Ayahs 51:1–4وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا۔ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ (الذریٰت : 1 تا 4)
(قسم ہے ان ہَوائوں کی جو گرد اڑانے والی ہیں۔ پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں۔ پھر سبک رفتاری سے چلنے والی ہیں۔ پھر ایک بڑے کام کی تقسیم کرنے والی ہیں۔ )
قسم اور جوابِ قسم کی وضاحت
ہم متعدد مواقع پر اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ” وائو “ قسم کے لیے بھی آتا ہے اور ان آیات میں ” وائو “ قسم کے لیے آیا ہے۔ جس لفظ پر یہ ” وائو “ داخل ہوتا ہے اسے قسم کہا جاتا ہے۔ گویا وہ ایک طرح کی دلیل اور ایک طرح کی شہادت ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے اور اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ انسانوں کی تقریر و تحریر کے اسلوب کے بالکل برعکس ایسی صورت میں دلیل پہلے پیش کی جاتی ہے اور دعویٰ بعد میں ذکر کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے اسلوب میں دعویٰ پہلے ہوتا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے دلیل پیش کی جاتی ہے۔ یہ چار آیتیں درحقیقت چار قسمیں ہیں اور یہ چاروں قسمیں ہَوائوں کی صفات ہیں۔ یہاں اگرچہ ہَوائوں کا ذکر نہیں لیکن یہ الفاظ ہَوائوں کی صفت کے طور پر معروف ہوچکے ہیں۔ اس لیے کم از کم پہلی دونوں آیتوں میں کسی مفسر کو ان کا ہَوائوں کی صفت ہونے میں کوئی اشکال نہیں۔
پہلی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قسم ہے ان ہَوائوں کی جو غبار اڑانے والی ہیں۔ گویا ذّٰرِیٰتِ غبار اڑانے والی ہَوائوں کو کہتے ہیں۔ اور ذَرْوًا یہاں تاکید کے لیے ہے۔ اور دوسری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بوجھ اٹھانے والی ہیں اور مراد اس سے بھی ہَوائیں ہیں۔ وِقْرً بوجھ اور بار کو کہتے ہیں۔ اور یہ بوجھ غبار اور کنکروں کا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا معروف استعمال بادلوں کے لیے ہے۔ ان دونوں آیتوں سے تمام مفسرین نے ہَوائیں ہی مراد لیا ہے۔ البتہ اگلی دو آیتوں میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا سے کشتیاں مراد لی ہیں جو سبک رفتاری سے چلتی ہیں۔ اور فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی مخلوقات کی نصیب کی چیزیں ان میں تقسیم کرتے ہیں۔ اور ایک روایت میں اس تفسیر کو حضرت عمر ( رض) کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اور ان کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اگر میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔ اس بناء پر علامہ آلوسی نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس آیت سے کوئی اور بات مراد لینا جائز نہیں ہے۔ اور جن لوگوں نے کوئی اور مفہوم مراد لیا ہے انھوں نے بیجا جسارت کی ہے۔ لیکن حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس وجہ سے قطعیت کے ساتھ اس بات کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد صحابہ وتابعین نے ان دونوں آیتوں سے بھی ہَوائیں مراد لی ہے۔ اور بعض ماہرینِ لغت کا یہ خیال ہے کہ جب صفات کا عطف ” فا “ کے ساتھ ہوتا ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ ان کے اندر ترتیب ہے۔ اور دوسری اس بات پر کہ یہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف کی ہیں۔ ان چاروں آیتوں میں ” فا “ کے ساتھ عطف کیا گیا ہے۔ اس لیے ان کا موصوف الگ الگ نہیں ہوسکتا۔ جب پہلی دونوں آیتوں میں موصوف ہَوائوں کو بنایا گیا ہے تو دوسری دونوں آیتوں میں بھی ہَوائیں ہی ان صفات کا موصوف ہوں گی۔ قرآن پاک میں اس کے متعدد شواہد موجود ہیں جن میں سورة عادیات کی ابتدائی پانچ آیات بھی ہیں۔
Ayahs 51:5–6اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ (الذریٰت : 5، 6)
(جس چیز کی تمہیں وعید سنائی جارہی ہے وہ سچ ہے۔ اور جزاء و سزا بیشک واقع ہو کے رہے گی۔ )
قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ
یہ اس سے پہلے بیان کردہ قسموں کا جوابِ قسم ہے۔ ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسمیں اس کے لیے دلائل کا کام دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دو باتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ جس عذاب سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لائو گے اور راہ راست اختیار نہیں کرو گے تو اندیشہ ہے کہ تم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ جس طرح تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں اس سے پہلے کئی قوموں پر عذاب نازل ہوچکے ہیں۔ اور دوسری یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جزاء و سزا واقع ہو کے رہے گی۔ یعنی وہ دن ضرور آئے گا جب اللہ تعالیٰ ہر شخص سے ایمان و عمل کا حساب لیں گے اور اس کے نتیجہ میں ہر آدمی جزاء و سزا سے گزرے گا۔ نیک اعمال کی جزاء ملے گی اور برے اعمال کی سزا ملے گی۔ ان دو باتوں کو دعوے کے طور پر پیش کرنے کے بعد چار قسموں یعنی چار دلائل سے انھیں ثابت کیا گیا ہے۔ اور یہ چار قسمیں درحقیقت ہَوائوں کی مختلف صفات ہیں جو بارش کے عمل کو مصور کرتی ہیں کہ سب سے پہلے تیز ہَوائیں ان بادلوں کو اٹھا کے لاتی ہیں جن میں ہزاروں گیلن پانی بھرا ہوا ہوتا ہے جو مختلف ذخائرِآب سے سورج کی گرمی کی وجہ سے بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور ہَوائیں ان کو بادلوں کی شکل دے کر فضاء میں جما دیتی ہیں۔ اور پھر جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے تو یہ نہایت وزنی بادل ہَوائیں اپنے دوش پر اٹھا کر وہاں پہنچاتی ہیں جہاں انھیں برسانا مقصود ہوتا ہے۔ اور عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہَوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادتوں کو ہانک ہانک کر لاتی ہیں۔ اور جب بارش برسنے لگتی ہے تو پھر ہَوائوں کی رفتار نرم ہوجاتی ہے۔ اب وہ نہایت سبک رفتاری سے چلنے لگتی ہیں۔ اور یہ ہَوائیں اپنے رب کے حکم کے مطابق بارش کے پانی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی جس علاقے کے لیے جتنا پانی برسانے کا حکم ہوتا ہے اتنا برسا دیتی ہیں بعض کو جل تھل کردیتی ہیں، بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان ہی بادلوں کے ذریعے کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہی ہَوائیں طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور پورے علاقے کو تلپٹ کرکے رکھ دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں یہ ہَوائیں بشارت کی صورت اختیار کرتی ہیں اور بادل ابررحمت بن جاتا ہے۔ اور کسی قوم کے لیے طوفان بن کر تباہی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس پورے منظر کو سامنے لا کر پھر یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جارہا ہے وہ کوئی غلط بات نہیں وہ نہایت سچی ہے۔ اور تمہیں جس قیامت کی خبر دی جارہی ہے اور اعمال کی جزاء و سزا سے تمہیں آگاہ کیا جارہا ہے وہ بھی کوئی انہونی بات نہیں ایک نہ ایک دن ہو کے رہے گی۔ تمہیں عذاب کے نازل ہونے اور قیامت کے آنے میں ایسے شبہات لاحق ہیں کہ تم انھیں بعیداز عقل سمجھتے ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جس بینظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ جاری وساری ہے اور جو حکمتیں اور مصلحتیں اس میں صریح طور پر کارفرما نظر آتی ہیں کیا وہ اس بات پر گواہی نہیں دے رہیں کہ یہ دنیا کوئی بےمقصد اور بےمعنی گھروندا نہیں ہے جس میں لاکھوں کروڑوں برس سے ایک بہت بڑا کھیل بس یونہی الل ٹپ ہوئے جارہا ہے بلکہ یہ درحقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہورہا ہے۔ تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان جو اس نظام کے تحت جی رہا ہے جسے قدرت نے عقل و شعور، تمیز اور تصرف کے اختیارات بھی دے رکھے ہیں۔ اور اس میں نیکی اور بدی کی اخلاقی حس بھی پیدا کررکھی ہے، اسے یونہی چھوڑ دیا جائے اور کبھی اس سے بازپرس نہ کی جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے رسول اسے سمجھانے کے لیے تشریف لائیں تو وہ ان کی تمام تر مساعی کو ناکام کرنے پر تل جائے۔ تو کبھی ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی گرفت نازل نہ ہو۔
اسی طرح ہَوائوں کی قوت کو دیکھ کر جو کبھی انسانوں کے لیے رحمت کا باعث بن کر آتی ہیں اور زمین ان کے لیے سونا اگلنے لگتی ہے اور کبھی وہ زحمت اور عذاب بن کر آتی ہیں تو زمین ان کے پائوں تلے سے کھسکنے لگتی ہے۔ تو کیا ان ہَوائوں کی طاقت اور قوت کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ جو ان ہَوائوں کا خالق ہے اور جس کے بیشمار لشکروں میں سے یہ ایک معمولی لشکر ہے اس کی اپنی طاقت اور قدرت کا کیا عالم ہوگا۔ اس کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ ہم پر عذاب نہیں لاسکتا اور ہماری خوشحالیوں کو بدحالیوں میں تبدیل نہیں کرسکتا اور یا یہ سمجھنا کہ وہ ایک دفعہ تو کائنات کو پیدا کرسکتا ہے لیکن دوبارہ اسے پیدا نہیں کرسکتا، کس قدر احمقانہ تصور ہے۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پانی کے مختلف ذخیروں سے جب بھاپ بن کر اٹھتی ہے تو نہ جانے پانی کے کتنے قطرے فضاء میں بکھر کر گم ہوجاتے ہیں اور پھر ہَوائیں ان ہی قطروں کو جمع کرکے بادلوں کی صورت میں جب کسی علاقے پر جا کر برساتی ہیں تو ہر قطرہ اپنی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ تو جس خالق کائنات کی قوت کا یہ عالم ہے کہ وہ پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتا اور پھر بھاپ کو پانی کی شکل میں برسا دیتا ہے اور یہ کام وہ اپنی ہَوائوں کے ذریعے سے ہزاروں سال سے کر رہا ہے اور ہمیں کبھی اس میں کوئی استبعاد نظر نہیں آتا۔ تو آخر قیامت کے وقوع میں ہمیں یہ استبعاد کیوں دکھائی دیتا ہے۔
Ayah 51:7وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْجُبُکِ ۔ (الذریٰت : 7)
(قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی۔ )
یہ بھی قسم ہے
حُبُکْ راستوں کو بھی کہتے ہیں اور ان لہروں کو بھی جو ہوا کے چلنے سے ریگستان کی ریت اور ٹھہرے ہوئے پانی میں پیدا ہوجاتی ہے۔ آیت کریمہ میں آسمان کو حُبُکْ والا قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رات کے وقت جب آسمان پر ستارے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں تو آدمی آسمان کی مختلف جگہوں میں مختلف شکلیں منعکس ہوتے ہوئے دیکھتا ہے جبکہ ہر شکل دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جس کی مختلف شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی شکل بھی ہمارے لیے حقیقت کا درجہ نہیں رکھتی۔ کیونکہ وہ ستاروں کے بکھرنے، ان کے پھیلنے اور پھر اس منظر کو ہماری گرفت میں پوری طرح نہ آنے کی وجہ سے ہمیں ایسی شکلیں نظر آتی ہیں جن کا باہمی ایک دوسرے سے کوئی ربط دکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے بعد اس کا جوابِ قسم ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 51:8اِنَّـکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ۔ (الذریٰت : 8)
(بےشک تم ایک دوسرے سے مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو۔ )
یہ جوابِ قسم ہے
یہ قسم کا جوابِ قسم ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ان مخالفین نے قیامت اور جزاء و سزا کے بارے میں جو مختلف خیالات بنا رکھے ہیں اور جو اس سلسلے میں مختلف باتیں ان کی طرف سے کہی جاتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ تضادفکر میں بھی مبتلا ہیں اور تضادقول میں بھی۔ کیونکہ یہ لوگ ایک ہی بات کے قائل نہیں تھے۔ کچھ لوگ تو ایسے تھے جو قیامت کے کھلے منکر تھے۔ اور کچھ لوگ تھے جنھیں قیامت کے اقرار و انکار میں تذبذب تھا۔ نہ صریح انکار کرتے نہ اور نہ صریح اقرار کرتے تھے، بلکہ اس کو مستبعداز عقل سمجھتے تھے۔ اور بہت سے لوگ ایسے تھے جو قیامت کو بعیداز امکان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن جزاء و سزا کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ جن لوگوں کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کر رکھا ہے اور جنھیں وہ اپنا شفیع سمجھتے ہیں وہ انھیں قیامت کے روز ہر طرح کی سزا سے بچا لیں گے۔ عربوں کے علاوہ باقی دنیا میں فکری تضاد کی اور بہت سی صورتیں تھیں لیکن عرب ان سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ اس لیے ان کے ان متضاد افکار اور ان پر مبنی متضاد اقوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے اقوال کی اگر کوئی علمی حیثیت ہوتی تو کوئی نہ کوئی ان کی سند ہوتی اور یہ اس پر اتفاق کرلیتے۔ لیکن ہر شخص کا قیاس و گمان کے نتیجے میں ایک مختلف بات کہنا ایسا ہی ہے جیسے آسمان کی طرف دیکھنے والے کو مختلف شکلیں دکھائی دیتی ہیں جن کی باہم کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 51:9یُّؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ ۔ (الذریٰت : 9)
(اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہے۔ )
اس آیت میں عَنْہُ کی ضمیر کا مرجع جزائے اعمال ہے۔ اس صورت میں اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر یہ لوگ اپنے فکری تضاد سے نکلیں اور صحیح رخ پر سوچنے کی عادت ڈالیں تو جزاء و سزا کا معاملہ بالکل سامنے کی بات ہے۔ لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ دی جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کردیئے جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص تضادفکر کا شکار ہوتا ہے اور ہر معاملے میں اس کی رائے ٹیڑھی ہوتی ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کو فکری سلامتی سے محروم کردیتا ہے۔ جس طرح سورة صف میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَلَمَّازَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ۔
Ayahs 51:10–11قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاھُوْنَ ۔ (الذریٰت : 10، 11)
(مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے۔ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں بالکل بیخبر ۔ )
قریش اور دیگر مشرکین کے انکارِ قیامت کے اسباب
قیامت کے بارے میں قریش اور دیگر مشرکین کے یکسو نہ ہونے اور اپنے غلط مزعومات پر اڑے رہنے کی تین وجہ بیان فرمائی گئی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ قیامت کا عقیدہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور انسانی زندگی میں اس عقیدے کی اہمیت کیا ہے۔ یہ کس قدر اہم سوال ہے کہ انسان موت آنے کے بعد کیا ہمیشہ کے لیے مرجاتا ہے جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی سوال نہیں، یا اسے واقعی کبھی نہ کبھی ایک نئی زندگی ملے گی اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی حاضری ہوگی۔ اور پھر یہ سوال کہ کیا انسان دنیا میں اس طرح بھیجا گیا ہے کہ وہ من مرضی کی زندگی گزارے اور اسے کبھی نہیں پوچھا جائے گا کہ تو نے زندگی کس طرح گزاری۔ حالانکہ اسے عقل سے نوازا گیا، تمیز کی دولت بخشی گئی، اس کے اندر نیکی اور بدی کی اخلاقی حس پیدا کی گئی۔ تو آخر ان صلاحیتوں کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اور یا واقعی کبھی ایسا دن آئے گا جب اللہ تعالیٰ ایک ایک عمل کا حساب لے گا اور جو اس نے بیش بہا نعمتیں عطا کر رکھی تھیں ان کے بارے میں جواب طلبی بھی کرے گا۔ یہ ایسے اہم سوال ہیں جن کے بارے میں صحیح رائے اختیار کرلینے سے انسانی زندگی صراط مستقیم پر قائم ہوجاتی ہے۔ اور غلط رائے اختیار کرنے سے انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ انسان نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک درندہ بن جاتا ہے۔ تو ایسے اہم سوال کو ظاہر ہے کہ اٹکل پچو اور قیاس و گمان پر تو نہیں چھوڑا جاسکتا کہ آدمی اپنے قیاس سے کام لے کر جو چاہے رائے اختیار کرلے اور ویسے بھی انسانی زندگی کے مختلف دائرے ہیں اور ہر دائرے کے احکام جدا ہیں۔ زندگی کا ایک دائرہ ایسا ہے جس میں قیاس و گمان مفید ہوتا ہے۔ آدمی بہت سے فیصلے اندازے سے کرتا ہے اور کچھ دائرے ایسے ہیں جس میں حواس اور عقل سے کام لیا جاتا ہے، تجربات رہنما ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تمام دوائر ایسے ہیں جن کا تعلق آدمی کے عالم طبیعی سے ہے۔ لیکن جن کا تعلق عالم اخلاق سے ہے یا عالم غیب سے وہاں انسان کے گمان اور قیاس کام نہیں دیتے۔ ایسے مواقع پر فیصلے کا ایک ہی صحیح طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو رہنمائی لے کر آئے ہیں انھیں قبول کرلیا جائے۔ البتہ اس پر اطمینان کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے گردوپیش کے حالات، آفاقی شہادتیں، انفس کے دلائل اور ضمیر کی آواز پر کان دھرے، تو اسے خود اندازہ ہوجائے گا کہ مجھے جو بات بتائی گئی ہے وہ کس حد تک صحیح ہے۔ لیکن ان لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے قیامت اور آخرت جیسے اہم معاملے کو جس پر انسان کے طرزعمل کا دارومدار ہے قیاس اور گمان کے حوالے کردیا ہے۔
اور دوسری خرابی ان میں یہ ہے کہ یہ لوگ خواہشِ نفس کے پیروکار ہیں۔ مقاصدِحیات سے بےبہرہ اور زندگی کے شعور سے نابلد ہیں۔ ہَوائے نفس اور خواہشات کی محبت ان کے پائوں کی ایسی زنجیر بن گئی ہے کہ اس سے ہٹ کر یہ کسی بات کو سوچنے پر قادر نہیں ہے۔ اور تیسری خرابی ان میں یہ ہے کہ خواہشِ نفس کی تعمیل میں ایسے ڈوب گئے ہیں کہ ایک نشہ باز کی طرح اپنی خواہشِ نفس کو ہی کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں۔ زندگی کے اہم حقائق سے بالکل بیخبر زندگی گزارتے ہیں۔
Ayahs 51:12–14یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ۔ ذُوْقُوْا فِتْنَتَـکُمْ ط ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 12 تا 14)
(پوچھتے ہیں جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟ جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ چکھو مزہ اپنے فتنے کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ )
سوال کی صورت میں تمسخر اور اس ذہنیت کے مطابق جواب
آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے سامنے جزائے اعمال کا ذکر کرتے، قیامت کا حوالہ دیتے اور بار بار انھیں اصلاحِ اعمال کی طرف توجہ دلاتے تو وہ بجائے آپ کی باتوں کو قبول کرنے کے تمسخر کے طور پر یہ کہتے کہ صاحب اتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ ہمیں قیامت سے ڈرا رہے ہیں۔ تو آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اگر اسے آنا ہوتا تو اب تک آچکی ہوتی۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ بات آپ کا مذاق اڑانے کے لیے کہتے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی سوقیانہ باتوں میں دوسرے بازاری لوگ بھی شامل ہوجاتے۔ اور اس طرح سے ایک نہایت سنجیدہ دعوت کا اثر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی۔ تو پروردگار نے ان کے اس طرزعمل کو سامنے رکھتے ہوئے جواب ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس دن یہ لوگ اپنے ان ہی کرتوتوں کے باعث جہنم میں جلائے جائیں گے۔ اور اس روز ان سے کہا جائے گا کہ تم کہا کرتے تھے کہ قیامت آ کیوں نہیں رہی، تو دیکھو جس قیامت کے بارے میں تم جلدی مچایا کرتے تھے آج وہ قیامت کا دن آچکا ہے اور تم اپنے کرتوتوں کے باعث جہنم میں تپائے اور جلائے جارہے ہو۔ اور تم نے دنیا میں اس سلسلے میں جو فتنے اٹھائے تھے یا اس فتنے کا جو نتیجہ ہوسکتا تھا تم آج اس میں گرفتار ہو۔ اور تمہیں اس سے کوئی نکالنے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 51:15اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ ۔ (الذریٰت : 15)
(بےشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ )
آخرت کے لیے تیاری کرنے والوں کا انجام
اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے انکار یا اس میں تذبذب کی وجہ سے جزاء و سزا سے بالکل لاپرواہ ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ تو آخر ان کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جہنم کے عذاب میں جلائے جائیں گے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جنھیں شریعت کی زبان میں متقی کہا جاتا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدودوقیود کے اندر زندگی گزارنے والے ہیں۔ لیکن سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے اور اس کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر یقین لاتے ہوئے آخرت کو مانا۔ اور زندگی کا ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اور ہر قدم اٹھانے سے پیشتر آخرت کی زندگی ان کے سامنے رہی اور وہ برابر سوچتے رہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جا کر اس کا کیا جواب دیں گے۔ اس احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کو یہاں متقی کہا گیا ہے کہ آخرت سے بےنیاز ہو کر زندگی گزارنے والے جہنم کے شعلوں میں جلیں گے اور آخرت کو ہمیشہ یاد رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہر عمل کرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ جنات اور عیون دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ آخرت کی نعمتوں کی جامع تعبیر ہیں۔ اور یہاں فِیْ لاکر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان کو اس فراوانی سے ملیں گی کہ وہ ایک طرح سے نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور ان کی آنکھوں کو اپنے گردوپیش میں نعمتوں کی بہار کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے گا۔
Ayah 51:16اٰخِذِیْنَ مَـآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 16)
(وہ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انھیں عطا فرما رہا ہوگا، بیشک وہ اس سے پہلے محسنین میں سے تھے۔ )
اہلِ جنت کی تصویر
اس آیت کریمہ میں اہل جنت کی تصویرکشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو بھی جنت عطا فرمائے گا۔ اس کو جنت میں وہ تمام نعمتیں ملیں گی جن کی وہ خواہش کرے گا۔ اگر وہ کسی ایسی بات کی خواہش کرے گا جو دنیا میں بظاہر ناممکن سمجھی جاتی ہے تو اس کی وہ خواہش بھی پوری کی جائے گی۔ لیکن اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے لیے جن نعمتوں کو ان کا حق بنا چکا ہے اور جو انھیں ہرحال میں ملیں گی اللہ تعالیٰ کے کرم کا حال یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بھی اہل جنت کو عطا کرے گا جن کا اہل جنت کے دل و دماغ میں بھی کوئی تصور نہ ہوگا، ان کی ہر مانگ اور ہر طلب اور ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اور ان پر مزید یہ کہ وہ نعمتیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عطا ہوں گی جو نہ کبھی انھوں نے مانگیں اور نہ کبھی ان کی خواہش کی۔ اور جب وہ نعمتیں ان کو دی جائیں گی تو اہل جنت کی خوشی دیدنی ہوگی۔ وہ لپک لپک کر آگے بڑھیں گے اور ہاتھ بڑھا بڑھا کر ان نعمتوں کو قبول کریں گے۔
متقین محسنین بھی تھے
مزید اس آیت میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس بےپایاں انعام کی وجہ یہ ہوگی کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا کی زندگی میں محسن بن کر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ محسن کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری میں صرف اپنی جان ہی نہیں لڑائی اور اپنی صلاحیتوں ہی کو نچھاور نہیں کیا بلکہ انھوں نے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کی جو اس کی بہتر سے بہتر صورت کہی جاسکتی ہے۔ اور احسان کی تعبیر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ انھیں یقین تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ نہیں تو کم از کم اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ ہی رہا ہے۔ اس طرح سے ان کے اعمال کے ظاہر کو باطن کی تائید بھی عطا فرما دی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہر کا جاننے والا ہی نہیں بلکہ وہ نیتوں، اعمال کے محرکات اور دلوں کے اندر کی حالت کو بھی جانتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ان کا تقویٰ محض ظاہردارانہ اور کاروباری نہیں تھا بلکہ ان کے اندر احسان کی روح بھی تھی جس سے اہل جنت کے اعمال کی خوبی اور دلوں کی پاکیزگی بیک وقت آشکارہ ہوجاتی ہے۔
Ayah 51:17کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ الَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ ۔ (الذریٰت : 17)
(وہ راتوں میں کم ہی سوتے تھے۔ )
تقویٰ اور احسان کی پہلی علامت
یہ ان کے تقویٰ اور احسان کی تعبیروں میں سے ایک تعبیر ہے کہ یہ لوگ شب و روز کے معمولات میں یقینا اللہ تعالیٰ کے احکام کی انتہا درجہ تعمیل کرنے والے تھے اور اس کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کا کبھی خیال بھی نہیں کرسکتے تھے۔ باایں ہمہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ صرف تعمیلِ احکام پر اکتفا کرنے کی بجائے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے اور اس طرح بےقرار ہو کر اللہ تعالیٰ کی یاد میں ڈوب جاتے تھے کہ ان کی راتوں کی نیند اچاٹ ہوجاتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ سوتے کم اور جاگتے زیادہ تھے۔ کیونکہ سونا جسم کی قوت کی بحالی کے لیے انسانی ضرورت ہے، وہ اس ضرورت کو ضرورت کی حد تک پورا کرتے تھے لیکن رات کا زیادہ تر حصہ وہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں جاگ کر گزارتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جسم کو توانائی دینے والی ذات وہی ہے۔ اور اوقات میں برکت دینے والا بھی وہی ہے۔
Ayah 51:18وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 18)
(اور رات کے پچھلے وقتوں میں وہ مغفرت مانگتے تھے۔ )
دوسری علامت
باوجود اس کے کہ ان کے معمولات تعمیلِ احکام کی تصویر تھے اور راتوں کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرتا تھا۔ اس پر بھی ان میں یہ خیال کبھی پیدا نہ ہوتا تھا کہ ان کی یہ شب خیزیاں اور عبادات میں استغراق اللہ تعالیٰ کی خوشنودگی کے لیے کافی ہے۔ اور ہماری زندگی اتنی پاکیزہ ہوگئی ہے کہ اب اس میں مزید فکرمندی کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ ان کی فکر اور سوچ کا عالم یہ تھا کہ وہ رات کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور پھر طلوع سحر سے پہلے جو سحر کا وقت ہے اس میں وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے۔ ان کو برابر اس بات کا خیال رہتا کہ ہمیں جس قدر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے اور جس طرح اس کی یاد میں اپنا بیشتر وقت صرف کرنا چاہیے اور جس طرح ہمیں بندگی کے حقوق ادا کرنے چاہئیں ہم وہ پوری طرح ادا نہیں کر پا رہے۔ اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں کہ وہ ہماری ان کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ برابر انھیں یہ خیال رہتا کہ ہم نے راتوں کو جس طرح اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور جس طرح اس کی عبادت کی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اس میں حضور قلب کا عالم کیا رہا، اس میں ہم اخلاص کو بروئے کار لاسکے یا نہیں، ہم نے بظاہر عبادات کی صورت پیدا کی لیکن اس کی حقیقت ہم سے دور رہی یا قریب، وہ برابر اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کی دعائیں کرتے کہ الٰہی ! قیامت کے دن ہم سے عفو و کرم کا سلوک کر اور ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔
Ayah 51:19وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ (الذریٰت : 19)
(اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا۔ )
تیسری علامت
متقین اور محسنین کی مزید علامات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتے اور اس کی یاد میں کوشاں رہتے ہیں اسی طرح وہ بندوں کے حقوق کو پہچاننے والے بھی ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں کے حوالے سے جو فرائض عائد کیے ہیں وہ صرف ان کو ادا کرکے نہیں رہ جاتے بلکہ ان کے علاوہ بھی وہ اپنے مال میں سائل اور محروم کا حق سمجھتے ہیں۔ یعنی جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس کوئی سوال کرنے والا اپنی جائز ضروریات کا صحیح طریقے سے ذکر کررہا ہے وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کی جن ناگزیر ضروریات کا حوالہ دے رہا ہے اور جس طرح وہ اپنے امراض اور اپنے متعلقین کا رونا رو رہا ہے میرے لیے ضروری ہے کہ میں اس سلسلے میں اس کی مدد کروں اور یہ مدد وہ خیرات کے طور پر نہیں کرتے جس پر وہ شکریئے کے طالب ہوں بلکہ وہ سوال کرنے والے کا اپنے اوپر حق سمجھتے ہیں اور اسے فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ ان کا یہ احساس صرف سائلوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے مالوں پر ان لوگوں کا بھی حق سمجھتے ہیں جو خود سائل بن کر ان کے پاس نہیں آتے۔ لیکن کسی طرح ان کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ شخص کل تک اچھے حالوں میں تھا لیکن اب حالات کی ستم ظریفی نے انھیں دوسروں کا محتاج کردیا ہے۔ مثلاً جس طرح کوئی یتیم بچہ باپ کا سایہ اٹھ جانے سے بےسہارا ہوجاتا ہے، کوئی صحت مند اچانک اپنی صحت کھو بیٹھتا ہے، کوئی برسرروزگار، روزگار چھن جانے سے نادار ہوجاتا ہے یہ لوگ ایسے شخص کو خود تلاش کرکے اس کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ اور محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اسے پائوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 51:20وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 20)
(زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے۔ )
زمین میں جزاء و سزا کی نشانیاں
اوپر جزاء و سزا کی جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اس آیت کا عطف ان ہی پر ہے۔
نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت کے امکان اور اس کے وجوب و لزوم کی شہادت دے رہی ہیں۔ زمین کا اپنا وجود اور اس کی ساخت، اس کا سورج سے ایک خاص فاصلے پر اور ایک خاص زاویئے پر رکھا جانا، اس پر حرارت اور روشنی کا انتظام، اس پر مختلف موسموں کی آمدورفت، اس کے اوپر ہوا اور پانی کی فراہمی، اس کے پیٹ میں طرح طرح کے بیشمار خزانوں کا مہیا کیا جانا، اس کی سطح پر ایک زرخیز چھلکا چڑھایا جانا، اس میں قسم قسم کی بےحدوحساب نباتات کا اگایا جانا، اس کے اندر خشکی اور تری اور ہوا کے جانوروں کی بیشمار نسلیں جاری کرنا، اس میں ہر نوع کی زندگی کے لیے مناسب حالات اور موزوں خوراک کا انتظام کرنا، اس پر انسان کو وجود میں لانے سے پہلے وہ تمام ذرائع و وسائل فراہم کردینا جو تاریخ کے ہر مرحلے میں اس کی روزافزوں ضروریات ہی کا نہیں بلکہ اس کی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا ساتھ بھی دیتے چلے جائیں، یہ اور دوسری ان گنت نشانیاں ایسی ہیں کہ دیدہ ٔ بینا رکھنے والا جس طرف بھی زمین اور اس کے ماحول میں نگاہ ڈالے وہ اس کا دامن کھینچ لیتی ہیں۔ جو شخص یقین کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کرچکا ہو اس کی بات تو دوسری ہے وہ ان میں اور سب کچھ دیکھ لے گا، بس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والی کوئی نشانی ہی نہ دیکھے گا۔ مگر جس کا دل تعصب سے پاک اور سچائی کے لیے کھلا ہوا ہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر ہرگز یہ تصور قائم نہ کرے گا کہ یہ سب کچھ کسی اتفاقی دھماکے کا نتیجہ ہے جو کئی ارب سال پہلے کائنات میں اچانک برپا ہوا تھا، بلکہ اسے یقین آجائے گا کہ یہ کمال درجے کی حکیمانہ صنعت ضرور ایک قادرمطلق اور دانا و بینا خدا کی تخلیق ہے، اور وہ خدا جس نے یہ زمین بنائی ہے نہ اس بات سے عاجز ہوسکتا ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے، اور نہ ایسا نادان ہوسکتا ہے کہ اپنی زمین میں عقل و شعور رکھنے والی ایک مخلوق کو اختیارات دے کر بےنتھے بیل کی طرح چھوڑ دے۔ اختیارات کا دیا جانا آپ سے آپ محاسبے کا تقاضا کرتا ہے جو اگر نہ ہو تو حکمت اور انصاف کے خلاف ہوگا۔ اور قدرت مطلقہ کا پایا جانا خودبخود اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں نوع انسانی کا کام ختم ہونے کے بعد اس کا خالق جب چاہے محاسبے کے لیے اس کے تمام افراد کو زمین کے ہر گوشے سے جہاں بھی وہ مرے پڑے ہوں، اٹھا کر لاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 51:21وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 21)
(اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہے، کیا تم دیکھتے نہیں۔ )
انفس میں جزاء و سزا کی بعض نشانیاں
یعنی باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بیشمار نشانیاں مل جائیں گی۔ کس طرح ایک خوردبینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خوردبینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشہ ٔ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کرکے بتدریج بڑھایا گیا۔ کس طرح تمہیں ایک بینظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و تاریک دنیا سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خودکار مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روزپیدائش سے جوانی اور بڑھاپے تک سانس لینے، غذا ہضم کرنے، اور اندر سے پیدا ہونے والی یا باہر سے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے اور نقصانات کی تلافی کرنے، حتیٰ کہ تھکاوٹ کے بعد تمہیں آرام کے لیے سلا دینے تک کا کام خودبخود کیے جاتی ہے بغیر اس کے کہ تمہاری توجہات اور کوششوں کا کوئی حصہ زندگی کی ان بنیادی ضروریات پر صرف ہو۔ ایک عجیب دماغ تمہارے کاسہ سر میں رکھ دیا گیا ہے جس کی پیچیدہ تہوں میں عقل، فکر، تخیل، شعور، تمیز، ارادہ، حافظہ، خواہش، احساسات و جذبات، میلانات و رجحانات اور دوسری ذہنی قوتوں کی ایک انمول دولت بھری پڑی ہے۔ بہت سے ذرائع علم تم کو دیئے گئے ہیں جو آنکھ، ناک، کان اور پورے جسم کی کھال سے تم کو ہر نوعیت کی اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں۔ زبان اور گویائی کی طاقت تم کو دے دی گئی ہے جس کے ذریعہ سے تم اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرسکتے ہو۔ اور پھر تمہارے وجود کی اس پوری سلطنت پر تمہاری اَنا کو ایک رئیس بنا کر بٹھا دیا گیا ہے کہ ان تمام قوتوں سے کام لے کر رائیں قائم کرو اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں کن راہوں میں اپنے اوقات، محنتوں اور کوششوں کو صرف کرنا ہے، کیا چیز رد کرنی ہے اور کیا قبول کرنی ہے، کس چیز کو اپنا مقصود بنانا ہے اور کس کو نہیں بنانا۔
اب کیا کوئی شخص جس کی آنکھیں بالکل پھوٹ نہ گئی ہوں، یہ کہہ سکتا ہے کہ اس طرح کی ایک ہستی زمین پر اتفاقاً وجود میں آگئی ہے ؟ کوئی حکمت اور کوئی منصوبہ اس کے پیچھے کارفرما نہیں ہے ؟ زمین پر اس کے ہاتھوں یہ سارے ہنگامے جو برپا ہورہے ہیں سب بےمقصد ہیں اور بےنتیجہ ہی ختم ہوجانے والے ہیں ؟ کسی بھلائی کا کوئی ثمرہ اور کسی بدی کا کوئی پھل نہیں ؟ کسی ظلم کی کوئی داد اور کسی ظالم کی کوئی بازپرس نہیں ؟ اس طرح کی باتیں ایک عقل کا اندھا تو کہہ سکتا ہے یا پھر وہ شخص کہہ سکتا ہے جو پہلے سے قسم کھائے بیٹھا ہے کہ تخلیقِ انسان کے پیچھے کسی حکیم کی حکمت کو نہیں ماننا ہے۔ مگر ایک غیرمتعصب صاحب عقل آدمی یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان کو جس طرح، جن قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے اور جو حیثیت اس کو یہاں دی گئی ہے وہ یقینا ایک بہت بڑا حکیمانہ منصوبہ ہے اور جس خدا کا یہ منصوبہ ہے اس کی حکمت لازماً یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی بازپرس ہو اور اس کی قدرت کے بارے میں یہ گمان کرنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا کہ جس انسان کو وہ ایک خوردبینی خلیے سے شروع کرکے اس مرتبے تک پہنچا چکا ہے اسے پھر وجود میں نہ لاسکے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 51:22وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُـکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 22)
(اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کی تمہیں وعید سنائی جارہی ہے۔ )
جزاء و سزا کی آسمان میں نشانیاں
اس آیت میں آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس سلسلے میں صرف دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارا رزق ہے۔ اس صورت میں بعض اہل علم نے اس سے عالم بالا مراد لیا ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے جس میں بادل بھی شامل ہیں اور آسمان بھی۔ اور رزق سے مراد بارش ہے۔ یعنی عالم بالا سے تم پر بارش اترتی ہے اور وہ زمین سے رزق اگنے کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح سبب بول کو مسبب مراد لیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر آسمان سے بارش نہ اترے تو زمین اپنی ان تمام تر قوت روئیدگی کے باوجود کوئی چیز نہ اگا سکے۔ اور اگر کوئی چیز اگے بھی تو وہ برگ و بار نہ لاسکے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ رزق سے مراد وہ سب کچھ ہے جو دنیا میں انسان کو جینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور مَا تُوْعَدُوْنَوعید سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عالم بالا سے تمہارے لیے رزق اترتا ہے اسی طرح وہیں سے اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قیامت کے لیے دلیل بنایا گیا ہے کہ تم خود دیکھتے ہو کہ جب بارش اترتی ہے تو خشک اور مردہ زمین نہ صرف زندہ ہوتی ہے بلکہ اس کی قوت روئیدگی برسرکار آجاتی ہے۔ اسی طرح قوموں کی نافرمانی اور سرکشی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا جب عذاب آتا ہے تو قومیں تباہ کردی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں زندگی اور دوسری صورت میں تباہی اور ہلاکت، یہ ہمیشہ تم آسمان سے اسے اترتا ہوا دیکھتے ہو۔ اور یہ بھی دیکھتے ہو کہ بارش اگر رحمت کا نمونہ ہے تو عذاب نقمت کا۔ لیکن ان دونوں چیزوں کے لیے اللہ تعالیٰ کو کچھ نہیں کرنا پڑتا، بجز اس کے کہ وہ دونوں باتوں کے لیے حکم دیتا ہے اور کلمہ کُن سے ہر چیز وجود میں آجاتی ہے۔ تو جس پروردگار کی یہ شانیں ہیں اس کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ نوع انسانی کو دوبارہ وہ زندہ نہیں کرسکتا اور کائنات کی بساط کو دوبارہ نہیں بچھا سکتا، سراسر احمقانہ بات ہے۔
Ayah 51:23فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّـہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَـآ اَنَّـکُمْ تَنْطِقُوْنَ ۔ (الذریٰت : 23)
(پس آسمان و زمین کے مالک کی قسم یہ بات ایسے ہی حق ہے جیسے تم بول دیتے ہو۔ )
خلاصہ بحث
آخر میں نشانیوں کی بحث کو ختم کرتے ہوئے آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ تمہیں جس قیامت سے آگاہ کیا جارہا ہے اور تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں جس عذاب سے ڈرایا جارہا ہے اس کا وقوع یقینی ہے۔ اس کے لیے پروردگار کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اور اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تمہارے لیے منہ سے کوئی لفظ بول دینا نہایت آسان ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے بھی یہ سب کچھ کردینا بہت سہل ہے۔ اسے اس کے لیے اسباب فراہم کرنا نہیں پڑتے بلکہ ایک کلمہ کُن سے ہر چیز وجود میں آجاتی ہے۔
اور یہ بولنے کی مثال صرف تسہیلِ فہم کے لیے ہے ورنہ کسی چیز کو وجود میں لانے کو انسان کے بولنے سے تشبیہہ دینا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ کیونکہ انسان اس وقت تک بول نہیں سکتا جب تک اس کی قوت گویائی اس کا ساتھ نہ دے، اس کی دماغی قوتیں ٹھیک کام نہ کریں اور اس کی طلاقتِ لسانی پوری طرح بروئے کار نہ آئے۔ ان میں سے کسی میں بھی اگر کوئی رکاوٹ آجائے تو انسان ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکال سکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ارادے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
Ayah 51:24ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَ ۔ (الذریٰت : 24)
(کیا آئی ہے آپ کے پاس حضرت ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ )
گزشتہ دعاوی کے حق میں تاریخ سے استدلال
اب یہاں سے رکوع کے اختتام تک ان دعاوی کے حق میں جو اوپر مذکور ہوئے ہیں تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے مشاہداتی، عقلی اور انفسی دلائل دیئے گئے۔ اب تاریخی دلائل سے ان کی تائید کی جارہی ہے کیونکہ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ تاریخی دلائل سے جلدی متأثر ہوتا ہے۔ نیز ان واقعات کے ذکر سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافات برابر کام کرتا رہا۔ نیکوکاروں کو انعام ملتا رہا اور کفار اور ظالم ہمیشہ اپنے برے انجام کو پہنچتے رہے ہیں۔ یہ گویا اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا اگرچہ اسباب کی دنیا ہے اور یہاں قوانینِ طبیعی کی حکومت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ معذب قوموں کا انجام دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہاں اخلاقی قانون بھی کارفرما ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مزاج مکافاتِ عمل پر مبنی ہے۔ یہاں اگرچہ اخلاقی اعمال کے نتائج پوری طرح بروئے کار نہیں آتے، لیکن فی الجملہ ان کا ظہور آخرت کے وقوع کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ قرآن کریم میں تین مقامات پر پہلے بھی گزر چکا ہے۔ وہاں کسی قدر تفصیل موجود ہے، اس لیے یہاں اختصار کے ساتھ بعض اشارات کیے گئے ہیں۔ آیت کے آغاز میں خطاب کے لیے ضمیر واحد استعمال کی گئی ہے جس کے بارے میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور آپ کے واسطے سے تمام نوع انسانی کو ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ خطاب انھیں مکذبین سے ہے جن پر اس سورة میں حجت تمام کی جارہی ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے لیے ضمیر واحد لائی گئی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے جماعت کے ایک ایک فرد کو متوجہ کرنا مقصود ہے تاکہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں اس خطاب میں شریک نہیں ہوں اور لاپرواہی کا ثبوت دے، جب وہ یہ دیکھے گا کہ یہ خطاب مجھ سے کیا جارہا ہے تو اس کے دل میں اس کی اہمیت بھی اترے گی اور احساس بھی توانا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات کی گئی ہے۔ لیکن اس کے لیے لفظ ضیف کا استعمال ہوا ہے، اس کا معنی ہوتا ہے مہمان۔ جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان ایک نہیں دو تھے اور ضیف کا لفظ واحد ہونے کی وجہ سے ایک ہی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔ اور دوسری یہ بات بھی کہ اس کی صفت مکرمین لائی گئی ہے جو جمع ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ضیف کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں ضیف ضیوف کے معنی میں ہے۔
Ayah 51:25اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰـمًا ط قَالَ سَلٰـمٌ ج قَوْمٌ مُّنْـکَرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 25)
(جب وہ مہمان حضرت ابراہیم کے پاس آئے تو انھوں نے آپ کو سلام کہا، تو آپ نے بھی سلام سے جواب دیا، یہ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مہمان
جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے السلام علیکم کہا۔ اور آپ نے بھی سلام کا جواب سلام سے دیا۔ اس سلام کے تبادلے سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ یہ کوئی ایسے ویسے لوگ نہیں بلکہ شریف اور صالح مہمان ہیں۔ البتہ یہ بات دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ ہیں کون لوگ ؟ اس سے پہلے کبھی یہ دیکھے نہیں گئے۔ جو جانے پہچانے لوگ ہیں وہ آپ کے متعلقین اور متوسلین ہیں۔ یہ شکل و شباہت سے بڑے شائستہ معلوم ہوتے ہیں لیکن کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی، اس لیے اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے اجنبی ہونے کی بات ان سے نہیں بلکہ اپنے دل میں کہی ہوگی۔ اور قول کا اطلاق جس طرح زبان سے کہی ہوئی بات پر ہوتا ہے، دل میں کہی ہوئی بات پر بھی ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے نوکروں سے اس کا اظہار کیا ہو۔
Ayah 51:26فَرَاغَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ ۔ (الذریٰت : 26)
(پھر وہ چپکے سے نظر بچا کر گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے کر آئے۔ )
حقِ ضیافت کا ایک ادب
روغ… کسی کام کو نظر بچا کر چپکے سے کرنے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی مہمانوں کو عزت سے بٹھایا اور پھر وہاں خاموشی سے گھر کی طرف چلے گئے تاکہ مہمانوں کے لیے ضیافت کا اہتمام کریں۔ لیکن مہمانوں سے کچھ کہنا یا اس طرح جانا کہ انھیں شبہ ہوجائے آدابِ مہمانی کیخلاف سمجھا، تاکہ وہ تکلف میں آکر روکنے کی کوشش نہ کریں۔ کریم النفس اور فیاض میزبان کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ پھر شکل و شباہت اور طوراطوار سے انھیں طبقہ شرفاء سے سمجھنے کی وجہ سے جلدی میں جو بہتر سے بہتر ضیافت کا سامان ہوسکتا تھا وہ کیا۔ یعنی اپنے گلے کا فربہ بچھڑا ذبح کرایا اور اس کا بھنا ہوا گوشت لے کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ یہاں اگرچہ فربہ بچھڑے کا ذکر تو ہے لیکن سورة ہود میں عِجْلٍ حَنِیْذٍفرمایا ہے جس کا معنی ہے بھنا ہوا بچھڑا۔ اس لیے ہم نے ترجمے میں اس کا لحاظ کیا ہے۔
Ayah 51:27فَقَرَّبَـہٗٓ اِلَیْھِمْ قَالَ اَلاَ تَاْکُلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 27)
(اور اس کو ان کے سامنے پیش کیا اور کہا آپ حضرات کھاتے نہیں۔ )
آپ نے جب ان کے سامنے سامانِ ضیافت پیش کیا تو آپ نے دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے۔ تو آپ نے نہایت محبت کے ساتھ ان کو کھانے کی دعوت دی۔
Ayah 51:28فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً ط قَالُوْا لاَ تَخَفْ ط وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۔ (الذریٰت : 28)
(تو حضرت ابراہیم نے ان سے خوف محسوس کیا، ان مہمانوں نے کہا، آپ مت ڈریں، اور انھوں نے آپ کو ایک ذی علم فرزند کی خوشخبری دی۔ )
اندیشے کا سبب اور مہمانوں کی وضاحت
جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے انتہائی محبت سے انھیں ہاتھ بڑھانے کی دعوت دینے کے باوجود بھی وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو آپ نے ایک خوف اور خدشہ محسوس کیا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قبائلی زندگی میں کوئی اجنبی مسافر کسی گھر میں جاتا تھا اور اہل خانہ کی طرف سے اس کی خدمت میں اگر کھانا پیش کیا جاتا اور وہ کھانے سے احتراز کرتا تو یہ گویا اس بات کی علامت ہوتی کہ یہ شخص کسی برے ارادے سے آیا ہے۔ کیونکہ جاہل معاشرے میں بھی مہمانوں کے کچھ آداب ہوتے تھے جن کی وہ ہمیشہ پابندی کرتے تھے۔ ان ہی میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب کسی کے گھر سے کچھ کھالیا جائے تو پھر اسے نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ چناچہ آپ نے ان مہمانوں کے بارے میں بھی یہی سمجھا کہ یہ شاید میری دشمنی کے لیے آئے ہیں۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے اور اس میں زیادہ وزن معلوم ہوتا ہے کہ جب ایسے شائستہ مہمانوں نے سامانِ ضیافت کی طرف ہاتھ بڑھانے سے گریز کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ اور اب ان کے خوفزدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ فرشتے معمولی کاموں کے لیے انسانی شکل میں کبھی نہیں آتے۔ وہ جب بھی اس طرح انسانی شکل میں آتے ہیں تو کسی بڑی مہم کے لیے آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بھی فرشتے ہوں اور یہ قوم لوط پر عذاب کی خبر لے کر آئے ہوں۔ فرشتوں نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خوف کو تاڑ لیا اور ان کو اطمینان دلایا کہ آپ کوئی اندیشہ نہ کریں۔ اور پھر انھوں نے آپ کو ایک ذی علم فرزند کی خوشخبری دی۔ سورة ہود میں اس کی تصریح ہے کہ یہ فرزند کی خبر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری تھی۔ اور ذی علم کہہ کر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ صرف فرزند ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ہوں گے۔ اور اس بشارت کی اہمیت دو وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت آپ کو دی گئی ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔ اس عمر میں مردو عورت اولاد سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ اور دوسری وجہ اس کی یہ تھی کہ ایسی محرومی کے زمانے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جس اولاد کی خبر دی گئی وہ ایسی بینظیر اولاد تھی جو آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ دنیا میں کوئی دوسرا انسان ایسا نہیں جس کی نسل میں مسلسل چار انبیاء پیدا ہوئے ہوں وہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی تھے جن کے ہاں تین پشت تک نبوت چلتی رہی اور حضرت اسماعیل، اور حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہم السلام) جیسے جلیل القدر نبی ان کے گھرانے سے اٹھے۔
Ayahs 51:29–30فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُـہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْھَھَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ۔ قَالُوْا کَذٰلِکِ لا قَالَ رَبُّکِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ۔ (الذریٰت : 29، 30)
(پھر آپ کی بیوی حیران ہو کر آگے بڑھی، پھر اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ۔ فرشتوں نے کہا کہ ایسا ہی فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکمت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
فرزند کی بشارت پر حضرت سارہ ( رض) کے تأثرات
فرشتوں نے چونکہ یہ بشارت اونچی آواز سے دی تھی، اس لیے پس دیوار آپ کی بیوی سارہ نے اسے سن لیا جو دیوار کے بالکل قریب کھڑی تھی۔ ان پر بیک وقت مسرت اور حیرت کی کیفیت طاری ہوئی۔ وہ سنتے ہی آگے بڑھیں، سراپا تعجب بن کر۔ کیونکہ عربی میں محاورہ ہیصرا الفرس اذنیہ ” گھوڑے نے اپنے کان کھڑے کیے۔ “ اسی سیفِیْ صَرَّۃٍکا محاوہ بنا، جو تعجب اور حیرانی کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ چناچہ ایسے مسرت اور تعجب کے وقت عورتیں عام طور پر اپنی پیشانی یا اپنے چہرے پر ہاتھ مار کر تعجب کا اظہار کرتی ہیں۔ حضرت سارہ نے بھی ایسا ہی کیا اور کہا کہ ایک بوڑھی اور بانجھ عورت اب کیا بچہ جنے گی۔ یعنی میں جس عمر میں ہوں اور میرے شوہر جس عمر میں ہیں قوانینِ طبعی کے مطابق تو یہ اولاد پیدا کرنے کی عمر نہیں۔ اس کے برخلاف ہمیں جو بشارت دی جارہی ہے اس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن ہے کس قدر تعجب کی بات۔ لیکن یہ تعجب ایسا ہے جس میں مسرت بھی گندھی ہوئی ہے۔ فرشتوں نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ بات کتنی بھی تعجب خیز ہو اور کس قدر بھی ناقابلِ یقین ہو، لیکن اطمینان کا باعث یہ ہے کہ یہ بات ہم نے نہیں، آپ کے رب نے فرمائی ہے۔ اور اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اب بڑھاپے میں آپ کو اولاد دی جائے۔ رہا آپ کا بڑھاپا، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے یہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ حکیم وعلیم ہے اس کی حکمت اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔
Ayah 51:31قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 31)
(حضرت ابراہیم نے کہا اے فرستادگانِ الٰہی، اس وقت آپ کے سامنے مہم کیا ہے ؟ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کا انداز
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بہت بڑی بشارت دی گئی، انسانی نفسیات کے لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو اس مسرت میں ڈوب جانا چاہیے تھا کہ کسی اور بات کا ہوش ہی نہ رہتا۔ لیکن آپ جس عظیم منصب پر فائز تھے اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ منصبی اہمیت کو ذاتی جذبات پر غالب رکھیں۔ چناچہ بشارت کی خوشی اپنی جگہ، لیکن یہ خوشی انھیں اس احساس سے بیگانہ نہ کرسکی کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے جب انسانی شکل میں آتے ہیں تو وہ صرف اس طرح کی بشارتیں دینے کے لیے نہیں آتے جیسے مجھے دی گئی ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر کسی اہم کام کے لیے آتے ہیں۔ اور آپ چونکہ ہمیشہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے متفکر رہتے تھے کہ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کو اپنا شعار بنا چکی ہے اس سے اندیشہ ہے کہ کہیں ان پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ چناچہ اسی خدشے کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ نے فرشتوں سے سوال کیا کہ اے فرستادگانِ الٰہی ! اس وقت آپ کے سامنے مہم کیا ہے ؟ کیونکہ خطب کا لفظ عام واقعہ کے لیے نہیں بلکہ کسی بڑی اہم بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اسی کو ہم اردو زبان میں مہم کہتے ہیں۔ چناچہ آپ نے اسی سے متعلق ان سے سوال کیا۔
Ayah 51:32قَالُوْٓا اِنَّـآ اُرْسِلْنَـآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الذریٰت : 32)
(فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ )
فرشتوں کا جواب
مجرموں کی قوم سے مراد قوم لوط تھی۔ لیکن یہاں اس کا نام تصریح کے ساتھ نہیں آیا۔ لیکن سورة ہود میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ ارشاد ہواقالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّا اُرْسِلْنَا اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ (ہود : 70) انھوں نے کہا : تم نہ ڈرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ لیکن یہاں نام لینے کی بجائے ان کے کردار کا حوالہ دیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ ان پر ہم جو اللہ تعالیٰ کا عذاب لے کر جارہے ہیں تو اس لیے نہیں کہ قوم لوط ہونے کی حیثیت سے قدرت کو ان سے دشمنی ہے، بلکہ درحقیقت وہ ایک مجرم قوم بن چکے ہیں۔ ان کے جرائم کی پاداش میں انھیں پکڑا جارہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب ہمیشہ ان لوگوں پر آتا ہے جو اپنی بدکرداری کے باعث عمل کی ہر خوبی کو کھو دیتے ہیں، اچھائی کا کوئی تصور ان میں باقی نہیں رہتا، اللہ تعالیٰ کی زمین ان کی بداعمالیوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوجاتی ہے، تب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔
Ayahs 51:33–34لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الذریٰت : 33، 34)
(تاکہ ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں۔ جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس، حد سے گزر جانے والوں کے لیے۔ )
فرشتوں نے اپنی منزل کی بھی خبر دے دی
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں فرشتوں نے اپنی منزل کا بھی ذکر کیا اور اس مقصد کا بھی جس کے لیے وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکل کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس جانے تک اور پھر اس کے بعد جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر پروردگار نے نہیں فرمایا، کیونکہ یہ واقعات سورة ہود، الحجر اور العنکبوت میں گزر چکے ہیں۔
اور فرشتے قوم لوط پر جس عذاب کے لیے بھیجے گئے اس میں سے صرف ایک اہم تر بات کو ذکر فرما کر باقی باتوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ کیونکہ وہ بھی دوسری سورتوں میں کسی حد تک تفصیل سے موجود ہیں۔ جس اہم تر بات کا ذکر فرمایا گیا وہ یہ ہے کہ ہم ان پر مٹی کے پتھروں کی بارش کرنے والے ہیں۔ اور سورة ہود میں اس کے لیے سجیل کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ فارسی کے سنگ گِل سے معرب ہے۔ اور یہاں حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ سے اسی کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور مُسَوَّمَۃًسے مراد ایسے پتھر ہیں جن پر نشان لگا دیا گیا تھا کہ کون سا پتھر کس مجرم کی سرکوبی کے لیے ہے۔ جس طرح ابرہہ کے لشکر کی تباہی کے وقت نشان زدہ پتھر ہر مجرم کے سر پر پڑ رہے تھے۔ لیکن بعض اہل علم کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے پتھروں کو مخصوص کردیا گیا تھا جن کی بارش اس قوم پر کی جانے والی تھی۔