42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsروح القرآن

Ayahs 42:1–3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے آپ کی طرف اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے وحی کرتا رہا ہے

حٰـمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الشوری : 1 تا 3) (ح م۔ ع س ق۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے آپ کی طرف اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے وحی کرتا رہا ہے۔ ) پہلی دونوں آیتیں حروفِ مقطعات پر مشتمل ہیں اور ان کے بارے میں ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں گفتگو کرچکے ہیں۔ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے ؟ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی تیسری آیت کے بارے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے۔ بعض اہل علم نے تو یہ کہا ہے کہ جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائدِعظیمہ سے متعلق قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں میں وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح یہ کتاب بھی اور یہ سورة بھی پروردگار وحی فرما رہا ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ کِذٰلِکَسے اشارہ ان چہ میگوئیوں کی طرف ہے جو ہر گلی کو چے، ہر چوپال اور ہر مکان میں آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کے مضامین کے حوالے سے ہورہی تھیں۔ مکہ کے چھوٹے بڑے لوگ بڑی حیرانی سے یہ باتیں کررہے تھے کہ ہم نے آبائواجداد سے ایک دین پایا ہے جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ یقینا کائنات کا خالق ومالک ہے لیکن اس نے اپنی کائنات کی دیکھ بھال اور بالخصوص زمین پر بسنے والی مخلوقات کی ضروریات کے حوالے سے اپنے بیشتر اختیارات بہت سی قوتوں کو سونپ رکھے ہیں۔ کیونکہ اتنی بڑی کائنات کی دیکھ بھال اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی ضروریات کی فراہمی ایک شہنشاہِ معظم کے بس کی بات نہیں۔ زمین کے کسی دوردراز گوشے یا آسمان کے کسی کونے میں کوئی واقعہ ہوتا ہے یا کوئی اپنی محرومیوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تو وہ پکار اس تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔ لازماً درمیان میں واسطے ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات سے اس کی ضروریات کو پورا کریں۔ اور اگر ضروری سمجھیں تو اللہ تعالیٰ تک ان کی دعائوں کو پہنچا دیں۔ چناچہ اس مفروضے کی بنیاد پر انھوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ یہ درمیان کے جتنے واسطے ہیں چاہیں وہ بتوں اور مجسموں کی شکل میں ہوں یا دیوتائوں اور اوتاروں کی شکل میں، سب کے لیے قربانیاں کرنا اور انھیں خوش رکھنا اپنی زندگی کی آسانیوں کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ ان کی ناخوشی ہمارے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ان کا گمان یہ تھا کہ ہمیں آبائواجداد سے ایک شریعت ملی ہے جس میں اوامرو نواہی بھی ہیں اور حلت و حرمت کے بہت سے حوالے ہیں۔ ان کی پابندی ہمارے لیے ضروری ہے۔ رہی یہ بات کہ ہمارے آبائواجداد نے ہمارے لیے کوئی تحریری ماخذ نہیں چھوڑا، کوئی سند ہمارے پاس نہیں جس سے ہمیں یہ جاننے میں آسانی ہو کہ ہمیں یہ شریعت کن حوالوں اور واسطوں سے ملی۔ کیونکہ آبائواجداد تو ہمارے معبودوں اور احکام دینے والوں میں سے نہیں ہیں۔ لیکن وہ اس خیال سے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے تھے کہ صدیوں سے ہمارے اندر جو طریقہ رائج ہے اور کبھی کسی نے مخالفت نہیں کی تو اس سے خودبخود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یقینا اس کی کوئی سند ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے کسی مصدقہ واسطے سے ہم تک یہ احکام پہنچائے ہوں گے۔ اب جبکہ ہم ہی میں سے ایک شخص جسے ہم جانتے پہچانتے ہیں اور وہ قریش کے قبیلے کا ایک فرد ہے وہ اچانک اٹھ کر یہ بات کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنایا ہے، مجھ پر کتاب نازل کی جارہی ہے۔ اس لیے میں تمہیں اس کی روشنی میں یہ بات کہتا ہوں کہ تمہارے اعتقادات اور تمہارے مصنوعی شرعی قوانین تمام تر جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ تم جس ملت ابراہیمی سے اپنا تعلق رکھتے ہو اسے یکسر فراموش کرچکے ہو۔ اس لیے تم اگر عاقبت میں اپنے لیے عافیت چاہتے ہو تو مجھ پر ایمان لائو اور میری اطاعت کرو، ورنہ تمہیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ تو اہل مکہ جگہ جگہ ان باتوں پر تبصرہ کرتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جسے ہم جانتے بوجھتے ہیں اور اس میں اور ہم میں بظاہر کوئی فرق نہیں، اس کے پاس اللہ تعالیٰ آتا ہے یا وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنے احکام اس کے حوالے کرتا ہے اور اپنی کتاب اس پر نازل کرتا ہے، یہ تو کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا، ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا۔ اس کا تو ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ یہ محض بنائی ہوئی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حوالہ محض ہمیں مرعوب کرنے کے لیے ہے۔ چناچہ ان ہی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی چہ میگوئیوں میں جس سلسلہ ٔ ہدایت کو ایک نرالی بات کہہ رہے ہو اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ جب بھی پروردگار نے کسی قوم کی ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے تو اس نے ہمیشہ یہی طریقہ اختیار کیا کہ ان ہی میں سے ایک صاحب کردار شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا اور پھر اس پر اپنا کلام اتارا اور اسے اس کی تبلیغ و دعوت کا مکلف ٹھہرایا۔ تم جن رسولانِ گرامی کے نام جانتے ہو اور ان کی قوموں کے احوال سے بھی واقف ہو، ان سب پر وحی اسی طرح آتی رہی اور وحی کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کے احکامات انھیں ملتے رہے۔ وہ چونکہ عزیز ہے اس لیے جب بھی وہ ایسے کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہیں جانے یا کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اپنی حکمت سے اس کام کے لیے وحی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یعنی براہ راست اپنا حکم اپنے رسول کے دل پر اتارتا ہے یا اپنے فرشتے کو اپنا پیغام دے کر اس کے پاس بھیجتا ہے۔ اور وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کے ہر کام کی پشت پر حکمت کارفرما ہوتی ہے۔
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ برتر اور عظیم ہے

لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ (الشوری : 4) (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ برتر اور عظیم ہے۔ ) گزشتہ آیت میں مذکور صفت عزیز کی وضاحت گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ” عزیز “ کو ذکر فرمایا گیا تھا، یہ آیت کریمہ اس کی وضاحت ہے۔ یعنی وہ پروردگار اس قدر غالب اور عزت اور ہیبت والا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی عظیم ہستی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اسی ذات بلند وبالا کی عبادت اور اطاعت کی تمہیں دعوت دیتے ہیں اور تمہیں اس کی وحدانیت پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تم تعجب سے کان کھڑے کرنے لگتے ہو کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ ایک اللہ ہی معبود، حاجت روا اور شارع ہے تو پھر ہمارے بزرگوں کا کیا بنے گا جنھیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی کئی صفات تفویض کر رکھی ہیں اور اپنی ضروریات اور حاجات میں ہم ان کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں دیتے ہیں۔ چناچہ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں دخیل سمجھتے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ بہت سارے اختیارات ان کے پاس ہیں تو کیا وہ آسمان و زمین کے مالک ہیں یا آسمان اور زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے یا ان کے پاس کوئی غیرمعمولی قوت ہے ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ باقی مخلوق کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ملک یعنی اس کی مملوک ہیں۔ تو کیا مملوک مالک کی ملکیت میں شریک ہوسکتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کی کوئی بھی حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ برتر اور عظیم ہے۔ اور وہ اس سے بہت بلند ہے کہ کوئی اس کا ہمسر ہو۔ تو یہ کس طرح اس کی ذات، صفات اور حقوق میں اس کے حصہ دار بن سکتے ہیں۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑے اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں استغفار کرتے رہتے ہیں، آگاہ رہو کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے

تَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِھِنَّ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (الشوری : 5) (قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑے اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں استغفار کرتے رہتے ہیں، آگاہ رہو کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے علومرتبت اور عظمت کی یاد دہانی وہ ذات بزرگ و برتر کہ کائنات کی ایک ایک مخلوق اس کی مملوک اور غلام ہے اور آسمانوں میں جابجا فرشتے اس کی عظمت اور ہیبت کے سامنے جھکے ہوئے اور لرزاں و ترساں ہیں۔ جس کی عظمت وہیبت کا یہ عالم ہے اگر اس کی عظمت کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے تو یہ اس کی عظمت کا عین تقاضا ہے۔ کیونکہ جس طرح قرآن کے نزول سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں تو قرآن جس عظیم ذات کا کلام ہے اس ذات کی ہیبت سے آسمان یقینا دبے دبے رہیں گے اور اگر اس کے ساتھ یہ حادثہ ہوجائے کہ زمین پر بسنے والے نادان لوگ ایک بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے حقوق میں مخلوق کو شریک کرنے لگیں، کوئی اس کی کسی مخلوق کو خدا قرار دینے لگے اور کسی کو اس کا بیٹا یا بیٹی قرار دے دیا جائے، کسی کو اس کی طرح ہی حاجت روا اور فریادرس گمان کرلیا جائے اور انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس کے قانون کو نظرانداز کرکے اپنے وضعی قوانین کی اطاعت کرنے لگے اور جس طرح اس کے سامنے جھکا جاتا ہے اسی طرح تخت پر براجمان ہونے والے انسانوں کو خدائی کا مرتبہ دے دیا جائے اور ان کے سامنے سجدہ تعظیمی کیا جائے۔ تو کیا ان حماقتوں کی وجہ سے اس کا اندیشہ نہیں پیدا ہوجاتا کہ آسمان واقعی پھٹ جائے، جبکہ فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ جب اہل زمین کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور اہل زمین کی جسارتوں پر شب و روز استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کہیں ان پر نازل نہ ہوجائے۔ وہ بار بار اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ الٰہی ان کو اور مہلت عطا فرما، ممکن ہے یہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلیں۔ اور ساتھ ہی مزید تسبیح وتحمید میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی جس طرح کی بعض کمزور باتوں کو مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس سے منزہ ٹھہراتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عالیہ کے حوالے سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اور آخر میں پروردگار نے اپنی دو صفات بیان فرما کر مشرکین کو تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا نہیں، تم نے جس طرح بعض آستانے بنا رکھے ہیں کہ یہ دولت تمہیں وہاں سے بھی مل سکتی ہے اپنی اس غلط فہمی کو دور کرو اور خاص طور پر فرشتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ تمہاری بخشش پر قادر ہوتے تو وہ اس عاجزی کے ساتھ لوگوں کی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے درخواست کیوں کرتے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان پر ذمہ دار نہیں

وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ صلے ز وَمَـآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الشوری : 6) (اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان پر ذمہ دار نہیں۔ ) مشرکین کو نہایت سخت تنبیہ اس آیت کریمہ میں مشرکین کو نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ مشرکین سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر اس قدر واضح دلائل کے باوجود بھی ان لوگوں نے اپنے سرپرست اور کارساز اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں یا اسے نظرانداز کرتے ہوئے کچھ دوسری قوتوں کو بنا رکھا ہے چاہے وہ اجرامِ فلکی میں سے ہوں یا زمین کے طواغیت میں سے، وہ ارواحِ خبیثہ ہوں یا کسی علاقے کے جنات، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ برابر ان پر نگرانی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ان پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ان کا ولی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہی ان کا حقیقی رہنما ہے، وہی ان کا معبودِ برحق ہے، وہی قادر مطلق ہے، وہی ہر موقع پر اور ہرحال میں ان کی مدد کرنے والا ہے وہ ان کی مرادیں بر لانے والا ہے۔ اور فوق الفطری طریقے سے انسانوں کے کام آنا صرف اس کی قدرت اور اس کی صفت ہے۔ لیکن انھوں نے اسے چھوڑ کر نہ جانے یہ صفات کن کن لوگوں میں تقسیم کررکھی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو ولی مان کر جس طرح اس کی بندگی بجا لائی جاتی اور اس کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی اور جس طرح اس کے سامنے دست سوال پھیلایا جاتا تھا اور جس طرح اس کے دیئے ہوئے قانون کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا، یہی ساری حیثیتیں انھوں نے غیر اللہ کو دے رکھی ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی یہ ساری حرکتیں اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس نے محض سنبھلنے کے لیے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ وہ برابر اس انتظار میں ہے کہ جیسے ہی ان کی مہلت عمل ختم ہو تو اس کے قہر و غضب کا کوڑا ان پر برسے۔ ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ کو رسول، مبلغ اور داعی الی الحق بنا کے بھیجا گیا ہے۔ ان کے ایمان و عمل کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ اگر یہ آپ پر ایمان نہیں لاتے یا آپ کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو اس کی پرسش بہرحال ان ہی سے ہونی ہے۔ کیونکہ آپ ان پر نہ داروغہ بنائے گئے ہیں اور نہ حوالہ دار۔ نہ یہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ انھیں ہدایت سے ضرور بہرہ ور کردیں۔ آپ سے ان کی ہدایت کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہوگا۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اے پیغمبر ! ایک عربی قرآن آپ کی طرف وحی کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردوپیش میں رہنے والوں کو خبردار کردیں، اور اس دن سے ڈرا دیں جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہوگا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور ایک گروہ کو دوزخ میں

وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّـتُـنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَھَا وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لاَرَیْبَ فِیْہِ ط فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ۔ (الشوری : 7) (اور اسی طرح ہم نے اے پیغمبر ! ایک عربی قرآن آپ کی طرف وحی کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردوپیش میں رہنے والوں کو خبردار کردیں، اور اس دن سے ڈرا دیں جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہوگا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور ایک گروہ کو دوزخ میں۔ ) عربوں پر قرآن کی صورت میں احسان اور اتمامِ حجت کی طرف اشارہ کَذٰلِکَکا اشارہ سابقہ مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے آپ سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں پر وحی نازل کی تھی، اسی طرح ہم نے آپ پر بھی یہ عربی قرآن اتارا ہے۔ اس کو عربی کہہ کر اہل عرب پر احسان بھی کیا ہے اور اتمامِ حجت بھی فرمایا ہے۔ اہل عرب پر اس سے بڑا احسان اور کیا ہوگا کہ وہ اُمیِ محض ہیں۔ لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے اور ایک طویل عرصے سے نہ ان کی طرف کوئی نبی اور رسول آیا اور نہ ان پر کوئی شریعت نازل کی گئی۔ اس لیے نہ وہ نبوت سے واقف ہیں اور نہ علوم نبوت سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ اس تہی دامنی کے باوجود ان پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا جو پہلے آنے والی تمام کتابوں کے علوم کی جامع ہے احسان نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی طرح عربی کا لفظ بول کر ان پر اتمامِ حجت فرمایا گیا ہے کیونکہ اگر یہ قرآن کریم کسی اور زبان میں آتا جسے تم نہ سمجھتے تو یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں تم یہ عذر کرتے کہ ہم قرآن کریم سے کیا فائدہ اٹھا سکتے تھے جبکہ وہ ایک ایسی زبان میں نازل ہوا تھا جس سے ہم بالکل واقف نہیں تھے۔ ہم نے عربی زبان میں اسے نازل کیا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس پر ایمان نہ لانے اور اس کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر کوئی عذر پیش نہ کرسکو۔ اس طرح ہم نے عربوں پر اپنی حجت تمام کردی۔ مزید فرمایا کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ تم اُم القریٰ اور اس کے گردوپیش رہنے والے لوگوں کو خبردار کردو کہ تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح و کامیابی کا دارومدار اب اس دین کے قبول کرنے میں ہے جو نبی کریم ﷺ پیش کررہے ہیں اور قرآن کریم جس کی دعوت دے رہا ہے۔ اور اگر تم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تو پھر اس کے نتیجے میں تمہارے برے انجام سے میں تمہیں خبردار کرتا ہوں۔ اُم القریٰ مکہ معظمہ کا نام ہے۔ اس کا معنی ہے مرکزی بستی۔ القریٰ قریہ کی جمع ہے اور اُم کہتے ہیں ایسی چیز کو جس کے نیچے بہت سے توابع ہوں، جسے ایک مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ماں چونکہ اپنے بچوں کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے لیے سائے کی مانند ہوتی ہے اس لیے اس کو اُم کہا گیا ہے۔ دماغ سارے جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور باقی تمام اعضاء اس کے پیچھے چلتے ہیں، اس لیے اس کو اُم الرأس کہا جاتا ہے۔ مکہ معظمہ جزیرہ عرب میں ایسی ہی حیثیت کی حامل بستی تھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا گھر تھا اس لیے اس بستی کی حیثیت سارے عرب کے مرجع کی تھی۔ جزیرہ عرب کی ساری دانش قیادت کی صورت میں یہاں جمع ہوگئی تھی، تمام قبائل کے بت یہاں موجود تھے اس لیے اللہ تعالیٰ کے گھر کے علاوہ بتوں کی صورت میں بھی تمام قبائل کی عقیدت کا مرکز یہی بستی تھی۔ جس بات کا چلن اس بستی میں ہوجاتا تھا وہ بات سارے جزیرہ عرب کی آواز بن جاتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو براہ راست اس بستی میں بھیجا تاکہ ان کی دعوت اس بستی کے واسطے سے تمام جزیرہ عرب میں پھیل جائے۔ مَنْ حَوْلَھَا سے مراد اس کے اردگرد پھیلی ہوئی بستیاں ہیں جن سے مراد پورا جزیرہ عرب ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے مراد پوری دنیا لی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ تمام دنیا کی طرف ہے کیونکہ آپ ساری دنیا کی طرف پیغمبر بنا کے بھیجے گئے تھے۔ آپ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ حقیقت اور معنویت کے اعتبار سے یہ بات بالکل صحیح ہے۔ لیکن مَنْ حَوْلَھَاکی یہ تعریف الفاظ کی حدود سے صریح تجاوز ہے۔ اور پھر اس کی یہاں ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ خود آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے یہ بات واضح ہے کہ آپ کی بعثت دو حیثیتوں سے ہوئی ہے ایک بعثت عام اور دوسری بعثت خاص۔ بعثت عام کے اعتبار سے آپ ساری دنیا کے لیے رسول بن کر آئے۔ لیکن بعثت خاص کے اعتبار سے آپ براہ راست مکہ معظمہ اور جزیرہ عرب کی طرف مبعوث ہوئے۔ چناچہ بعثت خاص کے حوالے سے آپ کو اہل مکہ اور اہل عرب پر حجت تمام کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا۔ اور ان کے سامنے دین حق کی شہادت دینے کی ذمہ داری آپ پر عائد کی گئی۔ اور جہاں تک بعثت عام کا تعلق ہے، اس کی ذمہ داری قرآن نے بھی اور نبی کریم ﷺ نے بھی پوری امت مسلمہ پر عائد کی ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے بھی آپ کو خیرامت قرار دیا جسے تمام لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے اور مسلمانوں کو شہداء اللہ فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے اقبال مرحوم نے امت مسلمہ کی ذمہ داری کے حوالے سے کہا : وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے اور آپ پر وحی کے ذریعے قرآن عربی کے نزول کا دوسرا مقصد یہ بیان فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو خبردار کردیں یوم الجمع سے۔ اس سے مراد قیامت ہے۔ اور یوم الجمع قیامت کو اس لیے کہا گیا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ بلا استثنیٰ سب کو اکٹھا کرے گا۔ نوعِ انسانی کی پہلی کھیپ سے لے کر قرب قیامت کی آخری نسل تک سب کو جمع کیا جائے گا۔ اور پھر کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ وہاں عابد بھی لائے جائیں گے اور معبودانِ باطلہ بھی، لیڈر بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، کفار بھی ہوں گے اور ان کے حمایتی بھی، انبیائے کرام بھی ہوں گے اور ان پر ایمان لانے والے بھی، طبقہ زہاد کے لوگ بھی ہوں گے اور فساق و فجاد بھی۔ ان سب کی موجودگی میں ان سب کے اعمال کا حساب ہوگا، سب سے بازپرس ہوگی۔ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ جو اچھائی یا برائی کی اور جو رول ادا کیا، پاسِ عہد کیا یا بےوفاقی دکھائی۔ ہر چیز کھول کے رکھ دی جائے گی۔ اور کسی کو سزا دی جائے گی تو اس میں زیادتی نہیں ہوگی اور کسی کو انعام دیا جائے گا تو اس میں کمی نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کوئی جہنم میں جائے گا اور کوئی جنت میں۔ ایمان و عمل سے بہرہ ور لوگ جنت سے بہرہ ور ہوں گے۔ اور دوسرا گروہ جو اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں پر مشتمل ہوگا وہ جہنم میں جائے گا۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگار

وَلَوْشَـآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَھُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰـکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖط وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَھُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 8) (اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگار۔ ) ایک شبہ کا جواب اس آیت کریمہ میں ایک شبہ کا جواب دیا گیا ہے جسے علمی زبان میں دفع دخل مقدر کہتے ہیں۔ شبہ یہ ہے کہ قرآن کریم یا دوسری کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے ہر دور میں ایک ہی دین نازل فرمایا۔ اور اس دین کے اتباع پر دنیوی اور اخروی کامیابیوں کی نوید سنائی اور جنت کا وعدہ فرمایا۔ اور جو لوگ اس دین کو قبول کرنے سے انکار کریں گے یا اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہوں گے انھیں نافرمانوں اور کفار کا گروہ قرار دیا گیا ہے اور انھیں جہنم میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا یہ ہے کہ سب لوگ اس کے ایک ہی دین کے تابع رہ کر زندگی گزاریں ورنہ انھیں جہنم میں جانا پڑے گا تو اس نے ایسا کیوں نہ کیا کہ لوگوں میں دین سے اختلاف کرنے کی جرأت اور صلاحیت پیدا نہ کی جاتی اور فرشتوں کی طرح سب کو ایک ہی دین پر چلنے کا نہ صرف پابند کیا جاتا بلکہ اس دین کی پابندی ان کی فطرت اور جبلت میں رکھ دی جاتی۔ اور اس طرح سے تمام دنیا کے انسان امت واحدہ کی شکل میں زندگی گزارتے۔ نہ انسانوں میں مسائل پیدا ہوتے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی وجود میں آتی۔ جس طرح فرشتوں اور دوسری مخلوقات میں رائے کے اختلاف کی وجہ سے مسائل جنم نہیں لیتے، نہ مفادات میں تصادم ہوتا ہے نہ عزائم باہم دست و گریباں ہوتے ہیں۔ اور ان کی زندگی اس طرح گزرتی ہے کہ کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ایسی ہی زندگی جن و انس کی بھی ہوتی، اگر ان میں اختیار اور ارادے کی آزادی نہ ہوتی، اور ان میں نافرمانی کی جرأت پیدا نہ کی جاتی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا کہ زبردستی سب کو نیک بنا دے اور اس کے نتیجے میں سب لوگ امت واحدہ بن کر رہیں تو پھر اس دنیا کی بساط بچھانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیونکہ دنیا میں جن و انس کو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ انھیں جوہرِعقل دے کر اور قوت امتیاز بخش کر خیر و شر میں تمیز کی قوت پیدا کی جائے۔ اور پھر ہر ایک کو قوت ارادہ دے کر، مفادات کی ہوس دے کر، خواہشات کی محبت دے کر دنیا میں زندگی گزارنے کا حکم دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ مفادات کے تصادم سے بچنے، خواہشات کے اتباع کے نقصانات سے محفوظ رہنے اور سفلی جذبات کی گندگی کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے کے لیے آسمانوں سے ہدایت نازل کی جائے جنھیں باقاعدہ کتابی شکل میں لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تاکہ وہ اس سے بیگانہ نہ رہیں اور انسانوں میں سے چند انسانوں کو رسالت دے کر ان کی زندگیوں کو خیر کا نمونہ بنادیا جائے۔ اور پھر یہ حکم دیا جائے کہ ہم نے تمہیں ارادے کی آزادی دی ہے چاہو تو زندگی کی وہ روش اختیار کرو جس میں ہوائے نفس کی حکمرانی ہے اور چاہو تو ہدایت کا وہ طریقہ اختیار کرو، اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول جس کا نمونہ ہیں اور جس میں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی ہے۔ پہلی صورت میں تمہیں قیامت کے روز جہنم میں جانا ہوگا اور دوسری صورت میں تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے حقدار ٹھہرو گے اور تمہیں جنت سے نوازا جائے گا۔ یہ سکیم دے کر ہم نے تمہیں دنیا میں بھیجا اور دنیا کے قیام کو مہلت عمل بنایا ہے۔ اب اگر ہم تم سے آزادی چھین لیں اور زبردستی تمہیں نیک یا بد بنادیں تو پھر یہ سکیم تو ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اگر سب کو زبردستی نیک بنادیا جائے تو پھر انعام کس بات پر، اور جنت کا کیا معنی ؟ اور اگر سب کو بد بنادیا جائے تو پھر سزا کس چیز پر اور جہنم کا کیا مفہوم ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو امت واحدہ بنا دیتا۔ لیکن اس کی مشیت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ جسے چاہے یعنی جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے اور اس کے عمل کا یہ تقاضا ہو کہ اسے جنت میں بھیجا جائے تو اسے وہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ لیکن جو لوگ اس کے دین و شریعت کی نافرمانی کرکے اپنے آپ پر ظلم توڑیں ان کے لیے قیامت کے دن نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے ولی بنا رکھے ہیں۔ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ ج فَاللّٰہُ ھُوَالْوَلِیُّ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 9) (کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے ولی بنا رکھے ہیں۔ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) ولی کی وضاحت اور مشرکین کے رویئے پر اظہارِتعجب گزشتہ آیات میں یہ بات اچھی طرح واضح کی گئی ہے کہ ولی اسے کہتے ہیں جس کے اندر صفت ولایت پائی جاتی ہو۔ اور صفت ولایت ایسی صفت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا فوق الفطری طریقے سے کوئی دوسرا شخص نہ کسی کی مدد کرسکتا ہے نہ آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرسکتا ہے نہ اسے رزق کے وسائل مہیا کرسکتا ہے نہ اس کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے اور نہ وہ انسانوں کو ایسی رہنمائی مہیا کرسکتا ہے جو ہر طرح کی غلطی اور نارسائی سے پاک ہو اور دنیا و آخرت کی فلاح کی جس میں ضمانت دی جاسکے۔ نہ کسی کی یہ حیثیت ہے کہ اس کے احکام اور اس کے دیئے ہوئے دستور کی غیرمشروط اطاعت ضروری ہو۔ اس لیے جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو اولیاء بنا رکھا ہے اللہ تعالیٰ ان کی برابر نگرانی کررہا ہے۔ جیسے ہی مہلت عمل گزرے گی تو ان کی ان جسارتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عتاب نازل ہوگا۔ ان تمام وضاحتوں کے باوجود پھر بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بجائے دوسرے کسی بھی بڑے آدمی کو اپنا ولی بنا لیتا ہے تو پروردگار اس پر اظہارِتعجب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی کو ولی بنانا کوئی من مرضی کا کھیل تو نہیں کہ آپ جسے چاہیں اپنا ولی بنالیں اور وہ حقیقت میں بھی آپ کا سچا اور اصلی ولی بن جائے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ ولایت تو ایک ایسا منصب ہے جس کا تعلق سراسر الوہیت اور قدرت مطلقہ سے ہے۔ ظاہر ہے کہ ان صفات کا مخلوق میں ہونا نہ صرف یہ کہ ناممکن ہے بلکہ کسی کے اندر یہ صفات ماننا کفر بھی ہے۔ اس لیے مشرکینِ عرب پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو کیسے ولی بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ولی ہونے کے لیے کم از کم یہ بات ضروری ہے کہ وہ موت وحیات کی حقیقت سے نہ صرف واقف ہو بلکہ اس پر قدرت بھی رکھتا ہو۔ وہ موت کو حیات میں تبدیل کرسکتا ہو اور حیات کو موت میں۔ اور جو اس طرح کے اختیارات نہیں رکھتا اسے ولی بنانا تو ایسا ہی ہے جیسے کسی بےنوا اور بےبس شخص کے سر پر شہنشاہِ دوعالم کا تاج سجا دیا جائے۔ یہ مثال اگرچہ بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہمہ مقتدرذات اور انسان کی بےبس ذات کے تقابل کے لیے نہایت ناقص مثال ہے۔ اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ولی بناتا ہے وہ کس قدر حماقت کا اظہار کرتا ہے کہ کہاں بےبس انسان اور کہاں وہ ذات جو ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

وَمَااخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْ ئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ ط ذٰلِـکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ صلے ق وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ۔ (الشوری : 10) (اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کے مرتبے کی وضاحت اس سے پہلے اس بنیادی عقیدے پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ولی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی مالک کائنات اور وہی کارسازِحقیقی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کو حاکم حقیقی بھی مانا جائے اور اس کے حکم کو آخری حکم، اس کی شریعت کو آخری شریعت اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے حتمی اور واجب العمل قرار دیا جائے۔ اور جو لوگ اس عقیدے کو اختیار کرنے کے بعد فی الواقع اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی زندگیوں پر نافذ کرلیں اور ان کے اجتماعی ادارے اس کے مطابق چلنے لگیں تو کسی وقت بھی اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ کسی معاملے میں بھی ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو۔ تو ایسے اختلاف کے حل کے لیے ہمارے لیے رجوع کا موقع اور فیصلہ کن حوالہ اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کیونکہ ولی ہونے کے لحاظ سے وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ ہر معاملے میں اس کا حکم چلے۔ یہی وہ بات ہے جس کا قرآن کریم نے حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اِتَّبِعُوْْا مَا اُنْزِلَ اِلَیْـکُمْ مِّنْ رَّبِّـکُمْ وَلاَ تَـتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِـہٖ اُوْلِیَائَ ” پیروی کرو اس چیز کی جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اسے چھوڑ کر دوسرے اولیاء کی پیروی نہ کرو۔ “ مزید فرمایا کہ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلٰی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ” اور اگر کسی چیز میں تم میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائو۔ “ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانے کا مطلب ہے کہ قرآن کی طرف لوٹو۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف لوٹانے سے مراد یہ ہے کہ سنت رسول کی طرف رجوع کرو۔ چونکہ ولی حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور نبی کریم ﷺ اس کے نمائندہ ہیں۔ اس لیے ہر اختلاف کی صورت میں رہنمائی کے لیے انھیں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اور یہ رجوع صرف آخرت میں ہی نہیں ہوگا بلکہ آیت کے الفاظ عام ہیں وہ علی الاطلاق تمام نزاعات و اختلافات میں اللہ تعالیٰ کو فیصلہ کرنے کا اصل حقدار قرار دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو اللہ تعالیٰ کی زمین اور اس کے بندوں پر نافذ اور جاری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو نمونہ اور اسوہ قرار دیا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنی زندگی پر اور پھر لوگوں پر اسے قائم کرکے دکھاتے ہیں۔ چناچہ اسی حوالے سے آنحضرت ﷺ سے کہلوایا گیا کہ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے۔ یعنی زندگی کے ہر مسئلے کے حل کے لیے اور اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کرنے کے لیے میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے۔ اور بھروسہ بھی میں نے عہدماضی میں کیا ہے۔ کیونکہ تَوَکَّلْتُ فعل ماضی ہے جو فعل کے استحکام اور عزم بالجزم پر دلالت کرتا ہے۔ اور یہ بات بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ فیصلہ میں نے اس وقت سے کر رکھا ہے جب سے میرے شعور نے آنکھ کھولی۔ اور فیصلہ کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا۔ اور مزید فرمایا کہ میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور کروں گا کیونکہ اُنِیْبُ فعل مضارع ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے اور اس میں حال اور مستقبل دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی اگر آج مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے یا رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ ہی سے استمداد کرتا ہوں۔ اور اگر آئندہ ایسی ضرورت پیش آئے گی تب بھی اسی کی طرف رجوع کروں گا۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہی آسمانوں اور زمین کو بنانے والا ہے، اسی نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے جوڑے پیدا کیے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے پیدا کیے، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے، اور اس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے، اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے

فَاطِرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ج یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ ط لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ئٌ ج وَھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (الشوری : 11) (وہی آسمانوں اور زمین کو بنانے والا ہے، اسی نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے جوڑے پیدا کیے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے پیدا کیے، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے، اور اس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے، اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ولی، کارساز، خالق ومالک اور حاکم حقیقی ہونے کے دلائل مہیا کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلی دلیل یہ فرمائی گئی ہے کہ تمام مخلوقات کی زندگی ایک مسکن کی مرہونِ منت ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ ایک گھر ہے جس میں تمام مخلوقات کو ان کو ضروریات فراہم کی جارہی ہیں۔ جو آسمانوں اور فضا میں رہتے ہیں وہ بھی اپنا رزق پا رہے ہیں۔ اور زمین پر بسنے والے انسان بھی اس گھر کی افادیت سے بہرہ ور ہورہے ہیں۔ زمین ان کے لیے مختلف نعمتوں کا دسترخوان بچھاتی ہے۔ اور آسمان ان نعمتوں کو کام و دہن کی ضرورت کے مطابق تیار کرتا ہے۔ زمین غلہ اگاتی ہے، سورج کی گرمی اسے پکاتی ہے۔ زمین پھل پیدا کرتی ہے، چاند اس میں مٹھاس اور گداز پیدا کرتا ہے۔ زمین نباتات اگاتی ہے، آسمان اس کی آبیاری کا سامان کرتا ہے۔ اور پھر باہمی تخالف کی نسبت رکھتے ہوئے توافق کی ایسی حیرت انگیز مثال قائم کرتے ہیں کہ دیکھنے والی نگاہ ششدر رہ جاتی ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ انسان ہوں یا حیوان اس کے توالد اور تناسل کے لیے اسی کی جنس سے ان کے جوڑے پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر انسانوں میں تو حیرت انگیز طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مردوزن کی شخصیت ایک دوسرے کے بغیر ادھوری ہے۔ اور ہر شخصیت میں کچھ خلاء رکھے گئے ہیں جو صنف مخالف سے پُر کیے جاتے ہیں۔ دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لیے اس حد تک ضروری ہے کہ یہ دنیا تمام تر رعنائیوں کے باوجود ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے۔ تیسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ وہ اس طریقے سے تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ اس جملے میں اگر تدبر سے کام لیا جائے تو ایک جہانِ معنی اس میں مضمر ہے۔ لیکن میں صرف ایک بات عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ساری آباد دنیا میں مرد اور عورت کے اتصال سے نسل انسانی کو پھیلایا ہے۔ اس میں سب سے پہلی چیز جو ہمیں پہلی ہی نظر میں دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی ملک اور کسی شہر میں کبھی یہ شکایت پیدا نہیں ہوئی کہ وہاں مرد زیادہ پیدا ہوتے ہیں اور عورتیں کم پیدا ہوتی ہیں، یا اس کے برعکس پیدائش کا عمل جاری ہے۔ اور یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ کسی علاقے میں یہ شکایت پیدا ہوئی ہو کہ وہاں سرے سے نسل انسانی کا پھیلائو رک گیا ہے۔ حالانکہ خاندانی منصوبہ بندی کے فلسفے نے نسل انسانی کے پھیلائو میں بہت کچھ رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا نتیجہ جہاں پیداوار کی کمی کی صورت میں نکل سکتا تھا وہیں اس بات کا بھی امکان تھا کہ مرد اور عورت کا تناسب بگڑ جائے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا انتظام ہے جس کے نتیجے میں اس تناسب میں معمولی کمی بیشی کے سوا کوئی بڑا تغیر پیدا ہونے میں نہیں آتا۔ اور پھر خواہشاتِ نفسانی کے غلبے اور سفلی جذبات کی فراوانی میں اگرچہ ماں باپ اور اولاد کی محبت میں بہت حد تک کمی پیدا کرنے کی کوشش ہوئی ہے، لیکن کسی ملک میں بھی آج تک ایسی پریشان کن صورت پیدا نہیں ہوئی کہ لوگ اپنے بچوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیں۔ انسانی فلسفوں کو دیکھتے ہوئے اندیشوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اپنے انتظام کی ہمہ گیری کا نتیجہ ہے کہ تمام تر وسائل کے باوجود منفی جذبات ابھی تک پیدا نہیں کیے جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور اس کی قدرت کے کرشموں کو دیکھتے ہوئے یقینا یہ بات ہر دل سے اٹھتی ہے کہ کوئی شے بھی اس جیسی نہیں۔ قرآن کریم نے اس میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے مثل پر حرف تشبیہ داخل کیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس کی مثل کی مانند بھی کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی کوئی مثل ہوتی تو اس کے مانند بھی کوئی نہ ہوتا، یہ صرف مبالغہ کا ایک انداز ہے ورنہ جس طرح اس کی ذات جیسا کوئی نہیں، اسی طرح اس کی مثل بھی کوئی نہیں۔ وہ اپنی ذات میں بھی یکتا ہے اور اپنی صفات میں بھی۔ اور مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ کائنات کی وسعتوں کا کوئی اور چھور نہیں۔ لیکن اس کی ذات کے اعجاز کا عالم یہ ہے کہ کائنات کے ہر گوشے سے اٹھنے والی آواز کو سنتا بھی ہے اور ہونے والی حرکت کو دیکھتا بھی ہے۔ سمندروں کی گہرائی میں کوئی جرثومہ حرکت کرتا ہے تو وہ اس کی حرکت کو دیکھتا اور سنتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اہل زمین کی فریادوں کو نہ سنے، اور مظلوموں پر ہونے والے ظلم کو نہ دیکھے۔ اور ظالموں کا ظلم اور خائنوں کی خیانتیں اس کی بصارت سے دور رہیں۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، وہ رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَـقْدِرُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الشوری : 12) (آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، وہ رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) جو ذات خالق ہے وہی مالک بھی ہے جو ذات آسمانوں اور زمین کی خالق ہے اور جس کے قبضے میں موت وحیات کا سلسلہ ہے اور جس نے مخلوقات کے جوڑے پیدا کیے اور جس نے انسانوں کو اپنی قدرت اور حکمت سے پھیلایا کیا اس کے سوا کوئی اور ذات بھی ہوسکتی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مالک اور حکمران ہو۔ اور آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کی چابیاں اس کے ہاتھ میں دے دی جائیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی اور ذات کون سی ہوسکتی ہے۔ زمین کی حرکت اس کے قبضے میں ہے، سیارے اسی کے حکم سے چلتے ہیں، سورج اور چاند جیسے کُرّے اسی کے حکم کے پابند اور محوگردش ہیں۔ پانی اسی کی قدرت سے بہتا اور نباتات اسی کے حکم سے اگتی ہیں، بارشیں اسی کے حکم سے ہوتی ہیں، سمندر اسی کے حکم سے موتی اگلتا ہے، اور ساحلوں پر بسنے والی مخلوق کو تازہ گوشت کی غذا بہم پہنچاتا ہے۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ و ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی اس کی قدرت اور علم کے بغیر نہیں ہوتی۔ جس کو وسیع رزق ملتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے اور جس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے وہ بھی اسی کی قدرت سے ہے۔ اس لیے امیدیں اسی سے باندھنی چاہئیں اور اسی کا ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ رزق تنگ ہوجائے تو کبھی یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو شاید اس کی خبر نہیں۔ اور جس کو بےپایاں رزق مل رہا ہے اس کو بدمست نہیں ہونا چاہیے کہ شاید یہ میری بدمستی اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں۔ جو اس سے مانگتا رہے گا اس کے خزانے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ اور جو بدمست ہوجائے گا ایک نہ ایک دن اس کا عدل اس کی سزا کا باعث بن جائے گا۔