47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsروح القرآن

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا

اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 1) (جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔ ) کفارِقریش کو تہدید حق و باطل میں کشمکش برپا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حق کی شمع جلا رکھی ہے اور آپ اس کی روشنی ممکن حد تک نوع انسانی کے افراد تک پہنچانے کی کوشش فرما رہے ہیں اور کفار کے مختلف گروہ ایک بات پر پوری طرح متفق اور متحد ہیں کہ ہم اس شمع کی روشنی کو پھیلنے نہیں دیں گے۔ اور اس قافلہ حق کو کسی قیمت پر آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیں گے۔ اصحابِ ایمان کی تعداد اس سورة کے نزول تک بھی بہت تھوڑی ہے اور ان کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور مقابلہ اس کشمکش میں صرف اہل مکہ سے نہیں بلکہ پوری دنیائے کفر سے ہے جو مسلمانوں کو مٹانے پر تلی کھڑی ہے۔ ان حالات میں کفار کو تہدید کی جارہی ہے کہ تم اپنی افرادی قوت اور وسائل کی کثرت پر ناز نہ کرو۔ تم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی کامیابیوں کا تصور باندھ رہے ہو۔ لیکن تمہیں اس بات کا خیال نہیں کہ جس طرح حال تمہارے قبضے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے اسی طرح مستقبل کا بھی وہی مالک ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگا، لیکن تم نہیں جانتے۔ تم نے مکہ میں حق کو پنپنے کا موقع نہ دیا اور اس حد تک مشکلات پیدا کیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے وہاں سے ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ اب تم مدینہ طیبہ میں بھی انھیں مٹا دینے کے درپے ہو۔ اور جس بات کی طرف وہ دعوت دے رہے ہیں تمہیں اس کی ہر بات کو ماننے سے انکار ہے۔ یعنی تمہیں نہ صرف آنحضرت ﷺ کی دعوت سے دشمنی ہے بلکہ تم انھیں اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور اسی لیے ان کو مٹانے کے درپے ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں تہدید آمیز انداز میں خبردار کررہا ہے کہ جن لوگوں نے بھی کفر کیا یعنی آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے خود بھی رکے اور دوسرے لوگوں کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ کیونکہ صَدَّلازم بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی۔ اس کا معنی رکنا بھی ہے اور روکنا بھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دونوں ہی جرم ہیں۔ اور اہل مکہ ان دونوں جرائم کا ارتکاب کررہے تھے۔ خود بھی ایمان لانے سے انکار کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی زبردستی ایمان لانے سے روکتے تھے۔ اور یا پھر ایمان لانے والوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھاتے تھے کہ دیکھنے والوں میں کوئی ایمان لانے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے بارے میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایسے وسوسے ڈالتے اور ایسے اتہامات باندھتے تھے جس سے بدگمانیوں کو فروغ ملتا تھا۔ اور اسلام کی طرف بڑھنے والے بھی سوچ میں پڑجاتے تھے۔ چناچہ ان لوگوں کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔ اعمال ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو کچھ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں ہم نے ان کوششوں کو بےثمر کردیا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت تک قریش ہی مکہ پر مسلط تھا۔ اور جزیرہ عرب میں انھیں کا طوطی بول رہا تھا۔ وہ تمام عرب کی ایک فیصلہ کن قوت سمجھے جاتے تھے۔ یہ ان ہی کی مخالفت کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ لیکن پروردگار فعل ماضی سے ان کی تمام مساعی کو رائیگاں کرنے کی بات کررہا تھا جبکہ ماضی بھی ان کے ہاتھ میں تھا اور حال بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ اور مستقبل بھی ظاہر ہے کہ اس کے اثرات سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بات فعل ماضی میں کہی جاتی ہے تو یہ درحقیقت اس کی قطعیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ پروردگار اس کے بارے میں قطعی فیصلہ کرچکا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ بظاہر حالات اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ وقت دور نہیں جب اس فیصلے کو واقعہ بنتے ہوئے ہر نگاہ دیکھے گی۔ چناچہ اس سورة کے نزول کے بعد زیادہ عرصہ انتظار نہیں کرنا پڑا، چند ہی سالوں میں اسلام جزیرہ عرب کا مقدر بن گیا۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے، اور وہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے، اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کردیں اور ان کا حال سنوار دیا

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّھُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ لا کَفَرَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَھُمْ ۔ (محمد : 2) (اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے، اور وہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے، اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کردیں اور ان کا حال سنوار دیا۔ ) کفار کے مقابلے میں دوسرے گروہ کی صفات اور اس کا اعزاز حق و باطل کی اس کشمکش میں دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے اعمال کو درست کیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کشمکش کے پہلے فریق کے اعمال کو ان کی تمام تر رعونت کے باوجود بےاثر کیا اور وہ آہستہ آہستہ تاریخ کی دھول میں گم ہوجائیں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس صاحب ایمان گروہ کو اپنے دین کا مبلغ اور مناد بنا کر ایک ایسی سرافرازی بخشی کہ جہاں جہاں تک ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے دین پھیلتا چلا جائے گا وہیں وہیں ان کی عزت و حرمت کے بھی پھریرے لہراتے جائیں گے اور مزید کرم یہ فرمایا کہ آج تک وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جن برائیوں سے پہچانے جاتے تھے اور جو کمزوریاں عرصہ ٔ دراز سے ان کی شخصیات کے جزو لاینفک بن چکی تھیں، اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی تربیت سے ایک ایک کرکے انھیں مٹا دیا اور اس کی جگہ نئے عقائد، نئے جذبات، نئے اعمال اور نئے اخلاق پیدا کردیئے۔ اور ان کی حالت ایسی درست کردی کہ اگر وہ کل تک محکومیت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے اور وہ اپنا کوئی فیصلہ آزادانہ مرضی سے نہیں کرسکتے تھے تو اب وہ ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ اور حالات نے انھیں دوسروں کا دست نگر ہی نہیں بلکہ الہ کار بنا رکھا تھا۔ اب وہ اس سرزمین کی ایک طاقتور قوت ہیں۔ دنیا میں بھی ان کو عزت دی گئی ہے اور آخرت میں بھی محض اس اسلام کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سرخرو ہوں گے۔ انتہائی اہم بات اس آیت میں ایک بات انتہائی قابل توجہ ہے بلکہ وہ اس آیت کی اصل روح ہے وہ یہ ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کا تعارف کراتے ہوئے ان کے ایمان اور عمل صالح کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور یہی بات ان کے تعارف کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس کے بعد مزید یہ بات فرمائی گئی ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں ہر اس چیز پر جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ آخر اس بات کے کہنے کی کیا ضرورت تھی کیونکہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی ہر چیز پر ایمان نہ لایا جائے اور پھر اس بات کی تائید و تاکید میں مزید فرمایا گیا کہ یہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اس اضافے کی ضرورت کا سبب یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں آنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کو اہل کتاب سے سابقہ پیش آیا۔ اور ان سے بھی باقی لوگوں کی طرح یہ مطالبہ کیا گیا کہ تم بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان لائو۔ تو انھوں نے جواب میں یہ کہنا شروع کیا کہ تین بنیادی چیزیں ہیں جن پر ایمان لانے کے بعد ایک آدمی مومن ہوجاتا ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے رسول کو مانے اور اس پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے، اور قیامت کا یقین کرے۔ ہم پہلے ہی ان تینوں باتوں کے ماننے والے ہیں۔ ہم قیامت کو بھی مانتے ہیں اور ہمارے پاس تورات نام کی کتاب موجود ہے ہم اس کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں اور آپ بھی اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں۔ اور جہاں تک رسول کا تعلق ہے ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہیں۔ اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرتے ہیں تو پھر ہمیں ایک مزید کتاب اور ایک رسول کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اس بنیادی بات کو قبول کرلیا جائے تو بقائے باہمی کی شکل پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے رسول پر ایمان لانے کو لازمی قرار دیں اور تم اپنے رسول پر ایمان کو ضروری ٹھہرائو تو یہ وہ انفرادیت ہے جو اجتماعیت کے لیے سُمِ قاتل ہے۔ اور یہی فتنہ آج بھی پھر اٹھایا جارہا ہے۔ مختلف اہل مذاہب میں مکالمے کی باتیں ہورہی ہے اور پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والے اگر اپنے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب رکھتے ہیں اور وہ ایک اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان بھی رکھتے ہیں تو پھر انھیں اس بات کی دعوت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ دوسرے رسولوں پر بھی ایمان لائیں اور دوسری کتابوں کو بھی تسلیم کریں۔ یہود کے لیے تورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کافی ہے۔ اور اہل کلیسا کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کو ماننا ضروری ہے۔ اور مسلمانوں کے لیے قرآن کریم اور محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ تینوں گروہ اس بنیادی اصول کو تسلیم کرلیں تو باہمی مفاہمت اور بقائے باہمی کی ایک صورت پیدا ہوسکتی ہے اور تمام جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ چناچہ اس فتنے کے سدباب کے لیے قرآن کریم نے ایمان کے لیے اس بات کو ضروری قرار دیا کہ جو حقائق اس سے پہلے نازل ہوچکے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو ان کا ماننا بھی ضروری ہے۔ لیکن اصلاً اس بات کا التزام ضروری ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے ایک ایک بات کو تسلیم کیا جائے، کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ حق ہے جو دنیا میں سرافرازی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ پر ایمان کہ آپ صرف رسول ہی نہیں بلکہ آپ آخری رسول ہیں جن کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا۔ اور آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے یہی اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت اور آخری دین ہے جس میں کوئی حک و اضافہ ممکن نہیں جس کے حلال و حرام، جائز و ناجائز اور حسن و قبح قطعی اور دائمی ہیں۔ کیونکہ پہلی شریعتیں اپنا وقت گزار چکیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے عمل کے اعتبار سے منسوخ کردیا۔ اب اگر کوئی قوت ان مذاہب کو ایک خودساختہ عمل سے ایک کرنا چاہتی ہے تو وہ درحقیقت حق و باطل، اسلام اور کفر کو اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔ اور وہ دین اور بےدینی کو ایک قرار دے کر حق و باطل کا نیا ملغوبہ تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ اسی بات کی بیخ کنی کے لیے آیت کریمہ میں اس جملے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی، اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کررہا ہے

ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّبَعُوالْحَقَّ مِنْ رَّبِّھِمْ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ ۔ (محمد : 3) (یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی، اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کررہا ہے۔ ) قوت کا سرچشمہ حق کی پیروی ہے حق و باطل کی کشمکش میں اوپر کی آیات میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل حق کی تائید و نصرت کی اور ان کو سرافراز فرمایا اور اہل باطل کی مساعی کو ناکام اور بےاثر کرکے انھیں ناکام و نامراد کیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفار حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور باطل کی پیروی کرتے ہیں جبکہ باطل شیطان کا پیدا کردہ ہے۔ اور نفسانی خواہشات اور ہَوائے نفس اس کی تائید میں کبھی دلائل کی قوت فراہم کرتے ہیں اور کبھی عمل کی تائید کو بروئے کار لاتے ہیں۔ اور معاشرے کا بگڑا ہوا ہر فرد ہمیشہ اس کی تائید میں اپنا رول ادا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باطل کی پیروی کرنے والے جن جن قوتوں کے اشارے پر چلتے اور باطل کو جہاں جہاں سے غذا ملتی ہے ان میں سے کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس کی رہنمائی کو عقل کی تائید حاصل ہو، فکری سلامتی اس کو تسلیم کرے اور نیکی کے جذبات اسے قبول کریں بلکہ وہ قدم قدم پر کبھی سفلی جذبات کو ابھارتا ہے اور کبھی خواہشاتِ نفس کی ایک فصل تیار کردیتا ہے۔ اور کبھی مفادات کی تائید کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جسے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کا درجہ مل سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں وہ اس حق کی پیروی کرتے ہیں جو ان کی رب کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو بات اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئے گی وہ یقینا شیطانی اثرات سے محفوظ ہوگی۔ نفسانی جذبات اس کے قریب بھی نہیں جاسکیں گے۔ وہ مفادات کے ہر پھندے سے آزاد ہوگی۔ حالات کا چلن اگر اس کے راستے میں حائل ہوتا ہے تو اہل حق اس کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت نصیب ہوتی ہے۔ عقل اور فطرت اس کی تائید کرتی ہیں اور حالات اس کے مطابق ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ حق کو ثبات و استحکام ملتا اور باطل اس کے مقابلے میں ایک خودرو جھاڑی کی طرح اہل حق کے قدموں تلے روندا جاتا ہے۔ اہل باطل کی وقتی کامرانیاں شروع میں اس تصور کو قبول کرنے میں مانع ہوتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں اترتی جاتی ہے اور حق سربلند ہو کر رہتا ہے۔ جس وقت یہ آیت نازل ہورہی تھی اس وقت اہل حق کا مستقبل اتنا واضح نہیں تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب ان کے مستقبل کی تصویر ان کے سامنے رکھی تو اس کو ایک مثال قرار دیا اور دعوت دی کہ اس مثال کے آئینہ میں اپنے مستقبل کی جھلک دیکھنے کی کوشش کریں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ ان مثالوں میں اپنے مستقبل کو دیکھ سکیں۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو ان کو مضبوط باندھ لو، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑنا ہے یا فدیہ لینا ہے، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے، یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا، ( لیکن اس نے تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ وہ تم میں سے ایک کو دوسرے سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِط حَتّٰی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا م بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا 5 ج قف ذٰلِکَ ط وَلَوْیَشَآئُ اللّٰہُ لاَ نْتَصَرَ مِنْھُمْ وَلٰـکِنْ لِّیَبْلُوَا ْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ ط وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 4) (پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو ان کو مضبوط باندھ لو، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑنا ہے یا فدیہ لینا ہے، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے، یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا، ( لیکن اس نے تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ وہ تم میں سے ایک کو دوسرے سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ ) حق و باطل میں تصادم کے بعد کی ہدایات گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ دنیا میں حق و باطل کی کشمکش جاری ہے اور اس کے دو فریق ہیں، اہل حق اور اہل باطل۔ اہل حق کو کٹھن حالات سے گزر کر حق کی آبیاری کرنا پڑتی ہے۔ کبھی اس کے لیے پسینہ دینا پڑتا ہے اور کبھی خون دینا پڑتا ہے۔ جب اہل حق کا یہ گروہ اپنی مسلسل سرفروشیوں اور جانثاریوں سے اپنا مخلص اور برحق ہونا ثابت کردیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور اہل حق بظاہر اپنی کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے توانا ہوجاتے ہیں اور اہل باطل چونکہ اللہ تعالیٰ کے رشتے کو کھو چکے اور حق سے وابستگی سے منہ موڑ چکے جس کے نتیجے میں وہ تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود حقیقی توانائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ ریڑھ کی ہڈی جسے حق کی توانائی سے طاقت ملتی ہے وہ کمزور سے کمزور تر ہوجاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت مسلمان اپنی مسلسل سرفروشیوں اور جاں سپاریوں سے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بہرہ ور ہوچکے تھے اور قریش اپنی تمام تر رعونت اور وجاہت کے باوجود استقامت سے محروم ہوچکے تھے انھیں اپنی طاقت کا بڑا غرہ تھا لیکن حقیقت میں ان کے اندر وہ روح مرچکی تھی جو حق و باطل کی کشمکش میں استقامت کی علامت ہوتی ہے۔ چناچہ ایسے ہی حالات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جہاد فرض کردیا ہے۔ حق و باطل کی کشمکش کسی وقت بھی تصادم کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو تمہیں نہایت عزم راسخ کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اور کافروں سے قتال کے وقت صرف یہ نہیں کہ تم ان سے بچ نکلنے کی کوشش کرو کیونکہ تمہارے پیش نظر ان کے شر سے صرف بچنا نہیں بلکہ ان کی قوت کو توڑنا ہے۔ جب تک انھیں اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہوگا اس وقت تک وہ جارحیت سے باز نہیں آئیں گے۔ اس لیے تصادم کے وقت ان کی گردنیں اڑائو اور پوری طرح ان کا خون بہائو۔ اور انھیں اس حد تک پامال کردو کہ وہ دوبارہ مقابلے پر آنے کی جسارت نہ کریں۔ اگر وہ میدان سے پسپا بھی ہوجائیں تو تمہیں ان کی پسپائی کو غنیمت سمجھ کر ان کے پیچھے رہ جانے والے سپاہیوں کو قیدی بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ جہاں تک ممکن ہوسکے ان کی کفر کی طاقت کو توڑ ڈالو۔ کیونکہ جہاں تک افہام و تفہیم اور تبلیغ و دعوت کا تعلق ہے اس میں کوئی کمی نہیں رہی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے ان پر اتمامِ حجت ہوچکا ہے۔ لیکن وہ دشمنی میں ایسے اندھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی صداقت کو جانچنے کی بجائے وہ آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ہر قیمت پر تہ تیغ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے مکہ معظمہ میں قتل کی منصوبہ بندی کی اور مدینہ منورہ میں آنحضرت اور مسلمانوں کے ہجرت کر جانے کے باوجود تمام ممکن ذرائع سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس لیے اب وہ کسی رحم اور مروت کے مستحق نہیں۔ جب تک ان کی قوت کو پوری طرح کچل نہیں دیا جائے گا اس وقت تک یہ فتنہ سرد نہیں ہوگا۔ اور یہ وہی بات ہے جس کا حکم سورة البقرۃ میں دیا گیا ہے کہ کافروں سے اس وقت تک لڑو جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے۔ لیکن جب دیکھو کہ میدانِ جنگ سے کفر کی فوج پوری طرح بھاگ چکی ہے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں تو اب ان کو مضبوطی سے باندھو اور قیدی بنا لو۔ اس کے بعد تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں کہ ان پر احسان کرو یا فدیہ لے کے ان کو رہا کردو۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک لڑائی اپنے ہتھیار نہ رکھ دے، یعنی کفر کی طاقت ٹوٹ نہ جائے۔ مزید فرمایا کہ تمہارے کرنے کا کام صرف یہ ہے جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ذٰلِکَ کی خبر کو محذوف کردیا گیا ہے تاکہ مبتداء پر پوری طرح ارتکاز رہے۔ رہی یہ بات کہ جس طرح سابقہ معذب قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے تباہ کیا اسی طرح اہل مکہ کو تباہ کیوں نہ کردیا گیا، مسلمان اس ابتلاء میں کیوں ڈالے گئے ؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو بری طرح پامال کردیتا۔ لیکن تمہیں ان سے ٹکرانے اور انھیں پامال کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ تمہاری بھی آزمائش ہوجائے اور اہل باطل کی بھی۔ تم اپنی قربانیوں سے اپنا مخلص اور اہل حق ہونا ایسے ہی موقعوں پر ثابت کرسکو گے اور جو منافقین ہیں ان کا نفاق ایسے ہی موقعوں پر کھل کر سامنے آئے گا۔ اور کافر بھی میدانِ جنگ میں آنے کے بعد یہ ثابت کرسکیں گے کہ کفر کے ساتھ ان کا اخلاص کتنا ہے۔ اور باطل کی حمایت کے لیے ان کے جوش و جذبہ کا عالم کیا ہے۔ مسلمانوں کی صفوں میں چونکہ منافقین بھی گھسے ہوئے تھے اس لیے جب کبھی کفار کے ساتھ تصادم کی نوبت آتی تو وہ نہ صرف اس سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے بلکہ مخلص مسلمانوں کو بےدل کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ اور اس سلسلے میں ان کا سب سے بڑا حربہ یہ تھا کہ جنگ تو زندگی اور موت کا کھیل ہے اس میں آدمی زندگی سے زیادہ موت کے قریب ہوتا ہے۔ تو جو لوگ اس میں قتل ہوجاتے ہیں انھیں زندگی سے کیا ملا، اور انھیں اس جنگ کا کیا فائدہ ہوا۔ یہ لوگ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس لیے وہ ہر قربانی کو خسارہ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ چناچہ ان کے وساوس کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوں گے ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کا بھرپور صلہ عطا فرمائے گا۔ دنیا میں ان کی قربانیاں اسلام کے غلبے کا راستہ صاف کریں گی جس سے ان کی اولادیں فائدہ اٹھائیں گی۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ انھیں وہ کچھ عطا فرمائے گا جس کا دنیا میں اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور زندگی تو آخرت کی زندگی ہے دنیا تو متاع قلیل کے سوا کچھ نہیں۔ اس آیت کریمہ کا پیغام اور مفہوم جو دلوں میں اترنا چاہیے اسے ہم نے کسی حد تک بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ اس میں قیدیوں کی گرفتاری اور ان کی رہائی کے بارے میں جو تفصیلات ہیں اس کے لیے ہم صاحب تفہیم القرآن کا ایک تفصیلی نوٹ نقل کررہے ہیں : اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق وسباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آجانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ” جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو “ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈبھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اسکے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔ آگے آیت 20 کے الفاظ اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب سورة حج کی آیت 39 اور سورة بقرہ کی آیت 190 میں لڑائی کا حکم آچکا تھا اور اس پر خوف کے مارے مدینے کے منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کا حال یہ ہورہا تھا کہ جیسے ان پر موت چھا گئی ہو۔ اس کے علاوہ سورة انفال کی آیات 67۔ 69 بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ آیت جنگ بدر سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ وہاں ارشاد ہوا ہے کہ : ” کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہوں حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی ہے۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے۔ “ اس عبارت اور خصوصاً اس کے خط کشیدہ فقروں پر غور کرنے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس موقع پر عتاب جس بات پر ہوا تھا وہ یہ تھی کہ جنگ بدر میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل دینے سے پہلے مسلمان دشمن کے آدمیوں کو قید کرنے میں لگ گئے تھے حالانکہ جنگ سے پہلے جو ہدایت سورة محمد میں ان کو دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ ” جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ “ تاہم چونکہ سورة محمد میں مسلمانوں کو قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت فی الجملہ دی جا چکی تھی اس لیے جنگ بدر کے قیدیوں سے جو مال لیا گیا اسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور مسلمانوں کو اس کے لینے پر سزا نہ دی۔ ” اگر اللہ تعالیٰ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا “ کے الفاظ اس امر کی طرف صاف اشارہ کررہے ہیں کہ اس واقعہ سے پہلے فدیہ لینے کی اجازت کا فرمان قرآن میں آچکا تھا اور ظاہر ہے کہ قرآن کے اندر سورة محمد ﷺ کی اس آیت کے سوا کوئی دوسری آیت ایسی نہیں ہے جس میں یہ فرمان پایا جاتا ہو۔ اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ آیت سورة انفال کی مذکورہ بالا آیت سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، تفسیر سورة انفال، حاشیہ 49) یہ قرآن مجید کی پہلی آیت ہے جس میں قوانینِ جنگ کے متعلق ابتدائی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سے جو احکام نکلتے ہیں اور اس کے مطابق نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے جس طرح عمل کیا ہے اور فقہاء نے اس آیت اور سنت سے جو استنباطات کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے : 1 جنگ میں مسلمانوں کی فوج کا اصل ہدف دشمن کی جنگی طاقت کو توڑ دینا ہے یہاں تک کہ اس میں لڑنے کی سکت نہ رہے اور جنگ ختم ہوجائے۔ اس ہدف سے توجہ ہٹا کر دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں نہ لگ جانا چاہیے۔ قیدی پکڑنے کی طرف توجہ اس وقت کرنی چاہیے جب دشمن کا اچھی طرح قلع قمع کردیا جائے اور میدانِ جنگ میں اس کے کچھ آدمی باقی رہ جائیں۔ اہل عرب کو یہ ہدایت آغاز ہی میں اس لیے دے دی گئی کہ وہ کہیں فدیہ حاصل کرنے یا غلام فراہم کرنے کے لالچ میں پڑ کر جنگ کے اصل ہدف مقصود کو فراموش نہ کر بیٹھیں۔ 2 جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوں ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ تمہیں اختیار ہے خواہ ان پر احسان کرو یا ان سے فدیہ کا معاملہ کرلو۔ اس سے عام قانون یہ نکلتا ہے کہ جنگی قیدیوں کو قتل نہ کی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر، حسن بصری، عطا اور حماد بن ابی سلیمان، قانون کے اسی عموم کو لیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آدمی کو قتل لڑائی کی حالت میں کیا جاسکتا ہے۔ جب لڑائی ختم ہوگئی اور قیدی ہمارے قبضے میں آگیا تو اسے قتل کرنا درست نہیں ہے۔ ابن جریر اور ابوبکر جصاص کی روایت ہے کہ حجاج بن یوسف نے جنگی قیدیوں میں سے ایک قیدی کو حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) کے حوالہ کیا اور حکم دیا کہ اسے قتل کردیں۔ انھوں نے انکار کردیا اور یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ ہمیں قید کی حالت میں کسی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے امام محمد نے ایسرالکبیر میں بھی ایک واقعہ لکھا ہے کہ عبداللہ بن عامر نے حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) کو ایک جنگی قیدی کے قتل کا حکم دیا تھا اور انھوں نے اسی بنا پر اس حکم کی تعمیل سے انکار کردیا تھا۔ 3 مگر چونکہ اس آیت میں قتل کی صاف ممانعت بھی نہیں کی گئی ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا منشا یہ سمجھا اور اسی پر عمل بھی فرمایا کہ اگر کوئی خاص وجہ ایسی ہو جس کی بنا پر اسلامی حکومت کا فرمانروا کسی قیدی یا بعض قیدیوں کو قتل کرنا ضروری سمجھے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ یہ عام قاعدہ نہیں ہے بلکہ قاعدہ عام میں ایک استثناء ہے جسے بضرورت ہی استعمال کیا جائے گا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے 70 قیدیوں میں سے صرف عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن الحارث کو قتل کیا۔ جنگ احد کے قیدیوں میں سے صرف ابوعزہ شاعر کو قتل فرمایا۔ بنی قریظہ نے چونکہ اپنے آپ کو حضرت سعد بن معاذ کے فیصلے پر حوالے کیا تھا اور ان کے اپنے تسلیم کردہ حکم کا فیصلہ یہ تھا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، اس لیے آپ نے ان کو قتل کرا دیا۔ جنگ خیبر میں جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں سے صرف کنانہ ابن ابی الحقیق قتل کیا گیا چونکہ اس نے بدعہدی کی تھی۔ فتح مکہ کے بعد آپ نے تمام اہل مکہ میں سے صرف چند خاص اشخاص کے متعلق حکم دیا کہ ان میں سے جو بھی پکڑا جائے وہ قتل کردیا جائے۔ ان مستثنیات کے سوا حضور ﷺ کا عام طریقہ اسیرانِ جنگ کو قتل کرنے کا کبھی نہیں رہا۔ اور یہی عمل خلفائے راشدین کا بھی تھا۔ ان کے زمانے میں بھی قتل اسیرانِ جنگ کی مثالیں شاذونادر ہی ملتی ہیں اور ہر مثال میں قتل کسی خاص وجہ سے کیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھی اپنے پورے زمانہ ٔ خلافت میں صرف ایک جنگی قیدی کو قتل کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیفین پہنچائی تھیں۔ اسی بنا پر جمہور فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی حکومت اگر ضرورت سمجھے تو اسیر کو قتل کرسکتی ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہر فوجی اس کا مجاز نہیں ہے کہ جس قیدی کو چاہے قتل کردے۔ البتہ اگر قیدی کے فرار ہونے کا یا اس سے کسی خطرناک شرارت کا اندیشہ ہوجائے تو جس شخص کو بھی اس صورتحال سے سابقہ پیش آئے وہ اسے قتل کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں فقہائے اسلام نے تین تصریحات اور بھی کی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر قیدی اسلام قبول کرلے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ قیدی صرف اسی وقت تک قتل کیا جاسکتا ہے جب تک وہ حکومت کی تحویل میں ہو۔ تقسیم یا بیع کے ذریعہ سے اگر وہ کسی شخص کی ملک میں جا چکا ہو تو پھر اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ تیسرے یہ کہ قیدی کو قتل کرنا ہو تو بس سیدھی طرح قتل کردیا جائے، عذاب دے دے کر نہ مارا جائے۔ 4 جنگی قیدیوں کے بارے میں عام حکم جو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یا ان پر احسان کرو یا فدیئے کا معاملہ کرلو۔ احسان میں چار چیزیں شامل ہیں : ایک یہ کہ قید کی حالت میں ان سے اچھا برتائو کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ قتل یا دائمی کی بجائے ان کو غلام بنا کر افرادِمسلمین کے حوالہ کردیا جائے۔ تیسرے یہ کہ جزیہ لگا کر ان کو ذمی بنایا جائے۔ چوتھے یہ کہ ان کو بلامعاوضہ رہا کردیا جائے۔ فدیئے کا معاملہ کرنے کی تین صورتیں ہیں : ایک یہ کہ مالی معاوضہ لے کر انھیں چھوڑا جائے، دوسرے یہ کہ رہائی کی شرط کے طور پر کوئی خاص خدمت لینے کے بعد چھوڑ دیا جائے، تیسرے یہ کہ اپنے ان آدمیوں سے جو دشمن کے قبضے میں ہوں ان کا تبادلہ کرلیا جائے۔ ان سب مختلف صورتوں پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے مختلف اوقات میں حسب موقع عمل فرمایا ہے۔ خدا کی شریعت نے اسلامی حکومت کو کسی ایک شکل کا پابند نہیں کردیا ہے۔ حکومت جس وقت جس طریقے کو مناسب ترین پائے اس پر عمل کرسکتی ہے۔ 5 نبی کریم ﷺ اور صحابہ کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ ایک جنگی قیدی جب تک حکومت کی قید میں رہے، اس کی غذا اور لباس اور اگر وہ بیمار یا زخمی ہو تو اس کا علاج حکومت کے ذمہ ہے۔ قیدیوں کو بھوکا ننگا رکھنے یا ان کو عذاب دینے کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک اور فیاضانہ برتائو کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور عملاً بھی اسی کی نظیریں سنت میں ملتی ہیں۔ جنگ بدر کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ہدایت فرمائی کہ استوصوا بالاساری خیرا ” ان قدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ “ ان میں سے ایک قیدی ابوعزیز کا بیان ہے کہ مجھے جن انصاریوں کے گھر میں رکھا گیا تھا وہ صبح شام مجھ کو روٹی کھلاتے تھے اور خود صرف کھجوریں کھا کر رہ جاتے تھے۔ ایک اور قیدی سہل بن عمرو کے متعلق حضور ﷺ سے کہا گیا کہ یہ بڑا آتش بیان مقرر ہے، آپ کے خلاف تقریریں کرتا رہا ہے، اس کے دانت تڑوا دیجیے۔ حضور ﷺ نے جواب دیا ” اگر میں اس کے دانت تڑوائوں تو اللہ میرے دانت توڑ دے گا اگرچہ میں نبی ہوں۔ “ (سیرت ابن ہشام) ۔ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال جب گرفتار ہو کر آئے تو جب تک وہ قید میں رہے نبی کریم ﷺ کے حکم سے عمدہ کھانا اور دودھ ان کے لیے مہیا کیا جاتا رہا۔ (ابن ہشام) ۔ یہی طرزعمل صحابہ کرام کے دور میں بھی رہا۔ جنگی قیدیوں سے برے سلوک کی کوئی نظیر اس دور میں نہیں ملتی۔ 6 قیدیوں کے معاملے میں یہ شکل اسلام نے سرے سے اپنے ہاں رکھی ہی نہیں ہے کہ ان کو ہمیشہ قید رکھا جائے اور حکومت ان سے جبری محنت لیتی رہے۔ اگر ان کے ساتھ یا ان کی قوم کے ساتھ تبادلہ ٔ اسیرانِ جنگ یا فدیئے کا کوئی معاملہ طے نہ ہو سکے تو ان کے معاملے میں احسان کا طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ انھیں غلام بنا کر افراد کی ملکیت میں دے دیا جائے اور ان کے مالکوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ نبی کریم ﷺ کے عہد میں بھی اس طریقے پر عمل کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام کے عہد میں بھی یہ جاری رہا ہے اور فقہائے اسلام بالاتفاق اس کے جواز کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو شخص قید میں آنے سے پہلے اسلام قبول کرچکا ہو اور پھر کسی طرح گرفتار ہوجائے وہ تو آزاد کردیا جائے گا، مگر جو شخص قید ہونے کے بعد اسلام قبول کرے یا کسی شخص کی ملکیت میں دے دیئے جانے کے بعد مسلمان ہو تو یہ اسلام اس کے لیے آزادی کا سبب نہیں بن سکتا۔ سند احمد، مسلم اور ترمذی میں حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ بنی عقیل کا ایک شخص گرفتار ہو کر آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لوقلتھا وانت تملک امرک افلحت کل الفلاح ” اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پا جاتا۔ “ یہی بات حضرت عمر ( رض) نے فرمائی ہے کہ اذا اسلم الاسیر فی ایدی المسلمین فقد امن من القتل وھو رقیق ” جب قیدی مسلمانوں کے قبضے میں آنے کے بعد مسلمان ہو کر قتل سے تو محفوظ ہوجائے گا مگر غلام رہے گا۔ “ اسی بنا پر فقہائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قید ہونے کے بعد مسلمان ہونے والا غلامی سے نہیں بچ سکتا۔ (ایسرالکبیر، امام محمد) اور یہ بات سراسر معقول بھی ہے۔ اگر ہمارا قانون یہ ہوتا کہ جو شخص بھی گرفتار ہونے کے بعد اسلام قبول کرلے گا وہ آزاد کردیا جائے گا تو آخر وہ کون سا نادان قیدی ہوتا جو کلمہ پڑھ کر رہائی نہ حاصل کرلیتا۔ 7 قیدیوں کے ساتھ احسان کی تیسری صورت اسلام میں یہ رکھی گئی ہے کہ جزیہ لگا کر ان کو دارالاسلام کی ذمی رعایا بنالیا جائے اور وہ اسلامی مملکت میں اسی طرح آزاد ہو کر رہیں جس طرح مسلمان رہتے ہیں۔ امام محمد ایسرالکبیر میں لکھتے ہیں کہ ” ہر وہ شخص جس کو غلام بنانا جائز ہے اس پر جزیہ لگا کر اسے ذمی بنا لینا بھی جائز ہے۔ “ اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں ” مسلمانوں کے فرمانروا کو یہ حق ہے کہ ان پر جزیہ اور ان کی زمینوں پر خراج لگا کر انھیں اصلاً آزاد قرار دے دے۔ “ اس طریقے پر بالعموم ان حالات میں عمل کیا گیا ہے جبکہ قید ہونے والے لوگ جس علاقے کے باشندے ہو وہ مفتوح ہو کر اسلامی مملکت میں شامل ہوچکا ہو۔ مثال کے طور پر نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر کے معاملہ میں یہ طریقہ اختیار فرمایا تھا اور پھر حضرت عمر ( رض) نے سوادعراق اور دوسرے علاقوں کی فتح کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی پیروی کی۔ ابوعبید نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ عراق کی فتح کے بعد اس علاقے کے سر کردہ لوگوں کا ایک وفد حضرت عمر ( رض) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ ” اے امیرالمومنین، پہلے اہل ایران ہم پر مسلط تھے، انھوں نے ہم کو بہت ستایا، بڑا برا برتائو ہمارے ساتھ کیا اور طرح طرح کی زیادتیاں ہم پر کرتے رہے۔ پھر جب خدا نے آپ لوگوں کو بھیجا تو ہم آپ کی آمد سے بڑے خوش ہوئے اور آپ کے مقابلے میں نہ کوئی مدافعت ہم نے کی نہ جنگ میں کوئی حصہ لیا۔ اب ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمیں غلام بنا لینا چاہتے ہیں۔ “ حضرت عمر ( رض) نے جواب دیا ” تم کو اختیار ہے کہ مسلمان ہوجاؤ، یا جزیہ قبول کرکے آزاد ہو۔ “ ان لوگوں نے جزیہ قبول کرلیا اور وہ آزاد چھوڑ دیئے گئے۔ ایک اور جگہ اسی کتاب میں ابوعبید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ( رض) نے حضرت ابوموسی ( رض) اشعری کو لکھا کہ ” جنگ میں جو لوگ پکڑے گئے ہیں ان میں سے ہر کاشتکار اور کسان کو چھوڑ دو ۔ “ 8 احسان کی چوتھی صورت یہ ہے کہ قیدی کو بلا کسی فدیئے اور معاوضے کے یونہی رہا کردیا جائے۔ یہ ایک خاص رعایت ہے جو اسلامی حکومت صرف اسی حالت میں کرسکتی ہے جبکہ کسی خاص قیدی کے حالات اس کے متقاضی ہوں یا توقع ہو کر یہ رعایت اس قیدی کو ہمیشہ کے لیے ممنونِ احسان کردے گی اور وہ دشمن سے دوست یا کافر سے مومن بن جائے گا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ دشمن قوم کے کسی شخص کو اس لیے چھوڑ دینا کہ وہ پھر ہم سے لڑنے آجائے کسی طرح بھی تقاضائے مصلحت نہیں ہوکتا۔ اس لیے فقہائے اسلام نے بالعموم اس کی مخالفت کی ہے اور اس کے جواز کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ ” اگر امام مسلمین قیدیوں کو یا ان میں سے بعض کو بطور احسان چھوڑ دینے میں مصلحت پائے تو ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ “ (السیرالکبیر) نبی کریم ﷺ کے عہد میں اس کی بہت سی نظیریں ملتی ہیں اور قریب قریب سب میں مصلحت کا پہلو نمایاں ہے۔ جنگ بدر کے قیدیوں کے متعلق آپ نے فرمایا لوکان المطعم بن عدی حیا ثم کلمنی فی ھولاء النتنی لنزکتھم لہ (بخاری، ابودائود، مسنداحمد) ” اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان گھنائونے لوگوں کے بارے میں بات کرتا تو میں اس کی خاطر انھیں یونہی چھوڑ دیتا۔ “ یہ بات حضور ﷺ نے اس لیے فرمائی تھی کہ آپ ﷺ جب طائف سے مکہ معطمہ واپس ہوئے تھے اس وقت مطعم ہی نے آپ کو اپنی پناہ میں لیا تھا اور اس کے لڑکے ہتھیار باندھ کر اپنی حفاظت میں آپ کو حرم میں لے گئے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ اس کے احسان کا بدلہ اس طرح اتارنا چاہتے تھے۔ بخاری، مسلم اور مسند احمد کی روایت ہے کہ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال جب گرفتار ہوکرآئے تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا ” ثمامہ، تمہارا کیا حال ہے ؟ “ انھوں نے کہا ” اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون کچھ قیمت رکھتا ہے، اگر مجھ پر احسان کریں گے تو ایسے شخص پر کریں گے جو احسان ماننے والا ہے، اور اگر آپ ﷺ مال لینا چاہتے ہیں تو مانگئے، آپ کو دیا جائے گا۔ “ تین دن تک آپ ان سے یہی بات پوچھتے رہے اور وہ یہی جواب دیتے رہے۔ آخر کو آپ نے حکم دیا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو ۔ رہائی پاتے ہی وہ قریب کے ایک نخلستان میں گئے۔ نہا دھوکر واپس آئے، کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے اور عرض کیا کہ ” آج سے پہلے کوئی شخص میرے لیے آپ سے اور کوئی دین آپ کے دین سے بڑھ کر مبغوض نہ تھا، مگر اب کوئی شخص اور کوئی دین مجھے آپ سے اور آپ کے دین سے بڑھ کر محبوب نہیں ہے۔ “ پھر وہ عمرہ کے لیے مکہ گئے اور وہاں قریش کے لوگوں کو نوٹس دے دیا کہ آج کے بعد کوئی غلہ تمہیں یمامہ سے نہ پہنچے گا جب تک محمد ﷺ اجازت نہ دیں۔ چناچہ انھوں ایسے ہی کیا اور مکہ والوں کو حضور سے التجا کرنی پڑی کہ یمامہ سے ہمارے لیے غلہ کی رسد بند نہ کرائیں۔ بنی قریظہ کے قیدیوں میں سے آپ نے زبیر بن باطا اور عمرو بن سعد (یا ابن سعدیٰ ) کی جان بخشی کی۔ زبیر کو اس لیے چھوڑا کہ اس نے جاہلیت کے زمانے میں جنگ بعاث کے موقع پر حضرت ثابت بن قیس انصاری کو پناہ دی تھی، اس لیے آپ نے اس کو حضرت ثابت کے حوالہ کردیا تاکہ اس کے احسان کا بدلہ ادا کردیں۔ اور عمرو بن سعد کو اس لیے چھوڑا کہ جب بنی قریظہ حضور ﷺ کے ساتھ بدعہدی کررہے تھے اس وقت یہی شخص اپنے قبیلے کو غداری سے منع کررہا تھا۔ (کتاب الاموال لابی عبید) غزوہ بنی المصطلق کے بعد جب اس قبیلے کے قیدی لائے گئے اور لوگوں میں تقسیم کردیئے گئے، اس وقت حضرت جویریہ جس شخص کے حصے میں آئی تھیں اس کو ان کا معاوضہ ادا کرکے آپ نے انھیں رہا کرایا اور پھر ان سے خود نکاح کرلیا۔ اس پر تمام مسلمانوں نے یہ کہہ کر اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کردیا کہ یہ ” اب رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار ہوچکے ہیں۔ “ اس طرح 100 خاندانوں کے آدمی رہا ہوگئے۔ (مسند احمد، طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام) صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے 80 آدمی تنعیم کی طرف سے آئے اور فجر کی نماز کے قریب انھوں نے آپ کے کیمپ پر اچانک شبخون مارنے کا ارادہ کیا۔ مگر وہ سب کے سب پکڑ لیے گئے اور حضور ﷺ نے سب کو چھوڑ دیا تاکہ اس نازک موقع پر یہ معاملہ لڑائی کا موجب نہ بن جائے۔ (مسلم، ابودائود، نسائی، ترمذی، مسنداحمد) فتح مکہ کے موقع پر آپ نے چند آدمیوں کو مستثنیٰ کرکے تمام اہل مکہ کو بطور احسان معاف کردیا اور جنھیں مستثنیٰ کیا تھا ان میں سے بھی تین چار کے سوا کوئی قتل نہ کیا گیا۔ سارا عرب اس بات کو جانتا تھا کہ اہل مکہ نے رسول ﷺ اور مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم کیے تھے۔ اس کے مقابلہ میں فتح پا کر جس عالی حوصلگی کے ساتھ حضور ﷺ نے ان لوگوں کو معاف فرمایا اس سے اہل عرب کو یہ اطمینان حاصل ہوگیا کہ ان کا سابقہ کسی جبار سے نہیں بلکہ ایک نہایت رحیم و شفیق اور فیاض رہنما سے ہے۔ اسی بنا پر فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب کو مسخر ہونے میں دو سال سے زیادہ دیر نہ لگی۔ جنگ حنین کے بعد جب قبیلہ ہوازن کا وفد اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے حاضر ہوا تو سارے قیدی تقسیم کیے جا چکے تھے۔ حضور ﷺ نے سب مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا یہ لوگ تائب ہو کر آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دیئے جائیں۔ تم میں سے جو کوئی بخوشی اپنے حصے میں آئے ہوئے قیدی کو بلامعاوضہ چھوڑنا چاہے وہ اس طرح چھوڑ دے، اور جو معاوضہ لینا چاہے اس کو ہم بیت المال میں آنے والی پہلی آمدنی سے معاوضہ دے دیں گے۔ چناچہ چھ ہزار قیدی رہا کردیئے گئے اور جن لوگوں نے معاوضہ لینا چاہا انھیں حکومت کی طرف سے معاوضہ دے دیا گیا۔ (بخاری، ابودائود، مسند احمد، طبقات ابن سعد) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تقسیم ہوچکنے کے بعد حکومت قیدیوں کو خود رہا کردینے کی مجاز نہیں رہتی۔ بلکہ یہ کام ان لوگوں کی رضامندی سے یا ان کو معاوضہ دے کر کیا جاسکتا ہے جن کی ملکیت میں قیدی دیئے جا چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام کے دور میں بھی بطوراحسان قیدیوں کو رہا کرنے کی نظیریں مسلسل ملتی ہیں۔ حضرت ابوبکر ( رض) نے اشعث بن قیس کندی کو رہا کیا اور حضرت عمر ( رض) نے ہرمزان کو اور مناذر اور میسان کے قیدیوں کو آزادی عطا کی۔ (کتاب الاموال لابی عبید) 9 مالی معاوضہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کی مثال نبی کریم ﷺ کے عہد میں صرف جنگ بدر کے موقع پر ملتی ہے جبکہ فی قیدی ایک ہزار سے 4 ہزار تک کی رقمیں لے کر ان کو رہا کیا گیا۔ (طبقات ابن سعد، کتاب الاموال) صحابہ کرام کے دور میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور فقہائے اسلام نے بالعموم اس کو ناپسند کیا ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم روپیہ لے کر دشمن کے ایک آدمی کو چھوڑ دیں تاکہ وہ پھر ہمارے خلاف تلوار اٹھائے۔ لیکن چونکہ قرآن میں فدیہ لینے کی اجازت دی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اس پر عمل بھی کیا ہے اس لیے ایسا کرنا مطلقاً ممنوع نہیں ہے۔ امام محمد ایسرالکبیر میں کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو اس کی ضرورت پیش آئے تو وہ مالی معاوضہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔ کوئی خدمت لے کر چھوڑنے کی مثال بھی جنگ بدر کے موقع پر ملتی ہے۔ قریش کے قیدیوں میں سے جو لوگ مالی فدیہ دینے کے قابل نہ تھے ان کی رہائی کے لیے حضور ﷺ نے یہ شرط عائد کردی کہ وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ (مسنداحمد، طبقات ابن سعد، کتاب الاموال) ! قیدیوں کے تبادلے کی متعدد مثالیں ہم کو نبی کریم ﷺ کے عہد میں ملتی ہیں ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ( رض) کو ایک مہم پر بھیجا اور اس میں چند قیدی گرفتار ہوئے۔ ان میں ایک نہایت خوبصورت عورت بھی تھی جو حضرت سلمہ بن اکوع کے حصے میں آئی۔ رسول اللہ ﷺ نے باصرار اس کو حضرت سلمہ سے مانگ لیا پھر اسے مکہ بھیج کر اس کے بدلے کئی مسلمان قیدیوں کو رہا کرایا۔ (مسلم، ابودائود، طحاوی، کتب الاموال لابی عبید، طبقات ابن سعد) حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ ثقیف نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو قید کرلیا۔ اس کے کچھ مدت بعد ثقیف کے حلیف قبیلے بنی عقیل کا ایک آدمی مسلمانوں کے پاس گرفتار ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس کو طائف بھیج کر اس کے بدلے ان دونوں مسلمانوں کو رہا کرا لیا۔ (مسلم، ترمذی، مسنداحمد) فقہاء میں سے امام ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد تبادلہ اسیران کو جائز رکھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کا ایک قول یہ ہے کہ تبادلہ نہیں کرنا چاہیے مگر دوسرا قول ان کا بھی یہی ہے کہ تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ جو قیدی مسلمان ہوجائے اسے تبادلہ میں کفار کے حوالہ نہ کیا جائے۔ اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے اسیرانِ جنگ کے معاملہ میں ایک ایسا وسیع ضابطہ بنایا ہے جس کے اندر ہر زمانے اور ہر طرح کے حالات میں اس مسئلے سے عہدہ برآہونے کی گنجائش ہے۔ جو لوگ قرآن مجید کی اس آیت کا بس یہ مختصر سا مطلب لے لیتے ہیں کہ جنگ میں قید ہونے والوں کو ” یا تو بطور احسان چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ “ وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ جنگی قیدیوں کا معاملہ کتنے مختلف پہلو رکھتا ہے اور مختلف زمانوں میں وہ کتنے مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور آئندہ کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 47:5–6

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال سنوار دے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے

سَیَھْدِیْہِمْ وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ ۔ وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَھَا لَھُمْ ۔ (محمد : 5، 6) (وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔ اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام آنے والوں پر انعامات جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جائیں گے، گزشتہ آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی شہادت سے پہلے ان کا ایک ایک عمل اور خود شہادت کا عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بہت زیادہ اجر وثواب کا حامل ہے۔ دنیا میں بھی اس سے برگ و بار پھوٹیں گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ یعنی ان کی جو اصل منزل مقصود تھی اللہ تعالیٰ انھیں اس منزل مقصود سے ہمکنار کردے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے بھی بہرہ ور ہوں گے اور جنت کے دروازے بھی ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا حال درست فرما دے گا۔ حال درست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا خون اس طرح رنگ لائے گا کہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے لیے راستے ہموار ہوتے جائیں گے۔ حق توانا ہوجائے گا اور کفر اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اور مزید یہ بات بھی کہ دنیا میں اگر ان کے دلوں میں کسی اپنے بھائی کے بارے میں رنجش تھی تو اللہ تعالیٰ ان کے دل کو اس سے پاک کردے گا۔ جس طرح قرآن کریم کی ایک آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی آیت کے حوالے سے فرمایا کہ میرے دل میں حضرت عثمان اور حضرت طلحہ اور بعض دیگر صحابہ کرام کے بارے میں جو کچھ ہے اور ان کے دل میں میرے بارے میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے سے پہلے ہمارے دلوں کو اس سے صاف کردے گا۔ اور شاید اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں یہ فرما کر کیا گیا ہے فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیٰ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۔ اسی رہنمائی کا آخری حصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ پہلے ہی ان کو واقف کرا چکا ہے۔ لیکن اس جنت میں داخل کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کو جنتی خلعتیں پہنائے گا اور ہر طرح سے آراستہ کرکے اور ہر آلائش سے پاک کرکے انھیں جنت میں داخل کرے گا۔ یہ جو فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے پہلے انھیں واقف کرا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اہل جنت، جنت میں پہنچیں گے تو جو تفصیلات جنت کے حوالے سے وہ قرآن کریم میں پڑھ چکے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے ان تک پہنچ چکی ہیں وہ بالکل جنت کو ویسا ہی پائیں گے۔ قرآن و سنت کی بیان کردہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں تو متشابہات میں شامل ہیں۔ لیکن اہل جنت اس کی مراد اپنی آنکھوں سے جنت میں جب دیکھیں گے تو ان کی شکرگزاری کے جذبے میں مزید اضافہ ہوگا۔ اور وہ اس تصور سے جھوم اٹھیں گے کہ پروردگار جیسی عظیم ذات اور انسان جیسا ذرہ بےقیمت کے درمیان کوئی معاہدہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے پر چلنے والے اور جان دینے والوں کے بارے میں جو کچھ وعدہ فرمایا تھا جنت اس کی ہوبہو تصویر ہے۔
Ayahs 47:7–8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَا مَکُمْ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّھُمْ وَاَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ ۔ (محمد : 7، 8) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔ ) اللہ تعالیٰ کی نصرت اور استقامت کا وعدہ انسانی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ زندگی کا ایک حصہ ضروریات زندگی پر مشتمل ہے اور دوسرا مقاصدِ زندگی پر۔ مسلمان اپنی ذات میں بھی اور ایک مملکت کے شہری اور سربراہ ہونے کی حیثیت سے بھی بہرحال انسان ہیں اور انسانی زندگی کی ضروریات اپنے اندر بےحد تنوع رکھتی ہیں۔ اسلام نے نہ صرف کسی جائز ضرورت کے مہیا کرنے سے نہیں روکا بلکہ اس کی ترغیب دی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے حصول کا ذریعہ جائز اور پاکیزہ ہونا چاہیے۔ انسانوں کی جان، مال و دولت اور عزت کی حفاظت کا مملکت کو ذمہ دار بنایا گیا ہے اور ہر شہری کی تعلیم اور اس کی صحت بھی مملکت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لیے وسائل فراہم کرے اور اس کے اداروں کو وجود دے۔ اسی طرح حالات کے مطابق دیہاتی اور شہری زندگی کی جو معاشرتی اور تمدنی ضروریات ہیں ان کا فراہم کرنا بھی مملکت کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے۔ یہ وہ ضروریات ہیں جن میں شہری اور حکمران برابر کے ذمہ دار ہیں اور ان کی فراہمی ان سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جہاں تک ملک کی سلامتی، اسلام کی ترویج اور نفاذ اور اس کی بالادستی اور اگر اسلام کو خطرہ لاحق ہو تو اس کی حفاظت یہ نہ صرف مسلمانوں کی ضرورت ہے بلکہ ان کے مقاصدِزندگی میں شامل ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمان اہل مکہ کے استبدادی رویہ کے حوالے سے اپنی بقا اور اسلام کے فروغ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اہل مکہ نے اکثر قبائل کو مسلمانوں کا دشمن بنادیا ہے۔ مدینہ کی چھوٹی سے بستی کا معاشی بائیکاٹ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اہل مدینہ کی زندگی ضروریاتِ زندگی کی کمی کا شکار ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مدینہ کے منافقین سے خفیہ مراسلت کے ذریعے مدینہ کے اندر کے حالات کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالات ایسے پیدا کردیئے گئے ہیں کہ اب مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اسلام سے ترک تعلق کردیں اور جاہلیتِ قدیمہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے کفر کے سامنے استقامت کے پیکر بن جائیں۔ چناچہ یہ دوسری بات مسلمانوں کا مقصد زندگی ہونے کی وجہ سے ایک ایسی حقیقت ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے، معاشی حالات دگرگوں ہیں، اسلحہ ٔ جنگ کی فراہمی کے لیے وسائل نہیں ہیں، لیکن مرحلہ ایسا درپیش ہے کہ اس میں ذراسی کمزوری اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت جوش میں ہے اور مسلمانوں سے وعدہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کے احیاء، بقاء، نفاذ اور تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور سب کچھ اس راستے میں قربان کرنے کا عہد کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ تمہارا کام استقامت دکھانا ہے باقی کام وہ خود سنبھال لے گا اور اس طرح تمہاری مدد فرمائے گا اور اس طرح تمہارے قدم جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ اس کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا کہ جب اس کا کوئی بندہ یا اس کی نام لیوا کوئی قوم اس کے نام پر اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو پھر اس کی طرف سے فرشتے مدد کے لیے اترتے ہیں۔ جنگ بدر اس کی زندہ مثال ہے۔ آنحضرت ﷺ ہجرت کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر غارثور میں جا کر بیٹھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے جالے سے وہ کام لیا جو بعض دفعہ قلعے بھی نہیں دیتے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے بند دروازوں تک دوڑنا ضروری سمجھا تو دروازوں کا کھولنا قدرت نے اپنے ذمہ لے لیا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندے صحیح فیصلے کے بعد اس کے بھروسے پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اور غیرمعمولی طریقے سے اس کی مدد آتی ہے۔ لیکن یہ مدد ان لوگوں کے لیے کبھی نہیں آتی جو اپنے گھروں میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ جہاں تک مخالفین کا تعلق ہے ان کے بارے میں واضح طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ان پر پھٹکار ہے، ان کی ہلاکت کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ جو کچھ اس سلسلے میں کریں گے ان کی ہر تدبیر اکارت جائے گی۔ جیسے جنگ بدر میں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کی پہلی صف تہِ تیغ ہوگئی اور دوسری صف ذلت کے ساتھ قید کی زنجیروں میں جکڑی گئی۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے اتاری، پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَرِھُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 9) (یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے اتاری، پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔ ) کفار کی بدنصیبی کا سبب گزشتہ آیات میں بڑے وثوق کے ساتھ مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ افرادی قوت اور وسائلِ جنگ بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اصل طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید ہے اور وہ اس قوم کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی ضرورتوں کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی ترجیح بنا لیتی ہے۔ وہ دین کی سربلندی، اس کے نفاذ اور اس کے دفاع کے لیے زندہ رہتے اور شہید ہوتے ہیں۔ ان کا ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے دین کے حوالے سے ہوتا ہے۔ اور کافر چونکہ اس دولت سے محروم ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں بےثبات اور بودا بنا دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرنے سے انکار کرچکے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا اسے انھوں نے ناپسند کیا بلکہ اس کو مٹانے پر تل گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا یہ دی کہ نہتے اور بےسروسامان مسلمانوں کے مقابلے میں ان کی تمام قوت و شوکت دھری رہ گئی۔ ان کی کثرت تعداد ان کے کام نہ آسکی۔ جنگ بدر میں وہ بری طرح ذلت کا شکار ہوئے۔ اور یہ دراصل سزا تھی اس بات کی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا اور اس کو مٹانے پر تل گئے۔ اور دوسری سزا ان کو یہ ملی کہ انھیں دورجاہلیت میں اپنے جن اعمال پر بڑا ناز تھا اور وہ انھیں بہت بڑی نیکی سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے ان کا عرب بھر میں احترام پایا جاتا تھا، مثلاً وہ حرم کا اہتمام اور انتظام کرتے تھے، حجاج کی خدمت بجالاتے تھے، حاجیوں کو کھانا کھلاتے اور انھیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے یہ تمام اعمال ضائع کردیئے کیونکہ اس کے یہاں قبولیت صرف ان اعمال کو ملتی ہے جو اس کی شرائط کے مطابق انجام دیئے جائیں۔ وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کرلیا جائے وہ ممنون ہو کر اسے قبول کرلے۔