Ayah 43:28وَجَعَلَھَا کَلِمَۃً م بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہٖ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الزخرف : 28)
(اور حضرت ابراہیم نے اس کو ایک پائیداد کلمے کی صورت میں اپنے پیچھے چھوڑا تاکہ بعد کے آنے والے اس کی طرف رجوع کریں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اعلانِ براءت بعد والوں کے لیے نمونہ
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس طرح اپنے والد اور اپنی قوم کے سامنے ہر طرح کے شرک سے اظہارِ براءت کرتے ہوئے اپنا گھر بھی چھوڑا اور اپنا شہر بھی۔ یعنی آپ نے ان کے مشرکانہ رویہ سے براءت کا اعلان بھی کیا اور اس کی قیمت ادا کرتے ہوئے اس شہر سے ہجرت بھی کی۔ اور پھر اسے اپنے اخلاف میں ایک پائیداد کلمہ اور ایک مستقل روایت کی شکل میں اپنی تبلیغ و دعوت اور اپنی تربیت سے مسلسل اس کو استحکام بخشا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوری زندگی جس طرح اس پائیدار کلمہ کی تصویر ہے اس کو تعبیر دیتے ہوئے قرآن کریم نے کہا : اِذْقَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰـالَمِیْنَ ” اس وقت کو یاد کرو جب اللہ نے حضرت ابراہیم سے کہا، اپنا آپ ہمارے سپرد کردو، انھوں نے جواب دیا کہ میں نے سب کچھ رب العالمین کے سپرد کردیا۔ “ یعنی ان کی پوری زندگی میں کسی مشرکانہ بات کی پرچھائیں تک موجود نہیں۔ اسی طرح اس کے بعد قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسی بات کی وصیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسی بات پر اپنے بیٹوں کے سامنے زور دیا، بلکہ بیٹوں کا امتحان لیتے ہوئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ میرے بیٹو ! تم میرے بعد کس کی بندگی کروگے ؟ اب اگر ان میں شخصیت پرستی اور انبیائے کرام کی پرستش کا کچھ بھی اثر ہوتا تو یقینا وہ یہ بات کہتے کہ ہم آپ کی پوجا کریں گے، آپ سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔ لیکن انھوں نے بغیر کسی تردد کے جواب دیا کہ ہم آپ کے اِلٰہ کی پوجا کریں گے۔ اور اس اِلٰہ کی پوجا کریں گے جو آپ کے آبائواجداد کا معبود تھا۔ اور وہ ایک ہی معبود ہے جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوجا اور جس کی پرستش حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کی وہ سب اسی کے مسلم تھے، ہم بھی اسی کے مسلم رہیں گے۔ یعنی اپنی زندگیاں اس کے سپرد کردیں گے۔
آیت کے آخر میں فرمایا : لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ تاکہ لوگ اختلافات کے وقت اسی کلمہ ٔ باقیہ کی طرف رجوع کریں۔ یعنی زندگی کے ان معاملات میں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے دین اور وحی سے ہے اس میں اپنی عقل، اپنے حواس، اپنا تجربہ، خواہشاتِ نفس، انفرادی اور اجتماعی مفادات، اسلامی شریعت اور وضعی قوانین میں ترجیح کے وقت اور یا اسلامی احکام میں قابل عمل اور قابل ترجیح قرار دیتے وقت ہمیشہ اس کلمہ ٔ باقیہ کی طرف پلٹیں۔ یعنی وہ اس بات پر استقامت کی تصویر بن جائیں کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے سامنے کسی اور تعلیم یا کسی اور کے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور نصوص کی تعبیر میں ترجیح کے قابل وہ نقطہ نگاہ ہوگا جسے اجماع کی تائید حاصل ہو۔ اور اجتہادی مسائل میں ان لوگوں کی بات سنی جائے گی جنھوں نے زندگی بھر اسلامی شریعت کو پڑھا، اس پر عمل کیا، اسے اپنی فکر بنایا اور اپنی ہر چھوٹی بڑی وابستگی کو اس پر قربان کردیا۔ یہی وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں فرمایا کہ اگر کسی بھی چیز میں تم میں اختلاف ہوجائے اور چیز سے ظاہر ہے کہ اموردین مراد ہیں تو تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ یعنی قرآن کریم کو دیکھو اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور آپ کی سنت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
Ayah 43:29بَلْ مَتَّعْتُ ھٰٓـؤُلَآئِ وَاٰبَـآئَ ھُمْ حَتّٰی جَـآئَ ھُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 29)
(بلکہ میں نے انھیں اور ان کے آبائواجداد کو متاع حیات سے بہرہ ور کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور کھول کر بیان کردینے والا رسول آگیا۔ )
مخالفت کی اصل علت
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ عرب کے پاس اپنے برسرحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ وہ اپنے آبائواجداد کے دین پر قائم ہیں۔ اور ان کے آبائواجداد اگر برسرحق نہ ہوتے تو یقینا پروردگار صدیوں تک انھیں ان کے طریقے پر باقی نہ رہنے دیتا۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے اس ادعا کا بھرم یہ کہہ کر کھول دیا کہ اگر ان کے نزدیک آبا کی تقلید ہی سب سے بڑی دلیل ہے تو ان کے جدِامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ انھیں سے ان کو وجود ملا اور انھیں کی ملت پر قائم رہنے کا انھیں دعویٰ ہے۔ تو وہ تو مشرک نہیں تھے، بلکہ انھوں نے شرک کی ہر جڑ کو اکھاڑ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل بیماری اور ہے، اسے اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ بیماری یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت سے انھیں ہٹانے والی چیز وہ ان کی آبا پرستی نہیں بلکہ ان کے آبائواجداد کی وہ گمراہیاں ہیں جسے حُبِ دنیا نے ان کے اندر پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور روش سے ہٹے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں تباہ نہیں کیا بلکہ انھیں متاع حیات کی فراوانی کی آزمائش میں ڈال دیا۔ جب اس صورتحال پر ایک مدت گزر گئی تو حُبِ دنیا نے ان کے اندر اپنے پنجے گاڑ دیئے اور آہستہ آہستہ ان کے دل سخت ہوتے گئے۔ قساوت ان کے دلوں کے اندر اترتی چلی گئی۔ ان کی حالت اس حد تک بگڑی کہ جب ان کے پاس حق آیا اور وہ رسول تشریف لائے جنھوں نے ہر بات کو کھول کر بیان کردیا۔ ان کی کو تاہیاں بھی ان کے سامنے رکھیں اور صراط مستقیم کی ایک ایک بات کو ان کے سامنے واضح کردیا۔ تو انھوں نے محسوس کیا کہ یہ ہدایت جو اس وقت رسول ہمارے پاس لے کر آیا ہے اسے قبول کرلینے سے تو ہمارے دنیوی مفادات خطرے میں پڑجائیں گے۔ اب وہ شدید مخمصے میں پڑگئے کہ قبول کرتے ہیں تو دنیوی وجاہت سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اور انکار کرتے ہیں تو قرآن کریم کے دلائل کا جواب بن نہیں پڑتا، تو آخر کیا کریں۔
Ayah 43:30وَلَمَّا جَـآئَ ھُمُ الْحَقُّ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 30)
(اور جب حق ان کے پاس آگیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ )
عوام کو ایک بہلاوا
جب قرآن کی صورت میں ان کے پاس حق آگیا اور حق کی روشنی نے ماحول کو روشن کرنا شروع کردیا اور وہ لوگ جنھیں مفادپرستی یا سیادت کے نشے نے اندھا نہیں کیا تھا انھوں نے قرآن پاک سے متأثر ہونا شروع کردیا، تو اشرافِ قریش نے اس صورتحال کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے سوچنا شروع کیا کہ قرآن کی دعوت اور نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے اثر کو کس طرح بےاثر کیا جائے۔ وہ اگر نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے حوالے سے کوئی خوردہ گیری یا عیب جوئی کرتے ہیں تو لوگ ان کی بات ماننے سے انکا کردیں گے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی چالیس سالہ زندگی ان کے سامنے ہے۔ مکہ کا ایک ایک باشندہ آپ کے سیرت و کردار کی بلندی، آپ کی معاملہ فہمی، آپ کی راست بازی اور دیانتداری کا گواہ ہے اور اگر وہ قرآن کریم کو ایک لغو اور بےمعنی کتاب قرار دیتے ہیں تو لوگ اسے بھی کبھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم کا معجزانہ اسلوب، اس کی بےمثال فصاحت و بلاغت، اس کا محیرالعقول نظام زندگی، اور اس کی کہی ہوئی ہر بات کی صحت اور سچائی ایسی چیزیں ہیں جس کی مثال لانا ناممکن ہے۔ اور یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ہر سننے والا اس کی تاثیر سے بچ کے نہیں جاسکتا۔ چناچہ ان لوگوں نے نہایت عیاری کے ساتھ اسی کو دلیل بناتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی غیرمعمولی تاثیر اور اس کا معجزانہ اسلوب درحقیقت اس کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔ اس کا پیش کرنے والا ہمارے شاعروں اور خطیبوں کی طرح اس پر غیرمعمولی قدرت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب اس سحر پر ایمان لانے سے تو رہے اور ایسے سحرزدہ آدمی کا اتباع بھی کوئی عقل کی بات نہیں۔
Ayah 43:31وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ (الزخرف : 31)
(اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
یہ ایک اعتراض ہے جو اہل مکہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر کیا جاتا تھا اور اسی کے ذریعے آپ کی نبوت سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ شروع شروع میں انھیں یہ اعتراض رہا کہ بشر رسول کیسے ہوسکتا ہے، رسالت بہت بڑا مقام ہے اور بشر ایک فروتر مقام کی حامل مخلوق ہے۔ اس لیے بشریت اور رسالت میں کوئی مناسبت نہیں۔ لیکن جب قرآن کریم نے مسلسل دلائل سے ان کی اس بات کو پوری طرح غلط ثابت کردیا تو تب اپنے دعوے سے پیچھے ہٹتے ہوئے انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چلیے بشر رسول ہی سہی لیکن یہ تو کسی طرح مناسب نہیں کہ طبقہ ٔ امراء کے کسی ذمہ دار آدمی کو یہ منصب سونپنے کی بجائے ایک غریب آدمی کے سر پر یہ تاج سجا دیا جائے۔ ہمارے دو بڑے شہر ہیں مکہ معظمہ اور طائف۔ عرصہ ٔ دراز سے ہمارے اشراف و سادات کا یہی مسکن ہے۔ اگر کسی بشر کو نبوت ملنا ہی تھی ان دونوں شہروں کے کسی بڑے آدمی کو نبوت دے دی جاتی تاکہ نبوت اور رسالت کا اعزاز بھی باقی رہتا اور لوگ اس پیغام کو بھی عزت و احترام سے سنتے۔ اب ایک ایسے شخص کو بقول اس کے یہ منصب دیا گیا ہے جو یتیم پیدا ہوا اور جس کے باپ نے ایک لونڈی اور ایک اونٹنی کے سوا کوئی میراث نہیں چھوڑی۔ بچپن اور لڑکپن بکریاں چراتے گزرا، اب گزر اوقات کے لیے بیوی کے مال سے تجارت کررہا ہے۔ نہ کسی قبیلے کا شیخ ہے اور نہ کسی خانوادے کا سربراہ۔ تو ایسا شخص نبوت کا اہل کیسے ہوسکتا ہے۔
Ayah 43:32اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکط نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ط وَرَحْمَتُ رَبِّـکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (الزخرف : 32)
(کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں، ان کی معیشت کا سامان تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے فوقیت دے رکھی ہے تاکہ وہ باہم دگر ایک دوسرے سے کام لے سکیں، اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ )
معترضین کو جواب
اس آیت کی تفسیر میں صاحب تدبر قرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ حقیقتِ حال کی وضاحت کے لیے کافی ہے، ہم اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔
اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ ط نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَایہ ان فراعنہ کی رعونت کا جواب ہے کہ ان کی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا اجارہ دار وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں انہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس نعمت سے جس کو چاہیں نوازیں اور جس کو چاہیں محروم رکھیں۔ حالانکہ اس دنیا میں بھی ان کو جو وسائلِ معیشت حاصل ہوئے ہیں، خدا ہی کی تقسیم سے حاصل ہوئے ہیں۔ انھوں نے خود نہیں حاصل کیے ہیں۔ اگر یہ خود حاصل کرنے والے ہوتے تو ان اغنیاء کے درمیان درجات و مراتب کا تفاوت کیوں ہوتا اپنے اختیار میں معاملہ ہوتے ہوئے کوئی خود اس بات پر کیوں راضی ہو تاکہ وہ کسی پہلو سے دوسرے سے فروتر ہو کر رہے۔ اپنی خواہش کیخلاف یہ فرقِ مراتب اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ تقسیم کا معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے جو اپنی صواب دید اور حکمت کے مطابق جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔
لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ط اِتَّخَذَ فُلاَنٌ فَلاَ نًا سُخْرِیًّا کے معنی ہیں فلاں نے فلاں کو اپنے کام یا اپنی خدمت میں لگایا۔
تفاوت و درجات کی حکمتیں
یہ حکمت بیان فرمائی ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ذہنی اور مادی دونوں ہی اعتبار سے درجات و مراتب کا تفاوت کیوں رکھا ہے ؟ فرمایا کہ ایسا اس نے اس وجہ سے کیا ہے کہ لوگ باہم دگر تعاون کی زندگی بسر کریں اور ایک دوسرے کو اپنے کام میں لگا سکیں۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح کا رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسرے کا محتاج بھی ہے اور محتاج الیہ بھی۔ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی دوسروں کا محتاج ہے اور چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اس میں محتاج الیہ ہے۔ یہاں کوئی شخص بھی دوسروں سے مستغنی نہیں اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ معاملات میں کسی نہ کسی پہلو سے اس کی افادیت نہ ہو۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خالق کائنات نے ہر شخص کو ایک ہی درجے کی صلاحیت، ایک ہی طرح کے ذوق، ایک ہی مرتبہ کی ذہانت اور ایک ہی حیثیت کے وسائل و ذرائع کے ساتھ نہیں پیدا کیا بلکہ ان اعتبارات سے لوگوں کے درمیان بڑا تفاوت رکھا ہے۔ یہ تفاوت معاشرہ کی تشکیل اس طرح کرتا ہے کہ اس میں ایک طرف متجرعالم، نامور مصنف، یکتائے روزگار محقق، شہرہ آفاق مدبر اور طاقتور حکمران بھی پیدا ہوتے ہیں، دوسری طرف کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور، گٹھڑیاں ڈھونے والے قلی، حاضر خدمت رہنے والے خادم، گلیاں اور نالیاں صاف کرنے والے مہتر بھی اس میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سارے طبقات معاشرہ کی تشکیل کے لیے ضروری بلکہ ناگزیر ہیں۔ ان سب کی خدمت کی نوعیت الگ الگ ہے مگر ان میں سے کوئی عنصر بھی نہ حقیر ہے اور نہ ان میں سے کسی کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے بلکہ معاشرہ کی مشین جاری رکھنے کے لیے اس مشین کے چھوٹے سے چھوٹے پرزے کی دیکھ بھال بھی، اس کی افادیت کی نسبت سے ضروری ہے۔
دنیا کو درجات و مراتب کے اس فرق کے ساتھ پیدا کرکے اللہ تعالیٰ امتحان کررہا ہے کہ جو لوگ اعلیٰ صلاحیتوں اور بہتر وسائل کے امین بنائے گئے ہیں وہ اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتیں کس طرح استعمال کررہے ہیں ؟ ان کو پا کر وہ غرور، خودسری، تغلب اور خالق کائنات کی نافرمانی میں مبتلا ہوگئے ہیں یا اس کے شکرگزار و فرمانبردار اور اس کی خلق کے غمگسار ہیں ؟ اسی طرح وہ ان لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو فروتر اور کمتر وسائل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض کو پہچاننے والے اور اپنے خالق سے ڈرنے والے، اپنی خودی اور خوداری کی حفاظت کرنے والے ہیں یا اپنے فرائض چھوڑ کر اس خبط میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ انھیں ان لوگوں کو نیچا دکھانا چاہیے جو ان کے حاکم اور افسر بنے ہوئے ہیں۔
اگر ان میں سے پہلی صورت وجود میں آتی ہے تو اعلیٰ اور ادنیٰ کے صالح تعاون سے صالح معاشرہ اور صالح تمدن وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اجزاء بلا امتیاز اعلیٰ و ادنیٰ اس دنیا میں بھی عزت پاتے ہیں اور آخرت میں بھی ہر ایک اپنی اپنی خدمات اور اپنے حسن نیت کے مطابق صلہ پائے گا۔ اگر دوسری شکل ہوتی ہے تو معاشرہ کا نظام بالتدریج مائل بہ فساد ہونا شروع ہوتا ہے اور بالآخر فنا ہوجاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے تمام بڑے اور چھوٹے عناصر اپنی اپنی شرارت یاغفلت کے مطابق خدا کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
اس زمانہ میں جو لوگ اس خبط میں مبتلا ہیں کہ وہ دنیا سے طبقات کے وجود کو مٹا کے رہیں گے وہ اس ارادے میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک وہ لوگوں کو ذہنی، مزاجی، طبعی اور عملی صلاحیتوں کے اعتبار سے مساوی درجہ کا بنانے میں کامیاب نہ ہوجائیں اور یہ چیز محال ہے۔ جن قوموں نے اس خبط میں مبتلا ہو کر خون کے دریا بہا دیئے ان کا حال بھی یہ ہے کہ وہاں بڑے سے بڑے فراعنہ بھی موجود ہیں اور ان فراعنہ کے بوٹوں پر پالش کرنے والے اور گلیوں میں جھاڑو دینے والے بھی موجود ہیں۔ اور اگر وہ اس محال کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے یعنی انھوں نے پوری قوم کو صلاحیتوں اور ذہنی ومادی قوتوں کے اعتبار سے ایک درجہ پر کردیا تو اسی دن باہمی تعاون کی بنیاد ختم ہوجائے گی اور قوم میں انارکی پھیل جائے گی۔ جب ہر شخص لینن اور سٹالن بننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلے گا تو آخر وہ لینن یا مائو کی کار چلانے والا ڈرائیور یا ان کے جوتوں پر پالش کرنے والا خدمت گار بننے پر کیوں قانع ہوگا ؟ پھر تو ہر شخص خدا و مذہی بننے کی کوشش کرے گا اور اتنے خدائوں کی کشمکش میں اس دنیا کا جو حشر ہوگا اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ! !
Ayahs 43:33–35وَلَوْلَآ اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّـکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ ۔ وَلِبُیُوْتِہِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَیْھَا یَتَّـکِؤُنَ ۔ وَزُخْرُفًا ط وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَلْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (الزخرف : 33 تا 35)
(اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقے پر چل پڑیں گے تو ہم ان لوگوں کے لیے جو اللہ رحمن کے منکر ہیں ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کی بنا دیتے، اور ان کی سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ اور ہم ان کے گھروں کے دروازوں اور ان کے تختوں کو جن پر وہ تکیہ لگا کے بیٹھتے ہیں چاندی کے بنا دیتے۔ اور سونے کے بھی، یہ سب چیزیں محض حیات دنیا کی متاع ہیں، اور آخرت آپ کے رب کے پاس صرف متقین کے لیے ہے۔ )
متاعِ دنیا کی بےحقیقتی اور قریش کا اصل مرض
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہم قریش مکہ کا یہ اعتراض پڑھ چکے ہیں کہ نبوت اور رسالت تو ایک بڑا منصب ہونے کی وجہ سے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسے کسی بڑے ذی وجاہت اور دولت مند شخص کو عطا کیا جائے نہ کہ ایک ایسے آدمی کو جو اپنے پاس دنیوی مال و جاہ میں سے کچھ بھی نہیں رکھتا۔ ظاہر ہے کہ ایک ایسے آدمی کی رہنمائی اور سیادت کو کون تسلیم کرسکتا ہے۔ وہاں ایک خاص پہلو سے اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت میں ایک اور زاویہ نگاہ سے ان کی رائے کی غلطی کو نمایاں فرمایا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے اعتراض کا جواب مکمل ہوگیا ہے بلکہ ان کی ذہنی سطح پر تنقید کرکے ان کی خست کو بھی واضح فرما دیا گیا ہے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ تمہاری اصل خرابی یہ ہے کہ تم انسانیت، انسانی اقدار اور انسان کے ذہنی معنوی اور روحانی کمالات کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہو۔ بلکہ تم سونا اور چاندی جو دنیوی دولت کی اصل اور عظمت و شوکت کا ایک ذریعہ ہے اسے سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہو۔ چناچہ جس جگہ تمہیں اس کی بہتات نظر آتی ہے تم اس کے سامنے جھک جاتے ہو۔ اور جہاں تمہیں اس کی ریل پیل دکھائی نہیں دیتی لیکن اس کے مقابلے میں اقدارِحیات کی فراوانی ہے۔ انسانی معاملات پر محنت اور ریاضت اور دیانت و امانت کی حکمرانی ہے۔ مقاصدحیات کی تابندگی ہر سو چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہاں بہیمیت اور نفسانی عوارض سرنگوں ہو کر انسانی کمالات کا زینہ بن چکے ہیں۔ تو تم ایسے لوگوں یا ایسے معاشرے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو۔ یہی اصل مرض ہے جس کی وجہ سے زمین فساد سے بھر گئی ہے اور انسان روز بروز اپنی محرومیوں کے حوالے ہوتا جارہا ہے۔ اسی مرض کی وجہ سے تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ نبوت اور رسالت کے لیے اصل وہ کون سی خوبیاں اور کون سے کمالات ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے فرومایہ کوئی چیز اگر ہے تو یہ سیم و زر کی فراوانی ہے۔ اس کی نگاہ میں یہ ایسی بےقیمت چیز ہے کہ اگر اس بات کا خطرہ نہ ہوتا کہ سیم و زر کو عام کردینے سے لوگ اسی کے ہو کر رہ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اس بےقیمت چیز سے ان لوگوں کے گھر بھر دیتا جو اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں پروردگار نے بدترینِ خلائق فرمایا ہے۔ اور سیم و زر جیسی بےقدر و قیمت چیز حقیقت میں اسی قابل تھی کہ نہ صرف اس سے ان کی تجوریاں بھر دی جاتیں بلکہ ان کے گھروں کی چھتیں، ان کے زینے اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے بیٹھنے والے تخت سونے چاندی کے بنا دیئے جاتے۔ ایسا صرف اس لیے نہیں کیا گیا کہ جب کفار کا یہ حال ہوتا تو ہر سطحی نظر رکھنے والا شخص سیم و زر کی محبت میں وہی رویہ اختیار کرتا جو کفار اختیار کرچکے تھے، کیونکہ اس کا مقصودِنظر بھی سونا چاندی اور سیم و زر ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر پوری دنیا کی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو کبھی پانی کا ایک گھونٹ نہ دیتا۔ گندگی کے ایک ڈھیر پر بکری کے ایک مردہ بچے کو پڑا ہوا دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے اپنے ساتھ چلنے والے صحابہ سے فرمایا کہ تم میں کون ہے جو اسے خریدنا پسند کرے گا۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ اسے خرید کر کوئی کیا کرے گا، ہم تو آپ کی وجہ سے یہاں رک گئے ورنہ اس کے پاس تو رکنا بھی کسی کو گوارا نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس بچھڑے کی بھی کوئی نہ کوئی قیمت ہوگی، لیکن پوری دنیا کی اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنی قیمت بھی نہیں۔ دولت دنیا کی اس حقیقت کے باوجود چونکہ انسانوں کی سطح بین نگاہوں میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس لیے پروردگار نے کفار کو بھی اس میں سے حصہ دیا ہے، اور اہل ایمان کو بھی۔ اور دونوں کے لیے اسے آزمائش بنادیا۔ البتہ آخرت میں کافروں کا کوئی حصہ نہیں۔ مختصر یہ کہ کاش انسان اس بات کو سمجھ لے کہ اہل دنیا جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں وہ حیات چند روزہ کی متاع ہیں۔ اصل نعمتیں جن کو کبھی فنا نہیں وہ تو آخرت میں ملیں گی، تب اندازہ ہوگا کہ جن چیزوں کی قدر و قیمت کو ہم نے دلوں میں بسا رکھا تھا ان کی حیثیت تو خزف ریزوں کے سوا کچھ نہ تھی۔ اصل دولت تو ایمان و عمل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وہ اقدارِحیات، وہ پاکیزگیِ نفس اور طہارتِ روح ہے جن کے انعام کے طور پر جنت کی وہ نعمتیں میسر آئیں گی جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزرا۔
زخرف کے معنی زینت کے بھی آتے ہیں اور سونے کے بھی، جو زینت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ آیت میں جس طرح یہ لفظ واقع ہوا ہے اس کا عطف مِنْ فِضَّۃٍ کے محل پر بھی کیا جاسکتا ہے اور فعل محذوف بھی مانا جاسکتا ہے۔ اسی طرح آیت میں لَمَّاکو بعض اہل علم نے اِلاَّ کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آیت میں لَمَّا لام کی جگہ پر ہے۔ اس صورت میں مَا زائدہ ہوگا۔
Ayah 43:36وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَـہٗ شَیْطٰنًا فَھُوَلَـہٗ قَرِیْنٌ۔ (الزخرف : 36)
(اور جو شخص رحمن کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں، اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔ )
قریش کے انکار کا اصل سبب
قریشِ مکہ کے مختلف اعتراضات کا جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قریش کی طرف سے یہ سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے ہیں جن کو انھوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا سبب بنا رکھا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں، اس لیے قبولیتِ حق سے محرومی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ وہ ان بہانوں کا سہارا لیں یا نہ لیں، ہدایت قبول کرنا ان کے بس میں نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے دین، اس کے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب سے منہ پھیر کر اپنی خواہشاتِ نفس کا پرستار بننے کا فیصلہ کرلیتا ہے، اور انھیں اپنی زندگی کے مقاصد میں تبدیل کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ایسا شخص دیر تک مہلت نہیں دیا جاتا، بلکہ ایک شیطان کو اس پر مسلط کردیا جاتا ہے تاکہ اگر کبھی اس کے دل میں نیکی کا خیال پیدا بھی ہو اور نصیحت سن کر اس کی طرف میلان پیدا ہو تو یہ شیطان اس خیال سے اسے روک دے۔ اور حتی الامکان ہر معاملے میں بظاہر اس کی ہاں میں ہاں ملائے، لیکن حقیقت میں اسے ان راہوں پر چلنے کے لیے آمادہ رکھے جو راہیں ہدایت کی طرف نہیں بلکہ ضلالت کی طرف جاتی ہیں۔ اور اس کے لیے دوستی کے طریقے کو اختیار کرے کیونکہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ نقدونظر سے ابا کرتا ہے لیکن دوستی کے انداز میں کہی ہوئی بات کو بجا طور پر وزن دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ میرا دوست کبھی مجھے ایسی بات نہیں کہے گا جو مجھے نقصان پہنچانے والی ہو۔ وہ دوستی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہوا ہمیشہ میرے فائدے کی بات کرے گا۔ اس کا اگر مشورہ یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہیے تو یہی بات قرین صواب ہوگی اور مجھے اس پر عمل کرنا چاہیے۔
Ayah 43:37وَاِنَّھُمْ لَیَصُدُّوْنَھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 37)
(اور بیشک وہ شیاطین ان لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر چل رہے ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں، ایک تو یہ بات کہ گزشتہ آیت کا آغاز مَنْ سے ہوا تھا جو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور شیطان کا لفظ بھی مفرد استعمال ہوا ہے جبکہ شیاطین دو طرح کے ہیں، شیاطینِ جن اور شیاطینِ اِنس۔ اور انسان کی گمراہی میں دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں جمع کی ضمیریں لا کر یہ بات کھول دی گئی ہے کہ مَنْ سے مراد واحد نہیں بلکہ جمع ہے۔ اور شیطان سے مراد دونوں طرح کے شیاطین ہیں۔ مراد یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں بیان کردہ حقیقت کا مصداق کوئی خال خال انسان نہیں بنتا بلکہ جب کفروشرک کی بیماری اور انکار اور تکذیب کی خصلت وبا کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو پھر گروہوں کے گروہ اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ شیاطین قافلہ در قافلہ انسانی جماعتوں کی گمراہی کے لیے مسلط کیے جاتے ہیں اور وہ وسیع دائرے میں انسانوں کی گمراہی کے لیے اپنی مساعی بروئے کار لاتے ہیں۔ لیکن طریقہ ان کا حملہ آور کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ اس طرح ہوتا ہے جیسے دوست، دوست کے دل میں اترتا جاتا ہے۔ اور وہ اس قدر پیار کے ساتھ اپنے ہدف کو اپنے ساتھ لے کے چلتے ہیں کہ وہ ہدف یہ سمجھتا رہتا ہے کہ میں جس راستے پر جارہا ہوں یہ شیطنت کا راستہ نہیں بلکہ ہدایت کا راستہ ہے۔ کوئی شخص جب تک اپنے رویئے کے بارے میں عدم اطمینان کا شکار ہوتا ہے اس کے بدلنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ لیکن جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ میرا طرزعمل ہدایت یافتہ آدمی کا طرزعمل ہے تو پھر وہ اس کو بدلنے کے لیے سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔
Ayah 43:38حَتّٰیٓ اِذَا جَـآئَ نَا قَالَ یٰـلَیْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَـکَ بُعْدَالْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ ۔ (الزخرف : 38)
(یہاں تک کہ جب یہ شخص ہمارے پاس آئے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا کہ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق کے دونوں کناروں کی دوری ہوتی، پس وہ کیا ہی برا ساتھی ہوگا۔ )
دنیا کے مصاحبوں کا اصل چہرہ آخرت میں ظاہر ہوگا
گمراہ کرنے والی قوتیں چاہے شیاطینِ جن سے تعلق رکھتی ہوں یا شیاطینِ اِنس سے، جن لوگوں کی گمراہی کے درپے ہوتی ہیں یقینا ان سے نہایت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ باہمی دکھ درد میں شریک اور خوشی اور مسرتوں کی ساتھی بن کر رہتی ہیں۔ دیکھنے والے بھی انھیں دو قالب و یک جان دیکھتے ہیں۔ اور اگر کوئی مصلح یا ہمدرد و غمگسار گمراہ ہونے والے شخص کو توجہ دلانے کی کوشش کرے تو وہ پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑجاتا ہے اور اس پر بدخواہی کا الزام لگاتا ہے۔ لیکن قیامت کے روز جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچیں گے اور گمراہ ہونے والے کو اندازہ ہوگا کہ میں جسے اپنا ہمراز، دوست اور ہمدرد و غمگسار سمجھتا تھا اس نے تو مجھے ایسا بدراہ کیا کہ میں اپنی عاقبت برباد کر بیٹھا۔ اس نے اپنی خوبصورت چالوں سے مجھے کبھی سوچنے اور سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ اب اسے سامنے پا کر برہمی کی تصویر بن کر بھڑک اٹھے گا کہ کاش زندگی میں، میں نے تیری شکل نہ دیکھی ہوتی، کبھی ہمارے درمیان یک جائی نہ ہوئی ہوتی، کاش ہمارے درمیان مشرقین کی جدائی ہوتی یعنی ہمارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان ہے اور یا مشرق کے دونوں کناروں کے درمیان ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کبھی آگاہ نہ ہوتے۔ تم نے مجھے دوستی کے چنگل میں ایسا پھنسایا کہ میں نفع و ضرر کو بھول گیا اور تیرا اصل چہرہ میں کبھی نہ پہچان سکا۔ پروردگار کی جانب سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ یہ بہت برا ساتھی تھا جسے تو نے اپنا دوست سمجھا۔ اور آخرکار اس نے تمہیں تباہی کے کھڈ میں جا گرایا۔
Ayah 43:39وَلَنْ یَّنْفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِذظَّلَمْتُمْ اَنَّـکُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ۔ (الزخرف : 39)
(اور جبکہ تم اپنے اوپر ظلم کرچکے ہو تو آج تمہیں یہ بات ہرگز نفع نہ دے گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو۔ )
جیسا کہ گزشتہ آیت سے معلوم ہوا کہ جب گمراہ ہونے والوں کو علم ہوگا کہ جنھیں ہم اپنا ہمدرد و غمگسار اور ہادی سمجھتے تھے وہ تو درحقیقت دوستی کے پردے میں ہماری عاقبت تباہ کرنے میں لگے ہوئے تھے تو گمراہ ہونے والے گمراہ کرنے والوں پر لعنت و ملامت کے تیر پھینکنے لگیں گے اور انھیں طعنے دیں گے کہ بدبختو ! تم نے دوستی کا یہ حق ادا کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں گے کہ الٰہی ان کی دشمنی کے باعث ہم اس انجام کو پہنچے ہیں۔ اگر یہ لوگ خیرخواہی کے پردے میں ہمارے ساتھ یہ دشمنی نہ کرتے تو ممکن تھا کہ ہم کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ تو انھیں بدترین عذاب دے تاکہ دھوکہ دہی کی جو واردات انھوں نے کی ہے اس کی سزا بھگتیں۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا کہ اب اس لعنت ملامت کا کوئی فائدہ نہیں، یہ دارالعمل نہیں بلکہ دارالجزاء ہے، تمہیں دنیا میں رہ کر چہروں کو پہچاننا چاہیے تھا۔ آج تو تم دونوں اس عذاب میں مشترک ہو اور تمہیں یہ چیز ہرگز نفع نہیں دے گی کہ جس طرح تمہیں عذاب دیا جارہا ہے اسی طرح وہ بھی عذاب میں شریک ہیں۔ کیونکہ وہ اگر گمراہ کرنے کی وجہ سے عذاب کا شکار ہورہے ہیں تو تم گمراہی کو قبول کرنے کی پاداش میں پکڑے گئے ہو۔ اس لیے دونوں اپنی اپنی سزا کی گرفت میں ہیں۔
Ayah 43:40اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْتَھْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِی ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الزخرف : 40)
(اب کیا اے نبی آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
سابقہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اپنے مسلسل انکار اور آپ کی دعوت سے تمرد کے باعث اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر شیاطین مقرر کردیئے ہیں جو دوستی کے انداز میں ہمیشہ انھیں بہکاتے رہتے ہیں۔ اور اگر کبھی آنحضرت ﷺ کی دعوت کے نتیجے میں ان کے اندر آمادگی کی کوئی لہر اٹھتی ہے تو وہ انھیں اس انداز سے برگشتہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی پیدا کردہ گمراہی کو اپنے لیے ہدایت سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبولیتِ حق کی جو صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے ان میں رکھی ہیں وہ ایک ایک کرکے جواب دے گئیں۔ وہ بظاہر سنتے ہیں لیکن سماع قبول سے محروم ہیں، وہ دیکھتے ہیں لیکن بصارتِ حق اور بصیرت سے محروم ہیں۔ اور انسان کے پاس دو بنیادی ذرائع ہیں یعنی سماعت اور بصارت جو عقل کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ جو انسان ان دونوں چیزوں سے محروم ہوجاتا ہے اس کی عقل بھی صحیح فیصلہ کرنے سے محروم ہوجاتی ہے۔ ان کی اسی محرومی کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کیا آپ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سنانے کی کوشش کریں گے جو سماع قبول سے محروم ہوچکے ہیں اور انھیں راہ ہدایت دکھانے کی کوشش کریں گے جو بصیرت سے تہی دامن ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ سر کھپانا تو ایسا ہی ہے جیسے آدمی دیوار کے ساتھ سر ٹکر کر اپنا سر پھوڑ لے۔ پھر ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ یہ لوگ تو اس سے بھی زیادہ محرومیوں کا شکار ہیں اور وہ محرومی یہ ہے کہ جو آدمی سن نہیں سکتا اسے اشارے سے راہ سجھائی جاسکتی ہے۔ اور جو دیکھ نہیں سکتا اسے بھی پکڑ کر راستے پر ڈالا جاسکتا ہے۔ لیکن جس کی گمراہی ایسی ظاہر و باہر ہو کہ وہ کسی طریقے سے بھی راہ ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ نہ اس پر کوئی اشارہ اثر کرے، نہ کوئی آواز اسے متأثر کرسکے، نہ وہ کسی کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہو اور نہ دلیل اسے راہ راست پر لاسکے، تو ایسے شخص کو سمجھانا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہے۔ تو آپ کو ایسے ہی لوگوں سے واسطہ پڑا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ آپ کی دعوت پر کان نہیں دھرتے تو آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کیونکہ یہ اپنی اہلیت کھو چکے ہیں۔
Ayahs 43:41–42فَاِمَّا نَذْھَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْھُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ ۔ اَوْنُرِیَنَّـکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰـھُمْ فَاِنَّا عَلَیْھِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 41، 42)
(پس یا تو ہم آپ کو لے جائیں گے، پھر ہم ان سے انتقام لیں گے۔ یا ہم آپ کو دکھا دیں گے وہ چیز جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
اشرارِقریش کا خیال یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ جس دین کی دعوت لے کر اٹھے ہیں اور جس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کررہے ہیں اور اپنی جدوجہد اور بےمثال قیادت سے جس طرح معاشرے میں تبدیلی کے آثار پیدا کررہے ہیں اس کا تمام تر دارومدار آپ کی ذات پر ہے۔ اس انقلاب کو روکنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ کی ذات کا کانٹا کسی طرح نکال دیا جائے اور کسی طرح آپ کی زندگی کا خاتمہ کردیا جائے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار اشرارِقریش کی عقل اور فکر کا ماتم کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تکذیبِ رسول اور انکارِ دعوت کا نیتجہ ہمیشہ اس قوم کو بھگتا پڑتا ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول مبعوث ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ان کا عمل تکذیب پختہ ہوتا جاتا ہے اور وہ پیغمبر کی مخالفت میں حدود سے گزرنے لگتے ہیں تو ان کا وہ انجام قریب آتا جاتا ہے جس سے پیغمبر انھیں کئی دفعہ آگاہ کرچکا ہوتا ہے۔ یہی حال قریش اور دیگر اہل مکہ کا بھی ہے۔ انھیں فکر اس بات کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔ جبکہ انھیں سوچنا یہ چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور جسے ہم اپنے کرتوتوں سے قریب سے قریب تر کرتے جارہے ہیں اسے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کی عقل کا پھیر ملاحظہ کیجیے کہ انھیں اس کی کوئی فکر نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے منہ پھیر چکی ہے۔ انتقام کے لمحات قریب آتے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اٹھا لے یا ہجرت کا حکم دے دے، یہ انتقام کی زد سے نہیں بچ سکتے۔ چاہے وہ انتقام جزوی صورت میں آئے اور ان کی پوری قیادت موت کے گھاٹ اتار دی جائے اور چاہے وہ مکمل صورت میں آئے کہ ان کے قومی وجود کی جڑیں کاٹ دی جائیں وہ انتقام بہرحال آنے والا ہے۔ اسے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے قتل کے منصوبے بنتے رہے لیکن آپ خیریت و عافیت سے مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ اور پھر دوسرے ہی سال جنگ بدر کی صورت میں وہ عذاب آگیا جس نے ان کی اصل قیادت کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور قیادت کی دوسری صف کو پابہ زنجیر حوالہ زنداں کردیا گیا اور وہ نہایت ذلت سے فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا سکے۔
Ayah 43:43فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْـکَ ج اِنَّـکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الزخرف : 43)
(پس اس کو مضبوطی سے تھامے رہو جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی
قریش اور دوسرے لوگوں کی مخالفت اور ہنگامہ آرائی کی پرواہ نہ کیجیے، جب بھی کبھی اجالا پھیلتا ہے اندھیرے اپنی بقاء کے لیے ہاتھ پائوں مارا ہی کرتے ہیں، برائی نے نیکی کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مینارہ نور بنا کے بھیجا ہے اور قرآن کریم کی شمع آپ کے ہاتھ میں دی ہے۔ قیامت تک کے لیے انسانیت کی قسمت آپ سے وابستہ ہے۔ دنیا نے گمراہی کی بہت سی پگڈنڈیاں نکال رکھی ہے اور آئندہ بھی بہت سے غلط راستے نکلیں گے۔ لیکن صحیح راستہ وہی ہے جس پر آپ چل رہے ہیں اور وہی انسان کی کھوئی ہوئی قسمت کو صحیح راستے پر ڈال سکتا ہے اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ اس لیے آپ نہایت اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اپنے مشن سے وابستہ رہئے۔ دنیا آہستہ آہستہ آپ کے اتباع پر مجبور ہوجائے گی کیونکہ اندھیرے دیر تک اجالے کا راستہ نہیں روک سکتے۔
Ayah 43:44وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّـکَ وَلِقَوْمِکَ ج وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ ۔ (الزخرف : 44)
(اور بیشک یہ ذکر ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب آپ سب سے پرسش کی جائے گی۔ )
آنحضرت ﷺ اور امت ایک ذمہ داری میں شریک ہیں
ذکر کا ترجمہ بعض اہل علم نے شرف سے کیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم سے بڑا شرف کوئی نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور انسانی ہدایت کے لیے آخری پیغام۔ اور جس ذات عزیز پر اس کا نزول ہوتا ہے اس کے صاحب شرف اور ذی وجاہت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اور اسی طرح جس قوم میں وہ اللہ تعالیٰ کا رسول اٹھایا جاتا ہے اور جو قوم اس کتاب کی سب سے پہلی مخاطب بنتی ہے اس کے شرف کی بھی کیا انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دوسرے انسانوں کی ہدایت اور اپنے دین کی سربلندی کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اور دعوت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اس کے سپرد کرکے اسے اپنے قرب کا اعزاز بخشا ہے۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ذکر کا معنی یاددہانی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ آپ کے لیے بھی یاددہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی۔ اور ایک دن آپ سب سے اس کے بارے میں پرسش ہونے والی ہے۔ آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے اس عظیم امانت کا کیا حق ادا کیا ہے اور آپ کو اپنی قوم کی طرف سے کیا جواب ملا۔ اور قوم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس عظیم نعمت کی کیا قدر کی۔ مثبت یا منفی دونوں صورتوں میں قوم کی قسمت کا دارومدار اسی کتاب پر ہوگا۔
لیکن بعض مفسرین ذکر کا ترجمہ مذکور سے کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں آپ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور آپ کی قوم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور قوم سے مراد عام ہے چاہے وہ امت دعوت ہو یا امت اجابت۔ آپ کی شان رفیع، آپ کا مقام بلند، آپ کے فضائل و شمائل، آپ کے فرائض، آپ کے کمالات، آپ کی کامیابیاں اور کامرانیاں، راہ حق میں آپ کو پیش آنے والی مشکلات، انسانوں کے لیے آپ کی حیثیت اور آپ کے منصب کی نزاکت، اللہ تعالیٰ سے آپ کا غایت درجہ تعلق اور ایسی ہی بیشمار چیزیں جن کا اس کتاب میں ذکر کیا گیا، اسی طرح آپ کی قوم اور امت کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو ماننے سے انکار کردے گی تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ اور اگر آپ کی قوم اور دنیا کی باقی قومیں آپ کو مان کر آپ کی امت میں شامل ہوجائیں گی تو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں کیا انعامات ہوں گے۔ آپ کی امت کے لیے آپ کی اطاعت، محبت اور اتباع کی فرضیت۔ آپ کی طرف سے امت کو سپرد کی جانے والی امانتیں آپ کی اطاعت اور محبت کی صورت میں دنیا اور آخرت میں آپ کی امت کو ملنے والی کامیابیاں اور انعامات اور آپ کے لائے ہوئے دین کے بارے میں امت کا منافقانہ طرزعمل اور یا اجتماعی زندگی میں آپ کے دین کو رہنما بنانے سے گریز، ایسی بیشمار چیزوں اور ان کے انجاموں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ اور امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے بننے والی کہانی کا ایک ایک باب مختلف انداز میں مختلف حوالوں سے مختلف مقامات پر کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں کل کو پوچھ گچھ ہونے والی ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ ارشاد فرمائی ہے۔ ہم صرف ایک حوالہ پیش کرتے ہیں : ارشاد فرمایا :
لَقَدْ اَنْزَلَّـنَا اِلَیْکُمْ کِتٰابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ
” ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔ “
اقبال نے اسی کو اپنے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا :
محمد ﷺ بھی ترا جبریل بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
میرا ناقص گمان یہ ہے کہ ” ذکر “ کے یہ تینوں مفاہیم اپنی معنویت اور مراد میں صحیح بھی ہے اور واضح بھی۔
Ayah 43:45وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَـآ اَجَعَلْـنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِھَۃً یُّعْبَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 45)
(اور پوچھئے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے، کیا ہم نے رحمن کے سوا دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔ )
مشرکین کے دعویٰ کی تردید
گزشتہ ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور حقوق میں یکتا ہے، کوئی اس کا کسی طرح بھی شریک نہیں۔ لیکن مشرکینِ عرب نے اپنے تمام تر دین کا دارومدار شرک پر بنا رکھا تھا۔ اور دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم جس شرک میں مبتلا ہیں یہ ہماری اپنی اختراع نہیں بلکہ ہم نے صدیوں پہلے اپنے آبائواجداد کو بھی اسی پر چلتا ہوا دیکھا ہے۔ اور یہ بات یقینا ان میں سے کسی نہ کسی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہوگی ورنہ وہ اتنا بڑا فیصلہ ازخود تو نہیں کرسکتے تھے۔ گزشتہ آیات میں ان کی اس غیرمعقول بات کا مختلف پہلوئوں سے جواب دیا گیا ہے اور آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بنیادی عقیدہ کیا دیا ہے اور کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط اس کا دارومدار رسولوں پر رکھا گیا ہے۔ کیونکہ رسول ہی کی شخصیت ایسی شخصیت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے۔ اور وہی اللہ تعالیٰ کی منشاء مشیت اور رضا کو واضح کرسکتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم بجائے اٹکل پچو سے کام لینے کے صاف صاف ان رسولوں سے پوچھو جو دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے ہیں اور ان میں کئی نام ایسے ہیں جن کو دنیا کی مختلف قومیں تسلیم کرتی ہیں۔ بالخصوص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام اہل مذاہب کے یہاں مقتداء کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان سے پوچھ کے دیکھ لو کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کوئی اور بھی معبود بنا رکھے ہیں یا مقرر کر رکھے ہیں کہ جن کی عبادت کی جاسکتی ہو۔ اور رسولوں سے پوچھنے کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں تلاش کرو بلکہ ان سے پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کتابوں اور ان کی تعلیمات سے معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ کیا انھوں نے کبھی کوئی ایسی بات کہی ہے۔ اور اگر کسی رسول کی تعلیم میں ایسی کوئی بات نہیں تو پھر ایسی بےسروپا بات کی آخر تمہارے پاس کیا سند ہے۔
Ayah 43:46وَلَقَدْ اَرْسَلْـنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِـنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْ ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الزخرف : 46)
(اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ )
قریش کی تنبیہ کے لیے فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان ہوئی ہے
قریش اور دیگر اہل مکہ کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ رسول کی تکذیب کیا معنی رکھتی ہے اور اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی گئی ہے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ فرعون اور اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا تو انھیں کس طرح عذاب کا شکار ہونا پڑا اور آج وہ ذلت و نامرادی کی ایک علامت بن کر رہ گئے ہیں۔
اور یہ بات بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی دنیوی دولت و رفاہیت کی علامت نہیں ہوتے بلکہ وہ دیکھنے کو درویش ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں اپنے روحانی کمالات اور سیرت و کردار کے اجلے پن کی وجہ سے اپنے وقت کے تاجدار ہوتے ہیں۔ اور آخر حق و باطل کا تصادم، ان کی عظمت کو اور مخالفین جو دنیوی جاہ و جلال کے مالک ہوتے ہیں ان کی پستی کو نمایاں کردیتا ہے۔
تاریخی تائید کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی طرح آپ سے بھی زیادہ بےسروسامانی کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف اپنا پیغام دے کر بھیجا۔ فرعون چونکہ سرزمینِ مصر کا مطلق العنان حکمران تھا جس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ سورج کا اوتار کہلانے کی وجہ سے اپنے آپ کو مصریوں کا رب کہتا تھا اور مصر کی ایک ایک چیز کا اپنے آپ کو مالک سمجھتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب نہایت معمولی لباس اور نہایت بےسروسامانی کے ساتھ ہاتھ میں ایک لاٹھی لیے ہوئے اس کے دربار میں پہنچے اور فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کا رسول اور نمائندہ بن کر آیا ہوں، اللہ تعالیٰ کا کلام مجھ پر نازل ہوتا ہے، دنیا میں اس کا قانون میری زبان سے بولتا ہے، مجھے اس نے اہل مصر کے لیے اپنا نمائندہ اور اسوہ حسنہ بنا کر بھیجا ہے۔ اور ساتھ ہی ان کے سامنے سندماموریت کے طور پر اپنی دو نشانیاں دکھائیں۔ ایک عصائے موسیٰ اور دوسری یدبیضا، تاکہ فرعون اور اس کے اعیان کو ان دو غیرمعمولی معجزات کو دیکھ کر یقین آجائے کہ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں۔
Ayah 43:47فَلَمَّا جَـآئَ ھُم ْبِاٰیٰـتِـنَـآ اِذَا ھُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُوْنَ ۔ (الزخرف : 47)
(تو جب حضرت موسیٰ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ )
ان کے مذاق اڑانے کا سب سے پہلا سبب یہ تھا کہ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ رب العالمین کے رسول ہیں جبکہ کسی معمولی حکمران کا نمائندہ یا پیامبر کسی دوسرے حکمران کے پاس اس کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو وہ شاہی خلعت میں ملبوس بیش قیمت سواریوں پر سوار اور فوج کے ایک دستے کے ہمراہ ہوتا ہے اور ایک آپ ہیں کہ آپ کا لباس ایک گداگر کے لباس سے بھی فروتر ہے۔ آپ کے پاس کوئی سواری نہیں، آپ نہایت بوسیدہ جوتا پہنے ہوئے ہیں، فوج تو درکنار کوئی ملازم بھی آپ کے ہمراہ نہیں، تو کیا ایسے ہوتے ہیں رسول اور پیامبر اور وہ بھی کسی عام حکمران کے نہیں بلکہ رب العالمین کے۔
اور مذاق اڑانے کا دوسرا سبب یہ تھا کہ تم نے اپنی پیامبری کی جو دو نشانیاں پیش کی ہیں وہ تو صریحاً ساحری ہے۔ سحر کے زور سے تم نے یہ دو نشانیاں پیدا کی ہیں۔ جادوگر ہونا مصری معاشرے میں غیرمعمولی بات تو نہیں ہے۔ یہ فن تو اس ملک میں بہت زوروں پر ہے۔ تو محض سحر اور جادوگری کی بنیاد پر اپنے آپ کو رب العالمین کا رسول قرار دینا مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
Ayah 43:48وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیٰـۃٍ اِلاَّ ہِیَ اَکْبَرُمِنْ اُخْتِہَا ز وَاَخَذْنٰـہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الزخرف : 48)
(اور ہم ان کو ایک پر ایک ایسی نشانی دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تھا کہ وہ رجوع کریں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی یہ کشمکش قرآن کریم میں مختلف جگہ بیان ہوئی ہے۔ موقع کی مناسبت سے اس داستان کے مختلف حصوں کو مختلف مواقع پر پھیلا دیا گیا ہے اور داستان کے بعض حصوں کو محذوف رکھا گیا ہے تاکہ دوسرے مواقع کی مدد سے ان کو سمجھا جاسکے۔ یہاں بھی اصل صورتحال یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور آپ کے معجزات کا مذاق اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا تاآنکہ انھیں جھنجھوڑنے اور غور و فکر پر مجبور کرنے کے لیے بعض دوسری ایسی نشانیاں دکھائی گئیں جن میں سے ہر نشانی پہلی نشانی سے اپنی تاثیر اور اپنے غیرمعمولی پن میں بڑھی ہوئی تھی۔ اور ان نشانیوں کو جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت و حقانیت کی دلیل بنایا گیا اسی طرح انکار کرنے والوں کے لیے ان کو آزمائش کی حیثیت بھی دی گئی۔ سورة اعراف سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان بھیجے، کبھی ٹڈیوں کا سیلاب آیا، کبھی کپڑوں میں جوئیں عام کردی گئیں، کبھی مینڈکوں سے گھر بھر دیئے گئے، کبھی ہر طرف خون پھیلا دیا گیا اور کبھی شدید قحط برپا کیا گیا اور ان میں سے کوئی بات بھی اچانک ظہور میں نہیں آئی بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باقاعدہ انھیں اس کا نوٹس دیتے تھے۔ پھر عین اعلان کے مطابق وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا۔ اور ان تمام تکالیف اور آزمائشوں سے مقصود صرف یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ کا رسول جانیں اور ان پر ایمان لا کر ان کی سیادت و قیادت کو تسلیم کرلیں اور ان کی رہنمائی میں اپنی زندگیاں سنوار لیں۔
Ayah 43:49وَقَالُوْا یٰٓـاَیُّـہَ السّٰحِرُادْعُ لَنَا رَبَّـکَ بِمَا عَہِدَعِنْدَکَ ج اِنَّـنَا لَمُھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 49)
(ہر عذاب کے موقع پر) انھوں نے درخواست کی کہ اے ساحر اس عہد کی بنا پر جو اللہ نے تم سے کر رکھا ہے اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے۔ )
اہلِ مصر کی پریشانی اور وعدہ
جب یکے بعد دیگرے اہل مصر پر اس طرح کی آزمائشیں آئیں جنھوں نے انھیں بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تو انھیں یہ تو یقین ہوگیا جس کی طرف اشارہ سورة النمل میں کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، لیکن وہ جس اسلوبِ زندگی کے خوگر ہوچکے تھے انھیں اسے چھوڑنا کسی طور گوارہ نہ تھا۔ اس لیے وہ اپنے یقین کے مطابق فورًا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچتے اور بعض دفعہ ان میں خود فرعون بھی شریک ہوتا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی بات مانتا ہے اور آپ کا اس کے یہاں ایک خاص مقام و مرتبہ ہے۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ یہ آزمائشیں ہم سے دور کردے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور یا بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے۔ لیکن جب وہ ان تکلیفوں کو دور کرنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کرتے تو آپ کو ساحر کہہ کر مخاطب ہوتے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ان کا ساحر کے لفظ سے مخاطب ہونا کسی تحقیر یا سوئِ ادب پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس وقت مصر میں ساحروں کو سوسائٹی میں وہی مقام حاصل تھا جو کسی بھی سوسائٹی میں علماء کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کے ان مواقع کو دیکھنے سے جہاں فرعون نے آپ کو ساحری کا الزام دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس لفظ کو تحقیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ بات کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ اس لفظ کو کسی زمانے میں احترام کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ قوم فرعون کے عام لوگ تو خوشامدانہ لہجے میں آپ سے ان تکلیفوں کو دور کرنے کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن ان کے عمائدین اور ان کے مقتدر طبقے کی گردنوں میں اسی طرح اقتدار کا سریا پھنسا ہوا تھا جو ان کے سر کو خم نہیں ہونے دیتا تھا۔ وہ سب کچھ دیکھ کر بھی آپ کی عزت یا احترام بجا لانے کے لیے تیار نہ تھے۔