Ayah 46:15وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا ط حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْھًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْھًا ط وَحَمْلُـہٗ وَفِصٰلُـہٗ ثَلٰـثـُوْنَ شَھْرًا ط حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً لا قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَـکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ج ط اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 15)
(اور ہم نے انسان کو ان کے ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کی ہدایت کی، اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا، اور دکھ کے ساتھ اس کو جنا، اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور اس کو دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں ہوا، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا، تو اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے سنبھال کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا، اور وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد میں بھی میرے نیک بخت وارث اٹھا، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں، اور میں تیرے فرماں بردار بندوں میں سے ہوں۔ )
انسان کی فطرت میں حقوق و فرائض کا شعور اور اس کا ارتقاء
اوپر کی آیت کریمہ میں اہل جنت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان بنیادی ہدایات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انسان کی فطرت میں داخل ہیں اور ان کو قبول کرلینے کے نتیجے میں انسان بالآخر جنت کا وارث ہوجاتا ہے۔ ان فطری ہدایات میں سب سے پہلی ہدایت جو انسان کو دی گئی ہے وہ والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کی ہے۔ اور یہی وہ تعلق ہے جس سے انسان کو سب سے پہلا واسطہ پیش آتا ہے۔ اور اس تعلق کی بنیاد یہ ہے کہ ایک طرف دنیا میں آنے والے انسان کی بےبسی، بےچارگی اور تہی دامنی ہے۔ اور دوسری طرف احسانات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ انسان کی فطرت سب سے زیادہ احسانات سے متأثر ہوتی ہے۔ انسان نصیحت سے بھی متأثر ہوتا ہے اور نصیحت آموز واقعات سے بھی۔ اچھا ماحول بھی انسان کو بنانے میں موثر رول ادا کرتا ہے۔ اور تعلیم و تربیت اس رول کی تکمیل کا فرض انجام دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام مؤثرات میں سب سے موثر چیز انسان پر کیا جانے والا احسان ہے جس سے وہ فوری متأثر ہوتا ہے۔ اور اگر حالات نے اس کی فطرت کو بگاڑ نہیں دیا تو دیر تک اس تأثر کو قائم رکھتا ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے انسان جب دیکھتا ہے کہ دنیا میں میرے وجود کا سبب میرے والدین ہیں۔ اور اسی طرح میری زندگی کے امکانات ان کی محبت سے وابستہ ہیں۔ اور میری افزائش بلکہ میری بقاء ان ہی کے دم قدم سے ہے۔ ہدایت اگرچہ دونوں سے حُسنِ سلوک کی کی گئی ہے لیکن احسان کے پہلو کو ابھارتے ہوئے والدہ کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے کہ ایک نوخیز اور الہڑ لڑکی کس طرح زندگی کا پہلا تجربہ ہونے کے باوجود ایک طویل عرصے تک بچے کی امانت کو پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے۔ اور پھر مدت کے اختتام پر اس قدر تکلیف کے ساتھ اسے جنتی ہے کہ زندگی اور موت کا فاصلہ کم رہ جاتا ہے۔ اور پھر جب یہ خوبصورت بچہ اس کی گود میں آتا ہے تو اتنا بےبس اور بےکس ہوتا ہے کہ نہ اس کے حواس کام دیتے ہیں اور نہ اس کا شعور روشن ہوتا ہے۔ وہ نہ اپنی ماں کو پہچانتا ہے اور نہ اپنے باپ کو۔ اسے یہ تک معلوم نہیں کہ میری غذا کہاں ہے۔ لیکن ماں کی مامتا اسے نہایت بےتابی سے اپنے سینے سے لگاتی ہے۔ اپنی تمام تکلیفیں بھول کر اپنے خون جگر کو دودھ کی صورت میں اس کے اندر منتقل کرتی ہے۔ وہ روتا ہے تو یہ پریشان ہوتی ہے، ہنستا ہے تو اس کی زندگی میں بہار آجاتی ہے۔ انگلی پکڑ کر اسے چلنا سکھاتی ہے، ہر تکلیف دہ بات سے اسے محفوظ رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ مدت رضاعت کے ختم ہونے پر اس کا دودھ چھڑاتی ہے۔ پیٹ میں بچے کا اٹھانا، پھر بچے کو جنم دینا اور پھر اس کو دودھ پلانا یہ تین وہ مشقت طلب اور تکلیف دہ مراحل ہیں جن سے ماں گزرتی ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے ماں کا حق باپ سے تین گنا ذکر فرمایا ہے جب ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد حق مجھ پر کس کا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ماں کا۔ انھوں نے پوچھا پھر کس کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ماں کا۔ انھوں نے تیسری دفعہ پوچھا اس کے بعد کس کا ؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا ماں کا۔ اور چوتھی دفعہ پوچھنے پر فرمایا باپ کا۔ اس حدیث سے بھی اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ انسان کو ہدایت تو ماں باپ دونوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی کی گئی۔ لیکن ذکرصرف ماں کی قربانیوں کا کیا گیا ہے۔ اور باپ کی کسی قربانی کا ذکر نہیں کیا گیا، اس کی وجوہ کیا ہیں، حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تین وجہ ہیں 1 کہ اولاد کی ابتدائی پرورش میں ماں کا جو حصہ ہے وہ باپ کا نہیں۔ 2 ماں کا تعلق جنسِ ضعیف سے ہے اس لیے اس کے ضعف کی وجہ سے ضروری تھا کہ اولاد کو اس کی خدمت کی طرف توجہ دلائی جاتی۔ 3 بالعموم باپ سے اولاد کا مادی مفادوابستہ ہوا ہے۔ وراثت میں جو کچھ ملتا ہے وہ عموماً باپ سے ملتا ہے۔ اس احتیاج کی بنا پر باپ کے معاملے میں کوتاہی یا نافرمانی کا اندیشہ کم ہوتا ہے۔ اس لیے اصولی ہدایت دینے کے بعد ماں کی تکالیف اور خدمات کا ذکر زیادہ فرمایا گیا۔ لیکن جہاں تک حُسنِ سلوک اور خدمت و اطاعت کا تعلق ہے قرآن کریم میں جابجا دونوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضی میں ہے۔ اس لحاظ سے اولاد پر دونوں کی خدمت و اطاعت واجب ہے۔ اور قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ ماں باپ بوڑھے ہوجائیں تو اولاد کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی اطاعت اور مہرومحبت کے بازو ان کے لیے ہمیشہ جھکائے رکھے۔ اور ان کی کسی بات پر کبھی اُف تک نہ کہے۔ اور اس کی کسی بات سے کبھی بیزاری کا اظہار نہ ہونے پائے۔
اس آیت کریمہ میں دودھ چھڑانے اور حمل کی مدت تیس ماہ ذکر فرمائی گئی ہے جبکہ سورة لقمان اور سورة البقرۃ میں مکمل مدت رضاعت چوبیس ماہ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے بعض فقہائے صحابہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ وضع حمل کی اقل مدت چھ مہینے ہے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اپنی تفسیر میں حضرت عثمان ( رض) کے عہدخلافت کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمان ( رض) کے عہدخلافت میں ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور شادی کے چھ ہی مہینے بعد اس کے ہاں صیحح وسالم بچہ پیدا ہوگیا تو اس شخص نے حضرت عثمان ( رض) کے سامنے لا کر یہ معاملہ پیش کردیا۔ آپ ( رض) نے اس عورت کو زانیہ قرار دے کر حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ حضرت علی ( رض) نے یہ قصہ سنا تو فوراً حضرت عثمان ( رض) کے پاس پہنچے اور کہا یہ آپ ( رض) نے کیا فیصلہ کردیا ؟ انھوں نے جواب دیا کہ نکاح کے چھ مہینے بعد اس نے زندہ سلامت بچہ جن دیا، کیا یہ اس کے زانیہ ہونے کا کھلا ثبوت نہیں ہے ؟ حضرت علی ( رض) نے فرمایا : نہیں۔ پھر انھوں نے قرآن مجید کی مذکورہ بالا تینوں آیتیں ترتیب کے ساتھ پڑھیں۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس باپ کے لیے جو رضاعت کی پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ “ سورة لقمان میں فرمایا ” اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگا ہے۔ “ اور سورة احقاف میں فرمایا ” اس کے حمل اور اس کا دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگے۔ “ اب اگر تین مہینوں میں سے رضاعت کے دو سال نکال دیئے جائیں تو حمل کے چھ مہینے رہ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم سے کم مدت جس میں زندہ سلامت بچہ پیدا ہوسکتا ہے، چھ مہینے ہے۔ لہٰذا جس عورت نے نکاح کے چھ مہینے بعد بچہ جنا ہو اسے زانیہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حضرت علی ( رض) کا یہ استدلال سن کر حضرت عثمان ( رض) نے فرمایا اس بات کی طرف میرا ذہن بالکل نہ گیا تھا۔ پھر آپ نے عورت کو واپس بلوایا اور اپنا فیصلہ بدل دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی ( رض) کے استدلال کی تائید حضرت ابن عباس ( رض) نے بھی کی اور اس کے بعد حضرت عثمان ( رض) نے اپنے فیصلے سے رجوع فرما لیا۔ (ابن جریر، احکام القرآن للجصاص، ابن کثیر)
ان تینوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے جو قانونی احکام نکلتے ہیں وہ یہ ہیں :
1 جو عورت نکاح کے بعد چھ مہینے سے کم مدت میں صحیح وسالم بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ وضع حمل ہو) وہ زانیہ قرار پائے گی اور اس کے بچے کا نسب اس کے شوہر سے ثابت نہ ہوگا۔
2 جو عورت نکاح کے چھ مہینے بعد یا اس سے زیادہ مدت میں زندہ سلامت بچہ جنے اس پر زنا کا الزام محض اس ولادت کی بنیاد پر نہیں لگایا جاسکتا، نہ اس کے شوہر کو اس پر تہمت لگانے کا حق دیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا شوہر بچے کے نسب سے انکار کرسکتا ہے۔ بچہ لازماً اسی کا مانا جائے گا، اور عورت کو سزا نہ دی جائے گی۔
3 رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس عمر کے بعد اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تو وہ اس کی رضاعی ماں قرار نہیں پائے گی اور نہ وہ احکامِ رضاعت اس پر مترتب ہوں گے جو سورة نساء آیت 23 میں بیان ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں امام ابوحنیفہ نے برسبیلِ احتیاط دو سال کی بجائے اڑھائی سال کی مدت تجویز کی ہے تاکہ حرمت رضاعت جیسے نازک مسئلے میں خطا کر جانے کا احتمال باقی نہ رہے۔
اس مقام پر جان لینا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ جدید ترین طبی تحقیقات کی رو سے ماں کے پیٹ میں ایک بچے کو کم از کم 28 ہفتے درکار ہوتے ہیں جن میں وہ نشو و نما پا کر زندہ ولادت کے قابل ہوسکتا ہے۔ یہ مدت ساڑھے چھ مہینے سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔ اسلامی قانون میں نصف مہینے کے قریب مزید رعایت دی گئی ہے کیونکہ ایک عورت کا زانیہ قرار پانا اور ایک بچے کا نسب سے محروم ہوجانا بڑا سخت معاملہ ہے اور اس کی نزاکت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ماں اور بچے دونوں کو اس کے قانونی نتائج سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش دی جائے۔ علاوہ بریں کسی طبیب، کسی قاضی، حتیٰ کہ خود حاملہ عورت اور اسے بارور کرنے والے مرد کو بھی ٹھیک ٹھیک یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ استقرارِحمل کس وقت ہوا ہے۔ یہ بات بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ حمل کی کم سے کم قانونی مدت کے تعین میں چند روز کی مزید گنجائش رکھی جائے۔
اس کے بعد اس بچے کی عمر کی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچنے پر اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں اس نے اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے حُسنِ عمل کی دعا کی ہے۔ اور زندگی کی جس حقیقت کو اس نے اپنے والدین سے سیکھا ہے اس کے لیے اس نے اپنی اولاد میں وارث اٹھانے کی التجا کی ہے اور بات کو لپیٹتے ہوئے یہ کہا ہے کہ میں یہ التجائیں اس لیے کررہا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کا تمام اثاثہ تیرے حضور ڈھیر کردیا ہے۔ اور میری زندگی کا طرزعمل تیری بارگاہ میں خودسپردگی کا طرزعمل ہے کہ میں تیرے لیے جینا چاہتا ہوں اور تیرے لیے مرنا چاہتا ہوں۔
آیت کے متضمنات میں غور کا نتیجہ
اس آیت کے متضمنات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی جو چیز بچے کی بلوغ کی عمر کو پہنچنے پر ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب اس نے اپنے ماں باپ کے احسانات کو زندگی میں آنے کے پہلے دن سے لے کر بلوغ کی عمر تک ملاحظہ کیا اور پھر رشد و ہدایت کی عمر کو پہنچ کر اس پر غور کیا تو اس نے محسوس کیا کہ میرے والدین کے لامتناہی احسانات ہیں جس نے مجھے ان کے حقوق میں جکڑ رکھا ہے۔ انھوں نے جس طرح مجھے پالاپوسا، لکھایا پڑھایا اور اس عمر تک پہنچایا ہے اور ابھی یہ سلسلہ مزید جاری ہے اس سے بار بار میری فطرت مجھے پکارتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ دیکھنا تیری جوانی ان کے بڑھاپے کے لیے مسئلہ بننے کی بجائے سہارا بننی چاہیے۔ تیرے بازوئوں کی قوت ان کی خدمت و اطاعت میں صرف ہونی چاہیے۔ انھوں نے تجھے جس طرح ہر خطرے اور دکھ سے دور رکھنے کی کوشش کی اسی طرح اب ان کی نگہداشت اور ان کی حفاظت تیری ذمہ داری ہے۔ یہی سوچ کا سفر جب آگے بڑھا تو اس نے سوچا کہ میرے ماں باپ کے مجھ پر بےپایاں احسانات اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ میرے ماں باپ کو وجود کس نے بخشا، مجھے ان کا بیٹا کس نے بنایا، وہ جو کچھ مجھ پر احسانات کرتے رہے اس کی طاقت اور صلاحیت کس نے ان کو عطا کی، میری ماں کے اندر مامتا کا وجود اور میرے باپ میں میرے ہر ارمان پورا کرنے کی خواہش کو کس نے جنم دیا۔ یقینا وہ میرا اور ان کا خالق ومالک ہے۔ اگر ان کے مجھ پر حقوق ہیں تو اس کا حق تو اس سے بھی زیادہ اہم اور مقدم ہے۔ چناچہ مسلسل اس نے خیالات کی اسی مشعل کو ہاتھ میں لے کر زندگی کا سفر جاری رکھا۔ حتیٰ کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر جب اس کے جذبات ڈھلنے لگے اور اولاد جوان ہونے لگی تو پھر اس نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کی بہتری کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اسی سے حُسنِ عمل کی توفیق مانگی، اسی سے اپنی اولاد کے لیے اچھا وارث بننے کی التجا کی۔ کیونکہ رشد و ہدایت کی عمر کے بعد آدمی جہدوعمل کے میدان میں اترتا ہے اور چالیس سال کی عمر کے بعد اپنی اولاد کی فکر ہونے لگتی ہے۔ پھر اپنے ساتھ ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے توفیقِ عمل مانگتا ہے۔ چناچہ یہ وہ فطری ارتقاء ہے جس پر چلنے کی انسان کو ہدایت کی گئی تھی۔ اس ہدایت کا سررشتہ ایک طرف اس کی فطرت سے باندھا گیا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور اپنے رسولوں کے ہاتھوں میں دیا ہے۔ اور یہی وہ روشنی ہے جس سے انسان اکتسابِ نور کرے تو کبھی اندرونی اور بیرونی تاریکیوں میں بھٹکنے نہیں پاتا۔
Ayah 46:16اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰ تِہِمْ فِیْ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ ط وَعْدَالصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ (الاحقاف : 16)
(یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کرجاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا رہا ہے۔ )
یعنی جو لوگ ایک فطری ترتیب کے مطابق ماں باپ کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی، پھر اللہ تعالیٰ ہی سے حُسنِ عمل اور حُسنِ انجام کی دعا کرتے ہیں اور اپنی اولاد کی بھلائی اسی سے چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں جو بہتر سے بہتر عمل کیا ہے آخرت میں ان کا درجہ اسی کے لحاظ سے مقرر کیا جائے گا۔ اور جو ان سے لغزشیں اور خطائیں سرزد ہوئی ہیں ان پر گرفت نہیں کی جائے گی۔ یعنی ان کے ساتھ معاملہ ہم اس طرح کریں گے جیسے کریم النفس اور قدرشناس آقا اپنے خدمت گزار اور وفادار ملازموں سے کرتا ہے۔ اس کی نظر ان کے کارناموں پر ہوتی ہے جو انھوں نے جان پر کھیل کر انجام دیئے ہیں۔ ان کی چھوٹی موٹی کوتاہی کبھی ان کے لیے محرومی کا باعث نہیں بنتی۔ یہ لوگ اہل جنت میں شامل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نے جن انعامات کا ہمیشہ ان سے وعدہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور پکا ہے جس کی خلاف ورزی کا کوئی اندیشہ نہیں۔
Ayah 46:17وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّـکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج وَھُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَـکَ اٰمِنْ صلے ق اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ صلے ج فَیَقُوْلُ مَا ھٰذَٓا اِلاَّ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (الاحقاف : 17)
(اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا تُف ہے تم پر، کیا تم مجھے اس سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں، ماں باپ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیرا ناس ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کے فسانے ہیں۔ )
اَلَّذِیْ سے مراد
اَلَّذِیْمعرفہ ہے، عام طور پر اس سے کوئی متعین شخص مراد ہوتا ہے۔ لیکن جب تمثیل کے لیے آتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس سے کوئی خاص شخص مراد ہو، بلکہ ایسے مواقع پر ہر کوئی شخص مراد ہوتا ہے جس میں تمثیل کے اجزاء پائے جائیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لفظ سے نوع انسانی کا ہر فرد مراد لیا ہے اور اوصاف کے لحاظ سے ایک خاص گروہ کو پیش کیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کے مقابل دوسرا گروہ مراد ہے۔ دونوں کو آمنے سامنے رکھ کر فیصلہ سامعین پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ دونوں میں سے کون سا کردار بہتر ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت دونوں کردار لوگوں میں موجود تھے۔ اس لیے تلاش کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اور ویسے بھی یہ دونوں کردار ہمیشہ انسانوں میں موجود رہتے ہیں۔ ایک وہ کردار ہے جس کا ذکر گزشتہ آیت میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کردار ہے جو مادرپدر آزاد زندگی گزارنے والا ہے۔ اس کو اپنے رویئے کا جائزہ لینے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ ایسے لوگ عموماً ماں باپ کے گستاخ اور ان کے حقوق سے گریزاں ہوتے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس پر ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ ماں باپ نہایت دلسوزی کے ساتھ سخت سست کہتے ہوئے بھی انھیں ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لیکن وہ جواب میں اپنے والدین کو بیوقوف ٹھہراتے ہیں۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ تم بار بار مجھے قیامت کے دن جواب دہی سے ڈراتے ہو، اور بنیاد اس کی یہ ہے کہ ہم مرنے کے بعد ختم نہیں ہوجائیں گے بلکہ ایک دن ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ حالانکہ اگر اس بات میں ذرا بھی سچائی ہوتی تو صدیاں گزر گئیں بلکہ امتیں گزر گئیں آج تک کوئی ایک شخص بھی زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔ جو مرگیا وہ ہمیشہ کے لیے مرگیا۔ رہی یہ بات کہ مختلف وقتوں میں یہ باتیں کہی جاتی رہی ہیں تو ہر دور کے افسانے ہر دور میں سنائے جاتے رہے اس لیے اسے حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 46:18اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِط اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 18)
(یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزرے ہیں جنوں اور انسانوں میں سے، بیشک یہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں۔ )
لا ابالیوں کا انجام
گزشتہ دو آیتوں میں ہمارے سامنے قرآن کریم نے دو کردار رکھے ہیں جن میں سے ایک کردار اہل جنت کا ہے اور دوسرا اہل جہنم کا۔ اس آیت کریمہ میں دوسرے کردار کے حاملین کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ماں باپ کی ساری کوششوں اور ہمدردانہ جھڑکیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اور قیامت کے وعدے کو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیوں میں سے شمار کرتے ہیں۔ اور اس طرح سے وہ زندگی اختیار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں جس پر اس کی خواہشِ نفس اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ بھی یہ کردار اختیار کریں گے ان پر اس عذاب کا فیصلہ پہلے سے کیا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں وہ جہنم میں جائیں گے۔ مراد اس سے وہ عذاب ہے جس کا فیصلہ پروردگار نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمایا تھا کہ جو لوگ بھی جنوں اور انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ہم ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں پھینکیں گے۔ جو لوگ بھی خواہشِ نفس کی پیروی میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں وہ درحقیقت ابلیس کے ساتھی ہیں۔ اور فرزندانِ آدم کو گمراہ کرنے کا چیلنج جو اس نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں کیا تھا اس میں وہ اس کے ہمنوا ہیں۔ اور نتیجتاً وہ رب کریم کے فیصلے کی زد میں آئیں گے۔ اور یہ ایک ایسا خسارہ اور نقصان ہے جس سے بڑھ کر کسی اور نقصان کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ان لوگوں نے دنیوی زندگی کے عیش و آرام کی خاطر ابدی زندگی کی تباہی کو اختیار کیا۔
Ayah 46:19وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ج وَلِیُوَفِّیَہُمْ اَعْمَالَہُمْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (الاحقاف : 19)
(اور ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ان کو پورا بدلہ دے، اور ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا جائے گا۔ )
اعمال پر فیصلے کا دارومدار
اس آیت کریمہ میں کُلْ سے مراد وہی دونوں گروہ ہیں جن کا سابقہ دونوں آیتوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ ہم صرف اس بات پر ان کو جہنم کے بدترین عذاب میں نہیں پھینکیں گے کہ انھوں نے ابلیس کا ساتھ دیا ہے۔ ہم ان کے اعمال کا اچھی طرح جائزہ لیں گے۔ اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے ان کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جن لوگوں اپنے ماں باپ کی اطاعت کی اور اپنے رب کے حقوق پہچانے اور زندگی اس کی بندگی میں گزاری۔ ان کے مدارج کا تعین ان کے اعمال سے کیا جائے گا۔ اور اسی اعتبار ان کو جنت کے مقامات ملیں گے۔ اور جن لوگوں نے شتر بےمہار کی زندگی گزاری، نہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پہچانے اور نہ بندوں کے حقوق، انھیں بھی جہنم میں ان کے مراتب اور مدارج کے مطابق مقام و مرتبہ دیا جائے گا اور سزا کا تعین ہوگا۔
Ayah 46:20وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ ط اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا وَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَـکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ ۔ (الاحقاف : 20)
(جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جہنم کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور تم ان کا لطف اٹھا چکے، آج تمہیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا بسبب اس کے جو تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے رہے ہو، اور اس سبب سے جو تم نافرمانی کرتے رہے ہو۔ )
متکبرینِ قریش کا انجام
قیامت کے دن جزا و سزا کے حوالے سے اصولی بات تو اوپر کی آیات میں ہوچکی، لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں خاص طور پر متکبرینِ قریش کو سنا کر یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم جیسے لوگوں کا حال اس دن دیکھنے کے قابل ہوگا کہ جب ایسے لوگ جہنم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ ہم نے جو تمہیں بیشمار نعمتیں بخشی تھیں تم نے اگر ان کا حق ادا کیا ہوتا اور ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہوتا تو وہ تمہارے لیے آج کے دن ذخیرے کے طور پر کام آتیں۔ لیکن تم نے انھیں اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں اڑا کے ختم کر ڈالا۔ اب کوئی نعمت ایسی نہیں جو آج کے دن تمہارے کام آسکے۔ تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے پوری طرح محظوظ ہوچکے ہو۔ لیکن تمہارا وہ عمل جو تمہاری زندگی پر چھایا رہا، وہ تکبر کا عمل تھا کہ وہ نعمتیں جو سراسر اللہ تعالیٰ کی دین تھیں جن کے حصول میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی کام آتی رہی۔ لیکن تم نے اسی دولت و ثروت کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی غربت کا مذاق اڑانے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے استعمال کیا۔ اور اس دولت و ثروت پر ناحق تکبر کرتے رہے۔ اور اسی پروردگار کے دین کا انکار کرتے رہے جس نے تمہیں یہ سب کچھ عطا کیا تھا۔ تمہارے اس عمل کی سزا آج تمہیں ذلت کی صورت میں ملے گی۔ اور تم نے اس تکبر کے نتیجے میں جس طرح قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑا۔ عذاب کی صورت میں تمہیں اس نافرمانی کا مذاق چکھنا ہوگا۔ اب تم چیخ پکار کرو گے، لیکن ذلیل لوگوں کی طرح تمہیں نظرانداز کردیا جائے گا۔ اور عذاب کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں تمہاری نافرمانی کی سزا تمہیں دیں گے۔
Ayah 46:21وَاذْکُرْ اَخَاعَادٍ ط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّاللّٰہَ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الاحقاف : 21)
(اور عاد کے بھائی کا ذکر کیجیے جبکہ اس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا اور ایسے خبردار کرنے والے اس کے آگے اور پیچھے بھی گزر چکے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور قریش کو تنبیہ
قومِ عاد کے انجام کے حوالے سے قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ کیونکہ ذکر صرف یہاں قوم عاد کا نہیں ہورہا بلکہ اس عظیم رسول کا ہورہا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے، وہ حضرت ہود (علیہ السلام) تھے اور انھیں یہاں عاد کا بھائی کہہ کر یاد کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم عاد ہی کے ایک فرد تھے۔ اس قوم کے اندر ان کی دور و نزدیک کی قرابتداریاں تھیں، انھیں میں ان کا خاندان رہتا تھا۔ انبیاء و رسل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عموماً ہر قوم میں ان کی اصلاح کے لیے جس رسول کو بھیجتا ہے وہ اسی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے، ان ہی کی زبان بولتا ہے تاکہ اتمامِ حُجت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ قیامت کے دن وہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری ہدایت کے لیے جو شخص آیا تھا وہ ہمارے لیے بالکل اجنبی تھا۔ ہم اس کے آگے پیچھے سے بالکل واقف نہیں تھے۔ اس کی سیرت و کردار سے ہم بالکل بیخبر تھے اس لیے ہمارے لیے یہ بات بہت مشکل تھی کہ ہم صرف اس کے اعتماد پر اسے اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیں۔ اور مزید یہ کہ وہ جس زبان میں بات کرتا تھا ہم اسے نہیں سمجھتے تھے، ہمارے معروفات اس کے معروفات سے الگ تھے۔ جن حالات نے ہمارے اندر کچھ خصوصیات پیدا کردی تھیں وہ شخص ان حالات سے بالکل بیخبر تھا۔ ان بہانوں کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بالعموم انھیں کی قوموں میں سے اٹھایا۔ اس لیے حضرت ہود (علیہ السلام) بھی قوم عاد کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے ان کے بھائی تھے۔ ان کی قوم ان کے اعلیٰ سیرت و کردار سے پوری طرح آگاہ تھی۔ ان کی صداقت و امانت ان کے لیے جانی پہچانی چیز تھی۔ اس لیے جب بڑے اعتماد سے انھوں نے انھیں ان کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے دو باتوں کا حوالہ دیا۔ ایک تو یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی مت کرو، کیونکہ وہی تمہارا خالق اور وہی تمہارا رب ہے۔ تمہیں وجود اسی نے دیا ہے اور اسی کے دیئے ہوئے وسائلِ رزق سے تم زندگی گزار رہے ہو۔ تو کس قدر عجیب بات ہے کہ جس نے تم پر اس قدر احسانات کیے ہوں اور جو اس قدر بےپناہ قدرتوں کا مالک ہو اس کی بجائے تم دوسروں کو پکارو یا دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرائو۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول کرکے اپنی زندگی کی روش نہ بدلی اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی بجائے دوسروں کی بندگی جاری رکھی تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم ایک دن اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔ اور مزید اس آیت میں فرمایا گیا کہ اس طرح کا انذار صرف حضرت ہود (علیہ السلام) نے نہیں کیا بلکہ ان سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کی دعوت ان تک پہنچتی رہی اور انذار کرنے والے انھیں انذار کرتے رہے۔ آیت کریمہ میں النُّذُرُ کا لفظ نذیر کی جمع ہے۔ اس کا معنی خبردار کرنے والا۔ اور ان سب کی دعوت ایک ہی رہی جو حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اس ساری تفصیل سے مقصود یہ ہے کہ قریش اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ آنحضرت ﷺ جو دعوت ان کے سامنے پیش کررہے ہیں وہ ان ہی دونوں باتوں پر مشتمل ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) اور دیگر انذار کرنے والے ہمیشہ پیش کرتے رہے۔ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے انکار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے آنے کا اندیشہ۔ یہی دونوں باتیں آنحضرت ﷺ مختلف پیرایوں میں قریش کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے لیے کوئی ایسی چیز لے کے آئے ہیں جو تاریخِ مذہب میں بالکل نئی ہے۔ اس لیے اس کا ماننا ان کے لیے مشکل ہورہا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ آنحضرت ﷺ بار بار یہ بات فرما رہے ہیں کہ اگر تم نے میری اس دعوت کو قبول نہ کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے۔ تو اس میں بھی کوئی نئی بات نہیں۔ قریش کو اپنے سامنے قوم عاد کے اس انجام کو رکھنا چاہیے جو حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں انھیں پیش آیا۔ اور آنحضرت ﷺ کے لیے اس پہلو سے تسلی ہے کہ ہم نے جب بھی کسی کو دنیا میں کسی قوم کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا ہے تو قوموں نے ہمیشہ وہی رویہ اختیار کیا ہے جو قریش اختیار کرچکے ہیں۔ اور وہ قومیں اپنے اس رویئے کے نتیجے میں ہمیشہ عذاب کا شکار ہوتی رہی ہیں۔ تو آخر قریش اس عذاب سے کیونکہ بےفکر ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے لیے تاریخ تو بدل نہیں سکتی اور نہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
آیتِ کریمہ میں قوم عاد کے وطن کے حوالے سے الاحقاف کا ذکر آیا ہے۔ یعنی یہ قوم الاحقاف میں آباد تھی جب حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے انذار کے لیے تشریف لائے۔ سوال یہ ہے کہ الاحقاف کیا ہے ؟ لغت میں تو الاحقاف ریت کے مستطیل اور بلند ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ لیکن اصطلاح میں اس سے وہ صحرائے عرب مراد ہے جو الربع الخالی کے جنوبی حصے کا نام ہے۔ اور یہ وہ ریگستان ہے جو عمان و یمن اور نجد اور حضرموت کے درمیان واقع ہے۔ جس وقت قوم عاد یہاں آباد تھی تو یہ سرزمین اپنی سرسبزی اور شادابی اور تمدن و تہذیب کی ترقی میں اپنی مثال آپ تھی۔ اپنی ہم عصر قوموں میں یہ سب سے زیادہ مضبوط قوت کی مالک اور نہایت متمدن قوم سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جب حضرت ہود (علیہ السلام) کی مخالفت کی وجہ سے ان پر تباہی آئی تو نہ وہ قوم باقی رہی اور نہ ان کے تمدن کے آثار باقی رہے۔ آج وہاں ایک لق و دق صحرا ہے جس کو دیکھ کر کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں تعمیر و تمدن کا کوئی نقش قائم ہوا ہوگا۔ آج اس کے اندرونی حصوں میں جانے کی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ 1843 ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ حضرموت کی شمالی سطح مرتفع سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فیٹ نشیب میں نظر آتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ ایسے سفید قطعے ہیں جن پر کوئی چیز گرجائے تو وہ ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے۔ میں نے دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہوگیا اور رسی کا سرا گھل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔
Ayah 46:22قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَـآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الاحقاف : 22)
(انھوں نے کہا کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جھوٹ بول کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردو، اچھا تو لے آئو اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو، اگر تم سچوں میں سے ہو۔ )
قوم کی طرف سے عذاب کا مطالبہ
حضرت ہود (علیہ السلام) کے انذار کے جواب میں ان کی قوم کے لوگوں نے یہ کہا آپ یہ جو ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی پر زور دے رہے ہیں اور مسلسل شرک کی مذمت کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی بات نہ مانی تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا۔ ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ عذاب کی دھمکی دے کر اور ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جھوٹ بول کر ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتے ہو۔ حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اگر تمہارے خیال میں ہماری روش اس قدر غلط ہے اور ہم اپنے خیالات میں اس قدر گمراہ ہیں کہ آپ کو ہم پر عذاب کا اندیشہ ہے تو پھر آپ کسی شخص کو زندہ کرکے کیوں نہیں دکھا دیتے۔ ہماری قریبی تاریخ میں کتنے لوگ ہم سے جدا ہوچکے ہیں، اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی تم زندہ کرکے لے آئو تو ہم یقین کرلیں گے کہ واقعی موت کے بعد زندگی آسکتی ہے اور مرنے والے ایک دن زندہ کرکے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ تو ہم تمہاری دعوت کو قبول کرلیں گے۔ لیکن تم بجائے اس معمولی بات پر عمل کرنے کے بار بار ہمیں عذاب کی دھمکی دیتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک دھونس دے کر زبردستی ہمارے عقائد کو بدلنا چاہتے ہو۔ اور یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو، اگر تم واقعی ہمیں عذاب کے قابل سمجھتے ہو تو پھر وہ عذاب ہمارے سروں پر کیوں نہیں لے آتے۔ ہم اسے دیکھ کر تمہاری صداقت کا یقین کرلیں گے اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن محض عذاب کی دھمکی تو ہمیں تم پر ایمان لانے کے لیے مجبور نہیں کرسکتی۔
اِفْک عربی زبان میں جھوٹ بولنے کو کہتے ہیں۔ تَأفِکُاسی سے فعل مضارع کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے تو جھوٹ بولے یا تو جھوٹ بولتا ہے۔ لیکن جب اس کے ساتھ عَنْ کا صلہ آجائے تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی سے جھوٹ بول کر اسے اس کے خیالات سے برگشتہ کرنا۔ آیت میں یہی معنی کیا گیا ہے۔
Ayah 46:23قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ صلے ز وَاُبَلِّغُکُمْ مَّـآ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَلٰـکِنِّیْٓ اَرٰ کُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : 23)
(حضرت ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس کا صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا، مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت میں مبتلا ہو۔ )
حضرت ہود (علیہ السلام) کا جواب
حضرت ہود (علیہ السلام) کے انذار کے جواب میں ان کے مخالفین نے یہ جواب دیا کہ اگر تم اپنے اندیشے میں سچے ہو تو اس عذاب کو لاکر دکھائو۔ تو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ عذاب کا لانا میرا کام نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں ہر وہ بات تمہیں پہنچائوں جس کے پہنچانے کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں تمہیں عذاب سے انذار کروں اور تمہیں اس بات سے آگاہ کروں کہ وہ عذاب کسی وقت بھی تم پر آسکتا ہے تو میں نے اس سے تمہیں آگاہ کردیا۔ اب رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا، اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سب جہالت میں مبتلا ہو۔ اگر کوئی شخص برسات کے موسم میں کسی کمزور بند کو دیکھ کر بند کے قریب رہنے والوں کو توجہ دلائے کہ سیلاب کسی وقت بھی آسکتا ہے تم اس سے بچنے کے لیے بند مضبوط کرو، تو کوئی عقلمند آدمی یہ کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ ہم بند پر مٹی اس وقت ڈالنا شروع کریں گے جب ہمیں تم وہ تاریخ دو گے جس دن سیلاب کو آنا ہے۔ اور اگر تم ہمیں وہ ٹھیک تاریخ نہیں بتاسکتے تو ہم اس سے بچائو کے لیے کوئی تدبیر کرنے کو تیار نہیں۔ یا پھر کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو جو حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی نہیں کرتا، موت سے ڈراتا ہے۔ یا وہ شخص جو شیطان کی پیروی میں برے راستے پر پڑچکا ہے تو کوئی بھلا آدمی اسے توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو موت آنے والی ہے اپنی زندگی کے معاملات کو درست کرلو۔ تو وہ جواب میں یہ کہے کہ اچھا یہ بتائو کہ موت کس دن آئے گی ؟ اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میں محض تمہاری دھمکی کی وجہ سے اپنی زندگی کو بےرنگ نہیں کرسکتا۔ اور اپنی نام نہاد آزادیوں پر پہرہ نہیں بٹھا سکتا۔ تو ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ شخص یا تو عقل سے خالی ہے۔ اور یا اس کو زندگی کی خواہشوں نے فریب دے رکھا ہے۔ یہاں قرآن کریم بھی ان کے اسی رویئے کو جہالت کا نام دے رہا ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ فلاں دن تم پر عذاب آنے والا ہے بلکہ وہ تو خبردار کرنے والے ہیں کہ عذاب کسی وقت بھی آسکتا ہے۔ رہی اس کی تاریخ تو اس کا بتانا میرا کام نہیں، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ میں تو صرف اس کام کے لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمہیں خطرے سے آگاہ کردوں تاکہ تم اس سے بچنے کی بروقت تدبیر کرسکو۔
Ayahs 46:24–25فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ لا قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ط بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ ط رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْ ئٍ م بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لاَ یُرٰٓی اِلاَّ مَسٰکِنُھُمْ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 24، 25)
(پھر جب انھوں نے اس عذاب کو بادل کی شکل میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ وہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کردے گا، نہیں، بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے، یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں وہ دردناک عذاب ہے۔ یہ ہر چیز کو تباہ کردے گا اپنے رب کے حکم سے، پس وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کسی چیز کا نشان باقی نہ رہا، اسی طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ )
عذاب کا ظہور ابر کی شکل میں اور مجرموں کی حالت
حضرت ہود (علیہ السلام) کے انذار کے جواب میں ان کی قوم کے لوگ جس عذاب کا مطالبہ کررہے تھے آخر وہ عذاب آگیا۔ اور وہ ایک بادل کی صورت میں آیا، جیسے برسات میں گھٹا اٹھتی ہے تو دیکھنے والے اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ ہماری وادی کو جل تھل کردے گی۔ انھوں نے بھی اس عذاب کو جب بادل کی صورت میں دیکھا تو یہی سمجھے کہ یہ تو وہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا تو ہماری کھیتیاں ہری بھری ہوجائیں گی۔ اور ہمارے وسائلِ رزق میں اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن جلد ہی حالات نے ان کو بتادیا کہ وہ بادل نہیں بلکہ ہوا کا طوفان ہے اور جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب بن کر آیا ہے اور یہ وہی عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچاتے تھے۔ یہ بظاہر ہوا کا طوفان اپنے اندر عذاب الیم کو چھپا کر لایا ہے۔ یہ عذاب کئی دنوں تک بادتند کی صورت میں ان پر مسلط رہا اور اس نے ان کو اس طرح پامال کرکے رکھ دیا کہ کوئی چیز باقی نہ چھوڑی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر چیز تباہ کردی گئی۔ سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی اس زور سے چلی کہ ان کے مکانوں کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہی۔ درخت جڑ سے اکھڑ گئے، کھیتیاں پامال ہوگئیں، کوئی شخص زندہ نہ بچا۔ ان کی لاشیں اس طرح بکھری ہوئی تھیں جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں۔
آیت کے آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے ماضی کی داستان نہ سمجھنا، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہر دور کے لیے یکساں ہے اور ہر امت اپنے اعمال کے حوالے سے ایک ہی طرح ماخوذ ہوتی ہے۔ گزشتہ امتوں کو بھی ان کے عقیدہ و عمل کے بگاڑ کی سزا ملی۔ اور اب اگر قریش نے بھی وہی روش اختیار کی جو عاد نے اختیار کر رکھی تھی تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان سے مختلف ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ہمیشہ مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں جیسے قوم عاد کو دی گئی۔ تو قریش بھی اس قانون سے بچ نہیں سکیں گے۔ اگر انھوں نے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہ کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب کے لیے قانون ایک ہی ہے۔
Ayah 46:26وَلَقَدْ مَکَّنّٰھُمْ فِیْمَـآ اِنْ مَّکَّنّٰـکُمْ فِیْہِ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْئِدَۃً صلے ز فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ سَمْعُھُمْ وَلَآاَبْصَارُھُمْ وَلَآ اَفْئِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِذْکَانُوْا یَجْحَدُوْنَ لا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الاحقاف : 26)
(ہم نے ان کو مقدور دیا تھا ان چیزوں کا جن کا ہم نے تم کو مقدور نہیں دیا، ان کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے، لیکن ان کے کسی کام نہ آئے ان کے کان نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور انھیں گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ )
قریش کو تنبیہ
دو چیزیں تھیں جن پر قریش کو بجاطور پر ناز تھا اور یہی ان کے تکبر کا باعث تھا، اور اسی بنیاد پر وہ حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے جن تجارتی امکانات سے نوازا تھا اور جس طرح حالات کے تغیر نے ان کی تجارت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا تھا اس سے وہ اپنی دولت و رفاہیت کے حوالے سے خودپسندی اور غروروتکبر میں مبتلا ہوگئے تھے۔ بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے چونکہ انھیں عرب بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کے ہمسائے طائف میں ان کے ایسے باغات تھے جن میں ہر طرح کی چیزیں پیدا ہوتی تھیں۔ وہ کو تاہی فکر سے اسے بہت بڑی طاقت سمجھتے تھے اور اس نے انھیں برخود غلط بنادیا تھا۔ اور دوسری چیز جس پر انھیں بڑا ناز تھا وہ ان کی فہم کو دانش اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت تھی جو ان کے مسلسل تجارتی اسفار اور مختلف ملکوں کے حالات سے آگاہ ہونے اور وہاں کے لوگوں سے ملنے کے نتیجے میں ان کے اندر پیدا ہوگئی تھی کہ وہ جزیرہ عرب کے دیگر رہنے والوں سے اپنے آپ کو ممتاز سمجھتے تھے اور یہی چیز ان کے قبولیتِ حق کے راستے میں رکاوٹ بن کر رہ گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کا حوالہ دے کر براہ راست انھیں خطاب فرما کر انھیں تاریخ کا آئینہ دکھایا ہے کہ تم اپنے آپ کو بڑی ہیبت و قوت کا مالک سمجھتے ہو حالانکہ تمہارا اقتدار مکہ کی سرزمین تک محدود ہے جبکہ قوم عاد جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا اور ان جیسی دوسری قومیں جو زمین کے بڑے حصے پر اقتدار رکھتی تھیں، وہ فوجوں کی مالک تھیں، ان کی اپنی تہذیب اور اپنا تمدن تھا اور ساتھ ساتھ ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل بھی عطا کیے تھے۔ یعنی وہ اپنے سمعی علوم، اپنی مشاہداتی قوت اور عقل و خرد کے کمالات میں بھی تم سے بڑھے ہوئے تھے۔ لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو ماننے سے انکار کردیا تو ان کی تمام علمی اور عملی قوتیں اور ان کا ہیبت و اقتدار ان کے کسی کام نہ آیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں جس عذاب سے ڈراتے تھے اور وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے تو آخر اسی عذاب نے انھیں گھیر لیا۔ قریش کے لوگو ! تمہیں اپنے پندار، اپنی خودپسندی اور اپنے تکبروغرور سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی آیات کو قبول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے نور سے اپنی آپ کو منور نہ کیا تو قوم عاد کی طرح تمہاری رسائی بھی محسوسات سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ آخرکار تم بھی اس عذاب کا شکار ہو کے رہو گے جس عذاب کا شکار عاد جیسی قومیں ہوئیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہی سے انسان کو حقیقت کا صحیح فہم و ادراک نصیب ہوتا ہے۔ پھر وہ آنکھوں سے ٹھیک دیکھتا ہے، کانوں سے ٹھیک سنتا ہے اور دل و دماغ سے ٹھیک سوچتا اور صحیح فیصلے کرتا ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
اور یہ بھی کہا :
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولیٰ مجھے صاحب جنوں کر
Ayah 46:27وَلَقَدْ اَھْلَـکْنَا مَا حَوْلَـکُمْ مِّنَ الْقُرٰی وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الاحقاف : 27)
(ہم ہلاک کرچکے ہیں تمہارے گردوپوش کی بہت سی بستیوں کو، اور ان کے لیے اپنی آیتیں گوناگوں پہلوئوں سے پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ )
قریش کو مکرر تنبیہ
اس آیت میں بھی قریش ہی سے خطاب ہے اور گزشتہ مضمون ہی پر زور دیا گیا ہے کہ اگر تم عاد کی تباہی کو دور کی بات سمجھتے ہو تو ان بستیوں کو دیکھو جن پر سے تم اپنے تجارتی اسفار میں گزرتے ہو۔ مراد اس سے قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ چونکہ مکہ کے ایک طرف یمن ہے اور دوسری جہت میں ملک شام۔ اور ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ان کو گردوپیش کی بستیاں قرار دیا ہے۔ اور ان بستیوں سے اپنے تجارتی سفروں میں قریش کو اکثر واسطہ پڑتا تھا۔ ان بستیوں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا جائزہ لو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول بھیجے۔ اور گوناگوں پہلوئوں سے اپنی آیات نازل فرمائیں۔ اور انھیں ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جب انھوں نے ہماری آیات قبول کرنے سے انکار کیا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ تو جس طرح انھوں نے ہمارے رسولوں کی ساری کاوشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے شیطان ہی کا اتباع کیا اور اپنی خواہشات کے پرستار بنے رہے، اگر تم نے بھی یہی رویہ اختیار کیا تو یقینا تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔
Ayah 46:28فَلَوْلاَ نَصَرَ ھُمْ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِھَۃً ط بَلْ ضَلُّوْا عَنْھُمْ ج وَذٰلِکَ اِفْـکُھُمْ وَمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الاحقاف : 28)
(پھر کیوں نہ ان کی مدد کی (ان ہستیوں نے) جن کو انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے تقرب کے لیے معبود بنا رکھا تھا، وہ سب ان سے کھوئے گئے اور یہ ان کا جھوٹ اور ان کا افترا تھا۔ )
مشرکین سے ایک سوال
قریش کا نام لیے بغیر ان سے ایک سوال کیا جارہا ہے کہ تم نے قوم عاد کی طرح بعض ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات میں اس لیے شریک کر رکھا ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی۔ تو پھر قوم عاد یا دوسری قوموں کی بستیوں پر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جن ہستیوں کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا وہ ان کے کام کیوں نہ آئیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کو کیوں نہ بچایا ؟ بلکہ ایسے نازک وقت میں دور دور تک ان کا نشان نہ تھا۔ اور وہ ان سے اس طرح گم ہوگئے جیسے ان کا کوئی وجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ان ہستیوں کے ماننے والوں کا اپنا جھوٹا تصور تھا جو انھوں نے قائم کر رکھا تھا۔ اور پھر انھوں نے اس کو اللہ تعالیٰ پر افترا بنا لیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرب ہستیاں ہیں جن کی وہ ہمیشہ سنتا اور اس کی سفارش قبول کرتا ہے۔ قیامت کے دن بھی مشرکین اسی انجام سے دوچار ہوں گے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی انھیں بچا کے لیے نہیں آئے گا۔
اس آیت کریمہ میں قُرْبَانًاکے لفظ سے ایک غلط فہمی بھی دور کی گئی ہے وہ یہ کہ مشرکین جن ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان کے بارے میں وہ کبھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ براہ راست ان کی پوجا کرتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کو صرف اس خیال سے پوجتے ہیں کہ وہ ہمیں خدا سے زیادہ قریب کردیں۔ یہی غلط فہمی ہمیشہ انھیں شرک میں مبتلا کرتی ہے۔ وہ آغاز میں ان کی عقیدت میں مبتلا ہوتے ہیں، پھر بڑھتے بڑھتے ان ہی ہستیوں کو مدد کے لیے پکارنے لگتے ہیں، انھیں سے دعائیں مانگتے اور ان ہی کو صاحب تصرف سمجھتے ہیں۔ اور یقین کرنے لگتے ہیں کہ ہماری فریادرسی اور مشکل کشائی یہی کریں گے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو کسی مشکل کشا نے ان کی مشکل کشائی نہیں کی۔ اور کسی فریادرس نے ان کی فریاد نہیں سنی اور کسی نے بھی اس برے وقت میں ان کی دستگیری نہیں کی۔ کیونکہ غلط فہمی یا خوش فہمی کا خمیازہ ہمیشہ اس کے ارتکاب کرنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی طرح مشرکین بھی اس سزا کو بھگتیں گے۔
Ayah 46:29وَاِذْ صَرَفْنَـآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ج فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ج فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 29)
(اور یاد کیجیے جب ہم نے پھیر دیا آپ کی طرف جنوں کے گروہ کو تاکہ وہ قرآن کریم سنیں، جب وہ اس جگہ پہنچے تو انھوں نے آپس میں کہا، خاموش ہو کر سنو، جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف انذار کرنے والے بن کر لوٹے۔ )
جنوں کے استماعِ قرآن سے آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیات میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ مخالفین کے رویئے سے نہ دل گرفتہ ہوں اور نہ مایوس ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر کام کے مکمل ہونے کا ایک وقت مقرر ہے اس سے پہلے تدریجی مراحل سے گزرتے ہوئے بعض دفعہ حالات ایسے بھی پیش آتے ہیں جن سے مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی ناکام نہیں ہونے دے گا اور آپ جس مقصد کے لیے تشریف لائے ہیں وہ اپنے وقت میں پورا ہو کر رہے گا
طائف میں آپ کو جو روح فرسا واقعات پیش آئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مکہ ہو یا طائف ان دونوں شہروں کے رہنے والوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر ایکا کرلیا ہے اور آپ کی دعوت کی کامیابی کے امکانات کم سے کم ہوگئے ہیں۔ لیکن مخالفین کو کیا خبر کہ انھوں نے یہ رویہ اختیار کرکے درحقیقت اپنے آپ کو بہت بڑی نعمت سے محروم کرلیا ہے۔ آپ کی بعثت اور آپ پر قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے جو انسانوں پر ہوا۔ لیکن اہل مکہ اور اہل طائف نے اس کی قدر کرنے کی بجائے ناقدری کی انتہاء کردی ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ جو نعمت ان کے لیے نازل ہوئی ہے اس سے اگر وہ لوگ فائدہ نہیں اٹھا رہے تو اللہ تعالیٰ نے جنات کو اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا ہے۔ اور اس موقع کو پیدا کرنے میں نہ جنات کا کوئی دخل ہے اور نہ آنحضرت ﷺ کی کوئی کوشش، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف پھیر دیا جبکہ آپ طائف سے نہایت افسردہ دل کے ساتھ واپس آتے ہوئے راستے میں نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ نخلہ نسبتاً ایک سرسبز وادی ہے جو قرن المنازل سے کچھ آگے ہیں۔ اس میں دو جگہوں میں خاص طور پر پانی بھی ہے اور سبزہ بھی۔ جن میں سے ایک کا نام الزئمہ ہے اور دوسری کا نام السیل الکبیر ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک جگہ میں آنحضرت ﷺ رات کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے اور اس میں قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور اللہ تعالیٰ کے محض اپنی رحمت سے انھیں متوجہ کرنے پر انھیں قرآن کریم سننے کا موقع ملا۔ وہ لوگ چونکہ پہلے سے وحی الٰہی کی تعلیم سے واقف تھے، اس لیے انھوں نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ غیرمعمولی کلام اللہ تعالیٰ کے کلام کے سوا اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خاموش ہو کے اس کلام کو سنو۔ چناچہ خشوع اور آمادگی کے ساتھ اس کلام کو سننے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ اپنی قوم میں پہنچے تو اس کلام کے مبلغ اور منذر بن کر پہنچے۔ اور انھوں نے تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اس تبلیغ و دعوت کے لیے وقف کردیا جو اس کتاب کا اصل مقصد تھا۔
اس واقعہ کے بارے میں تمام روایات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ بطن نخلہ میں پیش آیا لیکن آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی اور نہ ان جنات نے آپ سے ملاقات کی۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو جنات کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی فکر اور قرآنی دعوت کی نشرواشاعت کے امکانات کے بارے میں جب انسانی کاوشیں مایوسی کا شکار ہونے لگتی ہیں تو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ غیرمعمولی طور پر محض اپنی رحمت سے نئے نئے امکانات پیدا فرما دیتا ہے جس سے اسلامی خدمات کو انجام دینے والوں کو حوصلہ ملتا اور نئی توانائی نصیب ہوتی ہے۔ جنات کا قرآن کریم کا سننا اور پھر اس سے متأثر ہو کر اپنی قوم کو دعوت دینا اور پھر مدینے تک آنحضرت ﷺ کی دعوت کا پہنچنا اور وہاں دلوں کا قبولیت کے لیے کھل جانا، یہ وہ امکانات تھے جو طائف کے روح فرسا سفر کے بعد اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور آنحضرت ﷺ کی کاوشوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔