Ayahs 43:1–2حٰـمٓ۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الزخرف : 1، 2)
(حٰ مٓ۔ قسم ہے واضح کتاب کی۔ )
قرآن کریم خود اپنی حقانیت پر دلیل ہے
اس آیت میں وائو قسمیہ ہے۔ اس واضح کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ قسم کے بعد عام طور پر جوابِ قسم آتا ہے یا مقسم علیہ آتا ہے، لیکن وہ یہاں محذوف ہے۔ قسم خود مقسم علیہ کو واضح کررہی ہے۔ اور قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جہاں مقسم علیہ قسم کی وجہ سے واضح ہورہا ہو یا اس کے وجود پر کوئی قرینہ دلالت کرتا ہو تو وہاں مقسم علیہ کو محذوف کردیا جاتا ہے۔ سورة ق میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ کتاب مبین کی قسم خود اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ مخالفین اسے اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھنے کی بجائے نبی کریم ﷺ کی کاوش قرار دیتے تھے جو آپ چند معاونین کی مدد سے مرتب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سامنے اسے کلام اللہ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ کہہ کر ان کی اس بات کے غلط ہونے پر دلیل دی گئی ہے۔ اس کتاب کو غور سے دیکھو، اس کے الفاظ کی فصاحت و بلاغت، اس کے جملوں کا دروبست، اس کی مضمون آفرینی اور انشاء پردازی اور الفاظ کا حُسنِ انتخاب، اس کے غیرمبہم مضامین، اس کا ادب، اس کا حق و باطل کے درمیان ایک واضح خطِ امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم کیا اس حقیقت کی صریح شہادت نہیں کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ کیونکہ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں کہ ساری دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز ہو۔ دنیا کا ایسا کوئی علمی اصول نہیں جسے شکست کا الزام نہ سہنا پڑے، دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس کی پیشگوئیاں کماحقہ پوری ہوتی ہوں اور جس کے اخلاقی مُسلِّمات دنیوی اخلاق میں حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہوں، یہ سب باتیں بتمام و کمال اس کتاب میں پائی جاتی ہیں اور مزید یہ کہ ایسی حیرت انگیز علمی کتاب کا پیش کرنے والا اُمیِ محض ہے۔ اس نے اپنے ماحول سے باہر کبھی کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیے۔ مکہ میں کوئی ایسی علمی مجلس نہ تھی جس سے استفادہ کیا جاسکتا۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ بولتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہوں، اس کے سوا کسی میں یہ دسترس نہیں کہ وہ ایسے معجزانہ کلام پر مشتمل اور ایسے حیرت انگیز نظام سے مزین کتاب دنیا کے سامنے پیش کرسکے۔
Ayah 43:3اِنَّا جَعَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الزخرف : 3)
(ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ )
قرآن کریم کا عربی میں آنا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے
یہ کتاب مبین کے ایک پہلو کی وضاحت ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو ایک واضح کتاب بنا کر اتارا ہے۔ لیکن اس میں اس بات کا امکان موجود تھا کہ ہم اسے کسی اور فصیح وبلیغ زبان میں اتار دیتے جس سے دنیا کی دوسری قومیں فائدہ اٹھاتیں لیکن تم عربی کے سوا دوسری زبانوں سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہ عذر کرسکتے تھے کہ اس کتاب کے مبین اور عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن ہم عربی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتے، ہم اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں کہ یہ کتاب واقعی کتاب مبین ہے اور کسی دوسرے کے لیے اس کتاب کی مثال لانا ممکن نہیں۔ اس کتاب کی زبان ہم نے عربی رکھی ہے، کیونکہ تم عرب ہو۔ تمہارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو کلام کے حسن و قبح سے اچھی طرح واقف ہیں۔ عربی کی تمام اصنافِ سخن پر وہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے لیے اس بات کا اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ اس کتاب جیسی کتاب لانا ممکن ہے یا نہیں۔ ہاں اگر یہ کتاب کسی اور زبان میں ہوتی۔ وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے براہ راست مخاطب ہیں وہ نہ اس سے استفادہ کرسکتے اور نہ اس کی معجزانہ حیثیت کو سمجھ سکتے۔ تو اس کتاب کا عربی زبان میں نازل کیا جانا اگر ایک طرف تمام اہل عرب کے لیے اتمامِ حجت کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان و امتنان بھی ہے کیونکہ اس سے بڑا احسان کسی قوم پر اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت اس کی اپنی زبان میں ان پر واضح کردی جائے۔ اسی امتنان کے پہلو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا :
Ayah 43:4وَاِنَّـہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ (الزخرف : 4)
(بےشک یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے، بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز۔ )
قرآن کریم کے مقام کی بلندی
اُمُّ الْـکِتٰبِسے مراد وہ ہے جسے سورة الواقعہ میں کِتَابُ مُّکْنُوْنَ فرمایا گیا، یعنی پوشیدہ اور محفوظ کتاب۔ اور سورة البروج میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یعنی یہ پوشیدہ اور محفوظ کتاب ہے اور ایسی لوح میں محفوظ ہے جس کا لکھا ہوا مٹ نہیں سکتا۔ اور جو ہر قسم کی دست اندازی سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانوں میں، مختلف ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف انبیاء پر مختلف زبانوں پر کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ یہ کتاب اتنی بلند مرتبہ اور عالی مقام چیز ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ لوح محفوظ میں ثبت کیا گیا ہے۔ یہ نہ جنات کا القاء ہے، نہ کاہنوں کی کہانت، نہ شاعروں کی شاعری اور نہ خطیبوں کی لفاظی ہے، بلکہ یہ روشنی اس منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علوم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اس کی ایک ایک بات ایسی پر ازحکمت ہے جس میں انسان کی غلط اندیشیوں اور نفسانی عوارض کا توڑ موجود ہے، ہر بات لوح محفوظ سے اترتی ہے۔ اور اسے صرف ملکوتی تحفظ ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت بھی حاصل ہوتی ہے۔ کوئی شخص اگر ایسی کتاب کا استخفاف کرتا یا اسے ماننے سے انکار کرتا یا اس کی قدر و منزلت سے روگردانی کرتا یا اس کی حکیمانہ تعلیم سے فائدہ نہ اٹھانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اس کی ایسی محرومی ہے جس سے اس کی دنیا بھی متأثر ہوتی ہے اور آخرت پر بھی بدنصیبی کے سائے گہرے ہوجاتے ہیں۔
Ayah 43:5اَفَنَضْرِبُ عَنْـکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ ۔ (الزخرف : 5)
(کیا ہم تمہیں درس نصیحت دینے سے اس لیے صرف نظر کرلیں کہ تم حدود سے تجاوز کر جانے والے لوگ ہو۔ )
صَفْحًا، مفعول لَـہٗکے مفہوم میں ہے۔ اس کا معنی ہے روک دینا، چشم پوشی کرنا۔ ضَرَبَ عَنْـہُکے معنی ہوں گے اس سے اس چیز کو ہٹا دیا۔
آیت کا پس منظر
اس ایک فقرے سے وہ صورتحال کھل کر سامنے آجاتی ہے جس میں اس آیت کا نزول ہوا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب قوم صدیوں سے سخت جہالت، پستی اور بدحالی میں مبتلا تھی۔ وہ ایسی دھات کی مانند تھی جو کسی کان میں مٹی یا پتھر کی طرح اپنی ابتدائی حالت میں پڑی ہوئی ہو، جسے حالی نے اس طرح تعبیر کیا ہے :
پڑی کان میں دھات تھی اک نکمی
نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جس کی
طبیعت میں جو اس کے جوہر تھے اصلی
ہوئے سب تھے مل کر وہ مٹی میں مٹی
یہ تھا ثبت علم قضا و قدر میں
کہ بن جائے کی وہ طلا اک نظر میں
نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری نے اس دھات کو کان سے باہر نکالا۔ اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اس پر پڑی، اسے جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے کے بعد جب علم کی شعاعیں اس پر پڑیں اور وحی الٰہی کی تجلیات اس پر برسنے لگیں تو جن لوگوں میں ابھی تک طلا کی کچھ رمق باقی تھی وہ طلائے صافی بن کر چمکنے لگے۔ اور جن لوگوں نے اپنے جو ہراصلی کو مٹی میں ملا دیا تھا انھوں نے نہ صرف اپنی محرومیوں کی دلدل سے نکلنے سے انکار کردیا بلکہ خم ٹھونک کر میدان میں مقابلے کے لیے آکھڑے ہوئے۔ روز بروز ان کی عداوت بڑھتی چلی گئی، حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کے قتل کے منصوبے باندھنے شروع کردیئے۔ ایسی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وحی کا نزول روک لیا جاتا، اور اللہ تعالیٰ کا رسول ان کی حرکتوں سے مایوس ہو کر اپنی تبلیغی کاوشیں بند کردیتا۔ اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت نہ ہوتی اور آپ کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ نہ ہوتا اور آپ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرض کو انجام دینے کے پابند نہ ہوتے تو یقینا آپ ایسا کرتے۔ لیکن اس دین کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اور پیغمبر کو ہر طرح کے حالات میں اصلاحِ خلق کا پابند ٹھہرایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اس آیت کریمہ میں بیان کیا جارہا ہے کہ تمہارے تمرد اور سرکشی نے جو صورتحال پیدا کردی ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمام اصلاحی کاوشوں کو روک دیا جائے اور ہم اس درس نصیحت کو روک کر تمہیں اسی پستی میں پڑا رہنے دیں جس میں تم صدیوں سے گرے ہوئے ہو، لیکن ہماری رحمت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تمہاری اس روش سے کیا نتیجہ پیدا ہوگا۔ تمہاری نہ صرف دنیا تباہ ہوگی بلکہ آخرت بھی خسران کا شکار ہوجائے گی۔ اس لیے تمہاری تمام تر جہالت کے باوجود ہم تمہیں اس خیر سے محروم نہیں کرنا چاہتے جو اللہ تعالیٰ نازل فرما رہا ہے۔ تم شرک کی آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے ہو، تمہاری حالت بدترین مریض جیسی ہے، تو مریض سے ہمدردی کا تقاضا یہ نہیں کہ اسے بیماری کے حوالے کردیا جائے بلکہ جامِ شفا اور دوا کے اصل مستحق تو مریض ہی ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ تم پر سے اپنی رحمت ہٹانا نہیں چاہتا۔
Ayahs 43:6–8وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ فَاَھْلَـکْنَـآ اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الزخرف : 6 تا 8)
(پہلی گزری ہوئی قوموں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے۔ اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ تو پھر ہم نے ہلاک کردیا ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو اور پچھلی قوموں میں مثالیں گزر چکی ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی تائید تاریخ سے
اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور مخالفین کو اس بات کی یاددہانی بھی کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہمیشہ قوموں کے ساتھ ایسا ہی رہا کہ جب بھی ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو بھیجا تو قوم نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور کم خوش نصیب تھے جنھوں نے نبی کی نصیحتوں پر توجہ دی۔ جو کچھ آج قریش آنحضرت ﷺ کے ساتھ کررہے ہیں وہی کچھ سابقہ نبیوں کی امتوں نے بھی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے برابر ان کو مہلت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی زخم اٹھا اٹھا کر بھی ان کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے رہے۔ لیکن جب انھوں نے کوئی بات بھی پیغمبر کی مان کر نہ دی بلکہ برابر اس کی ہمدردانہ کاوشوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر ایسا برسا کہ جس نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اور یہ عذاب کا شکار ہونے والے لوگ، کوئی کمزور لوگ نہ تھے بلکہ وہ قریش سے کہیں بڑھ کر طاقتور اور زورآور تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے وہ اپنا بچائو نہ کرسکے اور مچھروں کی طرح مسل کے رکھ دیئے گئے۔ اور پچھلی قوموں میں ایسی بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں۔ کتنی معذب قومیں ہیں جن کے کھنڈرات پر آج بھی قریش کے تجارتی قافلے گزرتے ہیں۔ اور ان کی تباہی خود اپنی زبان سے اپنی کہانی بیان کرتی ہے، لیکن گزرنے والے اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 43:9وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (الزخرف : 9)
(اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ لازماً کہیں گے کہ ان کو پیدا کیا ہے اس ذات نے جو زبردست بھی ہے اور علم والی بھی ہے۔ )
مشرکین کے تضادفکر کی مثال
اس سے پہلے قریش کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی حدود سے تجاوز کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے ذہنی تضاد کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو اور جس قدر مخلوقات ان کے اندر ہیں انھیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ بےساختہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ یعنی خود ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور جن نعمتوں سے وہ متمتع ہورہے ہیں ان کا پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ غرضیکہ زندگی کی کوئی نعمت ایسی نہیں جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے تخلیق کیا ہو۔ لیکن انسانی عقل اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ جب کائنات کا ایک ایک ذرہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور زمین و آسمان میں بسنے والی مخلوقات اسی کے فیضانِ تربیت سے متمتع ہورہی ہیں اور وہ ایسا عزیز اور طاقتور ہے کہ اس کے ارادے کے راستے میں کوئی حائل نہیں ہوسکتا اور کسی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اس کی عظمت اور کبریائی کو چیلنج کرسکے۔ اور پھر وہ ایسے وسیع علم کا مالک ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز سے واقف اور تمام مخلوقات کی ضرورتوں سے آگاہ اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز کی مصلحتوں سے باخبر اور ہر حکم اور ہر بات کے مستقبل میں نکلنے والے نتائج کو کما حقہ جانتا ہے تو پھر یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اس کے ہمسر تجویز کیے جائیں، اس کے لیے اولاد ثابت کی جائے، اس کی ذات وصفات میں دوسروں کو شریک کیا جائے اور اس کے حقوق میں دوسروں کی شرکت ثابت کی جائے۔ اور اگر کوئی ان باتوں سے روکے کہ یہ باتیں تو تمہارے اپنے مسلمہ عقائد کے خلاف ہیں اور جن حقائق کا تم اقرار کرتے ہو یہ تو اس سے بالکل متضاد ہیں۔ تو نہ صرف ایسے تضادات کے شکار لوگ اپنی غلطی تسلیم نہ کریں بلکہ الٹا لڑنے کے لیے آستینیں چڑھا لیں اور اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیں۔ ہر دور میں ان تضادات کے ماننے والے موجود رہے اور فکروعمل کے یہ تضادات ہر دور میں تلخیاں پیدا کرتے چلے آئے ہیں اور بارہا اس سے زمین کے امن کو آگ لگی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ انسان اپنے علم و دانش کے ہزار دعو وں کے باوجود ان تضادات سے تائب ہونے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 43:10الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ جَعَلَ لَـکُمْ فِیْھَا سُبُلاً لَّعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 10)
(وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے تاکہ تم راہ پا سکو۔ )
اللہ تعالیٰ کے چند ارشادات بطورتضمین
گزشتہ آیت میں مشرکین کے جواب پر اللہ تعالیٰ نے بطور تضمین کچھ باتیں ارشاد فرمائی ہیں تاکہ انسان اپنے عقیدہ و عمل کے تضادات کی جن بھول بھلیوں میں الجھا ہوا ہے، شاید ان سے نکل سکے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین و آسمان کو پیدا ہی نہیں فرمایا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمین کو بچھونے کی طرف بچھایا اور یہ وہ چیز ہے جس کا احساس زمین پر ہر لیٹنے والے کو ہوتا ہے۔ لیکن اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو زمین صرف بچھونا ہی نہیں بلکہ اسے انسان کے لیے گہوارہ بنایا گیا ہے۔ جس طرح ایک بچہ پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے اس میں وہ صرف آرام ہی نہیں کرتا بلکہ جھولا بھی جھولتا ہے۔ اسی طرح انسان تدبر کی نگاہ سے دیکھے تو محسوس کرے گا کہ زمین کا یہ عظیم الشان کُرّہ پنگھوڑے کی طرح فضا میں لٹکا ہوا ہے جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور میں گھوم رہا ہے۔ اور 6660 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے اور انسان اس میں سر کے بل لٹک رہا ہے۔ لیکن اسے کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں سر کے بل لٹک رہا ہوں۔ اور قرآن کریم میں دوسری جگہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گہوارے کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی عظیم قدرت و حکمت سے اس میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف کو لڑھک نہ پڑے۔ اس گہوارے کو اتنا آرام دہ اور پرسکون بنایا گیا ہے کہ کبھی کسی کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ میں ایک ایسے گہوارے میں سوار ہوں جو بندوق کی گولی سے بھی زیادہ تیزرفتار ہے اور قدرت نے اس کے بطن میں چار ہزار فارن ہائٹ کا آگ کا وہ گولہ رکھا ہوا ہے کہ اگر قدرت اسے ہمارے لیے مسخر نہ کرتی تو انسانی زندگی اس میں ممکن نہ ہوتی۔ کبھی کبھی آتش فشاں پہاڑ وہ لاوا اگل کر اس کی موجودگی کی خبر دیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت نے کبھی انسانوں کے لیے اسے بڑا مسئلہ بننے نہیں دیا۔ اسی طرح اس کی حکمت کا ایک عجیب تقاضا ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اس میں پہاڑ تو کھڑے کردیئے لیکن اس کو ایک بند گھر کی طرح ہر طرف سے محصور نہیں کردیا۔ اس کے اندر راستے پیدا فرمائے، پہاڑوں میں درے رکھے اور کہیں سے جھیلیں نکالیں اور دریا رواں کیے۔ اگر یہ زمینی اور بحری راستے نہ ہوتے تو ہر ملک ایک بند گلی کی مانند ہوتا۔ نہ باہمی تجارت ہوسکتی نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی ہوتی اور انسانوں کو ایک دوسرے سے تمتع کا سفر رک جاتا۔ اس لیے فرمایا کہ ہم نے یہ راستے اس لیے رکھے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ پا سکو۔
Ayah 43:11وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً م بِقَدَرٍ ج فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ج کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ۔ (الزخرف : 11)
(اور وہی ہے جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔ )
کرشمہ ربوبیت کا بیان
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کرشمہ ٔ ربوبیت کو بیان فرمایا ہے۔ اس کی ربوبیت کا فیضان تو بہت وسیع سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ اسی میں سے ایک آسمانوں سے پانی کا نزول بھی ہے۔ پانی کے نزول کی ایک صورت تو بارش ہے اور دوسری زمین سے چشموں کا ابلنا، اور تیسری صورت ندی نالوں اور دریائوں کا سطح زمین پر بہنا اور چوتھی صورت پہاڑوں پر برف کا جمنا ہے اور اسی کے ذریعے سے شاید ندی نالوں اور دریائوں اور چشموں کو بھی پانی میسر آتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پہاڑوں پر اگر برف نہ جمے تو چشمے کیسے ابلیں اور ندی نالے کیسے رواں ہوں اور میدانی علاقوں میں دریا کیسے بہیں۔ اسی طرح اگر بارشیں نہ ہوں تو پانی کے تمام ذخیروں کو سورج کی کرنیں خشک کرکے رکھ دیں۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابروہَوا کا تصرف ہے جس سے ہمیں پانی میسر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سورج کی کرنیں جس طرح پانی کے ذخیروں سے بھاپ اٹھاتی ہیں اور پھر یہ بھاپ اوپر جا کر ابر کی صورت بچھا دی جاتی ہے، پھر اس کے جمنے اور اس کے برسنے کے اوقات کون مقرر کرتا ہے، ہَوائوں کو کون حکم دیتا ہے کہ تم بادلوں کو اڑاتے ہوئے فلاں جگہ لے جاؤ۔ اور یہ کس عزیز وعلیم کی تقدیر ہے کہ بادلوں سے پانی اتنا برستا ہے جتنا زمین تحمل کرسکے۔ اور زمین اس سے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرسکے۔ اور زمین میں یہ صلاحیت کس نے رکھی ہے کہ پانی اتنا چوسے جتنا آبیاری کے لیے ضروری ہے اور باقی سارے پانی کو اگل دے تاکہ وہ ندی نالوں میں پہنچ جائے۔ اور پھر یہ کس کی قدرت کی کارفرمائی ہے کہ وہ زمین جو ایک مدت دراز تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے مردہ ہوچکی تھی نہ کہیں کسی جانور کے ٹرانے کی آواز آتی تھی اور نہ کوئی درخت سبز کونپل اگاتا تھا۔ نباتات کی ہر چیز جل کے راکھ ہوچکی تھی کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور ابر سے پانی برستا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس مردہ زمین میں زندگی کے آثار پیدا ہونے لگتے ہیں، درختوں میں شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں، کونپلیں نکلنے لگتی ہیں، جوہڑوں میں پانی بھر جاتا ہے تو مینڈک زندہ ہو کر ٹرانے لگتے ہیں، چند ہی دنوں میں زمین مخمل کا لباس پہن لیتی ہے۔ یہ ایک مردہ اور بےآب و گیا زمین کو پانی کے چند چھینٹوں سے زندہ کرنے کی قدرت کون رکھتا ہے، یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کیسے نادان ہیں وہ لوگ جو اس کی رحمت کے چند چھینٹوں سے مردہ زمین کو زندہ ہوتے دیکھتے ہیں تو انھیں کوئی حیرت نہیں ہوتی، لیکن جب انھیں یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تمام مردہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکلیں گے اور میدانِ حشر میں جواب دہی کے لیے حاضر ہوجائیں گے تو وہ حیران ہو کر کہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔
Ayahs 43:12–14وَالّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا وَجَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَاتَرْکَبُوْنَ ۔ لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۔ (الزخرف : 12 تا 14)
(اور وہی ہے جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کا احسان یاد کرو جبکہ تم ان پر بیٹھو اور کہو کہ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا، اور ہم تو ان کو قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ )
مزید آثار قدرت کی طرف اشارہ
پیشِ نظر آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے چند مزید احسانات کا ذکر فرمایا ہے جن کا تعلق انسان کا صحیح عقیدہ بننے اور صحیح سیرت و کردار کے جنم لینے اور صحیح مقاصد کے بروئے کار لانے سے ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج کو پیدا فرمایا۔ بعض اہل علم اس سے نوع بنوع چیزیں مراد لیتے ہیں۔ یعنی اس نے گوناگوں نعمتیں پیدا فرمائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربی زبان اور قرآن کریم میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے، لیکن بعض دیگر اہل علم نے اس سے مراد جوڑے لیے ہیں۔ اور ان دونوں معنوں میں باہمی کوئی تضاد نہیں، لیکن جب قرآن کریم کا نزول ہوا ہے تو نوع بنوع اور رنگا رنگ مخلوقات تو اس وقت بھی انسانوں کے سامنے تھیں، لیکن نوع بنوع مخلوقات کا پیدا ہونا ایک محدود تصور رکھتا تھا۔ پروردگار نے اس تصور میں وسعت پیدا فرمائی، اور ایک ایسی حقیقت واشگاف فرمائی جو بہت آگے چل کر کھلنے والی تھی۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ازواج سے مراد صرف نوع انسانی اور حیوانات کے نر اور مادہ نہیں بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے۔ اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں۔ مثلاً عناصر میں بعض کا بعض سے جوڑ لگتا ہے اور بعض کا بعض سے نہیں لگتا۔ جن کا جوڑ ایک دوسرے سے لگتا ہے ان ہی کے ملنے سے طرح طرح کی ترکیبیں واقع ہورہی ہیں۔ یا مثلاً بجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں، اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں عجیب عجیب کرشموں کا موجب بن رہی ہیں۔ یہ اور دوسرے ان گنت جوڑے جو قسم قسم کی مخلوقات کے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ان کی ساخت اور ان کی باہمی مناسبت اور ان کے تعامل کی گوناگوں شکلوں اور ان کے ملنے سے پیدا ہونے والے نتائج پر اگر انسان غور کرے تو اس کا دل گواہی دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ سارا کارخانہ ٔ عالم کسی ایک ہی زبردست صانع حکیم کا بنایا ہوا ہے اور اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ صرف ایک عقل کا اندھا ہی یہ فرض کرسکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کے بغیر ہوا اور ہورہا ہے یا اس میں ایک سے زیادہ خدائوں کی دخیل کاری کا کوئی امکان ہے۔ (افادہ از تفہیم القرآن)
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اس نے تمہارے لیے پانی میں سفر کرنے کے لیے کشتیاں بنائیں اور خشکی میں سفر کرنے کے لیے ایسے چوپائے پیدا فرمائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ کشتی بنانے کی ترکیب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کو سکھائی اور پھر لکڑی، لوہے کے باہم مل جانے کے بعد پانی کو حکم دیا کہ نہ صرف اس کشتی کو ڈوبنے نہ دے بلکہ اس پر جو سوار ہوں ان کو بھی ڈوبنے سے بچائے۔ اسی طرح اس نے ایسے جسیم اور لحیم جانور پیدا فرمائے جن پر انسانوں کو سوار ہونے کا ہنر سکھایا۔ اور ایسے طاقتور جانوروں کو انسانوں کی خدمت میں لگا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان جانوروں کو حکم نہ دیتا تو شیر اور چیتے اور ریچھ کی طرح یہ جانور بھی کبھی سواری کا کام نہ دیتے۔ اب سائنس نے اس سفر کو اور آگے بڑھایا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات سے باہر نہیں، کیونکہ جس پروردگار نے جانوروں کو انسان کے تابع کیا اسی کی دی ہوئی سمجھ نے لوہے کو بھی انسان کی سواری بنادیا اور اس میں قوت پرواز پیدا کردی۔ لیکن یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ انسان ان سے فائدہ اٹھائے اور جس نے یہ سواریاں پیدا فرمائیں اور عطا کی ہیں اس کا حق پہچانے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ جب تم کسی بھی سواری پر جم کے بیٹھو یا سفر کا ارادہ کرو تو بجائے غرور سے اکڑ کر سواری پر بیٹھنے کے یہ یاد رکھنا نہ بھولو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی سمجھ نہ دیتا یا ان چیزوں کو تمہارے لیے مسخر نہ کرتا تو تم کبھی ان پر قابو پانے والے نہیں تھے۔ اس لیے ہمیں دعا سکھائی گئی کہ سواری پر سفر کرتے ہوئے یہ دعا ضرور پڑھو سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَـنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ ۔ وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ہے اور اپنی بےبسی کا اعتراف بھی ہے۔ اور ساتھ ہی اس بات کا اعادہ بھی کہ ہم جو کچھ بھی کریں اس کی نعمتیں پا کر شکر کریں گے یا نا شکری، اس کی جوابدہی کے لیے بہرصورت ایک ایک ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔
Ayah 43:15وَجَعَلُوْا لَـہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 15)
(اور ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے۔ )
مشرکین کے فکری تضادات پر تنبیہ
اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 9 وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے ہے۔ اگر آپ ان مشرکین سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ جواب دیں گے کہ انھیں اس زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کے مزید چند احسانات کا ذکر کیا کہ وہ ہستی وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور پھر زمین میں تمہارے لیے پہاڑ گاڑے تاکہ وہ تمہیں کسی ایک طرف لے کر لڑھک نہ جائے اور پھر پہاڑوں کے اندر سے تمہارے لیے راستے نکالے تاکہ تم اپنے اپنے علاقوں میں بند ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ زمین کے دوسرے ملکوں اور علاقوں سے ہر طرح کے تعلقات پیدا کرو اور زمین کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہونے کی کوشش کرو۔ اور پھر وہ ذات ایسی ہے جس نے تمہاری ضرورتیں مہیا کیں۔ اور ان میں سب سے بڑی ضرورت پانی کو ایک ایسی خاص مقدار سے نازل فرمایا کہ جہاں بھی انسان آباد ہے اس پانی کی کمیابی کی کبھی اسے شکایت نہیں ہوئی۔ اور پھر اس نے انسان کی سواری کے لیے مختلف قسم کے جانور پیدا کیے، دریائوں اور سمندروں میں سفر کے لیے کشتیوں کی صنعت عطا کی۔ کس قدر حیرانی کی بات ہے کہ جس ذات نے انسان جیسی بےبس مخلوق کو اتنی قوتوں اور ایسے علم و دانش سے نوازا کہ اس نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کردی اور زمین کی طنابیں کھینچ لیں۔ اب اتنی نعمتیں پانے کے بعد بجائے شکرگزار ہونے اور اس کی ذات وصفات اور حقوق کا صحیح ادراک کرنے کے وہ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا کر کہیں اسی کے بندوں میں سے کسی کو اس کی ذات کا جزو ٹھہرا دیتا ہے۔ یعنی اس کے لیے اولاد ثابت کرتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کفو اور ہمسر ثابت کرتا ہے۔ ایک طرف اسے خالق ومالک مان کر اس کی یکتائی اور بےہمگی کا اعتراف کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی کہیں بیٹیاں اور کہیں بیٹے ثابت کرتا ہے۔ اور اس طرح مخلوق کو اس کا ہم پلہ بنا دیتا ہے۔ یہ اس کی طبعی ناہمواری اور تضادفکری کو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا انتہائی ناشکرا ہے۔ اس کی ذات جس کی دین ہے اور جس کے دسترخوان سے وہ کھاتا اور عیش کرتا ہے اسی کے لیے دوسروں کو دیوی اور دیوتا بنا کر ان کے گن گاتا اور ان کی پرستش کرتا ہے۔
Ayahs 43:16–17اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰـکُمْ بِالْبَنِیْنَ ۔ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْمٌ۔ (الزخرف : 16، 17)
(کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔ )
مشرکین کے ذہنی افلاس کی مثال
اَمْ … استنکار اور استعجاب کے مفہوم میں ہے۔ تعجب اس بات پر ظاہر کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا معاملہ نہایت نازک اور نہایت احتیاط کا طالب ہے۔ لیکن ان کی فکری کج روی اور ذہنی افلاس کا عالم یہ ہے کہ باوجود اس اعتراف کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ساری کائنات کا خالق سمجھتے ہیں، لیکن اس کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کا وہ بیٹا بنا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی بنا دیتے ہیں۔ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے نہایت مقبول بندے ہیں انھیں ان ظالموں نے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں تصور کر رکھا ہے۔ ان کے بت انھوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے ہیں اور یہی ان کی وہ دیویاں ہیں جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ان کے ذہنی افلاس کا حال یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اولاد بھی تسلیم کرتے ہیں، حالانکہ اولاد تو باپ کا جزو، ہم پلہ اور اس کا کفو ہوتی ہے۔ اور دوسری طرف اخلاقی کم مائیگی کا حال یہ ہے کہ اپنے لیے بیٹیوں کو عار سمجھتے ہیں اور غیرحاضری میں اگر ان کو بتادیا جائے کہ تمہارے گھر میں بیٹی ہوئی ہے تو شرم اور غیرت کے مارے ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہی بدنما داغ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات بزرگ و برتر کے لیے اعزاز کا باعث جانتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ جیسی عظیم ذات کے بارے میں عقائد اختیار کرتے ہوئے نہ عقل سے کام لینے کی کوشش کی ہے اور نہ احساسِ شرافت ان کے دامن گیر رہا ہے۔ حالانکہ معمولی شخص بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ کسی ایسی ذات کی طرف جو سرتاپا حسن و جمال اور تسبیح وتحمید سے عبارت ہے کسی کمزور بات کا انتساب یقینا اس کی توہین اور گستاخی اور اپنی بےمائیگی کا ثبوت ہے۔
Ayah 43:18اَوَمَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُمُبِیْنٍ ۔ (الزخرف : 18)
(اور کیا (وہ پیدا ہوئی ہے) جو زیوروں میں پالی جاتی ہے، اور بحث و حجت میں بات واضح نہیں کہہ سکتی۔ )
لڑکیوں سے متعلق اہل عرب کا تصور
جب کسی عربی کو گھر میں بیٹی ہونے کی اطلاع ملتی تو وہ انتہائی صدمے کی حالت میں ڈوب جاتا ہے، چہرے پر سیاہی چھا جاتی اور دل میں مختلف خیالات کی وجہ سے گھٹا گھٹا سا رہنے لگتا وہ سوچتا کہ میرے گھر میں ایک ایسے وجود نے جنم لیا ہے جس کا تعلق صنف نازک سے ہے، وہ جیسے جیسے پروان چڑھے گا اس کے اندر آرائش و زیبائش کا جذبہ بھی روزبروز پروان چڑھتا جائے گا، جبکہ میں ایک ایسے ملک کا رہنے والا ہوں جس میں سخت مشقت کے بعد نان شبینہ ہاتھ آتی ہے۔ اور قبیلوں کے قبیلوں پر حملے اور بداخلاقی اور بےحیائی کے محرکات اس آرائش و زیبائش کے جذبے کو فتنہ بنا دینے میں تاخیر نہیں کرتے۔ میرے گھر میں پلنے والا وجود میری مشکلات میں کام آنے کی بجائے گھر میں میرے پائوں کی زنجیر بن کے رہ جائے گا۔ اسے خواہش ہوگی کہ مجھے آرائش و زیبائش کے لیے زیورات ملیں اور میں بن سنور کر اپنی انفرادیت کا اظہار کرسکوں ایسا وجود یقیناکسی کی آغوش تو گرم کرسکتا ہے لیکن نازک بپھرے ہوئے حالات میں میرا دست وبازو نہیں بن سکتا۔ کیونکہ :
وہ ہاتھ جن میں نزاکت ہے تانے بانے کی
اٹھا سکیں گے کب سختیاں زمانے کی
اور اگر کبھی معاملہ مخاصمت سے آگے بڑھ کر مبارزت تک پہنچ جائے اور میں کہولت کی عمر کو پہنچ جاؤں تو بجائے اس کے کہ وہ میری فکر کرے، مجھے اس کی فکر میں اپنا بڑھاپا بھی قربان کرنا پڑے گا تو ایسا وجود جو بیٹی کے نام سے میری کمزوری یا میری ذلت کا سبب بننے والا ہے آج جب میں اسے قبول کرتا ہوں تو مجھے دور دور تک تاریکیوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ گھر میں چولہا تو جھونک سکتی ہے لیکن میرا دست وبازو بن کر زندگی کی دوڑ میں میرا ساتھ نہیں دے سکتی۔
Ayah 43:19وَجَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبٰدُالرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ط اَشَھِدُوْا خَلْقَہُمْ ط سَتُـکْتَبُ شَھَادَتُہُمْ وَیُسْئَلُوْنَ ۔ (الزخرف : 19)
(اور انھوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں بیٹیوں کا درجہ دے رکھا ہے، کیا یہ ان کی ولادت کے وقت موجود تھے، ان کی گواہی لکھ دی جائے گی اور ان سے سوال کیا جائے گا۔ )
فرشتوں سے متعلق غلط تصور کی تردید
فرشتوں سے متعلق عربوں کے عقیدے پر ایک اور پہلو سے ضرب لگائی جارہی ہے کہ وہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اور کارکنانِ قضا و قدر ہیں عربوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر انھیں مؤنث بنا رکھا ہے۔ پروردگار براہ راست ان سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے جب فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو کیا یہ لوگ اس وقت موجود تھے۔ اور اگر یہ موجود نہیں تھے اور یقینا نہیں تھے، تو پھر ان کو کیسے اندازہ ہوا کہ فرشتے مؤنث مخلوق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے بغیر کسی سند اور بغیر کسی علم کے ایک غلط بات کو اپنا عقیدہ بنا رکھا ہے۔ اور عقیدہ بھی ایسا جو سراسر اللہ تعالیٰ کے جناب میں گستاخی سے بھی بڑھ کر گستاخی ہے۔ یعنی جس چیز کو اپنے لیے باعث ندامت و اہانت سمجھتے ہیں اسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے : کہ تمہاری اس گستاخی کو گواہی کے طور پر لکھا جائے گا اور قیامت کے روز تم سے اس کی سخت بازپرس ہوگی۔ یوں تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا لیکن جس کے بارے میں خاص طور پر فرمایا جائے کہ ہم اس کی بازپرس کریں گے اس کے پیچھے ایک ایسا غضب کارفرما ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 43:20–22وَقَالُوْا لَوْشَآئَ الرَّحْمٰنُ مَاعَبَدْنٰـہُمْ ط مَالَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ق اِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ اَمْ اٰ تَیْنٰـہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَھُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ ۔ بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 20 تا 22)
(اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو کبھی نہ پوجتے، ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی، سو انھوں نے اس کو مضبوط پکڑ رکھا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ )
مشرکین کی اپنے شرک پر دلیل
مشرکینِ عرب نے اپنے لیے پوجا پاٹ کا جو نظام بنا رکھا ہے اس کے صحیح ہونے کی ان کے پاس ایک ہی دلیل تھی اور اسے وہ بڑی مضبوط دلیل سمجھتے ہیں۔ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہمارا یہ طریق عبادت غلط ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مشیت سے اس سے روک دیتا۔ کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر تو دنیا کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اور جب اس نے صدیاں گزرنے کے باوجود اس طریقے سے ہمیں نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہے۔ اس کے جواب میں اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ کسی کام کے لیے مہلت کا مل جانا یہ اس کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کام سے راضی ہے۔ اس کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا بالکل دوسری چیز۔ دنیا میں ہر جائز اور ناجائز، غلط اور صحیح کام اس کی مشیت سے ہوتے ہیں، اور اگر وہ کسی کام کو نہ چاہے تو وہ کام کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر راضی بھی ہے۔ دنیا میں چوریاں ہورہی ہیں، ڈاکے پڑ رہے ہیں، بےحیائی کے کام ہورہے ہیں، رشوتیں لی جارہی ہیں، مظالم توڑے جارہے ہیں، قتل و خونریزی کا بازار گرم ہے، لیکن کیا یہ کہا جائے گا کہ چونکہ ان کاموں سے اللہ تعالیٰ منع نہیں فرماتے، اس لیے سارے کام جائز ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نے انسان کے امتحان کے لیے ہر جائز اور ناجائز کام کی فی الجملہ ایک آزادی دے رکھی ہے اور یہ اس کی مشیت کا ثمرہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کام جائز بھی ہیں۔ جائز اور ناجائز کام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلوم نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس نے انسان کو ہر طرح کے کاموں کی مہلت دے رکھی ہے لیکن ساتھ ہی اپنے رسول بھیج کر، اور کتابیں نازل فرما کر یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ اس میں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ کیا ہم نے کبھی ان مشرکین پر کوئی کتاب نازل کی ہے جس میں ان کے پوجا پاٹ کے نظام کی تصویب کی گئی ہو، یا تحلیل و تحریم کا کوئی ایسا ضابطہ دیا گیا ہے جس سے ان کی خودساختہ شریعت کی تائید ہوتی ہو۔ اور یہ اس کو بڑی مضبوطی سے پکڑ کے بیٹھے ہیں اور اس کو سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ایسی کوئی کتاب ان پر نازل نہیں کی۔ ان کے پاس صرف ایک ہی دلیل ہے کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو جس طریقے پر پایا ہے ہم اسی طریقے پر نہایت اعتماد اور اطمینان سے چل رہے ہیں۔ کیونکہ اگر اس میں کوئی خرابی یا غلطی ہوتی تو پروردگار کبھی نہ کبھی انھیں اس بات سے روک دیتے۔ اس لیے ہماری عافیت اسی میں ہے کہ ہم اپنے آبائواجداد کے طریقے کو لازم پکڑیں اور انھیں کے نقوش قدم کو اپنے لیے رہنما بنائیں۔
Ayah 43:23وَکَذٰلِکَ مَـآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوْھَـآ لا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰ ثٰرِھِمْ مُّقْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 23)
(اور اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا اس کے خوشحال لوگوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں کے نقش قدم کی پیروی کریں گے۔ )
بگاڑ کی تاریخ ہر دور میں یکساں رہی
بگڑی ہوئی قوموں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے انسان کے بگاڑ اور اس کے فکری الجھائو کی صورتیں ایک جیسی رہی ہیں، کیونکہ انسان کی فطرت بنیادی طور پر ایک ہے اس کے موثر اور متأثر ہونے کے ذرائع بھی ملتے جلتے ہیں۔ وہ ایک ہی جیسے عوامل سے بگڑتا اور ایک ہی جیسے اسباب سے سنورتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قومیں جو صدیوں پہلے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوچکی ہیں ان کے بگاڑ کی نوعیت بھی یکساں تھی اور اس کے دلائل بھی ملتے جلتے تھے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو جس قوم سے واسطہ ہے اس کے فکری اور عملی بگاڑ اور سابقہ امتوں کی گمراہیوں میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ اور اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ اپنے بگاڑ کی دلیل کے طور پر قریش ہی کی طرح اپنے باپ دادا کی تقلید کو ہی اپنی سب سے بڑی دلیل سمجھتے تھے۔ اور یہ گمراہی اس قدر عام تھی کہ جس شہر اور جس قریہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو اصلاح کے لیے بھیجا تو وہاں کے رہنے والوں نے دلیل کے طور پر یہی بات کہی کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے، یعنی وہ زندگی کا ایک ڈھب اور ایک طریقہ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں ہم انہی کے نقوش قدم کی پیروی ہی کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں، اس لیے ہم اس سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یعنی جو بات آج قریش کے لیے سب سے بڑا سہارا ہے وہی بات ان کے لیے بھی اپنے اندر سب سے زیادہ وزن رکھتی تھی۔
اس آیت کریمہ میں مزید ایک خاص بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ باپ دادا کی تقلید کو اپنے مؤقف کی دلیل کے طور پر پیش کرنے والے عوام نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تھے جن کو مترفین کہا گیا ہے۔ اس سے مراد ہر قوم کا طبقہ ٔ امراء بھی ہے اور وہ لوگ بھی جو کسی طرح اپنی قوم کو لیڈ کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے، تعلیمی اداروں کے ذریعے، اسمبلیوں میں پہنچ کر یا شعر و ادب سے کام لے کر۔ یہ تمام لوگ مترفین میں شامل ہیں۔ یہ بالعموم ایک جیسی خواہشات کے مارے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ حُبِ دنیا اور حُبِ جاہ ان کے مشترکہ امراض ہیں۔ اور یہ اپنے خیالاتِ باطلہ اور خواہشاتِ خبیثہ کو چھپانے کے لیے آبائواجداد کا نام لیتے ہیں۔ اور پھر آبائواجداد سے مراد بھی عوام کے آبائواجداد نہیں بلکہ ان کے اپنے ہوتے ہیں۔ اور اس طرح سے وہ پیرپا تسمہ بن کر لوگوں کی گردنوں پر سوار رہتے ہیں۔
Ayah 43:24قَالَ اَوَلَوْجِئْتُـکُمْ بِاَھْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَـآئَ کُمْ ط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَـآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 24)
(منذر نے کہا : کیا اگر میں اس سے زیادہ صحیح طریقہ لے کر تمہارے پاس آئوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا، ہم اس چیز کے جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے، منکر ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کا وہ رسول جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انذار کرنے کے لیے آیا، اس نے اس قوم کو جس نے آبائواجداد کی تقلید کو دلیل قاطع کے طور پر پیش کیا، کہا : سوال یہ ہے کہ تم اپنے آبائواجداد کی تقلید صرف اس لیے کرتے ہو کہ وہ تمہارے آبائواجداد تھے، یا اس لیے کرتے ہو کہ انھوں نے تمہاری زندگی کی کامیابیوں کے لیے ہدایت کا جو راستہ تمہارے سامنے پیش کیا ہے اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں ہوسکتا۔ اگر تو آبائواجداد کی تقلید صرف ان کی ذات کی وجہ سے ہے تو پھر تو بات کرنا بیکار ہے، لیکن اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ ہدایت کا جو راستہ انھوں نے کھولا ہے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہوسکتا تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ میں ایک ایسے راستے کی ہدایت کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں جو ہدایت کا راستہ ہی نہیں بلکہ سب سے کامیاب راستہ ہے۔ اس کے اہدیٰ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ تو اگر تم ہدایت کے طالب ہو تو پھر تمہیں پیروی میری کرنی چاہیے، باپ دادا کی نہیں۔ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ تم جو دین اور شریعت لے کے آئے ہو اس میں زندگی کے ہر مسئلے کا حل بتایا گیا ہے، اور اس سے بہتر کوئی اور ضابطہ حیات نہیں ہوسکتا۔ ہمیں تو اس طریقے اور سلسلے ہی سے اختلاف ہے جس کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو۔ ہمیں تو درحقیقت آبائواجداد کے نام سے اپنی خواہشات کی پیروی، اپنے مفادات کا تحفظ اور اپنی عقل کی پرستش کرنی ہے۔ اور تم جس دین کی طرف دعوت دے رہے ہو اس کی ہر بات ہمارے مقصود و مطلوب اور ہماری ترجیحات سے متصادم ہے۔ اس لیے ہم اس کی ہر بات کے مخالف ہیں۔
Ayah 43:25فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِـبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (الزخرف : 25)
(پھر ہم نے ان سے انتقام لیا، تو دیکھ لو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔ )
یعنی جب قوموں کی ضد، ہٹ دھرمی اور مکابرت اس حد کو پہنچ گئی کہ انھوں نے رسولوں کی ہر بات کو سننے اور سمجھنے سے انکار کردیا، تو پھر ہم نے ان سے تکذیبِ رُسُل کا انتقام لیا۔ روایات گواہی دے رہی ہیں کہ ایسے لوگ کس بری طرح سے نشان عبرت بن کر رہ گئے۔
Ayahs 43:26–27وَاِذْقَالَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ ۔ اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّـہٗ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الزخرف : 26، 27)
(اور یاد کرو جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا تم جن کی بندگی کرتے ہو میں ان سے یکسر بری ہوں۔ میں صرف اس کی بندگی کرتا ہوں جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی کرے گا۔ )
مشرکین کی آبا پرستی پر ملت ابراہیم سے تنقید
گزشتہ متعدد آیات میں قریش مکہ اور دیگر مشرکین کا بنیادی مرض یہ بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے اور اس کی بندگی بجا لاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات، کبھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں اور کبھی اس کے حقوق میں دوسری قوتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ چناچہ گزشتہ آیات میں قرآن کریم نے اس مہمل روش پر نہایت مدلل تقریر کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی تو اس لیے ضروری ہے کہ وہ تمہارا خالق ومالک اور پروردگار ہے۔ لیکن جن قوتوں کو تم نے اس کا شریک بنا رکھا ہے آخر ان میں ایسی کیا صفات ہیں جو تمہیں شرک میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور اس شرک میں آلودہ ہونے کے لیے تمہارے پاس ایسے کیا دلائل ہیں کہ تم اس سیدھی سے بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ چناچہ مشرکین نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ ہمارا یہ رویہ بےسبب نہیں اور نہ ہم اس معاملے میں دلیل سے تہی دامن ہیں۔ ہماری سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہمارے آبائواجداد جن میں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں وہ سب متفقہ طور پر اس روش میں مبتلا تھے۔ اگر ان کی یہ روش غلط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے انھیں اس جرم سے روک دیتا۔ لیکن اس کی مشیت کا حرکت میں نہ آنا بلکہ مسلسل اس کی تائید کرتے رہنا یہ وہ دلیل ہے جو ہمیں آبا پرستی اور شرک میں مبتلا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں پروردگار نے ان کی اسی دلیل کا جواب ارشاد فرمایا ہے کہ چلیے ہم مان لیتے ہیں کہ آبا پرستی واقعی ایک بڑی اہم دلیل ہے اور تم صدیوں سے اپنے آبائواجداد کو شرک میں مبتلا دیکھ رہے ہو۔ تو تمہارے لیے یہ بات اطمینان دلانے کے لیے کافی ہے کہ اگر اس روش میں کچھ بھی غلطی کا امکان ہوتا تو اللہ تعالیٰ یقینا ہمیں اس سے روک دیتا۔ سوال یہ ہے کہ ابا پرستی تمہارے نزدیک ایک بہت بڑی حجت سہی لیکن کیا اس سے پہلے یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جن ابا کی ہم تقلید کررہے ہیں کیا وہ واقعی حق پرست تھے اور انھوں نے اپنا جو مذہب بنا رکھا تھا کیا اس کی صداقت و حقانیت کے لیے ان کے پاس واقعی دلائل تھے۔ کیونکہ کسی شخص کا حق کی قوت کے بغیر حق و باطل کی کشمکش میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنے ساتھ حق کی حقانیت اور صداقت رکھتا ہے وہ فی الواقع ایک بڑی شخصیت ہے۔ لیکن جو شخص اس سے تہی دامن ہے محض اس کا پہلی کسی صدی میں پیدا ہوجانا اور مرجانا کوئی دلیل نہیں رکھتا۔ اور دوسری یہ بات کہ تم نے جب اسلاف پرستی کو اپنا دین بنایا تو تم یہ بات نظرانداز کرگئے کہ تمہارے حقیقی سلف صالح تو تمہارے وہ جدِامجد ہیں جن کی تم اولاد ہو، اور جنھوں نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر بنایا اور جنھوں نے تمہیں اس بےآب و گیا وادی میں اللہ تعالیٰ سے شہر کی سہولتیں مانگ کردیں۔ اور جن کے صاحبزادے کی پائوں کی رگڑ سے اللہ تعالیٰ نے چاہ زم زم رواں فرمایا۔ اگر اسے ان کی والدہ منڈھیر باندھ کر محدود نہ کر دیتیں تو آنحضرت ﷺ کے بقول وہ بہتا ہوا دریا بن جاتا۔ یہ دونوں باپ بیٹا یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) تمہارے جدِامجد ہیں تو کیا ان لوگوں نے کبھی شرک کی کسی صورت کو قبول کیا یا ان کی اصل تاریخ یہ ہے کہ وہ اپنی گھر اور شہر سے صرف اس لیے نکالے گئے کہ انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے مشرکانہ رویہ سے براءت کا اظہار فرمایا۔ آیت کریمہ میں براءت کا لفظ مصدر ہے لیکن یہ بَرِیٓ ًٔ کے معنی میں اسم صفت کے طور پر آیا ہے۔ اور جب مصدر اسم صفت کے معنی میں آئے تو اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کے والد اور آپ کی قوم نے آپ کو اصنام پرستی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی اور بار بار آپ کو اس کی طرف توجہ دلائی تو آپ نے نہایت قوت کے ساتھ اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ اور صرف بتوں تک اس بات کو نہیں رہنے دیا بلکہ یہ فرمایا کہ تم جن جن کی بھی بندگی کرتے ہو اور جن قوتوں کی بھی تمہارے یہاں پرستش کی جاتی ہے وہ چاہے بڑی شخصیتوں کے مجسمے ہوں یا فرشتوں کی خیالی تصویریں بنا کر انھیں دیویاں قرار دیا گیا ہو یا اجرامِ فلکی کی پوجا کی جارہی ہو اور یا تم نے مختلف دیوتا بنا کر ان کی پرستش کو رواج دے رکھا ہو، میں ایسی ہر پرستش اور ہر بندگی سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اس کے بعد دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ مخلوق کا سر مخلوق کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ کیونکہ مخلوق چاہے کوئی بھی ہو، وہ وجود اور زندگی کی بقاء میں اپنے خالق کی محتاج ہے۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن جن کو بھی اپنا اِلٰہ بنا رکھا ہے ظاہر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اور میں بھی اس کی مخلوق ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مخلوق، مخلوق کی بندگی کرے۔ میں تو اس کی پوجا کروں گا اور اس کے سامنے دست سوال پھیلائوں گا جو میرا خالق ہے، جس نے مجھے وجود بخشا اور جس نے میری جسمانی ضرورتوں کی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اسی طرح میں اس کی پرستش اور بندگی کروں گا جس نے میری معنوی اور روحانی زندگی کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ یعنی وہ مجھے کھانے اور پینے کے لیے بھی دیتا ہے، پہننے کے لیے بھی دیتا ہے، زندگی کی ہمہ ہمی میں شریک ہونے کے لیے مجھے اس نے حواس اور جو ہر عقل عطا کر رکھے ہیں۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی اپنے ذمہ لے رکھی ہے کہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی میں تمہیں عطا کروں گا۔ عام انسانی زندگی میں تمہارے لیے عقل کافی رہنما ثابت ہوگی۔ لیکن تحلیل و تحریم، جائز و ناجائز اور حسن و قبح کے اصول میں عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے ذرائع اور زندگی کے مقاصد ان میں سے ہر عقدے کو میں کھولوں گا اور اس کی طرف رہنمائی بھی کروں گا۔ کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ؟
اِنَّ عَلَیْنَا لَـلْھُدٰی وَاِنَّ لَـنَا لَـلْآخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔
” بیشک ہمارے ذمہ ہے ہدایت دینا، بیشک ہمارے ہی لیے ہے آخرت بھی اور دنیا بھی۔ “