46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsروح القرآن

Ayahs 46:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب نہایت اہتمام کے ساتھ اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے اتاری گئی ہے

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الاحقاف : 1، 2) (حٰ ۔ مٓ۔ یہ کتاب نہایت اہتمام کے ساتھ اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ ) مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف چونکہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت اور آپ پر نازل کی جانے والی کتاب تھی۔ اس لیے سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا۔ اور اس شان کے ساتھ ذکر کیا کہ کتاب کی عظمت بھی نمایاں ہوگئی اور نازل کرنے والی ذات کی شان بھی کھل کر سامنے آگئی۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لیے، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے

مَاخَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا اِلاَّ بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّیط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّـآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ ۔ (الاحقاف : 3) (ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لیے، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ) قرآن کریم کے دعوتی نکات میں سے سب سے اہم نکتہ کی وضاحت پیشِ نظر آیت کریمہ میں قرآن کریم کے دعوتی نکات میں سے سب سے اہم نکتہ کو سب سے پہلے اٹھایا گیا۔ اور زمین و آسمان کی تخلیق کو اس پر بطوردلیل پیش فرمایا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا سب سے اہم نکتہ دو نکات پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بےمقصد کھلونا نہیں بنایا بلکہ اس کو حق کے ساتھ یعنی مقصد کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہر مخلوق کی پیدائش کی ایک غایت اور ایک مقصد ہے جسے انجام دینا ہر مخلوق کی ذمہ داری ہے۔ جن و انس کے علاوہ جتنی مخلوقات ہیں ان کو جس مقصد کے لیے پیدا فرمایا گیا ہے ان کے لیے جو مدار مقرر کردیا گیا ہے، ان کے لیے جو جہت ٹھہرا دی گئی ہے اور ان کے لیے جو منزل متعین کردی گئی ہے وہ اس سے انحراف کی طاقت نہیں رکھتے۔ بظاہر ان میں نسبت تخالف کی ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کے قانون کی اطاعت میں اس حد تک کمربستہ رہتے ہیں کہ کوئی دیکھنے والی نگاہ ان کے درمیان تخالف کی نسبت کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ زمین اور آسمان ایک ہی مقصد کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، روشنی اور تاریکی ایک ہی کی اطاعت میں کمربستہ ہیں۔ ہَوا، پانی اور آگ تمام تر مخالف سرشت کے باوجود کیا مجال ہے جو اپنے فرض کی انجام دہی میں تساہل سے کام لیں۔ جن و انس کو بھی اسی طرح مقصدزندگی دے کر اور غایت حیات دے کر پیدا فرمایا گیا۔ البتہ وہ اپنے مقصد کی ادائیگی میں فی الجملہ آزادی سے بہرہ ور فرمائے گئے ہیں اور اسی میں ان کا امتحان ہے۔ جس ذات نے نہایت قدرت اور حکمت کے ساتھ اپنی مخلوقات کو مخصوص مقاصد کے لیے پیدا فرمایا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کبھی ان سے ان کو دیئے ہوئے مقاصد کی بجاآوری سے متعلق سوال نہ کرے۔ اور کبھی اپنی دی ہوئی نعمتوں کے بارے میں یہ نہ پوچھے کہ تم نے شکرگزاری کا ثبوت دیا یا ناشکری کا۔ اور اسی طرح ان کو دی ہوئی آزادی جو ان کے عمل اور فکر کے حوالے سے ہے اس کے بارے میں کبھی سوال نہ کیا جائے کہ تم نے اسے استعمال کرنے میں کہاں تک دیانت کا ثبوت دیا۔ یہی وہ تصور ہے جو قیامت کے تصور کو لازم ٹھہراتا ہے۔ اس اہم نکتہ کا لازمی تقاضا اور اس آیت کریمہ میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جس طرح ہم نے کائنات کو بالحق پیدا کیا ہے، اسی طرح اس کا لازمی تقاضا ہے کہ دنیا اسی طرح برابر چلتی نہ رہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ ایک معین مدت تک کے لیے ہو جس کے بعد اسے ختم کردیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو جس میں نیکی پر صلہ عطا کیا جائے اور برائی پر سزا دی جائے۔ اسی تصور کے تحت قیامت کا ایک دن مقرر کیا گیا۔ البتہ اسے انسانی علم سے مخفی رکھا گیا ہے تاکہ ہر نسل کے لوگ اسے قریب سمجھ کر عمل کے لیے کوشاں رہیں اور کبھی غفلت شعار نہ ہونے پائیں۔ البتہ بعض لوگوں کو اس میں یہ اشکال پیش آتا ہے کہ کیا ایسا ممکن نہ تھا کہ ہر آدمی اپنی موت کے ساتھ ہی اپنی قیامت کے حالات سے گزرے۔ اس کے ایمان و عمل اور اس کے فکرواخلاق کا جائزہ لے کر اسے جزا و سزا کے مراحل سے گزارا جائے۔ لیکن یہ کوتاہ فکری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں انسان کا ہر عمل خواہ نیکی کا ہو یا بدی کا، اپنے اندر متعدی ہونے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ جو شخص نیکی کا تخم بوتا ہے اس کی برکتوں سے صدیوں اور قرنوں تک اولادِآدم مستفید ہوتی ہے۔ اور جو شخص ایک غلط اور گمراہ کن فلسفہ ایجاد کرتا ہے اس کی ضلالت بھی ایک خلق کثیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ساحل قیامت طلوع نہیں ہوگا۔ بالکل اس طرح جیسے جھیل کے کنارے پر کھڑے ہو کر اگر ایک کنکر پھینکا جائے تو چند لہریں پھیلتی ہیں اور یہ لہریں اس وقت تک دراز ہوتی چلی جاتی ہیں جب تک جھیل کے ساحل سے جا کر نہیں ٹکراتیں۔ اب اگر ہر شخص کا اس کی موت ہی کے ساتھ اس کا حساب کتاب لیا جاتا، تو اس کے اعمال سے پیدا ہونے والے نتائج اور اس کے افکار سے نکلنے والے برگ و بار کا حساب کون لیتا۔ اسی طرح یہاں بہت سے اعمال ہیں جن کے کرنے میں ایک شخص نہیں ایک سے زیادہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اور امتدادِزمانہ کے ساتھ اس کے شرکاء کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ جب تک ان سب کو آمنے سامنے کھڑا کرکے اس عمل کا حساب نہ لیا جائے اس وقت تک کسی ایک کے لیے مکمل جواب دینا ممکن نہیں۔ جنگ عظیم بظاہر دو آدمیوں سے شروع ہوئی لیکن اس میں قومیں شریک ہوتی گئیں۔ اب اس جنگ کے نتائج کا جواب دو افراد نہیں بلکہ قوموں کو دینا پڑے گا۔ اشتراکیت اور اشتمالیت، الحاد اور زندقہ، مردو عورت کی ہر سطح پر کامل آزادی اور مساوات بظاہر چند لوگوں کے نظریات ہیں لیکن اس میں جتنے افراد حتیٰ کہ جتنی قوموں نے اپنا رول ادا کیا ہے ان سب کا جواب کوئی ایک کیسے دے سکتا ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے بنیادی نکات ہیں اور ان ہی کے حوالے سے آپ اپنی امت دعوت کو قیامت سے انذار کرتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے وہ برابر اس سے اعراض کررہے ہیں۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کبھی تم نے غور کیا ہے کہ کیا ان چیزوں کو جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین میں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے، لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی آئی ہوئی یا علم کی کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّاتَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِط اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْاَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الاحقاف : 4) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کبھی تم نے غور کیا ہے کہ کیا ان چیزوں کو جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین میں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے، لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی آئی ہوئی یا علم کی کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ ) مشرکین کی کم مائیگی اسلام کے عطا کردہ بنیادی اصولوں کے حوالے سے مشرکین کی کم مائیگی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ باتیں بنانے میں تو بہت تیز ہیں اور بڑھ چڑھ کر علم و دانش کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ان کی علمی بےمائیگی کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں انھوں نے جن قوتوں کو شریک کر رکھا ہے اور اپنے معاملات میں جن سے استمداد کرتے ہیں اور جن کے سہارے کی وجہ سے قیامت جیسی عظیم حقیقت بھی ان کے سامنے اپنی عظمت کھو چکی ہے۔ اور دینی معاملات میں جن کی مخالفت ان کے لیے ایک بہت ڈرائونا خواب بن کر رہ گئی ہے ان کے بارے میں براہ راست سوال کیا جارہا ہے کہ تم نے کبھی اپنے ان خیالات پر غور و فکر کرنے اور تدبر کی نگاہ ڈالنے کی بھی زحمت کی ہے۔ ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ہی نہیں ساری کائنات کا خالق جانتے ہو۔ تمہیں یقین ہے کہ زمین کا یہ بچھونا اسی نے بچھایا ہے اور آسمان کی چھت اسی نے تعمیر کی۔ لیکن اس کے باوجود جب تم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک مانتے ہو تو پھر مجھے بتائو کہ انھوں نے زمین کی کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمان کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شریک بننے کے حقدار تو صرف وہی ہوسکتے ہیں جو آسمانوں کی تخلیق میں کوئی حصہ رکھتے ہوں۔ یا زمین کی کسی چیز کو انھوں نے پیدا کیا ہو۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین کا پیدا کرنے والا زمین کی مخلوقات میں سے کسی کو اپنا شریک بنا لے۔ اور یا آسمانوں کی ہر مخلوق کو تخلیق کرنے والا اور خود آسمان کو وجود دینے والا وہ کسی ایسی قوت کو اپنا شریک وسہیم سمجھ لے جس نے زمین و آسمان کے بنانے میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی کو معلوم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ یہ بات یاد رہے کہ اتنی بڑی بات کو تسلیم کرنے کے لیے ایک ایسی شہادت کی ضرورت ہے جس کا انکار نہ کیا جاسکتا ہو۔ اور وہ شہادت دو ہی طرح کی ہوسکتی ہے یا تو یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے آج تک جو کتابیں نازل فرمائی ہیں ان میں سے کسی کتاب میں تمہارے معبودوں میں سے کسی معبود کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہو اور آپ سے پہلے آئی ہوئی کتابوں میں تورات اور انجیل سب سے معروف ہیں۔ ان میں تلاش کرکے دیکھو کہ کیا کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو معبود بنانے کی اجازت دی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ دین کی بنیادی صداقتوں میں ایک اہم ترین صداقت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف غلط بات منسوب کی جائے۔ اور یا دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ ان کتابوں میں تو ایسی کوئی بات نہ ہو، لیکن وہ عظیم رسول جن کا سب احترام کرتے ہیں اور ان کی اقتداء پر تمام مذاہب متفق ہیں۔ ان کی روایات و آثار میں سے کوئی معتبر روایت ایسی ہم تک پہنچی ہو جس میں ان کے مشرکانہ خیالات کی کہیں تائید ہوتی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اگرچہ اپنے پیچھے کوئی کتاب تو چھوڑ کر نہیں گئے لیکن ان کی بعض روایات تورات، انجیل یا دوسرے صحیفوں میں نقل ہوئی ہوں جن کا علمی طور پر انکار نہ کیا جاسکتا ہو، اس میں اگر شرک کا کوئی جرثومہ موجود ہو تو تسلیم کرلیا جائے گا کہ واقعی شرک کی کوئی بنیاد موجود ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشرکینِ عرب ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ رکھنے کے باوجود اپنے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں رکھتے تھے۔ نہ کتاب کے حوالے سے اور نہ کسی علمی روایت کے حوالے سے، جس کو علمی حوالے کی حیثیت سے قبول کرلیا جاتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہی بات کہتے تھے کہ جس طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اسی پر ہم چلتے رہیں گے۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ یہ طریقہ ان کو کہاں سے ملا۔
Ayahs 46:5–6

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور کون گمراہ ہوسکتا ہے ان لوگوں سے بڑھ کر جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، اور وہ ان کی دعائوں سے غافل ہیں

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے

وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَن لاَّیَسْتَجِیْبُ لَـہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ وَھُمْ عَنْ دُعَـآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ ۔ وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآئً وَّ کَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 5، 6) (اور کون گمراہ ہوسکتا ہے ان لوگوں سے بڑھ کر جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، اور وہ ان کی دعائوں سے غافل ہیں۔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔ ) مشرکین کی تردید میں مسلمہ بات مشرکین کے خیالات کی تردید کے لیے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی جارہی ہے جس کی حقیقت اور صحت پر کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ وہ بات یہ ہے کہ آدمی اپنی تکالیف اور اپنے غموں میں اس ذات کو پکارنے کی کوشش کرتا ہے جس میں کم از کم دو صلاحیتیں ضرور پائی جاتی ہیں۔ 1 جس کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا ہو۔ اور پھر جو اس سے مانگ رہا ہے اس میں اسے دینے کی صلاحیت موجود ہو۔ 2 وہ اپنے پکارنے والوں کے حالات سے ہر وقت واقف ہو۔ اگر یہ دونوں باتیں کسی میں نہ پائی جائیں اور پھر بھی کوئی شخص اپنی مدد کے لیے اسے پکارتا ہے اور یہ یقین بھی رکھے کہ میری پکار رائیگاں نہیں جائے گی، تو ہر جاننے والا شخص یہی کہے گا کہ اس شخص سے بڑھ کر گم کردہ راہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یا تو اس کے دماغ میں اختلال ہے اور یا یہ فریب خوردگی کا شکار ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ہوش و خرد رکھنے والا شخص ایسی غلطی کا ارتکاب کرے۔ اس آیت کریمہ میں یہی بات مشرکین سے فرمائی گئی ہے کہ تم جن قوتوں کو پکارتے ہو پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں، تم نے بعض قوتوں کا وجود فرض کر رکھا ہے اور بغیر کسی وجہ کے تم نے اپنا تعلق ان سے جوڑ رکھا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر گمراہی یہ کہ تمہیں یقین ہے کہ وہ تمہاری فریاد کو سنیں گے اور اس کا تدارک کریں گے جبکہ ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ پتھر کے بتوں کے بارے میں تو ہر شخص سمجھتا ہے کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اجرامِ فلکی اللہ تعالیٰ کی بندگی کے اس حد تک پابند ہیں کہ وہ اس سے ہٹ کر کسی بات سے واقف نہیں۔ اور جنات اور ملائکہ کے بارے میں تم نے جو تصورات باندھ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا میں تو تمہاری کسی فریاد کا جواب ان کی طرف سے تمہیں نہیں پہنچے گا لیکن قیامت کے روز جب تمہیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع ملے گا تو تمہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ وہ تمہاری بندگی اور عبادت سے نفرت اور دشمنی کا اظہار کریں گے۔ اور صاف صاف انکار کریں گے کہ ہم نے انھیں کبھی اپنی بندگی کا حکم نہیں دیا۔ انھوں نے اپنے طور سے چند مفروضے قائم کیے اور اس پر زندگی میں بہکتے چلے گئے۔ قرآن کریم نے تفہیم کے لیے بعض انبیائے کرام کے واقعات بھی بیان کیے ہیں تاکہ ان کی قوموں کو اپنی گمراہی کا احساس ہوسکے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں نام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ کا ہے۔ جس طرح عیسائیوں نے ان کی طرف مشرکانہ خرافات منسوب کی ہیں وہ برسرمجلس ان میں سے ایک ایک بات کا انکار کریں گے۔ اور قرآن کریم نے پوری تفصیل سے ہمیں اس سے آگاہ کیا ہے تاکہ امت محمدیہ اس طرح کی آلودگیوں سے محفوظ رہے۔ قرآن کریم کو بےاثر کرنے کا ایک مکروہ طریقہ
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

جب ان لوگوں کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے توہ وہ حق کی بابت جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ لا ھٰذَا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الاحقاف : 7) (جب ان لوگوں کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے توہ وہ حق کی بابت جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ ) قیامت کے دن ان مشرکین اور معاندین کے ساتھ جو گزرنے والی ہے اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا حال یہ ہے کہ آج جب قرآن کریم ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں جس کی ایک ایک بات سورج کی طرح روشن ہے۔ اور جس کی خوبیوں کا عالم یہ ہے کہ اس جیسا کلام آج تک انسان کے کانوں نے نہیں سنا۔ کسی شاعر، کسی خطیب اور کسی بڑے سے بڑے ادیب کے کلام کو بھی قرآن کریم کی بےمثل فصاحت و بلاغت، اس کے الفاظ کے حُسنِ انتخاب، اس کے دروبست کی آرائش و زیبائش اور اس سے بننے والے فقروں کی چستی اور شائستگی اور دلوں کو گرما دینے والے اندازِ بیان سے کوئی مناسبت نہیں۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ افصح العرب ہونے کے باوجود جو زبان بولتے تھے اسے بھی قرآن کریم کی زبان سے کوئی نسبت نہیں۔ اور قرآن کریم کی یہ خوبیاں، یہ صحیح ہے کہ ہر کہ و مہ کی گرفت میں تو آنے والی نہیں تھی، لیکن عام آدمی بھی اس کی وجدآور خطابت سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے بجا طور پر ہر شخص ایک دوسرے سے پوچھتا تھا کہ اگر محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں تو پھر ایسا بینظیر کلام ان کی زبان پر کیسے جاری ہوگیا۔ اور ایسے حیرت انگیز مضامین ان کے دماغ سے کیسے ابلنے لگے۔ اور ایسے حکمت سے بھرپور باتیں ان کا سینہ کس طرح اگلنے لگا۔ اس سے تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات سے ان کا کوئی غیرمعمولی تعلق ہے۔ قریش کے عمائدین جب عام آدمی پر بھی قرآن کی یہ تسخیروتأثیر دیکھتے تھے تو وہ اس کا کوئی جواب دینے کی بجائے یہ کہہ کر انھیں ٹالنے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ درحقیقت جادو کا کرشمہ ہے۔ اس کی تأثیر خدائی کلام ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں اسے محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دیجیے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے، وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم بناتے ہو اور وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور مہربان ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ط قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَلاَ تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط کَفٰی بِہٖ شَھِیْدًا م بَیْنِیْ وَبَیْنَـکُمْ ط وَھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔ (الاحقاف : 8) (کیا یہ لوگ کہتے ہیں اسے محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دیجیے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے، وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم بناتے ہو اور وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور مہربان ہے۔ ) مخالفین کے اتہامات کا جواب مخالفین کے اعتراضات میں سے سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ نے خود لکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اور اسے وہ افترا کے نام سے یاد کرتے تھے قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے نہایت تعجب اور برہمی کا اظہار کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی اور نبوت کے بعد کے بھی چند سال آنحضرت ﷺ نے تمہارے درمیان میں کر گزارے۔ آپ کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کا ہر صفحہ تم بڑی آسانی سے پڑھ سکتے ہو۔ آپ کا بچپن، آپ کا لڑکپن، آپ کا آغازشباب، آپ کی بھرپور جوانی، آپ کی تجارت، آپ کی شادی، آپ کی اولاد، کوئی چیز بھی ان سے مخفی نہ تھی۔ اور ان تمام ادوار کے حوالے سے تمام اہل مکہ اس بات پر اتفاق رکھتے تھے کہ صدق و دیانت، عہدوپیمان کی پابندی، سیرت و کردار کی پاکیزگی، عزائم کی بلندی، ہمدردی و غمگساری کے جذبات، ان میں سے کسی بات میں بھی اہل مکہ میں دو رائے نہیں پائی جاتی تھیں۔ ہر شخص آپ کو صادق اور امین کہہ کر پکارتا۔ اور مکہ بھر میں کوئی شخص آپ سے زیادہ ہر دلعزیز اور عزت و تکریم کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ باایں ہمہ ان کا یہ الزام کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا جھوٹ باندھا ہے کہ خود ایک کتاب لکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردی ہے۔ یہ بات کہنے والوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ جس کی زندگی کے بارے میں تم اتنے بلند خیالات رکھتے ہو اور پھر اس پر اتنا گھٹیا الزام بھی لگاتے ہو۔ چناچہ اس پر نفرت انگیز تعجب کا اظہار کرنے کے بعد اس بات کو اس قابل نہیں سمجھا کہ دلائل سے اس کا جواب دیا جائے۔ کیونکہ الزام لگانے والے خود جانتے تھے کہ ہماری بات میں کوئی صداقت نہیں۔ چناچہ اس سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے یہ کہیے کہ اگر بقول تمہارے میں نے واقعی اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا افترا کیا ہے تو پھر یقین جانو کہ باوجود اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آئے گی تو سب مل کر بھی مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا نہیں سکو گے۔ اس سے صرف اس جرم کی شناعت کو ظاہر کرنا پیش نظر ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی فرمائی کہ تم جس طرح بےروک ٹوک بولنے کے عادی ہوگئے ہو اور رائی کو بربت بنادینا تمہارے لیے معمولی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تم نے مجھ پر افترا جیسا الزام لگایا ہے، لیکن یہ بات کبھی نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ان سخن سازیوں اور حد سے بڑھی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ اس لیے میں تمہارے اس الزام کو اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کرتا ہوں۔ تم ایک بےثبوت اور بےدلیل بات کہہ رہے ہو۔ ایسے موقع پر ہر شریف آدمی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتا اور وہی بات میں بھی کہتا ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ ہی گواہی کے لیے کافی ہے۔ تمہاری اس طرح کی باتوں سے تو اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھنا چاہیے تھا لیکن وہ تمہیں سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ آخری دم تک وہ سنبھلنے کا موقع دیتا ہے اور توبہ کے امکانات کو کھلا رکھتا ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ ان سے کہیے کہ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے، اور میں تو صرف ایک صاف صاف آگاہ کردینے والا ہوں

قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَـآ اَدْرِیْ مَایُفْعَلُ بِیْ وَلاَ بِکُمْ ط اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَایُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَـآ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الاحقاف : 9) (آپ ان سے کہیے کہ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے، اور میں تو صرف ایک صاف صاف آگاہ کردینے والا ہوں۔ ) ایک اور اعتراض کا جواب قریش اور دیگر مشرکین کے نزدیک آپ کی نبوت کے انکار کے جو اسباب تھے ان میں بڑا سبب یہ تھا کہ آپ ہماری طرح کے ایک انسان ہیں جو کھاتا پیتا ہے، بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے، کاروبار کرتا ہے، اس کے بیوی بچے ہیں، اس کی وہی ضروریات ہیں جو باقی انسانوں کی ہیں، کوئی غیرمعمولی بات اس میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ وہ جب لوگوں تک اپنی نبوت کا پیغام پہنچاتا ہے تو کوئی فرشتہ اس کے ہمراہ نہیں ہوتا جو لوگوں کو اس کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کرے اور ایمان نہ لانے کی صورت میں انھیں تنبیہ کرے۔ نہ وہ اپنے پاس کوئی غیرمعمولی خزانے رکھتا ہے جن سے جسے چاہے نواز دے۔ اور نہ اس کے ایسے غیرمعمولی معجزات ہیں جو بنجر اور پتھریلی زمینوں سے لہلہاتے ہوئے نخلستان اٹھا دے۔ تو ایسے عام سے ایک شخص کو آخر نبی یا رسول کیسے تسلیم کرلیا جائے۔ اور نہ اس کے پاس کے غیب جاننے کا کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ لوگوں کے مستقبل سے متعلق غیرمعمولی سوالات کا جواب دے سکے۔ تو پھر اس کی برتری کو کس طرح تسلیم کرلیا جائے۔ قرآن کریم نے نہایت اعجاز اور ایجاز کے ساتھ جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں نے کب تمہارے سامنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں ایک نرالا رسول بن کر آیا ہوں۔ مجھے رسول ہونے کا دعویٰ ضرور ہے لیکن بالکل ویسا رسول جیسے اس سے پہلے رسول گزرے ہیں۔ کیا اگر میں انسان ہوں تو حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) جیسے لوگ انسان نہیں تھے۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ کیا وہ میری طرح کھاتے پیتے نہیں تھے، کیا بالکل میری طرح ان کے بیوی بچے نہیں تھے، کیا بالکل میری طرح ان کی قرابت داریاں نہیں تھیں، کیا وہ لوگوں کے پاس علم وحی لے کر آئے تھے یا مستقبل کی غیب کی خبریں لے کر۔ لوگ ان سے دنیوی اور اخروی فلاح و کامرانی کی باتیں سیکھتے تھے، علمِ غیب سے متعلق سوالات تو نہیں کرتے تھے۔ تو پھر تم نے میری رسالت کے لیے یہ خودساختہ اصول کہاں سے اختیار کرلیے۔ میں بالکل پہلے رسولوں کی طرح اللہ تعالیٰ کا آخری رسول بن کر آیا ہوں۔ مجھے غیب دانی کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تمہارے طرح بیخبر آدمی ہوں۔ وہ باتیں جو دنیوی اور اخروی طور پر انسان کی فلاح کی ضامن ہیں اور جس سے انسانیت توانا ہوتی، انسانی اقدار کو استحکام ملتا اور انسانی زندگی صحیح نہج پر استوار ہوتی ہے، میں ان کا سب سے زیادہ علم لے کر آیا ہوں۔ میں جس طرح سیدالاولین اور آخرین ہوں، اسی طرح اولین و آخرین میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔ باایں ہمہ میں اپنے طرف سے کچھ نہیں کہتا، میرے علم کا سرچشمہ وحی خداوندی ہے۔ وحی کے ذریعے جو بات بھی مجھے بتادی جاتی ہے وہ میں انسانوں تک پہنچا دیتا ہوں۔ میں خود بھی اسی کی پیروی کرتا ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی پیروی کا حکم دیتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل کو میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ جب بھی ان کے بارے میں وحی خداوندی نازل ہوگی تو میں ان باتوں کے بارے میں جان پائوں گا۔ کیونکہ اس کے سوا میرے پاس جاننے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ شیخ سعدی نے اسی بات کو سمیٹتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا : علم غی بےکس نمی داند بجز پروردگار ہر کسے گوید کہ می داند ازو باور مداد مصطفیٰ ہرگز نہ گفتے تانہ گفتے جبرائیل جبرائیل ہرگز نہ گفتے تانہ گفتے کردگار بعض مفسرین نے آیت مذکورہ کا حاصل بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ آنحضرت ﷺ سے درحقیقت یہ بات کہلوائی جارہی ہے کہ میں امورغیبیہ کے علم محیط میں اللہ تعالیٰ کی طرح نہیں اور ان کے علم میں خودمختار بھی نہیں۔ بلکہ مجھے بواسطہ وحی خداوندی جو کچھ بتلا دیا جاتا ہے وہ میں ذکر کردیتا ہوں۔ تفسیر روح المعانی میں اس قول کو نقل کرکے لکھا ہے کہ میرا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آخرت اور دنیا میں پیش آنے والے اہم معاملات سے آپ کو بذریعہ وحی باخبر نہیں کردیا گیا۔ رہا اشخاص و افراد کے جزوی شخصی حالات و معاملات کا علم نہ کوئی کمال ہے اور نہ ان کے نہ ہونے سے کمال نبوت میں کوئی فرق آتا ہے۔ بعض حضراتِ مفسرین کا خیال یہ ہے جسے قرطبی نے بھی ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک آیت میں اِلاَّ بمعنی استثناء نہیں۔ اس لیے نفی علم غیب کو اموردنیا کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے۔ کیونکہ آخرت کے متعلق تو واضح طور پر آپ کو بتلا دیا گیا ہے کہ کافر دوزخ میں ہوں گے اور مومن جنت میں جائیں گے۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ اس وقت کیا ہوگا اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا، اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسے کلام پر گواہی بھی دی ہے سو وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ وَشَھِدَ شَاہِدٌ مِّنْ م بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ فَاٰ مَنَ وَاسْتَـکْبَرْتُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْـقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 10) (اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ اس وقت کیا ہوگا اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا، اور تم نے اس کا انکار کردیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسے کلام پر گواہی بھی دی ہے سو وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ) نفع و ضرر کے حوالے سے سوال اور ایک حوالے سے تاکید جو شخص دلائلِ آفاق وانفس کو سمجھنے سے انکار کرتا ہے اور مشاہداتی حقیقتیں بھی اس پر اثرانداز ہونے سے قاصر رہتی ہیں تو پھر اس کی اصلاح کی آخری کوشش اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اسے نفع و ضرر کے حوالے سے فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ کیونکہ نفع و ضرر کا حوالہ ایک ایسا حوالہ ہے جو انسانی زندگی میں ہر سطح کا آدمی اختیار بھی کرتا ہے اور اس کا گیا گزرا ذہن بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ چناچہ اسی حوالے کے پیش نظر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ! عقل اور ذہن کے ان مفلسوں سے یہ بات پوچھئے کہ تم ہمیشہ زندگی میں نفع کے پہلو کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ اس لیے میں بھی اسی حوالے سے تم سے کہتا ہوں کہ اگر قیامت کے دن یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آگئی کہ جس قرآن کے دنیا میں منزل من اللہ ہونے سے انکار کرتے رہے وہ تو واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر نازل کیا گیا تھا، تو پھر تمہارا کیا بنے گا ؟ کیونکہ تم تو قدم قدم پر اس کا انکار کرچکے ہو۔ اور انکار کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہیں جہنم میں پھینک دیا جائے۔ تو پھر سوچ لو کہ آج کا یہ انکار کل کو کس قدر تمہاری رسوائی کا سبب ہوگا۔ اور تم کیسی ابدی سزا میں مبتلا ہوجاؤ گے جس سے نکلنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اور اس بات کو مزید مؤکد کرنے کے لیے ایک حوالہ بھی دیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جن کے اکسانے پر تم بار بار قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے سے انکار کرتے ہو، ایک گواہ بالکل اسی جیسی کتاب کی نہ صرف گواہی دے چکا ہے بلکہ اس پر ایمان بھی لا چکا ہے۔ لیکن تم اپنے تکبر پر اڑے ہوئے ہو۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس شاہد اور گواہ سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے حضرت عبداللہ ابن سلام ( رض) کو مراد لیا ہے۔ کیونکہ یہودی علماء میں یہ ایک ایسے مستحکم علمی مرتبے کے مالک تھے کہ ان کے معاصرین کو بھی اس کا اعتراف تھا۔ یہ سب سے پہلے مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے۔ جب حضور ﷺ مدینہ طیبہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے، یہ سفر میں تھے۔ واپس آئے تو آپ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی بےساختہ پکار اٹھے، یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں ہوسکتا۔ یہ روایت بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور حضرت عبداللہ ابن سلام ( رض) کا ایمان لانا، مدینے میں پیش آنے والا واقعہ ہے کا ذکر بغیر کسی قرینے کے مکی سورة میں کیے جانا ناقابلِ فہم معلوم ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سعد ( رض) نے یہاں شاہد سے حضرت عبداللہ ابن سلام ( رض) کو مراد لیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آیت کریمہ میں شاہد سے آپ کی ذات مراد ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کا مضمون حضرت عبداللہ ابن سلام ( رض) پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ اور اسی انطباق کو صحابہ کرام شان نزول سے تعبیر کردیتے تھے۔ بعض مفسرین نے سورة الشعراء کے آخری رکوع کی آیت اَوَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ سے استشہاد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہود میں علماء کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی تھی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی نبوت اور آپ کی علامات کا مشاہدہ کرکے آپ پر ایمان لانے کا اعلان کیا تھا۔ چناچہ یہاں شاہد سے وہی علماء مراد ہیں۔ لیکن جو بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس سے سیدنا مسیح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ صاحب تدبر قرآن نے اس قول کی تائید میں چند وجوہ بھی بیان کی ہیں ہم ان سے استفادہ کے لیے اسے یہاں نقل کرتے ہیں : 1 پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ میں آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ آپ کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ ﷺ آخری نبی بھی ہیں اور آخری رسول بھی۔ اسی وجہ سے اس ” آنے والے “ سے آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ انجیلوں کا مطالعہ کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ جس طرح حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت مسیح کی بشارت دینے کے لیے مبعوث فرمایا اسی طرح حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت سے پہلے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا کہ وہ آنے والے کی راہ صاف کریں۔ انجیلوں میں اصل مضمون جو گونا گوں اسلوبوں سے سامنے آتا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی بشارت ہی ہے۔ استاذ امام نے خاص اس موضوع پر انگریزی میں ایک رسالہ لکھا ہے کہ انجیلوں کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جس آسمانی بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کی جو تمثیلیں بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر آنحضرت ﷺ اور قرآن کی دعوت ہی پر منطبق ہوتی ہیں۔ 2 دوسری اہم چیز یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بشارت اگرچہ تورات اور زبور وغیرہ میں بھی ہے جن کے حوالے ہم پچھلی سورتوں میں نقل کر آئے ہیں لیکن حضرت مسیح (علیہ السلام) نے نام کی تصریح کے ساتھ آپ کی بشارت دی ہے۔ سورة صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے : وَاِذْقَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ م بَعْدِ اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ط فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الصف : 6) (اور یاد کرو جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کی جانب سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں، مصداق بن کر ان پیشگوئیوں کا جو میرے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور خوش خبری دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہوگا، پس جب وہ کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے) ۔ قرآن نے اس آیت میں جس بشارت کا حوالہ دیا ہے وہ انجیلوں میں موجود ہے۔ بعض انجیلوں میں تو آنحضرت ﷺ کے نام نامی کی تصریح بھی بار بار وارد ہوئی ہے۔ مثلاً برناباس کی انجیل میں… عیسائی اسی وجہ سے اس انجیل کو مستند نہیں مانتے لیکن اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا، دوسری انجیلوں میں بھی آپ کا حوالہ موجود ہے۔ اگرچہ نام غائب کرکے صرف صفات کا حوالہ باقی رہنے دیا گیا ہے اور ترجموں کے ذریعہ سے ان صفات کو بھی مسخ و محرف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جو شخص ایمانداری کے ساتھ ان پر غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی دوسرا ان کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة صف کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم مفصل بحث کریں گے۔ 3 تیسری چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پیشگوئیوں میں قرآن، قرآن کی دعوت، اس دعوت کے مزاج، دنیا پر اس دعوت کے غلبہ اور اس غلبہ کے مراحل و مدارج کا نہایت صاف الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم بعض چیزوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ آگے سورة فتح کی آیت 29 کے تحت بھی ہم اس مسئلہ پر بحث کرنے والے ہیں۔ قارئین کے اطمینان کے لیے بعض حوالے یہاں بھی ہم نقل کرتے ہیں۔ ” یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے ؟ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔ اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ “ (متی : باب 21: 41۔ 44) ” اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے “ (یوحنا : باب 14: 17) ” اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ “ (یوحنا : باب 14: 31) اسلامی دعوت کے تدریحی فروغ کی طرف بھی متعدد تمثیلوں میں اشارے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تمثیل جس کی طرف سورة فتح میں قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے، یہ ہے۔ اس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔ “ (متی : باب 13: 31۔ 32) 4 چوتھی اہم چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس واضح شہادت کا یہ اثر تھا کہ عیسائیوں میں سے جو لوگ اصل نصرانیت پر قائم رہے یعنی ان کے خلیفہ صادق شمعون کے پیرو، وہ قرآن کے نزول کے بعد بڑے جوش و خروش سے اس پر ایمان لائے اور قرآن نے نہایت شاندار الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے۔ سورة مائدہ میں اس گروہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّالنَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الْیَھُوْدَوَالَّذِیْنَ اَشٰرَکُوْا وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مُوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَانًاوَّاَنَّھُمْ لاَ یَسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ وَاِذْ اسَمِعُوْا مَـآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (المائدۃ : 82۔ 83) (تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے اور اہل ایمان کی محبت میں سب سے قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں علماء اور راہب ہیں اور وہ تکبر کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ لوگ جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو حق کو پہچان لینے کے سبب سے تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ہم ایمان لائے تو ہم کو تو حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ) ۔ تدبر قرآن میں ان آیات کی تفسیر غور سے پڑھ لیجئے۔ نصاریٰ کی تاریخ سے لوگ اچھی طرح واقف نہیں ہیں اس وجہ سے ان آیات کا صحیح مفہوم ان پر واضح نہیں ہوسکا۔ یہ پال کے پیروئوں کی تعریف نہیں ہے بلکہ شمعون کے پیروئوں کی ہے۔ پال کے پیرو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے بھی نہیں۔ وہ اس لفظ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انھوں نے اپنے لیے مسیحی کا لفظ اختیار کیا ہے۔ شمعون کے پیرو بیشک اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے تھے۔ یہ لوگ اس شہادت کے حامل رہے جو سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے آخری رسول کی بعثت کے باب میں دی تھی اور جب وقت آیا تو انھوں نے پورے جوش و خروش اور نہایت سچے جذبہ ایمانی کے ساتھ اس کی شہادت دی۔ اسی چیز کی طرف رَبَّنَا اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَکے الفاظ اشارہ کررہے ہیں۔ یہ لوگ اس تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے جس میں پال اور اس کے پیرو مبتلا ہوئے۔ اس وجہ سے اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوئے۔ انہی لوگوں کے باب میں حضرت مسیح (علیہ السلام) نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ” مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔ “ اوپر سورة مائدہ کی آیت میں وَاَنَّھُمْ لاَ یَسْتَـکْبِرُوْنَ کے الفاظ سے ان کے اسی وصف کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت ایک نوعیت ایک عام شہادت سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی بعثت ہی خاص اس مقصد سے ہوئی تھی کہ وہ آپ ﷺ کی راہ صاف کریں اور خلق کو اس آسمانی بادشاہی کی بشارت دیں جس کا آپ ﷺ کے ذریعہ سے ظہور ہونے والا تھا۔ اس حوالہ سے قرآن نے مشرکین پر بھی حجت قائم کی ہے اور اہل کتاب پر بھی۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں قریش کو اہل کتاب کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگئی تھی۔ اس وجہ سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ قرآن نے یہاں یہی دکھایا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے جنون میں آج یہودی اور مسیحی جو حرکتیں چاہیں کریں لیکن بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد اس حق کی نہایت آشکارا الفاظ میں شہادت دے چکا اور اس پر ایمان لاچکا ہے۔ اس کے ایمان اور اس کی شہادت کے بعد جو لوگ محض استکبار کی بنا پر سا حق کی مخالفت کررہے ہیں وہ اپنا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان لانا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے، اور چونکہ انھوں نے اس سے ہدایت حاصل نہ کی، تو اب وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْکَانَ خَیْرًامَّا سَبَقُوْنَـآ اِلَیْہِ ط وَاِذْ لَمْ یَھْتَدُوْا بِہٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ۔ (الاحقاف : 11) (اور جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان لانا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے، اور چونکہ انھوں نے اس سے ہدایت حاصل نہ کی، تو اب وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ ) منکرین کے تکبر کی ایک مثال آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین آپ کی دعوت برحق کے باطل ہونے پر جو دلائل دیتے تھے اور جن سے عوام الناس کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے عام طور پر دو طرح کے لوگ ہیں، یا تو انتہائی غریب اور پسماندہ طبقے کے لوگ جنھیں عرب معاشرے میں کوئی مقام و مرتبہ حاصل نہیں اور ان ہی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں تو رکھتے ہیں لیکن غلام ہونے کی وجہ سے انھیں فیصلہ کرنے کی آزادی میسر نہیں۔ اور یا پھر آپ پر ایمان لانے والے نوجوان طبقے کے لوگ تھے۔ جن میں قریش کے بڑے بڑے خاندانوں کے چشم و چراغ بھی تھے۔ لیکن عرب معاشرے میں جوانوں کو قوت کا سامان تو سمجھا جاتا تھا لیکن ان کی فہم و فراست اور اصابتِ رائے پر اعتماد نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ کہا جاتا تھا کہ ابھی ان پر جوانی کے اثرات غالب ہیں، انھوں نے زندگی کے تلخ تجربات کا مزہ نہیں چکھا۔ تیسرا طبقہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین پر مشتمل تھا۔ ان میں ادھیڑعمر کے لوگ بھی تھے اور عمررسیدہ بھی۔ ان میں باغات کے مالک بھی تھے اور وسیع کاروبار رکھنے والے تاجر بھی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی فہم و فراست پر اعتماد کیا جاتا تھا۔ اور ہر مشکل معاملے میں ان سے مشورہ لیا جاتا اور ان کی رائے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ چناچہ اسی حوالے سے وہ یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ ہم چونکہ صاحب بصیرت لوگ ہیں زندگی کے تجربات ہمارے ہمرکاب ہیں، معاشرے میں ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی ایسی بات جسے ہم قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو وہ یقینا ایسی ہوگی جو علم و دانش کے معیار پر پوری نہیں اترتی ہوگی۔ اور انسانی تجربہ اس کی افادیت اور عظمت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہوگا۔ بنابریں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دونوں طبقات جن کی فہم و فراست پر اعتماد نہیں کیا جاتا وہ اگر کسی دعوت کو قبول کرلیتے اور کسی حقیقت کو زندگی کا سرمایہ بنا لیتے ہیں تو یقینا ان سے بھول ہوئی ہے۔ وہ فریب خوردگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ اسلام میں اگر ایسی ہی عظمت ہوتی تو یقینا اس کا مالدار اور بااثر طبقہ اسے قبول کرتا اور معاشرے کے غیرمؤثر طبقات اس کی مخالفت کرتے۔ لیکن اب جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام میں ایسی کوئی اپیل نہیں جس کی وجہ سے اسے قبول کیا جاسکے۔ اور اس میں زندگی کے مسائل کا ایسا حل نہیں جس سے انسان کو اپنے دکھوں کا مداوا مل سکے۔ چناچہ یہ وہ دلیل تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اب جبکہ قریش اور دیگر سرورآوردہ لوگوں نے ہدایت حاصل کرنے کی بجائے گمراہی کا راستہ اختیار کیا ہے تو وہ اپنے فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یقینا یہ بات بھی کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ کے لائے ہوئے دین میں نہ صرف یہ کہ کوئی خیر نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک پرانا جھوٹ ہے جو قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ہر دور میں کچھ لوگ اسی قسم کے ڈراوے سنا کر لوگوں پر اپنی دھونس جماتے رہے ہیں۔ اگر ان کی بات میں کچھ بھی سچائی ہوتی تو جس قیامت کا وہ بار بار حوالہ دیتے رہے ہیں یا جس عذاب آنے کی دھمکی دیتے رہے ہیں آخر وہ آج تک وقوع پذیر کیوں نہیں ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ محض لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک کوشش ہے تاکہ کمزور طبیعتوں کے لوگ ان کی ان باتوں سے متأثر ہو کر ان کی دعوت کو قبول کرلیں۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر موجود ہے، اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور بشارت ہے خوبکاروں کے لیے

وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًاوَّرَحْمَۃً ط وَھٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا صلے ق وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الاحقاف : 12) (اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر موجود ہے، اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور بشارت ہے خوبکاروں کے لیے۔ ) منکرین کے جواب میں تورات سے استشہاد آنحضرت ﷺ کی دعوت میں پیش کیے جانے والے اہم نکات کو اشرارِقریش نے اوپر والی آیت کریمہ میں پرانا جھوٹ قرار دیا ہے، اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی توحید، اپنی اور قرآن کریم کی صداقت، اس کا کلام اللہ ہونا، اور آخرت کی حقیقت کو دلائل کے ساتھ آپ پیش فرما رہے ہیں اور مشرکین کو چونکہ قیامت کے آنے کا یقین نہیں، اس لیے قرآن کریم بار بار اس بنیادی تصور کو ان کے دل و دماغ میں راسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ اس کے رسول کے بغیر انسانی زندگی میں تبدیلی کے عمل کا آغاز نہیں ہوتا۔ چناچہ ان حقائق کے حوالے سے یہاں یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ اگر یہ سب باتیں جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں تو پھر جتنی کتابیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اور جتنے رسولانِ گرامی جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر پیغمبر بھی شامل ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تشریف لائے ہیں تو وہ تمام تر اسی جھوٹ کی دعوت ہی پر تو مشتمل ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہر پیغمبر نے اسی حقیقت کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔ اہل عرب کو اگر ملت ابراہیمی پر اعتماد ہے اور بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی دعوت کی صداقت پر یقین ہے تو پھر وہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت کو پرانا جھوٹ کیسے قرار دے سکتے ہیں بلکہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اسی طرح انسانوں کے لیے امام اور رحمت ہے جیسے تورات اور انجیل، اور وہ رسولانِ گرامی جن پر یہ کتابیں نازل ہوئی تھیں۔ کیونکہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے متعلق پیشگوئیاں موجود تھیں، تو آپ کی تشریف آوری درحقیقت ان پیشگوئیوں کا مصداق ہے۔ اور آپ نے تشریف لاکر ان پیشگوئیوں میں سے ہر پیشگوئی کی تصدیق کردی۔ اور جہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق ہے وہ تو آئے ہی آنحضرت ﷺ کی نبوت کا راستہ صاف کرنے کے لیے تھے۔ اور ان پر نازل ہونے والی کتابیں یعنی تورات اور انجیل ان کے ماننے والوں کے لیے امام بھی تھیں اور رحمت بھی۔ امام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب دنیا میں رہنمائی کرتی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جس طرح امام کی اقتداء لازمی ہے اسی طرح زندگی کے معاملات میں اس کتاب کی اقتداء بھی واجب ہے۔ اگر اس کی یہ حیثیت باقی نہ رہے تو خواہ زبان سے اس کا کتنا بھی احترام کیا جائے، لیکن اس کی اطاعت کے بغیر اس احترام کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر قرآن کریم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و احسان یہ ہے کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے تاکہ اہل عرب اس کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ اور مزید یہ بات بھی کہ اس میں تورات کی اس پیشگوئی کی تصدیق ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آخری رسول امیوں میں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا۔ اور بنی اسماعیل کی زبان چونکہ عربی تھی اس وجہ سے ان کی زبان کا حوالہ گویا خود ان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اور آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اس کتاب کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں نے شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جائیں۔ اور جو لوگ قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں اور اس کی ہدایت کے مطابق انھوں نے زندگی گزاری ہے ان کے لیے خوشخبری اور بشارت ہے۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پکار اٹھے کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ اہل جنت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : 13، 14) (بےشک جو لوگ پکار اٹھے کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہی لوگ اہل جنت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔ ) محسنین کے کردار کی وضاحت اوپر والی آیت کریمہ میں محسنین کا ذکر ہوا ہے اور ان کے لیے بشارت کا بھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دونوں کی وضاحت کی گئی ہے کہ محسنین وہ لوگ ہیں جو ہر طرح کے خوف میں مبتلا ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رب تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ نہ وہ کسی اور کے سامنے سر جھکاتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو قبلہ مقصود سمجھتے ہیں، نہ وہ اس کے سوا کسی کی حقیقی حاکمیت کے قائل ہیں، اور نہ کسی کے سامنے یہ سمجھ کر دست سوال دراز کرتے ہیں کہ وہی وسائلِ رزق کا مالک ہے۔ اور پھر ان خیالات کو اپنے دل تک محدود نہیں رکھتے بلکہ نامساعد حالات اور مخالفانہ ماحول میں بھی نہایت جرأت کے ساتھ ان کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اگر اس کی قیمت ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ ہر قیمت کی ادائیگی پر استقامت دکھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محسنین کہلانے کے مستحق ہیں اور صحابہ کرام ایسے ہی تھے۔ ان کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ نہ ان کے لیے مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہیں گے اور جنت کے مالک ہوں گے۔ اور سب سے بڑے اعزاز کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں جنت جیسا انعام دیتے ہوئے اسے ان کے اعمال کا صلہ قرار دے گا۔