48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsروح القرآن

Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور ان پر ایمان لانے والے اب کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں آراستہ کردی گئی، اور تم نے برے برے گمان کیے، تم ہو ہی بدباطن لوگ

بَلْ ظَنَنْـتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَھْلِیْھِمْ اَبَدًاوَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئٍ صلے ج وَکُنْتُمْ قَوْمًا م بُوْرًا۔ (الفتح : 12) (بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور ان پر ایمان لانے والے اب کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں آراستہ کردی گئی، اور تم نے برے برے گمان کیے، تم ہو ہی بدباطن لوگ۔ ) منافقین کے دل کی حالت کا افشاء سابقہ آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ زبان سے جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کے دلوں میں نہیں۔ اور دلوں میں کیا ہے، اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے دل کی بات کو پروردگار نے افشاء فرما دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آپ کا ساتھ دینے سے اس لیے نہیں رکے کہ ان کے اموال اور ان کے بیوی بچوں کی نگہداشت نے انھیں مصروف رکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا گمان یہ تھا کہ مسلمان موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ قریش جو مسلمانوں کی نسبت بہت طاقت رکھتے ہیں جن کے پاس افرادی قوت بھی کثیر ہے اور اسلحہ ٔ جنگ کی فراوانی بھی ہے اور وہ چونکہ اپنے مرکز میں ہیں اس لیے ضرورت پڑنے پر قرب و جوار کے حلیفوں اور دیگر قبائل کو بھی بلا سکتے ہیں۔ اور مسلمان اپنے مرکز سے اڑھائی سو میل دور ہوں گے۔ اور افرادی قوت ان کے پاس صرف چودہ سو ہے۔ اور اسلحہ ٔ جنگ نہ ہونے کے برابر۔ تصادم کی صورت میں یہ ان سے کیسے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ قریش انھیں کبھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اگر یہ زبردست داخل ہونا چاہیں گے تو تہہ تیغ کردیئے جائیں گے۔ یہ وہ خطرات تھے جنھوں نے انھیں نکلنے سے روکا۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ ایمان کے دعوے اور مسلمانوں سے تعلق کے باوجود انھیں اس بات پر کوئی ملال نہیں تھا کہ مسلمان ایک خطرے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ بلکہ وہ اس بات پر بہت خوش تھے اور یہ بات ان کے دلوں میں آراستہ کردی گئی تھی کہ بہت اچھا ہے کہ مسلمان اس طرح تباہ کردیئے جائیں۔ اور بھی قسم قسم کی بدگمانیاں اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے بارے میں کرتے رہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جس طرح کا عذر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں اس کا حقیقت سے کتنا رشتہ ہے۔ اور یہ لوگ کیا واقعی اس قابل ہیں کہ ان کے اس عذر کو قبول کرکے ان کے جرائم سے درگزر کیا جائے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ یہ ہیں ہی بدباطن لوگ، ان سے کسی خیر کی توقع نہیں۔ بُوْرً جمع ہے بائر کی۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک ہے فاسد، بگڑا ہوا آدمی جو کسی بھلے کام کے لائق نہ ہو۔ یا ایسا آدمی جس کی نیت میں فساد ہو۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ بدباطن کیا ہے۔ اور دوسرا معنی ہے ہلاک ہونے والا، بدانجام۔ اس لیے جن لوگوں نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ تم ہو ہی ہلاک ہونے والے۔ انھوں نے بھی غلط نہیں کیا۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْـکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا۔ (الفتح : 13) (اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ) منافقین سے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ جن منافقین کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوا ہے پروردگار نے ان کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ طرزعمل اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ لوگ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ حقیقی ایمان جس میں رسول اللہ کی ہر بات یقین کا درجہ اختیار کرلیتی ہے اور ان کے ہر حکم کی اطاعت حاصل زندگی بن جاتی ہے وہ ایمان انھیں نصیب نہیں۔ اور جو لوگ بھی ایسے ایمان سے محروم ہیں ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھا ہے۔ سَعِیْر جہنم کو بھی کہتے ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، اور اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحیم ہے

وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَغْفِرُلِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الفتح : 14) (اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، اور اللہ مغفرت فرمانے والا اور رحیم ہے۔ ) ایسے لوگوں کو جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ بخشش اور عذاب اس کے اختیار میں ہے، کوئی اس کی مرضی کیخلاف نہ کسی کو پکڑ سکتا ہے اور نہ چھوڑ سکتا ہے، وہی جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے چھوڑ دے۔ البتہ ایک غیرمعمولی بات یہ ہے کہ وہ جذبات کی کمزوریوں سے بہت بالا اور ارفع ہے۔ ہزار گناہوں اور غلطیوں کے باوجود اگر کوئی شخص اس کی رضا طلبی کے لیے اس کی چوکھٹ پر سر جھکا دیتا ہے اور اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اگر اس کے اندر اخلاص اور حقیقی طلب پائی جاتی ہے تو وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش اسے تھامنے کے لیے آگے بڑھتی ہے۔ اگر یہ لوگ بھی نادم ہو کر پلٹنا چاہیں تو ناامیدی اور مایوسی کی کوئی بات نہیں۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

عنقریب کہیں گے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ، جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف تاکہ انھیں حاصل کرلو کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں، ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے، یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے بھی فرمائی تھی، تو وہ کہیں گے نہیں بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کررہے ہو، بلکہ یہ لوگ بہت کم سمجھتے ہیں

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْھَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ ج یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ ط قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا ط بَلْ کَانُوْا لاَ یَفْقَہُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الفتح : 15) (عنقریب کہیں گے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ، جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف تاکہ انھیں حاصل کرلو کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں، ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے، یہی بات تو اللہ نے تم کو پہلے بھی فرمائی تھی، تو وہ کہیں گے نہیں بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کررہے ہو، بلکہ یہ لوگ بہت کم سمجھتے ہیں۔ ) منافقین مفادات کے بندے ہیں گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ منافقین آنحضرت ﷺ کے سامنے عمرہ کے سفر میں آپ کے ساتھ نہ جانے کا عذر پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں اپنے بیوی بچوں اور اموال کی دیکھ بھال نے اس قدر مشغول رکھا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ نہ نکل سکے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ درحقیقت مفادات کے بندے ہیں۔ جہاد و غزا چونکہ ایثار و قربانی کا نام ہے اس لیے جہاد وغزا کے لیے نکلنا ان کی سوچ اور ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کی اسی بیماری کی وجہ سے ان کا حال یہ ہے کہ جب تم ایسی جنگ کے لیے نکلو جس میں مال غنیمت کا حصول یقینی ہو اور اندازہ کرنے والے اندازہ لگائیں کہ اس جنگ میں کسی سخت تصادم کا اندیشہ نہیں البتہ بہت سا مال غنیمت مل جانے کی قوی امید ہے۔ تو یہ لوگ ایسے سفر میں نکلنے کے لیے بےچین ہوں گے۔ اور وہ بار بار مسلمانوں سے درخواست کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو ۔ آیت کریمہ میں جن مغانم کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد غزوہ خیبر میں ملنے والی غنیمتیں ہیں جس کے بارے میں سب کا گمان یہ تھا کہ یہود مردمیدان نہیں، سازشی گروہ ہیں۔ اور پھر ان کی طاقت مسلمانوں کے مقابلے میں کسی بڑے تصادم کے قابل نہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس مال و دولت بہت ہے وہ دولت کے پجاری، پیسے کو جوڑ جوڑ کے رکھنے والے اور خرچ کے معاملے میں نہایت خسیس واقع ہوئے ہیں۔ اس لیے جنگ خیبر میں تو جانا ایسا ہی ہے جیسے وہاں سے مال باندھ کے لایا جائے۔ تو جب مسلمان اس جنگ کے لیے پابرکاب تھے تو ان اعراب نے ساتھ جانے پر اصرار کیا۔ تو آنحضرت ﷺ کو ایسے صورتحال میں پہلے سے ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان لوگوں کو ہرگز ساتھ چلنے کی اجازت نہ دیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بات کو بدل دیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بات کیا ہے ؟ کہ ان کے ساتھ جانے سے اللہ تعالیٰ کی یہ بات اور اس کا یہ فرمان بدل جاتا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد وہ ارشاد ہے جو قرآن کریم میں نہیں بلکہ وحی غیرمتلو کے ذریعے آپ پر نازل کیا گیا کہ آپ ان پر یہ واضح کردیں کہ غزوہ خیبر کا مال غنیمت انھیں لوگوں کو ملے گا جو بیعت رضوان میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔ لیکن بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ وحی غیرمتلو میں جو حکم آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا اس کی طرف اشارہ آیت 18 میں فرمایا گیا ہے۔ اس میں ایک جملہ ہے وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا جس کا معنی ہے اللہ نے ان کو یعنی جو لوگ بیعت رضوان میں شریک تھے قریب کی فتح عطا فرمائی۔ یہاں قریب کی فتح سے مراد خیبر کی فتح ہے۔ اس میں اس میں صاف طور پر فرمایا گیا ہے کہ یہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ کیونکہ آج تمہیں خیبر میں جانے کی تو بہت خواہش ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلنے کے لیے یہ پہلا حکم نہیں بلکہ جب آنحضرت ﷺ عمرے کے لیے نکلے تھے تب بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم دیا تھا۔ اس وقت تو تم نے نکلنے میں کوتاہی کی اور ہزاروں بہانے تلاش کیے۔ اور اب جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ اس میں مال غنیمت کے ملنے کا یقین ہے تو تم صرف غنیمت کے حصول کے لیے اس میں جانا چاہتے ہو۔ مزید فرمایا کہ یہ لوگ آپ کی اجازت نہ دینے پر بہت تلملائیں گے اور بہت جزبز ہوں گے۔ اور آپ کو حسد کرنے کا طعنہ دیں گے۔ لیکن آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ یہ نہایت نامعقول اور احمق قسم کے لوگ ہیں۔ صحیح بات کو سمجھنا اور بالخصوص ایسی بات جس میں قربانی دینا پڑے ان کے لیے آسان نہیں۔ یہ صرف فوائد کا حصول چاہتے ہیں اور دین کو اس کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ کے انکار سے ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ان کی یہ روش ان کے لیے سودمند نہیں۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

اعراب میں سے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے آپ کہہ دیجیے کہ عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلائے جائو گے جو بڑے زورآور ہیں، تم ان سے لڑو گے یا وہ اسلام لائیں گے، اور اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کہ تم اس سے پہلے روگردانی کرچکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْیُسْلِمُوْنَ ج فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا ج وَاِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 16) (اعراب میں سے پیچھے چھوڑے ہوئے لوگوں سے آپ کہہ دیجیے کہ عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلائے جاؤ گے جو بڑے زورآور ہیں، تم ان سے لڑو گے یا وہ اسلام لائیں گے، اور اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کہ تم اس سے پہلے روگردانی کرچکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ ) ایمان کی کسوٹی زبانی دعوے نہیں ایثار و قربانی ہے ان بدویوں کو جو عمرے کے سفر میں آپ کے ساتھ نکلنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اب غزوہ خیبر میں محض اس لیے جانا چاہتے تھے کہ وہاں مال غنیمت مل جانے کا یقین تھا۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان پر یہ بات واضح کردیجیے کہ ایمان کی کسوٹی زبانی دعوے نہیں بلکہ ایثار و قربانی کا عمل ہے اور اللہ تعالیٰ سے اطاعت کا جو عہد باندھا گیا ہے اس کا ایفاء ہے۔ اس لیے اگر تم چاہتے ہو کہ تم اپنی گزشتہ محرومیوں کا ازالہ کرسکو اور پھر تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نگاہ میں ایک فرمانبردار امتی کا مقام مل سکے تو عنقریب اس کے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔ بڑی بڑی طاقتور قوموں سے مسلمانوں کا تصادم ہوگا، اس وقت تمہیں ایسی ہی کسی زورآور قوم کے مقابلے میں آنے کی دعوت دی جائے گی۔ اگر تم نے اس دعوت کو قبول کیا اور اس عزم کے ساتھ باہر نکلے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑنا ہے۔ مال غنیمت یا کسی اور منفعت کا حصول تمہارا مقصد نہیں۔ تو پھر تمہیں اس وقت تک لڑنا ہوگا جب تک حریف مقابل یا تو اسلام قبول کرلے اور یا اپنے آپ کو اسلام کے حوالے کرکے اس کا مطیع بن جائے۔ بعض اہل علم نے حضرت ابی بن کعب کی قرأت سے استفادہ کرتے ہوئے اَوْ کو حتیٰ کے معنی میں لیا ہے اور اسلام کو مطیع فرمان ہونے کے معنی میں۔ چاہے وہ اسلام لانے کی صورت میں ہو یا سلامی حکومت کی اطاعت میں ذمی یا معاہد بن کر رہنے کی صورت میں۔ اور بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہاں درحقیقت جس زورآور قوم کے مقابلے میں دعوت دیئے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ کوئی باہر کی قوم نہیں بلکہ مکہ کے قریش ہیں۔ کیونکہ جزیرہ عرب میں صرف یہی لوگ تھے جن پر اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اعراب کو فتحِ مکہ کے لیے ان کے مقابل جانے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ چونکہ جان پر کھیلنے کا ایک سفر ہوگا اس وقت اندازہ ہوجائے گا کہ کون شخص اپنی محرومیوں کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان لڑا دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اور وہ کون ہے جو صرف مفادات کے حصول کے درپے ہے۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ اس سفر میں رسول اللہ ﷺ نے اعراب کو اپنے ساتھ جانے کی دعوت نہیں دی۔ اسی طرح یہ لوگ جنگ حنین میں بھی دشمن سے لڑنے کے لیے نہیں بلائے گئے اور حنین میں جن دشمنوں سے واسطہ تھا انھیں زورآور دشمن قرار دینا بھی مشکل ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ جنگ تبوک میں بھی ان لوگوں کو شریک ہونے کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس لیے ان کے نزدیک اس سے فارس اور روم یعنی کسریٰ اور قیصر کی قومیں مراد ہیں جن کے ساتھ جہاد حضرت عمرفاروق اعظم ( رض) کے عہد میں ہوا ہے۔ اور بعض لوگوں نے بنوحنیفہ یعنی اہل یمامہ کو مراد لیا ہے جو مسیلمہ کذاب کی قوم تھی اور حضرت صدیق اکبر ( رض) کے زمانے میں ان کے ساتھ مسلمانوں نے جہاد کیا ہے۔ اب اگر اس سے قیصر و کسریٰ مراد لیے جائیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ان سے اس وقت تک لڑو گے جب تک وہ مطیع فرمان ہو کر یا اسلام قبول کرلیں اور یا اسلامی حکومت کے ماتحت ذمی یا معاہد بن کر قبول کرلیں۔ اور اگر اس سے قریش مراد لیے جائیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب کی طرف آنحضرت ﷺ کی بعثت چونکہ براہ راست ہوئی تھی، آپ انھیں میں سے تھے اور انھیں کی زبان بولتے تھے۔ اس لیے آپ کی تشریف آوری سے ان پر حجت تمام ہوگئی۔ اب ان کے سامنے دو ہی راستے تھے کہ یا وہ اسلام قبول کریں اور یا پھر تلوار ان کا فیصلہ کرے گی۔ تو پھر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم اس وقت تک ان سے لڑو گے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ انھیں ذمی بنانے یا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کی اجازت نہیں اور نہ انھیں غلام بنایا جاسکتا تھا۔ یہ جو اعراب کو حکم دیا گیا کہ ایک طاقتور دشمن کے مقابلے میں تمہیں اپنے اخلاص کا ثبوت دینا ہے۔ اسی سے اندازہ ہوگا کہ تم اپنے آپ کو بدل چکے ہو یا صرف چرب زبانی سے کام لے رہے ہو۔ چناچہ اس حوالے سے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم اس حکم کی اطاعت کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاؤ تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ تمہاری گزشتہ کوتاہیوں کو معاف کردیا جائے گا۔ اور اخلاص اور للہیت سے کیے جانے والے کاموں کی قدر کی جائے گی۔ لیکن اگر تم نے اس کے بعد بھی روگردانی کی جیسا کہ اس سے پہلے کرچکے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب الیم دے گا۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ، اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جو روگردانی کرے گا تو اللہ اس کو ایک دردناک عذاب دے گا

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ یُدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْـہُ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 17) (نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ، اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جو روگردانی کرے گا تو اللہ اس کو ایک دردناک عذاب دے گا۔ ) معذورین کا بیان جہاد و قتال جب اسلامی ریاست کی بقاء اور اسلام کی سربلندی کا ناگزیر تقاضا بن جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد و قتال کے لیے نکلنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص شرعی عذر کے بغیر شریک جہاد ہونے سے پہلوتہی کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت گرفت ہوتی ہے۔ شریعت کی نگاہ میں جنھیں معذور سمجھا جاتا ہے اور جو اگر راہ جہاد میں نہ نکلیں تو ان پر کوئی گرفت نہیں ہوتی اور ان کی اس روش کو نفاق کی روش قرار نہیں دیا جاتا۔ وہ دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو جسمانی طور پر جنگ کے قابل نہیں۔ مثلاً کمسن لڑکے، عورتیں، مجنون، ایسے مریض جو جنگی خدمات انجام نہ دے سکتے ہوں اور ایسے معذور جو ہاتھ پائوں بیکار ہونے کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہ لے سکیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو جسمانی طور پر کوئی ایسا عذر نہیں رکھتے کہ وہ جہاد کے لیے نہ نکل سکیں۔ البتہ ان کے لیے ایسے موانع ہیں جو انھیں جہاد میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتے۔ تو اسلام نے انھیں معذور قرار دیا ہے۔ مثلاً غلام یا وہ لوگ جو لڑنے کے لیے تو تیار ہوں مگر ان کے پاس لڑائی کے اسباب نہ ہوں۔ اگر سفر درپیش ہے تو وہ سواری سے محروم ہیں۔ لڑائی اسلحہ ٔ جنگ کے بغیر نہیں ہوتی، لیکن وہ اسلحہ سے تہی دامن ہیں۔ یا وہ ایسے مقروض ہیں کہ قرض کی ادائیگی کی تاریخ سر پر آگئی ہے اور انھیں مہلت ملنے کی کوئی امید نہیں۔ اب وہ مجبور ہیں کہ قرض کی ادائیگی کی فکر کریں۔ یا ایسے لوگ جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو اور وہ اس کا محتاج ہو کہ اولاد اس کی خبرگیری کرے۔ اور مشکل یہ ہے کہ بیٹا بھی ایک ہی ہے جو جہاد پے جانا چاہتا ہے اور دوسرا کوئی بھائی نہیں جو اس کی جگہ لے سکے۔ تو شریعت کی نگاہ میں اسے بھی معذور سمجھا جائے گا۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

اللہ راضی ہوگیا مومنوں سے جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے ایک درخت کے نیچے، تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، تو اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتوں سے بھی جن کو وہ حاصل کریں گے اور اللہ زبردست اور حکیم ہے

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْیُبَایِعُوْنَـکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا۔ وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (الفتح : 18، 19) (اللہ راضی ہوگیا مومنوں سے جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے ایک درخت کے نیچے، تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، تو اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔ اور بہت سی غنیمتوں سے بھی جن کو وہ حاصل کریں گے اور اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ ) صحابہ کرام کا اعزاز اور ان کی قربانیوں کا صلہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کے بعد جن لوگوں نے نفاق کا راستہ اختیار کیا اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر جو عہد کیا تھا اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمرہ کے خطرناک سفر میں آپ کا ساتھ دینے سے گریز کیا، ان کا ذکر کرنے کے بعد اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنھوں نے نہایت نازک حالات میں آپ کے ہاتھ پر حدیبیہ میں جہاد کی بیعت کی۔ حضرت عثمان غنی ( رض) جب آنحضرت ﷺ کے ایلچی کی حیثیت سے قریش کے پاس اس معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے گئے جس کی وجہ سے قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور معاملہ نہایت تلخ صورت اختیار کرگیا تھا۔ تو قریش نے آپ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بجائے آپ کو تین دن تک واپسی سے روکے رکھا اور یہ بات مشہور کردی گئی کہ آپ کو شہید کردیا گیا۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ کو اس سے شدید رنج ہوا۔ چناچہ آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے اور آپ نے مسلمانوں کو حضرت عثمان ( رض) کے خون کا انتقام لینے کے لیے موت پر بیعت کرنے کی دعوت دی۔ چناچہ تمام صحابہ نے بلاتأمل آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جبکہ حالات یہ تھے کہ آپ اپنے مرکز سے اڑھائی سو میل دور غیرمسلح حالت میں نہایت قلیل افرادی قوت کے ساتھ ایک ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جو دشمن کے مرکز سے صرف تیرہ میل کے فاصلے پر تھی۔ اور دشمن کو یہ سہولت تھی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں بہت بڑی تعداد میں ایسے جنگجوئوں کو لاسکتا تھا جو پوری طرح اسلحہ ٔ جنگ سے مسلح ہوتے۔ اور ضرورت پڑنے پر وہ اپنے گردوپیش کے حلیفوں اور قبائل سے بھی مدد لے سکتا تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان قریش سے لڑنے کا ارادہ کریں گے۔ لیکن ایسی خطرناک صورتحال میں صحابہ کرام نے انتہائی جا نثاری اور سرفروشی کا ثبوت دیتے ہوئے اس عزم کے ساتھ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ہم کٹ جائیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور جب تک آخری آنکھ بھی حرکت کرتی ہے، آپ کے ساتھ وفاداری میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ چناچہ اس مخلصانہ اور سرفروشانہ بیعت کے نتیجے میں مسلمان اللہ تعالیٰ سے رضا اور خوشنودی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے پیش نظر آیت کریمہ میں اعلان فرما دیا کہ اللہ جو سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے اس نے مسلمانوں کے اخلاص کو دیکھ کر ان سے اپنے خوش اور راضی ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے اخلاص میں کچھ بھی کمی ہوتی اور وہ خطرات کو کسی حد تک بھی خاطر میں لانے والے ہوتے تو کبھی بھی اللہ تعالیٰ سے اتنا بڑا انعام حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتے۔ لیکن بعض عاقبت نا اندیش لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام پر طعن توڑتے اور ان کے اخلاص اور ایمان پر رائے زنی کرتے ہیں۔ اور بعض ستم ظریف یہ کہنے سے نہیں چونکتے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو یہ خوشنودی کی سند عطا کی تھی اس وقت تو یہ لوگ مخلص تھے مگر بعد میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بےوفا ہوگئے۔ حیرانی کی بات ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب مانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ یہ قرآن کریم قیامت تک باقی رہے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بدگمانی کیسے کرسکتا ہے کہ جو لوگ چند سالوں کے بعد اخلاص سے تہی دامن ہوجانے والے تھے انھیں خوشنودی کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا جائے۔ اور پھر یہ بات قرآن کریم میں شامل کردی جائے اور لوگ ہمیشہ اس کو پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کی داد دیتے رہیں۔ جس درخت کے نیچے یہ بیعت کی گئی تھی کہا جاتا ہے کہ وہ ببول کا درخت تھا۔ اس کے متعلق حضرت نافع ( رض) کی یہ روایت عام طور پر مشہور ہوگئی ہے کہ لوگ اس کے پاس جا جا کر نمازیں پڑھنے لگے تھے۔ حضرت عمر ( رض) کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے لوگوں کو ڈانٹا اور اس درخت کو کٹوا دیا۔ مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لیے گیا تو راستے میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمع تھے اور نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کون سی مسجد ہے ؟ انھوں نے کہا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی۔ میں اس کے بعد حضرت سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور اس واقعہ کی خبر ان کو دی۔ انھوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا، ہمیں بھول ہوگئی اس کا پتہ نہیں لگا۔ پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا، تمہیں وہ معلوم ہوگیا۔ عجیب بات ہے کیا تم ان سے زیادہ واقف ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں لوگوں نے اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو متعین کرلیا اور اس کے نیچے حاضر ہونا اور نمازیں پڑھنا شروع کردیا۔ حضرت فاروق اعظم ( رض) کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ وہ درخت نہیں۔ خطرہ ابتلائے شرک کا لاحق ہوگیا۔ اس لیے اس کو قطع کرا دیا ہو تو کیا بعید ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی حالت معلوم کرلی تو ان پر سکینت نازل فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قلیل تعداد اور اسلحہ ٔ جنگ کے فقدان کے باوجود قریش کی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے وہ کمربستہ ہوگئے تو ان کی توجہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی نصرت و اعانت پر رہی ہوگی اور وہ بار بار پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوں گے کہ یا اللہ تو ہماری مدد فرما، حالات تو بظاہر مساعد نظر نہیں آتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس توجہ اور انابت کو دیکھتے ہوئے ان پر سکینت نازل فرمائی۔ یعنی ان کے دلوں کو دشمن کے مقابلے میں اپنی تائید و نصرت کے ساتھ حوصلوں سے بھر دیا۔ اور یقین کی یہ کیفیت پیدا کردی کہ اللہ تعالیٰ ہرحال میں تمہارے ساتھ ہے۔ اور انھیں فتحِ قریب سے نوازا۔ مراد اس سے فتحِ خیبر ہے اور اس میں ملنے والی ان غنائم کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں کو بہت بڑی تعداد میں نصیب ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو تین ماہ کا عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ آپ نے خیبر پر حملہ کیا اور اسے فتح کرلیا اور اس میں مسلمانوں کو ڈھیروں مال غنیمت ہاتھ لگا۔ آخر میں اپنی دو صفتوں کا حوالہ دے کر مسلمانوں کے دلوں میں یہ اطمینان اور اعتماد راسخ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ محض وعدے نہیں بلکہ بہت جلدی مسلمان اس کی عملی تعبیر بھی دیکھ لیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر مشکل پر غالب ہے، کوئی اس کے راستے میں حائل ہونے والا نہیں۔ البتہ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اپنے وعدوں کا ایفا اس وقت کرتا ہے جب حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔
Ayahs 48:20–21

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنھیں تم حاصل کرو گے، پس یہ اس نے تم کو فوری طور پردے دی، اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیئے تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔ اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت بخشے

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو، اور اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَھَا فَعَجَّلَ لَـکُمْ ھٰذِہٖ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْـکُمْ ج وَلِتَـکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَھْدِیَـکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا۔ وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرًا۔ (الفتح : 20، 12) (اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنھیں تم حاصل کرو گے، پس یہ اس نے تم کو فوری طور پردے دی، اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیئے تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔ اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت بخشے۔ اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو، اور اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) صحابہ کرام پر مزید انعامات کا تذکرہ موجودہ رکوع کے آغاز سے پروردگار ان خوش نصیبوں کے لیے اظہارِخوشنودی فرما رہا ہے جنھوں نے حدیبیہ کے مقام پر آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر بیعت رضوان کی۔ اور یہ عہد کیا کہ جب تک ہماری جان میں جان ہے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور حضرت عثمانِ غنی ( رض) کے خون کا انتقام لیں گے۔ اسی سلسلے کی یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو انعام کے طور پر مختلف نعمتوں سے نوازا۔ اور گزشتہ دو آیتوں میں ان میں سے بعض کا ذکر ہوا۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عہد پر جان دینے والے لوگو ! ہم نے تم سے بہت سے غنیمتوں کے وعدے کر رکھے ہیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب تم ایک ایک کرکے ان سے بہرہ ور کیے جاؤ گے۔ یعنی ایسی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا کہ جس کے نتیجے میں تمام مخالف قوتیں یکے بعد دیگرے سرنگوں ہوجائیں گی اور ان کے اموال اور ان کی زمینیں مال غنیمت کے طور پر تمہیں حاصل ہوں گی۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ یوں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے لیکن محض تمہاری حوصلہ افزائی کے لیے ہم اپنے وعدوں کی تصدیق کے طور پر ایک نقد فتح تمہیں عطا کررہے ہیں۔ اور یہ فتح ایسی ہے جو آئندہ کی فتوحات کے لیے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے خیبر کی فتح اور اس کی غنیمت مراد لی ہے۔ لیکن الفاظ پر غور کرنے سے زیادہ قرین قیاس یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے جسے قرآن کریم نے فتحِ مبین قرار دیا ہے۔ کیونکہ فتحِ خیبر کا ذکر گزشتہ آیت میں ہوچکا ہے اور اسے فتحِ قریب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور وہ فتحِ قریب ان معنوں میں ہے کہ حدیبیہ سے واپسی پر صرف تین ماہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فتح عطا فرمائی۔ لیکن یہاں جملہ فَعَجَّلَ لَـکُمْ ھٰذِہٖ کا ہے۔ ظاہر ہے کہ تعجیل قریب سے پہلے کی چیز ہے۔ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد جو فتح عطا فرمائی گئی اسے فتحِ قریب کہنا یقینا ہر طرح درست ہے۔ لیکن وہ فتح جو فوری طور پر عطا کردی گئی وہ فتحِ قریب نہیں بلکہ وہ فتح ہے جو سورة کے نازل ہونے سے پہلے عطا فرمائی گئی، اور وہ یہی صلح حدیبیہ ہے۔ اور اس کو فتحِ مبین اس لیے قرار دیا گیا کہ اس صلح میں جو معاہدہ طے پایا اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے راستے کے تمام موانع ختم ہوگئے۔ تبلیغ و دعوت کے راستے بھی کھل گئے، نئے نئے تعلقات کی استواری کے مواقع بھی پیدا ہوگئے۔ اور اگر کسی مخالف قوت پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے اس بات کا کوئی امکان نہ رہا کہ وہ مسلمانوں کے مخالفین سے مدد لے سکیں۔ چناچہ یہی وہ اسباب ہیں جن اس معاہدے میں حاصل ہوجانا ایک ایسی فتحِ مبین تھی جو بعد کی فتوحات کے لیے مقدمہ ثابت ہوئی۔ اس فتحِ مبین کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس پر مزید اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہوا کہ اس نے تم سے لوگوں کے ہاتھوں کو روک دیا۔ یہاں الناس سے مراد قریش ہیں۔ یہ لوگ ہرچند کوشش کررہے تھے کہ مسلمانوں کو کسی طرح اشتعال میں لا کر جنگ کی صورتحال پیدا کردیں۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے تھے کہ مسلمان غیرمسلح ہیں ان کے پاس افرادی قوت کی بےحد کمی ہے اور وہ اپنے مرکز سے اڑھائی سو میل کے فاصلے پر ہیں۔ وہ کوشش بھی کریں تو ان کے مرکز سے انھیں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ لیکن قریش ہر لحاظ سے ان سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ اگر لڑائی چھڑ جائے تو قریش کی فتح کے امکانات واضح ہیں۔ اور اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے مشن کو شدید نقصان پہنچے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ قریش خواہش رکھنے کے باوجود بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کرسکے۔ سراسر مخالفانہ ماحول اور جنگی نقطہ نگاہ سے تمام کمزوریوں کے باوجود قریش کا کوئی اقدام نہ کرسکنا اور مسلمانوں کا ہر طرح محفوظ رہنا بلکہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنا، محض اس وجہ سے ہوا تاکہ یہ سب کچھ اصحابِ ایمان کے لیے اس حقیقت کی نشانی بن جائے کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ثابت قدم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر حق اور راستی کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نامساعد حالات میں بھی اس کے لیے حالات کو حسب حال کردیتا ہے۔ کمزوری کے باوجود دشمن کے دل میں اس کا رعب ڈال دیتا ہے اور قدم قدم پر اس طرح اسے اپنی تائید و نصرت سے نوازتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی اپنے آپ کو کمزور اور بےبس نہیں دیکھتا۔ چناچہ آنے والے حالات میں حدیبیہ میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ہمیشہ ایک نشانی، ایک رہنمائی اور مشعل راہ بنا رہا اور جب بھی کبھی کوئی تشویشناک صورتحال پیدا ہوئی تو بجائے اپنی بےبسی کو دیکھنے کے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر بھروسہ میں اور اضافہ ہوگیا۔ مسلمانوں کو غیرمعمولی تائید و نصرت سے نوازنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دے۔ اور صراط مستقیم کی ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ان کے اندر یہ عزم توانا کردے اور ان کی بصیرت پر یہ نکتہ کھول دے کہ تمہاری اصل منزل اللہ تعالیٰ کے گھر کو دشمنوں سے واگزار کرا کے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دین کا مرکز بنانا ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو مرکز بنایا تھا۔ کفر کی قہرمانی طاقتوں نے ایک عرصے سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے اس مرکز کا راستہ بند کر رکھا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ازسرنو اسے کھولا جائے۔ اور یہ مرکز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ماننے والوں کے لیے نئی توانائی کا باعث بنے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اُخْرٰی کے لفظ سے ایک اور فتح کی خبر سنائی گئی ہے جس سے مراد فتحِ مکہ ہے۔ کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کا گھر حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا مرکز بن سکے گا۔ اور جب تک مکہ فتح نہیں ہوتا اور قریش کی طاقت شکست و ریخت کا شکار نہیں ہوتی اس وقت تک جزیرہ عرب میں بت پرستی اور شرک کے تمام امکانات کو غذا ملتی رہے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ اس بند راستے کو کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس لیے وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں مکہ فتح کرائے گا۔ بلاشہ آج مسلمانوں میں اس کی فتح کے لیے حالات سازگار نہیں۔ اور نہ وہ ابھی اس قدر مضبوط ہوئے ہیں کہ طاقت کے زور سے مکہ پر غلبہ پالیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا راستہ کون روک سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اگرچہ مکہ کی فتح پر قادر نہیں ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو گھیر رکھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا مضبوط ہاتھ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا ہے اس میں گویا بشارت ہے اس بات کی کہ بہت جلدی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس گھر کی فتح کے اسباب پیدا کردے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 48:22–23

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اگر جنگ کرتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ کوئی مددگار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے

وَلَوْقٰـتَـلَـکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلُ صلے ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً ۔ (الفتح : 22، 23) (اگر جنگ کرتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ ) قریش اور مسلمانوں کے تصادم کی صورت میں قریش کی شکست یقینی تھی اس آیت کریمہ میں قریش کو تنبیہ ہے اور مؤرخ کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قریش کے ہاتھوں کو مسلمانوں کی طرف بڑھنے سے روکے رکھا، یعنی ان کے درمیان جنگ نہیں ہونے دی۔ تو اس کا سبب مسلمانوں کی کمزوری نہ تھی اور نہ یہ احتیاط تھی کہ مسلمانوں کو ایسے بےجوڑ مقابلے کی آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا علم جو کبھی خطا نہیں کرتا اس میں پہلے سے یہ بات طے تھی کہ اگر قریش نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سرکشی کی یہ انتہا ہوگی۔ اب تک تو انھیں عذاب سے اس بات نے بچائے رکھا کہ مکہ میں ایمان لانے کا سلسلہ رکا نہیں۔ لوگ خفیہ طریقے سے ایمان لاتے رہے اور جن کے ایمان کا راز فاش ہوگیا وہ زنجیروں میں بندھے تشدد برداشت کرتے ہوئے غلبہ دین کی امید میں جیتے رہے۔ لیکن اب اگر انھوں نے مسلمانوں کے استیصال کی نیت سے ان پر حملہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کے گھر سے انھیں طاقت سے دور رکھنے کا فیصلہ کرلیا تو اب پروردگار ان کی اس جسارت کو معاف نہیں کریں گے۔ وہ شکست کھا کر بھاگیں گے لیکن یہ فرار ان کے لیے معاون ثابت نہیں ہوگا۔ ان کا قتل عام ہوگا اور وہ بری طرح رگیدے جائیں گے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوجائے۔ کیونکہ تکذیبِ رسل کرنے والی امتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ یہ قانون رہا کہ وہ انھیں سنبھلنے کا موقع دیتا ہے، غور و فکر کرنے کی مہلت دیتا ہے، لیکن جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون اور اس کی سنت حرکت میں آتی ہے۔ اور وہ تباہ کردیئے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کبھی آج تک تبدیلی نہیں آئی۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ جو کچھ تم کررہے تھے اسے دیکھ رہا تھا

وَھُوَالَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْـکُمْ وَاَیْدِیَـکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ م بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا۔ (الفتح : 24) (اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ جو کچھ تم کررہے تھے اسے دیکھ رہا تھا۔ ) اللہ تعالیٰ کی مشیت فیصلہ کن ہے اللہ تعالیٰ نے جو کفار اور مسلمانوں میں جنگ کی نوبت نہیں آنے دی تو ایک وجہ تو اس کی وہ تھی جو اوپر کی آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اور اس میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ کفار کو تو صرف ان ظاہری اسباب کی خبر ہے جن کے بل بوتے پر جنگیں جیتی جاتی ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک قانون بھی ہے۔ اس قانون کو کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی توڑ نہیں سکتی۔ لیکن ایک اور وجہ بھی تھی جس کی وجہ سے ان میں تصادم کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔ حالانکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی سنت جنگ کی صورت میں کفار کی تباہی کا فیصلہ کرچکی تھی، اسی طرح اس نے اسباب میں تفاوت کے باوجود مسلمانوں کے اخلاقی غلبے کے امکانات بھی پیدا کردیئے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ قریش حوصلہ چھوڑ چکے تھے اور مسلمانوں کے سینے حوصلوں سے معمور ہوچکے تھے۔ اور اس کا سبب یہ تھا کہ جیسے ہی مسلمانوں کو یہ خبر ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کے سفیر کو قریش نے قتل کردیا ہے تو وہ پہلے ہی عمرے سے روکنے کی وجہ سے قریش کیخلاف غصے سے کھول رہے تھے، لیکن یہ جب ان کو تازہ اطلاع ملی تو ان کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اور جب آنحضرت ﷺ نے ان سے موت پر بیعت لی تو پھر تو کچھ نہ پوچھئے کہ ایک ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر طوفان بن کر اٹھا۔ چناچہ جب اس صورتحال کی قریش کو اطلاع ہوئی تو ان کے اعصاب ڈھیلے پڑگئے، حوصلے شکست ہونے لگے۔ تو انھوں نے فوراً وفد بھیج کر صلح کی بات چیت شروع کردی۔ اس طرح سے مسلمانوں کی کامیابی کے امکانات واضح تھے اور قریش عملاً مغلوب ہوچکے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے وہ برابر ان حالات کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے واضح غلبے کے باوجود اس کی مشیت کا یہ تقاضا تھا کہ ان میں تصادم نہ ہونے پائے۔ اس کی حقیقی وجہ کیا تھی اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، اور تم کو مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک کے رکھا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ پہنچنے پائیں، اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے جن کو تم نہیں جانتے تھے، اندیشہ تھا کہ تم انھیں پامال کردو گے، پس ان کے باعث تم پر لاعلمی میں الزام آتا (تو جنگ نہ روکی جاتی، روکی اس لیے گئی) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرے اور اگر وہ لوگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ان لوگوں کو ان میں سے دردناک عذاب دیتے جنھوں نے کفر کیا

ھُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَالْھَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّـبْلُغَ مَحِلَّـہٗ ط وَلَوْلاَ رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَـُٔوْھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ ج لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ج لَوْتَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفتح : 25) (وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، اور تم کو مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک کے رکھا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ پہنچنے پائیں، اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے جن کو تم نہیں جانتے تھے، اندیشہ تھا کہ تم انھیں پامال کردو گے، پس ان کے باعث تم پر لاعلمی میں الزام آتا (تو جنگ نہ روکی جاتی، روکی اس لیے گئی) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرے اور اگر وہ لوگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ان لوگوں کو ان میں سے دردناک عذاب دیتے جنھوں نے کفر کیا۔ ) قریش کی گستاخیاں، اور تصادم نہ ہونے کا حقیقی سبب وہ سبب بیان کرنے سے پہلے جس کی وجہ سے کفار اور مسلمانوں میں جنگ کی اجازت نہیں دی گئی قریش کے کرتوتوں اور ان کی زیادتیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ قریش بھی اس آئینہ میں اپنی شکل دیکھیں اور مسلمان بھی اس کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی حکمت کی قدر کریں۔ ان کے کرتوت یہ تھے کہ باوجود اس کے کہ براہ راست ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث کیے گئے جن کا تعلق انھیں کی قوم اور انھیں کے وطن سے تھا۔ جس رسول کی زندگی سے وہ بہمہ وجوہ آگاہ تھے، اللہ تعالیٰ کی کتاب انھیں کی زبان میں نازل کی گئی اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں کی زبان میں تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دیتے تھے۔ ہدایت کے اس قدر واضح امکانات کے باوجود قریش نے اللہ تعالیٰ کے اس عظیم رسول کے ماننے سے انکار کردیا۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے دوسروں کو بھی ایمان لانے سے رکا۔ اور سرکشی یہاں تک پہنچی کہ انھوں نے انھیں یعنی مسلمانوں کو مسجد حرام کے طواف سے روک دیا۔ اور کسی کو اس بات کی اجازت نہ دی کہ وہ مکہ میں داخل ہوسکے۔ اب جبکہ نبی کریم ﷺ عمرے کے ارادے سے اللہ تعالیٰ کے گھر کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے ہدی کے جانور ساتھ لے کر تلبیہ پڑھتے ہوئے تشریف لائے تو انھوں نے نہ صرف انھیں حرم میں داخل ہونے سے روکا بلکہ ہدی کے جانوروں کو بھی ان کے قربان ہونے کی جگہ تک پہنچنے کی اجازت نہ دی۔ ان کی ان تمام گستاخیوں اور تعدیوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ انھیں مسلمانوں کے ہاتھوں یا عذاب سے تباہ کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر بھی ان میں جنگ کے امکانات کالعدم کردیئے۔ اور ایسے حالات پیدا کیے کہ دونوں کو جنگ کی طرف بڑھنے سے روک دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کتنے مرد و عورت مکہ میں ایسے تھے جو درپردہ مسلمان ہوچکے تھے۔ اور موافق حالات کے انتظار میں شب و روز اللہ تعالیٰ سے التجائیں کررہے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے ایمان افشا ہوچکا تھے اور وہ زنجیروں میں بندھے ہوئے شب و روز عذاب جھیل رہے تھے۔ اب اگر مسلمان قریش کی زیادتی سے تنگ آکر قریش پر حملہ کردیتے اور طاقت سے مکہ میں داخل ہوجاتے اور قریش کو رگیدتے ہوئے ہر اس جگہ پہنچتے جہاں ان کی قوت کے مراکز تھے۔ تو نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ وہ مظلوم اہل ایمان بھی نادانستہ ان کی زد میں آجاتے، کیونکہ مسلمان ان لوگوں سے واقف نہ تھے۔ اس وہ یہ سمجھ کر تلوار اٹھاتے کہ کفار کے گھر میں یقینا یہ بھی کافر ہیں۔ لیکن جب بعد میں معلوم ہوتا کہ وہ تو مسلمان تھے۔ تو ایک تو مسلمانوں کو ان کے قتل ہونے پر انتہائی رنج ہوتا اور دوسرا لوگ مسلمانوں پر یہ الزام دھرتے کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ جو اپنے ہی بھائیوں کا خون بہاتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کے بندے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے پیروکار ایسے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بےبس مسلمانوں پر رحم کھایا اور صحابہ کو رنج اور بدنامی سے بچانے کی خاطر اس موقع پر جنگ کو ٹال دیا۔ اور دوسری وجہ اس جنگ کو ٹالنے کی یہ تھی کہ مکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی قابل ذکر تھی جو اگرچہ ایمان کا اظہار نہ کرسکے تھے لیکن ایمان کے بہت قریب پہنچ چکے تھے اور اس بات کا غالب امکان تھا کہ جب بھی انھیں موقع ملے گا تو وہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو جنگ نہ ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت میں شامل ہونے کا موقع مل گیا۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم لیا ہے کہ مسلمان تو اس بات کو نہیں جانتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی یہ بات کہ آج جو قریش مسلمانوں سے انتہائی عداوت رکھتے ہیں مستقبل میں یہی اسلام کے علمبردار بنیں گے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک خونریز جنگ سے مکہ کو فتح نہ کیا جائے تاکہ ان قریش کی جانیں بچی رہیں۔ لیکن دو سال میں اللہ تعالیٰ محض اپنی قدرت سے ایسے حالات پیدا کردے کہ ادھر مسلمانوں کی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا جائے اور وہ دس ہزار قدوسیوں کی معیت میں مکہ پر حملہ آور ہوں۔ اور ادھر ان کی طاقت کو اس قدر مفلوج کردیا جائے کہ جب مسلمان مکہ پر حملہ کریں تو یہ مدافعت نہ کرسکیں۔ اور آنحضرت ﷺ کے عفو و درگزر کے نتیجے میں جب انھیں عام معافی ملے تو وہ تمام کے تمام اسلام کی آغوش میں داخل ہوجائیں۔ یہ تھے وہ اسباب اور یہ تھیں وہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے قریش سے جنگ کرنے سے روک دیا۔ حالانکہ مسلمانوں کی فتح اور کامیابی کے آثار واضح تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا فیصلہ دوسرا تھا۔ اس آیت کریمہ کی وجہ سے فقہاء میں یہ بحث پیدا ہوئی کہ اگر ایسی صورت پیدا ہوجائے جس میں مسلمانوں کا ہدف مسلمانوں ہی کے بن جانے کا امکان ہو تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے حملہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں صاحب تفہیم القرآن نے اختصار سے جو کچھ لکھا ہے ہم اسے نقل کیے دیتے ہیں۔ اس مقام پر یہ فقہی بحث پیدا ہوتی ہے کہ اگر ہماری اور کافروں کی جنگ ہو رہی ہو اور کافروں کے قبضے میں کچھ مسلمان مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے ہوں جنھیں وہ ڈھال بنا کر سامنے لے آئیں، یا کافروں کے جس شہر پر ہم چڑھائی کررہے ہوں وہاں کچھ مسلمان آبادی بھی موجود ہو، یا کافروں کا کوئی جنگی جہاز ہماری زد میں ہو اور اس کے اندر کافروں نے کچھ مسلمانوں کو بھی رکھ چھوڑا ہو تو کیا ایسی صورت میں ہم ان پر گولہ باری کرسکتے ہیں ؟ اس کے جواب میں مختلف فقہا نے جو فیصلے دیئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں : امام مالک کہتے ہیں کہ اس حالت میں گولہ باری نہیں کرنی چاہیے اور اس کے لیے وہ اسی آیت کو دلیل قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بچانے کے لیے ہی تو حدیبیہ میں جنگ کو روک دیا (احکام القرآن لابن العربی) ۔ لیکن فی الواقع یہ ایک کمزور لیل ہے۔ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ بات نکلتی ہو کہ ایسی حالت میں حملہ کرنا حرام و ناجائز ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ اس سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ اس حالت میں مسلمانوں کو بچانے کے لیے حملہ سے اجتناب کیا جاسکتا ہے جبکہ اجتناب سے یہ خطرہ نہ ہو کہ کفار کو مسلمان پر غلبہ حاصل ہوجائے گا یا ان پر ہمارے فتح یاب ہونے کے مواقع باقی نہ رہیں گے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام زفر اور امام محمد کہتے ہیں کہ ان حالات میں گولہ باری کرنا بالکل جائز ہے حتیٰ کہ اگر کفار مسلمانوں کے بچوں کو ڈھال بنا کر سامنے لا کھڑا کریں تب بھی ان پر گولی چلانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور جو مسلمان اس حالت میں مارے جائیں ان کے خون کا کوئی کفارہ اور کوئی دیت مسلمانوں پر واجب نہیں ہے۔ (احکام القرآن للجصاص کتاب ایسیر للامام محمد، باب قطع الماء عن اہل الحرب) امام سفیان ثوری بھی اس حالت میں گولہ باری کو جائز رکھتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ جو مسلمان اس حالت میں مارے جائیں ان کی دیت تو نہیں البتہ کفارہ مسلمانوں پر واجب ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) امام اوزاعی اور لیث بن سعد کہتے ہیں کہ اگر کفار مسلمانوں کو ڈھال بنا کر سامنے لے آئیں تو ان پر گولی نہیں چلانی چاہیے۔ اسی طرح اگر ہمیں معلوم ہو کہ ان کے جنگی جہاز میں خود ہمارے قیدی بھی موجود ہیں تو اس حالت میں اس کو غرق نہ کرنا چاہیے لیکن اگر ہم ان کے کسی شہر پر حملہ کریں اور ہمیں معلوم ہو کہ اس شہر میں مسلمان بھی موجود ہیں تو اس پر گولہ باری کرنا جائز ہے کیونکہ یہ امر یقینی نہیں ہے کہ ہمارا گولہ مسلمانوں ہی پر جا کر گرے گا اور اگر کوئی مسلمان اس گولہ باری کا شکار ہوجائے تو یہ ہماری طرف سے بالقصد مسلمان کا قتل نہ ہوگا بلکہ نادانستگی میں ایک حادثہ ہوگا۔ (احکام القرآن للجصاص) امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس حالت میں گولہ باری کرنا ناگزیر نہ ہو تو مسلمانوں کو ہلاکت سے بچانے کی کوشش کرنا بہتر ہے۔ اگرچہ اس صورت میں گولہ باری کرنا حرام نہیں ہے مگر مکروہ ضرور ہے لیکن اگر فی الواقع اس کی ضرورت ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو یہ کفار کے لیے جنگی حیثیت سے مفید اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوگا تو پھر گولہ باری کرنا جائز ہے مگر اس حالت میں بھی مسلمانوں کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے۔ مزیدبراں امام شافعی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر معرکہ قتال میں کفار کسی مسلمان کو ڈھال بنا کر آگے کریں اور کوئی مسلمان اسے قتل کردے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ قاتل کو معلوم تھا کہ یہ مسلمان ہے اور دوسری صورت یہ کہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ مسلمان ہے۔ پہلی صورت میں دیت اور کفارہ دونوں واجب ہیں اور دوسری صورت میں صرف کفارہ واجب ہے۔ (مغنی المحتاج) (تفہیم القرآن)