48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsروح القرآن

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ! بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی

اِنَّا فَتَحْنَالَـکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ (الفتح : 1) (اے پیغمبر ! بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا فرمائی۔ ) فتح مبین سے مراد معاہدہ حدیبیہ ہے اور اس معاہدے کی تفصیل نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام صلح حدیبیہ کے بعد جب مدینہ منور واپس جارہے تھے تو سجنان یا کراع الغمیم کے مقام پر یہ سورة نازل ہوئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس میں جس فتح مبین کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ معاہدہ حدیبیہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمان جب معاہدہ ٔ حدیبیہ سے واپس لوٹے ہیں تو ان کے دل رنج و غم سے معمور تھے اور وہ اس معاہدے کو مسلمانوں کی شکست سمجھ رہے تھے۔ چناچہ جب اس سورة کی پہلی ہی آیت میں اس معاہدے کو فتحِ مبین قرار دیا گیا تو آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے جو میرے لیے دنیا ومافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔ پھر یہ سورة آپ نے تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر ( رض) نے جب یہ آیت سنی تو حیران ہو کر کہا کہ یارسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انھوں نے بھی یہی سوال کیا، تو آپ نے فرمایا، ای والذی نفس محمد بیدہ انہ لفتح ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے۔ “ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر اس وقت تک معاہدہ ٔ حدیبیہ کے وہ پہلو آشکارا نہ ہوسکے تھے جس سے اس کے فتح ہونے کا گمان ہوتا۔ بلکہ مسلمان اس معاہدے کو ایک طرح سے مسلمانوں کی شکست کی دستاویز سمجھتے تھے کیونکہ بظاہر اس کی بعض دفعات میں یکطرفہ بات کہی گئی تھی جو مسلمانوں کے لیے سراسر نقصان کا باعث تھی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاہدہ کی نقل بھی قارئین کی خدمت میں پیش کردیں۔ اس کی مندرجہ ذیل دفعات تھیں۔ 1 دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی اور ایک دوسرے کیخلاف خفیہ یا علانیہ کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ 2 اس دوران قریش کا کوئی شخص اپنی ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر نبی کریم ﷺ کے پاس جائے گا، تو اسے آپ واپس کردیں گے۔ اور آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص قریش کے پاس چلا جائے گا تو اسے وہ واپس نہ کریں گے۔ 3 قبائلِ عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اسے اس کا اختیار ہوگا۔ 4 محمد ﷺ اس سال واپس جائیں اور آئندہ سال وہ عمرے کے لیے آکر تین دن مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں بشرطیکہ پر تلوں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں اور کوئی سامانِ حرب ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں میں اہل مکہ ان کے لیے شہر خالی کردیں گے مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں کے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔ اس معاہدے میں سب سے زیادہ دو باتیں مسلمانوں کو کھل رہی تھیں۔ ایک شرط نمبر 2 اور دوسرا شرط نمبر 4۔ کیونکہ شرط نمبر 2 سراسر یکطرفہ تھی۔ اور شرط نمبر 4 مسلمانوں کے لیے نہایت ندامت کا باعث تھی۔ کیونکہ عمرہ کے بغیر واپس جانا اور احرام کھولنا ایک طرح کی جگ ہنسائی بھی تھی اور ناکامی بھی۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات بری طرح کھٹک رہی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے تو خواب میں دیکھا تھا کہ ہم مکہ میں طواف کررہے ہیں، مگر یہاں تو ہم طواف کیے بغیر واپس جانے کی شرط مان رہے ہیں۔ اور شرط نمبر 2 کے معاملے کو ایک واقعہ نے جذباتی شکل دے دی۔ وہ یہ کہ سہیل بن عمرو کے اپنے صاحبزادے ابوجندل جو مسلمان ہوچکے تھے اور کفارِمکہ نے ان کو قید کر رکھا تھا کسی نہ کسی طرح بھاگ کر حضور ﷺ کے کیمپ میں پہنچ گئے۔ ان کے پائوں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر تشدد کے نشانات۔ انھوں نے حضور ﷺ سے فریاد کی کہ مجھے اس حبس بیجا سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کرام کے لیے یہ حالت دیکھ کر صبر کرنا مشکل ہوگیا۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ صلح نامہ کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو طے ہوچکی ہیں، اس لیے اس لڑکے کو میرے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بجھے ہوئے دل کے ساتھ اس کی حجت تسلیم کرلی اور ابوجندل ظالموں کے حوالے کردیئے گئے۔ یہ حالات تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے اس معاہدے کو فتح قرار دینا مشکل ہورہا تھا۔ لیکن اس سورة کے نزول کے بعد اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے ان پر اس معاہدے کے مضمرات واضح ہونے لگے۔ اور پھر حالات نے یہ ثابت کردیا کہ واقعی اصل فتح کا مقدمہ یہی معاہدہ ہے۔ اور اسی نے آگے چل کر مکہ کو سرنگوں ہونے اور پورے عرب کو اسلام کے زیرنگیں آنے کے حالات تیار کیے۔ اگر اس معاہدے پر غور کیا جائے تو بعض باتیں بالکل واضح ہیں۔ 1 اس میں پہلی مرتبہ قریش نے اسلامی ریاست کا وجود تسلیم کیا۔ اور بیت اللہ پر مسلمانوں کے حق کو مانا۔ اب تک عربوں کی نگاہ میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی حیثیت بھگوڑوں سے زیادہ نہ تھی۔ لیکن اب انھیں تسلیم کرنا پڑا کہ وہ ایک اسلامی ریاست سے معاہدہ کررہے ہیں اور مسلمانوں کا دین دوسرے ادیان جیسی حیثیت رکھتا ہے، وہ کوئی بےدینی نہیں اور اس دین کے ماننے والوں کا اللہ تعالیٰ کے گھر پر وہی حق ہے جو دوسروں کا ہے۔ 2 اس معاہدے سے قریش نے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کرلیا۔ اسی لیے انھوں نے تمام قبائل کو اس بات کا حق دے دیا کہ وہ جس سے چاہیں حلیفانہ تعلقات قائم کرلیں۔ 3 قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیت کو اس حد تک تسلیم کیا کہ خود اصرار کرکے معاہدے میں دس سال کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قبائل نے مسلمانوں سے حلیفانہ معاہدے کیے اور تمام قبائل میں مسلمانوں کے لیے آنے جانے کا راستہ کھل گیا۔ اس سے پہلے عرب صرف اسلام کے نام سے واقف تھے۔ وہ اسے اپنے دین کے خلاف ایک بغاوت کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ لیکن اب جب مسلمانوں کو موقع ملا کہ وہ اسلام کی صحیح تصویر انھیں دکھائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ انیس سال میں آنحضرت ﷺ کے رفقاء کی تعداد حدیبیہ کے موقع پر چودہ سو تھی۔ لیکن دو ہی سال بعد اس حد تک پہنچ گئی کہ جب مسلمان فتح مکہ کے لیے نکلے تو آپ ﷺ کی رکاب میں دس ہزار کا لشکر تھا اور ان میں ساڑھے آٹھ ہزار دو سال میں مسلمانوں کی تبلیغ و دعوت کا نتیجہ تھا۔ 4 آنحضرت ﷺ کا قریش سے جنگ کرنے کی بجائے دب کا معاہدہ کرلینا ایک طرح کی کمزوری پر دلالت کرتا تھا۔ لیکن اس سورة سے معلوم ہوا کہ یہ کمزوری نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ کیونکہ پروردگار جانتا تھا کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں ان کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔ 5 وہ دفعہ جو مسلمانوں کو بہت کھل رہی تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ طیبہ آجائے تو ہم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا فرمائے کہ قریش خود آنحضرت ﷺ سے درخواست کرنے پر مجبور ہوئے کہ ہم اس دفعہ کو واپس لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ابوبصیر ایمان لانے کے بعد مدینہ طیبہ پہنچے۔ قریش نے دو آدمی ان کو واپس لانے کے لیے بھیج دیئے۔ آنحضرت ﷺ نے معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے ابوبصیر کو ان کے ساتھ جانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی راستہ نکالے گا۔ وہ مکہ جاتے ہوئے راستے میں ان کی گرفت سے بچ نکلے اور ساحل بحراحمر کے اس راستے پر جا بیٹھے جس سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ اس کے بعد جس مسلمان کو بھی قریش کی قید سے بھاگ نکلنے کا موقع ملتا وہ ابوبصیر کے ٹھکانے پر پہنچ جاتا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ستر آدمی جمع ہوگئے اور انھوں نے قریش کے قافلوں پر چھاپے مار مار کر ان کا ناطقہ تنگ کردیا۔ مجبوراً قریش کو آنحضرت ﷺ سے اس شق کو ختم کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔ 6 آنحضرت ﷺ کو قریش کی طرف سے کسی حد تک اطمینان ہونے کے بعد موقع ملا کہ وہ اپنے مقبوضات میں اسلامی حکومت کو اچھی طرح مستحکم کرلیں۔ چناچہ آپ نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمال عرب اور وسط عرب کی تمام مخالف قوتوں کو یکے بعد دیگرے مسخر کرلیا۔ یہودی جو ایک بہت بڑا فتنہ تھے ان کے تمام مراکز پر فوج کشی کی اور انھیں زیرنگیں کرلیا۔ اور وسط عرب کے تمام قبیلے جو یہود اور قریش کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتے تھے ایک ایک کرکے تابع فرمان ہوگئے۔ اور مملکت کے اندر اسلامی قانون کے اجرا سے اسلامی تہذیب اور تمدن کو برپا کرنے کا موقع ملا۔ اور یہی درحقیقت وہ مقصد تھا جس کے لیے آنحضرت ﷺ تشریف لائے تھے۔ اور یہی وہ فتحِ مبین ہے جس کا اس سورة میں ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 48:2–3

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کرے، اور آپ کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور آپ کو زبردست نصرت سے نوازے

لِّیَغْفِرَلَـکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَـہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مَّسْتَقِیْمًا۔ وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا۔ (الفتح : 2، 3) (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کرے، اور آپ کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے۔ اور آپ کو زبردست نصرت سے نوازے۔ ) اس فتحِ مبین کے چند نتائج ایک مؤرخ یا سیرت نگار جب چھٹی ہجری میں آنحضرت ﷺ کے معمولات کو دیکھتا ہے تو اسے صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے جس میں نشیب و فراز کی موجیں کبھی اٹھتی ہیں اور کبھی سکون سے بہنے لگتی ہیں کہ اچانک آنحضرت ﷺ ایک خواب دیکھتے ہیں جس کے نتیجے میں آپ عمرہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں اور پھر مکہ معظمہ پہنچ کر وہ حالات پیش آتے ہیں جو معاہدہ ٔ حدیبیہ پر منتج ہوتے ہیں۔ اور ان میں کوئی ایسی غیرمعمولی بات دکھائی نہیں دیتی جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ اسلامی تحریک کو نئی توانائی مل رہی ہے اور یہ معاہدہ جو کاغذ پر لکھی چند شرائط کا نام ہے، سرزمینِ عرب پر ایک نئی تاریخ کا عنوان بننے والا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت ایک فتحِ مبین تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انعام و اکرام کی وہ بارش جو ہمیشہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر برستی تھی اسے موسلادھار بارش میں تبدیل کردیا ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی کی تفصیل ہے جس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے آپ کو یہ فتحِ مبین اس لیے عطا فرمائی ہے تاکہ ہم آپ کو فلاں فلاں احسان سے نوازیں۔ جن میں سب سے پہلا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشوں اور غلطیوں کو معاف کرنا چاہتا ہے۔ اس آیت میں لام غایت و نہایت کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فتحِ مبین عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو فلاں فلاں نعمت اور احسان پر منتہی ہوگی جن میں سب سے پہلے یہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اس فتح و غلبہ کی بشارت ہے جس کے لیے آپ کو بھیجا گیا ہے۔ یعنی آپ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے دین کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے قانون کو اس طرح نافذ فرمائیں کہ ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھ سکے کہ اس زمین پر اب صرف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بستے ہیں۔ یہ ایک طرح سے فریضہ ٔ رسالت کی ذمہ داریوں سے آپ کے سبکدوش ہونے کی خبر دی گئی ہے جس کا وقت اب بہت دور نہیں ہے۔ حالانکہ بظاہر حالات ایسا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کیونکہ عمرے کے لیے آپ کے ساتھ جانے والوں کی تعداد صرف چودہ سو تھی۔ اور ان چودہ سو کے ساتھ تو زمین پر کوئی بہت بڑا انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جبکہ مخالف قوتیں جزیرہ ٔ عرب کی حد تک ایک سال پہلے اتنا بڑا لشکر اسلامی قوت کو ختم کرنے کے لیے لانے میں کامیاب ہوگئی تھیں جن کا تصور کرکے دل حلق میں پھنس جاتے تھے۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ اس کے چار سال بعد جب آنحضرت ﷺ نے دنیا سے واپسی کا سفر کیا تو اسلامی انقلاب کے لیے ایک مضبوط بیس قائم ہوچکا تھا اور وفادار جانثاروں کی اتنی بڑی فوج تیار ہوچکی تھی جو زمین کے غالب حصے پر اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے کافی تھی۔ بعض دیگر اہل علم اسے آنحضرت ﷺ کی فریضہ ٔ رسالت سے فراغت اور آپ کی دنیا سے واپسی کا حوالہ تو نہیں سمجھتے، البتہ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جس مقصد عظیم کے لیے تشریف لائے تھے یہ فتحِ مبین اس عظیم مقصد کا مقدمہ ثابت ہوگی۔ اور اس کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے، اسلامی زندگی اور اسلامی انقلاب کے لیے جس ضابطہ ٔ حیات کی ضرورت ہے اور اس کے لیے جس طرح کے سازگار حالات کی ضرورت ہے وہ سب کچھ تیزی سے فراہم کردیا جائے گا۔ چناچہ حالات نے ثابت کردیا کہ ان میں سے ایک ایک چیز آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے مہیا کردی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے گناہوں سے مراد اور بخشش کا مفہوم اس میں جو سب سے زیادہ قابل توجہ بات ہے وہ یہ ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کے گناہوں کی بخشش کا ذکر فرمایا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے رسول معصوم پیدا کیے جاتے ہیں اور وہ اپنی تمام زندگی میں کبھی گناہ کے قریب بھی نہیں جاتے، تو پھر آنحضرت ﷺ کی گناہوں سے بخشش کا مفہوم کیا ہوگا ؟ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذَنْب یعنی گناہ، حکمِ شریعت کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے کسی نبی اور رسول سے کبھی ایسی نافرمانی کا صدور نہیں ہوا۔ البتہ سابقہ انبیائے کرام پر بھی اور آنحضرت ﷺ کے لیے بھی ذَنْب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ تو اس سے مراد یہ نہیں کہ آپ نے شریعت کا کوئی حکم توڑا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ سے جب بھی کبھی کوئی غلطی یا لغزش ایسی سرزد ہوئی ہے جس کا تعلق ہَوائے نفس سے نہیں بلکہ غلبہ ٔ دین کی خواہش سے ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے رسول چونکہ ہر معاملہ میں اسوہ اور مینارہ نور ہوتے ہیں اس لیے جب کبھی غلبہ ٔ دین کی خواہش میں اللہ تعالیٰ کے مطلوب معیار سے آگے بڑھتے ہیں تو پروردگار اسے ذَنْب قرار دے کر انھیں اس سے روکتا ہے۔ مثلاً طبقہ امراء کے چند افراد کو اس خیال سے زیادہ وقت دینا اور انھیں الگ لے کر بیٹھنا اور کسی حد تک ان کی نازبرداری کرنا کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور ان کے زیراثر لوگ ان کی وجہ سے اسلام کے قریب آجائیں تو یہ ایک ایسی خواہش ہے جسے گناہ تو کیا انتہائی نیکی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کی وجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں شکایت پیدا ہونے لگے جو انتہائی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرنے اور تزکیہ نفس کے لیے حاضر ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے محض اس وجہ سے روک دیتا ہے تاکہ آگے چل کر اس سے غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ اور اسے ذنب قرار دیتا ہے۔ منافقین اگر آپ کے پاس جھوٹے سچے عذر پیش کرکے جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت چاہتے ہیں تو محض کریم النفسی کی بنا پر آپ انھیں اجازت دے دیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی تنبہ فرماتا ہے حالانکہ کسی بھی اسلامی سربراہ کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اپنے اجتہاد سے ایسے فیصلے کرے۔ لیکن آنحضرت ﷺ جس بلند مرتبے کے حامل ہیں اس کی وجہ سے اسے بھی گناہ قرار دیا گیا اور آپ کو اس پر تنبہ فرمایا۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی واقعہ ہَوائے نفس کے سبب سے پیش نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے غلبہ ٔ دین کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش ہے یا آپ کی حد سے بڑھی ہوئی طبیعت کی نرمی اور دوسروے کا لحاظ کرنے کی عادت ہے جو امت میں جا کر قانون اور سنت بن سکتی ہے۔ اس لیے اس سے روک دیا گیا۔ ایسی لغزشیں اور کو تاہیاں چونکہ آپ کے بلندوبالا حیثیت کے لیے بھی مناسب نہ تھیں اس لیے انھیں معاف کرنے کا مژدہ سنایا گیا۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آپ چونکہ امت کے سربراہ اور اللہ تعالیٰ کے رسول تھے، اس لیے امت کی کو تاہیاں بھی آپ کی کو تاہیاں قرار دی گئیں اور یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے نفوذ کے لیے جو جدوجہد کی جارہی تھی اس میں جو کو تاہیاں رہ گئیں جن کی خبر کسی انسان کو نہیں ہوسکتی کیونکہ کوئی نظر ایسی نہیں جو انھیں دیکھ سکے۔ اور کوئی ایسا پیمانہ نہیں جس میں انھیں جانچا جاسکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں اسلامی جدوجہد کا جو اعلیٰ معیار ہے اس کے اعتبار سے اسے کمزوری قرار دیا گیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تو جس طرح فوج کی کمزوریاں اور ان کے کارنامے سپہ سالار کی طرف منسوب ہوتے ہیں، اسی طرح اس جدوجہد کی کمزوریوں کو بھی آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب فرما کر اس طرح ان کی بخشش کا مژدہ سنایا گیا جس میں آپ کی پوری زندگی کو سمیٹ لیا گیا۔ کیونکہ اگلے اور پچھلے کا لفظ احاطہ پر دلالت کرتا ہے جس سے ساری زندگی مراد لی جاسکتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں جو مزید انعامات ملنے والے ہیں اس کے بارے میں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کو تمام کردے گا۔ اور نعمت سے مراد قرآن کریم بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کی سنت بھی۔ کیونکہ دونوں مل کر اسلامی احکام کو ضابطہ حیات کی شکل دیتے ہیں۔ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا وہ تہذیب و تمدن بھی ہے جو اسلام کے نفاذ اور آنحضرت ﷺ کی تربیت نے مسلمانوں میں پیدا فرمایا۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے تکمیلِ دین کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ ” اور میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کردی۔ “ اور یہی وہ نعمت ہے جس کا اعلان آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں کیا تھا۔ اور دوسرا احسان جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے واسطے سے امت پر فرمایا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھے راستے کی رہنمائی کرے گا۔ یعنی اس فتحِ مبین نے وہ راستہ کھول دیا ہے جس پر چل کر آپ اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ ممکن ہے اس سے مراد یہ ہو کہ وہ صراط مستقیم جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد اپنی ذُرِّیت کے لیے کھولا تھا، مدت ہوئی انھیں کی اولاد نے اس کو بند کردیا اور اللہ تعالیٰ کا وہ گھر جسے اس کے مرکز کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اسے بت خانے میں تبدیل کردیا گیا۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے اس راستے کو پھر کھولا گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد نے قدم قدم پر اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اب اس معاہدے کے بعد قبائلِ عرب پر اس کی تبلیغ و دعوت کا راستہ کھل گیا ہے۔ اب یہاں کے باسیوں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت آسانی سے پہنچ سکے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تیزی سے یہ لوگ اسلام کی آغوش میں آئیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم قافلہ تیار ہوگا جن کے ہاتھوں اسلام کی مشل ہوگی۔ چناچہ دو ہی سالوں میں مکہ سرنگوں ہوگیا اور مزید دو سالوں میں پورا جزیرہ ٔ عرب اسلام کی آغوش میں آگیا۔ اس فتحِ مبین کے نتیجے میں جو مزید احسان فرمانے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد کرے گا جس کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوگا۔ چناچہ چار سال سے کم عرصے میں جزیرہ ٔ عرب کی تمام قوتیں اسلام کے دامن سے وابستہ ہوگئیں۔ راستے کی ہر رکاوٹ ختم کردی گئی۔ اس نوزائیدہ اسلامی ریاست کی حدود کا تحفظ کرلیا گیا۔ اور ایک ایسی قوت وجود میں آئی جسے جزیرہ ٔ عرب میں کوئی چیلنج کرنے والا نہ تھا۔ آیت کریمہ میں اس کے لیے عزیز کا لفظ استعمال ہوا ہے تو عزیز کا معنی جس طرح غالب اور طاقتور ہوتا ہے اسی طرح اس کا معنی عجیب اور نادر بھی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا ایسے عجیب طریقے سے کہ آج کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یعنی جس معاہدے کو شکست کی دستاویز سمجھا گیا اور مسلمان جس کے لیے نہایت پریشان اور غمگین رہے اور جسے سراسر اپنے لیے ناکامی سمجھتے رہے۔ وہی معاہدہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ایسا ذریعہ بنا کہ دیکھتے ہی دیکھتے جزیرہ ٔ عرب کی تاریخ بدل گئی، آستانے بدل گئے۔ اور لوگوں میں ایسی تبدیلی آئی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایک اور ایمان کا اضافہ کرلیں، اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں، اور اللہ علیم و حکیم ہے

ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ ط وَلِلّٰہِ جُنُوْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 4) (وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایک اور ایمان کا اضافہ کرلیں، اور آسمانوں اور زمین کی تمام فوجیں اللہ ہی کی ہیں، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ ) وعدہ نصرت کے ایفاء کی ایک جھلک اوپر والی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس وعدے کے ایفاء کی ایک جھلک ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہوگی، وہ تفصیل یہ ہے کہ سکینت عربی زبان میں سکون و اطمینان اور ثبات قلب کو کہتے ہیں۔ یہ ایسی کمیاب دولت ہے کہ صرف اسے نصیب ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ عطا کرے ورنہ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں اور معمولی نقصانات اور متوقع اندیشے آدمی کے قلبی سکون کو برباد کردیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جب عمرے کا ارادہ فرمایا اور مدینہ اور قرب و جوار کے مسلمانوں کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو منافقین اور کمزور ایمان کے لوگوں نے قسم قسم کے ایسے شبہات کا اظہار کیا۔ جن کی حیثیت صرف اندیشوں کی نہیں بلکہ ایسے خطرات کی تھی جسے وہ یقین کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ جزیرہ ٔ عرب کی منتخب قوت نے مسلمانوں کو فنا کرنے کے لیے مدینے کا گھیرائو کرلیا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی دستگیری نہ ہوتی تو ان سے بچ نکلنے کے کوئی امکانات نہ تھے۔ کتنے لوگ تھے کہ خوف کی وجہ سے ان کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے۔ ان میں غالب قوت اہل مکہ کی تھی۔ اب جبکہ تم ان کے گھر میں چل کے جارہے ہو اور پھر احرام کی حالت میں تمہارے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ ہوگا وہ بھی پر تلے میں ہوگی تو وہ تمہیں مکہ میں داخلے کی اجازت کیسے دے دیں گے۔ اور اپنی مرکز میں ہونے کی وجہ سے ان کے پاس وسائل کی فراوانی ہوگی اور وہ ضرورت کے وقت قرب و جوار کے قبائل کو بھی اپنی مدد کے لیے بلا سکیں گے۔ انھوں نے اگر تم سے لڑائی کا فیصلہ کرلیا جس کے غالب امکانات ہیں تو تم کس طرح ان سے عہدہ برا ہوسکو گے۔ تم عمرے کے لیے نہیں بلکہ موت کے منہ میں جارہے ہو۔ اور منافقین تو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ اور مومن اپنے گھروں کو لوٹ کے کبھی نہیں آئیں گے، یعنی وہیں مارے جائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جو لوگ آپ کے ساتھ نکلنے پر آمادہ ہوئے انھیں بھی یقینا ان کے اہل خانہ نے ہر خطرے سے آگاہ کیا ہوگا۔ اور پھر راستے میں جب انھیں معلوم ہوا کہ قریش راستے میں ہمارا انتظار کررہے ہیں تاکہ ہمیں آگے بڑھنے نہ دیں تو ان میں سے کسی نے بھی آپ کا ساتھ چھوڑنے کا ارادہ نہ کیا۔ حتیٰ کہ حدیبیہ میں پہنچ کر قریش نے بار بار انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کی، لیکن وہ کبھی مشتعل نہ ہوئے۔ ابوجندل اس وقت مسلمانوں کے سامنے پہنچے جب معاہدہ لکھا جارہا تھا اور انھوں نے بار بار فریاد کی کہ مسلمانوں میں مجھے ان ظالموں سے بچائو، لیکن کسی نے آنحضرت ﷺ کے فیصلے کیخلاف کچھ کر گزرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ حتیٰ کہ جن شرائط کو مسلمان کسی قیمت پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن جب آنحضرت ﷺ نے ان شرائط کو قبول کرلیا تو مسلمانوں میں سے کسی نے بھی آپ سے اختلاف کرنے کی جرأت نہ کی۔ یہ وہ سکینت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نازل فرمایا اور وہ مشکل سے مشکل حالات میں ثابت قدم رہے۔ ایمان میں اضافہ سے مراد مزید فرمایا کہ ہم نے مسلمانوں کو جو ایسے خطرناک امتحانات میں ڈالا اور بار بار ان کے ایمان کا امتحان لیا، یہ صرف اس لیے تھا تاکہ وہ اپنے ایمان میں اضافہ کرلیں۔ کیونکہ ایمان کوئی جامد اور ساکت چیز نہیں، وہ دل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو یقین و اذعان کے ساتھ بڑھتی اور شک و ارتیاب سے کم ہوتی ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے وعدوں پر پہلے ہی ایمان میسر تھا، لیکن اب جیسے جیسے نازک حالات سے انھیں گزرنا پڑا تو اس ایمان اور یقین میں اور پختگی آتی گئی۔ اور اس طرح سے ایک نئے ایمان کا ان میں اضافہ ہوگیا۔ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل پہلے بھی رکھتے تھے لیکن اب جبکہ ایک بڑے دشمن کے سامنے انھوں نے ثبات قدم کا ثبوت دیا اور ہزار اندیشوں کے باوجود دل کو ڈولنے نہ دیا تو اس توکل اور اعتماد میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بیشمار لشکر ہیں جنھیں کوئی شمار کرنا چاہے تو نہ کرسکے۔ ہم کائنات میں جتنی قوتیں دیکھتے ہیں جو انسان کے کام بھی آتی ہیں اور خطرے کا باعث بھی بنتی ہیں اور جب کبھی بےقابو ہوجاتی ہیں تو تباہی کا پیغام لاتی ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کے لشکر ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے اور ان قوموں کو جو رسولوں کی بعثت کے باوجود بھی راہ راست پر نہیں آتیں تباہ کردیتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان لشکروں میں سے کسی لشکر کے ذریعے اپنے رسول کی مدد کرتا، قریش کو فنا کردیتا اور اپنے دین کو غالب کردیتا لیکن اس نے یہ سارا کام مسلمانوں پر ڈال دیا ہے تاکہ ان کے ایمان کی تربیت ہوسکے۔ وہ اپنے دین کی نصرت کے لیے کسی کا محتاج نہیں۔ لیکن اہل ایمان کو اپنی تربیت اور آخرت میں اجروثواب کے لیے آزمائشوں سے گزارتا ہے۔ کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَیُکَفِّرَصژڑ عَنْہُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَاللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 5) (تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔ ) کفار سے مسلمانوں کا تصادم مسلمانوں کی تربیت کے لیے ہے اس سے پہلے ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کو کافروں کے مقابلے میں خطرناک صورتحال سے دوچار کرتا ہے جس کا نتیجہ عموماً جنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کا محتاج ہے جبکہ اس کے پاس بیشمار ایسے لشکر ہیں کہ وہ کسی لشکر کی مدد سے بھی کفار کو ہلاک کرسکتا ہے۔ مسلمانوں پر اس ذمہ داری کا عائد کرنا درحقیقت مسلمانوں کی تربیت کے لیے ہے۔ اسی سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے میں افزونی ہوتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کو مبتلا کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں آخرت میں جنت کی نعمتوں کا مستحق بنانا چاہتا ہے۔ وہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں استقامت اور قربانی و ایثار کا ثبوت دیں گے، ویسے ویسے جنت کی نعمتوں کے سزاوار ہوتے جائیں گے۔ اور دنیا میں راہ حق میں اٹھائی جانے والی ایک ایک تکلیف کے بدلے میں وہاں ایسی نعمتوں سے گراں بار کیے جائیں گے جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ ایسی صورتحال سے مسلمانوں کو اس لیے بھی دوچار کیا جاتا ہے کہ حق و باطل کی جدوجہد یا ذاتی زندگی میں جو کچھ کمزوریاں باقی رہ جاتی ہیں جنت میں داخلے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایسی تمام کمزوریوں اور برائیوں کو ان خوش نصیب بندوں سے دور فرما دیتا ہے۔ کیونکہ جنت ایک ایسا مقام ہے جہاں گناہوں کا گزر نہیں ہوتا۔ بلکہ جب لوگ اس میں داخل کیے جائیں گے تو اگر کسی گناہ کا داغ بھی ان کے دامن پر ہوگا تو اسے دھو ڈالا جائے گا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر گناہ ساتھ لے کر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا تو پھر تو یہ بات لازم ہے کہ گناہوں سے جنت میں داخل ہونے والے کو پہلے پاک کیا جائے اور بعد میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ لیکن آیت میں ترتیب اس کے برعکس ہے۔ دخولِ جنت کا ذکر پہلے ہے اور تکفیرِسَیِّاٰت کا بعد میں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ترتیب محض ظاہری ہے، حقیقی نہیں۔ حقیقی ترتیب وہی ہے جس کا تقاضا ہورہا ہے۔ لیکن اس ترتیب میں دخول جنت کا ذکر پہلے اس لیے فرمایا گیا ہے تاکہ مقصود پر نگاہ رہے۔ کیونکہ مقصد جنت میں داخل ہونا ہے اور وہی اصل ہدف ہے اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا گیا۔ آخر میں ارشاد ہوا کہ اہل دنیا نے نہ جانے کس کس چیز میں فوزوفلاح سمجھ رکھی ہے۔ لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جنت میں دخول یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ باقی ساری کامیابیاں سراب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اور پھر ان کا تعلق بھی صرف دنیا سے ہے۔ لیکن وہ مقصد جس کے لیے ایک مومن بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرتا اور جو اس کی زندگی بھر کی کاوشوں کا اصل ہدف ہے وہ صرف جنت ہے۔
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں، برائی کی گردش ان ہی پر ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور اس نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے اور نہایت برا ٹھکانہ ہے

وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰـفِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ الظَّـآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْئِ ط عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ ج وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَلَعَنَھُمْ وَاَعَدَّلَہُمْ جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا۔ (الفتح : 6) (اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو، جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں، برائی کی گردش ان ہی پر ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور اس نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے اور نہایت برا ٹھکانہ ہے۔ ) حق و باطل کی کشمکش میں اہل حق سرافراز اور اہل باطل موردعذاب ہوتے ہیں حق و باطل کی کشمکش میں جس طرح حق کا ساتھ دینے والے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سرافراز ہوتے ہیں اور آخرت میں جنت ان کی پیشوائی کے لیے تیار ہے، اسی طرح جو لوگ اس کشمکش میں باطل کا ساتھ دیتے ہیں چاہے وہ منافق ہوں یا کافر، یعنی ان کی باطل کے ساتھ وابستگی خفیہ ہو یا علانیہ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی ذلیل کرتا ہے اور آخرت میں ان کو بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ کے لیے عازم سفر ہونے سے پہلے مدینہ کے قرب و جوار میں نام نہاد اصحابِ ایمان کو بھی پیغام بھیجا تھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اس سفر میں شریک ہوں۔ لیکن انھوں نے مختلف بہانوں سے اس سفر میں شریک ہونے سے پہلوتہی کی۔ (اور ان کے بہانوں کا ذکر بعد کی آیات میں کیا جارہا ہے) ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھی بلاوجہ اپنے آپ کو ایک تباہ کن صورتحال میں جھونک رہے ہیں۔ اہل مکہ کسی قیمت پر ان کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نتیجہ میں تصادم ہوگا اور مسلمان چونکہ تعداد میں تھوڑے اور اسلحہ ٔ جنگ میں تہی دامن ہیں اس لیے قریش اور ان کے دوسرے معاونین کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ بنا بریں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان میں سے کوئی شخص زندہ واپس مدینہ نہیں آئے گا۔ اور یہ بھی انھیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی مدد نہیں فرمائے گا اور یہ اپنے غلط اقدامات کی وجہ سے ہلاکت کی نذر ہوجائیں گے۔ اس طرح کے گمان تھے جو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کر رہے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ مسلمان برائی کی گردش میں آگئے ہیں اور اس گردش سے نکلنا اب ان کے لیے ممکن نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان پر چوٹ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ برائی کے پھیر میں تو یہ لوگ آگئے ہیں کیونکہ انھوں نے نفاق کا راستہ اختیار کرکے اور ایمان اور ایثار کا راستہ چھوڑ کر اپنے لیے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جو نہ انھیں دنیا کے قابل چھوڑے گا اور نہ آخرت کی کامیابیاں ان کے نصیب میں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب ہوگا، اس کی لعنت ان پر برسے گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اس آیت میں منافقین اور منافقات اور مشرکین اور مشرکات کا ذکر ایک ہی سیاق کلام میں کیا گیا ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی عمرے کے لیے روانگی منافقین کی نگاہ میں تباہی کا باعث تھی اسی طرح مشرکین بھی مسلمانوں کی تباہی اس کے آئینہ میں دیکھ رہے تھے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نفاق اور شرک ملتی جلتی بیماریاں ہیں۔ نفاق ایمان کے عہد سے خیانت اور بےوفائی کا نام ہے۔ اور شرک اللہ تعالیٰ کی بندگی کے عہد میں خیانت اور بےوفائی ہے۔ اس لحاظ سے مرض میں دونوں یکساں ہیں۔ اور دونوں اسلام دشمنی میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس سے اوپر کی آیت کریمہ دونوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی فرمایا ہے جبکہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ مخصوص احکام کے سوا عورتوں کا ذکر مردوں کے تابع رکھتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاد و قتال اگرچہ مردوں کا فریضہ ہے، عورتوں کا نہیں، اس لیے جب بھی جہاد و قتال کے حوالے سے قربانی و استقامت پر اجروثواب کا ذکر آئے گا تو اس سے عام طور پر مرد ہی مراد ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں عورتوں کا خاص طور سے الگ ذکر شاید اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس خطرناک سفر میں نکلے تو ان کی یہ جرأت و جسارت اور راہ حق میں وفاشعاری جس طرح ان کے ایمان کا ثبوت ہے اسی طرح اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہے۔ کیونکہ اہل خانہ ہمیشہ خطرناک اقدام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ اکیلا وکیلا شخص جان پر کھیل جاتا ہے۔ لیکن جو شخص بیوی بچے رکھتا ہے وہ ان کی وجہ سے بخل کا بھی شکار ہوتا ہے اور بزدلی کا بھی۔ کیونکہ عورتیں اور بچے عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ آپ اپنے لیے نہیں تو ہمارے لیے زندہ رہیں، آپ کے بعد ہم کیا کریں گے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ جب مسلمان مکہ کے لیے روانہ ہوگئے تو مدینے میں یا منافقین رہ گئے اور یا نواحی بستیوں میں دشمنانِ دین۔ لیکن عورتوں نے اپنے جانے والے شوہروں کو یہ کہہ کر روکنے کی کوشش نہیں کی کہ آپ کے چلے جانے کے بعد اگر ان لوگوں نے ہمارے گھروں پر حملے کیے تو پھر ہمارا انجام کیا ہوگا۔ تو ان کی اس وفاشعاری اور اعتماد علی اللہ نے اللہ تعالیٰ سے اپنا اجروثواب حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح منافق اور مشرک عورتوں نے بھی منافق مردوں اور مشرک مردوں کے نفاق اور شرک میں یقینا اپنا حصہ ڈالا۔ ان کی کمزوریوں نے انھیں اس نازک سفر میں نکلنے سے روکا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں جیسے کہ وہ بدگمانیاں کرتے رہے ان کی بیویوں اور بچوں نے بھی اس میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں پر لعنت فرمائی، اسی طرح عورتوں پر بھی لعنت فرمائی اور دونوں کو عذاب عظیم کی وعید سنائی۔
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے لشکر، اور اللہ زبردست اور حکیم ہے

وَلِلّٰہِ جُنُوْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 7) (اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے لشکر، اور اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ ) اہلِ باطل کے لیے مہلت منافقین اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اپنے رسول اور صاحب ایمان لوگوں کو اپنے اہل خانہ میں کبھی لوٹا کے نہیں لائے گا بلکہ وہ سب کے سب اہل مکہ کے ساتھ مقابلے میں مارے جائیں گے۔ تو پھر ان کے لیے عیش ہوں گے جو چاہیں گے سو کریں گے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان بدنصیبوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے نفاق اور کفر کے باجود اللہ تعالیٰ نے جو انھیں مہلت دے رکھی ہے کہ ابھی تک ان پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں فرمائی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ انھیں سزا دینے پر قادر نہیں۔ اور مسلمانوں کو دوسرے کفار نے دوسرے میدانوں میں مشغول کر رکھا ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار لشکر ہیں۔ وہ جب کسی کو سزا دینا چاہتا ہے تو کسی بھی لشکر کو بھیج کر انھیں سزا دے دیتا ہے۔ کتنی معذب قومیں ہیں جن میں سے بعض کا ذکر قرآن پاک نے بھی کیا ہے۔ وہ اس وقت کے مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو نہیں پہنچیں بلکہ کسی کو زلزلے نے تباہ کیا، کسی کو آندھی کے ذریعے ہلاک کیا گیا، کسی پر بادل جھوم کر اٹھا اور ان پر آگ برسنے لگی، کسی کی دھرتی الٹ دی گئی، پھر ان پر پتھر برسائے گئے۔ یہ اس کے لشکر ہیں جس لشکر کو وہ چاہتا ہے حرکت میں لے آتا ہے کیونکہ وہ غالب اور مقتدر ہے اس کے راستے میں کوئی حائل نہیں ہوسکتا۔ البتہ حکیم ہونے کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی حکمت کے مطابق اپنے فیصلے فرماتا ہے۔ اور اس کے مطابق دشمنوں کو سزا ملتی یا ڈھیل ملتی ہے۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا بنا کر بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو، اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام

اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًاوَّمُبَشِّرًاوَّنَذِیْرًا۔ لِّـتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ ط وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الفتح : 8، 9) (بےشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو، اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ ) آنحضرت ﷺ کا مرتبہ و مقام اور امت پر آپ کے حقوق ان دونوں آیتوں میں پہلے نبی کریم ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا گیا ہے، پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے مومنوں پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مقام و مرتبہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو شاہد بنا کے بھیجا ہے۔ شاہد کا معنی ہے گواہی دینے والا۔ کہ آپ قیامت کے دن اپنی امت پر گواہی دیں گے اور اس کے مطابق امت کو جزا و سزا سے گزارا جائے گا۔ لیکن یہ گواہی اس گواہی کا نتیجہ ہوگی جو آپ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے سامنے دے چکے ہوں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو ضابطہ ٔ حیات نازل فرمایا اس کے ایک ایک حکم کو اللہ تعالیٰ کے حوالے سے آپ نے لوگوں تک پہنچایا۔ اور لوگوں کے اندر اعتماد پیدا کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے اس میں شک و ارتیاب کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور دوسری گواہی آپ نے یہ دی کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس ضابطہ ٔ حیات کی ایک ایک دفعہ کو جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے نازل فرمایا، بلا کم وکاست نافذ فرما کر اس کے قابل عمل بلکہ واجب العمل ہونے کو ثابت کیا۔ اور ایک مختصر وقت میں اس ضابطہ ٔ حیات کی برکات اور اس کے نتائج سے لوگوں کو بہرہ ور فرمایا۔ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر اس ضابطہ حیات کو قبول کرلیا، آپ نے انھیں دنیوی و اخروی فوزوفلاح کی بشارت دی۔ اور دنیا میں چند ہی سال کے اندر لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کی عملی تصویر دیکھی۔ اور جن لوگوں نے اسے ماننے سے انکار کیا انھیں آپ نے خبردار کیا کہ اگر تم اسے تسلیم کرنے سے انکار کرو گے تو دنیا میں بھی نقصان اٹھائو گے اور آخرت میں بدترین عذاب کے سزاوار ٹھہروگے۔ آنحضرت ﷺ کی اس حیثیت کو واضح کرنے کے بعد اس کے تقاضوں کو بیان فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے دین کی اقامت کے لیے جو جدوجہد کررہے ہیں اس میں ان کی ہر ممکن مدد کرو۔ اور یہ بات یاد رکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے بلندوبالا شخصیت ہیں۔ اور ایمان کے نقطہ نگاہ سے اللہ تعالیٰ کے بعد ان ہی کا مقام و مرتبہ ہے۔ اس لیے ان کے احترام اور تعظیم میں کبھی کمی نہ آنے دو ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہو۔ صبح و شام سے مراد صبح اور شام کے مخصوص اوقات نہیں بلکہ یہ الفاظ احاطہ پر دلیل ہیں۔ یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

اے پیغمبر ! بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے، ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا، تو جس نے اس عہد کو توڑا تو اس عہدشکنی کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا، اور جو عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَـکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ ج فَمَنْ نَّـکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 10) (اے پیغمبر ! بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے، ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا، تو جس نے اس عہد کو توڑا تو اس عہدشکنی کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا، اور جو عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ ) آنحضرت ﷺ کے مقام کی وضاحت اور اس کا مفہوم اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کو بیان فرمایا گیا ہے اس لیے اس کی نسبت سے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب بھی آپ مسلمانوں سے کسی بات پر بیعت لیتے ہیں تو بظاہر آپ کے ہاتھ پر مسلمان بیعت کرتے ہیں، لیکن آپ چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اس لیے دیکھنے کو آپ کا ہاتھ آپ کا ہاتھ ہے، لیکن حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرنا سب سے بڑی ذمہ داری اپنے سر لینا ہے۔ پھر جو شخص اس بیعت کو توڑے گا وہ گویا اللہ تعالیٰ سے تعلق کو شکست کرے گا۔ اور جو اس کو پورا کرے گا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اجرِعظیم سے نوازے گا۔ بعض اہل علم نے اس سے سمع و اطاعت کا عہد مراد لیا ہے۔ یعنی جو شخص آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتا وہ آپ سے سمع و اطاعت کا عہد کرتا اور اس پر آپ سے بیعت کرتا تھا۔ ان کے نزدیک یہ کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں بلکہ ہر صاحب ایمان اور ہر وہ شخص جو اس دائرے میں داخل ہونا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری تنبیہ اور رہنمائی ہے۔ لیکن دوسرے اہل علم اس سے بیعت رضوان مراد لیتے ہیں جو حضرت عثمان غنی ( رض) کی واپسی میں تاخیر کی وجہ سے اور اس افواہ کے اڑ جانے کے باعث کہ آپ کو شہید کردیا گیا ہے نبی کریم ﷺ نے ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں سے موت پر بیعت لی۔ اس آیت میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور سابقہ آیات میں چونکہ ذکر معاہدہ حدیبیہ کا ہورہا ہے اور اسی سے متعلق واقعات زیربحث لائے جارہے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ یہ واقعہ اس سے مراد لیا جائے۔ بہرحال امکان دونوں ہی پہلوئوں کا ہے۔ اس لیے کوئی حرج نہیں کہ اسے مطلق معنی میں رکھا جائے یا اس کو ایک خاص واقعہ کی طرف نسبت دی جائے۔ ایک نحوی شبہ کا ازالہ اس آیت کے آخر میں عَلَیْہُ اللّٰہَ کا لفظ آیا ہے۔ نحوی قاعدہ کے اعتبار سے ضمیر کو مجرور ہونا چاہیے تھا، لیکن قرآن کریم نے اس کو مضموم استعمال کیا ہے۔ اس کی وضاحت میں علامہ آلوسی اور بعض دیگر مفسرین نے قابل قدر توجیہات پیش کی ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں جو وضاحت صاحب تدبر قرآن نے کی ہے وہ بھی قابل لحاظ ہے ہم اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ اس آیت میں عَلَیْہُ اللّٰہَ کی ضمیر مجرور پر جو ضمّہ ہے اس کی بنا پر بعض مستشرقین نے قرآن کی نحو پر اعتراض کیا ہے۔ ان بیچاروں کو پتہ نہیں ہے کہ نحو کی کتابیں قرآن کے اسلوب و اعراب کو پرکھنے کے لیے کسوٹی نہیں ہیں بلکہ قرآن نحو کی کتابوں کے جانچنے کے لیے کسوٹی ہے۔ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اور ہر پہلو سے بالکل محفوظ بھی ہے۔ اس وجہ سے اگر اس کی کوئی چیز نحو کے مروجات کے خلاف نظر آئے گی تو اس کی بنا پر قرآن کو متہم نہیں کریں گے بلکہ اس کو اہل نحو کے تتبع کے نقص پر محمول کریں گے۔ سیبویہ فنِ نحو کا امام ہے۔ میرے استاذ مولانا فراہی ( رح) بھی اس کو امام مانتے ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے اس کے متعدد مسائل پر کلام عرب کی روشنی میں تنقید کرکے بتایا ہے کہ معروف اسلوب وہ ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے نہ کہ وہ جو سیبویہ نے قرار دیا ہے۔ فصیح عربی میں صرف آہنگ و صوت کے تقاضوں کے تحت بھی الفاظ، حروف اور ضمیروں پر ایسے ایسے تصرفات ہوئے ہیں کہ اگر کسی شخص کا علم صرف نحو کی کتابوں ہی تک محدود ہو تو وہ ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ یہ ضمیروں ہی کا مسئلہ لیجئے۔ قرآن میں متعدد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ ضمیر لفظ کے اندر بالکل مدغم ہو کے رہ گئی ہے اور اس کی وجہ آہنگ و صوت کے تقاضے کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ مثلاً الاعراف کی آیت 111 میں ہے اَرْجِہُ وَاَخَاہُ (اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالو) اسی طرح سورة نور کی آیت 52 میں ہے یَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّقْہِ (اللہ سے ڈرے اور اس سے تقویٰ اختیار کرے) ۔ آیت زیربحث میں جس طرح ضمّہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوتا ہے بعینہ یہی صورت، سورة کہف آیت 63 میں بھی ہے وَمَا اَنْسٰنِیْہُٓ اِلاَّالشَّیْطٰنُ (اور مجھے اس سے نہیں غافل کیا مگر شیطان نے) یہاں مثالوں کا استقصاء مقصود نہیں ہے۔ اس مسئلہ کی مزید تحقیق کے خواہشمندوں کو آخری گروپ کی سورتوں میں بہت سی مثالیں ملیں گی کہ صرف آہنگ و صوت کے تقاضے سے حروف، الفاظ اور ضمیروں کی ہیئت میں ایسی تبدیلیاں ہوگئی ہیں جن کی اہل نحو کوئی توجیہ نہیں کرپاتے۔ یہاں بھی وہی صورت ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ آکر آپ سے کہیں گے کہ ہمیں اپنے اموال اور اہل و عیال کی ذمہ داریوں نے مشغول رکھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، ان سے کہئے کہ کون ہے جو تمہارے لیے اللہ کو روک دینے کا اختیار رکھتا ہو، اگر وہ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے بلکہ اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو

سَیَقُوْلُ لَـکَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَـآ اَمْوَالُـنَا وَاَھْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْلَنَا ج یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ ط قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْــًٔا اِنْ اَرَادَبِکُمْ ضَرًّا اَوْاَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا ط بَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ (الفتح : 11) (بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ آکر آپ سے کہیں گے کہ ہمیں اپنے اموال اور اہل و عیال کی ذمہ داریوں نے مشغول رکھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، ان سے کہئے کہ کون ہے جو تمہارے لیے اللہ کو روک دینے کا اختیار رکھتا ہو، اگر وہ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے بلکہ اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو۔ ) منافقین کے اعذار کی حقیقت اطرافِ مدینہ میں اسلم، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجہ اور دیل وغیرہ کے قبائل آباد تھے جنھیں اعراب کہا جاتا تھا اور ٹھیٹھ زبان میں انھیں بدو کہا جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے عمرے کے لیے عازم سفر ہونے سے پہلے انھیں ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، لیکن انھوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ سفر اپنے اندر بےپناہ خطرات رکھتا ہے اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ اہل مکہ کے ساتھ مسلمانوں کا تصادم ہوگا اور قریش چونکہ بہت بڑی قوت ہیں اس لیے انھیں مسلمانوں کا استیصال کرنے کا موقع مل جائے گا اور مسلمان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ عافیت اسی میں ہے کہ خاموشی سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہو اور حیلوں بہانوں سے آنحضرت ﷺ کا ساتھ دینے سے پہلوتہی کرو۔ چناچہ یہ لوگ اپنے ان مذموم خیالات کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جب آنحضرت ﷺ خیریت سے واپس مدینہ روانہ ہوئے تو مکہ سے نکلتے ہی سورة الفتح نازل ہوئی۔ تو پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو پیچھے رکھا گیا وہ لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آکر یہ عذر بیان کریں گے کہ ہماری دلی خواہش تھی کہ ہم آپ کے ساتھ نکلیں اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت سے مشرف ہوں جس سے ہمیں کئی سال سے محروم رکھا گیا ہے۔ لیکن اہل خانہ کی دیکھ بھال، بیوی بچوں کی ضروریات کی نگہداشت اور اپنے مال و دولت، کھیتی باڑی اور کاروبار کی مشغولیت نے ہمیں نکلنے کی اجازت نہ دی۔ یہ یقینا ہماری بڑی کوتاہی تھی، ہم اس پر نادم ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے ہماری مغفرت کی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ غلطی معاف فرمائے۔ پروردگار نے ان کے متوقع عذر کو بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ جو کچھ اپنی زبانوں سے کہیں گے یہ ان کے دل کی آواز نہیں بلکہ محض زبانوں کا جمع خرچ ہے اور آپ کو فریب دینے کی ایک کوشش ہے۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ اس سے بہت مختلف ہے جو ان کی زبانوں پر ہے۔ آپ ان کی معذرت کو درخورِاعتنا نہ سمجھیں بلکہ آپ ان لوگوں سے یہ پوچھیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو محض اس لیے اہمیت نہ دی کہ تمہیں اپنے مفادات زیادہ عزیز تھے۔ اور تم نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ اس پرخطر سفر سے پہلوتہی کی جائے تاکہ تمہاری جانیں سلامت رہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کسی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی ایسی طاقت ہے جو اس کے ارادے میں حائل ہوسکے۔ اور اگر تمہارا جواب نفی میں ہے تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اپنے مفادات کو ترجیح کیوں دی ؟ اور اگر تمہارا جواب اثبات میں ہے تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا تکلف کیوں کیا ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کوئی اور قوت نہ اس کی ذات میں شریک ہوسکتی ہے نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے جن خیالات کے پیش نظر اور جن مفادات کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کا ہمسفر ہونے سے اعراض کیا وہ تمہارے وہ اعذار نہیں بلکہ تمہارے وہ کرتوت ہیں جنھیں تم پس پردہ انجام دیتے رہے ہو اور اللہ تعالیٰ جن سے پوری طرح باخبر ہے۔ قرآن کریم نے ان پیچھے رہ جانے والوں کے لیے مُخَلَّفُوْنَ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی پیچھے رہ جانے والے نہیں بلکہ اس کا معنی وہ لوگ ہے جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے۔ حالانکہ انھیں پیچھے چھوڑا نہیں گیا بلکہ یہ اپنی مرضی سے پیچھے رہے۔ اس میں دراصل اللہ تعالیٰ کے ایک قانون کی طرف اشارہ ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو جوہرِعقل سے نوازا اور قوت امتیاز عطا کی، اور اسے اس بات کا اختیار دیا کہ وہ حق و باطل اور خیر و شر میں اپنے عقل و شعور سے کام لے کر جسے چاہے اختیار کرلے۔ لیکن ساتھ ہی یہ کرم فرمایا کہ حق اور خیر کو واضح کرنے کے لیے جابجا نشانیاں روشن کیں، اپنے رسول بھیجے اور اپنی کتابیں نازل کیں۔ لیکن کوئی شخص ان تمام احسانات کو رد کرتے ہوئے اگر شر کو اختیار کرتا اور باطل کا ہمسفر بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک خاص حد تک مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنی روش میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے حالات کے حوالے کردیتا ہے اور شیطانی قوتیں اور نفسانی شرور اس پر حملہ کرنے کے لیے آزاد ہوجاتے ہیں۔ آخر وہ ان کی گرفت میں آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہی کچھ ان اعراب کے ساتھ بھی ہوا کہ جب انھوں نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے پیچھے رہ جانے کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے فیصلے پر نہایت شاداں وفرحاں آگے بڑھتے چلے گئے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق انھیں پیچھے چھوڑ دیا۔ اب وہ پیچھے رہ جانے والے نہیں بلکہ ایسے بدنصیب ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت پیچھے چھوڑ چکی ہے۔