43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsروح القرآن

Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں زمین و آسمان اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَـہٗ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ج وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ج وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الزخرف : 85) (اور بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں زمین و آسمان اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) اللہ تعالیٰ سے تعلق کی نزاکتیں تَبٰـرَکَ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا پہلو بھی ہے اور اس کے سراپا خیروبرکت ہونے کا بھی۔ یعنی وہ اتنا عظیم ہے کہ اس کے غضب و جلال اور اس کی نافرمانی کے انجام سے ڈرنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اور جو اپنی فطرت کی آواز پر کان نہیں دھرتا وہ بالآخر خسران کا شکار ہونے بغیر نہیں رہتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ بابرکت بھی ہے اس لیے امیدیں بھی اسی سے باندھی جاسکتی ہیں۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کا وہی سہارا ہے۔ انسان گمراہیوں میں ڈوب جائے یا نافرمانیوں کی نذر ہوجائے لیکن ہوش آنے پر سنبھلنے کی امید اسی کی بارگاہ سے ہے۔ وہی ہے جو برسوں کے گناہ ایک لمحے میں معاف کرسکتا ہے۔ اور جو بےحساب نافرمانیاں شان تغافل کی نذر کردیتا ہے۔ لیکن جس شخص نے نہ اس کی عظمت کی پرواہ کی اور نہ اس کی بارگاہِ امید سے کوئی فائدہ اٹھایا۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سب لوگوں کو ایک دن اسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے۔ یہاں سرکشی اور تمرد پر بالعموم گرفت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے حضور حاضری پر ایک ایک بات کی جواب دہی کرنا پڑے گی۔ اور یہ اس کے پاس حاضری کب ہوگی اس کا علم بھی اسی کے پاس ہے۔ جس روز سب اس کے سامنے پہنچنے پر مجبور ہوں گے وہی جانتا ہے اور اسی کا علم اور یقین دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں آتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ وہ اس دن یا اس گھڑی کا متعین وقت نہیں بتاسکتے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہر شخص کو معلوم ہے کہ اسے موت آئے گی، لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ موت کب آئے گی۔ موت کے علم سے جہالت کے باعث کوئی شخص موت سے انکار نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت بتایا نہیں گیا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قیامت وقوع پذیر نہیں ہوگی۔
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، بجز ان لوگوں کے جو حق کی گواہی دیں اور وہ علم بھی رکھتے ہوں

وَلاَ یَمْلِکُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الشَّفَاعَۃَ اِلاَّ مَنْ شَھِدَ بِالْحَقِّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزخرف : 86) (اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، بجز ان لوگوں کے جو حق کی گواہی دیں اور وہ علم بھی رکھتے ہوں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ انسان اس بات کو خوب جانتا ہے کہ زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کس کی حکومت اور کس کا ارادہ کارفرما ہے۔ باایں ہمہ نہ جانے ان کے ذہنوں میں یہ بات کہاں سے آجاتی ہے کہ مخلوقات میں سے بعض مخلوقات ایسی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا حق دے رکھا ہے۔ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کا حق نہیں رکھتا۔ بجز ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ خاص طور پر اس کی اجازت دے دیں اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ وہ جس کی شفاعت کرنا چاہتے ہیں کیا اس کے بارے میں انھیں پورا علم ہے۔ اور کیا وہ اس احتیاط کو ملحوظ رکھ سکیں گے کہ شفاعت میں کوئی غلط بات شامل نہ ہونے پائے۔ اس لیے کہ جس کے سامنے یہ سفارش کی جارہی ہے وہ معاملے سے بیخبر نہیں اور پھر اس کا علم یقینا شفاعت کرنے والے سے زیادہ ہے۔ اس کے حضور معمولی کوتاہی بھی برا نتیجہ پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے شفاعت کو ذاتی استحقاق سمجھنے کا تو کوئی جواز نہیں ہے۔ البتہ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو اس شخص کو ملے گا جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا اور جو حق کا پوری طرح پاسدار ہوگا۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انھیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، تو پھر کہاں بھٹک جاتے ہیں

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (الزخرف : 87) (اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انھیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، تو پھر کہاں بھٹک جاتے ہیں۔ ) مشرکین کے فکروعمل میں تضاد گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے فکری تضاد اور عملی نارسائیوں کو ملاحظہ کیجیے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انھیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ بےتأمل جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر نہ جانے وہ کہاں بھٹکے جاتے ہیں اور ان کی مت کہاں ماری جاتی ہے کہ جب وہ تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سمجھتے ہیں تو مخلوق اور خالق میں برابری کیسی ؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی مخلوق کو خالق کے یہاں وہ تقرب حاصل ہوجائے کہ وہ جس کو چاہے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچالے اور جسے چاہے اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ دلوادے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مخلوق کو خالق پر برتری حاصل ہے اور وہ ایسی حیثیت کی مالک ہے کہ وہ خالق سے اپنی مرضی کی بات اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی منوا سکتی ہے، اس سے بڑی فکری تضاد کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے رب یہ وہ لوگ ہیں جو خود ایمان لانے والے نہ بنے

وَقِیْلِہٖ یٰـرَبِّ اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ قَوْمٌ لاَّیُؤْمِنُوْنَ ۔ (الزخرف : 88) (قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے رب یہ وہ لوگ ہیں جو خود ایمان لانے والے نہ بنے۔ ) آیت کی نحوی تحقیق اس آیت کی نحوی ترکیب میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وَقِیْلِہٖ کا عطف اوپر والی آیت میں بِالْحَقِّ پر ہے یعنی وہ صرف حق بات کہیں گے اور ان کی شہادت یہ ہوگی کہ اے رب ان کے ایمان نہ لانے میں اصلی قصور ان ہی کا ہے۔ یہ خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔ بعض مفسرین کا گمان یہ ہے کہ اس میں ” وائو “ عطف کا نہیں بلکہ قسمیہ ہے۔ اور اس کا تعلق فَاَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَسے ہے۔ اور قِیْلِہٖ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹتی ہے جس پر بعد والا فقرہ دلالت کررہا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو خود ایمان لانے والا نہ بنے۔ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اس کی شہادت دیں گے کہ میری ساری تبلیغی کاوشوں کے باوجود ان کی فریب خوردگی کا عالم یہ رہا کہ یہ وہ مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا بھی اور ان کے معبودوں کا بھی خالق ہے۔ باایں ہمہ وہ خالق کے ساتھ ساتھ یا اس کو چھوڑ کر مخلوق ہی کی عبادت پر اصرار کیے جاتے تھے۔ یہ ان کی ہٹ دھرمی ان کی تباہی کا باعث بنی۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

اے نبی ! آپ ان سے درگزر کریں اور کہیں اچھا میرا سلام لو، وہ عنقریب خود جان لیں گے

فَاصْفَحْ عَنْھُمْ وَقُلْ سَلٰمٌ ط فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزخرف : 89) (اے نبی ! آپ ان سے درگزر کریں اور کہیں اچھا میرا سلام لو، وہ عنقریب خود جان لیں گے۔ ) اتمامِ حجت ہوچکا اب آپ ان سے درگزر کیجیے اور الگ ہوجایئے افہام و تفہیم اور تبلیغ و دعوت کی کاوشیں تمام ہوئیں۔ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا۔ لیکن انھوں نے اس سے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آخری انجام کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب آپ ان سے درگزر کیجیے اور انھیں ویسے ہی الوداعی سلام کہئے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا تھا۔ جس انجام کے یہ منتظر ہیں اس کے ظاہر ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں، یہ عنقریب اسے دیکھ لیں گے تب انھیں اپنے کرتوتوں کے انجام کا علم ہوگا۔