدمی وہیں جا کر واقف ہوگا۔
Ayah 52:21وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَمَآ اَلَتْنٰـھُمْ مِّنْ عَمَلِھِمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَھِیْنٌ۔ (الطور : 21)
(اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ان کی اولاد کو بھی ہم جنت میں ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے ذرا بھی کمی نہیں کریں گے، ہر شخص اس کمائی کے بدلے میں رہن ہے جو اس نے کی ہوگی۔ )
اہلِ جنت پر ایک خصوصی انعام
اللہ تعالیٰ نے اہل جنت پر جو بیشمار انعامات کیے ہیں ان میں سے ایک انعام یہ بھی ہے جو درحقیقت اہل جنت کی خوشیوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے کہ اہل جنت کی اولاد یعنی ان کے بیٹے اور بیٹیاں اگر اپنے نیک ماں باپ کی پیروکار رہے اور انھوں نے بھی ایمان و عمل سے اپنی زندگیوں کو سنوارا تو اگر قیامت کے دن یہ بیٹے بیٹیاں اللہ تعالیٰ کے کرم سے جنت میں چلے گئے لیکن وہ مقام حاصل نہ کرسکے جو ان کے والدین کو اپنی عظیم قربانیوں کے صلے میں ملا ہے تو اللہ تعالیٰ محض ان کے ماں باپ کی خوشیوں کی تکمیل کے لیے یہ احسان فرمائے گا کہ ان کے بچوں کو ان کے مقام سے اٹھا کر اس مقام پر پہنچا دے گا جو مقام ان کے والدین کو حاصل ہوگا۔ حالانکہ یہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے جنتی ہونے کے باوجود اس عظیم مقام کو حاصل نہ کرسکیں گے۔ لیکن ان کو یہ مقام عطا کرنے کے لیے ان پر اللہ تعالیٰ کا مزید احسان یہ ہوگا کہ ان کے ایمان و عمل کے صلے میں اضافہ کردیا جائے گا اور انھیں بھی اس مقام کے قابل بنادیا جائے گا جہاں ان کے والدین کو رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے والدین کے کسی عمل میں کمی نہیں کی جائے گی۔
اس سے ایک غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ شاید نیک ماں باپ کی اولاد ماں باپ کی نیکی کی وجہ سے جنت میں جانے کے قابل ہوگی اور انھیں خود ووہ محنت نہیں کرنا پڑے گی جو ان کے والدین نے کی۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں رہن رکھا گیا ہے یعنی جیسا اس کے پاس ایمان و عمل کا سرمایہ ہوگا ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک ہوگا۔ عمل ہی اسے چھڑائے گا اور عمل ہی ہلاک کرے گا۔ ایمان و عمل کے بغیر نیکوں کی نسبت قیامت کے دن کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ البتہ اگر یہ اولاد اپنے ایمان و عمل کے باعث جنت میں جانے کے قابل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نجات کا فیصلہ کردیا تو اب محض ان کے والدین کی خوشیوں کی تکمیل کے لیے ان کو ان کے درجہ میں پہنچا دیا جائے گا، بیشک یہ ان کے درجے میں جانے کے قابل نہ ہوں۔ اس سے نجات کا جو بنیادی اصول ہے وہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور پروردگار کا اہل جنت کے ساتھ جو فیاضانہ سلوک ہے اس کا ظہور اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ نیک لوگوں کی اولاد نجات کا استحقاق اپنے ایمان و عمل سے کرے گی لیکن اگر یہ اس اعلیٰ مرتبے تک نہ پہنچ سکے جو ان کے والدین حاصل کرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین کی خوشیوں کی تکمیل کے لیے یہ کرم فرمائے گا کہ انھیں والدین کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے اس لطف و کرم سے یہ امید کی جاتی ہے کہ جس طرح والدین کے بلند مرتبے میں ان کی کم درجہ اولاد کو محض والدین کی نیکی کی وجہ سے پہنچایا جائے گا اسی طرح اگر اولاد اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے کسی بلند مرتبے کی سزاوار ٹھہری اور والدین اس مرتبے کو حاصل نہ کرسکے تو بلند مرتبہ اولاد کی مسرت کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے باایمان والدین کو بھی اس مرتبے میں پہنچا دے گا جہاں ان کی اولاد ان کے انتظار میں ہوگی۔ کیونکہ اگر والدین کی خوشیاں بچوں کو بلند مرتبہ دلا سکتی ہیں تو یہی خوشیاں اور یہی نازک تعلقات ماں باپ کو بھی اولاد کا ہم مرتبہ بنا سکتے ہیں۔
Ayah 52:22وَاَمْدَدْنٰـہُمْ بِفَاکِھَۃٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (الطور : 22)
(اور ہم ان کو برابر دیتے رہیں گے ہر طرح کے پھل اور گوشت جیسے ان کا جی چاہے گا۔ )
اہلِ جنت پر افضال و انعام کی ایک جھلک
بِمَآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْمیں جو بات مجمل انداز میں فرمائی گئی تھی اب اس کو تھوڑا سا کھول دیا گیا ہے کہ ہم جو اہل جنت کو ہر طرح کی بےپایاں نعمتیں عطا کریں گے ان میں غذائی نعمتوں کے اعتبار سے ہر طرح کا پھل بھی دیں گے اور ہر طرح کا گوشت بھی فراہم کریں گے۔ کیونکہ انسان کی غذا ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ آدمی غذا میں مختلف چیزوں کا استعمال کرتا ہے، دالیں اور سبزیاں بھی کھائی جاتی ہیں اور گوشت بھی۔ لیکن گوشت کو سیدالطعام کہا گیا ہے۔ اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر فرمایا گیا، سبزی اور دالوں کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اس کے تابع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور کھانے کے بعد آدمی تفکہ کے طور پر پھلوں سے محظوظ ہونا چاہتا ہے۔ اور وہ ایک پھل نہیں ہر طبیعت کا تقاضا مختلف ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بیشمار پھل دنیا میں بھی دیئے اور آخرت میں تو کہیں اس سے بڑھ چڑھ کر ہوں گے۔ لیکن جہاں تک گوشت کا تعلق ہے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ گوشت کس طرح کا ہوگا۔ سورة الواقعہ کی آیت 21 میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کی تواضع پرندوں کے گوشت سے کی جائے گی۔ لیکن یہاں گوشت کا مطلقاً ذکر یقینا اپنے اندر ایک معنویت رکھتا ہے جس سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی باقی نعمتیں دنیوی نعمتوں سے مختلف ہوں گی مثلاً جنت کا دودھ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہیں ہوگا۔ جنت کا شہد مکھیوں کے چھتے سے نہیں نکلے گا، اسی طرح جنت کی شراب پھلوں سے کشید نہیں کی جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ چیزیں چشموں سے نکلیں گی اور نہروں میں بہیں گی۔ اس سے قیاس کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گوشت بھی جانوروں کا ذبیحہ نہیں ہوگا بلکہ قدرتی طور پر غیرمعمولی طریقے سے وجود میں لایا جائے گا۔ اس کی صورت کیا ہوگی یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 52:23یَتَنَا زَعُوْنَ فِیْھَا کَاْسًا لاَّلَغْوٌ فِیْھَا وَلاَ تَاْثِیْمٌ۔ (الطور : 23)
(ان کے درمیان ایسی شراب کے پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری۔ )
اہلِ جنت کی بھرپور مجلسی زندگی
یَتَنَا زَعُوْنَ تنازع سے ہے جس کا معنی عام طور پر جھگڑا کیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال الک اس کے ساتھ آتا ہے مثلاً تنازع الک اس تو پھر اس کے معنی ہیں جھگڑنا اور چھیننا شامل نہیں بلکہ اس کا معنی ہے ایک دوسرے کی طرف شراب کا جام بڑھانا۔
غذائی ضرورت پوری کرنے اور تفکہات کے بعد مجلسی خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے مجلس کے لیے چند لوازم کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر طرح کی مجلس کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ شرفاء کی مجلسیں عام طور پر ٹھنڈے یا گرم مشروب سے پررونق ہوتی ہیں۔ اور آوارہ منش لوگوں کی مجلسیں شراب سے اپنی خوشیوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ جنت چونکہ خوشیوں کی تکمیل کی جگہ ہے اس لیے وہاں شراب تو ضرور پیش کی جائے گی، لیکن جو چیز اسے شرفاء کے استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتی وہ اس سے نکال دی جائے گی۔
اہلِ جنت کا حال یہ ہوگا کہ وہ خوشیوں کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی طرف شراب کے جام بڑھائیں گے۔ ہر شخص چھینا جھپٹی کرنے کی بجائے دوسرے کو جام پیش کرے گا۔ اور پھر یہ لوگ شراب پینے کے بعد شراب کے اثرات سے بالکل محفوظ رہیں گے۔ نہ کسی کی عقل پر نشہ غالب آئے گا، نہ کسی قسم کی شراب انسان میں بداخلاقی پیدا کرے گی۔ ہر طرح کی لغویت اور ہر طرح کا گناہ ان لوگوں سے دور رہے گا۔ اور دنیا کی شراب کے یہ دو ہی اثر ہیں کہ وہ آدمی کے حواس پر غالب آکر اسے حشرات الارض کی طرح زمین پر پھینک دیتی ہے۔ اور یا اس کی عقل پر غالب آکر اس کی زبان کو بےباک اور ضمیر کو بےنقاب کردیتی ہے۔ اور دنیا کے شرابی حیرت ہے کہ ان چیزوں پر فخر کرتے ہیں۔ جو شخص کسی حد تک ان چیزوں سے محفوظ رہتا ہے یہ لوگ اسے بادہ خوار نہیں سمجھتے۔ کہنے والے نے اسی لیے کہا :
یہ خاک پینا ہے کہ دو گھونٹ پیئے اور سو رہے
جو پی کے تھا نے نہ پہنچے وہ بادہ خوار نہیں
لیکن جنت کی شراب ان تمام آلائشوں سے بالکل پاک ہوگی۔ اس سے آدمی نہ کسی لغوگوئی میں مبتلا ہوگا اور نہ کسی بےحیائی کا ارتکاب کرے گا۔
Ayah 52:24وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوْنٌ۔ (الطور : 24)
(اور دوڑتے پھر رہے ہوں گے ان کی خدمت میں ایسے لڑکے جو ان کے لیے ہوں گے، گویا کہ وہ چھپا کر رکھے گئے موتی ہیں۔ )
مجلسی زندگی اور خدمت کے امور کے لیے ہر وقت ایسے نوعمر لڑکے مستعد اور سرگرم رہیں گے جو اپنے پاکیزہ حسن و جمال کی وجہ سے ایسے لگیں گے جیسے صدف سے نکلے ہوئے موتی ہیں۔ کسی چیز کو بھی غایت درجہ نفاست اور نزاکت کے لیے موتی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ لیکن موتی کی آب و تاب اسی صورت میں جوبن پر رہتی ہے جب اسے بیرونی آب و ہوا کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ کیونکہ خوبصورت چیز کا خاصا ہوتا ہے :
کہ ہوا بھی چھو جائے تو رنگ ہو میلا
لیکن ان کے رنگ و روپ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوگا کہ یہ ابھی سپیوں سے نکالے گئے موتی ہیں جو اہل جنت کی خدمت کے لیے نکالے گئے ہیں۔ غِلْمَانٌ کے ساتھ لَہُمُ کا استعمال شاید یہ بتانے کے لیے ہے کہ یہ خوبصورت بچے اہل جنت کی خدمت ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
Ayah 52:25وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (الطور : 25)
(یہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے دیافتِ حال کرتے ہوئے۔ )
اہلِ جنت کی بےتلف مجلس آرائی
اہلِ جنت جب جنت میں باہم مجلس آرائی کریں گے تو چونکہ ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے اخلاص ہوگا اور کسی کو کسی سے گزند پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوگا اس لیے نہایت محبت اور پیار سے ایک دوسرے کے احوال معلوم کریں گے اور پھر اسی سلسلے میں دنیا میں گزری ہوئی زندگی کے حالات کے بارے میں بھی سوال کریں گے۔ اور خود جن کٹھن راہوں سے گزرے ہوں گے ان کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے بھی معلوم کرنا چاہیں گے کہ کیا ان کو بھی ایسی دشواریاں پیش آئیں یا نہیں۔ اور اسی سلسلے میں اہل خانہ بھی زیربحث آئیں گے اور ایک دوسرے کی اولاد سے متعلق جاننے کی خواہش پیدا ہوگی۔
Ayah 52:26قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَھْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۔ (الطور : 26)
(یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ )
اہلِ جنت کے احساس کی سلامتی
اہلِ جنت ایک دوسرے کو بتائیں گے کہ ہمیں زندگی میں جس طرح اپنی فکر رہی کہ کوئی کام ایسا ہم سے سرزد نہ ہونے پائے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اور اپنی ہمت کے مطابق ہم نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کی کوشش کی۔ اسی طرح ہم اپنے بچوں کی تربیت میں بھی اسی تصور سے گراں بار رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے اور قیامت کے دن اس حوالے سے بازپرس ہونے والی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی کوتاہی کا شکار ہوں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی پریشان رکھتی تھی کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس میں ہر شخص دنیا طلبی کا شکار ہے۔ دولت کی ہوس ایک ضرورت بن کر رہ گئی ہے۔ ہر شخص اپنی اولاد کی دنیا بنانے کی فکر میں ہے اور اسی حوالے سے ان کے مستقبل کی فکر رکھتا ہے۔ اگر ہم نے بھی ایسا ہی کیا تو ہمارے بچے دنیا کو اہمیت دیں گے اور دین ان کی نگاہوں میں قدروقیمت کھو دے گا۔ اس لیے ہم نے جہاں بچوں کی دنیا بنانے کی کوشش کی وہیں ان کے دین کے لیے زیادہ فکرمندی اور دلسوزی کے ساتھ سرگرمِ عمل رہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ آج ہمارے ساتھ جنت میں ہماری اولاد بھی موجود ہے۔ اگر ہم نے ان کی تربیت اس احساس کے ساتھ نہ کی ہوتی تو آج ہمیں شدید پریشانی کا سامنا ہوتا۔
Ayah 52:27فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقٰـنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ ۔ (الطور : 27)
(تو اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدر افزائی
ہمارے اسی احساس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کرم فرمایا۔ ہمیں بھی نیکی کی توفیق دی اور ہمارے بچوں کو بھی۔ اور مزید یہ احسان یہ فرمایا کہ ہمیں نہ صرف جنت عطا فرمائی اور جہنم سے بچایا بلکہ جہنم کی بادسموم سے بھی ہمیں محفوظ رکھا۔ عرب میں بادسموم ایسی گرم ہوا کو کہتے تھے جس کے چلنے سے بعض دفعہ ناک سے خون جاری ہوجاتا تھا اور آدمی یوں محسوس کرتا تھا جیسے اس پر آگ کے تھپڑے پڑ رہے ہوں۔ اور جہاں تک دوزخ کی بادسموم کا تعلق ہے اس کی لو کی لپٹوں کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہے کہ جہنم تو ایک ناقابلِ برداشت جگہ ہے لیکن اس نے ہمیں اس سے اٹھنے والی گرم ہوا کی جلن سے بھی محفوظ رکھا۔
Ayah 52:28اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْہُ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْبَرُّالرَّحِیْمُ ۔ (الطور : 28)
(ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے تھے، بیشک وہ بڑا ہی باوفا اور رحیم ہے۔ )
تمام کامیابیوں کی کلید
ہمیں چونکہ ہمیشہ اپنی اور اپنی اولاد کی فکر دامن گیر رہی اور ہم نے دنیا کو بھی دین کا ذریعہ بنایا۔ دنیا کو ایک ضرورت سمجھا اور دین کو مقصدحیات ٹھہرایا۔ اسی احساس کے تحت ہم نے ہمیشہ اپنے رب کو پکارا۔ اس راہ میں جو بھی مشکل پیش آئی اسی سے مدد مانگی۔ اور ہر چیز کی رہنمائی کے لیے اسی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اس کی طرف سے ہم پر انعامات اور نعمتوں کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس نے دنیا میں اپنے رسول اور کتاب کے ذریعے اپنے بندوں سے جو وعدے کیے تھے انھیں نہ صرف پورا کیا کیونکہ وہ ” بر “ ہے بلکہ اس پر مزید کرم فرمایا اور ہماری کمزوریوں سے درگزر کرتے ہوئے اپنے بیش از بیش افضال سے نوازا۔ کیونکہ وہ رحیم ہے۔
Ayah 52:29فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاھِنٍ وَّلاَ مَجْنُوْنٍ ۔ (الطور : 29)
(پس اے پیغمبر ! آپ نصیحت کرتے رہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ )
مخالفین کی یا وہ گوئی پر آنحضرت ﷺ کو تسلی
آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے جواب میں مخالفین نے جو رویہ اختیار کر رکھا تھا اور خاص طور پر آخرت کے حوالے سے وہ جس طرح مختلف اعتراضات اٹھا رہے تھے ان کا جواب دینے اور آخرت کی تصویر پیش کرنے کے بعد اب کلام کا رخ مخالفین کی ان ہٹ دھرمیوں اور زبان درازیوں کی طرف پھر گیا ہے جس کا اظہار وہ مختلف صورتوں میں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کی یا وہ گوئی سے دل گرفتہ نہ ہوں بلکہ جس عظیم کام کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہیں۔ اقرار کی صورت میں تبشیر سے کام لیں اور انکار کی صورت میں انذار سے۔ اس طرح سے انھیں اس عظیم کام کی یاد دہانی جاری رکھیں۔ رہی یہ بات کہ وہ آپ کے بارے میں جس طرح کی بدزبانیاں کرتے ہیں وہ صرف ان کی بےبسی اور کمزوری کے ثبوت کے سوا اور کچھ نہیں۔ جب ایک شخص دلیل کے میدان میں ناکام ہوجاتا ہے اور صداقت کے جواب میں اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہتا تو وہ دلیل دینے والے اور صداقت کی طرف دعوت دینے والے کی شخصیت کو نشانہ بناتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف سے بدگمان ہو کر اس کی دعوت سے متأثر نہ ہونے پائیں۔ قریش مکہ اور دیگر مخالفین بھی یہی کچھ کررہے تھے۔ آنحضرت ﷺ جب انھیں قرآن پاک پڑھ کر سناتے اور یہ بھی بتاتے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو فرشتے کے واسطے سے مجھ پر نازل ہوا ہے۔ تو وہ بجائے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا جواب دینے اور اس کے پیش کردہ نظام زندگی پر بحث کرنے کے آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن کہتے اور کبھی آپ کو مجنون ٹھہراتے۔
کاہن کا مفہوم اور آنحضرت ﷺ پر اس الزام کا جواب
کاہن عربی زبان میں جوتشی اور غیب جاننے کا دعویٰ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ دورِجاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا جس کو بعض لوگ دنیا طلبی کے لیے اختیار کرتے تھے۔ وہ لوگوں کے ضعفِ اعتقاد سے فائدہ اٹھاتے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی برتری کا رعب بٹھانے کے لیے کبھی ستارہ شناس ہونے کا دعویٰ کرتے اور کبھی ارواح اور شیاطین اور جنوں سے اپنے تعلق کا صور پھونکتے۔ اور لوگوں کے مختلف سوالوں کے جواب میں مسجع اور مقفع عبارت بولتے اور گول مول باتیں کرتے۔ مخصوص قسم کی وضع قطع بنائے رکھتے۔ لیکن ان تمام شعبدہ بازیوں اور عیاریوں سے طلب دنیا کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہوتا۔ یہ کاہن کا وہ تعارف ہے جس سے اس زمانے کا کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا۔ سوال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اس تعارف کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے کاہن قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔ آپ کی زبان سے حکمت و معرفت کا چشمہ ابلتا ہے، راست بازی اور حق گوئی آپ کی علامت ہے، روح القدس آپ پر اترتے ہیں، آپ لوگوں کے دل و دماغ کی تطہیر کرتے اور ان کے اعمال میں پاکیزگی پیدا کرتے ہیں، آپ کی وضع قطع ایک عام آدمی جیسی ہے لیکن آپ کا حُسنِ کردار اور آپ کی فکری برتری اپنا لوہا منوائے بغیر نہیں رہتی۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ورنہ جس ماحول میں آپ نے تربیت پائی اس میں ایسی باتوں کا تصور تک موجود نہ تھا۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے اور آپ کا اتباع کرتے ہیں وہ اپنے سیرت و کردار اور بول چال تک میں اپنے دور سے یکسر مختلف ہوجاتے ہیں۔ ان کے کردار کی بلندی اپنی غربت کے باوجود بھی چھپی نہیں رہتی۔ مخالفین بھی جانتے ہیں کہ آپ کا کہانت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور کاہنوں جیسی وضع قطع اور سیرت و کردار سے آپ کا دور کا رشتہ بھی نہیں۔
آپ ﷺ پر مجنون کے الزام کی حقیقت
اسی طرح کفارِمکہ کا آپ کو مجنون قرار دینا ایک الزام کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ الزام لگانے والے بھی جانتے ہیں کہ آپ جس بات کی دعوت دیتے اور لوگوں سے جس طرح حُسنِ سلوک سے پیش آتے اور اللہ تعالیٰ کا جو کلام پڑھ کر سناتے اور اپنے پاس آنے والوں کی جس طرح تربیت کرتے ہیں ان میں سے ایک ایک بات ایسی ہے جس پر عقل و دانش ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ اس میں جنون والی بات کون سی ہے۔ رہی یہ بات کہ جب وحی آپ پر اترتی ہے تو آپ وحی کے جلال سے خاموش ہوجاتے، سر جھکا لیتے اور اس وقت تک دم بخود رہتے ہیں جب تک وحی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا۔ تو یہ تو آپ کی صداقت کی دلیل ہے نہ کہ آپ کے مجنون ہونے کی۔ لیکن جب کوئی شخص دشمنی کا ادھار کھا لیتا ہے اور وہ مخالفت میں شرم و حیاء کا ہر پردہ چاک کردیتا ہے تو وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے الزامات سے داعی حق کا راستہ روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح موجودہ زمانے میں بعض بےشرم مغربی مصنفین اسلام کیخلاف اپنے بغض کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معاذاللہ حضور ﷺ پر صرع یعنی مرگی کے دورے پڑتے تھے اور ان ہی دوروں میں جو کچھ آپ کی زبان سے نکلتا تھا لوگ اسے وحی سمجھ کر قبول کرلیتے تھے۔ اسی طرح مشرکینِ مکہ بھی آنحضرت ﷺ پر مجنون ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ لیکن جو شخص بھی آپ کے لائے ہوئے دین اور آپ کی قیادت اور رہنمائی کے حیرت انگیز کارناموں پر غور کرے گا وہ ان الزامات کی حقیقت کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
Ayahs 52:30–31اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّـتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔ (الطور : 30، 31)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ ان سے کہئے تم انتظار میں رہو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ )
آپ ﷺ پر شاعر ہونے کا الزام اور اس کی حقیقت
قریشِ مکہ اور دیگر مخالفین کا دوسرا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ نے جو نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے یہ محض ایک فریب ہے۔ اور جس کلام کو وہ پیش کرتا ہے وہ اس کا اپنا بنایا ہوا یا کسی کا بنایا ہوا کلام ہے جسے اللہ تعالیٰ کا کلام کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ رہی اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کی اثرآفرینی تو وہ کوئی ایسی چیز نہیں، ہمارے یہاں کتنے شعراء ایسے گزرے ہیں جن کے اشعار قلوب کی دنیا میں ہلچل مچا دیتے تھے۔ یہ شخص بھی ایک بلند پایہ شاعر معلوم ہوتا ہے جس کے کلام کی تاثیر بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ اور ساتھ ہی وہ یہ بات بھی کہتے تھے کہ اس شخص نے چونکہ ہمارے خدائوں کی توہین اور ہمارے دیوتائوں کی مذمت کی ہے اس لیے ہمیں قوی امید ہے کہ ان کی مار اس پر پڑے گی۔ اور یہ گردش روزگار کا شکار ہوجائے گا۔ اور جس طرح پہلے شعراء کا کلام اپنی تمام خوبیوں کے باوجود خواب و خیال ہو کے رہ گیا ہے اس کا دعویٰ اور اس کا کلام بھی ایسے ہی مٹ کے رہ جائے گا۔ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے کہئے کہ تم میرے لیے جس طرح گردش ایام کے منتظر ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ میں اس کا شکار ہو کر ختم ہوجاؤں گا تو میں بھی تمہاری طرح انتظار کررہا ہوں کہ تمہارا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وعیدوں کے مطابق عذاب کا باعث بنے گا اور مجھے اللہ تعالیٰ ایک نہ ایک دن ایسی برتری اور غلبہ عطا فرمائے گا کہ ہر طرف اللہ تعالیٰ کے دین کا پھریرا لہرائے گا۔
Ayah 52:32اَمْ تَاْمُرُھُمْ اَحْلاَ مُھُمْ بِھٰذَٓا اَمْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۔ (الطور : 32)
(کیا ان کی عقلیں انھیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ۔ )
مخالفین کی مخالفت کی حقیقت
اس آیت کریمہ میں نہایت منطقی انداز میں مخالفین کی تمام باتوں کا پول کھول دیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین اشرافِ قریش ہوں یا دوسرے لوگ، یہ سب اپنے تئیں عقل کل ہونے کے دعویدار ہیں۔ اور ان کے نزدیک ان کی ہر بات عقل کے ترازو میں تل کے نکلتی ہے۔ سوا یہ ہے کہ تم جس عظیم شخصیت پر کبھی کاہن اور مجنون ہونے کا الزام لگاتے ہو اور کبھی اسے شاعر قرار دے کر اس کی دعوت کو بےوزن کرنے کی کوشش کرتے ہو جبکہ وہ عظیم شخصیت تمہارے لیے اجنبی نہیں۔ مکہ کا ہر قابل ذکر آدمی اسے جانتا اور پہچانتا ہے۔ تم میں سے ہر شخص اس سے بھی اور اس کے خاندان سے بھی اچھی طرح شناسا ہے۔ اور یہ بات بھی تمہیں تسلیم ہے کہ مکہ کے فاسد اور مخرب اخلاق ماحول میں اس کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں جو اس ماحول کے اثرات سے متأثر نہ ہوا ہو۔ تم اس کے کردار کی بلندی، اس کی دیانت و امانت کی پاکیزگی اور اس کی خدا ترسی اور دلسوزی کو پوری طرح تسلیم کرتے ہو۔ اور تم نے نبوت سے پہلے تک اسے الامین اور الصادق کہہ کر پکارا۔ اور تم نے ہمیشہ اسے عقل و دانش کا اعلیٰ ترین نمونہ سمجھا۔ لیکن اب یک لخت اسے مجنون قرار دینا یا کاہن بتلانا جو کہ کردار کے نہایت گرے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور شاعر قرار دینا کیا تمہاری عقل تمہیں اسی بات کا مشورہ دیتی ہے۔ اور اگر تمہاری عقل کے فیصلے ایسے ہی ہیں تو پھر بےعقلی کس کو کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تم عقل سے ایسے گئے گزرے نہیں ہو کہ ایسی معمولی باتیں بھی نہ سمجھ سکو۔ درحقیقت تم لوگ نہایت سرکش اور اخلاقی حدود کو پامال کرنے والے ہو۔ دشمنی اور عناد نے تم کو ایسا اندھا کیا ہے کہ اس عظیم ذات پر بےسروپا الزامات لگانے سے تمہیں تمہاری عقل نہیں روکتی۔ تمہاری اسی سرکشی نے تمہیں یہ راستہ دکھایا ہے اور اسی وجہ سے تم یہ سخن سازیاں کررہے ہو۔
Ayahs 52:33–34اَمْ یَقُوْلَوْنَ تَقَوَّلَـہٗ ج بَلْ لاَّیُؤْمِنُوْنَ ۔ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِـہٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ ۔ (الطور : 33، 34)
(کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ پس یہ اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں اگر یہ اپنے قول میں سچے ہیں۔ )
قرآن کے حوالے سے آپ ﷺ پر ایک اور اعتراض اور اس کا جواب
قریش کے ایک اور الزام کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ پر لگاتے تھے اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ اس قرآن کریم کو آپ نے خود گھڑ لیا ہے۔ تَقَوَّلَ کا معنی ہوتا ہے کسی بات کو خود گھڑ کر دوسرے پر اس کا الزام لگانا۔ اسی بات کو قرآن کریم نے افترا کے لفظ بھی ادا کیا ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ جو کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب کہہ کر پیش کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ نہیں بلکہ و ان کا اپنا طبع زاد ہے جسے وہ خود اپنی محنت اور ذہانت سے بناتے ہیں۔ لیکن لوگوں پر رعب اور دھونس جمانے کے لیے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مخالفین بھی جانتے ہیں کہ اس الزام کی حقیقت کیا ہے کیونکہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے اپنے ارشادات کی زبان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ لیکن وہ اس طرح الزامات لگا کر درحقیقت قرآن کریم کی اثرآفرینی اور اس کے بینظیر ہونے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ ساری حرکتیں اصل میں جس مقصد کی غماز ہیں وہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ یہاں فعل ارادہ فعل کے معنی میں معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ دوسری آیت میں ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کے الزام لگانے سے تمہارے عزائم کچھ بھی ہوں لیکن اگر تم ان میں سنجیدہ ہو تو پھر تمہارے لیے ضروری ہے کہ اس قرآن جیسی یعنی اس شان اور مرتبے کی کتاب تیار کرکے پیش کرو۔ تمہارے پاس تمہارے اپنے خطیبوں اور شاعروں کا ادبی سرمایہ ہوگا۔ ان کے پرانے ذخائر میں سے اس پایہ کی کوئی چیز تلاش کرکے پیش کرو۔ اور یا خود سر جوڑ کر بیٹھو اور کوئی ایسی چیز تیار کرکے لائو جسے تمہارے اپنے ملک کے کلام کے تیورشناس اور ادب کے ماہرین تسلیم کریں کہ یہ واقعی ویسی ہی چیز ہے جیسا قرآن کریم ہے۔ تو پھر یہ بات سمجھ لی جائے گی کہ تم واقعی اپنی بات میں سچے ہو۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو پھر یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ تمہارا ارادہ اس طرح کی باتوں سے صرف یہ ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لانا چاہتے۔
قرآن کریم نے اس طرح کا چیلنج مختلف وقتوں میں قریش کو اور آنے والی دنیا کو بھی دیا ہے۔ لیکن آج تک کوئی اس چیلنج کو قبول نہ کرسکا۔ اس کی وجہ کیا ہے اور قرآن کریم میں اعجاز کی ایسی آخر کیا باتیں ہیں جس نے ساری نوع انسانی کو اس کے مقابلے سے عاجز کر رکھا ہے۔ ہم اس سلسلے میں سورة البقرۃ کے تیسرے رکوع میں اپنی گزارشات پیش کرچکے ہیں اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayahs 52:35–36اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْ ئٍ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ ۔ (الطور : 35، 36)
(کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔ )
مخالفین سے چند سوالات
قریش اور دیگر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد مخالفین سے چند سوالات کیے گئے کہ اگر وہ آخرت کے منکر ہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر وہ یہ بتائیں کہ وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بات بھی بتائیں کہ کیا آسمان اور زمین کو انھوں نے پیدا کیا ہے۔ یہ درحقیقت مخاطب کے مُسلّمات سے استدلال کرنے کی ایک صورت ہے۔ کیونکہ مشرکینِ عرب اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق ہے۔ اسی نے ہمارے آبائواجداد کو پیدا کیا ہے۔ آسمان اور زمین اسی کی صفت تخلیق کا نتیجہ ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جب وہ اپنا اور آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں تو اس کے عذاب اور اس کے روز جزاء و سزا کو بعیداز امکان کیوں سمجھتے ہیں۔ کیا ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ پیدا کرنے کے بعد اپنی قوت تخلیق کھو بیٹھا ہے اور اب دوباروہ پیدا کرنے کی اس میں قدرت نہیں۔ اگر واقعی یہ بات ہے تو یہ تو ایک کھلی ہوئی حماقت ہے کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہو وہ دوسری بار پیدا کرنے سے عاجز کیسے ہوسکتا ہے۔
اور اگر واقعی وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو پھر انھیں قیامت اور آخرت کے آنے سے انکار کیوں ہے ؟ اور اگر یہ ساری نعمتیں اسی نے عطا کی ہیں اور اسی کی ربوبیت ہے جو ہر مخلوق کو پال رہی ہے، پھر کیا یہ بات ممکن ہے کہ وہ ان کو یونہی چھوڑے رکھے اور کسی دن ان سے یہ نہ پوچھے کہ اس نے ان کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا تھا اس کو انھوں نے پورا کیا یا نہیں۔
اسی طرح وہ اس بات کا بھی جواب دیں کہ جس زمین پر وہ رہ رہے ہیں اور آسمان کی جو چھت ان کے سروں پر تنی ہوئی ہے اور جن کی گوناگوں نعمتوں سے وہ متمتع ہورہے ہیں اور وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے تو کیا اس سے یہ بات ذہن میں نہیں ابھرتی کہ جس نے زمین و آسمان کا یہ گھر سجایا ہے اور انسانوں کو اس کا مکین بنایا ہے کیا اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے بنائے ہوئے گھر کے مکینوں سے ان کے رویئے سے متعلق کبھی بازپرس کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ اگرچہ اپنا، اپنے آبائواجداد کا اور زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن انھیں اس کا یقین نہیں۔ کیونکہ اگر وہ یقین کے ساتھ ان باتوں کو مانتے تو جو باتیں خودبخود اس اقرار و اعتراف سے نکلتی ہیں ان کا انکار کبھی نہ کرتے۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ وہ جن حقائق کے ماننے کا اقرار کرتے ہیں ان پر وہ یقین نہیں رکھتے۔ کیونکہ یقین ہی وہ قوت ہے جو انسان کے اندر قوت عمل پیدا کرتی ہے اور ہر اس بات کو ماننے پر آمادہ کرتی ہے جو اس یقین کا لازمی نتیجہ ہوتی ہے۔ لیکن ان کا حال تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی بہت سارے دیوتائوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اور اپنے دیوتائوں کے متعلق ان کا گمان یہ ہے کہ اگر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کا وقت آیا تو ہمارے دیوتا ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کے ذریعے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس طرح کے کمزور سہارے درحقیقت وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جنھیں اپنے اعتقادات پر یقین نہیں ہوتا۔ اپنے ضمیر کو سلانے کے لیے بعض حقائق کو تسلیم کرلیتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے فرار کے راستے بھی تلاش کرلیے جاتے ہیں۔