45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsروح القرآن

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الجاثیۃ : 1، 2) (حٰ ۔ مٓ۔ اس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔ ) سورة کی تمہید قریش اور دیگر اہل مکہ کی تنقید کا اصل ہدف نبی کریم ﷺ کی نبوت، آپ پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی دعوت اور پیغام تھا۔ وہ آپ کی نبوت کا انکار تو کرتے تھے لیکن ان کے لیے آپ ﷺ کو دروغ گو کہنا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ آپ کی گزشتہ زندگی آپ کی صدق بیانی اور سچائی کی عملی شہادت تھی۔ اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ اہل مکہ کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھا۔ البتہ جو بات ان کے لیے اَن دیکھی اور نئی تھی اور جس کا انکار کرنا ان کے لیے چنداں مشکل نہ تھا وہ آپ پر نازل ہونے والی وحی اور کتاب تھی۔ وہ بار بار وحی کے بارے میں اشتباہات کا اظہار کرتے اور قرآن کریم کی معجزبیانی سے عاجز آکر اسے کبھی شعر سے تعبیر کرتے اور کبھی یہ الزام دھرتے کہ اسے آپ نے چند لوگوں کی مدد سے خود مرتب کیا ہے اور لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے وحی الٰہی کے حوالے سے اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس لیے مختلف طریقوں سے قرآن کریم کے حوالے سے وہ ہر زہ سرائی کرتے تھے۔ اور یہ بات بالکل عیاں تھی کہ اگر قرآن کریم کے بارے میں لوگوں کو اعتماد پیدا نہیں ہوتا کہ وہ واقعی وحی الٰہی ہے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ کی طرف سے پیش کیا جانے والا اللہ تعالیٰ کا پیغام بےمعنی ہو کر رہ جاتا تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے بالعموم سورتوں کے آغاز میں قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب کی صورت میں پیش کیا۔ اور بار بار اس کی عظمت اور رفعت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور اس کے انکار کی صورت میں تنبیہ اور ترہیب سے بھی کام لیا گیا ہے۔ چناچہ پیش نظر سورة کا آغاز بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ تمہیں سب سے پہلے اپنے ذہن سے قرآن کریم کے بارے میں باطل خیالات کو نکالنا چاہیے۔ اسے جس اہتمام اور احتیاط کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر نازل کیا جارہا ہے وہ اس کی اہمیت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور مزیدبرآں یہ کہ تمہیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ یعنی اس کی نازل کردہ کتاب کوئی لاوارث کتاب نہیں کہ اسے اگر قبول نہ کیا جائے اور اس کے بارے میں بےسروپا باتیں کہی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اور یا تمہاری شان و شوکت اور دولت و ثروت اور تمہاری جرأت اور ہمت اللہ تعالیٰ کی گرفت سے تمہیں بچا لے گی۔ اور تم اس کتاب میں پیش کیے جانے والے خیالات کے نفوذ کو اپنی طاقت سے روک دو گے۔ کیونکہ اس کتاب کے واسطے سے تمہیں جس خالق کائنات سے واسطہ پڑا ہے اس کی طاقت اور گرفت اتنی بےپناہ ہے کہ کوئی اس کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتا۔ اس نے اپنے آخری رسول پر آخری کتاب اس لیے نہیں اتاری کہ وہ لوگوں کے مذاق و تمسخر اور انکار و تکذیب کا نشانہ بن جائے۔ بلکہ اسے اس دنیا کا چلن اور قانون بننا ہے۔ انسانی زندگی کی کامیابیاں اسی کے دم سے وابستہ کردی گئی اور اسی قوم کے سپرد اس دھرتی کی قسمت کی جائے گی جو اس کتاب کی حامل بن کر اٹھے گی۔ اور کوئی چھوٹی بڑی قوت اس دعوت کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ کیونکہ جس ذات کا یہ پیغام ہے وہ عزیز بھی ہے اور غالب بھی ہے۔ مزید فرمایا کہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ حکیم بھی ہے۔ حکیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ہر قول و فعل حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی طرف سے نازل کی جانے والی کتاب کا حرف صرف اس کی حکمت و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس لحاظ سے جو لوگ اس کتاب میں غور و فکر کریں گے بالآخر وہ نہایت اعتماد کے ساتھ اسے نہ صرف قبول کرسکیں گے بلکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہی ان کی اول و آخر رہنما کتاب ہوگی۔ اور دوسرا مطلب حکیم ہونے کا یہ ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ نے آج تک اس کتاب کے بارے میں جیسی کچھ ہر زہ سرائی کی ہے اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان پر اس ذات کا غضب نازل ہوتا جو اپنی ذات میں عزیز بھی ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کا اس کے غضب سے آج تک بچے رہنا اور ان کی رسی کا دراز ہونا صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی ذات میں حکیم بھی ہے۔ یعنی کبھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اس کا اقتدار اپنی کچھ نزاکتیں بھی رکھتا ہے۔ وہ مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ جن کے اندر کچھ بھی صلاحیت ہے وہ اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنالیں۔ اور جو اپنے رویئے کے باعث قبولیت کی استعداد سے محروم ہوچکے ہیں ان پر اتمامِ حجت ہوجائے گا تاکہ قیامت کو وہ کوئی عذر پیش نہ کرسکیں۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لِاٰیٰتٍ لِّـلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 3) (بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ) قرآن کریم کی دعوت کے اثبات میں آفاق وانفس کے دلائل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی یہ آخری کتاب نوع انسانی کو جس ہدایت کی طرف بلا رہی ہے اور آنحضرت ﷺ شب و روز جن حقائق کی تبلیغ فرما رہے ہیں قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کرنے کے بعد اب ان حقائق پر دلائل کا آغاز کیا جارہا ہے اور اس کے لیے کسی ایک نشانی کا ذکر کرنے کی بجائے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور قرآن کریم کے دعوت کے حق میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ بلکہ انسان جس طرف بھی نگاہ اٹھاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے وجود، کائنات میں اس کے متصرف ہونے، اس کی وحدانیت اور قیامت کے روز انسان کے اعمال کی جواب دہی پر ایسی نشانیاں اور ایسے دلائل موجود ہیں کہ جس کا انکار کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ اس کے پائوں میں زمین کا بچھا ہوا بچھونا ہونا اور سر پر تنی ہوئی آسمان کی چھت اور زمین پر نباتات کی شکل میں بچھا ہوا خوان نعمت اور انسان کی زندگی کی ضرورت کے لیے زمین کی قوت روئیدگی، سورج کی چمکتی ہوئی دھوپ، چاند کا دمکتا ہوا اجالا، ہر طرف پھیلے ہوئے پانی کے ذخیرے، جگہ جگہ ابلتے ہوئے چشمے، ہر جگہ ہوا کا بےکراں سمندر، ہر روز صبح خنداں کا طلوع اور شام کو دن کے اجالے کا پردہ محجوب میں چھپ جانا، اور دن کی روشنی میں انسان کے لیے حصول معیشت کا پیغام، اور رات کی تاریکی میں انسان کے آرام و راحت کے لیے سکون، ایسی بیشمار نشانیاں ہیں جنھیں ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھتا، اپنے کانوں سے سنتا اور اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ لیکن یہ ساری نشانیاں اس شخص کے لیے کارآمد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور جن کے اندر ایمان کا ارادہ موجود نہیں ان کے لیے ان میں سے ہر نشانی بیکار ہے۔ کیونکہ کسی بھی چیز کے جاننے پہچاننے اور ماننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان کے اندر اس کا ارادہ پایا جاتا ہو اور اس کے اندر حقیقت کی جستجو اور منزل کی طلب ہو تو پھر وہ جدھر بھی دیکھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ ہر کہ بینم در جہاں غیرے تو نیست یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں

وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَـبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 4) (اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں۔ ) گزشتہ مضمون کے حق میں انسان کی خلقت اور ربوبیت سے استدلال گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت اور اس کی قدرت و حکمت اور اس کے پیغام کی صداقت اور حقانیت پر زمین و آسمان میں جابجا نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح خود انسان کی تخلیق میں اور انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نے زمین میں جو حیوانات پیدا کر رکھے ہیں ان میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اگر وہ اپنے وجود پر غور کرے کہ اس کے جدِامجد کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر نوع انسانی کے ہر فرد کی تخلیق کے لیے گندے پانی کی ایک بوند کو ذریعہ بنایا۔ میاں بیوی کے اختلاط سے جو مادہ منویہ بچے کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے اس میں بیشمار بیضے ہوتے ہیں جن میں سے کوئی ایک بیضہ ماں کے رحم میں داخل ہو کر بچے کے وجود کا سبب بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ حیرت انگیز نظام پھر ان بیشمار بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب اور پھر ماں کے رحم میں اس بیضے کا دخول یہ کون کرتا ہے ؟ پھر اسقرارِحمل کے بعد پانی خون کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر اس سے ایک لوتھڑا بنتا ہے، پھر اس میں انسانی جسم اور اس کے اعضاء کی تشکیل ہوتی ہے، پھر اس میں زندگی پیدا کی جاتی ہے، اور اب اسے زندہ رکھنے کے لیے گندے خون سے غذا مہیا کی جاتی ہے، اور پھر اس کی عمر، اس کی جنس، اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو تین جھلیوں میں نہایت احتیاط کے ساتھ نو مہینے تک مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے اور آخر وہ خوبصورت بچہ پیدائش کے عمل سے گزر کر ماں کی آغوش میں آتا ہے۔ پھر اس کے بچپن اور لڑکپن کی ضروریات کی فراہمی، پھر اس میں حواس خمسہ کا یکے بعد دیگرے عمل، پھر اسے جو ہر عقل جیسی نعمت کی عنایت و بخشش، ان میں سے ایک ایک بات انسان کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ آخر یہ سب کچھ کون کرتا ہے۔ کیا جن قوتوں کو قریش نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کیا وہ اس تخلیقی عمل میں کہیں بھی اپنا رول ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح انسانی ضروریات کے لیے وہ مختلف قسم کے حیوانات کو زمین پر پھیلا دیتا ہے۔ ان میں سے کوئی اس کے گوشت کھانے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، کسی کو باربرداری کے لیے پیدا کیا گیا ہے، کسی کو انسان کی سواری کے لیے بنایا گیا ہے۔ کیا ان میں سے ایک ایک نشانی اس قابل نہیں کہ آدمی اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور اس کی رہنمائی کا یقین پیدا کرے۔ اور یہ سوچے کہ جس پروردگار نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا اور پھر بیشمار نعمتوں کو اس کی خدمت میں لگا دیا اور ایسی ایسی صلاحیتوں سے نوازا جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کی گئی۔ کیا یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خود رو پودے کی طرح زمین پر پیدا ہو اور مل دل کر ختم ہوجائے۔ اور یا اس لیے ہے کہ وہ شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارے، نہ اس پر شریعت کی پابندی ہو اور نہ کوئی ایسا دن آئے جب اس سے اس کے افکار و اعمال کا جواب طلب کیا جائے اور اس کی زندگی کے ہر مرحلے کا حساب لیا جائے۔ کیا اللہ تعالیٰ جیسی حکیم ذات سے اس کی توقع کی جاسکتی ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر ان نشانیوں کو دیکھتے ہوئے اگر یقین کی دولت حاصل نہ ہو تو پھر قصور ان نشانیوں کا نہیں بلکہ اس شخص کا ہے جو ان نشانیوں کو دیکھتا ہے لیکن اس پر غور و فکر کی کبھی زحمت نہیں کرتا۔ جس کی ساری زندگی خواہشاتِ نفس کی پیروی میں گزر جاتی ہے اور وہ کبھی اپنی ذات کے گنبد سے باہر دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آنے جانے میں، اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مرجانے کے بعد، اور ہَوائوں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 5) (اور رات اور دن کے آنے جانے میں، اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مرجانے کے بعد، اور ہَوائوں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت کے اثبات کے لیے چند نشانیوں کا ذکر اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی حاکمیت اور انسانوں کے اعمال کی جزاء و سزا کے لیے قیامت کے وقوع کے اثبات کے لیے مزید چند نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ ہر نشانی ہر شخص کے لیے مفید نہیں ہوتی۔ اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ انسان ان نشانیوں کو غور و فکر کی نگاہ سے دیکھے۔ اور اس کے پیچھے جو حقیقی تصرف کرنے والی ذات ہے اسے جاننے کی کوشش کرے۔ ورنہ کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جو ان نشانیوں کو دیکھتے ہیں لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور جو لوگ ان سے کام لیتے ہیں ان کی منزل مادی ضروریات کی تکمیل کے سوا کوئی چیز نہیں ہوتی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی ان نشانیوں کی حقیقت سے بےبہرہ رہتے ہیں۔ آیت میں مذکور نشانیوں میں سے پہلی نشانی لیل و نہار کا اختلاف ہے۔ اختلاف سے مراد رات اور دن کی آمدوشُد بھی ہے اور دن اور رات کے اختلافِ مزاج کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ ان دونوں کے درمیان نسبت ضدین کی ہے۔ ایک خشک ہے اور دوسرا گرم۔ ایک پرسکون ہے اور دوسرا پر شور۔ ایک تاریک ہے اور دوسرا روشن۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کے باوجود دونوں میں انتہا درجہ کی سازگاری اور موافقت پائی جاتی ہے۔ انھیں انسان کی جس خدمت پر لگایا گیا ہے دونوں میں سے کوئی اس سے تخلف نہیں کرتا۔ اگر ان میں یہ گہری سازگاری نہ ہوتی تو زمین پر زندگی ناممکن ہوجاتی۔ اور اسی میں دوسری نشانی یہ ہے کہ دونوں پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ کبھی دن نے رات سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی اور کبھی رات نے دن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اپنے مالک و حاکم کے حکم کے مطابق ایک متعین رفتار کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔ نہ زمین کی گردش میں کبھی فرق آیا اور نہ آفتاب کی رفتار میں کبھی تبدیلی آئی۔ ایک پرہیبت حکمران کا مسلط کیا ہوا قانون ہے جس کے تحت ان کا سفر جاری ہے۔ متعین وقت میں دن بڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور رات کم ہونے لگتی ہے۔ پھر متعین موسم میں دونوں ایک دوسرے کے برابر ہوجاتے ہیں۔ پھر دن چھوٹا ہونا شروع ہوتا ہے اور رات بڑھتی جاتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ دونوں برابر ہوجاتے ہیں۔ اور ان کی رفتار اور گردش کے ساتھ جو حکمتیں وابستہ ہیں۔ وہ اس بات کی صحیح علامت ہیں کہ اگر یہاں مختلف دیوتائوں کی حکومت ہوتی، آسمان کسی ایک کے تابع ہوتا اور زمین کسی اور کے زیرفرمان ہوتی۔ تو نہ ان کے ذوق میں ہم رنگی رہتی، اور نہ وہ انسان کی جس خدمت پر مقرر کیے گئے ہیں اس کے بجالانے پر قادر ہوتے۔ دوسری جس نشانی کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے وہ آسمان سے رزق کا نزول ہے۔ اس رزق سے مراد پانی ہے۔ جو رزق کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس طرح سے مسبب کو سبب کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اور الفاظ کا یہ استعمال کوئی اجنبی چیز نہیں بلکہ کم و بیش ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ زمین مسلسل خشک سالی کی وجہ سے مردہ ہوجاتی ہے۔ ہر طرف دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے، پانی کے جوہڑ سوکھ جاتے ہیں، چشمے خشک ہوجاتے ہیں، اہل زمین کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے، لوگ موت کا انتظار کرنے لگتے ہیں کہ اچانک گھٹا اٹھتی ہے، بارش برستی ہے تو مردہ زمین میں زندگی کے آثار ابھرنے لگتے ہیں، جوہڑ پانی سے بھر جاتے ہیں، درختوں میں نئی نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، رگِ سنگ میں بھی خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے۔ اگر آسمان میں کسی اور ارادے کی حکومت ہوتی اور زمین میں کسی اور کا ارادہ کارفرما ہوتا اور دونوں کے دیوتا الگ الگ ہوتے تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لیے پانی برسائے اور ان کی زندگی کا سروسامان کرے۔ لیکن مردہ زمین پر آسمان کا پانی برسانا، اور پھر زمین کا اس سے سیراب ہونا۔ اور ہر طرف زندگی کی بہار کا لہلہا اٹھنا، یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا زمین اور آسمان میں کسی اور کا ارادہ کارفرما نہیں۔ اور اسی طرح اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جس ذات والا تبار کی نازل کردہ بارش سے مردہ زمین میں زندگی آجاتی ہے اسی ذات کے حکم سے انسانوں کو دوسری زندگی کیوں نہیں ملے گی۔ اور انسانوں کے اعمال کا حساب کتاب اس کے لیے کیوں مشکل ہوجائے گا۔ آیتِ کریمہ میں تیسری نشانی جو بیان کی گئی ہے وہ ہَوائوں کی گردش ہے۔ ہَوائوں کی گردش اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے اختیار میں ہوتی تو زمین پر انسانی زندگی پرخطر ہوتی۔ اگر اس پر تصرف کرنے والی ایک ذات کے سوا کوئی اور بھی ہوتی تو ہَوائوں کے چلنے کا جو لگابندھا نظام ہم دیکھتے ہیں یہ کبھی وجود میں نہ آتا۔ سانس جو انسان کی زندگی کی کلید ہے اگر ہوا کو روک دیا جائے تو زمین پر بسنے والی ہر مخلوق سانس نہ آنے کی وجہ سے مردہ ہوجائے۔ اسی طرح موسموں کی تبدیلیوں کا حیرت انگیز نظام ان ہی ہَوائوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے پروردگار نے ہَوائوں کا ایک غیرمعمولی ذخیرہ کُرّہ ہَوائی کی شکل میں فضا میں معلق کردیا ہے۔ اس میں وہ تمام عناصر پیدا کردیئے گئے ہیں جو زندہ مخلوقات کو سانس لینے کے لیے درکار ہیں۔ اور پھر اسی کُرّہ ہَوائی نے زمین کو بہت ساری آفاتِ سماوی سے محفوظ کر رکھا ہے۔ ان ہی ہَوائوں سے موسم کی حدت و برودت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی ہَوائیں کبھی بارش کی خوشخبریاں لے کر آتی ہے اور کبھی ان ہی ہَوائوں کے ذریعے سے قوموں پر عذاب نازل کیا جاتا ہے۔ یہ ایسی نشانیاں ہیں جو ہر عقل رکھنے والے شخص کو سوچنے اور صحیح منزل تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں۔ انسان سائنس کی ترقی سے اگرچہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا ہے کہ اس نے قدرت کے ان عناصر کو بڑی حد تک اپنے قابو میں کرلیا ہے لیکن سمندروں اور دریائوں میں اٹھنے والے طوفان، اوپر سے بےتحاشا برسنے والی بارشیں بعض دفعہ انسان کو جھنجھوڑتی ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی بڑی قوتیں ہیں جو قادرمطلق کے احکام کی پابند ہیں اور وہ جب چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے۔ لیکن ان باتوں سے صحیح استفادہ کے لیے وہ عقل سلیم درکار ہے جو غور و فکر کے راستے کی بھول بھلیوں میں الجھنے کی بجائے منزل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کے سنا رہے ہیں، تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے

تِلْـکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ ج فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَاللّٰہِ وَاٰیٰـتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 6) (یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کے سنا رہے ہیں، تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مخالفین کو ملامت کرتے ہوئے انھیں آئینہ دکھایا گیا ہے۔ تِلْـکَ سے اشارہ ان تمام آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف ہے جنھیں دلائل کے طور پر گزشتہ آیات میں پروردگار نے بیان فرمایا۔ جس میں ایک ایک دلیل اور ایک ایک نشانی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور اس کے روزجزاء و سزا کو ثابت کرتی ہے۔ جو شخص ان آیات پر غور و فکر کے بعد بھی ایمان نہیں لاتا تو اسے آخر اور کس دلیل کی حاجت ہے۔ جو شخص آفتاب کے طلوع ہونے کے بعد روشنی کے لیے شور مچاتا اور رات کو چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھ کر بھی وہ کسی اور چیز سے دل کی تسکین چاہتا ہو، جو مرغن غذائیں کھانے کے بعد بھی غذا کا طلبگار ہو اور آب حیات پینے کے بعد بھی پیاس کی شکایت کرتا ہو، تو ایسے شخص کے لیے اختلالِ دماغ کے سوا کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ اس سے بھی بڑھ کر حال اس شخص کا ہے جو پروردگار کے بیان کردہ دلائلِ انفس و آفاق کو سنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہدایت کے لیے بےچینی اور بےکلی کو دیکھتا ہے اور پھر بھی راہ ہدایت پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا تو یہ ایک ایسا شخص ہے جو قبولیتِ حق کی استعداد سے محروم کردیا گیا ہے۔
Ayahs 45:7–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اس جھوٹے بداعمال شخص کے لیے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، پھر وہ اپنے کفر پر اصرار کرتا ہے استکبار کے ساتھ، گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں، آپ اس کو ایک دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں

وَیْلٌ لِّـکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ۔ یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتْلٰی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّمُسْتَـکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الجاثیۃ : 7، 8) (تباہی ہے ہر اس جھوٹے بداعمال شخص کے لیے۔ جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، پھر وہ اپنے کفر پر اصرار کرتا ہے استکبار کے ساتھ، گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں، آپ اس کو ایک دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں۔ ) ہدایت سے محروم لوگوں کے اوصاف اس آیت کریمہ میں اس شخص کا تعارف کرایا گیا ہے جس پر قرآن کریم کے معجزانہ دلائل بھی اثرانداز نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کی اولین صفت یہ ہے کہ وہ پرلے درجے کے جھوٹے لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ کے رسیا ہونے کی وجہ سے سچائی سے انھیں کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ سچائی نہ صرف ان کے لیے اجنبی بن جاتی ہے بلکہ وہ اسے ایک کڑوی چیز سمجھ کر اس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف صفت ان کی یہ ہے کہ وہ خواہشاتِ نفس کے اسیر ہو کر ایسی زندگی کے خوگر بن جاتے ہیں جس میں انھیں ہر اچھا کام کرنے سے ضد ہوجاتی ہے۔ وہ برائی کی طرف لپکتے ہوئے جاتے ہیں اور نیکی کو اپنے لیے مصیبت سمجھتے ہیں۔ اور تیسری صفت ان میں یہ ہوتی ہے کہ وہ بظاہر اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتے ہیں لیکن ان کے اندر کا تکبر اور گھمنڈ انھیں اپنی روش سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اپنے زعم میں اپنے آپ کو اتنا بلند مرتبہ سمجھتے ہیں کہ نیکی کرنا یا اچھے لوگوں کی بات سننا ان کے لیے اپنے مرتبے اور مقام کو گرانے کے مترادف ہے۔ اور اگر ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا کہ انھوں نے اسے سنا ہی نہیں ہے اور ان کے کانوں میں ایسی گرانی ہے کہ جو ایسی باتیں کانوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ دراصل تصویر ہے تمام اشرافِ قریش کی۔ ان میں سے ایک ایک شخص اپنی حق سے بیزاری اور باطل سے محبت کی وجہ سے اس حد تک بگاڑ کا شکار ہوچکا ہے کہ ان میں سے ہر ایک شخص میں یہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ اس لیے پروردگار نے سب سے پہلے انھیں ہلاکت اور بربادی کی خبر دی۔ اور ساتھ ہی یہ فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو عذاب الیم کا مژدہ سنا دیجیے۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ جان لیتا ہے ہماری آیات میں سے کوئی بات، تو اس کو مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے

وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰـتِنَا شَیْئَا نِ اتَّخَذَھَا ھُزُوًا ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (الجاثیۃ : 9) (اور جب وہ جان لیتا ہے ہماری آیات میں سے کوئی بات، تو اس کو مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ ) حق کو بےاثر کرنے کا حربہ اوپر کی آیت میں اشرارِقریش کا یہ رویہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کے سامنے آنحضرت ﷺ یا کوئی مسلمان قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتا ہے تو وہ ایسا متکبرانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے انھوں نے اس قرآن کو سنا ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے آپ کو قرآن کریم سننے سے بہت بالابلند سمجھتے ہیں۔ اور قرآن کریم کو ایسی کتاب سمجھتے ہیں جسے محمد ﷺ جیسے غریب اور نادار آدمی نے خود لکھ لیا ہے۔ اور اس میں جو باتیں کہیں گئی ہیں وہ ان لوگوں کے کام کی ہیں جو دنیوی اعتبار سے بڑی محدود اور فروتر زندگی گزارتے ہیں اور جن کی زندگی کے غریبانہ اسلوب کی وجہ سے ان کی سوچ بھی نہایت چھوٹی اور محدود ہوتی ہے۔ اور ہم جیسے لوگ جو وسیع تر کاروبار کے مالک اور ملکوں ملکوں گھومنے والے ہیں اور جن کا ذہنی افق بہت روشن اور بہت بلند ہے ان کا ایسی باتوں سے کیا مطلب۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب کسی واسطے سے قرآن کریم کی کوئی آیت ان تک پہنچ جاتی ہے یا قرآن کریم میں بیان کردہ احکام میں سے کسی حکم سے انھیں آگاہی ہوتی ہے، یا قرآن کریم کی پرازحکمت نصیحتوں میں سے کوئی نصیحت ان کے سامنے ذکر کی جاتی ہے تو وہ اسے مذاق کا موضوع بنا لیتے ہیں اور اس طرح سے اسے باتوں میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ اس سے اثر قبول نہ کریں۔ لیکن ان کی چونکہ بنیادی بیماری غرور اور تکبر ہے اس لیے فرمایا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کو رسوا کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔ اس کی نوعیت کیا ہوگی کہ لوگ بھی انھیں ذلیل سمجھیں اور یہ خود اپنی آنکھوں میں بھی ذلیل ہو کر رہ جائیں۔ اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس عذاب میں ایسی کیا بات ہوگی جس سے رسوائی ٹپک رہی ہوگی۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے، اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی، اور نہ وہ ان کے کام آئیں گے جنھیں اللہ کو چھوڑ کر انھوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِہِمْ جَھَنَّمُ ج وَلاَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ مَّاکَسَبُوْا شَیْـًٔاوَّلاَ مَااتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَـآئَ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (الجاثیۃ : 10) (ان کے آگے جہنم ہے، اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی، اور نہ وہ ان کے کام آئیں گے جنھیں اللہ کو چھوڑ کر انھوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ) قرآن کریم کے مقابلے میں تکبر کا انجام قرآن کریم کے بارے میں جن لوگوں نے وہ متکبرانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے، ان کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آج تو یہ کبر و غرور کی وجہ سے قرآن کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے، لیکن قیامت کے روز ان کے آگے جہنم ان کی منتظر ہوگی۔ وَرَآئِ کا لفظ آگے اور پیچھے دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، جس طرح اردو میں ورے اور پرے کہا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کا تعین کہ کس جگہ کون سا معنی مراد ہے، موقع و محل سے ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اس آیت کا ترجمہ یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ان کے پیچھے جہنم ہے۔ اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے آگے جہنم ہے۔ اور ان کے رویئے کو دیکھتے ہوئے دونوں معنی بھی بیک وقت لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی ہر بات کو نظرانداز کرتے ہوئے منہ اٹھائے شیطان کے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں اور انھیں احساس ہی نہیں کہ ان کے سامنے جہنم ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ آخرت سے بےپرواہ ہو کر جس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور قرآن کریم کی رہنمائی کو قبول کرنے کی بجائے جس طرح اس کا راستہ روکنے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں انھیں اندازہ ہی نہیں کہ جہنم ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اور پھر جہنم ایسی جگہ ہے جس میں کوئی عمل کسی کے کام نہیں آئے گا۔ نہ ان کا اندوختہ ان کی مشکل میں معاون ہوسکے گا۔ اور جنھیں انھوں نے بڑی قوتوں کا مالک سمجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور ہرحال میں ان کی مدد پر بھروسہ ہے۔ اور اسی طرح وہ دنیوی رہنما جن کی رہنمائی اور اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دین کو نظرانداز کر رکھا ہے اور آنکھیں بند کرکے ان کی پیروی کی جارہی ہے، وہ بھی اپنے پیچھے چلنے والوں اور اپنے ماننے والوں کے کام نہیں آسکیں گے۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے لیکن ان کی فریاد سنی نہیں جائے گی۔ اس کی بجائے انھیں ایسا عذاب دیا جائے گا جس کی ہولناکی کا آج اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اولاً تو عذاب ہی ناقابلِ برداشت چیز ہے۔ اور پھر جسے اللہ تعالیٰ عظیم قرار دے وہ کیسا ہوگا، اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

(یہ قرآن) سراسر ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے کپکپی پیدا کردینے والا دردناک عذاب ہے

ھٰذَا ھُدًی ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۔ (الجاثیۃ : 11) (یہ قرآن) سراسر ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے کپکپی پیدا کردینے والا دردناک عذاب ہے۔ ) قرآن کریم سے متعلق قول فیصل اور مخالفین کا انجام رِجْزٍاس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کردے۔ رکوع کے آخر میں قرآن کریم کے حوالے سے مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جسے فیصلہ کن اور آخری بات کہنا چاہیے۔ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب، کتاب ہدایت ہے۔ انسان زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی کا محتاج ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حواس دیئے ہیں اور عقل عطا فرمائی ہے۔ یہ دونوں ہی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہونے کے باوجود نہ غلطیوں سے مبرا ہیں اور نہ نارسائی سے۔ اس لیے وہ اصولی باتیں جو انسانی زندگی پر بہرصورت اثرانداز ہوتی ہیں اور وہ اجتماعی معاملات جن کے بارے میں قول فیصل تلاش کرلینا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اسی طرح وہ نظریات اور اعتقادات جن کا تعلق مغیبات یا عالم غیب سے ہے، ان میں اگر کوئی ایسی رہنمائی ہوسکتی ہے جو ہر طرح کی غلطی اور نارسائی سے پاک ہو، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہے جسے اس نے تکمیلی شان کے ساتھ نوع انسانی کے لیے قرآن کریم کی شکل میں فرمایا۔ یہ وہ ہدایت اور رہنمائی ہے جو انسان کی بھلائی اور کامیابی کے لیے قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور جو انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ جو لوگ اس رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں یا اس کا راستہ روکنے کے لیے اندھی مخالفت شروع کردیتے، یا اتباعِ ہویٰ کے باعث اس کی طرف سے لاپرواہی اور بےنیازی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی آیات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ ان کی دنیا بھی تباہ کر دے گا اور آخرت میں ایسے عذاب کا باعث بنے گا جو کپکپا دینے والا نہایت دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار رہو

اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَلَـکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْـکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 12) (اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار رہو۔ ) جملہ ہائے معترضہ کے بعد اصل مضمون کا اجرا گزشتہ چار آیتوں سے پہلے توحید اور معاد پر دلائل دیئے جارہے تھے کہ قریش کے لیڈروں کو تنبیہ کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر چار آیتیں نازل کی گئیں۔ اس طرح انھیں ہوشیار کرکے پھر اسی سلسلہ ٔ بیان کو شروع کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لیے دریا اور سمندر کو مسخر کردیا۔ تم اگر اپنے طور سے سمندر یا دریائوں کی موجوں پر قابو پانا چاہو تو تمہارے بس کی بات نہیں۔ جب اس میں طغیانی آتی ہے اور اس کی موجیں بپھرتی ہیں تو انسان کی تمام حفاظتی تدبیریں دھری رہ جاتی ہیں، بلکہ انسان تو اس کے سامنے اتنا بےبس ہے کہ وہ معمولی لوہے کی چیزیں بھی پانی کی سطح پر رکھتا ہے تو فوراً ڈوب جاتی ہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے کہ کشتیاں اور بحری جہاز تمہیں لے کر رواں دواں رہتے ہیں۔ نہ کشتی ڈوبتی ہے نہ تم ڈوبتے ہو نہ تمہارا تجارتی سامان ڈوبتا ہے۔ اگر پانی کو اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو وہ کبھی اس طرح سے تمہاری خدمت انجام نہ دیتا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوتا اور اس کے قادرمطلق ہونے کا تصور ابھرتا ہے اور اسی سے یہ بات ذہن میں اترتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خالق ہوتا اور پانی جیسے عناصر کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوتی تو یقینا کبھی نہ کبھی توافق کے اس قانون کو ضرور توڑتا جو اللہ تعالیٰ نے ان عناصر میں انسان کی خدمت کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ سمندر اپنی تمام تر قوت کے باوجود اس کے حکم میں بندھا ہوا ہے اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ کبھی وہ انسان کو ازسرنو زندہ کرے اور اپنے عدل کے ظہور کے لیے محشر بپا کرے۔ انسانوں پر اپنی نعمتوں کے اظہار کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پانی کو اس لیے مسخر کر رکھا ہے اور تمہاری کشتیاں اس لیے اس میں تیرتی پھرتی ہیں تاکہ تم اس کے ذریعے اپنا رزق تلاش کرو۔ یعنی تجارتی مال کشتیوں پر لاد کر دوسرے ملکوں میں جاؤ اور نفع کمائو۔ یا تم براہ راست ماہی گیری اور غواصی کے ذریعے مال کمائو۔ یا جہاز رانی کے دوسرے ذرائع سے رزق حلال حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے کہ تمہارے دلوں میں اس کی نعمتوں کا احساس پیدا ہو۔ اور اس طرح سے تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اس کے شکرگزار بندے بن کر رہو۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اپنی طرف سے، بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

وَسَخَّرَلَـکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَـکَّرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 13) (اور اسی نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اپنی طرف سے، بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ ) خاص کے بعد عام کا ذکر اوپر کی آیت میں سمندر کی تسخیر کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنی طاقت اور وسعت میں سب سے زیادہ زوردار اور بظاہر بالکل ناقابلِ تسخیر بھی ہے۔ اب یہ خاص کے بعد عام چیزوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو انسان کی خدمت میں براہ راست لگی ہوئی ہیں یا بالواسطہ انجام دے رہی ہیں اور مِنْہُکہہ کر انسان کی اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کی خدمت گزاری تمہارے کسی استحقاق کی وجہ سے نہیں اور نہ تم اس قابل ہو کہ اگر یہ خدمت انجام دینے سے انکار کردیں تو تم زبردستی ان سے خدمت لے سکتے ہو۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ہر چیز اس کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد انسان کی تفکر و تدبر کی صلاحیتوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کرکے دیکھیں کہ کیا ان میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے آزاد بھی ہے۔ بظاہر ان میں سورج جیسے بڑے کُرّے بھی شامل ہیں۔ اور بجلی جیسی خطرناک چیزیں بھی۔ لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آزاد نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کی نکیل ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے جو ہر چیز کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت استعمال کررہی ہے۔ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر تم ان میں سے بعض قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کیونکر قرار دے دیتے ہو۔ مزید حیران کن چیز جو ہر غور و فکر کرنے والے کو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں بیشتر عناصر میں تضاد و تخالف کی نسبت پائی جاتی ہے۔ لیکن انسان کی خدمت گزاری میں ان تمام میں گہری موافقت اور سازگاری پائی جاتی ہے۔ اور ہر ایک ان میں سے اس طرح اپنا فرض انجام دے رہا ہے جس سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ کسی بالاتر قوت کے قبضے میں ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہے۔ اور اس بالاتر قوت کا ارادہ ان تمام اشیاء پر حاوی ہے اور وہ ارادہ ایسا قوی ہے جس میں کسی اور کو دخل دینے کی جرأت نہیں ہوتی۔ غور و فکر سے مزید ایک حقیقت کے لیے راستہ کھلتا ہے وہ یہ کہ جس انسان کے لیے کائنات کا گوشہ گوشہ خدمت انجام دے رہا ہے اور کسی میں بھی یہ مجال نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرسکے۔ اور جس انسان پر بےپایاں رحمتوں کا نزول اور بےپایاں حکمتوں کا فیضان نچھاور ہورہا ہے کیا اسے کبھی ان رحمتوں اور حکمتوں کے حوالے سے پوچھا نہیں جائے گا۔ کیا اس کے لیے کبھی ایسا دن نہیں آئے گا جب وہ اپنے ان اعمال کا حساب دے جو اس نے اپنی زندگی میں انجام دیئے۔ اور ان اثرات کا بھی حساب دے جو صدیوں تک اس کے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوتے اور پھیلتے رہے ہیں۔ اور اس حساب کتاب کے نتیجے میں انھیں سزا دے جنھوں نے اس کی نعمتوں کا حق نہیں پہچانا اور اس کی نعمتوں کی ناقدری کی۔ اور انھیں جزاء اور انعام سے سرافراز فرمائے جنھوں نے اس روزجزاء پر یقین کرکے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کردیا۔ اگر یہ سب کچھ واقعی ایک حقیقت ہے تو پھر اس کے انکار کی انسان کے پاس آخر کیا گنجائش ہے۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کے دنوں کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجْزِیَ قَوْمًا م بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 14) (اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کے دنوں کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔ ) مسلمانوں کو تسلی ایام اللہ سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں کوئی بڑا معرکہ وقوع پذیر ہوا ہے اور اس نے قوم کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے یا جس میں کسی قوم پر رسول کی تکذیب یا اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی وجہ سے کبھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایام اللہ سے دوسرا معنی مراد معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ عذاب ہے جس سے مخالفین کو آنحضرت ﷺ بار بار ڈراتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آپ قیامت کے دن کی بازپرس سے بھی آگاہ کرتے تھے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مخالفین جس عذاب اور سزا سے دوچار ہونے والے تھے، اصل بڑا عذاب تو وہی تھا۔ لیکن یہ لوگ قیامت کے منکر ہونے کی وجہ سے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کردینے کے باعث ایسے کسی بھی اندیشے کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور اسی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو بےپناہ اذیتوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ انھیں کبھی بھول کر بھی یہ گمان نہیں ہوتا تھا کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں کبھی ہمیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ چناچہ ان کے اسی مکروہ رویئے کے حوالے سے اس سے پہلے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے، اب آنحضرت ﷺ کی زبان سے مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ کفار آپ کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں، آپ اس سے درگزر کریں۔ جس سے دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں کہ آپ اسے نظرانداز کریں اور یا اس سے درگزر کا معاملہ کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں ان کی جسارتیں ناقابل فہم نہیں۔ یہ چونکہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ رسول کی تکذیب اور اس پر ایمان لانے والوں کی اذیت رسانی کتنا بڑا جرم ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی نازل ہوسکتا ہے۔ اور اس سے پہلے ایک سے زیادہ مرتبہ اس طرح کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ اور کئی قومیں اس عذاب کی وجہ سے تباہ کی جاچکی ہیں۔ وہ شاید ان کی تباہی اور بربادی کو زمانے کے بگاڑ کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ اور یا ان کا گمان یہ تھا کہ ایسے حوادث دنیا میں پیش آتے ہی رہتے ہیں، یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ لیکن وہ یہ بات ماننے کو تیار نہ تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا جو محض ان کے کرتوتوں کے باعث ان پر نازل ہوا۔ مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کے رویئے سے درگزر کریں تاکہ آپ کے اس درگزر کے نتیجے میں ان کے مواخذے میں اور شدت پیدا ہوجائے اور آخر یہ اس انجام کے مستحق ہوجائیں جو ایسے لوگوں کا ہمیشہ مقدر رہا ہے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائو گے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْھَا ز ثُمَّ اِلٰی رَبِّـکُمْ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 15) (جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ) ایک اصولی بات مضمون کو سمیٹتے ہوئے آخر میں ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور یہ بات ایسی ہے کہ جو آدمی دنیا میں اخلاق کی حقیقت پر غور کرتا ہے وہ کبھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ قطع نظر اس سے کہ وہ آخرت کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ وہ اصولی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر شخص دو ہی طرح کے کام کرتا ہے بھلائی یا برائی، خیریا شر۔ اور ظاہر ہے کہ دونوں طرح کے اعمال کے نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ جو شخص کسی کو دعا دیتا ہے وہ جواب میں بھی دعا سنتا ہے۔ اور جو شخص کسی کو گالی دیتا ہے وہ جواب میں دعا کی توقع نہیں کرسکتا۔ کیونکہ گالی کا نتیجہ گالی کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ عمل اور ردعمل اور نتیجہ خیزی کے اصول کو دیکھتے ہوئے یہ بات انتہائی قرینِ عقل ہے کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا یا کسی کے ساتھ بھلائی کرے گا تو اس کا صلہ بھی اسے ہی ملے گا اور وہ اس کا پھل بھی خود ہی کھائے گا۔ اسی طرح جو شخص برائی کرتا ہے وہ بالآخر اس برائی کا پھل بھی خود ہی کاٹے گا، اور اس کا نتیجہ بھی خود ہی بھگتے گا۔ البتہ اس اصولی بات پر ایک اور بات کا اضافہ فرمایا گیا ہے جو بالعموم انسانوں کی فکری رسائی سے باہر سمجھا جاتا ہے حالانکہ اگر وہ عمل اور ردعمل کے نتیجے میں عدل کی حقیقت پر غور کرتے تو یہ بات عین قرین قیاس معلوم ہوتی۔ وہ اضافہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اسے تسلیم کرو یا نہ کرو لیکن یہ حقیقت ہے کہ تم سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ جس طرح ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے اس کائنات کی اصل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی کے کلمہ ٔ کن سے اس کو وجود ملا ہے، اسی کی ذات کے فیضان سے اس کی زندگی کے امکانات وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے اس بات سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ ایک دن تم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ جس شخص نے نیکی اور بھلائی کا عمل کیا ہوگا اس دن اس کا حقیقی ثمرہ اس کو ملے گا۔ اور جس نے برائی کی ہوگی وہ اس کا حقیقی عذاب اپنے سامنے پائے گا اور کسی طرح بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی، اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق سے نوازا اور دنیا والوں پر انھیں فضیلت عطا کی

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ ْیلَ الْـکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّـبُوَّۃَ وَرَزَقْنٰـھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰـھُمْ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 16) (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی، اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق سے نوازا اور دنیا والوں پر انھیں فضیلت عطا کی۔ ) بنی اسرائیل کا ذکر اور اس کا سبب اس سے پہلے کی آیات میں خطاب مشرکینِ عرب سے تھا اور تنقید زیادہ تر قریش اور اہل مکہ پر تھی لیکن اب اچانک بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔ یہ بظاہر ایک بےجوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کی دعوت میں انھیں کے عقائد اور انھیں کے معروفات کو سامنے رکھ کر بات کی جارہی تھی۔ لیکن یہ اچانک اس دعوت کے ضمن میں بنی اسرائیل کا ذکر کیسے شروع ہوگیا۔ اگر یہ کتاب کسی انسان کی تصنیف ہوتی تو ہم اس بےترتیبی کو مصنف کی کو تاہی فکر کا نتیجہ قرار دے دیتے اور یا حالات کے دبائو کا شاخسانہ سمجھتے۔ لیکن یہ کتاب تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں کوئی لفظ بھی بےسبب استعمال نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ ایک ایسی قوم کا ذکر شروع ہوجائے جس کا پیغمبر کی اولین دعوت سے کوئی براہ راست تعلق نہ ہو۔ اس لیے جب ہم اس پر غور کرتے اور تدبر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بےترتیبی کلام کے اندر نہیں بلکہ ہماری فکر میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ آیات نازل ہورہی تھیں اس وقت تک یہود کا طرزعمل بہت حد تک سامنے آچکا تھا۔ وہ اسلام دشمنی کے جوش میں ایک وقت تک تو خفیہ طریقے سے مشرکین کو اکساتے اور سوالات کی صورت میں ان کی مدد کرتے رہے تھے۔ لیکن اب انھوں نے بہت حد تک یہ نقاب اتار دیا تھا۔ اور کھلم کھلا انھوں نے مشرکین کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی۔ چونکہ یہود کی شہرت ایک حامل کتاب امت کی تھی اور اس لحاظ سے یہ پڑھے لکھے اور صاحب علم لوگ معروف تھے۔ اسی وجہ سے اہل عرب پر ان کا ایک علمی رعب تھا۔ وہ جو بات بھی کہتے عرب کے امی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اب جو انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار پورے زور و شور سے شروع کیا اور آپ کی دعوت میں طریقے طریقے سے کیڑے نکالنے شروع کیے تو اس سے مشرکین کو بہت حوصلہ ملا۔ اور ان کے یقین کو اس سے تقویت ملی کہ محمد ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں، بلکہ یہ محض ایک دعویٰ ہے جس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں۔ بنابریں یہ بات ضروری ہوگئی کہ دعوت کے نقطہ نگاہ سے بھی یہود کا پول کھول دیا جائے اور مشرکین کو ان کی اصل شکل دکھائی جائے تاکہ وہ اسلام کے بارے میں جو بھی رائے قائم کریں وہ ان کی اپنی رائے ہو۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات یہود کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے ان کی تاریخ کا آغاز پروردگار نے اپنے احسانات سے کیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کو اندازہ ہو کہ جس قوم نے بگاڑ اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا اور آج وہ عقیدہ و عمل کی ہر خرابی کا شکار ہے اس کا سبب حالات کا دبائو نہیں بلکہ ان کی اپنی بگڑی ہوئی سرشت ہے جس نے انھیں اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناشکری پر آمادہ کیا۔ اور پھر اس کے بعد ان کا بگاڑ بڑھتا چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو عظیم احسانات کیے ہیں ان میں پہلا احسان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب عطا فرمائی۔ اس سے مراد تورات ہے۔ یعنی ان کو زندگی گزارنے کا وہ ضابطہ عطا فرمایا جو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل رہنما تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی رہنمائی بھی حاصل تھی۔ اور دوسرا احسان ان پر یہ کیا کہ انھیں حکم عطا فرمایا۔ بعض اہل علم نے اس سے تین چیزیں مراد لی ہیں 1 کتاب کا علم و فہم، 2 کتاب کے منشاء کے مطابق کام کرنے کی حکمت، اور 3 معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ بلاشبہ یہ تینوں باتیں اس لفظ سے مراد لی جاسکتی ہیں اور قرآن کریم نے بعض جگہ اس لفظ کو ان ہی معانی کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہاں سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ بات زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ یہاں حکم سے مراد حکومت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صرف کتاب ہی عطا نہیں کی بلکہ اس کے عملی نفاذ کے لیے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی بخشی جسے صحیح معنی میں امت کہا جاسکتا ہے اور قطعہ زمین بھی دیا جس میں باقاعدہ ان احکام کا نفاذ ہوسکتا تھا۔ بحرِقلزم سے پار اترنے کے بعد بنی اسرائیل کسی خوشحال اور مہذب و مرتب ملک میں نہیں بسائے گئے بلکہ غلامی کی آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے انھیں صحرائے سینا میں بسایا گیا۔ یہاں اگرچہ خیموں کی بستیوں کے سوا کچھ نہ تھا لیکن احکام کا اجراء چونکہ افراد پر ہوتا ہے اور احکام کے فیصلے افراد کے معاملات پر ہوتے ہیں اس لیے احکام کو بروئے کار لانے کے لیے یہاں افراد بھی موجود تھے اور ان کے معاملات کی باہمی الجھنیں بھی موجود تھیں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بھی تھے جن کی حیثیت پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ حکمران کی بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیرموجودگی میں جن لوگوں نے عجل پرستی اختیار کی تھی آپ نے انھیں قتل کرنے کا حکم دیا اور اس پر عمل بھی کیا گیا۔ اور پھر مختلف اوقات میں صحرائے سینا میں طویل قیام کے دوران آپ اللہ تعالیٰ نے احکام ان پر نافذ فرماتے رہے۔ اور جب یوشع (علیہ السلام) کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اردن اور فلسطین کے شہروں پر حکومت قائم کرنے کا موقع دیا تو باقاعدہ متمدن ریاست کے قیام کے بعد تورات کا قانون نافذ کیا گیا۔ اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو کتاب عطا فرماتا ہے تو کتاب چونکہ احکام و قوانین کا مجموعہ ہوتی ہے تو اس کا وہ حصہ نفاذ سے محروم رہتا ہے جن میں اجتماعی قوانین اور احکام کا ذکر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کتاب کے نزول کے ساتھ کسی قطعہ ٔ زمین پر حکومت بھی عطا کرتا ہے تاکہ وہ قوم احکام کے نفاذ سے بیگانہ نہ رہے۔ پھر یہی حکومت ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرتی ہوئی حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے زمانے میں اپنی معراج کو پہنچی کہ جس کی نظیر اس زمانے میں تو خیر کیا ہوگی بعد کے ادوار میں بھی ویسی مکمل حکومت کبھی قائم نہ ہوسکی۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا تیسرا احسان یہ تھا کہ اس نے انھیں نبوت سے نوازا۔ یہاں نبوت سے مراد صرف کسی کا منصب نبوت پر فائز ہوجانا نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری تک جب بھی اللہ تعالیٰ نے مشرق وسطیٰ کی ہدایت کے لیے کسی کو نبوت عطا فرمائی تو اس کا تعلق بنی اسرائیل سے رہا ہے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ بنی اسرائیل نے وہ رویہ اختیار نہ کیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور حکومت و نبوت دونوں سے محروم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چوتھا احسان یہ فرمایا کہ انھیں فراوانی سے ایسے اسبابِ معیشت فراہم کیے جو نہایت طیب اور پاکیزہ تھے۔ جن کا آغاز ارض فلسطین پر ان کے قبضہ سے ہوا۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں یہ اپنے دورعروج کو پہنچ گیا۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا پانچواں احسان یہ ہے کہ انھیں اس وقت کی تمام دنیا پر فضیلت عطا فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت اور کتاب دے کر اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ تمہیں اس ہدایت سے دوسرے لوگوں کو باخبر کرنا ہے اور کتاب کی صورت میں جو تمہیں روشنی عطا کی گئی ہے اس روشنی کو باقی لوگوں کے لیے عام کرنا ہے۔ اور یہ بات بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہ تھی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب بھی وہ کسی قوم کو کتاب و نبوت دے کر اپنی خلق کی رہنمائی کے لیے چن لیتا ہے تو یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو اسے باقی تمام اقوام سے افضل بنا دیتی ہے۔ لیکن یہ فضیلت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ اپنا فرض ادا کرتی ہے۔ لیکن جب وہ قوم خلق کی رہنمائی کا یہ فریضہ انجام نہیں دیتی تو وہ اس فضیلت سے محروم کردی جاتی ہے۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں دین کے معاملے میں واضح ہدایات دیں پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا، آپس کی ضد سے، بیشک تیرا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

وَاٰتَیْنٰـھُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ ج فَمَااخْتَلَفُوْٓا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ ھُمُ الْعِلْمُ لا بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ط اِنَّ رَبَّـکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 17) (اور ہم نے انھیں دین کے معاملے میں واضح ہدایات دیں پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا، آپس کی ضد سے، بیشک تیرا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ) مزید ایک احسان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چھٹا احسان یہ کیا کہ انھیں دین کے معاملے میں واضح احکام دیئے۔ ” اَمر “ سے مراد دین اور شریعت ہے۔ بعض اہل علم نے اس سے صرف شریعت مراد لی ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مفہوم صرف یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو دین کے اصولی احکام دیئے یعنی بنیادی عقائد ان کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہ تھی۔ اور جو ان کو زندگی گزارنے کے احکام دیئے یعنی شریعت، جو ان کے لیے قوانین کا درجہ رکھتے تھے ان میں بھی کوئی ایچ پیچ نہیں تھا، ہر حکم بالکل واضح تھا۔ اور پھر اگر کہیں عملی دشواری پیش آئی تو اللہ تعالیٰ کے دو رسولوں کی سنت ان کی رہنمائی کے لیے موجود تھی۔ اور ممکن ہے اس سے مراد معجزات بھی ہوں۔ کیونکہ بعض دفعہ امتوں کے لیے کسی اقدام میں جب دشواری محسوس ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے رسول کا معجزہ ان کے لیے راستہ کھول دیتا ہے۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ ایسی واضح شریعت اور ایسے آسان احکام کی موجودگی میں بنی اسرائیل نے آپس میں ہزاروں اختلافات پیدا کرلیے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ایک امت مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر گروہ اپنی معلومات اور اپنی تعبیرات پر اس طرح جم گیا کہ اپنی بات میں ترمیم اور دوسرے کی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ ہر گروہ کو اصرار تھا کہ شریعت کے اس حکم کو جس طرح میں سمجھا ہوں وہی دراصل اس کی مراد ہے۔ اور دوسرے لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سراسر گمراہی اور بےدینی ہے۔ یہ آپس کی گروہ بندی اور گروہی تعصبات اور یہ آپس کی ضد اس نے دین کو میدانِ جنگ میں تبدیل کردیا۔ اپنی ہر اپچ کے حق میں دوراذکار تاویلیں تلاش کی گئیں اور اپنی ہر بات کے اثبات میں عجیب و غریب دلائل ڈھونڈے گئے۔ اس طرح سے انھوں نے نہ صرف اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی بلکہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی گمراہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہود کی جو قوم اپنے پاس کتاب رکھتے ہوئے محض اس لیے کتاب کی روح اور حقیقت سے بیگانہ ہوگئی کہ انھوں نے کتاب کی حقیقت پر نہیں بلکہ اپنے خیالات پر اصرار کے نتیجے میں کتاب کو غارت کردیا۔ اور طریقے طریقے سے اپنے گروہی مسلکوں کو اس میں داخل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اور اس طرح سے اپنے آپ کو حق سے محروم کردیا۔ تو کیا ایسی قوم سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسروں کو صحیح رہنمائی دے سکتی ہے۔ قریش نے ایسے اندھوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جنھوں نے صدیوں سے بصارت و بصیرت سے اپنی محرومی کو اپنی بصیرت سمجھ رکھا ہے۔ اور اپنی ان ہی گمراہیوں کے باعث ایک دوسرے کو گمراہ قرار دے رہے ہیں۔ آخر میں ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اختلافات ہی کو دین سمجھ کر حق سے اس حد تک دور چلے گئے ہیں کہ ان کے لیے حق کو قبول کرنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ان کے ان ہی اختلافات کو دور کرنے اور صراط مستقیم واضح کرنے کے لیے تشریف لائے۔ لیکن انھوں نے ان کی ہدایت کو قبول کرنے سے بھی انکار کردیا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا جن کی بنا پر یہ دنیا میں آپس میں لڑتے بھڑتے رہے۔ اور وہ ان پر یہ بات واضح کردے گا کہ یہ لوگ کس حد تک حق بجانب تھے اور کس حد تک محض ان کی ضد، ہٹ دھرمی، بات کی پچ اور حریف کو شکست دینے کی خواہش ان کے دین پر غالب آتی رہی۔