Ayah 50:1قٓ قف ج وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ۔ (قٓ: 1)
(قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی۔ )
قسم اور جوابِ قسم کی وضاحت
قٓ … حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ اس کی مراد اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ مجید بزرگ، باعظمت اور برتر کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اس آیت میں جس طرح قرآن کریم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بھی آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی عظیم ہے اور یہ قرآن بھی عظیم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ متکلم اگر بزرگ و برتر ہوگا تو کلام بھی بزرگ و برتر ہوگا۔ اسی وجہ سے قرآن کریم کی کوئی مثال لانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں۔ خود قرآن کریم نے مخالفین کو بار بار چیلنج کیا ہے کہ تم اس جیسا قرآن بنا کر لائو اور پھر کہا کہ یہ تمہارے بس میں نہیں تو اس قرآن جیسی دس سورتیں بنا لائو۔ اور جب اس پر بھی خاموشی رہی تو پھر صرف ایک سورة لانے کا چیلنج دیا۔ لیکن مخالفین اپنی برہنہ اور خونخوار مخالفت کے باوجود اس کام کے لیے کبھی تیار نہ ہوئے۔ اور ویسے بھی جو شخص قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان کا ذوق عطا فرمایا ہے اور وہ اس ذوق کو کسی عصبیت کے حوالے نہیں کرچکا تو وہ قرآن کریم کو پڑھتا ہوا اس کی عظمت اور اس کی معجزانہ حیثیت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتا۔
آیت میں قرآن مجید کی قسم کھائی گئی ہے اور ہم یہ بات بار بار واضح کرچکے ہیں کہ قسم اپنے جوابِ قسم یا مقسم علیہ پر دلیل ہوتی ہے۔ اور اس سے مقسم علیہ کے ثبوت میں مدد ملتی ہے۔ لیکن یہاں مقسم علیہ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کلام کا سیاق وسباق مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہو وہاں بعض دفعہ قرآن کریم میں اسے حذف کردیا گیا ہے۔ سورة ص کی پہلی آیت اس کی مثال ہے کہ وہاں بھی قرآن کی قسم کھائی گئی ہے لیکن مقسم علیہ کو ذکر نہیں کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا وہ مقسم علیہ کون ہے جو سیاق کلام سے خود واضح ہوتا ہے اور قسم سے اس پر دلیل لائی گئی ہے۔ دراصل قرآن کریم کے مخالفین اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کے منکرین کی تردید میں یہ قسم لائی گئی ہے۔ مخالفین قرآن کریم کو کبھی کہانت سے تشبیہ دیتے اور کبھی شاعری قرار دیتے۔ اور اس کی تاثیر کو دیکھتے ہوئے کبھی سحر کا الزام لگاتے اور کبھی القائے شیطانی کہہ کر گستاخی کا ارتکاب کرتے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم اس بات پر شاہد اور دلیل ہے کہ اس پر ان چیزوں میں سے کسی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خود اہل عرب میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تمام اصنافِ سخن سے واقف ہیں۔ اور شعر کی ہر قسم کو پہچانتے ہیں۔ اس لیے جب ان کی دیانت کا حوالہ دے کر ان سے پوچھا جائے کہ کیا قرآن کریم شاعری ہے تو وہ صاف انکار کریں گے کہ قرآن کریم میں ایسی کوئی بات نہیں۔ ولید سے جب کہا گیا کہ قرآن کریم کو شعر قرار دیا جائے یا آپ ﷺ کو کاہن کہا جائے تو اس نے دونوں کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہ قرآن کریم شعر ہے اور نہ حضور ﷺ کاہن ہیں۔ کیونکہ کاہنوں کے کلام کو ہم سن چکے اور واقف ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم نے تو سحر کو حرام قرار دیا ہے، خود اس پر سحر ہونے کی پھبتی تو کسی جاسکتی ہے لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اس کو القائے شیطانی وہ شخص کہہ سکتا ہے جو شیطان کا ایجنٹ ہو۔ ورنہ جس کتاب نے شیطنت کے ہر طلسم کو پامال کیا ہے وہ خود القائے شیطانی کیسے ہوسکتی ہے۔ چناچہ ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے خود قرآن کریم کو اس کی دلیل بنایا گیا ہے کہ تم خود دیکھو کہ قرآن کریم کی مخالفت میں ایسی کوئی بات کہنا کیا انصاف ہے ؟
Ayahs 50:2–3بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ فَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا شَیْ ئٌ عَجِیْبٌ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تَرَابًا ج ذٰلِکَ رَجْعٌ م بَعِیْدٌ۔ (قٓ: 2، 3)
(بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا اس بات پر کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا، تو کافروں نے کہا، یہ تو عجیب بات ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو عقل سے بہت دور کی بات ہے۔ )
مخالفین کی مخالفت کی اصل علت
بَلْ…اضراب اور اعراض کے لیے ہوتا ہے۔ تو یہاں بَلْ کا استعمال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مخالفین جو قرآن کریم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہہ رہے ہیں یہ ان کی ساری باتیں اور ان کے تمام اعتراضات اصل حقیقت سے فرار کا بہانہ ہیں۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی تردید کے لیے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے انکار اور آپ کی رسالت کا اقرار کرنے سے گریز درحقیقت اس وجہ سے ہے کہ انھیں اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ایک شخص ان ہی کے اندر سے اٹھ کر انھیں انذار کرنے لگا ہے۔ یعنی اس نے یک لخت نبوت کا دعویٰ کردیا ہے۔ اس نے چالیس سالہ عمر ہمارے اندر گزاری ہے۔ کبھی ہم نے اس طرح کی کوئی بات اس سے محسوس نہیں کی۔ اب جو اچانک اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، مجھ پر اللہ تعالیٰ کا کلام اترتا ہے، جبرئیل امین میرے پاس وحی لے کر آتے ہیں، میں دنیا میں اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور اس کا سفیر ہوں، یہ تو نہایت تعجب کی بات ہے۔ نبوت اور رسالت بڑا منصب ہے۔ بندوں اور خدا کے درمیان سفارت کا فرض انجام دینا بڑی نزاکتوں کا طالب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کا متحمل ہونا ایک غیرمعمولی بات ہے۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی کا انسانوں کی ہدایت کے لیے اٹھ کھڑا ہونا سراسر ایک نامعقول بات ہے۔ چلیے اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت کے لیے کسی انسان ہی کے انتخاب کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر اس کے لیے تو کوئی بڑا دولت مند، برا سرمایہ دار اور بڑی دولت و رفاہیت کا مالک کوئی سردار ہونا چاہیے تھا جس کی عظمت کو سب لوگ تسلیم کرتے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے عظیم منصب کے لیے نگاہ انتخاب پڑے بھی تو اس شخص پر جو ہم میں سب سے غریب آدمی ہے، جو یتیم پیدا ہوا اور وراثت میں اسے صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی ملی، بچپن اس کا بکریاں چراتے ہوئے گزرا۔ اب اس نے کچھ تجارت کے ذریعے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے تو تمام بڑے بڑے سرداروں کو نظرانداز کرکے اسے اس کام کے لیے چن لیا جائے، یہ تو بہت تعجب کی بات ہے۔ اور اس پر مزید تعجب یہ ہے کہ ہمیں وہ جس بات سے انذار کررہا ہے وہ یہ ہے کہ موت مکمل خاتمے کا نام نہیں بلکہ دنیوی زندگی سے نکل کر موت کے ذریعے آدمی برزخی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے۔ پھر ایک دن آئے گا جب تمام کائنات تباہی کا شکار ہوجائے گی۔ اور اس تباہی کے بعد پھر سب کو زندہ کیا جائے گا اور جواب دہی کے لیے انھیں میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر کردیا جائے گا اور وہاں ایک ایک عمل کا جواب دینا پڑے گا۔ تو یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے جبکہ ہم مٹی ہوچکے ہوں گے، ہماری ہڈیاں بھی خاک میں تبدیل ہوچکی ہوں گی اور کتنے ایسے لوگ ہوں گے جن کے جسم کے اجزاء بھی نہ جانے ہَوائوں نے کہاں کہاں بکھیر دیئے ہوں گے۔ ان تمام بکھرے ہوئے اجزاء کو دوبارہ جمع کرکے انسانی جسموں میں تبدیل کرکے زندہ انسان بنا کے کھڑا کردینا یہ تو ایسی بات ہے جو انسانی عقل سے بہت بعید ہے۔ یہ ہیں درحقیقت تعجب کے دو اسباب، جن کی وجہ سے مشرکین نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کو حرف تنقید بنایا۔
Ayah 50:4قَدْعَلِمْنَا مَا تَنْقُضُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ ج وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ۔ (قٓ: 4)
(ہم نے جان لیا ہے جو کچھ زمین ان سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔ )
مخالفین کے اشکالات کا جواب
اس مختصر سی آیت میں پروردگار نے مخالفین کے اشکالات کا جواب دیا ہے۔ انھیں اشکال دو حوالوں سے تھا۔ ایک تو یہ کہ ہزاروں سال پہلے جو لوگ مرچکے ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی اکثریت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ ان کی قبریں کہاں ہیں۔ کتنے قبرستان ہیں جو آبادیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اور کتنی آبادیاں ہیں جو قبرستانوں میں بدل چکی ہیں۔ اور ان میں دفن ہونے والے جسموں سے محروم ہو کر نہ صرف مٹی میں تبدیل ہوچکے ہیں بلکہ ان کے جسموں کے اجزاء نہ جانے کہاں کہاں بکھر چکے ہیں۔ آخر ان اجزاء کا ازسرنو جمع کرنا، پھر ہر ہر جسم کی الگ الگ تشکیل اور پھر ان کو حیات نو دے کر میدانِ حشر میں پہنچانا، یہ کس قدر بعیداز عقل باتیں ہیں۔ اور ایسی باتوں کو کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
ان کے انکار کا دوسرا حوالہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسانوں کو درحقیقت اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے اور ہر انسان اپنی زندگی میں لاکھوں اعمال بجالاتا ہے جن کے محفوظ رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو پھر ان کی جواب دہی کیسے کی جائے گی۔ ان دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ ارشاد فرمایا کہ تمہیں درحقیقت یہ اشکالات اس لیے پیش آرہے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ اگر تمہیں اس کی صفت علم اور صفت قدرت کا صحیح ادراک ہوتا تو تمہیں یہ اشکالات کبھی پیش نہ آتے۔ اس کا علم ہماری طرح حدودوقیود کا پابند نہیں۔ اور نہ اس کی قدرت ممکن اور ناممکن کے سانچوں میں ڈھل کے نکلتی ہے۔ وہ جس طرح ماضی کو جانتا ہے حال اور مستقبل کو بھی جانتا ہے۔ جو لوگ پہلے مرچکے اور جو آئندہ موت کا شکار ہوں گے ان کی پوری تفصیلات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ ان کے جسمانی اجزاء کہاں کہاں بکھرے اور کہاں کہاں موجود ہیں وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔ کوئی شخص کہاں دفن ہوا اور پھر اس سرزمین میں کیا تبدیلیاں آئیں، اس کا علم اس کی کتاب میں محفوظ ہے۔ وہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جسے زمانے کا سفر کہنہ نہیں کرسکتا۔ اور کوئی چیز اس سے مٹائی نہیں جاسکتی۔ رہے انسانوں کے احوال اور ان کے افوال و اعمال وہ بھی اس کی کتاب حفیظ میں لکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے انکار کرنے والوں کو جن محرکات کے تحت اشکالات پیش آئے ہیں ان کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے آگاہ نہیں۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا استحضار کیا ہوتا تو انھیں کبھی یہ اشکالات پیش نہ آتے اور قیامت کا انکار کرنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی۔
Ayah 50:5بَلْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ فَھُمْ فِیْٓ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ ۔ (قٓ: 5)
(بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا ہے جبکہ وہ ان کے پاس آچکا ہے، پس وہ ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
مخالفت کی حقیقت
مخالفین کی مخالفت کے تاروپود کو بکھیرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ ان کی مخالفت کی حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے غور و فکر کیے بغیر دشمنی میں آکر حق کی تکذیب کردی۔ حق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور قیامت بھی۔ لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اور بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ ایک انسان جو عام انسانوں جیسا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ اور پھر ان کے انکار کو مزید ہوا اس چیز سے ملی کہ آنحضرت ﷺ نے انھیں قیامت کے آنے سے انذار کیا اور بار بار تنبیہ فرمائی کہ تم ایک روز جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کھڑے کیے جاؤ گے۔ تو اگر تم نے اس زندگی میں اس کے لیے تیاری نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے حضور ﷺ اپنے اقوال و اعمال کا کیسے جواب دے سکو گے۔ لیکن انھوں نے ان میں سے ہر بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ پہلے اگر وہ قیامت کا انکار کردیتے تو کہا جاسکتا تھا کہ ان کی امیت اور بیخبر ی ان کے انکار کا باعث ہے۔ لیکن اب جبکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی ان میں بعثت ہوگئی اور قرآن کریم ان کے پاس آگیا تو اب ان کے انکار کی کوئی وجہ نہ تھی۔ کیونکہ جب تک سورج تاریکی میں چھپا ہوا ہے تو انکار کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن وہ جب سر پر آکر چمکنے لگے تو پھر انکار اندھے پن سے بھی بڑھ کر کسی اور بات کی دلیل ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ درحقیقت ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ آیت کریمہ میں اَمْرٍ مَّرِیْجٍ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مریج لغت میں مختلط کو کہتے ہیں۔ اَمْرٍ مَّرِیْجٍکا معنی ہوگا، امرِمختلط یا امرملتبس۔ اور یہ ایسے امر کو کہتے ہیں جس میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو۔ اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے۔ اس لیے حضرت ابوہریرہ ( رض) نے مریج کا ترجمہ فاسد سے فرمایا۔ اسی کو ذہنی الجھن سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسی الجھن کا شکار وہی شخص ہوتا ہے جو تضادفکر میں مبتلا ہو۔ اور ان لوگوں کا یہی حال تھا کہ ایک طرف یہ اللہ تعالیٰ اور اس کی ان تمام صفات کا اقرار کرتے تھے جو قیامت کو لازم کرتی ہیں۔ اور دوسری طرف قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بدہی تقاضا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ پر بھی کبھی شاعر ہونے، کبھی کاہن ہونے اور کبھی مجنون ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور کبھی آپ کو جادوگر کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ذہنی الجھن کا شکار ہیں کہ انھوں نے جلد بازی میں آکر انکار تو کردیا لیکن اب اس انکار کے اثبات کے لیے کوئی ایک بات ان کے پاس ایسی نہیں جسے وہ دلیل میں پیش کرسکیں۔
Ayahs 50:6–8اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـھَا وَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ ۔ وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ ۔ تَبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (قٓ: 6 تا 8)
(تو کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا، کیسے ہم نے اس کو بنایا اور آراستہ کیا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں۔ آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ )
پہلی آیت کی تشریح میں صاحب تفہیم القرآن نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے ہم اسے نقل کررہے ہیں۔
یہاں آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جسے انسان شب و روز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے۔ جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بےحدوحساب تارے روشن نظر آتے ہیں جسے آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہوجاتی ہے، لیکن اگر دوربین لگالے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو ناپیدا کنار ہے، کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنے بڑے عظیم لاشان سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم 3 ارب دوسرے تارے (توابت) موجود ہیں، اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی دس لاکھ کہکشائوں کا پتہ دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشائوں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور اس کے مشاہدہ میں آئی ہے۔ خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کرسکتے۔ ہوسکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات اس پوری کائنات کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کارگاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوانِ ناطق جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہوجائے گی !
یعنی اپنی اس حیرت انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظام کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں ہے اور اس کا تسلسل کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جدید زمانے کے ریڈیائی ہیئت دانوں نے ایک کہکشاں نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ منبع 3 ج 295 (Source 3g 295) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعاعیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ چار ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہوں گی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرکے دراصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشان دہی بھی نہیں کرسکتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور کہاں سے تمہارے دماغ میں آگیا کہ تمہاری مہلت امتحان ختم ہوجانے کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمہیں پھر زندہ کرکے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں گا۔
یہ صرف امکانِ آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے۔ چار ارب سال نوری (Light Year) کی مسافت سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا اور یہاں انسان کے بنائے ہوے آلات کی گرفت میں آنا صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کہکشاں سے لے کر زمین تک کی پوری دنیا مسلسل ایک ہی مادے سے بنی ہوئی ہے، ایک ہی طرح کی قوتیں اس میں کارفرما ہیں، اور کسی فرق و تفاوت کے بغیر وہ سب ایک ہی طرح کے قوانین پر کام کررہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ شعاعیں نہ یہاں تک پہنچ سکتی تھیں اور نہ ان آلات کی گرفت میں آسکتی تھیں جو انسان نے زمین اور اس کے ماحول میں کام کرنے والے قوانین کا فہم حاصل کرکے بنائے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور حاکم و مدبر ہے۔
ربوبیت کے اہتمام کی طرف توجہ
پروردگار نے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلانے کے بعد دوسری آیت کریمہ میں ربوبیت اور پرورش کے اہتمام کی طرف توجہ دلانے کے لیے زمین پر غور کرنے کی ہدایت کی کہ ذرا زمین کو دیکھو جس میں ہم نے تمہارے لیے خوان ربوبیت بچھا رکھا ہے، اسے ہم نے کیسے پھیلایا۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ آج سے ہزارہا صدیاں پہلے ایک بہت بڑا ستارہ سورج کے قریب سے گزرا۔ زورِکشش سے سورج کے چند ٹکڑے کٹ کر خلاء میں گھومنے لگے، ان میں سے ایک زمین تھی۔ ان ٹکڑوں کو قریب کے ستاروں نے کھینچ کر متوازن کردیا۔ اس وقت اس کا درجہ حرارت وہی تھا جو سورج کا ہے، یعنی 12000 فارن ہائیٹ۔ جب یہ حرارت کم ہوتے ہوتے 4000 ہزار فارن ہائیٹ ہوگئی تو زمین کو پھیلا کر وہ شکل دی گئی جس پر آج ہم رہ رہے ہیں۔ یہ بالکل چپٹی نہیں بلکہ نارنگی کی شکل کی ہے تو اس نے ڈولنا شروع کردیا۔ اسے پرسکون کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔ لیکن اس کا پارہ ٔ حرارت وہی رہا جو اس کے پھیلانے کے وقت تھا۔ بعض پہاڑوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آتشی لاوا اگلتے ہیں۔ وہ لاوا دراصل وہی ہے جو اس کے پیٹ میں مضمر ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ زمین جو اپنے پیٹ میں 4000 ہزار فارن ہائیٹ گرمی رکھتی ہے انسان نہ صرف اس کے اوپر نہایت پرسکون زندگی گزارتا ہے بلکہ اسی سے ٹھنڈے پانی کے چشموں بھی ابلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگ کے اس گولے پر نہایت خوش منظر نباتات بھی اگا رکھی ہیں جو ہماری لذت کام و دہن کے کام بھی آتی ہیں اور ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے بھی۔ جس طرح لذت کام و دہن میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت نے وہ فراوانی پیدا فرمائی ہے کہ انسان انھیں دیکھ کر آج دنگ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے بھی رنگا رنگ پھول اگائے ہیں، خوش منظر چھتریوں والے درخت ہمارے چاروں طرف سایہ کیے کھڑے ہیں، پہاڑوں میں چیڑوں کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں، گھٹائیں جب جھوم کی اٹھتی ہیں اور چشموں میں جب چاندی ڈھلتی ہوئی بہتی ہے اور دریا کروٹیں بدلتا ہوا کبھی ندی نالوں میں اور کبھی ٹھاٹھیں مارتا ہوا میدانی علاقوں میں اپنی جولانیاں دکھاتا ہے تو انسان اس کے حسن میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس نظام ربوبیت کو دیکھ کر ہماری آنکھیں کھلیں۔ ہماری آنکھوں میں وہ نور پیدا ہوا جو ظاہر کے پیچھے باطن کو دیکھ سکے اور ہم وہ نصیحت حاصل کرسکیں جو اس کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا دل رکھتا ہے، جس کے غور و فکر کی قوتیں صرف ظاہر میں الجھ کر نہیں رہ جاتیں بلکہ وہ ایک ایک پتے کو حقیقت کا ترجمان سمجھ کر حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔
Ayahs 50:9–11وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۔ وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ۔ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ لا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ط کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ ۔ (قٓ: 9 تا 11)
(اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا برکت والا، جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی، جن پر تہ بہ تہ خوشے ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح ہوگا زمین سے نکلنا بھی۔ )
گزشتہ مضمون میں ایک اور پہلو سے اضافہ
گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی آنکھوں کو روشن کرنے اور غور و فکر کو جلا دینے کے لیے جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے آسمان سے پانی اتارا، ایک تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی کرنوں نے سمندر اور دریائوں سے اپنی کرنوں کے ذریعے بھاپ کا ذخیرہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اسے فضاء میں ابر کی صورت دے دی۔ پھر اس کے حکم سے ہَوائوں نے اسے اس کی مشیت کے مطابق برسایا۔ اس طرح سے اس نے زمین کی آبیاری کا سامان کیا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ جس طرح قدرت نے اوپر فضاء میں ایک کُرّہِ ہَوائی بنا رکھا ہے جہاں سے ہمیں آکسیجن ملتی ہے۔ اسی طرح اس نے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق پانی کا ایک کُرّہ بھی بنا رکھا ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ آسمانوں سے پانی کے اترنے کا یہ مفہوم ہو کہ پانی براہ راست اس کُرّے سے اترتا ہے اور ہمارے لیے ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن یہ پانی وہ ہے جس کو مائِ مبارک کہا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ بارش ہے جو زرخیزی اور شادابی کا باعث بنتی ہے۔ اور اس سے یہ تنبہ کرنا مقصود ہے کہ اس کی صفت ربوبیت کے تقاضے سے ایسی بارش نازل ہوتی ہے جو شادابی کا باعث بنتی ہے لیکن اس کی قدرت سے بعید نہیں کہ وہ جب چاہے پانی کو شادابی کا ذریعہ بننے کی بجائے تباہی اور عذاب کا ذریعہ بنادے۔ لیکن یہ تب ہوتا ہے جب انسانوں پر اتمامِ حجت ہوجائے۔ ورنہ نعمت کے طور پر جو بارش زمین پر اترتی ہے وہ مائِ مبارک لے کر آتی ہے اور پھر اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ باغات بھی پیدا کرتا ہے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔ جنات سے مراد وہ باغات ہیں جن میں قسم قسم کے پھل اگائے جاتے ہیں۔ جو غذا کا سامان بھی بنتے ہیں اور کام و دہن کی لذت کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔ اور جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے ایسے پھول اگائے جاتے ہیں جو اپنی شادابی اپنے رنگ اور اپنی ملائمت سے قلب و نگاہ کو لذت فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بارش سے ایسے غلوں کی فصل بھی لہلہانے لگتی ہے جو انسانوں کی سال بھر کی خوراک کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ایسا غلہ جو کاٹ کر کھلیان کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے اور وہ صرف فوری ضرورت کے لیے نہیں بلکہ طویل ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کے کام آتا ہے۔ مزید فرمایا کہ ہم نے ان باغوں میں کھجوروں کے بلندوبالا درخت بھی پیدا کیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے تہ بہ تہ خوشے لٹکتے نظر آتے ہیں۔ جنات کے ذکر کے بعد بظاہر نخل کے ذکر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن یہاں اسے دو وجہ سے ذکر کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی بھی باغ کی خوبی اور رعنائی باغ کے چاروں طرف کھجور کے بلند وبالا درختوں کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو ان کے تفکہ کے کام بھی آتا تھا اور غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔ وہ اپنے اسفار میں خاص طور پر کھجور اور ستو سے اپنی غذائی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ لیکن کھجور کے ذکر کے ساتھ اس کی دراز قامتی اور اس کے تہ بہ تہ خوشوں کا ذکر غذائی ضرورت کے ساتھ ساتھ انسان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سامان بھی ہے اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ حیوانوں کی طرح صرف پیٹ بھرنے کی فکر نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ذوق کو غذا بھی فراہم کرنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد رِزْقًا لِّلْعِبَادِ ارشاد فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ہماری ربوبیت کا وہ فیضان ہے جس کے لیے ہم نے باغات اگائے ہیں، قسم قسم کے پھلدار پودے اٹھائے ہیں اور مختلف قسم کے غلوں کی فصلیں لہلہائی ہیں تاکہ میرے بندوں کو اس کا احساس ہو کہ ہمارا پروردگار اپنی ربوبیت پر ہم پر کس قدر مہربان ہے اور اس نے کس قدر نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ ان کا ہلکا سا مراقبہ اور معمولی غور و فکر بھی آدمی کو یہ توجہ دلانے کے لیے کافی ہے کہ آخر ان سب نعمتوں کا ملنا بےسبب تو نہیں۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ہم سے ان نعمتوں کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے جواب طلبی کی جائے گی۔ اس کے بعد آیت کے اصل مدعا کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس مائِ مبارک سے ہم نے تمہارے لیے خوان ربوبیت بچھایا ہے اسی مائِ مبارک کا یہ کرشمہ بھی ہے کہ بارش نازل ہونے سے پہلے جو زمین بالکل مردہ، سبزہ سے تہی دامن اور روئیدگی کے اعتبار سے بانجھ معلوم ہوتی ہے بارش کے چند چھینٹے پڑنے سے اس کے دامن سے حیات تازہ نمودار ہوتی ہے۔ جہاں برسوں بارش کا کوئی چھینٹا نہیں پڑا تھا جس کی وجہ سے ہر طرف صحرا کا ایک منظر تھا، دھول اٹھ رہی تھی اور ہر چیز زندگی سے محروم ہوچکی تھی، نہ کہیں حشرات الارض کا وجود تھا اور نہ کہیں گھاس کی کوئی پتی نظر آتی تھی، لیکن بارش کے چند چھینٹے پڑنے کے بعد نہ جانے زمین کی تہوں سے کیسے حشرات الارض نمودار ہوجاتے ہیں، نباتات کی کونپلیں نکل آتی ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے سبزے کا ایک فرش بچھ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو پروردگار تمہیں اس فراوانی کے ساتھ بیشمار نعمتیں دینے پر قادر ہے اور جس کی بارش کے چند چھینٹے مردہ زمین کو حیات تازہ بخش سکتے ہیں کیا وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ تمام مخلوقات کا دوبارہ زندہ ہونا کوئی اعجوبہ نہیں۔ بالکل ایسا ہی عمل ہے جیسے بارش سے برسوں کی محروم زمین اور اس کی تہوں میں مرجانے والے حشرات الارض بارش کے نازل ہونے کے بعد زندہ ہوجاتے ہیں۔ مدت دراز سے جن کی کبھی شکل تک نہ دیکھی، رات کو ان کے ٹرانے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ تو اسی طرح انسان بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اشارہ پا کر زمین سے نکلیں گے اور میدانِ حشر میں پہنچ جائیں گے۔
Ayahs 50:12–14کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُ ۔ وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ط کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 12 تا 14)
( ان سے پہلے قوم نوح، اصحابُ الرس، ثمود۔ عاد، فرعون، لوط کے بھائی۔ اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا، تو ہماری وعید ان پر چسپاں ہو کر رہ گئی۔ )
تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے قریش کو تہدید
اس آیت میں قریش کو تہدید کی گئی ہے اور تاریخ کا آئینہ دکھا کر انھیں اپنے رویئے پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یعنی تم نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا ہے تم سے پہلے بھی ایسے بدنصیب گزر چکے ہیں جنھوں نے یہی حرکت کی تھی اور تم ان کی تاریخ سے واقف ہو۔ ان میں قوم نوح بھی ہے اور اصحابُ الرس بھی۔ اور ثمود بھی ہیں اور عاد بھی۔ اور فرعون اور لوط کے بھائی بھی۔ اسی طرح اصحابُ الایکہ اور قوم تبع بھی۔ ان سب کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان میں سے ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی، بلکہ اس کے قتل کے درپے ہوگئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول بار بار ان کو تنبیہ کرتے رہے کہ اگر تم نے اپنے رویئے میں تبدیلی نہ کی تو تم پر خدا کا عذاب آسکتا ہے۔ لیکن وہ جب راہ راست پر نہ آئے تو آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا اور انھیں تباہ کردیا گیا۔ قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم بھی اسی راستے پر جارہے ہو اور یہ تباہی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ جب بھی کسی قوم کی طرف اپنے رسول کو بھیجتا ہے تو انھیں سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ لیکن جب یہ مہلت عمل کی مدت گزر جاتی ہے اور وہ لوگ رسول کی تکذیب سے باز نہیں آتے تو آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں تباہ کردیتا ہے۔ تو قریش کو بھی بار بار آنحضرت ﷺ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا۔ اور اب ان سے صاف صاف یہ بات کہی جارہی ہے کہ اگر تم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو پھر یاد رکھو کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو متذکرہ بالا قوموں کا ہوا ہے۔
جن قوموں کا یہاں ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی قوم بھی ایسی نہ تھی جس کو قریش اور اہل عرب کسی نہ کسی حد تک جانتے نہ ہوں۔ البتہ ان میں اصحابُ الرس ایسے ضرور ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو مرتبہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے سورة الفرقان کی آیت 38 میں اور اب دوسری مرتبہ یہاں اس کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن دونوں جگہ نام کے سوا کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ عرب کی روایات میں الرس کے نام سے دو مقام معروف ہیں۔ ایک نجد میں اور دوسرا شمالی حجاز میں۔ لیکن یہاں کون سا مقام مراد ہے اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ بعض لوگوں نے الرس کا ترجمہ کنواں کیا ہے۔ اور پھر اس پر یہ روایت بیان کی ہے کہ یہ کوئی ایسے پیغمبر ہیں جنھیں ان کی قوم نے کنویں میں لٹکا دیا تھا۔ لیکن یہ روایت مصدقہ نہیں اور ویسے بھی اگر الرس کا ترجمہ کنواں بھی کیا جائے تو تب بھی ضروری نہیں کہ اس سے یہ مراد لیا جائے کہ انھیں کنویں میں لٹکایا گیا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الرس نام کا کوئی کنواں تھا جس پر ایک قوم آباد تھی۔ کیونکہ عرب میں بعض چشموں اور کنویں پر بعض قبائل آباد ہوجاتے تھے جو بڑھتے بڑھتے قوم کی شکل اختیار کرجاتے تھے۔ تو چونکہ ان کی آبادی کا آغاز کنویں پر ہوتا تھا اس لیے انھیں ہمیشہ کنویں والے کہہ کر ہی پکارا جاتا تھا۔ یہاں بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔ البتہ اس کا ذکر چونکہ قوم نوح کے بعد آیا ہے اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوامِ بائدہ سے ہے جن کا زمانہ قبل از تاریخ کا زمانہ کہا جاتا ہے۔
قومِ تُبع سے عرب پوری طرح واقف تھے۔ سورة سبا میں ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ تُبع بنو حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ اور یہ قوم سبا کی ایک شاخ کہے جاتے ہیں۔
پیشِ نظر آیت میں تکذیب کرنے والی قوموں کا ذکر ہوا، لیکن فرعون کا ذکر کرتے ہوئے اس کی قوم کا ذکر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ صرف فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب نہیں کی بلکہ اس کی قوم نے بھی کی۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرعون نے اپنی قوم پر ایسی آمریت قائم کر رکھی تھی کہ قوم کے افراد کی کوئی آزادانہ رائے اور عزیمت باقی نہیں رہی تھی۔ جبر اور استبداد نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مائوف کردی تھیں۔ وہ فرعون کے دماغ سے سوچتے اور پھر اس کی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہُ وَمَا ھَدٰی ” فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی۔ “ اس صورتحال کی وجہ سے یہاں اس کی قوم کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
Ayah 50:15اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ط بَلْ ھُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ (قٓ: 15)
(کیا ہم پہلی بار تخلیق کرنے سے عاجز رہے بلکہ یہ لوگ نئی تخلیق کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں۔ )
نقشِ اول سے نقش ثانی کے وجود پر استدلال
آیت گیارہ کے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اولاً تو دلائل کے ساتھ ہم آخرت کے وقوع کو واضح کرچکے ہیں۔ لیکن جو لوگ اب بھی اس سامنے کی بات کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ تم خود اس بات کے قائل ہو کہ زمین اور آسمانوں کے خالق ہم ہیں۔ کائنات کی کوئی مخلوق ایسی نہیں جسے ہمارے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہو۔ تو کیا ہم جب پہلی مرتبہ کائنات کو تخلیق کررہے تھے تو تمہارے خیال میں تخلیق کے کسی مرحلے میں ہمارا عجز ظاہر ہوا۔ بلکہ تم عقیدہ رکھتے ہو اور یہ صحیح بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بڑے یا چھوٹے کام کو کرنا اور کسی چیز کو وجود دینا صرف ایک حکم کا طالب ہے۔ اس کے ” کُن “ کہنے سے ہر چیز وجود میں آئی ہے تو کیا اس کی قوت تخلیق اب عجز کا شکار ہوگئی ہے کہ وہ مخلوق کو ازسرنو زندہ نہیں کرسکتا۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے، نقشِ ثانی میں تو کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ لیکن یہ لوگ تخلیق کے مرحلے میں ایسے الجھ کے رہ گئے ہیں کہ خود اپنے ہی عقائد کیخلاف اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔
Ayah 50:16وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بُہٖ نَفْسُہٗ صلے ج وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ۔ (قٓ: 16)
(اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں جو وسوسے اس کے جی میں گزرتے ہیں، اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ )
مشرکین کے اشتباہات کو رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے علم سے استدلال
قیامت کو تسلیم کرنے کی راہ میں مشرکین کے لیے جو خیالات رکاوٹ بنے ہوئے تھے ان میں سے ایک تو یہ تھا کہ بیشمار انسان مختلف وقتوں میں مرکھپ چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں دفن ہوئے اور ان کے جسم کے اجزا کہاں کہاں بکھر گئے۔ اور پھر کتنے ایسے ہیں جنھیں قبریں تک نصیب نہ ہوسکیں۔ آخر ان سب کو ایک دن کس طرح ازسرنو زندہ کرکے ان کے اپنے جسموں کے ساتھ میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر کردیا جائے گا۔ چناچہ اس کا جواب اس سے پہلے آیت نمبر چار میں گزر چکا ہے۔ اور دوسرا اشکال جو قیامت کے انکار میں ان کے لیے بہت بڑی دلیل تھا وہ یہ تھا کہ انسان خلوت و جلوت میں بیشمار افعال کرتا ہے اور بیشمار اقوال کا صدور اس سے ہوتا ہے۔ آخر ان اقوال و اعمال کا ریکارڈ کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور کس طرح قیامت میں پیش کیا جاسکے گا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کے اقوال و اعمال تو دور کی بات ہے، ہم تو یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے دل میں کس طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں، کس طرح کے احساسات جنم لیتے ہیں، اس کے قلب و دماغ کی بدلتی ہوئی حالتیں بھی ہمارے سامنے ہمیشہ نمایاں رہتی ہیں، ہم اس کے جسم کے جوڑ جوڑ اور بند بند سے بھی واقف ہیں اور اس بات سے بھی کہ ان اعضاء سے کس طرح کام لیا جاتا ہے اور یہ کہاں کہاں کارآمد ہوتے ہیں۔ تو پھر ہمارے بارے میں یہ گمان کرنا کہ ہم اس کے اقوال و اعمال کو نہیں جانتے اور اس کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہوگا، سراسر احمقانہ بات ہے۔ اسی لیے ایک جگہ تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ” کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا۔ “ یعنی خالق ہی اپنی مخلوق کی جزئیات سے واقف نہ ہو، یہ کس قدر غیرمعقول بات ہے۔ اور اسی کی تائید میں مزید یہ بات فرمائی گئی ہے کہ ہم تو ہر انسان کی رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں یعنی جس طرح جان جسم کی کسی حرکت سے بیخبر نہیں ہوسکتی تو ہم چونکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہیں تو ہم اس کے کسی قول و عمل اور کسی احساس سے غافل کیسے ہوسکتے ہیں اور اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں تو وہ ہماری گرفت سے آزاد کیسے ہوسکتا ہے۔ ہم تو ہر وقت اپنے علم اور قدرت سے اس کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ اور پھر ظاہر ہی ہمارے سامنے نہیں اس کا باطن بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں آخر ان اشکالات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے جو مشرکین قیامت کے حوالے سے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
Ayahs 50:17–18اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۔ (قٓ: 17، 18)
(جبکہ دو اخذ کرنے والے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے اخذ کرتے رہتے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔ )
لوگوں کے اعمال و اقوال کو ریکارڈ رکھنے کا اہتمام
یوں تو اللہ تعالیٰ کا اپنا علم تمام انسانوں کے اقوال و افعال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے سب سے مستند ذریعہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ دنیا کے عدالتی طریق کار کی طرح جس کا انسان عادی ہے یہ اہتمام بھی کیا کہ کوئی شخص بھی جب کوئی عمل کرتا ہے یا کوئی بات کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے دو فرشتے فوراً اسے اخذ کرلیتے ہیں، یعنی اس کو ثبت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں اور آدمی کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر ان ہی میں سے ایک مستعد نگران فوراً اسے لکھ لیتا اور محفوظ کرلیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان فرشتوں کے محفوظ کرنے کی حقیقت اور اس کا طریقہ کیا ہے، کوئی انسان بھی اس کی تفصیل سے آگاہ نہیں۔ کیونکہ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں جنھیں ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے جنھیں ہم سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن جدید علم اور سائنس جن حقائق کو ہمارے سامنے لا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آدمی کوئی کام کرتا ہے یا کوئی بات کہتا ہے تو یہ فضاء، یہ زمین اور ہمارا گردوپیش اور پھر کرنے والے کے اعضاء وجوارح اس قدر حساس واقع ہوئے ہیں کہ فوراً ان تمام چیزوں کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں۔ قیامت کے دن اسی فضاء اور اسی ماحول اور اعضاء وجوارح کو ایسی فلم کی شکل دے دی جائے گی کہ جو ہمارے آنکھوں کے سامنے چلے گی اور ہم اپنے کیے ہوئے اعمال اور کہے ہوئے اقوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے کانوں سے سنیں گے۔ آدمی جو کچھ دیکھتا ہے اس کی آنکھوں پر اس کی تصویر مرتسم کردی جاتی ہے۔ اور جو سنتا ہے وہ اس کے کانوں پر ثبت ہوجاتا ہے۔ قیامت کے دن ہر عمل اور ہر تصویر مجسم شکل میں ہمارے سامنے لا کر دکھائی جائے گی جس سے ہم ایک ایک تفصیل سے آگاہ ہوسکیں گے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فنگر پر نٹس کے ذریعے بعض حقائق کا سراغ لگایا جاتا ہے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو ہاتھ لگاتا ہے وہی چیز اس کے لیے گواہ بن جاتی ہے۔ لیکن آج ہم اپنے آلات کی احتیاج کی وجہ سے چند چیزوں پر یہ عمل دیکھ سکتے ہیں، لیکن فرشتے ایسے کسی نارسائی اور کمزوری کا شکار نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ پوری تفصیلات کو گواہوں کی گواہی کے مطابق محسوس شکل میں بھی انسانوں کو دکھا دیں گے۔ اور قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے جرائم کو سخن سازی سے بدلنا چاہے گا اور جھوٹ کا سہارا لے گا تو اس کی زبان پر مہر کردی جائے گی اور اس کے ہاتھ پائوں اللہ تعالیٰ سے بات کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار محض اپنے علم کی بنا پر کسی شخص کو جزاء اور سزا نہیں دے گا بلکہ دو فرشتے گواہی دیں گے، اس کے اعضاء گواہی دیں گے، جہاں اس نے عمل کیا ہے وہ فضاء اور وہ جگہ اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گی۔ تب اس شخص کے بارے میں پروردگار فیصلہ سنائیں گے۔
Ayah 50:19وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ مَاکُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ ۔ (قٓ: 19)
(اور موت کی جاں کنی حق لے کر آگئی، یہ ہے وہ چیز جس سے تو بھاگتا تھا۔ )
قیامت کی ایک شہادت
حق سے مراد وہی قیامت ہے جس کی خبر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لاتے ہیں اور مخالفین ہمیشہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ مخالفین کے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ زندگی میں تم جیسے چاہو قیامت کا انکار کرو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی موت آتی ہے اور نزع کا کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس جاں کنی کے وقت میں انسان کو ان حقائق کا ادراک ہونے لگتا ہے جن کا وہ انکار کرتا تھا۔ وہ اپنے سامنے موت کے فرشتوں کو دیکھتا ہے، اسے عالم غیب کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں، اسے خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ میں جن چیزوں کو ماننے سے انکار کرتا تھا وہ تو حقیقت بن کر میرے سامنے موجود ہیں اور جس قیامت اور آخرت کو میں ایک انہونی چیز سمجھتا تھا اس کے آثار بھی سامنے دکھائی دیتے ہیں اور اسے یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ موت کے بعد میرا شمار کن لوگوں میں ہونے والا ہے۔ خوش بختی میرا مقدر بنے گی یا بدبختی میری عاقبت تباہ کردے گی تو اس وقت زبان حال یا زبان قال سے اسے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ حقیقت جس سے تو بھاگتا اور کنی کتراتا تھا۔ تیری خواہش یہ تھی کہ شتر بےمہار بن کر زندگی گزارے اور کسی جواب طلبی کا تجھے اندیشہ نہ ہو۔ اب دیکھ عالم آخرت تیرے سامنے ہے۔
Ayah 50:20وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ ۔ (قٓ: 20)
(اور صور پھونکا جائے گا، وہ ہماری وعید کا دن ہوگا۔ )
موت کے بعد انسان کو عالم آخرت کا احساس تو ہوجاتا ہے لیکن عالم آخرت کے آنے تک وہ عالم برزخ میں ایک طویل انتظار میں رکھا جاتا ہے اب اسے عالم برزخ سے اس وقت اٹھنا ہے جب نفخ صور ہوگا۔ موت کے ساتھ چونکہ مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے، اور کسی بھی عمل کے کرنے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ اب تو صرف اپنے اعمال و اقوال پر جزاء و سزا کا انتظار ہوتا ہے۔ گویا یوں سمجھئے کہ وہ جزاء و سزا جس کا وقوع قیامت کے دن ہوگا حقیقت میں وہ اسی دن شروع ہوجاتا ہے جب آدمی موت کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس آدمی کو موت آگئی اس کی تو قیامت آگئی، کیونکہ اب اس کے پاس مزید کچھ کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ نفخ صور کے بعد جب آدمی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہوگا تو اسے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ وعید کا دن جسے تم بہت دور سمجھتے ہو۔ اب دیکھو تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 50:21وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَھَا سَآئِقٌ وَّشَھِیْدٌ۔ (قٓ: 21)
(ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہی دینے والا۔ )
محشر میں حاضری کا منظر
یعنی جیسے ہی نفخ صور کے بعد لوگ اپنے مرقدوں سے اٹھیں گے تو وہی دونوں فرشتے جو ان کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ تیار کرنے پر مقرر تھے لپک کر اپنے اپنے آدمی کا چارج لے لیں گے۔ ان میں سے ایک سائق بن جائے گا اور دوسرا شہید۔ سائق سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے ہانکتا ہوا محشر میں لے جائے گا۔ اور شہید سے مراد وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کے اقوال و اعمال کا پورا ریکارڈ ہوگا۔ بعض لوگوں نے اس سے مختلف معنی بھی مراد لیے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فرشتے وہی ہوں جو ریکارڈ رکھنے پر مامور تھے یا کچھ مزید فرشتے، حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ ہر شخص کو نہایت حفاظت اور نگرانی میں محشر میں پہنچا دیا جائے گا۔
Ayah 50:22لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَـکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَـآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۔ (قٓ: 22)
(تو اس سے غفلت میں تھا ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا اور آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔ )
پیشی کے وقت ایک تنبیہ
انسان جب محشر میں کھڑا قیامت کے ماحول کو دیکھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمائے گا کہ تم اس دن سے غفلت میں پڑے رہے، اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور ان کے راستوں پر چلنے والوں نے ہرچند تمہیں سمجھایا لیکن تمہاری نگاہوں سے پردہ نہ اٹھ سکا۔ تم قیامت اور اس کے وقوع کو عقل سے بعید سمجھتے رہے۔ آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا۔ اب دیکھ تیری نظر کتنی تیز ہے کس طرح اس ماحول کا ہر گوشہ تمہارے لیے بےنقاب ہوگیا ہے۔
Ayah 50:23وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ھٰذَا مَالَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ (قٓ: 23)
(اور اس کا ساتھی کہے گا یہ جو میری تحویل میں تھا حاضر ہے۔ )
قرین سے مراد ؟
قرین سے مراد اس کا ساتھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں ساتھی سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مختلف مفہوم مراد لیے گئے ہیں۔ لیکن جو بات سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور جو قتادہ اور ابن زید سے منقول بھی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے اس سے پہلے سائق کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اسے اپنے مرقد سے اٹھتے ہی اس نے اپنی تحویل میں لے لیا، گویا اس کا محشر تک پہنچانا اس کی ذمہ داری ٹھہرا۔ چناچہ وہ ہانکتا ہوا اسے محشر میں لے گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے اس نے یہ عرض کیا کہ یہ ہے وہ شخص جس کی نگرانی مجھے سونپی گئی تھی اور میں اسے ہانکتا ہوا لے کر آیا ہوں، اب یہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے اور اس طرح سے میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں۔
Ayahs 50:24–26اَلْقِیَا فِیْ جَھَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ نِ ۔ الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰـہُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ ۔ (قٓ: 24 تا 26)
(تم دونوں پھینک دو جہنم میں ہر ناشکرے کو جو حق سے عناد رکھنے والا ہے۔ خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے اور مبتلائے شک کو۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنایا، پس تم پھینک دو ان کو سخت عذاب میں۔ )
جب ایک ایک شخص کو فرشتے اپنی نگرانی میں میدانِ حشر میں پہنچا دیں گے جن میں سے ایک ہانکنے والا ہوگا اور دوسرا ان کا نامہ عمل اٹھائے ہوئے ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اب تم دونوں انھیں جہنم میں ڈال دو ۔ لیکن اس سے یہ بھی مراد لی جاسکتی ہے کہ یہ دونوں فرشتے ان کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے بلکہ ہر مجرم کو جہنم میں جھونکنے والے فرشتوں کے حوالے کردیں گے تاکہ وہ ہر مجرم کو اس طبقے میں ڈالیں جو اس درجے کے مجرمین کے لیے خاص ہوگا۔
جہنم میں ڈالے جانے والے مجرمین کی صفات
سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان ہی مجرمین کا ذکر ہے جو بنیادی طور پر دو جرائم کا شکار تھے۔ ایک تو وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ انسان کو ایک مکلف مخلوق بنایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی معرفت انسانوں کو زندگی گزارنے کی ہدایات دی ہیں اور ہر انسان ان ہدایات کا پابند ہے۔ قیامت کے دن ان ہی ہدایات پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں جواب طلب کیا جائے گا۔ لیکن مشرکینِ عرب یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انسان اپنی زندگی گزارنے کے لیے آزاد چھوڑا گیا ہے جس پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک ایسے دن کا لانا جس میں اعمال کی جواب دہی کرنا پڑے سراسر نامعقول بات ہے۔ گویا کہ ان کے نزدیک انسان ایک شتر بےمہار ہے وہ جو چاہے سو کرے، اس سے بازپرس نہیں ہوسکتی۔ دوسرا جرم ان کا یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بعض دوسری قوتوں کو اس کی ذات یا اس کی صفات میں شریک کرچکے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق اور مالک ماننے کے باوجود یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے حالات سے بیخبر کائنات کے کسی گوشے میں آرام کر رہا ہے اور اس نے اپنے اختیارات ان قوتوں کو سونپ دیئے ہیں جو اس کی صفات میں اس کے ساتھ شریک ہیں۔ چناچہ پیش نظر آیات کریمہ میں جن منکرات کا ذکر کیا گیا ان کی ترتیب فروع سے اصول کی طرف ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اصل ان کے جرائم تو یہ دو تھے لیکن جب بھی کوئی شخص شرک اور انکارِ قیامت جیسے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ باقی منکرات وہ ہیں جو ان اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ جن میں پہلی برائی اور خرابی یہ ہے جسے کَفَّار کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کفر ناشکری کو بھی کہتے ہیں اور انکار کو بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔ اور کفار مبالغے کا صیغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ناشکری اور انکارِ حق اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف منکرحق ہی نہیں بلکہ عنید بھی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے دین اور اس کے رسولوں سے انتہا درجہ عناد اور دشمنی رکھنے والے ہیں۔ مزید فرمایا کہ یہ لوگ ہر خیر سے رکنے والے اور روکنے والے ہیں۔ خیر مال و دولت کو بھی کہتے ہیں اور ہر بھلائی کو بھی۔ اگر اس کا معنی مال و دولت لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے منکر اور معاند ہیں اسی طرح وہ بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت بخیل واقع ہوئے ہیں۔ نہ خود اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اپنے اندر کوئی جذبہ رکھتے ہیں اور نہ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے بندوں پر خرچ کرتے ہوئے دیکھ کر برداشت کرتے ہیں بلکہ طریقے طریقے سے انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر اس کا ترجمہ بھلائی کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھیں کوئی نیکی اور بھلائی پسند نہیں۔ ان کی طیبعت کا فساد منہ کا مزہ بگڑنے والے کی طرح ہر بھلائی کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا پسند ہے اور نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے بندوں سے کسی طرح کی بھلائی کرنا اچھا لگتا ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ معتدی بھی ہیں یعنی وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، ہر معاملے میں اخلاقی حدود توڑنے والے، اپنے مفاد اور اپنی اغراض کی خاطر سب کچھ کر گزرنے والے، نہ انھیں حلال و حرام کی پرواہ ہے اور نہ جائز و ناجائز کی۔ وہ رحم اور مروت کا مفہوم کھو چکے ہیں۔ انسانیت کی ہر قدر کو پامال کرکے ان کو سکون ملتا ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ مریب ہیں۔ اس کا ایک معنی تو ہے شک کرنے والا۔ اور دوسرا معنی ہے شک میں ڈالنے والا۔ یعنی وہ خود بھی شک میں پڑے ہوئے ہیں اور دوسروں کے دلوں میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ ، آخرت، ملائکہ، رسالت اور وحی غرضیکہ دین کی تمام صداقتیں مشکوک ہیں۔ اور جب کوئی اس حوالے سے ان سے بات کرتا ہے تو وہ اس کے سامنے بھی اس طرح شک و ارتیاب کی باتیں کرتے ہیں کہ دوسرا بھی اس شک کا اثر لیے بغیر نہیں رہتا۔ ان فروع کو بیان کرنے کے بعد ان دو اساسی باتوں کو بیان فرمایا ہے یعنی انکارِ قیامت اور شرک، جن کی وجہ سے یہ سارے منکرات، عیوب اور رزائل ان میں پیدا ہوئے ہیں۔