Ayah 43:50فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِذَا ھُمْ یَنْـکُثُوْنَ ۔ (الزخرف : 50)
(تو جب ہم ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے۔ )
عذاب کے دور ہوتے ہی عہد توڑ دیا جاتا
یعنی جب ان کی درخواست کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے اس کے نازل کردہ عذاب کو دور کرنے کی دعا کرتے تو بجائے شکرگزار ہونے کے وہ اپنا عہد توڑ دیتے۔ یعنی ایمان قبول کرنے کی بجائے کفر پر اصرار کرتے اور اپنے رویئے میں کسی طرح کی تبدیلی لانے سے انکار کردیتے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فرعون اور اس کی قوم کا طرزعمل یہ تھا کہ تکلیف آتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کرتے اور ایمان لانے کا وعدہ کرتے۔ اور جب دعا سے تکلیف ٹل جاتی تو انھیں ایمان لانے کا دعویٰ بھول جاتا اور وہ اپنی روش پر قائم رہتے۔ تو ایسی صورت بار بار پیش آنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی بات کا اعتبار کیوں کرتے تھے، اور ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی التجا کیوں کرتے تھے۔ آپ صاف ان سے کیوں نہیں کہتے تھے کہ تم نے بار بار اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے اس لیے میں اب تم پر اعتماد نہیں کرسکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کا اپنی امت دعوت سے معاملہ کاروباری نوعیت کا نہیں ہوتا کہ ایک دفعہ عہدشکنی سے کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے، بلکہ نبی بار بار انھیں اپنے طرزعمل کو درست کرنے کا موقع دیتا ہے اور بار بار انھیں سنبھلنے کے لیے مہلت دی جاتی ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تاآنکہ آخری امید ٹوٹ جانے کے بعد اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔
Ayahs 43:51–53وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْـکُ مِصْرَوَھٰذِہِ الْاَنْھٰـرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ج اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اَمْ اَنَا خَیْرٌمِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ 5 لا وَّلاَ یَکَادُیُبِیْنُ ۔ فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَـآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۔ (الزخرف : 51 تا 53)
(اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی، کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ تو کیا میں بہتر ہوں اس سے جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا۔ تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے آتے پرے باندھے ہوئے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون کا دعوائے برتری
مندرجہ بالا آیات پر غور کرنے سے سرسری طور پر جو باتیں سامنے آتی ہیں ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے نزدیک عزت و وجاہت، اقتدار اور دولت و رفاہیت سے ملتی ہے۔ جو شخص ان چیزوں سے تہی دامن ہے اس کا دعویٔ نبوت تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے غور کرنے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ نبوت ایک بہت بڑا منصب ہے، یہ صرف اسی شخص کو مل سکتا ہے جو اہل دنیا کی نگاہ میں اپنی دولت و ثروت اور عہدہ و منصب کی وجہ سے بلند مقام رکھتا ہو۔ اس لیے اہل مکہ نے کہا تھا کہ ہمارے دونوں بڑے شہروں میں سے سے کسی بڑے آدمی کو یہ منصب کیوں نہ سونپا گیا۔ چناچہ فرعون نے اسی کو دلیل بناتے ہوئے کہا کہ میری قوم کے لوگو ! ذرا غور کرو، کیا مصر کی سرزمین کا میں مالک نہیں ہوں، اور کیا دریائے نیل سے نکلنے والی نہریں جن پر تمہاری ساری معیشت کا انحصار ہے میرے حکم سے جاری نہیں ہے۔ جب یہ سب کچھ میرا ہے تو میرے سوا کسی اور کی عظمت کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔
دوسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مقتدر حضرات کچھ بھی خیال کریں حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اور طاقت کے زور سے گردنیں تو جھک جاتی ہیں لیکن دل نہیں جھکتے۔ دل ہمیشہ سیرت و کردار کی عظمت کے سامنے جھکتے ہیں۔ اور ان درویشوں کے سامنے جھکتے ہیں جو بظاہر تہی دست ہوتے ہیں، لیکن دلیل کی قوت اور اللہ تعالیٰ کی معیت انھیں میسر ہوتی ہے۔ اور جب اقتدار اور نبوت و رسالت میں مقابلہ ہوتا ہے تو اصحابِ اقتدار کے پائوں تلے سے زمین نکلنے لگتی ہے۔ اور وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ صداقت اور حقانیت ایک ایسی قوت ہے جو دلوں کو مسخر کرسکتی ہے اور اقتدار دیر تک اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ چناچہ یہی فکر تھی جس نے فرعون کو پریشان کردیا تھا۔ اور اسی پریشانی میں اس نے وہ منادی کرائی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔
تیسری چیز جو ان آیات سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے عمائدین کی نظر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے سیرت و کردار، صداقت و حقانیت، معجزات اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قریبی تعلق پر نہ تھی بلکہ اس بات پر تھی کہ وہ دنیوی اسباب کے لحاظ سے بالکل تہی دامن ہیں۔ نہ ڈھنگ کا لباس اور نہ کوئی عزت کی سواری، بالکل نادار و قلاش۔ اور دعویٰ یہ ہے کہ وہ رب العالمین کے رسول ہیں۔ اگر وہ اس کے رسول ہوتے تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہوتے، جو اس دور کے حکمرانوں اور ان کے درباریوں کی علامت تھے۔ اور جب وہ لوگوں میں نکلتے تو فرشتے پَرے باندھے ہوئے ان کے دائیں بائیں ہٹو بچو کے شور سے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت کو اتارتے۔ لیکن ان میں سے کوئی چیز نہ ہونے کی وجہ سے فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ” مہین “ قرار دیا، یعنی ذلیل اور حقیر۔ گویا اس کی نگاہ میں حقیر وہی ہے جس کے پاس دنیوی اسباب نہیں۔ چاہے معنوی اور روحانی اعتبار سے وہ کتنا بھی بلند کیوں نہ ہو۔
آخری بات جو اس میں غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرعون نے یہ کہا وہ تو کھل کر بات کرنے کے قابل بھی نہیں، یعنی اپنی بات کو پوری طرح کھول کر بیان نہیں کرسکتا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ کم گو اور مختصر بات کرنے والا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور وہ توتلا ہے۔ کیونکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک انھیں تقریر کی مشق کا موقع نہیں ملتا اور یا معاملات پر گفتگو کی ضرورت نہیں پڑتی تو وہ گفتگو میں بھی کمزور ہوتے ہیں اور تقریر میں بھی۔ ہمارے ملک میں نواب بہادر یارجنگ ایک بہت بڑے خطیب گزرے ہیں، لیکن ابتداء میں کہا جاتا ہے کہ وہ بالکل تقریر پر قدرت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کے جوہر کھلے اور وہ زبردست خطیب ثابت ہوتے۔ مفتی کفایت اللہ صاحب مرحوم بہت بڑے عالم اور مفتی تھے اور مجلس میں نہایت سلیقے سے گفتگو کرتے تھے، لیکن تقریر کبھی نہ کی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں بھی ایسی ہی کیفیت معلوم ہوتی ہے کہ شروع میں ان کا طبعی رجحان تقریر کی طرف نہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی طلاقتِ لسانی پیدا فرمائی کہ قرآن کریم سے ان کے بےمثال خطبوں کی جھلک ملتی ہے۔
Ayah 43:54فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (الزخرف : 45)
(پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی، بیشک وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ )
حکمران کی ساحری
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جادوگروں کے مقابلے اور ان کی شکست اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پے در پے آنے والی نشانیوں کی وجہ سے قوم فرعون میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ایک میلان پیدا ہوگیا تھا اور وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ فرعون اور اس کے عمائدین محض طاقت کے بل بوتے پر ایک صحیح بات کو غلط قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور اس طرح سے ان کے دلوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی صداقت اترنے لگی تھی۔ چناچہ اسے ایک خطرہ محسوس کرتے ہوئے فرعون نے دنیوی وجاہت کو ذریعہ بنا کر اپنی برتری اور اپنے بہتر ہونے کی منادی کروائی۔ اور اس طرح سے اس نے اپنی قوم کی ذہنی تبدیلی کو روکنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اور قوم میں جو انقلابی تبدیلی کے آثار پیدا ہورہے تھے انھیں دولت و رفاہیت کی محبت کے حوالے سے کند کرکے رکھ دیا۔ اور اس میں اس کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ نسلوں سے لکشمی دیوی کی پوجا کرتے چلے آئے تھے وہ دولت و ثروت ہی کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے تھے۔ چناچہ جیسے ہی صداقت و حقانیت کے زور سے اس دبی ہوئی چنگاری کو ابھارنے کی کوشش کی گئی تو فرعون نے بروقت اس سے کام لیا۔ اور اس طرح سے اس فاسق قوم میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو روک دیا۔
اصحابِ اقتدار کی طرف سے ایسی میٹھی لوریوں سے سلا دینے کی مشق کوئی نئی نہیں، ہر دور میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ جب بھی کبھی رعایا میں کسی بہتر تبدیلی کے آثار پیدا ہوئے ہیں تو تخت و تاج کے وارثوں نے ہمیشہ اس کا رخ بدل دیا۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
نیند سے بیدار ہوتا ہے کوئی محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
Ayahs 43:55–56فَلَمَّـآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰـہُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰـھُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً لِّـلْاٰخِرِیْنَ ۔ (الزخرف : 55، 56)
(پس جب ان لوگوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ہم نے ان کو ماضی کی ایک داستان اور بعد والوں کے لیے نمونہ ٔ عبرت بنادیا۔ )
اٰسَفَہٗ کے معنی ہیں اَغْضَبَہٗ یعنی ہم نے ایک مدت تک انھیں سنبھلنے کا موقع دیا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے ہر ممکن طریقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی سرکشی اور تمرد کو توڑنے کے لیے انھیں مسلسل آزمائشوں میں ڈالا گیا۔ لیکن جب انھوں نے کسی طریقے سے بھی راہ ہدایت اختیار کرنے کی کوشش نہ کی بلکہ ان کی ہٹ دھرمی بڑھتی چلی گئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مسلسل مطالبے پر بنی اسرائیل کو عبادت کے لیے بیرون شہر جانے کی اجازت دی بھی تو فرعون نے اپنا عہد توڑتے ہوئے اپنی ساری فوجوں اور عمائدین سمیت ان کا تعاقب کیا۔ تب اللہ تعالیٰ کا غصہ بھڑکا۔ انھوں نے بظاہر بحرقلزم کے ساحل پر بنی اسرائیل کو پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نجات کے راستے کھول دیئے۔ انھیں نہایت خیریت کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ لیکن جیسے ہی فرعون، اس کے عمائدین اور فوج نے بحرقلزم میں اتر کر پار جانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو مل جانے کا حکم دیا اور فرعون اپنے تمام جاہ و جلال سمیت پانی میں غرق ہوگیا۔ اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے انھیں ماضی کی داستان اور دوسروں کے لیے نمونہ عبرت بنادیا۔
Ayahs 43:57–58وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَط مَاضَرَبُوْہُ لَـکَ اِلاَّ جَدَلاً ط بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ۔ (الزخرف : 57، 58)
(اور جب ابن مریم کی مثال دی جاتی ہے تو آپ کی قوم کے لوگ اس پر شور مچا دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کیا ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ، یہ مثال وہ آپ کے سامنے محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک اعتراض کا جواب
اس سے پہلے آیت 45 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ سے پہلے جو رسول گزر چکے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھئے یعنی ان کی تعلیمات کو دیکھئے کہ کیا ہم نے کسی اور کو اپنے سوا بندگی اور عبادت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اور جب ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کوئی رسول بھی اللہ تعالیٰ کی برابری کرسکے یا اس کی بندگی میں شرکت کرسکے تو پھر تم اپنے معبودوں کو یا فرشتوں کو کس حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو۔ تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص جس کا نام روایات میں عبداللہ ابن الزیعری آیا ہے، وہ اٹھا اور اس نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ امرواقعہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کو اللہ تعالیٰ کا رسول کہا جاتا ہے۔ باایں ہمہ عیسائی اسے خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں۔ کیونکہ ہمارے معبودوں کا تعلق تو فرشتوں جیسی پاکیزہ مخلوق سے ہے اور مسیح ابن مریم کا تو نسب ہی ثابت نہیں۔ اس پر ایک زور کا قہقہہ بلند ہوا۔ یعنی لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ ایک ایسی مسکت بات ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔ قرآن کریم نے اس اعتراض کا جواب دینے کی بجائے پہلے اس تقریر کو مکمل کیا جو آنحضرت ﷺ کے واسطے سے جاری تھی۔ اس کے بعد اس اعتراض کے بارے میں یہ فرمایا کہ یہ بات تم بھی جانتے ہو کہ مسیح ابن مریم کلمۃ اللہ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے محض کلمہ ٔ کُن سے پیدا کیا۔ اور قرآن کریم نے انھیں اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا۔ اور انھوں نے بھی زندگی بھر توحید کی دعوت دی اور ان کی دعوت اور باقی رسولوں کی دعوت میں سرمو فرق نہیں۔ تم اپنے معبودوں کو ان کے ساتھ کیونکر شامل کررہے ہو۔ تمہاری یہ حرکت کج بحثی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ تم درحقیقت ہو ہی ایک جھگڑالو قوم۔ تم اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک رحمن کے بارے میں جھگڑا کھڑا کرچکے ہو۔ یعنی وہ باتیں جو بالکل سامنے کی ہیں انھیں بھی کج بحثی کا موضوع بنا لینا تمہاری عادت ہے۔
Ayah 43:59اِنْ ھُوَ اِلاَّ عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْـنٰـہُ مَثَلاً لِّـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الزخرف : 59)
(ابنِ مریم وہ صرف ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے اپنا فضل فرمایا، اور بنی اسرائیل کے لیے اس کو ایک مثال بنایا۔ )
مسیح ابن مریم ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ تھا۔ البتہ ہم نے اس پر انعامات کیے کہ ہم نے اسے بغیر باپ کے پیدا کیا، اور ایسے معجزات عطا کیے جن کی مثال نہ پہلے ملتی ہے اور نہ بعد میں۔ وہ مٹی سے پرندے بناتے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پھونکتے اور وہ سچ مچ پرندوں کی طرح اڑنے لگتے۔ مُردوں کو اللہ تعالیٰ کے نام پر زندہ کردیتے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ انعامات ان کی صفات کی صورت اختیار کرلیں گے اور ان میں خدائی صفات پیدا ہوجائیں گی۔ رہی یہ بات کہ انسان خاکی مخلوق ہے اور فرشتے نوری مخلوق۔ اور جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی تقسیم ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ کس مخلوق کو کس عنصر سے پیدا کردے اور ان سے کس قسم کی خدمات لے۔ لیکن یہ امرواقعہ ہے کہ کسی مخلوق کو کسی خاص عنصر سے پیدا کردینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ پر یہ لازم نہیں ہوجاتا کہ وہ اس مخلوق کو اسی عنصر سے پیدا کرے جس سے وہ ایک دفعہ پیدا کرچکا ہے۔ اس لیے اگلی آیت میں فرمایا :
Ayah 43:60وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْـنَا مِنْـکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ ۔ (الزخرف : 60)
(اور اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں خلافت کریں۔ )
مشرکین کی غلط فہمی کا ازالہ
یعنی فرشتوں کا نور سے پیدا ہونا انھیں مخلوق ہونے سے نہیں نکالتا، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ویسے ہی مخلوق ہیں جیسی تم مخلوق ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ اسی طرح عاجز ہیں جیسے تم عاجز ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اس بات کی پابند نہیں کہ وہ نور ہی سے فرشتوں کو بنائے۔ وہ تم میں بھی فرشتوں کو پیدا کرسکتی ہے۔ اور جس خلافت کی ذمہ داری پر تمہیں فائز کیا گیا ہے، اسی ذمہ داری پر وہ بھی فائز کیے جاسکتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح زمین پر انسانوں کے جانشین انسان ہی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید نہیں کہ وہ انھیں تمہارا جانشین بنا دے۔ کسی مخلوق کا نور سے پیدا ہونا یا نار سے یا کسی کو مٹی کا پتلا بنانا اس کے نزدیک حکمت کا تقاضا تو ہوسکتا ہے لیکن قدرت کی علامت نہیں۔ خدائی صفات صرف اس کی ذات میں ہیں، کوئی مخلوق کسی بھی عنصر سے پیدا ہو وہ بہرحال مخلوق ہے اور مخلوق خالق کے سامنے عجزونیاز اور سرافگندگی کی علامت ہے۔ بنا بریں فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنانا یا اس کی قدرت میں شریک سمجھنا جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
Ayahs 43:61–62وَاِنَّـہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلاَ یَصُدَّنَّـکُمُ الشَّیْطٰنُ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 61، 62)
(اور بیشک وہ قیامت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے، پس اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ اور شیطان تم کو اس سے روکنے نہ پائے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے استدلال
یعنی قریش نے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات بابرکات کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا ہے اور ایک سیدھی بات کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ محض غیرسنجیدگی کی علامتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اور پھر بچپن میں آپ کا باتیں کرنا، اپنی نبوت کا اعلان کرنا اور کتاب کے دیئے جانے کی خبر دینا۔ اور پھر اپنی دعوت کے آغاز میں غیرمعمولی معجزات کا دکھانا، مٹی کی مورتیوں کو اللہ تعالیٰ کے نام سے اڑتے ہوئے پرندوں میں تبدیل کردینا، برسوں کے قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو زندہ کردینا۔ یہ سب اس بات کی علامتیں تھیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے۔ مٹی کی مورتیوں کو زندہ جانوروں کی طرح قوت پرواز دے سکتا ہے تو اس کا خالق ومالک جس نے اپنے ایک بندے میں یہ صفات پیدا کی ہیں وہ ازسرنو مخلوقات کو زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ اگر وہ کلمہ ٔ کُن سے بن باپ کے بیٹا پیدا کرسکتا ہے تو کلمہ کُن سے قیامت برپا کیوں نہیں کرسکتا، اور تمام لوگوں کو زندہ کرکے میدانِ حشر میں کیوں نہیں لاسکتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ مرنے اور جینے میں اصلی دخل ظاہری اسباب کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت کو ہے۔ اور یہی وہ بات ہے جس پر سب سے زیادہ زور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مواعظ میں دیا ہے۔ انھوں نے آسمان کی بادشاہی اور ابدی زندگی کی منادی اس شان سے کی ہے کہ سننے والے دل پگھل کے رہ جاتے ہیں۔ اور آخرت کی تذکیر اس قوت سے فرمائی ہے کہ آخرت کے خوف اور شوق دونوں سے دل لبریز ہوجاتا ہے۔
آخر میں فرمایا کہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تمسخر اڑا رہے ہو حالانکہ ان کی زندگی کے حالات سے یقین کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس میں شک و شبہ کے ادہام اڑ جاتے ہیں اور انکار و ارتیاب کی جگہ یقین کی دولت لینی لگتی ہے۔ اس لیے تم بھی اس معاملے میں شک و شبہ کا اظہار نہ کرو، بلکہ تمہاری بھلائی اس میں ہے کہ میرا اتباع کرو۔ یعنی آنحضرت ﷺ کا اتباع کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ اور یاد رکھو کہ شیطان صراط مستقیم کا کھلا ہوا دشمن ہے جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ وہ ہر ممکن طریقے سے کوشش کرے گا کہ تمہیں صراط مستقیم کی طرف آنے سے روکے۔ اس لیے نہایت چوکنا رہ کر اس کی دشمنی سے بچو اور اپنی عافیت کے لیے صراط مستقیم کی طرف بڑھو۔
Ayah 43:63وَلَمَّا جَـآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْجِئْـتُـکُمْ بِالْحِکْمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَـکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ (الزخرف : 63)
(اور جب عیسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے دعوت دی کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم نے اختلاف کیا ہے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مان لو۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حکمتِ شریعت لے کر آئے
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مقصدبعثت کو بیان فرمایا ہے کہ میں تمہارے پاس کوئی نیا دین یا نئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ ایک تو میں اپنے ساتھ واضح معجزات اور مضبوط دلائل لے کر آیا ہوں جس سے تمہیں میری حیثیت کو جاننے میں مدد ملے گی اور صراط مستقیم پر یقین کی دولت نصیب ہوگی۔ اور دوسرا میں اس لیے آیا ہوں کہ میں تمہارے سامنے حکمت دین کو واضح کرسکوں۔ یعنی میرے نزدیک روح دین اور مغزدین سے بنی اسرائیل کو آگاہ کرنا سب سے اہم ہے۔ کیونکہ قومیں جب تک چند ظاہری رسوم تک اپنے دین کو محدود رکھتی ہیں تو ان میں دو خرابیاں پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ ایک تو یہ کہ وہ چند رسوم و رواج کے ادا کردینے کو دین کی ذمہ داریوں سے فراغت کا ہم معنی سمجھتی ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے یوم ولادت کو بھی چند ظاہری رسوم تک محدود کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس انقلاب کا حق ادا کردیا ہے جس کے داعی بن کر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول آتے ہیں۔ اور نماز کی ظاہری حالت کو انجام دینے کے بعد یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطاعت و بندگی کا حق ادا کردیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے مذہب ایک بیگانہ چیز ہو کے رہ جاتی ہے اور انسان دوسری تہذیبوں، دوسری ثقافتوں اور دوسرے افکار سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ ظاہری زندگی پر عمل کو کافی سمجھتے ہوئے حقیقی دین کے بارے میں عجیب و غریب اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں جن کو دور کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ یہود بھی حکمت دین سے محروم ہوجانے کے بعد اسی فتنہ میں مبتلا ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کی اصل روح وہ مقصدحیات تھا جس کو لے کر وہ دنیا میں تشریف لائے تھے۔ لیکن جب ظاہر پرستی اصل دین بن گئی تو مقصدحیات ایک طرف رہ گیا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات وصفات اور ان کے معجزات اصل موضوع بن کر رہ گئے۔ نتیجتاً آپ کی ذات کے بارے میں وہ اختلافات پیدا ہوئے جن کا آج تک فیصلہ نہ ہوسکا۔
Ayah 43:64اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ رَبِّیْ وَرَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (الزخرف : 64)
(بےشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل دعوت
صرف رسوم اور الفاظ کی بحث میں پڑے رہنا اور روح دین کی طرف توجہ نہ کرنا، اس کی ایک واضح مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت ہے۔ آپ نے بالکل وہی دعوت اپنی قوم کے سامنے پیش کی جس کے داعی بن کر تمام رسولانِ گرامی تشریف لائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات اور اپنے حقوق میں یکتا اور بےمثال ہے۔ کسی حوالے سے بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لیے اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت اور بندگی میں کسی اور کو شریک نہ بنائو۔ اس کے لیے انجیلوں کی شہادت کے مطابق آپ نے جو الفاظ استعمال کیے وہ یہ تھے کہ اللہ ہی میرا بھی باپ ہے اور تمہارا بھی باپ ہے۔ یعنی عبرانی زبان میں ” اب “ جس طرح باپ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اسی طرح رب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب آپ نے یہ کہا کہ وہ میرا بھی اب ہے اور تمہارا بھی اب ہے تو اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ تمہارا بھی رب ہے اور میرا بھی رب ہے۔ کیونکہ ہم سب ایک ہی باپ کی اولاد تو نہیں ہیں بلکہ تم سب الگ الگ باپوں کی اولاد ہو اور میرا کوئی باپ نہیں، میں اللہ تعالیٰ کے لفظ کُن سے پیدا ہوا ہوں۔ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کو اپنا اور تمہارا ” اب “ کہتا ہوں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میں اس سے ” رب “ مراد لے رہا ہوں۔ اور اسی کا ترجمہ پیش نظر آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا اب اگر یہود کی نگاہ روح دین پر ہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اس کی الوہیت اور اس کی بندگی پر غور و فکر کرتے۔ لیکن ان کی تمام توجہات لفظِ اب میں سمٹ کر رہ گئیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی الجھنوں کا شکار ہوئے جن کا عقدہ آج تک حل نہ ہوا۔ حالانکہ صراط مستقیم اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ سب کا رب ایک اللہ ہے، اسی کی سب کو عبادت کرنی ہے، اگر اسے حقیقی معنوں میں اختیار کرلیا جاتا تو عیسائیوں میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا۔
Ayah 43:65فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیْنِھِمْ ج فَوَیْلٌ لِّـلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ۔ (الزخرف : 65)
(ان کے اندر سے مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف برپا کیا، پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، ایک دردناک دن کے عذاب کی۔ )
رسوم پرستوں نے اختلافات پیدا کیے
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے واضح ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن رسوم پرستی کے خوگر لوگوں نے ان میں اختلافات کی راہیں نکال لیں۔ ایک گروہ نے انھیں ماننے سے انکار کردیا اور ان کے تمام کمالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان پر ناجائز ولادت کی تہمت لگائی اور غلط الزامات سے انھیں حکومت کی نگاہ میں ایسا مجرم ثابت کیا کہ اپنے تئیں انھیں سولی پر چڑھوا کر چھوڑا۔ دوسرے گروہ نے ان کا اقرار کیا، لیکن عقیدت میں بےتحاشا غلو کرکے ان کی ذات کو کچھ سے کچھ بنادیا۔ حضرت شمعون کے پیروئوں کے سوا دوسرے تمام فرقوں نے تثلیث اور کفارہ وغیرہ کے طریقے ایجاد کرکے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم و توحید کا بالکل خاتمہ کردیا۔ اور پال نے مسیحیت کو بدعات کا ایسا مجموعہ بنایا کہ ان بدعات کی تعبیر میں آج تک وحدت پیدا نہ ہوسکی۔
آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیدھی سادھی دعوت کے باوجود شرک کا راستہ اختیار کیا انھوں نے درحقیقت اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ قیامت کے روز یہ لوگ اپنے اس ظلم اور شرک کی وجہ سے دردناک دن کے عذاب میں ہوں گے۔
Ayah 43:66ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّالسَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (الزخرف : 66)
(کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور کفار سے اعراض کا حکم بھی۔ آپ کی تذکیر و دعوت کا زور جس طرح توحید کے حوالے سے تھا اسی طرح آپ بار بار قیامت کے تصور کو بھی دلوں میں اتارنے کی کوشش فرماتے تھے۔ لیکن سننے والوں کا حال یہ تھا کہ کبھی تو قیامت کا مذاق اڑاتے، کبھی اسے سوالات کی سان پر چڑھاتے اور کبھی ایسی بےنیازی کا ثبوت دیتے کہ گویا یہ کوئی قابل ذکر دن ہی نہیں۔ اولاً تو اس کے آنے کا امکان ہی نہیں اور اگر کسی نہ کسی حد تک اسے مان بھی لیا جائے تو یہ ایسی چیز نہیں جس کی کوئی فکر کی جائے یا جس کی تیاری کی کوشش کی جائے۔ ہم جن اعمال و اشغال میں وقت گزار رہے ہیں ہم اپنی ان دلچسپیوں کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اور ہمارے پاس کوئی وقت نہیں کہ ہم موہوم باتوں کی تیاری شروع کردیں۔ قیامت کو آنا ہے تو آجائے، ہمیں اس کی کیا پرواہ۔ جیسے موسم آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، دھوپ چڑھتی ہے پھر سایہ ہوجاتا ہے، ان میں کون سے بات فکرمندی کی ہے، ایسے ہی قیامت آئے گی تو گزر جائے گی۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ قیامت اگر آئے تو اس طرح آئے کہ ہمیں اس کا شعور تک نہ ہوسکے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ خودفریبیوں کے مارے ہوئے لوگ ہیں، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے اور ان کی غفلت اور لاپرواہی کو دل کا روگ نہ بنایئے۔
Ayah 43:67اَ لْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ م بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّالْمُتَّقِیْنَ ۔ (الزخرف : 67)
(اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، سوائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے۔ )
قیامت کے روز نفسی نفسی
آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی دینے کے بعد کہ قیامت کے بارے میں ان کی بےنیازیوں سے آپ کوئی اثر قبول نہ کریں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو کسی حد تک بھی غور و فکر کے عادی ہیں سوچنے کی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ منکرینِ قیامت کو جس چیز نے سہارا دے رکھا ہے اور یہ چند روزہ زندگی ان کے لیے محبوب اور محترم ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ صرف ان کے باہمی دوستانہ تعلقات ہیں اور ایک دوسرے پر وہ اعتماد ہے جس نے ان کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا رکھا ہے۔ اور بعض لوگوں کے بارے میں یہ حُسنِ ظن ہے کہ وہ ہر برے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔ یہی تصورات ہیں جس نے انھیں ہر خطرے سے بےنیاز اور آخرت سے بالکل نچنت کررکھا ہے۔ لیکن انھیں معلوم نہیں کہ وہ دن جسے قیامت کہا جاتا ہے جسے بہرصورت آنا ہے اس دن کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار اور عزیز سے عزیز دوست بھی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا، دوستی کے تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے، ہر شخص کو اپنی ذات کی فکر ہوگی اور ہر دوسرے آدمی کو وہ اپنا دشمن جانیں گے۔ دوستوں کے بارے میں اس کے دل میں یہ بات اتر جائے گی کہ اگر یہ لوگ وقت گزاری میں میرے معاون نہ ہوتے اور ان کے تعلقات میرے لیے محبت کا پیغام نہ بنتے تو میں شاید کبھی ان کے قریب نہ آتا۔ اور ان سے ہٹ کر کبھی مجھے آزادی سے خیر و شر اور مستقبل کے بارے میں غور و فکر کرنے کا موقع ملتا تو میں شاید قیامت کے تصور سے اتنا بیگانہ نہ رہتا۔ اس دن ہر شخص اپنی محرومی پر سر پیٹے گا اور اپنے ساتھی کو ملامت کرے گا۔ اس دن اس دل دہلا دینے والے تصور سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کو اپنی زندگی کا عنوان بنایا ہوگا۔ وہ جب اپنے لیے چاروں طرف کامیابی و کامرانی پر سلام و تحیت کے جاں فزا الفاظ سنیں گے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں گے کہ اس نے ہمیں اس دن کی تیاری کا موقع عطا فرمایا۔
Ayahs 43:68–70یٰعِبَادِ لاَخَوْفٌ عَلَیْـکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْـتُمْ تَحْزَنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ اُدْخُلُوا الْجَنَّـۃَ اَنْـتُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُوْنَ ۔ (الزخرف : 68 تا 70)
(اے میرے بندو ! آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو۔ جو لوگ ایمان لائے اور مطیع فرمان بن کر رہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔ )
قیامت کے روز ایمان کا رشتہ باقی رہے گا
گزشتہ آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے، بجز ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہوں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان ہی لوگوں کو مبارکباد دی جارہی ہے کہ اے میرے بندو ! تم آج تک خوف اور حزن کی گرفت میں رہے، خوف مستقبل کے خطرات کا ہوتا ہے کہ نہ جانے آگے چل کر ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اور ” حزن “ حاضر و ماضی کی ناکامی اور صدمات کا، کہ آدمی جو صدمے گزار چکا ہے، اور جن مصیبتوں سے دوچار ہوچکا ہے کبھی نہ کبھی ان کی یاد آئے بغیر نہیں رہتی۔ اس طرح کبھی خوف آدمی کو پریشان کرتا ہے اور کبھی حزن انتشارِفکر کا باعث بنتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن ارشاد فرمایا جائے گا کہ آج تمہیں نہ ماضی کے صدمے پریشان کریں گے، نہ حال کی الجھنیں تمہارے لیے کوئی مسئلہ بنیں گی اور نہ مستقبل کے بارے میں کبھی تمہاری سوچ پریشانی پیدا کرے گی۔ کیونکہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ہر آزار سے تم آزاد ہوجاؤ گے۔ اور یہ سب کچھ تمہیں اس لیے نصیب ہوگا کہ تم نے اپنے اندر وہ صفات پیدا کیں جو اہل جنت کی صفات ہیں، تم نے سب سے پہلے اپنے اندر ایمان کی صفت پیدا کی۔ یعنی ہماری آیات پر ایمان لائے اور صدق دل سے ہمارے احکام پر عمل پیرا رہے۔ یعنی ایک تو دل میں ضروریاتِ دین کی صداقت پر یقین اور پھر اللہ تعالیٰ کے احکام پر اخلاص کے ساتھ عمل، یہ دو قوتیں ہیں جو انسان کو اہل جنت میں داخل کردیتی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم نے چونکہ اپنے لیے جنت کا استحقاق پیدا کرلیا ہے اس لیے اب تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ لیکن اکیلے نہیں تمہارے ساتھ تمہاری بیویاں بھی ہوں گی۔ یعنی اگر انھوں نے بھی اپنے اندر وہی صفات پیدا کیں جو جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہیں تو تھوڑی بہت کمی بیشی بھی اگر باقی رہی تو اللہ تعالیٰ کرم فرمائیں گے اور تمہیں تمہاری بیویوں کے ساتھ جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ نوع بنوع اور گوناگوں کیا ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں یہ بھی صحیح ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب ایسے صاحب ایمان بندوں کو جنت میں داخل ہونے کا حکم دے گا تو ساتھ ہی انھیں یہ بھی اعزاز بخشے گا کہ تم اپنے ہم مسلک اور ہم عقیدہ لوگوں کو ساتھ لے کر جنت میں جاؤ۔ کیونکہ دنیا میں جن لوگوں نے ایمان کا حق ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کی اور مل کر وہ ذمہ داریاں اٹھائیں جو انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہیں تو ان کی خوشیاں یقینا نامکمل رہیں گی۔ اگر ان کے ساتھ وہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوئے جو جنت کے لیے اسی طرح بےتاب تھے جیسے یہ بےتاب ہوا کرتے تھے۔
Ayahs 43:71–74یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّاَکْوَابٍ ج وَفِیْھَا مَاتَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّالْاَعْیُنُ ج وَاَنْـتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَتِلْـکَ الْجَنَّـۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْـتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ لَـکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (الزخرف : 71 تا 73)
(ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ان میں وہ چیزیں ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور آنکھوں کے لیے لذت بخش ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اور تمہارے لیے اس جنت میں بکثرت میوے ہوں گے جن میں سے تم کھائو گے۔ )
جنت میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کی عزت افزائی
اللہ تعالیٰ جنت میں اپنے فرماں بردار بندوں کے ساتھ جو سلوک کرے گا اور جس طرح ان کی عزت افزائی کی جائے گی اس کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے فرمایا کہ ان کے سامنے سونے کی طشتریاں اور ساغر گردش کرائے جائیں گے۔ یعنی غلمانِ جنت ہر وقت ان کی تواضع اور ضیافت کے لیے مستعد ہوں گے اور طشتریاں اور ساغر لیے ہوئے بار بار ان کے سامنے آئیں گے۔
مزید فرمایا کہ ان طشتریوں اور ساغروں میں کھانے پینے کی وہ چیزیں ہوں گی جن کی چاہت دلوں میں ہوگی، دل اس کی تمنا کریں گے اور بار بار ان چیزوں کے لیے دلوں میں امنگ پیدا ہوگی۔ اسی طرح جو جام وہ بھر کر لائیں گے ان میں بھی وہ چیز ہوگی جو آنکھوں کو لذت بخشنے والی ہوگی۔ کیونکہ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو دیکھنے کو اچھی ہوتی ہیں لیکن ان کا مزہ اچھا نہیں ہوتا۔ اور بعض ایسی ہیں کہ مزے میں بےمثال ہوتی ہیں لیکن شکل و صورت میں کوئی اپیل نہیں رکھتیں۔ لیکن جنت کی نعمتوں میں بیک وقت یہ دونوں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
مزید فرمایا کہ یہ جنت چند دنوں کی مہمانی کی جگہ نہیں کہ ہر وقت دل میں یہ کھٹکا لگا رہے کہ آج میں جن نعمتوں سے شادکام کیا جارہا ہوں نہ جانے اس کی عمر کب ختم ہونے والی ہے اور میرا میزبان کب مجھے رخت سفرباندھنے کا حکم دے دے گا۔ ایسا نہیں بلکہ نہایت التفات کے ساتھ فرمایا کہ اے میرے بندو ! تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ نعمتیں اور یہ عیش کی زندگی اور خدام کی یہ خدمتیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔
مزید فرمایا اور اس میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اعزاز اور انعام کی انتہا کردی کہ جنت تمہیں جو عطا کی گئی ہے یہ محض ہمارا انعام نہیں بلکہ یہ تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔ تمہاری یہ عزت افزائی بلا استحقاق نہیں بلکہ تم نے زندگی بھر اپنے ایک ایک عمل سے اس کا استحقاق پیدا کیا ہے۔ اور انسانی فطرت یہ ہے کہ یوں تو اسے انعام ملنے سے بھی خوشی ہوتی ہے لیکن جب اسے یہ معلوم ہو کہ یہ نعمتوں کی بارش درحقیقت میری محنتوں کا ثمرہ ہے تو اس کی خوشی میں چند در چند اضافہ ہوجاتا ہے۔
مزید فرمایا کہ اب تک ہم نے تمہارے ماکولات و مشروبات کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اب ہم یہ بتائے دیتے ہیں کہ جنت میں تمہاری لطف اندوزی کے لیے بیشمار قسم کے میوے ہوں گے اور ان میں سے جس میوے سے تم چاہو گے لطف اٹھائو گے اور اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ موسم بدلنے سے کوئی میوہ نایاب ہوجائے گا اور یا کثرت استعمال سے ان میں کمی پیدا ہوجائے گی۔ وہ ہر وقت اور پوری فراوانی سے اہل جنت کی دسترس میں ہوں گے۔
Ayah 43:75لاَ یُفَتَّرُ عَنْھُمْ وَھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ ۔ (الزخرف : 75)
(اور ان سے عذاب کبھی ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے۔ )
اہلِ جہنم کی ابدی مایوسی
دنیا میں بڑی سے بڑی سزا بھی وقت کی قید کے ساتھ دی جاتی ہے یعنی یہ شخص اتنے سال جیل میں رہے گا اور یا اسے عمرقید دی جاتی ہے اور وہ بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح سزا کی شدت میں بھی آہستہ آہستہ کمی آجاتی ہے۔ جن لوگوں کو بامشقت سزا دی جاتی ہے انھیں مشقت کرتے ہوئے شروع میں ہاتھوں میں چھالے پڑتے ہیں، پھر یہ پھوٹتے ہیں اور پھر وفتہ رفتہ گٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اب ان میں وہ شدت نہیں رہتی جو سزا کے آغاز میں ہوتی ہے۔ لیکن قیامت ایک ایسی سزا کی جگہ ہے جس میں نہ تو سزا ہلکی کی جائے گی۔ یعنی نہ اس کی شدت میں کمی آئے گی اور نہ اس کی کمیت میں کمی ہوگی۔ آخرت کی زندگی چونکہ ہمیشہ کی زندگی ہے اس لیے وہاں اس کا کوئی سوال نہیں ہوگا کہ ہم نے اتنے سال جہنم کی سزا کاٹی ہے تو باقی اتنے سال رہ گئے۔ بلکہ وہاں تو علی الاطلاق ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے اس لیے سالوں کی گنتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور رہی سزا کی شدت اس میں بھی زیادہ سے زیادہ آدمی یہ امید کرتا ہے کہ جہنم کی آگ سے میری کھال جل جائے گی تو پھر شاید مجھے موت آجائے اور پھر کھال کے جل جانے سے میری تکلیف کی شدت میں کمی ہوجائے۔ لیکن قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ جب کھال جل جانے کے بعد جھڑ جائے گی تو اللہ تعالیٰ اس مجرم کو نئی کھال پہنا دیں گے تاکہ وہ نئے سرے سے عذاب کا مزہ چکھے۔ اس طرح سے جہنم کا ہر مجرم مایوسی میں مبتلا سزا کاٹتا رہے گا۔
Ayah 43:76وَمَا ظَلَمْنٰـہُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْا ھُمُ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الزخرف : 76)
(اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنے۔ )
غلط فہمی کا ازالہ
آیاتِ بالا میں عذاب کا ذکر دیکھ کر ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ جہنم میں ہمیشہ کی سزا اور ایسی کڑی سزا جس میں امید کا ہر ٹانکا ٹوٹ جائے گستاخی نہ ہو تو اسے ظلم کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ یہ ظلم ہم نے ان پر نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔ یعنی ہم انھیں بار بار تنبیہ کرتے رہے کہ اگر تم نے اپنے ان کرتوتوں کو نہ چھوڑا، شرک سے توبہ نہ کی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکرگزار نہ ہوئے تو تمہیں وہ سزا ملے گی جس کا تصور بھی کپکپا دینے والا ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کسی بات کو وزن دینا تو دور کی بات ہے سننا بھی گوارا نہ کیا۔ اور اپنی بداعمالیوں میں اسی طرح بڑھتے چلے گئے جس میں ان کی خواہشات کی تکمیل ہوتی تھی۔ نتیجہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق وہ آخرت میں اپنے جس انجام میں پکڑے گئے ہیں تو اس انجام کے اسباب انھوں نے خود پیدا کیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیے۔
Ayah 43:77وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّـکَ ط قَالَ اِنَّـکُمْ مّٰـکِثُوْنَ ۔ (الزخرف : 77)
(اور وہ پکاریں گے، اے مالک ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے تو اچھا ہے، وہ جواب دے گا تم اسی حال میں پڑے رہو گے۔ )
مایوسی کی وضاحت
یہ ایک طرح سے آیت 75 میں ان کی جس مایوسی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کی وضاحت ہے، کہ جب جہنم کی تکلیفیں ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجائیں گی اور کسی طرف سے بھی ان کی آہوں کا جواب نہیں ملے گا تو پھر ان کے پاس ایک ہی راستہ ہوگا کہ وہ داروغہ جہنم کو جنھیں مالک کے نام سے یاد کیا گیا ہے پکاریں گے کہ اے مالک اپنے رب تک ہماری درخواست پہنچا دیجیے کہ اب یہ تکلیفیں ہم سے برداشت نہیں ہوتیں، وہ ہمارا کام تمام کردے، یعنی ہماری موت کا فیصلہ فرما دے۔ کیونکہ کسی بھی دکھی انسان کی آخری امید جو تمام امیدوں کے کٹ جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے وہ موت ہے۔ کیونکہ موت کے آجانے کے بعد تمام تکلیفوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے وہ داروغہ جہنم سے کہیں گے کہ اپنے مالک سے کہو کہ وہ ہمیں موت دے دے۔ موت اگرچہ تلخ چیز ہے لیکن اس وقت ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں اس میں موت ہی ہماری مصیبتوں کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ تو داروغہ جہنم بڑی بےنیازی سے ان سے کہے گا کہ یہ آخرت کی دنیا ہے اس میں کسی کو موت نہیں آتی۔ سزائیں ملتی ہیں اور ہر شخص ان ہی سزائوں میں یہ ابدی زندگی گزارتا ہے۔ تو تم بھی اسی طرح سسک سسک کر زندگی گزارو گے، موت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اندازہ فرمایئے کہ جو آدمی اپنے مصائب کے خاتمہ کے لیے موت کی تمنا کرے اور موت بھی اس کو نہ آئے تو اس کی مایوسی کی انتہا کیا ہوگی۔ غالب نے ٹھیک کہا تھا :
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
Ayah 43:78لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلَـکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ (الزخرف : 78)
(ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے مگر تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے رہے۔ )
قریش کو تنبیہ
گزشتہ آیت میں کفار کی درخواست پر داروغہ جہنم کا جواب ذکر فرمایا گیا ہے، ممکن ہے یہ بھی اسی جواب کا حصہ ہو۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ داروغہ جہنم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں جواب دیتے ہوئے یہ کہے گا کہ آج تم جس انجام میں پکڑے گئے ہو یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، بلکہ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے، (یہ ہم کا استعمال داروغہ ٔ جہنم کی طرف سے اس لیے ہوگا کہ وہ ایک سرکاری افسر کی حیثیت سے بات کررہا ہے) ۔ لیکن تم میں سے اکثریت اس حق کو قبول کرنے سے گریز کرتی رہی، بلکہ تمہیں اس حق سے ایک بیزاری سی ہوگئی تھی، قبولیت تو بہت دور کی بات تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حق سے انکار اور بیزاری کے باعث تم جہنم کے بدترین عذاب کا شکار ہو۔ اور اگر اسے پروردگار کی جانب سے سمجھا جائے تو پھر بھی مفہوم میں کوئی غیرمعمولی فرق نہیں پڑتا، پھر بھی مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے رسول کی معرفت تم پر حق واضح کردیا تھا، تمہیں بتادیا تھا کہ زندگی کا وہ رویہ جو تمہارے لیے کامرانیوں کی نوید لائے گا وہ، وہ ہے جو ہمارا رسول پیش کررہا ہے۔ اور اگر تم نے اس سے انکار کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سزا کے طور پر تمہیں جہنم کے عذاب کے حوالے کردیا جائے گا۔ چناچہ آج تم جہنم میں اسی اعلان کے مطابق پہنچے ہو، تو اب اس پر شکایت کرنا یا مختلف قسم کی درخواستیں پیش کرنا ایک بےمعنی بات ہے۔
Ayah 43:79اَمْ اَبْرَمُوْٓا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ ۔ (الزخرف : 79)
(کیا انھوں نے کوئی قطعی فیصلہ کرلیا ہے، تو ہم بھی ایک قطعی فیصلہ کرلیں گے۔ )
قریش کو فیصلہ کن عذاب کی دھمکی
گزشتہ آیت میں اسلوب خطاب کا تھا۔ اس آیت میں غائب کا اسلوب اختیار کرلیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش اور دیگر مشرکین پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ تم اپنے مسلسل کرتوتوں کی وجہ سے اس قابل نہیں رہے کہ تم سے براہ راست خطاب کیا جائے، بلکہ تم سے منہ پھیر کر یہ بات کہی جارہی ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی اندازہ ہورہا ہے کہ اب معاملہ افہام و تفہیم سے آگے نکل چکا ہے۔ تم نے پیغمبر کے ساتھ چونکہ اپنے رویئے میں انتہا کردی ہے اور کوئی سا دکھ اور کوئی سی تکلیف ایسی نہیں جس کا نشانہ تم نے مسلمانوں کو نہ بنایا ہو۔ تمہارے اس رویئے نے ہمارے غضب کو بھڑکنے کی دعوت دی ہے۔ تم نے اگر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ تم نبی کریم ﷺ کی دعوت کے سننے کے بھی روادار نہیں ہو تو ہم بھی پھر تمہاری ہدایت سے محرومی کا فیصلہ کیے دیتے ہیں، کیونکہ ہمارا تو قانون ہی یہ ہے کہ ہم اس وقت تک مہلت پہ مہلت دیئے جاتے ہیں جب تک مخالفین کا رویہ مایوسی پیدا نہیں کردیتا۔ لیکن جب وہ حق قبول نہ کرنے کا قطعی فیصلہ کرلیتے ہیں تو پھر ہم بھی ان کی محرومی کا فیصلہ کردیتے ہیں۔
دوسرا اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو قتل کردینے کا منصوبہ بنالیا ہے تو پھر ہم بھی اپنی سنت کے مطابق یہ فیصلہ کریں گے کہ اپنے پیغمبر کو ہجرت کا حکم دیں گے اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں گے۔ اور پھر مخالفین پر یا تو ایسا عذاب آئے گا جو ان کی کمر توڑ کے رکھ دے گا اور یا ہم ان پر جزوی عذاب نازل کریں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ ہجرت فرما گئے اور ایک ہی سال بعد جنگ بدر کا معرکہ برپا ہوا جس میں قریش کی پہلی صف تہ تیغ کردی گئی اور دوسری صف کو گرفتاری اور قید کی ذلتوں کا شکار ہونا پڑا۔ آگے آنے والی آیت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آیت کریمہ کے مفہوم میں دوسری بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 43:80اَمْ یَحْسَبُوْنَ اِنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰ ہُمْ ط بَلٰی وَرُسُلُنَا لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (الزخرف : 80)
(کیا وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم ان کے راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں۔ ” کیوں نہیں “ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ بھی رہے ہیں۔ )
قریش کی خفیہ سرگرمیاں
تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ ہجرت سے پہلے قریش آپ کے خاتمے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ بحث طلب امر یہ تھا کہ آپ کے خاتمے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے اور وہ کیا صورت اختیار کی جائے جس سے بنی ہاشم کو انتقام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے یا قصاص کے مطالبے پر زور دینے کا موقع نہ ملے۔ چناچہ اس کے لیے وقتاً فوقتاً دارالندوہ میں نہایت راز داری سے مشورے جاری رہتے تھے اور ان کا گمان یہ تھا کہ ہم باہمی مشاورت میں جو کچھ طے کررہے ہیں اسے مجلسِ مشاورت کے شرکاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیوں کو سنتے نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر جگہ ہے، وہ ان کی ہر حرکت کو دیکھتی اور ان کی ہر بات کو سنتی ہے بلکہ ان کے دلوں میں اس دشمنی کے جو محرکات ہیں وہ انھیں بھی جانتی ہے۔ یہ تو چونکہ اپنے فیصلوں کے انجام سے آگاہ نہیں اس لیے کہیں نہ کہیں فیصلے کے انطباق میں غلطی کرسکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ سب کچھ جانتا ہے اور آئندہ چل کر جو کچھ ہونے والا ہے اس سے بھی باخبر ہے۔ اور پھر ساتھ ہی ساتھ اس کا ریکارڈ تیار رکھنے کے لیے فرشتوں کو لکھنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے تاکہ قیامت کے روز ان میں سے ہر ایک کی دشمنی اور عداوت اور آنحضرت ﷺ کو ختم کردینے کے منصوبے میں جتنا بھی اس کا حصہ ہے وہ فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ وہ اپنے جرائم سے انکار نہ کرسکیں۔
Ayahs 43:81–82قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ صلے ق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ ۔ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الزخرف : 81، 82)
( اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا۔ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا، عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ )
توحید پر ایک منفرد اسلوب
توحید پر مسلسل اصرار اور اپنی دعوت کی اسے بنیاد قرار دینے کی وجہ سے مخالفین نے یہ پر اپیگنڈا شروع کر رکھا تھا کہ محمد ﷺ کا ہمارے بتوں کی مخالفت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں یکتا ہونے پر اصرار کرنا یہ درحقیقت ان کی ایک ضد ہے جو ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے اور وہ اس سے ہٹ کر کسی بات پر سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں، ورنہ دنیا میں کتنی بڑی تعداد ہے ایسے لوگوں کی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ اور کتنے ایسے لوگ ہیں جو بعض مقدس لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ چناچہ اس پس منظر میں پیش نظر آیت کریمہ میں توحیدِ کامل کے لیے ایک ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو نہایت واضح، محکم اور ہر طرح کے اشتباہ کے ازالے کے لیے ایسا اٹل اور سادہ ہے کہ جس کی نظیر محال ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو مجھے اس بات سے کوئی ضد نہیں کہ میں اسے ماننے سے انکار کردیتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری اور عشق و محبت میں اس حد تک ڈوبا ہوا ہوں کہ میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں ہوتا۔ لیکن میرا اسے تسلیم نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اصرار کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اس طرح کی کسی نامعقول بات کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ جس ذات کا عالم یہ ہو کہ وہ زمین و آسمان کی خالق ومالک، اس کا رب اور پروردگار ہو اور ہر طرح کی احتیاج سے پاک اور ہر طرح کی ہمسری سے مبرا ہو، اس کی طرف ایسی باتوں کا منسوب کرنا جس سے اس کی ذات وصفات میں شرک لازم آئے انتہائی لغو اور نامعقول بات ہے۔
Ayah 43:83فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 83)
(پس آپ ان کو چھوڑ دیجیے وہ اپنے باطل خیالات میں ڈوبے رہیں اور اپنے کھیل کھود میں منہمک رہیں یہاں تک کہ وہ اس دن سے دوچار ہوں جس دن سے انھیں ڈرایا جارہا ہے۔ )
مخالفین کو ان کے حال پر چھوڑ دیں
یعنی جہاں تک افہام و تفہیم کا تعلق ہے اس کا حق ادا ہوچکا ہے اور جہاں تک ان کے اشتباہات کے ازالے کا سوال ہے اس میں بھی کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اس کے باوجود ان کے رویئے میں اگر سنجیدگی پیدا نہیں ہوتی تو آپ اس سے پریشان نہ ہوں، بلکہ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ جس طرح کے باطل خیالات میں غرق اور ڈوبے ہوئے ہیں اور جس طرح زندگی کو انھوں نے کھیل تماشا بنا رکھا ہے انھیں اس میں منہمک رہنے دیں۔ ان کا یہ رویہ اسی طرح چلتا رہے گا حتیٰ کہ یہ لوگ موت سے گزر کر قیامت کے دن سے دوچار ہوجائیں گے جسے یہ آج ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن جہنم کا عذاب دیکھ کر ان کے حواس اور ان کی عقل ٹھکانے آجائے گی لیکن اس وقت ان کا راہ راست پر آنا ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔
Ayah 43:84وَھُوَالَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰـہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰـہٌ ط وَھُوَالْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ۔ (الزخرف : 84)
(اور وہی اکیلا آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا ہے، اور وہی حکمت والا اور علم والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل
زمین و آسمان میں انتہائی بُعد اور تخالف کے باوجود ہمیں جو انتہائی موافقت نظر آتی ہے کہ آسمان کے عناصر زمین کے عناصر کے ساتھ مل کر کائنات کے مجموعی مقصد کو بروئے کار لاتے ہیں۔ اور زمین پر بسنے والی مخلوق ہر طرح آسمان کے فیضان سے مستفید ہوتی ہے۔ زمین کی قوت روئیدگی اس وقت تک کام نہیں کرسکتی جب تک آسمان کی طرف سے آبیاری کا سامان نہیں ہوتا۔ اور زمین پر موجود پانی کے ذخیرے اس وقت تک بادلوں کو وجود نہیں دے سکتے جب تک کہ سورج کی کرنیں اپنا فرض انجام نہیں دیتیں۔ زمین سے اگنے والی نباتات، اس کے خوش رنگ پودے، اس کے مٹھاس سے بھرے ہوئے پھل اور طاقت سے بھرپور غذا قدم قدم پر آسمان کے عناصر کے تعاون کی محتاج ہے۔ اگر وہ ایک منٹ کے لیے تعاون سے انکار کردے تو انسانوں کے سارے چولہے بجھ جائیں اور زندگی کی ہمہ ہمی رخصت ہوجائے۔ یہ حیرت انگیز توافق ہمیں اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ زمین اور آسمان کا اِلٰہ ایک ہے۔ اسی کی حکمت سے ہر چیز کو وجود ملتا اور اس کے مقصدحیات کا تعین ہوتا ہے۔ اور زمین و آسمان کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی مخلوقات کو وہی ذات جانتی ہے جو حکیم ہونے کے ساتھ علیم بھی ہے۔ کائنات کا کوئی گوشہ اس کے علم سے باہر نہیں، وہ ہر مخلوق کی ضروریات کو بھی جانتا ہے اور اس کے اعمال کو بھی دیکھتا ہے۔ اپنے علم اور اعمال کی حفاظت کے انتظام کے حوالے سے وہ قیامت کے دن ہر شخص سے ایمان و عمل کے سلسلے میں جواب طلبی کرے گا۔ وہاں نہ شرک کام آئے گا اور نہ شفاعتِ باطل کا عقیدہ کسی کی بگڑی بنا سکے گا۔