46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsروح القرآن

Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

انھوں نے کہا، اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی۔ اور یہ کتاب حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے

قَالُوْا یٰـقَوْمَنَـآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰبـًا اُنْزِلَ مِنْ م بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَھْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الاحقاف : 30) (انھوں نے کہا، اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی۔ اور یہ کتاب حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ) جنوں کی اپنی قوم کو دعوت جن جنات نے طائف میں آنحضرت ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا، انھوں نے اپنی قوم کے پاس پہنچ کر فریضہ ٔ انذار ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف کرایا کہ یہ وہ مکمل کتاب ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ امرواقعہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد صاحب شریعت نبی صرف نبی کریم ﷺ ہیں۔ باقی جتنے نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے پیرو تھے۔ اسی طرح قرآن سے پہلے اصل کتاب کی حیثیت صرف تورات کو حاصل رہی ہے دوسرے آسمانی صحیفے اسی کے ضمیمے ہیں۔ اور دوسری بات انھوں نے قرآن کریم کے تعارف میں یہ کہی کہ یہ وہ کتاب ہے کہ تورات نے آخری آنے والے نبی کے بارے میں جو پیشگوئیاں کیں اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یہ کتاب اور جس پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ دونوں ان پیشگوئیوں کے مصداق ہیں۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات نے ہمیں جس حق کی ہدایت کی اور جو سیدھی راہ دکھائی تھی جس کی بنیاد عقیدہ توحید پر تھی یہ کتاب بھی اسی حق کی طرف اور اسی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
Ayahs 46:31–32

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو، اور اس پر ایمان لائو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے گا

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا، وہ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس کے لیے اس کے بالمقابل کوئی دوسرے مددگار ہیں، یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

یٰـقَوْمَنَـآ اَجِیْـبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ وَمَنْ لاَّیُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَلَیْسَ لَـہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئُ ط اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الاحقاف : 31، 32) (اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو، اور اس پر ایمان لائو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا، وہ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس کے لیے اس کے بالمقابل کوئی دوسرے مددگار ہیں، یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ ) قبولیتِ دعوت کا فائدہ اور عدم قبول کا نقصان قرآن کریم کے تعارف کے بعد انھوں نے اصل دعوت اپنی قوم کے سامنے رکھی کہ اللہ تعالیٰ کے اس داعی کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کا بھی یہی پیغام تھا اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کا بھی یہی پیغام ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رسول انسانوں میں انقلاب برپا کرنے کے لیے مبعوث ہوتا ہے اور اس پر نازل ہونے والی کتاب اپنے اندر وہ قانون اور وہ آداب لے کر آتی ہے جس کے مطابق اس بدلنے والی قوم نے بدلنا ہوتا ہے اور نئی زندگی کے طوراطوار اختیار کرنے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر اس دعوت کو قبول نہ کیا جائے اور اس پر دل کی گہرائیوں سے ایمان نہ لایا جائے تو انسان اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوسکتا۔ نہ اس کے خیالات کا جمود ٹوٹتا ہے نہ اس کے فکری سانچے بدلتے ہیں، نہ وہ عادتوں میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور نہ اس کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ لیکن جب وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسری بات کا ظہور ہوتا ہے جس کے بارے میں ان جنات نے کہا کہ ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں عذاب الیم سے پناہ دے گا۔ یہاں ذُنُوْبِکُمْ کی بجائے مِنْ ذُنُوْبِکُمْ کہا گیا ہے جس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مِنْ کو زائد مانا جائے اور ذُنُوْبِ سے سارے گناہ مراد لیے جائیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مِنْ کو تبعیض کے لیے قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے وہ گناہ تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، لیکن وہ سنگین قسم کے گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے یہ شاید ایمان لانے کے بعد بھی تلافی کا تقاضا کرتے ہوں۔ اور اگر تلافی نہیں کی گئی تو پھر آخرت میں فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ قیاس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عدل کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اور جنات نے اپنی دعوت کو مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کیا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس دعوت کو پیش کرنے والا اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ہے۔ اس لیے اس کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دعوت کو ٹھکرا دیا گیا۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایسے شخص کی گرفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی، وہ دنیا میں بھی پکڑا جاسکتا ہے، لیکن اگر دنیا میں اس کو مہلت دے دی جائے تو آخرت میں اس کے بچ جانے کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی پکڑنا چاہے تو دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی قوت والا بھی ایسا نہیں جو اس کی گرفت سے بچ نکلنے کی طاقت رکھتا ہو۔ کیونکہ نہ کسی میں ایسا بل بوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرسکے اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی ایسے اولیاء ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکیں۔ کیونکہ انسانوں کی طرح جنات نے بھی بہت سی موہوم قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنا کارساز بنا رکھا ہے اور وہ ان کی قوت اور شفاعت پر اعتماد کی وجہ سے قیامت کے تصور سے بھی بےفکر ہیں۔ چناچہ ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں جس نے ان کی عاقبت تباہ کردی ہے۔ جنوں کی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری کے چند واقعات اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نخلہ میں جن جنات نے قرآن پاک سنا تھا ان کی ملاقات وہاں آنحضرت ﷺ سے نہیں ہوئی، لیکن وہ قرآن کریم کی دعوت سے اس حد تک متأثر ہوئے کہ اپنی قوم میں جا کر انھوں نے منذر کا فرض انجام دینا شروع کردیا۔ لیکن اس سے یہ گمان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس دعوت کی ضروریات کے حوالے سے انھیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری کی ضرورت کا احساس ہوا ہوگا اور جو لوگ ان کی دعوت سے متأثر ہوئے ان کی بھی خواہش ہوگی کہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اس لیے معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وادی نخلہ کے واقعہ کے بعد جنوں کے پے در پے وفود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور آپ سے ان کی رودررو ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے تھے۔ ہم تفہیم القرآن سے اختصار کے ساتھ ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک وفد کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکہ میں رات بھر غائب رہے۔ ہم لوگ سخت پریشان تھے کہ کہیں آپ ﷺ پر کوئی حملہ نہ کردیا گیا ہو۔ صبح سویرے ہم نے آپ کو براء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا۔ پوچھنے پر آپ نے بتایا کہ ایک جن مجھے بلانے آیا تھا، میں نے اس کے ساتھ آکر یہاں جنوں کے ایک گروہ کو قرآن سنایا۔ (مسلم، مسند احمد، ترمذی، ابودائود) حضرت عبداللہ بن مسعود ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مکہ میں حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ آج رات تم میں سے کون میرے ساتھ جنوں کی ملاقات کے لیے چلتا ہے ؟ میں آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیارہوگیا۔ مکہ کے بالائی حصہ میں ایک جگہ حضور ﷺ نے لکیر کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ اس سے آگے نہ بڑھنا۔ پھر آپ آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے اشخاص ہیں جنہوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے اور وہ میرے اور آپ کے درمیان حائل ہیں۔ (ابنِ جریر، بیہقی، دلائل النبوۃ، ابونعیم، اصفہانی، دلائل النبوۃ) ایک اور موقع پر بھی رات کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور مکہ معظمہ میں حجون کے مقام پر جنوں کے ایک مقدمہ کا آپ نے فیصلہ فرمایا۔ اس کے سالہا سال بعد ابن مسعود ( رض) نے کوفہ میں جاٹوں کے ایک گروہ کو دیکھ کر کہا حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ان لوگوں سے بہت مشابہ تھا۔ (ابنِ جریر)
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ بیشک اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جو ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ قادر ہے اس بات پر کہ مردوں کو زندہ کرے، کیوں نہیں، وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِھِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی ط بَلٰٓی اِنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الاحقاف : 33) (کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ بیشک اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جو ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ قادر ہے اس بات پر کہ مردوں کو زندہ کرے، کیوں نہیں، وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔ ) مکذبین کو انذار سورة کے خاتمے پر مکذبین کے سامنے ایک ایسا سوال رکھا گیا ہے جس کے جواب دینے میں کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔ ہر سطح کا آدمی بڑے اطمینان سے مثبت انداز میں اس کا جواب دے سکتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ تم آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو شریک نہیں مانتے۔ تم ہر طرح کا شرک کرتے ہو، لیکن تمہیں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے سے انکار نہیں۔ تمہاری اس مسلمہ حقیقت کو بنیاد بنا کر ہم تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ پروردگار کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ اس پر تھکاوٹ طاری ہوئی تو اس کائنات کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک انسان ہے۔ تو اگر وہ خالق ومالک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں انسانوں کو مرنے کے بعد ایک دن ازسرنو زندہ کروں گا اور انھیں محشر میں جمع کرکے ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ تو کیا تم اس کے لیے اس بات کو ناممکن سمجھتے ہو۔ یعنی وہ زمین کو پیدا کرسکتا ہے اور آسمانوں کو بھی۔ اور ایسی کائنات کو بھی جس کے اور چھور کا کوئی اندازہ نہیں۔ تو وہ مردوں کو زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ جب اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے اور اس کی قدرت کے لیے کوئی چیز چیلنج بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو پھر آخر تمہیں اسی بات کو ماننے سے انکار کیوں ہے ؟ یہ سادہ سا سوال قرآن کریم نے جگہ جگہ مشرکین سے پوچھا۔ اور اس سے مشرکین پر ایسا اتمامِ حجت ہوا ہے کہ جس سے وہ کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔ وہ ہزار سرپیر ماریں ان کے پاس اس کا جواب اس کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کہ کیوں نہیں وہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو یقینا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

وہ دن یاد کیجیے جس دن یہ کافر جہنم کی آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں، وہ جواب دیں گے ہاں ! ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حقیقت ہے) ، اللہ فرمائے گا تو چکھو عذاب اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے

وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ ط اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ط قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا ط قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (الاحقاف : 34) (وہ دن یاد کیجیے جس دن یہ کافر جہنم کی آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں، وہ جواب دیں گے ہاں ! ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حقیقت ہے) ، اللہ فرمائے گا تو چکھو عذاب اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے۔ ) مکذبین سے ایک سوال اس آیت کریمہ میں قیامت کا انکار کرنے والوں کے سامنے ان کے انجام کی تصویر رکھ کر ایک سوال کیا گیا ہے کہ آج تو تمہیں تمہارے نفسانی تحفظات اور مفاداتی وابستگیاں قیامت کو ماننے پر آمادہ نہیں ہونے دیتیں۔ لیکن اس وقت کو یاد کرو جب قیامت کی ہولناکی اور عذاب کے سامنے تمہیں کھڑا کردیا جائے گا۔ اس کی دہکتی ہوئی آگ تمہاری نگاہوں میں ہوگی اور پھر تم سے پوچھا جائے گا کہ جس جہنم سے تمہیں ہمارے رسولوں نے ڈرایا تھا اور اس کے عذاب سے بچنے کی تمہیں ترغیب دی تھی وہ اب تمہارے سامنے ہے۔ کیا اب بھی تم اس کو حقیقت تسلیم کرتے ہو یا نہیں۔ تو وہ جواب میں قسم کھا کے اپنے اعتراف کا اظہار کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرمائے گا کہ اسی قیامت کا انکار دنیا میں تمہارا وطیرہ بن گیا تھا۔ کوئی دلیل تمہارے دماغ کے دروازے پر دستخط نہیں دے سکی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تمام تر ہمدردیاں تمہیں سمجھانے سے عاجز رہیں۔ بلکہ تمہاری فطرت بھی تمہیں پکارتی رہی لیکن تم نے اس کی بھی بات نہیں سنی۔ اب تمہارے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ جاؤ اس عذاب کا مزہ چکھو، تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس اے نبی صبر کیجیے ! (ثابت قدم رہیے) جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے، جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے تو انھیں یوں معلوم ہوگا کہ گویا دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، بس پہنچا دینا ہے، پس ہلاک نہیں کیے جائیں گے مگر نافرمان لوگ

فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ ط کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَایُوْعَدُوْنَ لا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ سَاعَۃً مِّنْ نَّھَارٍ ط بَلٰـغٌ ج فَھَلْ یُھْلَـکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (الاحقاف : 35) (پس اے نبی صبر کیجیے ! (ثابت قدم رہیے) جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے، جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے تو انھیں یوں معلوم ہوگا کہ گویا دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، بس پہنچا دینا ہے، پس ہلاک نہیں کیے جائیں گے مگر نافرمان لوگ۔ ) آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین سورة کی آخری آیت میں نبی کریم ﷺ کو کفار کی ایذرسانیوں کے مقابلے میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور ساتھ ہی اطمینان کے لیے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن انھوں نے ہر ممکن تکلیف اٹھائی اور ہر دکھ برداشت کیا، الزامات کے صدمے سہے، اور بظاہر ناکامیوں سے واسطے پڑے، لیکن وہ کسی بات پر آزردہ نہ ہوئے۔ انھوں نے نہایت استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے یہ لوگ آپ کو زچ کرنے کے لیے بعض دفعہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو آپ ان سے پریشان ہو کر ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ان کو جو مہلت دے رکھی ہے اس میں ان کی بھی بھلائی ہے اور آپ کی تبلیغ و دعوت کے لیے بھی بہتر ہے۔ لیکن یہ امرواقعہ ہے کہ جب عذاب ان کے سامنے آئے گا تو اب جبکہ یہ مہلت کی مدت کو بہت دراز محسوس کررہے ہیں لیکن عذاب کو دیکھ کر انھیں یوں محسوس ہوگا جیسے وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے یہاں مبتدا حذف کرکے خبر پر توجہ مرکوز کردی گئی ہے۔ آپ اپنا کام جاری رکھئے۔ یقینا ان کی تباہی کے تصور سے بھی آپ کی آزردگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن آپ اس کی پرواہ نہ کریں، اگر یہ لوگ تباہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری خود ان پر ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف ان لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو تمام تر مہلتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نافرمانی انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کردیتی ہے تو پھر وہ ہلاکت کی نذر کردیئے جاتے ہیں۔