51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsروح القرآن

Ayahs 51:35–37

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پس اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال دیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور اس میں ہم نے ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْن۔ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَتَرَکْنَا فِیْھَـآ اٰیَـۃً لِّـلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (الذریٰت : 35 تا 37) (پس اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال دیا۔ اور وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا۔ اور اس میں ہم نے ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض حقائق کا اظہار اوپر کی آیت پر فرشتوں کی بات ختم ہوگئی۔ اگرچہ وہ ارشادات پروردگار ہی کے ہیں لیکن ان کی نسبت فرشتوں کی طرف ہے۔ اس کے بعد کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس میں بعض حقائق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں پہلی بات یہ ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب بھیجتے ہیں تو ان میں جو اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں ہم ان کو وہاں سے نکال لیتے ہیں اور کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ان لوگوں پر عذاب نازل کیا جاتا ہے جو اپنی بداعمالیوں کے باعث عذاب کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں اور پھر ان کی جڑ اکھاڑ دی جاتی ہے۔ دوسری آیت میں یہ حقیقت واشگاف فرمائی گئی ہے اور اس پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے ان میں سوائے ایک گھر کے جو حضرت لوط ہی کا گھر تھا ہم نے کسی کو مسلمان نہیں پایا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی قوم کا زوال انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی تبلیغ و دعوت اس راستے میں اس کی جاں فشانی اور اس کا سوز و گداز بھی بےاثر ثابت ہوئے ہیں۔ یعنی وہ آواز جو پتھروں میں شگاف ڈال دیتی ہے وہ ان سنگدلوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتی۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے تبلیغ و دعوت سے اتمامِ حجت نہیں کردیتے اور یہ کام اس انتہا کو نہیں پہنچ جاتا جس میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اب یہ راستہ بالکل بند ہوگیا ہے۔ یا لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلانے والوں کی زندگیوں کے درپے ہوجائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ مزید ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ان دو آیات میں مومن اور مسلم کے الفاظ آئے ہیں۔ کوئی شخص بھی غور کرنے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان دونوں کے مصداق الگ الگ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة حجرات میں مومن اور مسلم میں جو فرق کیا گیا وہ خاص حالات کی وجہ سے اور یا لغوی معنی کے اعتبار سے ہے۔ اصطلاحی طور پر ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ تیسری آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قوم لوط کی بستی میں ہم نے ایک نہایت واضح نشانی ان لوگوں کی عبرت پذیری کے لیے چھوڑی ہے جو اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کے قہر و غضب کی نشانیاں دیکھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا چاہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس نشانی سے مراد کیا ہے ؟ صاحب تفہیم القرآن کی تحقیق اس حوالے سے نہایت قابل قدر ہے۔ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار Dead Sea ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی ایک عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کررہا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ ٔ مردار کا پانی پھیل گیا تھا، کیونکہ اس بحیرے کا وہ حصہ جو ” اللِّسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے، صاف طور پر بعد کی پیداوار معلوم ہوتا ہے اور قدیم بحیرہ مردار کے جو آثار اس جزیرہ نما کے شمال تک نظر آتے ہیں وہ جنوب میں پائے جانے والے آثار سے بہت مختلف ہیں۔ اس سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جنوب کا حصہ پہلے اس بحیرے کی سطح سے بلند تھا، بعد میں کسی وقت دھنس کر اس کے نیچے چلا گیا۔ اس کے دھنسنے کا زمانہ بھی دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ معلوم ہوتا ہے، اور یہی تاریخی طور پر حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کا زمانہ ہے۔ 1965 ء میں آثار قدیمہ کی تلاش کرنے والی ایک امریکی جماعت کو اللّسان پر ایک بہت بڑا قبرستان ملا ہے جس میں 20 ہزار سے زیادہ قبریں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قریب میں کوئی بڑا شہر ضرور آباد رہا ہوگا۔ مگر کسی ایسے شہر کے آثار آس پاس کہیں موجود نہیں ہیں جس سے متصل اتنا بڑا قبرستان بن سکتا ہو۔ اس سے بھی یہ شبہ تقویت پاتا ہے کہ جس شہر کا یہ قبرستان تھا وہ بحیرے میں غرق ہوچکا ہے۔ بحیرے کے جنوب میں جو علاقہ ہے اس میں اب بھی ہر طرف تباہی کے آثار موجود ہیں اور زمین میں گندھک، رال، کول تار اور قدرتی گیس کے اتنے ذخائر پائے جاتے ہیں جنھیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کسی وقت بجلیوں کے گرنے سے یا زلزلے کا لاوا نکلنے سے یہاں ایک جہنم پھٹ پڑی ہوگی۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جبکہ ہم نے اس کو فرعون کی طرف ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا

وَفِیْ مُوْسٰٓی اِذْ اَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الذریٰت : 38) (اور موسیٰ کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جبکہ ہم نے اس کو فرعون کی طرف ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت میں نشانی اس کا عطف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت پر ہے۔ ہم نے ترجمے میں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت میں نشانی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہدایت کے لیے ایک واضح سلطان کے ساتھ بھیجا۔ سلطان سے دو چیزیں مراد ہیں ایک تو یہ کہ آپ کو اتنے واضح معجزات دیئے گئے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کے لیے سندماموریت کی حیثیت رکھتے تھے۔ حیران کردینے والی اور خرق عادت چیزیں شعبدہ باز بھی دکھاتے ہیں اور جادوگر بھی۔ لیکن ان چیزوں کی مثال لانا یا ان کا توڑ کرنا ناممکن نہیں ہوتا۔ البتہ جس خرق عادت چیز کا اظہار اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی طرف سے ہوتا ہے کسی دوسرے انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اس کی مثال لاسکے۔ اس لیے اسے پیغمبر کا معجزہ کہا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجتے ہوئے جو دو معجزات دیئے گئے وہ اس قدر واضح تھے کہ کوئی شخص بھی بقائمی ہوش و حواس اس کی مثال لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اور فرعون نے جب اسے سحر قرار دے کر ملک بھر کے جادوگروں کو جمع کرکے مقابلہ کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف ناکام رہا بلکہ جادوگر جو اس فن کے شناسا تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کا معجزہ ہے اس لیے وہ فوراً ایمان لے آئے۔ سلطان کا دوسرا معنی رعب اور دبدبہ کے ہیں۔ اس صورت میں اس رعب اور دبدبہ کے واضح ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انتہائی بےکسی اور بےبسی کی حالت میں فرعون کے سامنے تشریف لائے۔ آپ نے جس جرأت اور بےباکی سے فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی اور جس طرح اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کیں اس سے وہ اس حد تک مرعوب ہوا کہ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام دنیوی وسائل اور رعب و دبدبہ کے ذرائع میں سے کوئی چیز بھی اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ باایں ہمہ فرعون کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت کے سلسلے میں بارہا برافروختہ ہوا۔ اور بعض دفعہ اس نے آپ کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ لیکن وہ اس پر عمل کبھی نہ کرسکا۔ اس نے آپ کی بےبسی کا مذاق اڑایا لیکن کبھی آپ پر دست درازی کی جرأت نہ کی۔ اور آپ کی دعوت کو روکنے کے جو ذرائع ہوسکتے تھے انھیں کبھی بروئے کار نہ لایا۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ایک نشانی جو فوراً ذہن میں ابھرتی ہے وہ وہی ہے جس کا اگلی آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

اور اس نے غرور سے منہ پھیرا اور بولا یہ تو ایک جادوگر ہے یا دیوانہ ہے

فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ۔ (الذریٰت : 39) (اور اس نے غرور سے منہ پھیرا اور بولا یہ تو ایک جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ ) فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ کا مفہوم رُکن کا معنی کندھا ہے اور ” ب “ سے اس کے اندر تعدی کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز سے تکبر کے ساتھ منہ پھیرتا ہے تو وہ شانے اور کندھے جھٹکتا ہے۔ تو اس کے کندھے جھٹکنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے غرور کے ساتھ اعراض کیا اور منہ پھیرا۔ یہاں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات نے آپ کی نبوت اور رسالت کو بالکل واضح کردیا تھا اور فرعون پر یہ بات کھل گئی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں۔ اس کے باوجود اس کا آپ کو ساحر یا مجنون قرار دینا سراسر تکبر کا نتیجہ تھا۔ اور تکبر اللہ تعالیٰ کے یہاں کتنا بڑا جرم ہے اگلی آیت سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑا، اور انھیں سمندر میں پھینک دیا، اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا

فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْیَمِّ وَھُوَمُلِیْمٌ۔ (الذریٰت : 40) (تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑا، اور انھیں سمندر میں پھینک دیا، اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا۔ ) فرعون کا انجام یعنی اس کے تکبر کا نتیجہ ایک طرف اگر یہ ہوا کہ وہ حق سے دور ہوگیا اور ہدایت سے محروم رہا۔ اور دوسری طرف یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر بھڑکا اور اس نے اسے اور اس کے لشکروں کو جن کے بل بوتے پر وہ غرور کا پیکر بنا ہوا تھا سمندر میں پھینک دیا۔ اس کے اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے کی تفصیل چونکہ گزشتہ سورتوں میں بیان ہوچکی ہے اس لیے یہاں اس کو دہرایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کا ہر طالب علم اس تفصیل سے آگاہ ہے۔ اور آیت کے آخری لفظ میں ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جب گرفت فرعون پر آئی تو پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے سارے جاہ و جلال اور فوجوں کے کروفر کے باوجود جب سمندر میں ڈبویا گیا تو اس وقت کی معلوم دنیا جو اس کی قوت سے ہمیشہ مرعوب رہتی تھی نے اس پر ایک کلمہ تأسف تک نہ کہا۔ ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک ظالم اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ ایک ایسا حکمران جو اپنے انسان ہونے کو بھول گیا تھا کس قدر بےبسی کی موت مارا گیا تاکہ اس کی حقیقت لوگوں پر کھل جائے۔ ایسے ہی لوگوں کے حوالے سے سورة الدخان میں قرآن کریم نے کس خوبصورت تأثر کا ذکر فرمایا ہیفَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَـآئُ وَالْاَرْضُ ” پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔ “ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کے ایک مومن اور عاجز بندے حضرت سعد بن معاذ ( رض) کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ سعد کی موت پر عرش معلی پر لرزہ طاری ہوا۔
Ayah 51:41

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر ایک بادخشک بھیجی

وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ ۔ (الذریٰت : 41) (اور عاد کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر ایک بادخشک بھیجی۔ ) قومِ عاد کے انجام سے استدلال عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے قوم عاد میں بھی نشانیاں موجود ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لائے۔ ان کی ہدایت کے لیے انھوں نے نہ جانے کب تک خون جگر پی پی کر ان کو سمجھایا۔ لیکن جب یہ لوگ راہ راست پر آنے کی بجائے ان کی جان کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بادخشک مسلط کردی۔ عَقِیْمَعربی زبان میں بانجھ عورت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور ہر ایسی چیز کے لیے بھی جو بےفیض ہو، جس کے اندر نہ کوئی نفع رسانی کی طاقت ہو، نہ وہ خوشگوار ہو۔ لیکن جب یہ لفظ ریح کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس کا معنی ایسی ہوا بھی ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے کوئی نفع نہ رکھتی ہو۔ نہ خوشگوار ہو، نہ بارش لانے والی اور درختوں کو بارآور کرنے والی ہو، غرضیکہ ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ اس میں نہ ہو جس کے لیے ہوا کا چلنا مطلوب ہوتا ہے۔ اور دوسرا اس کا معنی ہے بادخشک۔ یہاں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عربی میں بارش لانے والی ہَوائوں کولَوَاقَحْ کہتے ہیں اور بےفیض اور مضر ہَوائوں کو عَقِیْمَ کہا جاتا ہے۔ اور اس ہوا میں خاص طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک تندی اور تیزی بھی تھی۔ اس لییحٰمٓ السجدۃ میں ارشاد فرمایا گیا مَااَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحَاً صَرْصَرًا فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ” پس ہم نے ان کے اوپر ہَوائے تند مسلط کردی نحوست کے دنوں میں۔ “
Ayah 51:42

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر بھی گزرتی اس کو بوسیدہ کردیتی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْ ئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلاَّ جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ ۔ (الذریٰت : 42) (وہ جس چیز پر بھی گزرتی اس کو بوسیدہ کردیتی۔ ) ہَوا کی ہلاکت انگیزی قومِ عاد پر جو ہوا بھیجی گئی یہ اس کی ہلاکت انگیزی کی تصویر ہے کہ وہ ایسی خشک اور ٹھنڈی تھی اور اس قدر تند تھی کہ جس چیز پر بھی اس کا گزر ہوا اس نے اس کو بوسیدہ اور ریزہ ریزہ کردیا۔ رَمِیْمِ لکڑی، رسی اور ہڈی وغیرہ کے بوسیدہ ٹکڑوں اور ریزوں کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر یہ وضاحت کی ہے کہ یہ ہوا صرف بےخیر اور خشک ہی نہ تھی بلکہ نہایت شدید آندھی کی شکل میں آئی تھی جس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا۔ گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنوں کے کندے ہیں۔
Ayahs 51:43–45

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کی سرگزشت میں بھی نشانیاں ہیں جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک اور عیش کرلو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی، تو ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا اور وہ دیکھتے رہے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو کرسکے

وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ ۔ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَاَخَذَتْھُمُ الصّٰعِقَۃُ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ ۔ (الذریٰت : 43 تا 45) (اور ثمود کی سرگزشت میں بھی نشانیاں ہیں جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک اور عیش کرلو۔ تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی، تو ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا اور وہ دیکھتے رہے۔ پھر نہ وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو کرسکے۔ ) قومِ ثمود کے انجام کا ذکر عاد کے بعد قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے ان میں بھی عبرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی غیرمعمولی طریقے سے ان کے سامنے لا کھڑی کی۔ اور ہدایت کی کہ اسے نقصان نہ پہنچانا۔ لیکن ان میں سے ایک سرکش لیڈر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اب تمہارے لیے زندگی سے متمتع ہونے اور نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے لیے تین دن باقی ہیں۔ ان تین دنوں میں جو کھانا پینا چاہتے ہو، کھا پی لو۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ اس دھمکی اور تنبیہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ممکن ہے اس میں ان کے لیے توبہ کا امکان بھی رکھا ہو۔ اس آیت کریمہ میں حِیْنکا لفظ ہے۔ لیکن سورة ہود میں اسیثلَثَۃَ اَیَّامٍکے ساتھ متعین کردیا گیا ہے کہ یہ مدت تین دنوں کے لیے ہوگی۔ لیکن ان بدنصیبوں نے ان تین دنوں سے کوئی فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنی بدنصیبی میں اضافہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس آخری مہلت کی بھی کوئی پرواہ نہ کی، بلکہ نہایت تکبر سے اپنی روش پر قائم رہے۔ تو آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا۔ سورة ہود میں اس عذاب کے لییصیحۃ کا لفظ آیا ہے اور پیش نظر آیت میں صاعقہکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دھماکے کی طرح ان کو ایک ڈانٹ سنائی دی۔ اور اچانک ٹوٹ پڑنے والا عذاب ان پر مسلط ہوگیا۔ اور یہ سب کچھ اس طرح کھلم کھلا ہوا کہ وہ دیکھ رہے تھے لیکن بچائو نہ کرسکتے تھے۔ چونکہ یہ عذاب دفعۃً آیا تھا اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہ مل سکا۔ سورة القمر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہاِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاَحِدَۃً فَکَانُوْا کَھَشِیْمِ الْمَحْتَظِرْ ” ہم نے ان کے اوپر ایک ہی ڈانٹ بھیجی، تو وہ باڑے والے کے باڑے کی خشک اور ریزہ ریزہ لکڑیوں کے مانند ہو کر رہ گئے۔ اور اس چیخ اور دھماکے سے وہ اس حد تک سراسیمہ ہوئے اور اس کڑک نے ایسی دہشت ان پر طاری کی کہ وہ کھڑے ہونے کے قابل بھی نہ رہے اور زمین پر گرپڑے۔ سورة الاعراف میں اس کا حال یوں بیان کیا گیا ہے فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِیْنَ ” پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ کہاں تو یہ حال کہ وہ اپنے غرور وتکبر سے کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھے اور کہاں اب یہ حال کہ وہ اپنی مدافعت تک نہ کرسکتے تھے اور کھڑے نہ ہوسکتے تھے۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سب سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا، بیشک وہ لوگ بھی نافرمان تھے

وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (الذریٰت : 46) (اور ان سب سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا، بیشک وہ لوگ بھی نافرمان تھے۔ ) قومِ نوح پر عذاب کا ذکر اور ان واقعات کے آخر میں قوم نوح کی ہلاکت اور طوفان سے ان کی تباہی کی طرف اشارہ فرمایا کہ سب سے پہلے یہی بدنصیب قوم تھی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ تاریخی ترتیب کے اعتبار سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر سب سے پہلے آنا چاہیے تھا۔ لیکن قرآن کریم نے یہاں ترتیب تاریخی اعتبار سے نہیں بلکہ قریش کی آگاہی کے اعتبار سے رکھی ہے۔ وہ ان قوموں کے واقعات سے آگاہ تھے جن کی روایات اور جن کے آثار ان کے ملک میں موجود تھے۔ طوفانِ نوح سے وہ کسی حد تک واقف تو تھے لیکن اس کے آثار ان کے قرب و جوار میں کہیں نہیں پائے جاتے تھے۔ اس لیے ہلاک ہونے والی قوموں میں قوم نوح کا ذکر تو کیا لیکن اثراندازی کے پہلو سے اسے آخر میں رکھا۔
Ayah 51:47

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنی قدرت سے، اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں

وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰـھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ (الذریٰت : 47) (اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنی قدرت سے، اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔ ) قدرت کی نشانیوں کے ضمن میں آسمان سے استدلال آخرت کے حق میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اپنی قدرت و ربوبیت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ انھیں آفاقی دلائل بھی کہا جاسکتا ہے اور اسی ضمن میں توحید کی یاددہانی بھی کرائی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مشاہدات کے سلسلے میں سب سے پہلا مشاہدہ انسان کو اپنے سر پر تنے ہوئے آسمان کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور وہ جیسے جیسے غور کرتا ہے آسمان کے عجائب اس کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ ایک وسیع چھت جس کے نیچے کوئی ستون نہیں اور جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں۔ جو ذات اس قدر عظیم مخلوق کی تخلیق کرسکتی ہے اور پھر اس میں بیشمار مخلوقات کو سامانِ تربیت مہیا کرسکتی ہے اس کی طاقت اور قدرت کے لیے انسان کو نئی زندگی دینا کیا مشکل ہے۔ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے سورة النزعت میں ارشاد فرمایا ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ ” کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا۔ “ پھر ایک غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم بڑی وسعت رکھنے والے اور بڑی قدرت رکھنے والے ہیں یعنی تمہیں یہ جو خیال ہے کہ کائنات کا خالق تو وہی ہے جسے ہم اللہ کے نام سے یاد کرتے ہیں، اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ لیکن اب فنا اور ہلاکت کے بعد دوبارہ انسانوں کو پیدا کیا جانا عقل سے مستبعد ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ آسمان کو پیدا کرکے اپنی ساری قوتیں نچوڑ چکا ہے اور اپنے سارے وسائل صرف کرچکا ہے اور اب ازسرنو اسے بنانا یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہماری قدرت اور وسعت میں کوئی کمی نہیں آئی، ہم جن قدرتوں کے مالک پہلے تھے آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ بعض دوسرے مقامات میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ ارشاد فرمایا ہم نے آسمانوں اور زمین یعنی ساری کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لَّغُوْبٍ ” ہم کو ذرا بھی تکان نہیں ہوئی۔ “ یعنی ہم اسی طرح تازہ دم ہیں جس طرح پہلی دفعہ اس کائنات کے بنانے میں تھے۔ تھکاوٹ اور ماندگی مخلوق کی صفات ہیں، خالق کی نہیں۔
Ayah 51:48

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں

وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 48) (اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں۔ ) آسمان کے بعد زمین کا ذکر اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اور دلائلِ آفاق کو بیان کرتے ہوئے آسمان کے بعد زمین کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذرا اس زمین کو دیکھو کہ ہم نے کس طرح اس کو بچھایا، کس طرح اس کو انسان کی سکونت کے قابل بنایا۔ یہ آگ کے گولے کی مانند تھی، ہم نے اس کو نہایت آرام دہ بنادیا۔ اس کو غیرمتوازن ہونے سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں، میدانی علاقوں میں دریا رواں کردیئے اور پہاڑوں میں چشمے اور آبشاریں رواں کردیں، سردیوں میں پہاڑوں پر برف جمائی، گرمیوں میں اسے پگھلا کر زمین کی آبیاری کا سامان کیا، اس کے اوپر کی سطح پر ایک ایسا چھلکا چڑھا دیا جس میں قوت روئیدگی رکھی اور مخلوقات کی غذا کا سامان فراہم کیا، سورج سے زمین کو خاص فاصلے پر رکھا اور اس کو اس طرح 23 درجے ایک طرف جھکایا جس سے موسموں کے تغیرات پیدا ہوئے، سورج کی گرمی سے پانی کے ذخیروں سے بھاپ اٹھا کر بادل بنائے پھر ہَوائوں کے ذریعے ہر جگہ ان کے برسنے کا انتظام کیا۔ غرضیکہ زمین میں ایسی نشانیاں ہیں جو قدم قدم پر انسان کو آخرت کے تصور سے بہرہ ور کرتی ہیں۔ اور یہ تصور دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ عبث نہیں پیدا کیا۔ اور یہ بات اس کی حکمت اور ربوبیت کیخلاف ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔ حکمت و ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ہر شخص اس دنیا کی زندگی سے متعلق مسؤل ٹھہرے۔ اور اس کی مسؤلیت سے متعلق اس کا حساب لیا جائے۔ وہ اپنی شکرگزاری کا صلہ پائے اور اپنی ناشکری اور نافرمانی کی سزا بھگتے۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اس سے سبق لو

وَمِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 49) (اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اس سے سبق لو۔ ) قانونِ تزویج سے توحید اور آخرت پر استدلال اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے مزید اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو قانونِ تزویج کے مطابق پیدا کیا۔ سارا کارخانہ ٔ عالم اسی قاعدے پر چل رہا ہے کہ دو چیزوں کے جوڑ سے تیسری چیز وجود میں آتی ہے۔ اور یہ ترکیب اور تزویج کا اصول صرف حیوان اور انسان میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق میں کارفرما ہے۔ اس نے کوئی چیز منفرد پیدا نہیں کی۔ ہر چیز کا جوڑا پیدا فرمایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کہیں اس جوڑے کو نر اور مادہ کہا جاتا ہے اور کہیں نیگٹو اور پازٹیو اور کہیں دوسرے نام دیئے جاتے ہیں۔ لیکن تمام اشیاء کا زوج زوج ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس حقیقت سے جو نتیجہ خود بخود نکلتا ہے اور عقل جسے قبول کرتی ہے مشرکین اور ملحدین اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ نتیجہ یہ ہے کہ جب ہر چیز کا ایک جوڑا ہے اور کوئی چیز اپنے جوڑے سے ملے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتی تو دنیا کی یہ زندگی کیسے بےجوڑ ہوسکتی ہے۔ اس کا جوڑا لازماً آخرت ہے۔ اگر دنیا اکیلی رہ کر اپنا وجود ختم کردے تو یہ بےنتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔ اسے معنی خیز اور بامقصد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک جوڑا ہو اور وہ یقینا آخرت ہے۔ جس طرح ان دلائلِ آفاق اور اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت کے اظہار سے آخرت کا وجود ثابت ہوتا ہے اسی طرح ان ہی دلائل سے توحید کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ یعنی جس طرح بارش کا انتظام، زمین کی ساخت، آسمان کی تخلیق، انسان کا اپنا وجود، کائنات میں قانونِ تزویج کی حیرت انگیز کارفرمائی، یہ ساری چیزیں آخرت کے امکان و وجوب پر گواہ ہیں اسی طرح یہی اس بات کی شہادت بھی دے رہی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے، نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ ایک ایک خدائے حکیم و قادرِمطلق ہی اس کا خالق ومالک اور مدبر ہے۔ ورنہ ہم جو کائنات میں مختلف عناصر کی کارفرمائی دیکھتے ہیں جن کے اپنے اندر تخالف کی نسبت پائی جاتی ہے اگر کہیں کائنات کے خالق و مدبر ایک سے زیادہ ہوتے تو ان متخالف عناصر میں توافق کبھی پیدا نہ ہوتا۔ آگ اور پانی، ہوا اور مٹی، اندھیر اور اجالا کبھی مل کر ایک خدمت انجام نہ دیتے۔ اور کائناتی زندگی کی بہتری کی بجائے ایک ایسی ابتری پیدا کردیتے جس سے انسان اور دیگر موجودات کا وجود ختم ہو کر رہ جاتا۔ آیت کے آخر میں لَعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَلا کر ان ہی حقائق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
Ayah 51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس دوڑو اللہ کی طرف میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الذریٰت : 50) (پس دوڑو اللہ کی طرف میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ ) آخرت کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع یعنی جب اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے اور بالخصوص اس کی قدرت اور اس کے مظاہر پر تدبر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کو مانے بغیر اس دنیا کو بامقصد اور باحکمت نہیں مانا جاسکتا اور اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں رہتی۔ اور اسی طرح یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا خالق ومالک اور مدبر و حکیم اور کوئی نہیں۔ وہی ایک ذات انسان کی پرستش، پرسش اور اطاعت کی مستحق ہے اور اسی کے سامنے آخرت میں جواب دہی کرنی ہے۔ تو پھر اسبات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اپنے اللہ کی طرف بھاگو، یعنی اسے اپنے دلوں میں بسا لو، اسے اپنا معبود و مسجود بنا لو، اس کی خوشنودی کے حصول کو اپنی خواہش بنا لو اور اسی کے دین کی بالاتری کو اپنی منزل سمجھو اور اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اسی کے احکام کے تابع کردو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔ تم دنیا میں رہ کر کبھی آسودہ نہ ہوسکو گے اور آخرت میں برے انجام سے دوچار کیے جاؤ گے۔ یہی وہ بات ہے جس کے لیے میں تمہیں صاف صاف طریقے سے آگاہ کررہا ہوں۔ اور تمہارے برے انجام سے تمہیں ڈراتا ہوں۔ مبین کا مطلب یہ ہے کہ میں اس میں کسی طرح کا اخفاء نہیں رکھنا چاہتا۔ کیونکہ اس میں معمولی اخفاء بھی منزل کو نگاہوں سے اوجھل کرسکتا ہے۔
Ayah 51:51

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنائو، میں اس کی جانب سے تمہارے لیے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

وَلاَ تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ ط اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الذریٰت : 51) (اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنائو، میں اس کی جانب سے تمہارے لیے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگنے یعنی متوجہ ہونے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی الوہیت میں کسی اور کو شریک کرنے لگو۔ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، اس کے سوا غیرمشروط اطاعت کسی کی نہیں ہوسکتی۔ سب سے بالاتر محبت صرف اس کے لیے ہے، اسی کا دیا ہوا قانونِ شریعت انفرادی اور اجتماعی زندگی میں واجب العمل ہے، اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جس پر توکل کیا جاسکے، اس کی نافرمانی میں اسی کے غضب سے ہمیشہ ڈرا جانا چاہیے۔ ہر طرح کی عظمتیں اسی کو زیب دیتی ہیں، وہ سب سے بڑا اور سب سے عظیم ہے کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی اس کی عظمت کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی۔ یہ اس کے لازمی حقوق ہیں اور یہ جس کے لیے مانے جائیں اسی کو اِلٰہ کہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ بنانے سے خاص طور پر روکا گیا ہے۔ سیاق و سباقِ کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ پس منظر میں آخرت کا ذکر ہے اور مشرکینِ عرب اگرچہ آخرت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن ان میں سے جو لوگ آخرت کو کسی حد تک تسلیم کرتے تھے انھیں اس تصور نے آخرت کی طرف سے غافل کر رکھا تھا کہ اس دن ہمارے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ وہ ہماری سفارش کریں گے، ہم اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی گرفت سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کام نہیں آئے گا۔ اس دن سابقہ تمہیں صرف اللہ وحدہ لاشریک سے پڑے گا، دوسرے سہارے بےحقیقت ثابت ہوں گے۔
Ayah 51:52

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ہوتا رہا ہے کہ ان سے پہلے کی قوموں کے پاس جو رسول بھی آیا اس کو انھوں نے جادوگر یا دیوانہ ٹھہرایا

کَذٰلِکَ مَـآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ۔ (الذریٰت : 52) (اسی طرح ہوتا رہا ہے کہ ان سے پہلے کی قوموں کے پاس جو رسول بھی آیا اس کو انھوں نے جادوگر یا دیوانہ ٹھہرایا۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ قریش اور دیگر مشرکین آپ کے بارے میں جو یا وہ گوئی کرتے ہیں اور کبھی آپ کو ساحر قرار دیتے ہیں اور کبھی مجنون، آپ اس پر دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ واقعہ پہلی دفعہ پیش نہیں آیا بلکہ رسالت کی پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آیا اور اس نے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کیا جاسکتا، وہی تمہارا خالق و معبود اور تمہاری قسمتوں کا مالک و مختار ہے۔ میں اس کی طرف سے تمہارے پاس رسول بن کر آیا ہوں۔ اس لیے میں جو بات کہتا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کہتا ہوں۔ تو لوگوں نے کہا کہ اچھا اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہو تو ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائو جس سے یہ یقین ہوجائے کہ واقعی تمہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ چناچہ ان کی طلب پر جب رسول نے انھیں کچھ نشانیاں دکھائیں یعنی معجزات دکھائے تو انھوں نے شور مچا دیا کہ یہ جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے ہماری عقلوں کو مائوف کرنا چاہتا ہے۔ اور جب اس رسول نے انھیں یہ بتایا کہ تم دنیا میں غیرذمہ دار بنا کر نہیں بھیجے گئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور دیا ہے اور پھر وحی الٰہی کے ذریعے تمہیں حقیقت کا علم بخشا ہے۔ تمہاری یہ زندگی آخرت کی تیاری کے لیے ہے۔ اور آخرت میں تم نے اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔ تمہارا کارنامہ ٔ حیات مرنے کے بعد ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ تمہیں ازسرنو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ تو یہ لوگ چیخ اٹھے کہ یہ پاگل ہے اور اس کی عقل ماری گئی ہے۔ یہی رویہ قریش اور دوسرے مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے، آپ اس پر پریشان ہونے کی بجائے صبر سے کام لیجئے اور حالات کا مقابلہ کیجیے جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم رسولوں نے کیا۔ کیونکہ : زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
Ayah 51:53

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اس کی وصیت کر چھوڑی ہے، نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں

اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۔ (الذریٰت : 53) (کیا انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اس کی وصیت کر چھوڑی ہے، نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ ) رسولوں کی مخالفت میں یکسانی کا سبب گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مخالفین کی روش کی جس یکسانی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس پر اظہارِتعجب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے ایک دوسرے کو یہ نصیحت کر رکھی ہے کہ جب بھی ان کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آئے تو اس کی مخالفت میں یہی رویہ اختیار کرنا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی مختلف زمانوں میں آئے اور ان کی قوموں کا بھی ایک دوسرے سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا۔ کسی نے کسی کو نہیں دیکھا اور کوئی دوسرے سے ملاقات نہ کرسکا۔ باایں ہمہ مخالفت میں ایک ہی جیسی باتیں اور ایک ہی جیسا رویہ، آخر اس کا سبب کیا ہے ؟ پروردگار نے ان کے اس رویئے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ درحقیقت ان کے اس رویئے میں یکسانی، ان کی طبیعتوں کے بگاڑ میں یکسانی کا نتیجہ ہے۔ ایسے لوگ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی بندگی سے آزاد رہ کر اور جواب دہی سے بےخوف ہو کر شتر بےمہار کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات پر کوئی قدغن برداشت نہیں کرتے۔ من چاہی زندگی ان کا اصل اسلوب ہے۔ اور باہمی مشورے سے اگر وہ کچھ اصول طے کرتے بھی ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں بلکہ انسانوں کی بندگی کا شعور شامل ہوتا ہے۔ اور یہ انسان کی ایسی کمزوری ہے جس میں بگڑے ہوئے انسان ہمیشہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہے ہیں۔ برائی میں ایک لذت ہے، خواہش کی پیروی انسان کے سفلی جذبات کو آسان کردیتی ہے۔ پیسے کی ہوس، آرام و راحت کی طلب اور بےمحنت عزت کی خواہش، ہمیشہ ہَوائے نفس کی منزل رہی ہیں۔ جب کوئی شخص اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی بندگی، اخلاق کی پابندی، حقوق کا شعور اور ایثار و قربانی کی تعلیم دیتا ہے تو اسے قبول کرنا انسان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ ان چیزوں کا نمائندہ بن کر جو اس کے لیے ہَوائے نفس نے منزل بنا رکھی ہیں ان چیزوں کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس میں چونکہ ہر دور کا انسان شریک رہا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی مخالفت ہر دور میں ایک ہی طریقے سے ہوتی رہی ہے۔ عاد وثمود میں بھی یہی بیماری تھی اور قریش میں بھی یہی کمزوری ہے۔ وہ دونوں اپنی کمزوریوں میں یکساں ہیں حالانکہ ایک دوسرے سے شناسا نہیں۔ آج ذرائع اور وسائل کی شکلیں تبدیل ہوئی ہیں لیکن ان کے محرکات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ظالم اگر کل تلوار سے ظلم کرتا تھا تو آج ٹینک، ہَوائی جہاز اور ہائیڈروجن بموں کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن دونوں میں ظلم کے محرکات میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اسی طرح آج کا ملحد اپنے الحاد کے لیے دلائل کے خواہ کتنے ہی انبار لگاتا رہے اس کے اس راہ پر جانے کے محرکات ابوجہل اور ابولہب سے مختلف نہیں۔
Ayahs 51:54–55

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس آپ ان سے اعراض کریں، پس آپ پر کوئی ملامت نہیں

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

نصیحت کرتے رہئے کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع پہنچاتی ہے

فَتَوَلَّ عَنْھُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ ۔ وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 54، 55) (پس آپ ان سے اعراض کریں، پس آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ نصیحت کرتے رہیے کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع پہنچاتی ہے۔ ) ان دو آیتوں میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو دو اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور آپ کے واسطے سے ہر اس داعی حق کو رہنمائی مہیا کی گئی ہے جو دعوت الیٰ اللہ کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد بنا چکا ہے۔ نامور مخالفین پر اتمامِ حجت ہوچکا، عام لوگوں میں تذکیر کی ہدایت پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آپ نے ان لوگوں پر تبلیغ و دعوت کے لیے ہر طریقہ آزما کے دیکھ لیا اور زیادہ سے زیادہ وقت بھی صرف کیا اور نہ جانے کتنا خون جگر نچوڑا۔ جن کے بارے میں آپ کا گمان یہ تھا کہ یہ لوگ اگر اسلام کے راستے پر آجائیں تو ان کی وجہ سے لوگوں میں اسلام ایک تحریک کی شکل اختیار کرلے گا۔ اور جو غریب لوگ اس انتظار میں ہیں کہ یہ لوگ جن کی ہم نے ہمیشہ پیروی کی ہے اگر اسلام کو اللہ تعالیٰ کے دین کے طور پر قبول کرلیں تو ہمیں اطمینان ہوجائے گا کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور اسی میں ہماری دنیا و عقبیٰ کی بھلائی ہے۔ لیکن آپ کی یہ مساعیِ جمیلہ نتیجہ خیز نہ ہوسکیں۔ اور جن لوگوں پر آپ نے محنت کی وہ پہلے سے زیادہ دین کے دشمن ثابت ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر دین سے بیزاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی محرومی کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ اب آپ مزید ان پر محنت نہ کریں۔ چونکہ یہ محنتوں اور اوقات کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن آپ یہ گمان نہ کیجیے کہ آپ کو اس کے بارے میں کوئی جواب دہی کرنا ہوگی اور شاید آپ پر اس کا کوئی الزام آئے کہ آپ کی بعثت جب اسی مقصد کے لیے ہوئی ہے تو پھر آپ اس کام کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کے لیے جس قدر محنت کرنا چاہیے تھی آپ اس سے بڑھ کر کرچکے۔ دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ دوسرے لوگوں میں اس کام کو جاری رکھئے، لیکن اس کا انداز ایسا ہو جس سے سب مستفید ہوسکیں۔ کیونکہ اصل مقصود تو ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہے جو قبولیتِ حق کے لیے مستعد ہوسکیں۔ اور اس کا علم ایک داعی حق کو بھی نہیں ہوتا کہ کون میری دعوت کو قبول کرے گا اور کون رد کردے گا۔ اس کا حل یہی ہے کہ اس کام کو مسلسل جاری رکھئے۔ جو لوگ اس کو قبول کرنا چاہیں آپ ان پر محنت کیجیے۔ کیونکہ یہ ایک نصیحت ہے جس کا فائدہ مومنوں ہی کو پہنچتا ہے۔ یعنی جو اس کو مانتے اور دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ محض تضییعِ اوقات کے لیے آپ سے بحث کرنا چاہیں آپ ان سے منہ پھیر کر دوسرے لوگوں کی اصلاح کی فکر کریں۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں آپ کی نصیحت جن کو نفع پہنچائے گی۔
Ayah 51:56

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 56) (میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ ) جن و انس کا مقصد تخلیق گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت کی گئی تھی کہ جو لوگ آپ کی مخالفت کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں اور کسی طرح بھی آپ کی بات سننے کے روادار نہیں تھے اور آپ کی خیرخواہی اور دلسوزی کو حماقت اور جنون کا نام دیتے ہیں۔ اپنی تبلیغی مساعی کے لیے انھیں موضوع اور ہدف بنانے کی بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ کیجیے جو آپ کی نصیحت کو کان لگا کر سنتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے اپنی مسلسل مساعی سے ایک طرح سے ان پر اتمامِ حجت کردیا ہے، اب اگر آپ ان سے روگردانی کرتے ہیں تو آپ پر ان کی ہدایت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اس سلسلے میں آپ سے جواب طلبی نہیں کی جائے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی مضمون کو آگے بڑھاتے اور مستحکم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اپنی بندگی کے لیے کیا تھا۔ ان کی تخلیق کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں۔ اور اسی کا احساس پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے نشانیاں کھولیں اور انھیں جاننے اور پہچاننے کے لیے حواس کی دولت سے بہرہ ور فرمایا، عقل کا نور عطا کیا، قوت تمیز بخشی اور قبولیتِ حق کی آسانی کے لیے فطرت کی رہنمائی مہیا کی۔ اور جو لوگ ان صلاحیتوں سے ہَوائے نفس کی پیروی کی وجہ سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں ان کے لیے اپنے رسول بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں، جنھوں نے ہر ممکن طریقے سے ان پر یہ بات واضح کی کہ ان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو چیز ان کی تخلیق کا مقصد ہے اس کی طرف سے لاپرواہی اور بےنیازی ان کی زندگی کا مقصد بن کر رہ گئی ہے۔ ایک اعتراض کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح انسانوں اور جنوں کا خالق ہے اسی طرح باقی تمام مخلوقات کا خالق بھی ہے۔ تو پھر اگر خالق ہونے کی وجہ سے اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے کوئی مقصد زندگی متعین کرے۔ تو پھر اس میں جنوں اور انسانوں کی تخصیص کیوں ؟ کیونکہ مخلوق ہونے میں تو تمام مخلوقات برابر ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ مخلوق ہونے میں تمام مخلوقات برابر ہیں۔ لیکن ایک صلاحیت ایسی ہے جو صرف جنوں اور انسانوں کو عطا کی گئی ہے باقی مخلوقات کو نہیں۔ وہ صلاحیت یہ ہے کہ جنوں اور انسانوں کو یہ اختیار بخشا گیا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں اور اگر نہ چاہیں تو انھیں نافرمانی کا اختیار بھی حاصل ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے منہ موڑ کر دوسروں کی بندگی بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن باقی جتنی مخلوقات ہیں انھیں اس طرح کی کوئی آزادی حاصل نہیں۔ وہ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام کے پابند ہیں اور ان کی زندگی کا راز ان احکام کی تعمیل میں ہے۔ لیکن اس کے برعکس جنوں اور انسانوں کے لیے ایک شریعت نازل کی گئی ہے جس کی پابندی اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے اس بندگی کو کرنے یا اسے نظرانداز کرنے کا انھیں اختیار حاصل ہے۔ دنیا میں اس حوالے سے ان کا مواخذہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ کبھی کبھی توجہ دلانے کے لیے آزمائشیں تو نازل ہوں گی اور اتمامِ حجت کے بعد عذاب بھی آسکتا ہے کیونکہ انھیں پیدا اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے اور قیامت کے دن اسی مقصد کی تعمیل نہ کرنے کے نتیجے میں انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔
Ayahs 51:57–58

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود ہی رزاق، زورآور اور قوت والا ہے

مَـآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَـآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ۔ (الذریٰت : 57، 58) (میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود ہی رزاق، زورآور اور قوت والا ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس بات کی وضاحت کے بعد کہ جنوں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ انسانوں کی بیشتر سرگرمیاں اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے ہیں۔ اس کے لیے مختلف شعبے اختیار کیے گئے ہیں اور ہر شعبے کے لوگ زندگی کا بیشتر حصہ اسی میں رزق تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ کاشتکار زمین سے رزق تلاش کرتا ہے، ایک ملازم اپنی تنخواہ سے، ایک تاجر اپنی تجارت سے۔ غرضیکہ مزدور سے لے کر حکمرانوں تک ہر شخص پر ایک ہی دھن سوار ہے کہ میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رزق حاصل کرلوں۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ رزق کے نام سے دولت کے انبار پیدا کیے جاتے ہیں جبکہ یہ رزق کا حصول اور دولت دنیا کی طلب اس کے مقاصد میں شامل نہیں۔ تو پھر اس کی تمام تر سرگرمیاں اس کے لیے وقف کیوں ہیں اور ہر شخص اسی کی طلب میں دیوانہ کیوں ہوا جارہا ہے۔ اسی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، اس کے دین کی حفاظت، اس کے دین کی سربلندی اور اسی کے راستے میں سب کچھ قربان کردینا یہ انسانی زندگی کے مقاصد اور اہداف ہیں۔ رہا رزق تو اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر نہیں بلکہ اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ البتہ طلب معیشت کا انسان کو خود ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن اس میں بھی اسے آلٰہ بنایا گیا ہے، تمام تر اس پر بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ جو شخص کاشت کرتا ہے وہ جسم کی جس توانائی اور عقل کے جس ہنر کو اس میں صرف کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اس کا اپنا پیدا کردہ نہیں۔ جس زمین کو پھاڑتا اور اس میں بیج ڈالتا ہے وہ زمین بھی اس کی نہیں اور نہ وہ بیج اس کا ہے۔ پھر اس پر سہاگہ دے کر بیج کے دفن کردینے کا انتظام کرتا ہے۔ لیکن بیج کے مرنے کی بجائے اس میں سے سوئی کی طرح ایک پتی کا نکلنا، پھر اس کا پودے کی شکل میں تبدیل ہونا، پھر اس کے ساتھ خوشوں کا لگنا اور ہر خوشے میں موتیوں کے طرح دانوں کا بھر جانا یہ کاشتکار کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ پھر ہَوائوں کا ان پودوں کو لوریاں دینا، سورج کی گرمی سے اس غلے کو پکانا اور چاند کی حلاوت سے اس میں گداز پیدا کرنا اور بادلوں سے پانی برسا کر اس کی آبیاری کا سامان کرنا یہ سب اللہ تعالیٰ کے کام ہیں جس میں بندے کا کوئی حصہ نہیں۔ بجز اس کے وہ ایک آلے کی طرح کام کرتا ہے۔ اسی پر رزق کے باقی ذرائع کو قیاس کرلینا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ ہم نے رزق کا حصول تمہاری ذمہ داری نہیں بنایا بلکہ اسے ہم نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اور نہ پروردگار یہ چاہتا ہے کہ انسان مجھے کھلائیں۔ اس میں ایک تعریض بھی ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ ان کو رزق مہیا نہیں کرتے بلکہ یہ ان کو رزق مہیا کرتے ہیں۔ بت خانے ان کی مدد سے چلتے ہیں، طاغوتی قوتیں ان سے توانائی حاصل کرتی ہیں۔ حتیٰ کے انتہائی جہالت میں بتوں کے سامنے پوڑی حلوہ اور مختلف مٹھائیاں رکھ کر اپنی ضمیر کو بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس طرح ہم ان کو رزق مہیا کرتے ہیں جبکہ رزق دینے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ سب فریبِ نظر ہے یا بہلاوے۔ ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا وہ یہ کہ جب کبھی ایمان لانے یا اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے وسائلِ رزق کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے اور کفر کی طرف سے مطالبہ کیا جائے کہ دین سے ہاتھ اٹھا لو ورنہ بھوکوں مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ، تو ان آیات میں تصور دیا گیا ہے کہ تمہیں اس اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو بڑی قوت والا، سب کو رزق دینے والا اور بہت زورآور ہے۔ وہ ایسی جگہوں سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کرکے قربانیوں کی تاریخ زندہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت خود اپنے اندر زادراہ رکھتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے دین کا کام کرنے والے کبھی فاقوں سے نہیں مرتے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے روزی کا کوئی نہ کوئی سامان فرما دے گا۔ آخر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیت کریمہ میں عبادت کو انسانوں اور جنوں کا مقصدتخلیق ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ عبادت محض نماز، روزے اور اس نوع کے دوسرے معمولات کا نام نہیں۔ اگرچہ نماز، روزہ بھی عبادات میں شامل ہے اور تسبیح و تہلیل بھی عبادت ہی ہیں، لیکن یہ عبادت کا پورا مفہوم نہیں۔ اس لفظ کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی پرستش، اطاعت، فرمانبرداری اور نیازمندی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے۔ ان کا کام کسی اور کے سامنے جھکنا، کسی اور کے احکام بجالانا اور کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے اور ہر دائرے کو اللہ تعالیٰ کے دین کی تحویل میں دینے کا نام ہے۔
Ayah 51:59

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ویسا ہی مقرر پیمانہ ہے جیسا ان ہی جیسے لوگوں کے لیے تھا، یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِھِمْ فَلاَ یَسْتَعْجِلُوْنِ ۔ (الذریٰت : 59) (پس ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ویسا ہی مقرر پیمانہ ہے جیسا ان ہی جیسے لوگوں کے لیے تھا، یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ ) قریش اور دیگر کفار کو تنبیہ ذَنُوْببھرئے ہوئے ڈول کو کہتے ہیں، خالی ڈول کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض دیہات یا بعض پبلک جگہوں میں ٹھنڈا پانی کم دستیاب ہوتا ہے تو ایسے کنویں تیار کیے جاتے ہیں جہاں سے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل کرسکیں۔ اور ایسے کنوئوں پر ڈول کھینچنے کی پھر کی لگائی جاتی ہے اور عام سائز سے بڑے ڈول لٹکائے جاتے ہیں۔ جب چند آدمی پانی لینے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں تو ان کی باریاں مقرر کردی جاتی ہیں اور اس طرح ہر شخص یا ہر گروہ اپنی باری پر پانی کھینچ لیتا ہے اور باہمی تصادم کی نوبت نہیں آتی۔ اس لیے بعض اہل لغت نیذَنُوْب کا ترجمہ باری سے بھی کیا ہے۔ آیت کریمہ میں ذَنُوْبسے مراد زندگی، یعنی مہلت عمل ہے جو ہر شخص کو عطا کی گئی ہے۔ افراد بھی اس مہلت عمل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور قومیں بھی۔ اپنی اپنی باری پر دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ جو قوم بھی اپنی باری پر دنیا میں آئی اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے ہر فرد کو عقل اور شعور کی دولت سے بہرہ ور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ اور یہ بتایا گیا کہ اگر تم نے اس مہلت عمل کو جو پیمانے کے طور پر تمہیں ملی ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اک ڈول ہے جسے تم نے بھرنا ہے۔ اگر تم نے اس مہلت عمل کو اپنے خالق ومالک کی ہدایت کے مطابق گزارا اور ڈول کو اس کی اطاعت سے بھر لیا تو یوں سمجھ لو کہ تم نے اپنی باری کا وقت ٹھیک گزارہ اور آخرت میں تم اس کا پھل کھائو گے اور اپنے بھرے ہوئے ڈول سے خوب تمتع کرو گے۔ لیکن اگر تم نے اس مہلت عمل کو غلط افکار اور غلط اعمال سے ظلم کے راستے پر ڈال دیا یعنی اس کی اصل حقیقت کو اور اس کے دینے والے کے حقوق کو جاننے اور تسلیم کرنے کی بجائے انکار کرکے اپنے اوپر اور اپنی فطرت پر ظلم کیا۔ تو پھر یاد رکھو تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو تم سے پہلے گزرنے والی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ انھیں بھی تمہاری ہی طرح سب کچھ عطا کیا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی اس مہلت عمل کا غلط فائدہ اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو تباہ کردیا۔ قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے خیالات و اعمال میں تمہارے ہی جیسے اور تمہارے ہی ہم مشرب تھے۔ وہ اگر اپنے غلط فیصلوں اور فطرت پر ظلم کے نتیجے میں غلط انجام کو پہنچے ہیں تو تم بھی ویسے ہی انجام کو پہنچو گے۔ اس لیے حقیقت کو سمجھنے اور اپنی مہلت عمل سے صحیح فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ اسی سے تمہاری دنیا و عقبیٰ سنور سکتی ہے لیکن اگر تم نے وہی رویہ اختیار کیا جو تم سے پہلے تمہاری ہم مشرب قوموں نے اختیار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں عذاب سے ڈرایا تو بجائے ڈرنے کے اور دلیر ہوگئے۔ اور بار بار استہزاء کے طور پر یہ کہنے لگے کہ وہ عذاب آکیوں نہیں جاتا اور آخر وہ کہاں رک کر رہ گیا ہے، تو آخر وہ ہلاک ہوگئے۔ تم بھی ان کی طرح مجھ سے عذاب مانگنے میں جلدی نہ کرو، ورنہ جس طرح وہ تباہ ہوئے اور یہ جسارت انھیں بڑی مہنگی پڑی یہی انجام تمہارا بھی ہوگا۔
Ayah 51:60

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا، ان کے اس دن کے سبب سے جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 60) (پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا، ان کے اس دن کے سبب سے جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے۔ ) آخرت کا انکار تباہ کن ثابت ہوگا اللہ کے نبی اور رسول اپنی قوموں کو دو باتوں سے ڈراتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر تم نے ہماری تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے دین کو ماننے سے انکار کیا اور آخرت کو محض ایک افسانہ سمجھا اس پر یقین کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے رہے تو یہ کفر کا رویہ تمہارے لیے عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر آئے گا اور تمہیں ہلاک کردے گا۔ اور دوسری جس بات سے ڈراتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت تم پر عذاب نہ بھیجا تو آخرت کے عذاب سے تم کسی طرح نہ بچ سکو گے۔ چناچہ وہ لوگ جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے انھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انکار کیا بلکہ وہ آخرت کا بھی تمسخر اڑاتے رہے۔ اور بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر وہ جہاز کہاں لنگرانداز ہوگیا ہے جو ہم تک پہنچنے نہیں پا رہا۔ ان کے حوالے سے قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ بھی اپنی زندگیوں میں اس طرح کی جسارتیں کرتے رہے اور انھوں نے کفر ہی کا رویہ اختیار کیے رکھا تو انھیں آخرت کے جس دن سے ڈرایا جاتا رہا اور تنبیہ کی جاتی رہی ہے قیامت کے دن اسی دن کے باعث ان پر بڑی تباہی آئے گی۔ وہ ایسے عذاب سے دوچار کیے جائیں گے جس کا انھیں سان گمان بھی نہ تھا۔