44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsروح القرآن

Ayah 44:1
حٰـمٓ۔ ( حٰ مٓ) (الدخان : 1) یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کے بارے میں ضروری گزارشات ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔
Ayah 44:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے کتاب مبین کی

وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الدخان : 2) (قسم ہے کتاب مبین کی۔ ) قسم کا مفہوم اس آیت میں وائو قسم کے لیے ہے۔ اور الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِکی قسم کھائی گئی ہے۔ ہم متعدد مواقع پر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسم دلیل ہوتی ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم کہلاتا ہے اور اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ انسانی تحریر و خطاب میں بالعموم کسی بات کے اثبات کے لیے دعویٰ پہلے لایا جاتا ہے پھر اس کے ثبوت کے لیے دلیل پیش کی جاتی ہے۔ لیکن قرآن کریم کا اسلوب اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں قسم یعنی دلیل پہلے آتی ہے اور دعویٰ اس کے بعد آتا ہے جسے جوابِ قسم یا مقسم علیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک انسان اگر دوسرے انسان کی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردے تو اس سے کوئی بڑی خطرناک صورتحال پیدا نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ اسے عقل عام کی مخالفت یا آزادیِ رائے کا بےمحل استعمال کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کسی بات کو تسلیم کرنے سے انکار درحقیقت ایمان و کفر کے سوال کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے وحی الٰہی یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں میں فطری طریقے کو استعمال کرتے ہوئے دلیل کو پہلے لایا جاتا ہے تاکہ دعویٰ کی قبولیت کے لیے دل و دماغ کی زمین کو ہموار کیا جاسکے۔ تفہیم کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان زمین سے اپنی روزی پیدا کرتا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو فطری طریقہ اختیار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے وہ زمین کو تخم ریزی کے لیے ہموار کرتا ہے، کھائیوں کو پُر کرتا ہے، ٹیلوں کو اٹھاتا ہے، قدآور درختوں کو اکھاڑتا ہے اور جڑی بوٹیوں سے زمین کے سینے کو خالی کرتا ہے تاکہ جو تخم بھی بویا جائے اسے اپنی جگہ بنانے میں دشواری پیش نہ آئے۔ یہی فطری طریقہ قرآن کریم نے بھی استعمال کیا ہے۔ وہ دل و دماغ کو زمین سے تشبیہ دیتا ہے اور ایمان اور صالح افکار کو بیج کی حیثیت سے دلوں اور دماغوں میں کاشت کرتا ہے۔ اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ زمین اس بیج کو قبول کرنے کے قابل ہو۔ سوال یہ ہے کہ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ تو قسم ہے لیکن کا جوابِ قسم مذکور نہیں بلکہ محذوف ہے اور قرائن اس پر دلالت کررہے ہیں اور ان قرائن کی تفصیل اگلی آیات میں ہے۔
Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے

اِنَّـآ اَنْزَلْـنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۔ (الدخان : 3) (بےشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے۔ ) قرآن کریم کی جلالتِ قدر اس کتاب کی عظمت اور جلالتِ قدر کا عالم یہ ہے کہ ہم نے اسے ایک خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے اور یہ خیروبرکت والی رات وہی ہے جسے سورة القدر میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے اور جس کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس رات کی عبادت کی فضیلت اور اس رات میں ہونے والے فیصلوں کی اثراندازی کی کیفیت یہ ہے کہ جو کام ہزار مہینے میں طے پاتا ہے اور اپنے بےپناہ اثرات رکھتا ہے اس رات میں ہونے والا کام ہزار مہینے سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور سورة البقرۃ میں فرمایا گیا کہ جس رات میں قرآن کریم نازل کیا گیا وہ شہررمضان کی رات تھی۔ اور شہررمضان اپنے اندر کیا فضیلتیں، کیسی اثراندازیاں اور کیسی وسعتیں رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ آنحضرت ﷺ کے صرف ایک ارشاد سے ہوجاتا ہے۔ لَوْیَعْلَمُ الْعِبْادُ مَا فِیْ رَمَضَانَ لَتَمَنَّتْ اُمَّتِیْ اَنْ تَـکُوْنَ السَّنَۃُ کُلُّھَا رَمَضَانَ ” اگر لوگ جان لیں کہ رمضان میں کیا ملتا ہے تو میری امت تمنا کرے کہ کاش سارا سال رمضان ہی رہے۔ “ جو کتاب اس برکتوں سے بھرپور مہینے کی سعادت و فضیلت سے گراں بار رات میں نازل کی گئی ہے اس کے لیے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کتاب اپنے اندر کیسی جامعیت رکھتی ہے۔ چناچہ اس جوابِ قسم کو محذوف کردیا گیا اور اس پر دلیل یہ پیش کی گئی کہ تم اس کتاب کی جامعیت، اس کی وسعت فکر، اس کے استدلال کی قوت اور اس کی معجزانہ شان کو دیکھنا چاہو تو اس کتاب کو پڑھ کر دیکھو یہ آفتاب کی مانند خود اپنے وجود پر دلیل ہے۔ مزید فرمایا اس کتاب کا مقصدنزول یہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے قیامت تک آنے والے انسانوں کو انذار کرنے کا رادہ رکھتے ہیں۔ جس کتاب کا مقصدنزول اس قدر وسیع ہو کہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی اولادِآدم اور ان کے احساسات کی رنگا رنگی ان کی عقلوں میں بےپناہ تفاوت، ان کی ضرورتوں میں انتہا درجہ تنوع اور ان کے لیے ایک ایسے قانون کی تدوین جو قیامت تک کے انسانوں کی ضرورت کے لیے کافی ہو۔ اور ایسے دلائل کی فراہمی جو ان کے دل و دماغ کی تشفی کا کام دے سکے۔ جو کتاب ان تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہو ایسی کتاب، کتاب مبین کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے کم سے کم جو بات دلیل کے انداز میں کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے کتاب مبین ہونا چاہیے۔
Ayahs 44:4–6

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

خاص آپ کے رب کی رحمت سے، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیْمٍ ۔ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الدخان : 4، 6) (اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ خاص آپ کے رب کی رحمت سے، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ ) لَیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ کی وضاحت جس شب میں قرآن اتارا گیا ہے اس شب کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کے جتنے اہم امور ہیں بالخصوص جن کا تعلق انسانی بھلائی سے ہے ان کے حکیمانہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی رات میں کیے جاتے ہیں اور سورة القدر کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اسی رات میں وہ فیصلے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق وقت مقرر پر ان فیصلوں کو روبعمل لائیں اور ان کی تنفیذ کریں۔ معاملہ عطا و بخشش کا ہو یا امساک و محرومی کا اپنے اپنے وقتوں میں سب کو انجام دیا جائے۔ غور کیجیے کہ نزول قرآن کی جس رات میں معاملات کے حکیمانہ فیصلہ ہوتے ہیں، لوگوں کی قسمتیں بنتی یا بگڑتی ہیں اور قضا و قدر کے کارکنان کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں اس رات میں جو کتاب نازل ہوگی یا اس کے نزول کا آغاز ہوگا کیا اس کے نزول کے بعد اس کتاب سے ہٹ کر لوگوں کی عزت و ذلت اور رفعت و تنزل کے فیصلے ہوں گے ؟ یقینا ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے شاید ان ہی آیات سے کشید کرکے یہ بات فرمائی اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْـکِتٰبِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ ” بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب سے قوموں کو اٹھائے گا اور دوسروں کو اسی کی وجہ سے گرائے گا۔ “ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اس کتاب پر ایمان لائیں گے، اس کے مطابق عمل کریں گے، اپنی اجتماعی زندگی میں اس کے قانون کو نافذ کریں گے اور اس کی حکمتوں کو اپنا شعار بنائیں گے، اور اس کے مقاصد کو اپنی منزل ٹھہرائیں گے، اللہ تعالیٰ انھیں دنیا و عقبیٰ میں عزت و رفعت سے نوازے گا۔ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لانے سے انکار کردیں گے یا اس پر عمل کرنے سے گریز کریں گے یا اسے ماننے کے باوجود اس کے قانون کو نافذ کرنے سے انکار کریں گے اور اسے شایانِ شان مقام دینے سے گریز کریں گے اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی ذلیل کرے گا اور آخرت میں بھی رسوا کرے گا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت رحمت ہے مزید فرمایا کہ قریش اور دیگر مخالفین نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کو اپنے لیے زحمت سمجھ رکھا ہے اور وہ اپنی مادرپدر آزادی سے دستبرداری کو غلامی کے ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے اسی مبارک رات میں لوگوں کی ہدایت اور ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کے لیے آپ کی بعثت کا فیصلہ کیا تھا۔ جو لوگ آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کو ضابطہ ٔ حیات کے طور پر قبول کریں گے آپ کی ذات اور یہ کتاب ان کے لیے رحمت ثابت ہوگی، آسمان کی برکتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ ان کے قدموں کے نیچے سے رزق ابلے گا، ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی شائستگی، شستگی، حقوق و فرائض کی ادائیگی اور سکون و طمانیت کی تصویر ہوگی، ان کا لوہا ہر لوہے کو کاٹے گا، تمام عناصرِقدرت ان کی ہم رکابی میں چلیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوں گے۔ اور یہ محض خیالی باتیں نہیں بلکہ ان کی زمام کار اور ان کی قسمتوں کے فیصلے اس کے پروردگار کے ہاتھ میں ہوں گے جو سمیع بھی ہے اور علیم بھی۔ وہ جس طرح اپنی مخلوق کو شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑنا چاہتا، اسی طرح وہ اپنے ماننے والوں کو کبھی دوسروں کے مقابلے میں کسی پہلو سے بھی فروتر نہیں چھوڑتا۔ تعمیل کرنے والے نوازے جائیں گے اور سرکشی کا رویہ اختیار کرنے والے تباہ ہوجائیں گے۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا م اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۔ (الدخان : 7) (آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ ہم نے اس مبارک رات میں ایک رسول کی بعثت کا فیصلہ کیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے سراسر رحمت بن کر آئے۔ اس کی وجہ سے دنیا کی قسمت بدلی اور صدیوں کی محرومیوں نے خوشیوں کا راستہ دیکھا انسان اپنے مقدر سے آشنا ہوا اور اسے انسانیت کے ادراک کی دولت ملی۔ اس اتنی بڑی رحمت کو یہ نہ سمجھا جائے کہ محض انسانوں کے لیے ایک بشارت ہے جس کے قبول اور عدم قبول پر کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہوگا۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ یہ محض کوئی ہَوائی بات نہیں بلکہ یہ اس ذات کی طرف سے انسانی ہدایت کا سامان کیا گیا ہے جو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے۔ قسمتیں جس کے قبضے میں ہیں اور جو خالق ومالک ہی نہیں ربوبیت کا دسترخوان بھی اسی کی رحمت سے بچھا ہوا ہے۔ اگر تمہیں واقعی اس بات پر یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس تمام کائنات کا خالق ومالک ہے اور وہی سب کا رب بھی ہے تو پھر تمہارے لیے یہ انتہائی فکر کی بات ہے کہ ارض و سماء کے اس رب نے اس رسول کو مبعوث کیا اور اس پر کتاب اتاری۔ اور تم اس کا مذاق اڑائو یا ماننے سے انکار کرو تو سوچ لو کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کوئی معبود اس کے سوا نہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب

لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط رَبُّـکُمْ وَرَبُّ اٰبَـآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الدخان : 8) (کوئی معبود اس کے سوا نہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب۔ ) یہ گزشتہ مضمون کا تسلسل ہے کہ وہی ذات جو آسمانوں اور زمین کی رب ہے اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں جس کی بندگی یا جس کی سفارش تمہارے کام آسکے۔ زندگی اور موت سب اسی کے اختیار میں ہے، وہی تمہارا بھی رب ہے اور وہی تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارے آبائواجداد نے اس کے علاوہ کسی اور کی پوجا کی، کسی اور کی بندگی بجا لائے تو یہ ان کی غلطی تھی اس کا خمیازہ انھیں قیامت کے دن بھگتنا پڑے گا۔ ان کی غلطیوں کو اپنے لیے دلیل مت بنائو، وہ اپنی غلطیوں کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور تم ان کے اتباعِ ناحق میں مارے جاؤ گے۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں

بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ ۔ (الدخان : 9) (بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ ) ایمان نہ لانے کا اصل سبب اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ کو آنحضرت ﷺ کی دعوت کی مخالفت کے باوجود اپنے طرزعمل کے برحق ہونے کا کامل یقین نہیں۔ کیونکہ وہ بار بار ایسے نازک لمحات سے دوچار ہوتے ہیں۔ جب وہ توحید سے انکار کے باوجود صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔ جب بحری سفر میں ان کی کشتیاں بھنور میں پھنس جاتی ہیں تو پھر ان کے دل سے آواز اٹھتی ہے کہ اس صورتحال سے بچانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، لیکن جیسے ہی کنارے پر پہنچتے ہیں ان کے پرانے خیالات ان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اور وہ ان کے سامنے سپرانداز ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت وہ زندگی کے معاملے میں دین کے حوالے سے سنجیدگی کے حامل نہیں۔ وہ اپنے کاروبار اور عیش و عشرت کے اسباب پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملات میں ایک سرسری نگاہ اور معمولی توجہ کے سوا ان سے کسی بات کی امید نہیں کی جاسکتی۔ تو جن لوگوں کی روش کا عالم یہ ہو کہ وہ اپنی خواہشات کی غلامی کے سوا زندگی کے کسی معاملے میں سنجیدہ نہ ہوں انھیں قائل کرنا اور انھیں ہدایت کے راستے پر ڈالنا یہ آپ کا کام نہیں۔ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغ و دعوت ہے انھیں منوانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ یہ اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوں گے جب تک عذاب کا تازیانہ نہ دیکھ لیں۔ اس لیے آپ دل گرفتہ ہونے کی بجائے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہے۔

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ۔ یَّغْشَی النَّاسَ ط ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الدخان : 10، 11) (پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا۔ اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ ) مخالفین کو تہدید انسانوں کی ہدایت کے لیے نبی کریم ﷺ جیسے عظیم رسول کی تشریف آوری اور قرآن کریم جیسی بلند مرتبت کتاب کا نزول اور وہ بھی ایک ایسی رات میں جس میں تمام ایسے امور کا فیصلہ ہوتا ہے جو کائنات کی قسمت بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انسانوں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، جس میں وہ امور طے پاتے ہیں جس سے قوموں کا عروج وزوال وابستہ ہے۔ اسی رات کے فیصلے کے مطابق آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اور پھر جس رسول اور کتاب کے لائے ہوئے دین کے حوالے سے یہ بات واضح کردی گئی کہ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جو شخص اس کی تعلیمات کو قبول نہیں کرے گا وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہے گا۔ اسی طرح اس بات کو تنبیہ کے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی آخرالزماں اور قرآن پاک کی تعلیمات اس ذات کا پیغام ہے جو آسمان و زمین کی رب ہے اور جس کے سوا کائنات کا کوئی اور اِلٰہ نہیں، زندگی اور موت کا سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تمہارا بھی وہی پروردگار ہے اور تمہارے آبائواجداد کا بھی وہی پروردگار ہے۔ یہ سب کچھ کہنے اور نازل کرنے کے باوجود قریش اور دیگر اہل مکہ ہیں جو اس رسول اور اس قرآن کے بارے میں شک و ارتیاب میں مبتلا ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر نبی آخرالزماں کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول کے بعد بھی ان لوگوں کا یہ حال ہے جن کی طرف براہ راست آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی ہے تو پھر ان سے کسی خیر کی توقع کرنا اور ان کے بارے میں ہدایت کی امید رکھنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان دھواں لیے ہوئے آئے گا اور لوگوں کو ڈھانپ لے گا اور یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دردناک عذاب ہوگا۔ اسے قیامت کے دن وقوع پذیر ہونے والا واقعہ کہا جائے یا قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت قرار دیا جائے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ یہ دونوں وقت ہدایت کے لیے نہیں بلکہ سزا کے لیے یا زیادہ سے زیادہ اتمامِ حجت کے لیے ہوں گے۔ اور وہ لوگ اس میں یقینا پکڑے جائیں گے جنھوں نے دنیا میں نبی آخرالزماں ﷺ جیسے رسول اور ان کی تبلیغی کاوشوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ انھوں نے دنیا کو ہدایت کی روشنی سے بھر دیا لیکن قسمتوں کے اندھے، اندھے ہی رہے۔ ان کے لیے تو قیامت کے عذاب الیم ہی کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم سے عذاب دور کردے ہم ایمان لانے والے بنیں گے

رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الدخان : 12) (اے ہمارے رب ہم سے عذاب دور کردے ہم ایمان لانے والے بنیں گے۔ ) دو آیتوں کے درمیان یہاں ایک خلا ہے جو تحریر میں تو محسوس ہوتا ہے لیکن خطاب کے زیروبم کے دوران اور مخالفین کے طرزعمل کے پیش نظر یہ خلاء محسوس نہیں ہوتا۔ آیت کا مفہوم ان آیات کے نزول کے وقت قریش اور دیگر اہل مکہ کی طرف سے مخالفت شدت اختیار کرچکی تھی۔ وہ ایسا ہر حربہ آزمانے کی فکر میں تھے جس سے اس دین کی قبولیت کو ناممکن بنادیا جائے۔ چناچہ مخالفین کی نہایت برہنہ مخالفت کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی جیسا قحط مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں آیا تھا، ویسے قحط سے میری مدد فرما۔ یہ بددعا آنحضرت ﷺ کی اپنی ذات کے حوالے سے نہ تھی بلکہ صرف اس حوالے سے تھی کہ اس قحط کی شدت سے قریش کے چھوٹے بڑے لوگ تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف مائل ہوجائیں گے اور ممکن ہے کہ ان کی اکڑی ہوئی گردنیں اس پر آشوب دور میں جھکنا شروع ہوجائیں اور اس طرح سے ایمان کی قبولیت کا راستہ کھل جائے۔ چناچہ دعا قبول ہوئی اور ایک ایسی شدت کا قحط پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے۔ قحط کی شدت کی وجہ سے لوگ مردار تک کھا گئے اور اپنی عافیت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے اور آنحضرت ﷺ سے التجا کرنے لگے کہ آپ اس عذاب کے دور ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں ان کی ہدایت سے مایوس ہونے کے بعد جس طرح آنحضرت ﷺ کو قیامت کے دخان مبین کے انتظار کرنے کا حکم دیا ہے اس میں یہ وجہ بھی شامل ہے کہ ان کی ہدایت کے لیے قحط جیسے سنگین حادثے کو بھی آزمایا گیا اور اس کی شدت سے تنگ آکر قریش اور دیگر لوگوں نے اس وعدے پر اس قحط کے ہٹائے جانے کی التجا کی کہ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو ہم آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن پروردگارِعالم نے اپنے علم محیط کی بنا پر ارشاد فرمایا :
Ayahs 44:13–14

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا موقع کہاں، ان کے پاس ایک رسول مبین آچکا

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

تو انھوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا : یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے

اَنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۔ (الدخان : 13، 14) (ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا موقع کہاں، ان کے پاس ایک رسول مبین آچکا۔ تو انھوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا : یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ ) مخالفین کے رویئے کا نتیجہ یعنی یہ لوگ اس قحط کی ہولناکی کو دیکھ کر ایمان لانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے اس کی توقع کرنا بہت مشکل ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان کی ہدایت کے لیے ایک ایسا رسول آچکا ہے جو ہر لحاظ سے ایک رسول مبین ہے یعنی اس کی دعوت کی پشت پر چالیس سال کا بےعیب کردار ہے۔ اور نبوت کے اعلان سے پہلے جسے تسلیم کرنے سے قریش کے کسی فرد نے کبھی انکار نہ کیا تھا، جس کی شخصیت کی دلآویزی اس کی سچائی کی منہ بولتی تصویر تھی جس پر نازل ہونے والی کتاب اپنی فصاحت و بلاغت، اس میں پیش کیا جانے والا ضابطہ ٔ حیات، اس کے علمی محاکمے، اس کی تاریخی پیشگوئیاں، اس کی تعلیمات سے چند سالوں میں وجود میں آنے والا ایک صالح معاشرہ، اس کی دعوت کا دھیرے دھیرے مخالفین کے دماغوں اور دلوں میں نفوذ اور تمام تر خونخوار اور وحشیانہ مخالفت پر اس کی استقامت اور مشکل سے مشکل حالات میں اس کا اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد، ان میں سے ایک ایک چیز اس کے رسول ہونے کی دلیل تھی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان لوگوں کا یہ طرزعمل کہ انھوں نے اس کی ہر بات سے اعراض کیا، اس کی ہر نصیحت کا مذاق اڑایا، اس کی ہمدردی اور محبت میں ڈوبی ہوئی باتوں کو تمسخر میں اڑا دیا اور رسول کی تمام تر عظمت کے باوجود یہ تک کہنے سے دریغ نہ کیا کہ وہ تو ایک لکھایا پڑھایا، مجنون اور دیوانہ ہے، جب دیکھو اس کی زبان پر عذاب کی دھمکیاں ہیں، لوگوں کی ہزار مخالفتوں کے باوجود ان کے ایمان کے لیے مخلصانہ دعائیں اور کاوشیں ہیں۔ آنے والے دنوں کا ایسا نقشہ ہے جس میں ماننے والے شادکام ہوں گے اور انکار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوں گے۔ وہ جس کلام کو پیش کرتا ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو اسے تیار کرکے اور سکھا پڑھا کے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں اور وہ انھیں وحی اِلٰہی کا نام دے کر سنانا شروع کردیتا ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ جس شخص کی ذہانت و فطانت اور معاملہ فہی پر کبھی دو رائے نہیں رہیں اور جس کی صدق بیانی پر پوری قوم نے ہمیشہ اعتماد کا اظہار کیا۔ لیکن نبوت کے اعلان کے بعد اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہی جارہی ہیں کہ جس کی گواہی کہنے والوں کے دل بھی نہیں دیتے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ لوگ چند باتیں بنا سنوار کر اسے دیتے ہیں اور وہ اسے کلام اللہ کے نام سے پیش کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ آخر جو لوگ شب و روز آپ کے قریب رہتے ہیں اور جنھوں نے ہر مرحلے پر انتہائی گرویدگی اور عقیدت کا اظہار کیا ہے اور جن کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں وہ لوگ انھیں کیوں نہیں جانتے۔ ان کی بیوی سب سے پہلے ایمان لاتی ہے، ان کا عزیز ترین دوست ذمہ دار لوگوں میں سب سے پہلے ایمان قبول کرتا ہے، ان کے گھر میں پلنے والا نوخیز لڑکا سب بچوں سے آگے بڑھ کر ایمانداروں میں شریک ہوتا ہے اور اس کا منہ بولا بیٹا اس کا سب سے پہلا فداکار ہے۔ تو وہ کیسے لوگ تھے جو زندگی بھر کبھی ان کی نظروں میں نہ آسکے۔ اور اگر یہ لوگ جعل سازی کے اس کاروبار سے آگاہ ہوتے تو وہ ایسے مخلص، سرفروش اور فداکار کیوں ہوتے۔
Ayahs 44:15–16

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم انتقام لے کے رہیں گے

اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً اِنَّـکُمْ عَآئِدُوْنَ ۔ یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْـکُبْرٰیج اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ۔ (الدخان : 15، 16) (ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو۔ جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم انتقام لے کے رہیں گے۔ ) اتمامِ حجت کے طور پر قبولیتِ دعا یعنی اب یہ لوگ قحط کی شدت سے بچنے کے لیے ایمان لانے کا وعدہ اور التجا بھی کرتے ہیں کہ ہم یہ عذاب ان سے دور کردیں۔ پروردگار ان سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اتمامِ حجت کرتے ہوئے ہم تم سے اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں لیکن ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم پھر وہی کچھ کرو گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ہو۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تم صرف قحط سے نکلنے کے لیے ایک غلط وعدہ کررہے ہو۔ لیکن جیسے ہی اس مصیبت سے تمہاری خلاصی ہوگی، تمہارے شب و روز کے وہی مشاغل شروع ہوجائیں گے اور تم اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کے لیے وہ ساری حرکتیں کرو گے جو اس سے پہلے تمہارا معمول رہی ہیں لیکن ہم نے چونکہ ابھی تک تمہارے مہلت عمل ختم نہیں کی اس لیے ہم تمہارے غلط وعدوں پر بھی تمہارے عذاب میں کمی کریں گے۔ لیکن جب ہم مہلت عمل ختم کردیں گے تو پھر ہماری سخت گرفت آئے گی اور پھر ہم ایسی شدت سے پکڑیں گے جس سے کوئی چھڑا نہ سکے گا اور یہ پکڑ درحقیقت ہمارا انتقام ہوگی جو تمہیں ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنا دے گی۔ بعض اہل علم نے اس بڑی پکڑ سے جنگ بدر مراد لی ہے کیونکہ اس جنگ نے جس میں مسلمانوں کی کامیابی کا دور دور تک گمان نہ تھا اس طرح مخالفین کی کمر توڑی کہ ان کی قیادت کی پہلی صف تہ ِ تیغ کردی گئی اور دوسری صف گرفتار ہو کر فدیہ دے کر نجات پاس کی۔ اور پھر فتح مکہ نے تمام مخالفین کو اس حال میں دیکھا کہ سب ہاتھ باندھے آنحضرت ﷺ سے عفو و درگزر کے طالب تھے۔ چناچہ قطعی اکثریت مسلمان ہوگئی اور بڑی محدود تعداد یا تو جنگوں میں کام آگئی اور یا ملک چھوڑ کر بھاگ گئی۔ یہ ہے ان آیات کا ایک سادہ سا مفہوم جس سے ہمارے نزدیک کسی حد تک آیات کی وضاحت ہوجاتی ہے، لیکن جس طرح ہمارے قدیم مفسرین نے ان آیات کی وضاحت کی ہے وہ بہرحال ہمارے لیے اعتماد کی چیز بھی ہے اور علمی سرمایہ بھی۔ اس لیے ہم اسے معارف القرآن سے نقل کیے دیتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشگوئی کے آیا ہے کہ آپ انتظار کریں اس واضح دھویں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھاجائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضی ( رض) اور ابن عباس ( رض) ، ابن عمر ( رض) ، ابوہریرہ ( رض) اور زید بن علی ( رض) اور حسن بصری ( رح) ، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری ( رض) اور حذیفہ بن اسید غفاری ( رض) سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ پیشگوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے ان پر مسلط ہوا تھا وہ بھوکوں مرنے لگے، مردار جانور تک کھانے لگے، آسمان پر بجائے بارش بادلوں کے ان کو دھواں نظر آتا تھا۔ یہ قول حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) وغیرہ کا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس دخان سے مراد وہ گردوغبار ہے جو فتح مکہ کے روز مکہ مکرمہ کے آسمان پر چھا گیا تھا، یہ قول عبدالرحمن اعرج وغیرہ کا ہے۔ (قرطبی) زیادہ معروف پہلے ہی دو قول ہیں، تیسرے قول کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا، ہٰذا القول غریب جداً بل منکر۔ باقی دونوں کا ذکر احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ روح المعانی نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور مذکورالصدر خلاصہ تفسیر بیان القرآن میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ ابن کثیر اور قرطبی سے پہلے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم، دونوں اقوال کی روایات حسب ذیل ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ بن اسید ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بالاخانے سے ہم پر نظر فرمائی، ہم آپس میں علاماتِ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے، آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس علامتیں نہ دیکھ لو۔ آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، دُخان، دابہ، یاجوج وماجوج کا خروج، عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول اور دجال کا خروج، تین خسف یعنی زمین میں دھنس جانا، ایک خسف مشرق میں دوسرا مغرب اور تیسرا جزیرۃ العرب میں اور آگ جو قعرِعَدَن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہکا کرلے چلے گی جہاں رات کو لوگ سونے کے لیے ٹھہریں گے رک جائے گی جہاں دوپہر کو آرام کے لیے رکیں گے یہ بھی رک جائے گی۔ (ابنِ کثیر) ابنِ جریر نے ابومالک اشعری ( رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں تین چیزوں سے ڈراتا ہوں۔ ایک دخان (یعنی دھواں) جو مومن کے لیے صرف ایک طرح کا زکام پیدا کرے گا اور کافر کے تمام بدن میں بھر جائے گا یہاں تک کہ اس کے ہر مسمع اور مسام سے نکلنے لگے گا اور دوسری چیز دابہ (یعنی دابۃ الارض کوئی عجیب قسم کا جانور زمین سے نکلے گا) اور تیسرے دجال۔ اس روایت کو ابن کثیر نے نقل کرکے فرمایا (ہٰذا اسنادجید) اسی مضمون کی ایک روایت بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت ابوسعید خدری ( رض) سے بھی ابن کثیر نے نقل کی ہے اور بحوالہ ابن ابی حاتم حضرت علی ( رض) سے یہ روایت نقل کی ہے کہ دخان کی پیشگوئی گزری نہیں (بلکہ قرب قیامت میں) یہ دھواں مومن کے لیے ایک طرح کا زکام پیدا کردے گا اور کافر کے اندر بھر جائے گا یہاں تک کہ اس کے ہر منفد سے نکلنے لگے لگا۔ اسی طرح کا مضمون بحوالہ ابن جریر حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) اور حضرت ابن عباس ( رض) سے بھی نقل کیا ہے جس کو نقل کرکے ابن کثیر نے فرمایا : ھذا اسناد صحیح الیٰ ابن عباس ؓ حبرالامۃ و ترجمان القراٰن و ھٰذا قول من وافقہ من الصّحابۃ والتابعین ؓ مع الاحادیث المرفوعہ من الصّحاح والحسان وغیرھما الّتی اور دوھا ممافیہ مقنع ودلالۃ ظاہرۃ علی ان الدّخان من الاٰیات المنتظرہ مع انّہ ظاہرالقراٰن (فارتقب یوم تأتی السّماء بدخانٍ مبین) وعلیٰ مافسرہ ابن مسعود انما ھوخیال رأوہ فی اعینہم من شدّۃ الجوع والجہدوھٰکذا قولہ تعالیٰ (یعشی الناس) ای یتغشاھم ویعمہم ولوکان مراً خیالیایخص اھل مکہ المشرکین لماقیل فیہ یغشی الناس (حضرت ابن عباس حبر امت اور ترجمان القرآن تک یہ اسناد صحیح ہے اور یہی قول دوسرے حضرات صحابہ وتابعین کا ہے جنھوں نے ابن عباس ( رض) کی موافقت فرمائی ہے اس کے ساتھ وہ احادیث مرفوعہ جن میں بعض صحیح بعض حسن ہیں وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ دخان ان علاماتِ قیامت میں سے ہے جن کا انتظار ہے ابھی آئی نہیں، خصوصاً جبکہ ظاہر الفاظ قرآن بھی اس پر شاہد ہیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی تفسیر مشہور میں جس دھویں کا ذکر ہے وہ تو ایک خیالی دھواں تھا جو بھوک کی شدت سے ان کی آنکھوں کو محسوس ہوتا تھا اس کے لیے لفظ یغشی الناس بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ خیالی دھواں تو اہل مکہ کے لیے مخصوص تھا اور یغشی الناس کے الفاظ یہ بتلاتے ہیں کہ وہ سب لوگوں پر عام طور پر چھا جائے گا) ۔ اور پہلے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کی روایت صحیحین اور مسنداحمد اور ترمذی، نسائی وغیرہ میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت مسروق نے روایت کیا ہے کہ ایک روز ہم کوفہ کی مسجد میں داخل ہوئے جو ابواب کندہ کے قریب ہے وہاں دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کو وعظ سنا رہا ہے اور اس آیت یعنی یوم تأتی السّما بدخان مبین کے متعلق اس نے مخاطبین سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ دخان سے کیا مراد ہے پھر فرمایا کہ یہ ایک دھواں ہوگا جو قیامت کے روز نکلے گا جو منافقین کے کانوں اور آنکھوں کو لے لے گا اور مومن کو اس سے صرف زکام کی سی کیفیت پیدا ہوگی۔ مسروق کہتے ہیں کہ واعظ کی یہ بات سن کر ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) کے پاس گئے ان سے اس کا ذکر کیا وہ لیٹے ہوئے تھے گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ قل ما اسئلکم علیہ من اجروما انا من المتکلّفین یعنی میں تم سے تمہاری خدمت تعلیم و تبلیغ کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بہ تکلف کوئی بات بنائیں اس لیے علم کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو نہیں جانتا صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے (تکلف سے بات نہ بنادے) پھر فرمایا کہ اب تمہیں اس آیت کی تفسیر کا ایک واقعہ سناتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت اسلام کو قبول کرنے سے انکار اور اپنے کفر پر اصرار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بددعا فرمائی کہ یا اللہ ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا کہ آپ نے یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں ڈالا تھا۔ اس بددعا کا اثر یہ ہوا کہ یہ لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوگئے تو دھویں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ان کا کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر اٹھاتا تو بھوک کی شدت سے اس کو دھواں سا نظر آتا تھا۔ اس کے بعد عبداللہ ابن مسعود ( رض) نے استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی فارتقب یوم تاْتی السّمآء بدخانٍ مّبینٍ جب واقعہ پیش آیا تو لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اپنے قبیلہ مضر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کریں ورنہ وہ سب ہلاک ہوجائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے بارش دے دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی انّا کاشفوا العذاب قلیلاً انّـکم عآئدون یعنی ہم تمہارے اس عذاب کو چند روز کے لیے ہٹائے لیتے ہیں (مگر جب تم مصیبت سے نکل جاؤ گے) تو پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا پھر وہ اپنے پچھلے حال کی طرف لوٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یوم نبطش البطشۃ الکبرٰی انّا منتقمون یعنی جس دن ہم سخت پکڑ پکڑیں گے اس دن سے ڈرو، پھر ابن مسعود ( رض) نے فرمایا کہ یہ بطشہ کبریٰ یعنی بڑی سخت پکڑغزوہ بدر میں ہوچکی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) نے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں یعنی دخان، روم، قمر، بطشہ، لزام۔ (از ابن کثیر) دُخان سے مراد اس تفسیر پر مکہ کا قحط ہے اور روم سے مراد وہ پیشگوئی ہے جو سورة روم میں ان کے غلبہ کے متعلق آئی ہے۔ وھم من بعد غلبہم سیغلبون اور قمر سے انشقاقِ قمر مراد ہے جس کا ذکر اقتربت السّاعۃ وانشقّ القمر میں ہے، اور بطشہتفسیر مذکور کے مطابق غزوہ بدر میں کفارِقریش کا انجام ہے۔ اور لزام سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے فسوف یکون لزاما۔ آیات مذکورہ میں غور کیجیے تو ان میں چند پیشگوئیاں ہیں۔ اول دھویں کا آسمان پر ظاہر ہونا اور سب لوگوں پر چھا جانا، دوسرے مشرکین کا اس عذاب سے عاجز آکر ایمان کا وعدہ کرکے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنا، تیسرے ان کے وعدہ کا جھوٹا ہونا اور بعد میں مکر جانا، چوتھے اللہ تعالیٰ کا ان کے جھوٹے وعدہ پر بھی بطور اتمام حجت کے کچھ عرصہ کے لیے ان سے عذاب کا ہٹا دینا اور یہ جتلا دینا کہ تم اس وعدہ پر قائم نہ رہو گے، پانچویں پھر دوبارہ ان کو سخت پکڑ میں پکڑ لینا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) کی تفسیر کے مطابق یہ سب کی سب پیشگوئیاں پوری ہوچکی ہیں، پہلی چار تو مکہ والوں پر قحط شدید مسلط ہونے اور پھر اس کے رفع ہونے کے دوران پوری ہوئیں اور پانچویں غزوہ بدر میں پوری ہوگئی، لیکن اس تفسیر پر ظاہر الفاظ قرآنی سے یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ بھوک کی شدت کے سبب آسمان پر خیالی دھواں نظر آنے کو قرآن کریم نے تأتی السّماء اور دخان مبین اور یغشی الناس کے الفاظ سے تعبیر کیا ہو کیونکہ بظاہر ان الفاظ سے عام آسمان پر کھلا ہوا دھواں چھا جانا اور سب لوگوں کا اس دھویں سے متاثر ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تفسیر مذکور میں نہ آسمان پر دھویں کا چھا جانا ثابت ہوتا ہے اور نہ لوگوں کا اس دھویں سے متاثر ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ دھواں تو خود ان کی اپنی شدت مصیبت کا اثر تھا اسی لیے حافظ ابن کثیر نے ظاہر قرآن کے مطابق اس کو ترجیح دی کہ یہ دخان مبین علامات قیامت میں سے ہے اور اس کو ترجیح اس لیے بھی ہے کہ وہ روایاتِ مرفوعہ سے ثابت ہے۔ یہ صرف حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کا اپنا قول ہے مگر اس تفسیر پر بظاہر انّا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ قیامت میں تو کفار سے کوئی عذاب نہیں ہٹایا جائے گا۔ یہاں چند روز کے لیے عذاب ہٹا دینے کا ذکر کیسے درست ہوگا۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ مراد اس سے یہ ہو کہ اگر ہم تمہارے کہنے کے مطابق عذاب ہٹا دیں اور تمہیں پھر دنیا میں لوٹا دیں تو تم پھر وہی کفروانکار کرنے لگو گے جیسا کہ دوسری ایک آیت میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے ولورحمنا ھم وکشفا منابھم من ضرّللجّوافی طغیانھم یعمھون اور ایک اور آیت میں فرمایا ولوردّوالعادوا لما نھوا عنہ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کاشفوا العذاب میں کشف عذاب سے مراد یہ ہو کہ اگرچہ عذاب آنے کے اسباب مکمل ہوچکے اور عذاب تمہارے قریب آچکا ہے مگر کچھ روز کے لیے ہم اس کو مؤخر کردیتے ہیں جیسا کہ قوم یونس (علیہ السلام) کے بارے میں آیا ہے۔ کشف عنھم العذاب حالانکہ قوم یونس (علیہ السلام) پر عذاب آ نہیں چکا تھا صرف آثارعذاب نظر آئے تھے اس کو کشف عذاب سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس پر بھی کوئی اشکال نہیں رہتا اور اس تفسیر پر یوم نبطش البشۃ الکبریٰسے مرادروز قیامت کی پکڑ ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) کی تفسیر میں جو غزوہ بدر کی پکڑ کو فرمایا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے وہ بھی ایک پکڑ سخت ہی تھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آگے قیامت میں اس سے بڑی پکڑ نہ ہو اور اس میں بھی کچھ بعد نہیں معلوم ہو تاکہ قرآن کریم نے کفار مکہ کو ایک آنے والے عذاب سے ان آیات میں ڈرایا ہے اس کے بعد جو بھی عذاب ان پر آیا اس کو کسی درجہ میں اس کا مصداق سمجھ کر صحابہ کرام نے ان آیات کا ذکر فرمایا ہو جس سے اس کے علاماتِ قیامت میں سے ہونے کی نفی ہوتی جیسا کہ روح المعانی میں علامہ سفارینی کی کتاب البحورالزاخرہ کے حوالہ سے خود حضرت ابن مسعود ( رض) سے روایت کیا ہے۔ ھما دخانان مضی واحد والّذی بقی یملأمابین السّماء والارض ولا یصیب المؤمن الابالزکمہ واما الکافر فیشق مسامعہ فیبعث اللّٰہ تعالیٰ عندذٰلک الرّیح الجنوب من الیمن فتقبض روح کل مومن ویبقیٰ شرارالنّاس (روح) دُخان دو ہیں، ایک گزر چکا (یعنی قحط مکہ کے وقت) اور دوسرا جو باقی ہے وہ آسمان اور زمین کی درمیانی فضا کو بھر دے گا اور مومن کو اس سے صرف زکام کی کیفیت پیدا ہوگی اور کافر کے تمام منافذ کو پھاڑ ڈالے گا اس وقت اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے جنوبی ہوا بھیج دیں گے جو ہر مومن کی روح قبض کرلے گی اور صرف کفار شرارالناس باقی رہ جائیں گے۔ اگرچہ صاحب روح المعانی نے اپنی مختار تفسیر کے مطابق اس روایت کی صحت کے متعلق اپنے شک کا اظہار کیا ہے مگر یہ روایت ثابت ہوجائے تو ظواہر قرآن اور روایت مرفوعہ کے ساتھ کوئی تعارض نہیں رہتا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ (معارف القرآن)
Ayahs 44:17–19

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول آیا

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

اس پیغام کے ساتھ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے ایک صریح حجت پیش کرتا ہوں

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَھُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ۔ اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَاللّٰہِ ط اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ وَاَنْ لاَ تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِنِّیْٓ اٰتِیْـکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الدخان : 17 تا 19) (ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول آیا۔ اس پیغام کے ساتھ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے ایک صریح حجت پیش کرتا ہوں۔ ) قریش اور قوم فرعون میں مشابہت قرآن کریم نے مختلف مواقع پر قوم فرعون اور قریش کے حالات میں مشابہت کی طرف اشارے کیے ہیں اور اسی طرح نبی کریم ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و واقعات اور تبلیغی کاوشوں میں یکسانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چناچہ اسی مشابہت کے حوالے سے سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جس طرح ہم نے آج قریش کو ایک آزمائش میں ڈال رکھا ہے اسی طرح ہم نے قوم فرعون کو بھی آزمایا تھا۔ یعنی وہ لوگ بھی قریش کی طرح اپنی دولت و رفاہیت پر نازاں تھے۔ اور قریش کی طرح انھیں بھی اپنے ملک بلکہ علاقے میں ایک عزت و احترام اور وقار حاصل تھا۔ اور اسی نے ان کی زندگی میں بگاڑ کے بہت سے اسباب پیدا کردیئے تھے۔ فرعون اپنی حکومت کی وجہ سے غیرمعمولی پندار اور گھمنڈ میں مبتلا تھا۔ اور اس کے عمائدینِ سلطنت اور پورا طبقہ امراء ان تمام خرافات میں مبتلا تھے جو مطلق العنان حکمرانی اور غیرمعمولی فارغ البالی سے پیدا ہوتے ہیں۔ چناچہ ان کی اصلاح اور ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح آزمائش میں ڈالا کہ ایک رسول کریم کو ان میں مبعوث فرمایا۔ یہاں رسول کریم سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جو اپنی عرفی حیثیت اور نامساعد حالات کی وجہ سے بےبسی اور بےکسی کی تصویر تھے۔ لیکن جب انھیں اللہ تعالیٰ کا سفیر بننے کا اعزاز حاصل ہوا یعنی جب انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسالت عطا ہوئی تو وہ ایسی وجاہت و کرامت سے متصف ہوئے جو صرف رسولوں کا حصہ ہوتی ہے جس طرح کسی بادشاہ کا سفیر ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جس میں اس بات سے قطعی بحث نہیں ہوتی کہ ان کا تعلق طبقہ امراء سے ہے یا طبقہ غر باء سے، وہ کس خاندان سے رشتہ رکھتے ہیں اور کیسے آبادی میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے بادشاہ کا سفیر ہونا ہی عزت کے حوالے کے طور پر کافی ہے۔ بالکل اسی طرح پیغمبر چونکہ شہنشاہِ کائنات کے سفیر اور نمائندہ بن کر مبعوث ہوتے ہیں ان کے بارے میں یہ بحث چھیڑنا کہ انھیں مال و دولت سے حصہ وافر نہیں ملا یا وہ معاشرتی زندگی میں کوئی بڑا مقام نہیں رکھتے، بالکل غیرمتعلق بحثیں ہیں جنھیں قریش نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں ناروا حد تک چھیڑ رکھا تھا اور فرعون بھی سردربار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی باتیں کہہ چکا تھا۔ اس لیے رسول کریم کے لفظ سے ان تمام خرافات کی تردید فرما دی گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر مختلف وقتوں میں جس طرح اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پیش کیا اور اپنی حیثیت کے مطابق اس کی اصلاح کی کوشش فرمائی اس کی تفصیلات قرآن کریم میں جا بجا بکھری ہوئی ہیں جن میں مرکزی مضمون کی حیثیت خشیت الٰہی، آخرت کی یاددہانی، پیغمبر کے اسوہ کے اتباع کو حاصل ہے۔ لیکن دوسرا مطالبہ جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون کے سامنے رکھا اس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ مراد اس سے بنی اسرائیل ہیں کہ تم اگر مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی حاکمیت کا صور پھونکتے ہو اور اہل مصر کو میری دعوت کو قبول کرنے سے روکتے ہو تو تم خود اس کے انجام سے گزرو گے۔ لیکن بنی اسرائیل جو انبیائے کرام کی اولاد ہیں اور حالات کی ستم رانی نے انھیں اپنے دین سے بہت بیگانہ کردیا ہے وہ ایسے بگڑے ہوئے مسلمان ہیں کہ جن کی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس لیے انھیں میرے سپرد کرو میں انھیں تمہاری صحبت سے بچا کر ایک آزاد علاقے میں لے جانا چاہتا ہوں جہاں ان کی اسلامی تربیت ممکن ہوسکے۔ اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرنا چاہتا ہوں جس سے وہ اپنے بندوں سے راضی ہوجائے۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ میں یہ سب باتیں کسی جھوٹے مدعی اور مفتری کی طرح تمہارے سامنے پیش نہیں کررہا بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں جس کے سپرد اللہ تعالیٰ نے ایک امانت کی ہے جس کے حق کی ادائیگی اس کے ذمہ ہے۔ اس لیے تمہیں تنبیہ کرتا ہوں کہ اگر تم نے مجھے اس حق کے امانت کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی تو تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آسکتے ہو۔ مزید فرمایا کہ تمہیں اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغامبر ہوں، مجھے اس نے جس ذمہ داری پر فائز کیا ہے اس کی ادائیگی کے لیے میں اسی کی طرف سے مامور ہوں۔ اگر تم نے اس سلسلے میں مجھ سے الجھنے کی کوشش کی تو یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی کے مترادف ہوگا۔ تمہیں اگر اس بارے میں شبہ ہو کہ میرا پیغامبری کا دعویٰ شاید ایک جھوٹا دعویٰ ہے تو تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ایک صریح حجت تمہارے سامنے پیش کرچکا ہوں۔ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو فرعون کے دربار اور بعض دوسری جگہوں میں وقتاً فوقتاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہورپذیر ہوئے۔ یہ درحقیقت وہ سند ماموریت ہے جسے دیکھ لینے کے بعد آپ کی نبوت و رسالت میں شک و شبہ کرنا ایک ایسی حرکت ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ فرعون نے عصائے موسیٰ کے اژدھا میں تبدیل ہونے کو سحر قرار دے کر سارے ملک کے جادوگروں کو اس کے مقابلے کے لیے اکٹھا کیا، لیکن جادوگروں کی شکست نے اس بات کو واضح کردیا کہ یہ پیغمبری ہے، جادوگری نہیں۔
Ayahs 44:20–21

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو پھر مجھ سے الگ رہو

وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّـکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ ۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنَ ۔ (الدخان : 20، 21) (اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو پھر مجھ سے الگ رہو۔ ) فرعون کی دھمکی کا جواب سورة المؤمن میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ فرعون اور سلطنت کے دیگر عمائدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کے اثرات کو دیکھتے ہوئے روز بروز پریشان ہوتے جارہے تھے اور زمین ان کے پائوں سے نکلتی دکھائی دے رہی تھی۔ آپ کے اثرات کو روکنے کا فوری طریقہ یہ تھا کہ آپ کو ختم کردیا جاتا۔ لیکن فرعون بعض مصالح کے پیش نظر اس کے لیے تیار نہ تھا۔ آخر اس نے بھرے دربار میں اس بات پر آمادگی ظاہر کی بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ اس پر آپ نے نہایت محکم انداز میں فرمایا اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّـکُمْ مِنْ کُلِّ مُتَـکَبِّرٍ لاَّ یُوْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ” میں نے پناہ لی اپنے رب اور تمہارے رب کی، ہر اس متکبر سے جو روزحساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ “ پیش نظر آیت کریمہ میں آپ اسی حوالے سے فرعون اور اس کے عمائدین سے فرما رہے ہیں کہ میں پہلے ہی اللہ رب العالمین کی پناہ لے چکا ہوں۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے کوئی طاقت اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ اس لیے تم بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ فرعون کو اپنی طاقت پر جو غیرمعمولی گھمنڈ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کام نہیں دے سکتا۔ اور اگر لوگ اس کی کسی سازش یا ہلا شیری کے تحت مجھے سنگسار کرنے کا ارادہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانے کے بعد مجھے اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو بےسہارا نہیں چھوڑا کرتا۔ لیکن اگر تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں اور تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں محض ڈراوا دے رہا ہوں تو تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم مجھ سے الگ رہو۔ کیونکہ اگر تم نے تعدی سے کام لیا تو تم اپنی دنیا و عقبیٰ تباہ کرلو گے۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں

فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنَّ ھٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ ۔ (الدخان : 22) (پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے رب سے فریاد آپ کی چونکہ حالات پر گہری نظر تھی، آپ نے محسوس کیا کہ ان کی تنبیہ کا فرعون پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ طاقت کے زور سے آپ کو ختم کردینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی سنت رہی ہے کہ جب وہ مخالفین کی طرف سے آخری اقدام کا خطرہ محسوس کرتے ہیں تو پھر وہ مخالفین کے خاتمہ کے لیے دعا مانگا کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی خطرے کو بےلگام ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنے رب کو پکارا کہ الٰہی ! یہ لوگ مجرم ہیں، ان میں نہ انسانی شرافت ہے اور نہ اخلاق کی پاسداری۔ یہ میرے خاتمہ کے لیے آخری حد تک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، پس میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو ان ظالموں کی دسترس سے مجھے نجات دے اور انھیں ان کے برے انجام کے حوالے کردے۔
Ayahs 44:23–24

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(اللہ کی طرف سے حکم آیا) کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور چھوڑ دو دریا کو تھما ہوا، بیشک وہ سارا لشکر غرق کردیا جائے گا

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً اِنَّـکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۔ وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَھْوًا ط اِنَّھُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۔ (الدخان : 23، 24) (اللہ کی طرف سے حکم آیا) کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور چھوڑ دو دریا کو تھما ہوا، بیشک وہ سارا لشکر غرق کردیا جائے گا۔ ) فریاد کی قبولیت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا فوراً قبول ہوئی۔ چناچہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ رات ہی رات میں میرے بندوں کو لے کر روانہ ہوجائیں۔ دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون آپ کے معجزات سے مرعوب ہو کر آپ کو بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے چکا تھا اور آپ آج یا کل میں روانہ ہونے والے تھے، لیکن فوری خطرہ کو بھانپتے ہوئے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی رات کو نکلنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی آگاہ بھی فرما دیا کہ فرعون اگرچہ آپ کو بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے چکا ہے لیکن آپ کے نکلتے ہی اس کے ارادے میں تبدیلی آئے گی اور وہ آپ کا تعاقب کرے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سمیت روانہ ہوئے تو فرعون کی نیت بدل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اجازت دینے میں اس سے غلطی ہوئی ہے۔ چناچہ وہ فوراً اپنی اور علاقائی سرداروں کی فوجیں لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا تاکہ ان کو مجبور کرکے پھر واپس لائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کی تاریکی میں راستہ غلط کرگئے، صبح کی روشنی میں جب آپ ساحل کے پاس پہنچے تو آپ کو اندازہ ہوا کہ بحرقلزم اپنی جولانیوں کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی میں اپنا عصا مارا تو پانی دونوں طرف پہاڑوں کی طرح رک گیا اور خشک راستہ بنی اسرائیل کے لیے کھول دیا گیا۔ چناچہ بنی اسرائیل اس راستے سے شاداں وفرحاں گزرتے ہوئے بحرِقلزم کو پار کرگئے۔ اتنے میں فرعون بھی اپنے لشکر سمیت دریا پر پہنچ گیا۔ اس نے جب خشک راستہ دیکھا تو اس نے اسے مدوجزر کا نتیجہ سمجھ کر اپنے لشکر کو دریا میں اتارنا چاہا تاکہ وہ راستہ خشک ہونے سے پہلے دوسری طرف پہنچ جائے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ عصا مار کر پانی کو ملا دیا جائے تاکہ فرعون کی فوجیں دریا میں اتر نہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ آپ دریا کو کھلا رہنے دیں، پانی کو ملانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر بحرقلزم میں غرق کردیئے جائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

انھوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیت اور شاندار محل

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور سامانِ عیش جن میں وہ مزے لوٹ رہے تھے اپنے پیچھے چھوڑے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں اور ہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنادیا

کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْھَا فٰـکِھِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ قف وَاَوْرَثْنٰـھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۔ (الدخان : 25 تا 28) (انھوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے۔ اور کھیت اور شاندار محل۔ اور سامانِ عیش جن میں وہ مزے لوٹ رہے تھے اپنے پیچھے چھوڑے۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں اور ہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنادیا۔ ) انکارِحق کا نتیجہ ان آیات کریمہ میں جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہ اسبابِ عیش ہیں اور یہ وہ طاقت کا سامان ہے جس کی وجہ سے انسان ہمیشہ استکبار کا شکار ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کو بھول کر خدائی کا ڈول ڈالنے لگتا ہے۔ وہ اپنی اصل حقیقت کو کھو کر خودفریبیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ فرعون اور آل فرعون بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوئے۔ وہ یہ بات بالکل بھول گئے کہ عزت و ذلت کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور طاقت اور قدرت کا سرچشمہ کہیں اور ہے۔ انھوں نے جب تمام انسانی اقدار کو پامال کردیا اور سچائی اور حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردینا چاہا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت حرکت میں آئی اور انھوں نے طاقت و حکومت کے ان پرستاروں کو تاریخ میں عبرت بنادیا۔ اور مصر کی جس سرزمین پر انھیں بہت ناز تھا وہ اب دوسروں کے قبضے میں آئی اور قدرت نے انھیں اس سرزمین کا وارث بنادیا۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین نے آنسو بہائے، اور نہ انھیں ذرا سی مہلت دی گئی

فَمَابَـکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ ۔ (الدخان : 29) (پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین نے آنسو بہائے، اور نہ انھیں ذرا سی مہلت دی گئی۔ ) کسی کا یہ قول درست معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بیخبر انسان وقت کا حکمران ہوتا ہے۔ اور سب سے بےحس وہ لوگ ہوتے ہیں جو حالات کی پیداوار اور حُبِ دنیا کے اسیر ہوتے ہیں۔ جب تک وہ برسراقتدار رہتے ہیں تو وہ نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور خوشامدی ہمیشہ انھیں گھیرے رہتے ہیں اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالتے رہتے ہیں کہ اس سرزمین پر اہل زمین کی قسمتوں کا مالک آپ کے سوا کوئی نہیں۔ آپ ایک عظیم تمدن کے بانی ہیں اور آپ نے انسانوں کو وہ کچھ دیا ہے جو آج تک کسی نے انھیں نہیں دیا۔ دنیا آپ کے کمالات کی گرویدہ ہے اور آپ کے احسانات کی مرہون ہے۔ جب تک وہ زندہ رہتے ہیں ان کے درباری ہمیشہ ان کی عظمت کا ڈنکا بجاتے رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ منظر سے ہٹتے ہیں کوئی ان کا نام لیوا بھی نہیں ہوتا۔ فرعون اور آل فرعون بھی اسی قسم کی خود فریبیوں میں مبتلا تھے۔ لیکن جب ہلاکت و بربادی نے انھیں آپکڑا تو کوئی آنکھ ان پر رونے والی نہ تھی۔ نہ زمین نے ان پر آنسو بہائے اور نہ آسمان ان پر رویا۔ کیونکہ زمین ان کی وجہ سے فساد سے بھر گئی تھی اور ان کی بداعمالیوں کی نحوست سے آسمان کی برکتوں کے دروازے بند ہوچکے تھے۔ بڑے سے بڑے مجرم کو بھی بعض دفعہ مہلت دے دی جاتی لیکن انھیں چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی گئی۔ ان کی موت سے ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا کہ خس کم جہاں پاک۔