49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsروح القرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (الحجرات : 1) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ) ایمان کا اولین تقاضا اور اسلامی قانون کی پہلی دفعہ یہ ایمان کا اولین تقاضا بھی ہے اور اسلامی قانون کی پہلی دفعہ بھی۔ انفرادی زندگی بھی اسی پر استوار ہوتی ہے اور اجتماعی زندگی کی خشت اول بھی یہی ہے جس کو نہایت فصاحت و بلاغت سے سمیٹ کر اس طرح فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔ یعنی پہلی بات یہ ہے کہ سمع و اطاعت کے حقوق کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول میں کوئی فرق نہیں۔ جس طرح ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ اس کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اس پر کسی قسم کی شرط عائد نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت بھی ہر موقع پر، ہرحال میں ضروری اور لازمی ہے۔ جو شخص واقعی دل میں ایمان رکھتا ہے وہ کبھی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ میں زندگی کا کوئی فیصلہ اور کوئی عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رہنمائی کے بغیر کرسکتا ہوں۔ وہ ہر کام اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری سمجھتا ہے کہ کیا اس معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کوئی رہنمائی دی ہے۔ اور اگر اسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کوئی رہنمائی دے چکے ہیں تو وہ اس سے صرف نظر کرنا یا اس سے تغافل برتنا اپنے لیے حرام سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ جان چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کا تقاضا اس کی پیروی اور اس کی اطاعت ہے۔ میں ان سے آگے نہیں بلکہ پیچھے چلنے کا پابند ہوں۔ مجھے مقدم نہیں بلکہ ان کا تابع بنایا گیا ہے۔ اس کا اطلاق اس کی انفرادی زندگی پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی پر بھی۔ یعنی جس طرح ایک فرد اللہ تعالیٰ کے قانون کو جاننے کی کوشش کیے بغیر اور اس کو نظرانداز کرتے ہوئے ازخود کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا، اسی طرح مسلمانوں کی حکومت، ان کی عدالتیں، ان کی پارلیمنٹ بھی اپنے طور پر اس قانون سے آزاد ہو کر کسی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں۔ حدیث کی بیشتر کتابوں میں صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب حضرت معاذ ( رض) بن جبل کو یمن کا حاکم عدالت بنا کر بھیجا تو آپ نے پوچھا کہ معاذ تم کس چیز کے مطابق فیصلے کرو گے۔ انھوں نے عرض کیا، کتاب اللہ کے مطابق۔ آپ نے پوچھا اگر کتاب اللہ میں کسی معاملے کا حکم نہ ملے تو کس چیز کی طرف رجوع کرو گے، انھوں نے کہا سنت رسول اللہ کی طرف۔ آپ نے فرمایا، اگر اس میں بھی کچھ نہ ملے، انھوں نے عرض کیا، پھر میں خود اجتہاد کروں گا۔ اس پر حضور ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا، شکر ہے اس پروردگار کا جس نے اپنے رسول کے نمائندے کو وہ طریقہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔ اور وہ توفیق کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اجتہاد پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مقدم رکھا۔ اور کسی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان دونوں سے اچھی طرح رہنمائی لینے کی کوشش کی۔ مایوسی کی صورت میں اس نے اجتہاد کی طرف توجہ کی۔ درحقیقت یہی وہ چیز ہے جو ایک مسلمان جج کو غیرمسلم جج سے ممتاز کرتی ہے۔ مسلمان پارلیمنٹ کوئی بھی فیصلہ دینے سے پہلے یہ دیکھنا اپنے ایمان کا تقاضا سمجھتی ہے کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رہنمائی کیا ہے، یعنی قرآن و سنت اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اور آج کے دور میں ان دونوں کے بعد یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا اس معاملے کے بارے میں امت کا کوئی اجماع موجود ہے یا نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں چونکہ اجماع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، اس لیے صرف کتاب اللہ اور سنت رسول کو دیکھنا ضروری تھا۔ اور اس کے بعد فقہائے امت کی وہ کاوشیں ہیں جو فقہی سرمائے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ امت کے اہل علم نہایت اخلاص کے ساتھ ان سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے یہ بات بےحد ضروری ہے کہ ہر فیصلے اور اقدام سے پہلے اور ہر کاوش اور تحقیق سے پہلے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں موجود ہو۔ نفس کے تقاضے کسی وقت بھی آدمی کو بہکا سکتے ہیں صرف تقویٰ ہی ہے جو انسان کو اس سلسلے میں نور فراہم کرتا ہے۔ اور تقویٰ اس دل میں کبھی نہیں آتا جو ہمیشہ اس بات سے گراں بار نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے۔ وہ ہمارے باہمی مشوروں اور ہماری سرگوشیوں کو بھی سنتا ہے اور ہمارے فیصلوں کے محرکات تک سے واقف ہے۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَـہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُـکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ۔ (الحجرات : 2) (اے ایمان والو ! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ ) آنحضرت ﷺ سے گفتگو اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آنے والوں اور بیٹھنے والوں کو گفتگو کا ادب سکھایا گیا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ سے جب گفتگو کرو تو اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو کہ تمہارے آواز آنحضرت ﷺ کی آواز پر بلند نہیں ہونی چاہیے۔ آواز بلند ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بولنے والے کی آواز آنحضرت ﷺ کی آواز پر غالب آجائے۔ دوسرے سننے والے حضور ﷺ کی آواز کو کم سنیں اور دوسرے کی آواز ان کو زیادہ سنائی دے، یہ ایک طرح سے بےادبی اور بےاحترامی ہے جو کسی محترم شخصیت کے پاس احترام سے بیٹھتا اور احترام سے بات کرتا ہے اس کی آواز کبھی اس محترم شخصیت کی آواز سے اونچی نہیں ہونے پاتی۔ کیونکہ ادب و احترام بولنے والے کی آواز کو ہمیشہ دبا کے رکھتا ہے لیکن جس شخص کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند ہوجاتی ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کے دل میں احترام کی کمی ہے۔ وہ اپنے دل میں اس شخص کے مقام کو پیدا نہیں کرسکا جس سے اسے بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ تو دنیا کی سب سے محترم شخصیت ہیں ان کے سامنے آواز کے بلند ہونے کا کیا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ آنحضرت ﷺ سے اس طرح بات کروں گا جیسے سرگوشی کی جاتی ہے۔ اور حضرت عمرفاروق ( رض) نے امکانی حد تک اپنی آواز کو دبا لیا۔ جن صحابہ کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی انھوں نے باقاعدہ اپنی آواز کو کم کرنے میں محنت کی۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جس بات کا حکم دیں اس کی تعمیل میں تأمل نہ ہونے پائے۔ اور یہ کوشش نہ کی جائے کہ میں اس طرح زوردار انداز میں اپنی بات کہوں کہ جس سے آنحضرت ﷺ کی بات دب کر رہ جائے اور میری بات اس پر فوقیت حاصل کرلے۔ یہ وہ چیز ہے جو پہلے بیان کردہ مطلب سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سننے والا آدمی یہ چاہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کی بات کو سننے کی بجائے اپنی بات حضور ﷺ کو سنائوں اور ماننے پر مجبور کروں۔ اسی بات کو مزید کھولتے ہوئے فرمایا کہ تم آنحضرت ﷺ سے اس طرح اونچی آواز سے بات مت کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ یعنی جو بےتکلفی آپس میں بات کرنے والوں کی ہوتی ہے وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ وہ نہ تو تمہارے برابر کے آدمی ہیں اور نہ وہ عام آدمی ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جن کے ساتھ عام آدمیوں کارویہ اختیار کرنا ان کے ادب اور مقام سے بہت فروتر چیز ہے۔ اور ایسا وہی کرسکتا ہے جو یا تو نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ سے آگاہ نہ ہو اور یا قصداً اسے اس کی پرواہ نہ ہو۔ اور یہ دونوں باتیں ایمان کے لیے انتہائی مہلک ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کا تحفظ آیتِ کریمہ میں اگرچہ نبی کریم ﷺ کی مجلس کا ادب سکھایا گیا ہے لیکن مقصود اس سے آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کا تحفظ ہے اور آپ کا مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعد آپ کو مطاع مطلق بنایا، آپ کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا، آپ کے معمولاتِ زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا۔ آپ کی ادائوں تک کی نقل دین ٹھہرائی گئی ہے۔ اور یہ بات جس طرح آنحضرت ﷺ کے ہم عصر لوگوں کے لیے تھی آج بھی بالکل ویسے ہی ہے۔ اور آج اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کی حدیث پڑھ کر سنائی جائے تو سننے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اسے سنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اور جو شخص ایسا نہیں کرتا تو اس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ اس کا تعلق نہایت کمزور ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر تم نے آنحضرت ﷺ کی مجلس اور آپ کے احکام کے حوالے سے ان نزاکتوں کا لحاظ نہ رکھا تو اندیشہ ہے کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور تک نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں ذات رسول کی عظمت کا کیا مقام ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی شخص خواہ بجائے خود کتنا ہی قابل احترام ہو بہرحال یہ حیثیت نہیں رکھتا کہ اس کے ساتھ بےادبی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سزا کی مستحق ہو جو حقیقت میں کفر کی سزا ہے۔ یعنی اس کے تمام اعمال ضبط کرلیے جائیں۔ کیونکہ بڑی سے بڑی شخصیت کی بےادبی بھی بدتمیزی کہی جاسکتی ہے، اسے خلاف تہذیب قرار دیا جاسکتا ہے لیکن وہ اتنا بڑا گناہ نہیں کہ اس آدمی کی عمر بھر کی کمائی غارت ہوجائے۔ درحقیقت آنحضرت ﷺ کا احترام اللہ تعالیٰ کا احترام ہے۔ کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ سے دشمنی درحقیقت اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے اور آپ کے احترام میں کمی اللہ تعالیٰ کے احترام میں کمی ہے۔ اور یہ چیز کفر سے کم نہیں۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس بات کرتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، ان کے لیے مغفرت اور اجرِعظیم ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌعَظِیْمٌ۔ (الحجرات : 3) (بےشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس بات کرتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، ان کے لیے مغفرت اور اجرِعظیم ہے۔ ) تقویٰ صرف آنحضرت ﷺ کے مقام کا تحفظ کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے تقویٰ درحقیقت اس کیفیت کا نام ہے کہ مسلسل اصلاح و تربیت اور تزکیہ سے دل کی یہ حالت ہوجائے کہ وہ نیکی کی ہر بات کی طرف لپکتا ہوا جائے اور گناہ کی ہر بات اسے یوں معلوم ہوا جیسے دہکتا ہوا انگارہ، جس کے چھونے سے وہ بھسم ہو کے رہ جائے گا۔ یہ دولت صرف اس شخص یا ان لوگوں کو مل سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقام کو بتمام و کمال اپنے دلوں میں اتار چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کا ادب و احترام، اس کی کامل اطاعت اور دین کی سربلندی کے لیے اس کی نصرت یہ وہ لازمی حقائق ہیں جن کے بغیر ایمان کا کوئی تصور نہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ کے رسول کی مجلس میں حاضری دیتے ہیں تو حاضری کے وقت ان کی نگاہیں جھکی ہوتی ہیں، کوئی بات گزارش کرتے ہوئے ان کی آواز رک رک جاتی ہے اور اس طرح ہلکی آواز میں آپس میں بات کرتے یا آنحضرت ﷺ سے بولتے ہیں کہ صرف وہی سن سکتا ہے جسے سنانا مقصود ہو۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آوازوں پر اللہ تعالیٰ کے رسول کے احترام کا غلبہ ہے۔ اور یہ چونکہ نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقام کو سمجھنے اور دل و دماغ میں اتارنے کا۔ اس لحاظ سے یہ دونوں باتیں آپس میں لازم و ملزوم ہو کر رہ گئی ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کے احترام کے شناسا ہونے کی وجہ سے ان کی مجلس میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں تقویٰ ہے۔ یعنی پہلے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی محبت اور عظمت آئی، ان کے مقام اور احترام نے ان کے دلوں کو اپنا مسکن بنایا، اس سے اطاعت کی توفیق ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تقویٰ کی اس دولت کو پا گئے جو ایک مومن کی معراج ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اپنی آوازوں کو اللہ تعالیٰ کے رسول کے ہاں پست رکھتے ہیں، یہی لوگ درحقیقت اس قابل ہیں کہ ان کے دلوں کو تقویٰ کی دولت سے مالا مال کیا جائے۔ اور یہی لوگ اس کا حق رکھتے ہیں کہ وہ مغفرت اور اجرِعظیم سے نوازے جائیں۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود ان کے پاس نکل کے جاتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَـکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 4، 5) (بےشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود ان کے پاس نکل کے جاتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ) آپ ﷺ کے غائب ہونے کی صورت میں ملحوظ رکھا جانے والا ادب صحابہ کرام ( رض) کا عام معمول یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اس وقت ملنے کے لیے آتے جب آپ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے۔ اور اگر آپ کو مجلس میں موجود نہ پاتے تو بیٹھ کر آپ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کرتے۔ وہ کبھی گھر سے آپ کو بلانے کی جسارت نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کس قدر تھکا دینے والی مصروفیتوں کی زندگی گزارتے ہیں۔ آپ جب تک باہر ہوتے ہیں تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا دین سکھاتے ہیں۔ اور گھر میں ہوتے ہیں تو ازواجِ مطہرات اور دوسری خواتین کو دین کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس کے بعد یقینا آپ کو کچھ آرام کی اور کچھ خانگی ضروریات کے لیے بھی وقت درکار ہوگا۔ ایسے صورت میں اگر آپ کو باہر آنے کی زحمت دی جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف ہوگی جو آپ کی نبوت کی مصروفیات میں حائل ہوسکتی ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کسی ادارے کے پر نسپل یا پروفیسر تو نہ تھے کہ آپ سے استفادہ کرنے والے متعین اور لگے بندھے لوگ ہوں جن سے ہر روز آپ کو واسطہ پڑتا ہے۔ آپ تو ایک امت کے سربراہ اور اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب اسلام قبول کرنے والے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول نہیں کرتے تھے۔ اور پھر ان میں وقت کے ساتھ ساتھ تربیت کے لحاظ سے مختلف قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو ابھی بالکل تربیت کے ابتدائی درجے میں تھے۔ ان میں ابھی نہ شائستگی آئی تھی اور نہ وہ آداب سے واقف تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ سے ملنے آتے تو آداب سے ناواقفیت کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی حرکتیں کر گزرتے جو آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتیں، لیکن آپ انھیں برداشت کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی مواقع پر رہنمائی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے اَن گھڑ لوگ جو آپ سے ملاقات کے لیے ایسے وقت میں آجاتے ہیں جب آپ گھر میں ہوتے ہیں تو وہ تربیت کے فقدان کے باعث آپ کے ازواجِ مطہرات کے حجروں اور مکانوں کے گرد گھومتے ہوئے آوازیں دے کر آپ کو باہر بلاتے ہیں۔ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ آپ اس وقت کسی اور کام میں مصروف ہوں گے یا آرام فرما رہے ہوں گے۔ ان پر تنبیہ کے انداز میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ اگر وہ عقل سے تہی دامن نہ ہوتے تو یقینا آپ کے مقام و مرتبہ اور آپ کی مصروفیات کا لحاظ رکھتے۔ اب وہ یہ حرکت اگر کر ہی گزرے ہیں تو اس میں ایک طرح کی سفارش بھی ہے کہ آپ اس کا برا نہ مانئے، بےعقل اور بےسمجھ آدمی کی بات کا کیا برا ماننا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اگر وہ آپ کے خود باہر نکلنے کا انتظار کرتے اور صبر سے بیٹھے رہتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ انھوں نے ایک ناروا جسارت کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی تربیت کے فقدان کی وجہ سے ان سے درگزر فرمائے گا اور مہر بانی کرے گا۔ یوں تو یہ امت کے لیے ایک عام ہدایت ہے، لیکن امام بغوی نے بروایت قتادہ ( رض) اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اس آیت میں ان کا ذکر ہے۔ یہ لوگ دوپہر کے وقت مدینہ پہنچے جبکہ آپ کسی حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ اعراب تھے جو آداب معاشرت سے ناواقف تھے۔ انھوں نے حجرات کے باہر ہی سے پکارنا شروع کردیا۔ اُخْرُجْ اِلَیْنَا یَامُحَمَّدْ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسند احمد اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت مختلف الفاظ سے آئی ہے۔ (مظہری) اہلِ علم کے نزدیک اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام لے کر پکارنا اور نعتوں میں آپ کا نام استعمال کرنا اور یامحمد اور یامحمد کہنا یہ گستاخی ہے، اس سے احتیاط کرنی چاہیے۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو، مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو پھر تمہیں اپنے کیے پر پشیمانی ہو

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌ م بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا م بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ ۔ (الحجرات : 6) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو، مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو پھر تمہیں اپنے کیے پر پشیمانی ہو۔ ) مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان سے بچانے کے لیے ایک ہدایت مسلمانوں کی اجتماعیت کو ایسے نقصان سے بچانے کے لیے جس سے ان کی شیرازہ بندی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس آیت میں ایک ہدایت فرمائی گئی ہے کہ مدینہ اس وقت چونکہ اعدائے دین سے گھرا ہوا ہے، قرب و جوار کے قبائل سے ہر وقت کوئی نہ کوئی خطرہ رہتا ہے اور پھر جب تک اسلام کو اللہ تعالیٰ غلبہ عمومی عطا نہیں فرماتے، حالات ایسے ہی دگرگوں رہیں گے۔ اس لیے ہر وقت اس بات کا امکان ہے کہ جو لوگ قوت سے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے وہ افواہ سازی اور افواہیں پھیلانے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی کوئی فاسق شخص کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس پر کوئی کارروائی کرنے سے پہلے فوراً اس کی تحقیق کرو کہ جو شخص یہ خبر لے کے آیا ہے وہ ایک بےاعتبار آدمی ہے۔ کیا اس خبر کے معاملے میں اس کا اعتبار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو شریعت کی حدودوقیود سے بےپرواہ آدمی ہو۔ اور پھر یہ معاملہ ہر خبر کا نہیں بلکہ یہاں لفظ ” نباء “ استعمال ہوا ہے جو اہم خبر کو کہتے ہیں جس کو باور کرلینے یا اس پر عمل کرنے سے دوررس نتائج کے پیدا ہونے کا امکان ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ صرف خبر لانے والے ہی کی نہیں بلکہ ایسی دوررس نتائج کی حامل خبر کی بھی تحقیق کی جائے، درایت کی کسوٹی پر کس کر دیکھا جائے کہ یہ خبر صحیح ہو بھی سکتی ہے یا نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم محض خوش گمانی میں اس خبر کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ کردو اور بعد میں تمہیں پتہ چلے کہ یہ تو خبر سرے سے صحیح نہ تھی اور پھر تمہیں پچھتانا پڑے۔ اس سے فقہاء نے یہ سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اہم خبروں اور اہم معاملات کے بارے میں ہے عام خبروں کے بارے میں نہیں۔ مثلاً کوئی شخص آکر یہ کہتا ہے کہ یہ ہدیہ آپ کو فلاں نے بھیجا ہے تو یہ خبر ایسی نہیں جس کی تحقیق کی ضرورت ہو، اس پر عمل جائز ہے۔ یا کوئی شخص کسی کے گھر میں جاتا ہے اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، اندر سے کوئی شخص آکر کہتا ہے کہ آجاؤ۔ تو وہ شخص اس کے کہنے پر اندر جاسکتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ صاحب خانہ کی طرف سے اس کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یا صالح۔ اسی آیت کی وجہ سے محدثین نے علم حدیث میں جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا۔ فقہاء نے اسی سے قانونِ شہادت مرتب کیا۔ آیت کے شان نزول سے متعلق وضاحت یہ تو اس آیت کا ایک عام مفہوم اور ایک عام ہدایت ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے۔ لیکن ہمارے آئمہ تفسیر نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ان کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کو آنحضرت ﷺ نے قبیلہ بنی المصطلق کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ ان کے علاقے میں پہنچے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور اہل قبیلہ سے ملے بغیر مدینہ واپس جا کر رسول اللہ ﷺ سے شکایت کردی کہ انھوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت ﷺ یہ خبر سن کر سخت ناراض ہوئے اور آپ نے ارادہ فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکوبی کی جائے۔ روایات مختلف ہیں کہ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک دستہ روانہ کردیا یا روانہ کرنے والے تھے کہ بنو المصطلق کے سردار حارث بن ضرار اس دوران میں خود ایک وفد لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور انھوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے تو ولید کو دیکھا تک نہیں، کجا کہ زکوٰۃ دینے سے انکار اور ان کے قتل کے ارادے کا کوئی سوال پیدا ہو۔ اس شان نزول کے بارے میں بعض لوگوں نے شبہات کا اظہار کیا اور بعض سوالات اٹھائے ہیں۔ ہم اس کی وضاحت کے لیے معارف القرآن کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں : اس آیت کا ولید بن عقبہ ( رض) کے متعلق نازل ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے اور آیت میں ان کو فاسق کہا گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ( رض) میں کوئی فاسق بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہ اس مسلمہ اور متفق علیہ ضابطہ کیخلاف ہے کہ الصحابۃ کلہم عدول، یعنی صحابہ کرام سب کے سب ثقہ ہیں ان کی کسی خبر و شہادت پر کوئی گرفت نہیں کیا جاسکتی۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا کہ اس معاملے میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ان سے گناہ کبیرہ بھی سرزد ہوسکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں یعنی شرعی سزا جاری کی جائے گی اور اگر کذب ثابت ہوا تو ان کی خبر و شہادت رد کردی جائے گی لیکن عقیدہ اہلسنّت والجماعت کا نصوص قرآن و سنت کی بناء پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کرکے پاک نہ ہوگیا ہو۔ قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔ ؓ و رضوا عنہ، الآیۃ، اور رضائے الٰہی گناہوں کی معافی کے بغیر نہیں ہوتی، جیسا کہ قاضی ابویعلی نے فرمایا کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انہی کے لیے فرماتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات موجباتِ رضاء پر ہوگی (کذا فی الصارم المسلول لابن تیمیہ) خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم الشان جماعت میں سے گنے چنے چند آدمیوں سے کبھی کوئی گناہ سرزد بھی ہوا ہے تو ان کو فوراً توبہ نصیب ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو رسول کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی۔ خلاف شرع کوئی کام یا گناہ سرزد ہونا انتہائی شاذونادر تھا۔ ان کے اعمال صالحہ نبی کریم ﷺ اور اسلام پر اپنی جانیں قربان کرنا اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا جن کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی۔ ان بیشمار اعمالِ صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہوجانا اس کو خود ہی کالعدم کردیتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ سے گناہ کے وقت ان کا خوف و خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا کے لیے خود پیش کردینا کہیں اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دینا وغیرہ روایات حدیث میں معروف و مشہور ہیں اور بحکم حدیث گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔ تیسرے حسب ارشاد قرآن اعمال صالحہ اور حسنات خود بھی گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں۔ انّ الحسنات یذھبن السّیّـٔاتخصوصاً جبکہ ان کے حسنات عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان کا حال وہ ہے جو ابودائود و ترمذی نے حضرت سعید بن زید سے نقل کیا ہے کہ واللّٰہ لمشھد رجل منھم مع النّبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم یغبّرفیہ وجھہ خیر من عمل احدکم ولو عمر عمر نوح یعنی ” خدا کی قسم ان میں سے کسی شخص کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کے چہرہ پر غبار پڑگیا ہو تمہاری عمر بھر کی طاعت و عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس کو عمر نوح (علیہ السلام) دے دی گئی ہو۔ “ اس لیے ان سے صدور گناہ کے وقت اگرچہ سزا وغیرہ میں معاملہ وہی کیا گیا جو اس جرم کے لیے مقرر تھا مگر اس کے باوجود بعد میں کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو فاسق قرار دے، اس لیے اگر آنحضرت ﷺ کے عہد میں کسی صحابی سے کوئی گناہ موجب فسق سرزد بھی ہو اور اس وقت ان کو فاسق کہا بھی گیا تو اس سے یہ جائز نہیں ہوجاتا کہ اس فسق کو ان کے لیے مستمر سمجھ کر معاذاللہ فاسق کہا جائے۔ (کذافی الروح) اور آیت مذکورہ میں تو قطعاً یہ ضروری نہیں کہ ولید بن عقبہ کو فاسق کہا گیا ہو سبب نزول خواہ ان کا معاملہ ہی سہی مگر لفظ فاسق ان کے لیے استعمال کیا گیا یہ ضروری نہیں، وجہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو ولید بن عقبہ سے کوئی ایسا کام ہوا نہ تھا جس کے سبب ان کو فاسق کہا جائے اور اس واقعہ میں بھی جو انھوں نے بنی المصطلق کے لوگوں کی طرف ایک بات غلط منسوب کی وہ بھی اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھ کر کی اگرچہ واقعہ میں غلط تھی اس لیے آیت مذکورہ کا مطلب بےتکلف وہ بن سکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر گزرا ہے کہ اس آیت نے قاعدہ کلیہ فاسق کی خبر کے نامقبول ہونے کے متعلق بیان کیا ہے اور واقعہ مذکورہ پر اس آیت کے نزول سے اس کی مزید تاکید اس طرح ہوگئی کہ ولید بن عقبہ اگرچہ فاسق نہ تھے مگر ان کی خبر قرائن قویہ کے اعتبار سے ناقابلِ قبول نظر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے محض ان کی خبر پر کسی اقدام سے گریز کرکے خالد بن ولید کو تحقیقات پر مامور فرما دیا تو جب ایک ثقہ اور صالح آدمی کی خبر میں قرائن کی بناء پر شبہ ہوجانے کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر قبل از تحقیق عمل نہیں کیا گیا تو فاسق کی خبر کو قبول نہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا اور زیادہ واضح ہے عدالتِ صحابہ کی مکمل بحث احقر نے اپنی کتاب مقام صحابہ میں بیان کردی جو شائع ہوچکی ہے اور اس کا کچھ حصہ اگلی آیت وان طائفتان من المؤمنین الاآیۃ کے تحت میں بھی آجائے گا۔ (معارف القرآن)
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور خوب جان لو کہ تم میں اللہ تعالیٰ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی، اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا، یہی لوگ راست رو ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کے فضل اور احسان سے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ط لَوْیُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْـکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۔ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الحجرات : 7، 8) (اور خوب جان لو کہ تم میں اللہ تعالیٰ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی، اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا، یہی لوگ راست رو ہیں۔ اللہ کے فضل اور احسان سے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رائے پیش کرنے کا ادب گزشتہ آیت کے شان نزول میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ولید بن عقبہ نے یہ بتایا تھا کہ بنو المصطلق کا قبیلہ مرتد ہوچکا ہے اور انھوں نے نہ صرف زکوٰۃ دینے سے انکار کیا بلکہ مجھے بھی قتل کرنے کی تدبیر کی۔ اس پر صحابہ کرام میں ایک اشتعال پیدا ہوا۔ ان کے لیے یہ بات انتہائی ناقابلِ برداشت تھی کہ کوئی قبیلہ مسلمان ہو کر پھر آنحضرت ﷺ کے قاصد کی نہ صرف توہین کرے بلکہ اسے قتل کرنے کے بھی درپے ہو۔ ایسے قبیلہ والوں کی تو فوراً سرزنش ہونی چاہیے۔ اس لیے ان میں سے بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو نہ صرف رائے دی بلکہ اصرار کیا کہ آپ مجاہدین کا ایک دستہ ان کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمائیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے بعض قرائن سے اندازہ لگایا کہ یہ خبر صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ نے حضرت خالد بن ولید کو اس کی تحقیق کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ گزشتہ آیت کریمہ میں اسی کے مطابق ایک قانون بنادیا گیا کہ ایسی کسی بھی بات پر تحقیق کیے بغیر عمل نہیں ہونا چاہیے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان صحابہ کی غلطی کو واضح کیا گیا ہے جنھوں نے غیرت دینی کے جوش میں آنحضرت ﷺ پر زور دیا تھا کہ قبیلہ بنو المصطلق پر حملہ کردیا جائے۔ چناچہ ان کی غلطی پر تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے اپنی رائے کو پیش کردینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اس پر اصرار کرنا یہ غلطی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ عام انسان نہیں، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ایک تو تمہارے اور ان کے علم و دانش میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے اور پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے جس کی رہنمائی میں وہ ہمیشہ اقدام کرتے ہیں۔ متذکرہ بالا معاملہ ہی میں دیکھو کہ اگر وہ تمہارے بات مان لیتے تو کس قدر سبکی ہوتی اور بعد میں سب کو شرمندگی اٹھانا پڑتی۔ اس لیے تمہیں اس بات کو حرز جان بنا لینا چاہیے کہ کسی معاملے میں بھی تمہیں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول جس بات کا حکم دیں تو وہ اگر تدبیر کے خلاف بھی ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کارفرما ہے۔ بنا بریں اگر اللہ تعالیٰ کے رسول تمہاری ہر بات کو ماننے لگیں تو تم خود ہی مشکلات میں پھنس جاؤ گے۔ متذکرہ بالا واقعہ میں تم نے اگرچہ اپنی بات پر اصرار کیا لیکن جب نبی کریم ﷺ نے اس کے مطابق عمل کرنے سے انکار کردیا تو تم نے اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر فضل و کرم فرمایا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایمان تمہیں محبوب ہوگیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول کی عظمت تمہارے دلوں میں اتر گئی ہے اور اس ایمان کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کی زینت بنادیا ہے اور اللہ اور اللہ کے رسول کے کسی حکم سے انکار یا اس کے کسی حکم کی پامالی یا اس کی کوئی سی نافرمانی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مکروہ بنادی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں میں اس کے لیے نفرت پیدا کردی اور تمہیں اس سے متنفر کردیا۔ اور جو لوگ ایسے ہوتے ہیں وہی درحقیقت راست رو ہیں۔ لیکن ایسی راست روی اپنی کوششوں سے نصیب نہیں ہوتی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے جسے وہ چاہتا ہے یہ دولت عطا کرتا ہے۔ لیکن اس کا چاہنا ہمیشہ اس کے علم اور حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں حَبّبَ اور کَرَّہَ کے بعد اِلیٰ کا صلہ اس اہتمامِ خاص کی طرف اشارہ کررہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی نگاہوں میں ایمان کو محبوب اور کفروفسق کو مبعوض بنانے کے لیے اپنے رسول کے ذریعے سے فرمایا ہے۔ کفر کا معنی تو واضح ہے البتہ فسوق سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہے جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتا ہوا کرے اور عصیان کا لفظ یوں تو نافرمانی کے لیے بولا جاتا ہے لیکن یہاں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی نافرمانی مراد ہے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرائو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پس وہ اگر پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے

وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ م بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓ ئَ اِلٰٓی اَمْرِاللّٰہِ ج فَاِنْ فَآئَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (الحجرات : 9) (اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرائو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پس وہ اگر پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ ) اجتماعیت کے حوالے سے ایک امکانی صورت کے متعلق چند ہدایات اس سورة میں چونکہ مسلمانوں کے اجتماعی نظم کو ان مفاسد سے بچانا مقصود ہے جو اس کے شیرازے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تو اس سلسلے میں ایک امکانی صورت کے حوالے سے جو مسلمانوں کو کسی وقت بھی پیش آسکتی ہے، چند ہدایات دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات جو توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کے دو گروہوں کے لیے طائفہ کا لفظ استعمال کیا ہے، فرقہ کا نہیں۔ فرقہ بڑے گروہ کو کہتے ہیں اور طائفہ چھوٹے گروہ کو۔ مقصود اس طرف توجہ دلانا ہے کہ یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ کبھی ان کے اختلافات لڑائی کی صورت اختیار کریں۔ یہ ممکن ہے کہ کہیں دو چھوٹے گروہ آپس میں الجھ پڑیں لیکن بڑے گروہوں کا اس میں مبتلا ہوجانا انتہائی غیرمتوقع ہے۔ دوسری بات جو اس میں محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ دو گروہ آپس میں لڑیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپس میں لڑنا مسلمانوں کا معمول نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔ اور نہ ان سے یہ امر متوقع ہے کہ وہ مومن ہوتے ہوئے آپس میں لڑا کریں۔ تیسری بات جو اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر بالفرض کبھی مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ایک بہت بڑی اکثریت جو اس لڑائی میں شریک نہیں ان کا فرض ہے کہ وہ دونوں لڑنے والے گروہ میں مصالحت کی کوشش کریں۔ اور یہ کوشش کرنا ان کے لیے واجب ہے کیونکہ امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ ان کے لیے یہ بات انتہائی نامناسب ہے کہ وہ اپنے تئیں بیٹھے لڑنے والوں کا تماشا دیکھتے رہیں جبکہ ہمارے یہاں جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ نیک سمجھتے ہیں اور یا انھیں بہت تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کا گمان ہے وہ عام طور پر اس طرح کے جھگڑوں سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ اور وہ اس معاملے میں اپنی کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں لڑنے والے اپنے عمل کے حسن و قبح کے خود ذمہ دار ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمان چونکہ جسدِواحد کی طرح ہیں جس کے تمام اعضاء ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ اس لیے اس کے کسی حصے کو دوسرے سے بیگانہ ہونے کا حق نہیں۔ بنا بریں اس غیرجانبدار گروہ کے لیے یہ لازم ہے کہ لڑنے والوں میں مصالحت کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہو اس سے دریغ نہ کرے۔ وہ دونوں فریقوں کو لڑائی سے روکنے کی تلقین کرے، انھیں اللہ تعالیٰ سے ڈرائے، بااثر لوگوں سے جا کر ملاقات کرے، اپنی حد تک جو بھی ممکن ہوسکتا ہے اس کے لیے کوشاں رہے۔ چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اگر مصالحت کرانے والوں کی کوششوں سے دونوں فریق راہ راست پر آجائیں تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں ہی مصالحت کی ہر کوشش کو ٹھکرا دیں اور وہ اپنے مفادات کی جنگ میں بالکل اندھے ہوجائیں تو پھر یہ اگر کسی اسلامی حکومت کے تابع ہیں تو حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان دونوں کو باغی قرار دے کر ان کیخلاف طاقت استعمال کرے۔ اور اگر یہ کسی حکومت کے تابع نہیں تو پھر مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ان دونوں میں سے ایک گروہ تو اسلامی احکامات کے مطابق مصالحت پر آمادہ ہو لیکن دوسرا گروہ مصالحت کے لیے تیار نہ ہو یا مصالحت کے بعد مصالحت کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہو اور دوسرے گروہ کے ساتھ زیادتی کررہا ہو، تو اس صورت میں غیرجانبدار مسلمانوں یا ان کی حکومت کو اس زیادتی کرنے والے گروہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ اور یہ جنگ اس وقت تک ہونی چاہیے جب تک یہ تعدی اور ظلم کرنے والا گروہ اپنی سرکشی سے باز نہ آجائے۔ اور اس لڑائی کا حکم چونکہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس لیے یہ نہ صرف واجب ہے بلکہ جہاد کے حکم میں ہے۔ اور اس کا اس فتنے سے کوئی تعلق نہیں جس سے نبی کریم ﷺ نے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ اور پانچویں بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اگر یہ سرکشی کرنے والا گروہ مسلمانوں کے اجتماعی فیصلے کے سامنے سر جھکا دے تو پھر اس لیے اس کیخلاف لڑائی جاری نہ رکھی جائے کہ اس گروہ نے پہلے ہماری بات کیوں تسلیم نہ کی، اب اسے اس کی سرکشی کی سزا ملنی چاہیے۔ بلکہ جیسے ہی وہ مصالحت پر آمادگی کا اظہار کرے تو لڑائی فوراً رک جانی چاہیے۔ کیونکہ لڑائی سے مقصد اسے مصالحت پر آمادہ کرنا ہے اس کی سرکشی اور بغاوت کی سزا دینا نہیں۔ اور چھٹی بات یہ ہے کہ اب پھر جو اصل مقصد ہے اس کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ یعنی دونوں گروہوں کے درمیان مصالحت کرا دی جائے۔ لیکن یہ مصالحت اپنے دل و دماغ کو ان تلخیوں سے پاک کرنے کے بعد ہونی چاہیے جو اس لڑائی میں شریک ہونے کی وجہ سے یقینا دلوں میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان تلخیوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد دونوں گروہوں کو اس طرح آمنے سامنے بٹھایا جائے کہ کسی کو اپنی کمتری کا احساس نہ ہو۔ ہر لحاظ سے دونوں کے ساتھ برابری برتی جائے۔ اور دونوں کی شکایات کو دور کرنے اور حقوق کی ادائیگی میں پوری طرح انصاف کو بروئے کار لایا جائے۔ کیونکہ انصاف کرنے والے ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ اور یہ عدل و انصاف ہی وہ نعمت ہے جو دلوں سے کدورتوں کو دور کرسکتی ہے، لڑنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتی ہے اور انھیں احساس دلا سکتی ہے کہ قرآن و سنت کے احکام پر عمل کرنے ہی میں ہماری عافیت اور ہماری زندگی ہے۔ اسے نظرانداز کرکے شیطانی وساوس کا شکار ہوجانا سراسر تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کرائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُواللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (الحجرات : 10) (مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کرائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔ ) مسلمانوں کے درمیان رشتہ اخوت کا تقاضا گزشتہ آیت میں مسلمانوں کے اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو باقی مسلمانوں کو جس طرح لڑنے والوں کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اسے ان کے لیے لازم ٹھہرایا گیا، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد تمہارے درمیان ایک نئی اخوت قائم ہوگئی ہے جو عالمگیر برادری کی ضامن ہے۔ کیونکہ باقی تمام اقوام میں اخوت کے رشتے کی بنیاد، حسب و نسب، رنگ و نسل، یا جغرافیہ کی وحدت کو بنایا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ اخوت کا رشتہ جیسے جیسے ان میں مضبوط ہوتا ہے ویسے ویسے ان کا دائرہ اثر اور دائرہ عمل سمٹتا جاتا ہے اور وہ کبھی بھی دوسری قوموں سے اخوت کے رشتے میں شریک نہیں ہوسکتے۔ اور وہ عالمگیر برادری قائم نہیں ہوسکتی جو ایک طرح کے احساسات اور تصورات کی حامل ہو جبکہ اسلام اپنی دعوت میں ایسی وسعت رکھتا ہے جس کا دامن تمام قوموں کے لیے کشادہ ہے۔ ان میں نہ رنگ و نسل کی بحث ہے، نہ حسب و نسب کی اور نہ کسی علاقے کا ذکر، بلکہ جو بھی توحید، رسالت، آخرت اور ضروریاتِ دین کو مان لیتا ہے وہ اس عالمگیر برادری کا ایک حصہ بن جاتا ہے، چاہے وہ کالا ہو یا گورا۔ وہ ایشیا کا رہنے والا ہو یا یورپ کا، وہ کوئی سی بھی زبان بولتا ہو، اور وہ غریب ہو یا امیر، وہ ایک ایسی اخوت میں شریک ہوجاتا ہے جو اسلامی اخوت کہلاتی ہے اور تمام ایمان لانے والے اس کے بھائی بن جاتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ جب تک اخوت کا یہ رشتہ قائم رہتا ہے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جیسے ہی اسلام کا رشتہ کمزور پڑتا ہے اور دوسری نسبتیں توانا ہوجاتی ہیں تو پھر اسلام نے جن بنیادوں پر ایک وحدت فراہم کی تھی وہ وحدت قائم نہیں رہتی۔ اس لیے قرآن کریم نے اور نبی کریم ﷺ نے اخوت کے اس رشتے کو قائم رکھنے پر بہت زور دیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری ( رض) اور حضرت ابوہریرہ ( رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کی تذلیل نہیں کرتا اور ایک آدمی کے لیے یہی برائی بہت ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ صحیحین کی ایک روایت ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا : مومنوں کی مثال آپس کی محبت، وابستگی اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کے معاملہ میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے کسی عضو کو بھی تکلیف ہو تو سارا جسم اس پر بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ مومن ایک دوسرے کے لیے ایک دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ہر ایک، ایک دوسرے سے تقویت پاتا ہے۔ اور یہی وہ اخوت کا رشتہ ہے جسے قائم رکھنے کی صو رت میں اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کی امید دلائی گئی ہے۔