41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsروح القرآن

Ayahs 41:1–4

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن کی صورت میں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

خوشخبری دینے والی اور ڈرا دینے والی، پس ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی اور وہ اس کو سن کر نہیں دیتے

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ج فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 1، 4) (حٰ مٓ۔ 1) یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن کی صورت میں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ خوشخبری دینے والی اور ڈرا دینے والی، پس ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی اور وہ اس کو سن کر نہیں دیتے۔ ) مخالفین کا اصل ہدف ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی ذات تھی۔ وہ کسی قیمت پر یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ جس کتاب کو ہمارے سامنے پیش کررہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ اس لیے وہ ہر ممکن طریقے سے قرآن کریم کو سننے سے اعراض کرتے، اس کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر مختلف قسم کے اعتراضات کرتے۔ اس لیے ان آیات میں قرآن کریم کا تعارف کرایا گیا ہے کہ تمہیں جس کتاب کو منزل من اللہ ماننے سے انکار ہے اور تم اسے آنحضرت ﷺ کی تصنیف قرار دیتے ہو، اس کے بارے میں تمہارے ذہنوں میں چند باتیں بالکل واضح ہونی چاہئیں ورنہ اندیشہ ہے کہ تم کبھی بھی قرآن اور صاحب قرآن سے استفادہ نہیں کرسکو گے اور نہ ان پر ایمان لا سکو گے۔ چند قابل توجہ باتیں 1 ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم ہزار انکار کرو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کو نہایت اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے کیونکہ تنزیل کا لفظ اہتمام کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کتاب کو اللہ تعالیٰ نہایت اہتمام کے ساتھ نازل فرمائیں گے وہ یقینا بہت عظمت والی اور بہت برکت والی کتاب ہوگی۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم کو کس طرح اہتمام کے ساتھ اتارا گیا اس کی شہادتیں نزول قرآن کے وقت اور آج بھی بالکل واضح ہیں کہ یہ وہ کتاب ہے جو تمام کتابوں کی جامع بنا کر سب سے آخر میں خاتم الکتب کی حیثیت سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں دیئے ہوئے نظام زندگی کی حفاظت کی ذمہ داری پروردگار نے خود قبول فرمائی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال گزرنے میں آیا لیکن اس کا ایک شوشہ بھی ادھر سے ادھر نہ ہوسکا جبکہ اتنے عرصے میں دنیا کی کوئی دستاویز اپنی حقیقت پر قائم نہیں رہتی۔ اس کا نزول حضرت جبریلِ امین (علیہ السلام) کے واسطے سے فرشتوں کی حفاظت میں نہایت اہتمام کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کی تعلیمات میں قیامت تک کے لیے کسی ترمیم اور تبدیلی کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ انسانی احساسات اور انفعالات میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن قرآن کریم کی تعلیمات ہر دور کے لیے قابل عمل ٹھہرائی گئی ہیں۔ اسے جب بھی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں من وعن نافذ کیا گیا ہے تو دنیا نے نہ صرف اپنے ہر مسئلے کو حل ہوتے ہوئے دیکھا بلکہ اس کی برکات بھی بچشم سر مشاہدہ کیں۔ یہ کتاب امیوں میں نازل ہوئی، لیکن اس نے انھیں امیوں کو دنیا کا معلم اور مربی بنادیا۔ اور تاریخ اس سے انکار نہیں کرسکتی کہ عہدنبوت اور عہدخلافتِ راشدہ ہر لحاظ سے بےمثال اور بےنظیر ادوار تھے اور وہاں کے رہنے والوں کو اس طرح کی آسودہ زندگی نصیب ہوئی تھی کہ ان کی دنیا جنت کا نمونہ بن گئی تھی اور وہ لوگ جو کل تک بہیمیت اور درندگی کی تصویر تھے اس انسانیت کا پیکر بنے جس پر آج بھی فخر کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کتاب کو اس قدر اہتمام سے نازل کیا گیا ہے اس کا نازل کرنے والا اس کتاب کے انکار اور اس کی اندھی مخالفت اور اس کے مقابلے میں توہین آمیز رویئے کو کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ چناچہ اس آیت میں مخالفین کے لیے تنبیہ بھی ہے کہ تم اس کتاب کی مخالفت کرتے ہوئے یہ ضرور سوچ لینا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ 2 دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جس ذات والا تبار نے اس کتاب کو نازل کیا ہے وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی۔ اس کی رحمت دنیا اور آخرت پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نزول درحقیقت اس کی رحمت کا اظہار ہے۔ چناچہ جو شخص اس کا انکار کرتا اور اس کی مخالفت کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ سے دشمنی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنے آپ کو محروم کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کو بھی سمجھنے سے انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جس طرح تخلیق اور ربوبیت کے عمل میں کارفرما ہے، اسی طرح اس کا تقاضا یہ بھی تھا کہ انسان زندگی گزارتے ہوئے تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں نہ مارے بلکہ اسے رہنمائی کا وہ نور نصیب ہو جس کی روشنی میں اس کا گھر حقیقت میں حقوق و فرائض کی ادائیگی کا مرکز ہو، جس میں والدین کی شفقت بھی ہو اور بچوں کی اطاعت بھی۔ اور جس کا معاشرہ ایک دوسرے سے بیگانگی نہیں بلکہ محبت اور مروت کی تصویر ہو، جس کا ہر گھر اپنے ہمسائے کے بارے میں فکرمند ہو، ہر شخص اپنے حقوق کے لیے کم اور دوسرے کے لیے زیادہ پریشان ہو، جو زندگی کے ہر مرحلے میں چاہے وہ مرحلہ عبادت کا ہو یا معاشرت کا، معیشت کا ہو یا سیاست کا، حکومت کا ہو یا عدل اجتماعی کا، وہ اس بات کو کبھی نہ بھولے کہ مجھے جو کتاب دی گئی ہے اس میں کتاب نازل کرنے والے نے اپنے فضل و کرم سے ہر مرحلے کے بارے میں ہدایات دی ہیں اور وہ مسلسل مجھے دیکھ رہا ہے کہ میں ان ہدایات پر عمل کرتا ہوں یا انھیں نظرانداز کرتا ہوں اور ایک دن ایسا آئے گا جب اسی کے حوالے سے مجھ سے بازپرس ہوگی اور جزاء و سزا سے مجھے واسطہ پڑے گا۔ اندازہ فرمایئے کہ اس شخص سے بڑھ کر ناشکرا اور اپنا دشمن کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ 3 تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی تفصیل بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، اس کی کوئی نصیحت الجھی ہوئی نہیں، اس کے آئین و قانون کی دفعات باہم متصادم نہیں، اور اس کا کوئی حکم ایسا نہیں جسے انسان سمجھ نہ سکتا ہو، اس میں حق بھی واضح ہے اور باطل بھی۔ عقائد کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور اخلاق کی ایک ایک تفصیل دی گئی ہے۔ فضائلِ اخلاق بھی ذکر کیے گئے ہیں اور رزائل کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ نیکی اور بدی کی پہچان بتادی گئی ہے، خیروفلاح کے راستے نمایاں کردیئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے کوئی شخص اس کتاب کو پڑھنے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کتاب سے یہ نہیں سمجھ سکتا کہ زندگی کا صحیح رویہ کیا ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جس کے بارے میں قیامت کے روز مجھ سے بازپرس ہوگی۔ 4 جو لوگ اس کتاب کے اولین مخاطب تھے اور جنھیں سب سے پہلے امت اجابت ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ اہل عرب تھے، ان کی زبان عربی تھی۔ اس لیے اسے عربی زبان میں اتارا گیا تاکہ اس کتاب کے سمجھنے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ کیونکہ اگر یہ قرآن کسی غیرزبان میں آتا تو اہل عرب یہ عذر پیش کرسکتے تھے کہ ہم تو اس زبان ہی سے ناواقف ہیں جس میں قرآن اتارا گیا ہے۔ چناچہ آگے اسی سورة میں قرآن کریم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے وَلَوْجَعَلْنَاہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًا لَقَالُوْا لَوْلاَ فُصِّلَتْ آیٰـاتُـہٗ ئَ اَعَجَمِیٌ وَّ عَرَبِیٌ (سورۃ : فصلت، آیت 44) ” اگر ہم اس کو عجمی قرآن کی صورت میں اتارتے تو یہ لوگ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتیں ہمارے لیے اچھی طرح کھولی کیوں نہ گئیں، کیا کلام عجمی اور مخاطب عربی۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں اتار کر اس طرح کے ہر اعتراض کو ختم کردیا اور اس کی تعلیمات کو انسانوں کے لیے آسان کردیا۔ 5 پانچویں بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب بشارت دینے والی اور ڈرانے والی ہے۔ یعنی لوگ محض اسے ایک فلسفہ یا ایک نصیحت نہ سمجھیں کہ جس کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ اس کتاب کی حیثیت یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور عمل کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں کامیابیوں کی بشارت دیتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ ان کو پوری طرح خبردار کرتی ہے کہ انکار کا نتیجہ دنیا میں بھی برا ہوگا اور آخرت میں بھی نہایت تباہ کن ہوگا۔ دنیا میں اس کے انکار کرنے والے اس کی افادیت اور اس کی برکات سے محروم رہیں گے اور ان کی زندگیاں دکھوں میں گزریں گی اور آخرت میں وہ جہنم کی نذر کردیئے جائیں گے۔ 6 چھٹی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے خیروبرکت کا باعث ہے جو اس کتاب کا علم رکھتے ہیں اور جو اس سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس نے انسانی زندگی کے ہر مرحلے کے لیے کیا ہدایات دی ہیں۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم بھی لیا ہے کہ یہاں یعلمون کا فعل، فعل کے معنی میں نہیں بلکہ ارادہ فعل کے معنی میں آیا ہے، اور یہ اسلوب عربی زبان میں شائع و ذائع ہے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قرآن کریم سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو اس کو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو جاننے کی خواہش ہی سے محروم ہیں وہ اس کتاب سے صحیح معنی میں استفادہ نہیں کرسکتے۔ اس طرح سے عربوں کے لیے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ وہ آج تک اُمِی رہے ہیں، لیکن اب انھیں اللہ تعالیٰ علم کی دنیا کا امام بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے انھیں دوسروں سے بڑھ کر جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہیے۔ آخر میں فرمایا کہ اس کا کیا کیا جائے کہ اکثر لوگوں نے قرآن پاک کی یہ اہمیت اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ انھوں نے اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اس سے اعراض کر رکھا ہے اور وہ اس کو سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ سمجھنے کا دارومدار تو سننے پر ہوتا ہے جب آدمی کسی نصیحت کو سننے سے بھی انکار کردے تو اس کے ماننے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ اس کے سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں کہ یہ کسی واعظ کا وعظ نہیں، بلکہ یہ خدائی انذار ہے، اس سے اعراض انھیں بہت مہنگا پڑے گا۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں ہمارے دل اوٹ میں ہیں، ان باتوں سے جن کی آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں، ہمارے کان اس چیز سے بہرے ہیں (جو آپ ہمیں سنا رہے ہیں) اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب حائل ہے، پس آپ اپنا کام کیجیے، ہم اپنا کام کیے جائیں گے

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَـآ اِلَیْہِ وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌوَّمِنْ م بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّـنَا عٰمِلُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 5) (اور وہ کہتے ہیں ہمارے دل اوٹ میں ہیں، ان باتوں سے جن کی آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں، ہمارے کان اس چیز سے بہرے ہیں (جو آپ ہمیں سنا رہے ہیں) اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب حائل ہے، پس آپ اپنا کام کیجیے، ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔ ) اعراض کی تفصیل اوپر کی آیت میں جس اعراض کا ذکر ہے اس آیت میں اس کی تفصیل ہے۔ یعنی ان کا اعراض صرف انکار کی حد تک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر بن کر آئی ہے اس سے انھیں ایسا بعد پیدا ہوگیا ہے جس نے ایک نفرت کی صورت اختیار کرلی ہے اور انھیں اس کے اظہار میں کوئی شرم مانع نہیں ہوتی۔ وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ آپ جن باتوں کی ہمیں دعوت دے رہے ہیں وہ ہمارے دلوں میں نہیں اترتی۔ یہ تقریباً وہی بات ہے جو یہود کہتے تھے وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ۔ یعنی ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں اور آپ کی کوئی بات ہمارے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی طرح ہمارے کانوں میں ڈاٹ اور بوجھ ہے یعنی ہم بہرے ہوگئے ہیں، اس لیے آپ کی کوئی صدا ہمارے کانوں سے گزر نہیں سکتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان عقائد و نظریات اور مسلک و مذہب کے اختلاف کی ایک ایسی دیوار حائل ہوگئی ہے کہ اب ہمارے مل سکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس جدائی اور نفرت کی موجودگی میں بس ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ آپ کو چونکہ اپنے دین کی تبلیغ و دعوت پر اصرار ہے اور آپ اسے ایک فریضہ سمجھ کر بہرصورت ادا کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنا کام کرتے رہئے، لیکن یہ یاد رکھئے کہ ہم نے آج تک آپ کی اس دعوت کو روکنے کی کوشش کی ہے اور پورا جتن کیا ہے کہ کسی طرح آپ کی دعوت ہمارے معاشرے کو مسموم نہ کرنے پائے، تو ہم بھی اپنی اس مخالفت کو نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اس میں مزید تیزی پیدا کریں گے کیونکہ ہمارے درمیان اس قدر مغائرت ہوگئی ہے کہ مفاہمت کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور ہم نے ہراساں کرنے کے تمام وسائل آزما لیے ہیں لیکن آپ اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، تو اب اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ : سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا کیے جاؤ مے خوارو کام اپنا اپنا
Ayahs 41:6–7

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں، مجھ پر یہ بات وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود تو بس ایک ہی معبود ہے، پس تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے مغفرت مانگو اور تباہی ہے مشرکوں کے لیے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہی آخرت کا انکار کرنے والے ہیں

قُلْ اِنَّمَـآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْـلُـکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ ط وَوَیْلٌ لِّـلْمُشْرِکِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 6، 7) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں، مجھ پر یہ بات وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود تو بس ایک ہی معبود ہے، پس تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے مغفرت مانگو اور تباہی ہے مشرکوں کے لیے۔ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہی آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ ) راہ ِہدایت کے موانع کا دور کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے گزشتہ آیت میں کفار نے اپنے اعراض کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں یعنی نہ ہم تمہاری بات پر غور کرسکتے ہیں اور نہ اسے سن سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے اب ہمارے مل بیٹھنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔ اس کے جواب میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ سے کہلوایا ہے کہ تمہارے دلوں کے یہ پردے اور تمہارے کانوں کی گراں گوشی اور تمہارے یہ حجاب ان کا دور کرنا میرے بس میں نہیں۔ انھیں تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دور کرسکتا ہے۔ میں تو تمہاری طرح ایک انسان ہوں، میں اسے سنا سکتا ہوں جو سننا چاہے اور اسے سمجھا سکتا ہوں جو سمجھنا چاہے۔ البتہ مجھ میں اور تم میں فرق یہ ہے کہ تم جسمِ انسانی کی مانند ہو تو میری حیثیت ایک دیدہ بینا کی ہے۔ وہ دیکھتی ہے تو جسم اس کے پیچھے چلتا ہے۔ اسی طرح مجھ پر وحی اترتی ہے، میں وحی کی رہنمائی کو تمہارے سامنے پیش کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہوں۔ اس وحی کے ذریعے مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے۔ وہی تمہاری عبادت کا سزا وار ہے اور اسی سے تم استمداد کرسکتے ہو۔ اسی سے تمہارے دلوں کی آبادی ہونی چاہیے اور اسی کی بازپرس کا خوف ہر وقت تم پر غالب رہنا چاہیے۔ تم نے اس کے مقابلے میں جو بہت سے شریک بنا رکھے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں۔ کیونکہ نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں، اور نہ کوئی اس جیسے حقوق رکھتا ہے۔ وہ ان تینوں حوالوں سے واحد اور یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ بس تم ہر طرف سے کٹ کر اور یکسو ہو کر اسی رب حقیقی کی طرف رجوع کرو، اسی کی بندگی اور پرستش کرو، اسی کے آگے سرتسلیم و اطاعت خم کردو، اس کی شریعت کو واجب الاطاعت سمجھو، اور اس کے عطا کردہ قانون کو حرف آخر جانو۔ اور اب تک تم جو شرک میں آلودہ رہے ہو اور اب تک جو اس کی نافرمانی کرتے رہے ہو اس سے اس کی بخشش مانگو۔ اور یاد رکھو کہ کفر اور شرک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اس لیے شرک کرنے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ زکوٰۃ کا مفہوم دوسری آیت میں فرمایا کہ شرک نے مشرکین میں جو برا کردار پیدا کیا ہے ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ شرک کی وجہ سے جس طرح اپنے رب حقیقی سے کٹ گئے اسی طرح وہ بندوں کے حقوق سے بھی تہی دامن ہوگئے اور انسانوں کی خدمت کا کوئی جذبہ ان میں باقی نہ رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ زکوٰۃ کے معنی و مفہوم میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ ابن عباس ( رض) اور ان کے بعض شاگردوں کا کہنا یہ ہے کہ اس مقام پر زکوٰۃ سے مراد اصطلاحی زکوٰۃ نہیں بلکہ وہ پاکیزگیِ نفس ہے جو توحید کے عقیدے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ” تباہی ہے ان مشرکین کے لیے جو پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔ “ مفسرین کا دوسرا گروہ جن میں حضرت قتادہ ( رض) اور حضرت حسن بصری ( رح) جیسے لوگ شامل ہیں اس لفظ کو یہاں بھی زکوٰۃ ہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ لیکن زیادہ راجح یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ چونکہ مکی سورة ہے اور مکہ معظمہ میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ زکوٰۃ بھی اسی کی ایک باضابطہ متعین شکل ہے جو مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ لیکن مکہ مکرمہ میں اسے انفاق فی سبیل اللہ کے معنی میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چناچہ یہی معنی اس آیت میں بھی مراد ہے۔ شرک اور بدعملی کا سبب انکارِآخرت ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ تعالیٰ کے بندوں پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہ درحقیقت وہ لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہیں۔ چونکہ اس جملے میں مبتدا کے اعادہ سے حصرکا مضمون پیدا ہوگیا ہے اس لحاظ سے اس جملے کا معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ اپنے اللہ سے بھی کٹ جائیں اور بندوں سے بھی، وہ بیشک زبان سے آخرت کا انکار نہ بھی کریں جب بھی یہی لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہیں۔ کیونکہ جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق کے بارے میں جواب دہی سے بےفکر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح یہ ممکن نہیں کہ اسے حقوق العباد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں ہونے والی بازپرس کی کوئی پرواہ نہ ہو۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 8) (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ ) ایمان و عمل کے حاملین کے لیے بشارت مشرکین کی تباہی و بربادی کا ذکر کرنے کے بعد ایمان و عمل کے حامل لوگوں کو بشارت سنائی گئی ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے شرک کی ہر آلودگی سے بچیں گے اور اللہ تعالیٰ کی غیرمشروط اطاعت میں حتی الامکان کوئی کمی نہیں کریں گے اور ہر معاملے میں اخلاص اور استقامت کا ثبوت دیں گے، انھیں یقینا اللہ تعالیٰ ایسے اجر اور صلے سے نوازیں گے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اگرچہ غیرممنون کے معنی اور بھی آتے ہیں لیکن یہاں اس کا یہی معنی ہے جس کی تائید قرآن کے دوسرے نظائر سے بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں اسی مضمون کے لیے عَطَائً غَیْرَمَجْذُوْذٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس کے معنی ہیں ” ایسی بخشش جس کا صلہ کبھی منقطع نہ ہو۔ “
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ کیا تم اس ہستی سے کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، وہی تو تمام عالم کا رب ہے

قُلْ اَئِنَّکُمْ لَـتَـکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَـہُٓ اَنْدَادًا ط ذَلِکَ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 9) (اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ کیا تم اس ہستی سے کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، وہی تو تمام عالم کا رب ہے۔ ) فکری تضاد کفر کا سبب ہے گزشتہ آیات میں مشرکین کے تمام تر مطالبات اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں ان کی ہٹ دھرمیوں اور لن ترانیوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں، میں نہ تمہارے مطالبات کو پورا کرسکتا ہوں اور نہ تمہارے اعذار کو ختم کرسکتا ہوں۔ میں تو تمہاری زندگی درست نہج پر چلانے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمہارے ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے کے لیے آیا ہوں۔ چناچہ اس سلسلے میں مجھ پر جو وحی کی جارہی ہے اس میں پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی اور اِلٰہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرلینے کے بعد اصلاح کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ لیکن تمہاری عجیب حالت ہے کہ ایک طرف تو تم اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات تسلیم کرتے ہو۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ تم اس کے ساتھ بتوں، فرشتوں، دیویوں اور دیوتائوں کو اس کا شریک بھی بنانے لگتے ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں اپنے اعتقاد کی حقیقت سے ناواقف ہو اور یا یہ ہے کہ تم کہنے کو بعض اعتقادات کا دعویٰ کرتے ہو، لیکن حقیقت میں تمہارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ تم جسے خالق کائنات تسلیم کرتے ہو اس کی صفات میں دوسروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہو، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نظام کائنات چلانے میں دوسروں کی مدد کا محتاج ہے۔ اس لیے اس نے بہت سے کام دوسروں کے سپرد کر رکھے ہیں۔ چناچہ مشرکین کے اس رویئے کی اصلاح کے لیے دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات کا اعتراف کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ جس طرح اپنی ذات میں تنہا ہے اسی طرح اپنی صفات اور اپنے حقوق میں بھی وحدہ لاشریک ہے۔ جو اسے اپنا اِلٰہ مانتا ہے اور پھر اس کی صفات اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک بھی کرتا ہے یہ اپنے آپ کو یا دوسروں کو فریب دیتا ہے۔ کسی جاگیردار کی ملکیت میں کسی دوسرے کی شرکت جاگیردار کا انکار کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔ کسی ملک کے حکمران کی حکومت میں دوسروں کی حاکمیت حکمران کی حکمرانی کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتی ہے۔ جو شخص بھی ایسا کرتا ہے اس پر بغاوت کا مقدمہ قائم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات اور احکم الحاکمین ہے اس کی ذات، صفات یا حقوق میں کسی کو بھی شریک ٹھہرانا درحقیقت اس کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ تم جب دوسروں کو اس کا شریک اور ہمسر ٹھہراتے ہو تو اس طرح سے تم صرف شرک کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ کفر کا ارتکاب کرتے ہو۔ سُوْرَۃُ الْـکٰفِرُوْنَ میں جن مشرکین نے مفاہمت کے لیے حضور ﷺ کے سامنے چند تجاویز رکھی تھیں جن میں بنیادی بات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کی شرکت کو گوارا کرنا تھا قرآن کریم نے انھیں اے کافرو ! کہہ کر خطاب فرمایا، کہ شرک دراصل کفر ہی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے : باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول یا دوسرے لفظوں میں : سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے ہو، ان میں کسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ زمین کی مٹی بنا سکیں یا زمین پر ایک پودا اگا سکیں یا زمینی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کا ایک بال بھی پیدا کرسکیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت یہ ہے کہ اس نے اس زمین کو دو دنوں میں تخلیق کر ڈالا۔ تم ذرا یہ بتائو کہ تم نے جن قوتوں کو اس کا شریک بنا ڈالا ہے کیا زمین کی تخلیق کے عمل میں وہ اس کے ساتھ شریک تھیں ؟ کیا زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ تو پھر آخر تم نے انھیں اللہ تعالیٰ کا ہمسر کیونکر بنا ڈالا ہے۔ ایک ایسی ذات جو ایسی صفات کی مالک ہے جن میں سے ہر صفت بےمثال اور بےنظیر ہے اور کسی مخلوق کا ویسی صفات کے حامل ہونے کا تصور کرنا بھی جہالت ہے۔ تو پھر کیا ایسی ذات کو رب العالمین کہنے کی بجائے دوسروں کو اس میں شریک مانا جائے، تو یہ اگر کفر نہیں تو اور کیا ہے ؟ آیتِ کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دنوں میں پیدا فرمایا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اس سے ہمارے دو دن مراد ہیں، یعنی 48 گھنٹے۔ بلکہ اس سے مراد خدائی دن ہیں، جسے قرآن کریم نے ایک دن کو ایک ہزار سال کے برابر اور بعض صورتوں میں پچاس ہزار کے برابر قرار دیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہاں دنوں کو ادوار کے مفہوم میں لیا جائے، جس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو مرحلوں میں یا دو ادوار میں پیدا فرمایا۔ یعنی اس کی تخلیق مکمل فرمائی۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس نے اس زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں غذائی ذخیرے رکھے، سب ضرورتمندوں کے لیے یکساں طور پر، یہ سب کام چار دن میں ہوگئے

وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبٰـرَکَ فِیْھَا وَقَدَّرَ فِیْھَـآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَ یَّامٍ ط سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 10) (اور اس نے اس زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں غذائی ذخیرے رکھے، سب ضرورتمندوں کے لیے یکساں طور پر، یہ سب کام چار دن میں ہوگئے۔ ) اللہ تعالیٰ کی صفات سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر استدلال پیشِ نظر آیت کریمہ میں زمین کی اندرونی تخلیق کی کچھ تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں جن میں سب سے پہلی بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جب زمین کو بچھا دیا گیا تو وہ چپٹی ہونے کی وجہ سے ایک فرش کی طرح بچھی ہوئی نہیں تھی بلکہ اس میں اس بات کا امکان تھا کہ کسی بھی حادثے سے وہ کسی طرف لڑھک سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اس پر بسنے والے ممالک خطرے کی زد میں آجاتے۔ تو وہ زمین جو انسان کے لیے آغوش مادر کی طرح آرام پہنچانے والی ہے وہ خطرے کی علامت بن جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطرے سے بچانے کے لیے اس کے اوپر پہاڑ جما دیئے۔ اور انھیں اس حکمت کے ساتھ ایسی جگہوں میں جمایا گیا ہے جن کی وجہ سے زمین میں توازن پیدا ہوگیا ہے۔ اب کسی حادثے کی وجہ سے زمین اس وقت تک کسی طرف لڑھک نہیں سکتی، جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو۔ اور مزید یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان پہاڑوں کو زمین کے اندر سے اگایا نہیں گیا بلکہ اوپر سے جمایا اور گاڑا گیا ہے۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں ہیں جو زمین پر بسنے والے انسانوں کو دور سے دکھائی دیتی ہیں۔ پہاڑوں کا قد و قامت، ان کا استقلال، ان کی ضخامت اور ان کی سنگینی انسان کے لیے آج تک حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اور یہ حیرت مزید حیرت میں ڈوب جاتی ہے جب ان پہاڑوں کے اندر سے عجیب و غریب خزانے نکلنے لگتے ہیں۔ ان کی سنگینی کے باوجود ان کے اندر سے چشمے ابلتے اور آبشاریں گرتی ہیں۔ جو شخص بھی ان پہاڑوں کی ہیئت، افادیت اور عظمت پر نظر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اس کا دل بار بار اس کی کبریائی اور عظمت کے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر جب وہ زمین کو دیکھتا ہے جو بظاہر مٹی کا ایک تودہ ہے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں کیسی کیسی برکتیں رکھی ہیں۔ اس کے اندر بےپناہ روئیدگی کے خزانے ہیں جو خوردبینی کیڑوں سے لے کر زمین پر بسنے والی بیشمار مخلوقات کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں۔ کیسی کیسی نباتات اگتی ہیں اور کیسے کیسے پھل اور پھول انسان کے ذوق کی تسکین کا کام دیتے ہیں۔ اور دوسری مخلوقات کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔ انسان ایک دانہ بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اس کا حاصل اسے واپس کرتی ہے۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور زمین درخت کی شکل میں اس کا حاصل اسے واپس کرتی ہے جس پر سینکڑوں پھل لہلہاتے ہیں اور ایک مدت دراز تک لگانے والا ہی نہیں اس کے اخلاف بھی اسے کھاتے ہیں۔ زمین کی برکت کا حال تو یہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعے سے اس کے جتنے پرت الٹتا جاتا ہے اتنے ہی اس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان کی سائنس تھک جائے گی، لیکن زمین کے خزانے کم نہیں ہوں گے۔ آیت میں مزید فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری میدانوں اور پہاڑوں میں مخلوقات کی بیشمار انواع پیدا کی ہیں اور نباتات کی اَن گنت قسمیں پہاڑوں اور بحروبر میں پھیلا دی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کی غذائی ضروریات فراہم نہ کی گئی ہوں، جبکہ ہر مخلوق کی غذائی ضرورت دوسری جنس کی مخلوق سے الگ ہے، لیکن کسی کو شکایت کا موقع نہیں کہ جیسی غذا مجھے ملنی چاہیے تھی ویسی مہیا نہیں کی گئی۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، زمین کی تہوں میں اور سمندروں کی تاریکیوں میں بیشمار مخلوقات پیدا کی گئی ہیں اور ان کے ذوق کے مطابق انھیں غذا بہم پہنچائی گئی ہے۔ ایک بکری گھاس کھا کر زندہ رہتی ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے گھاس پیدا کی۔ ایک شیر گوشت سے زندہ رہتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے شکار کے اسلحہ بھی دیئے ہیں اور شکار کے لیے جانور بھی پیدا کیے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مخلوقات کی اجناس اور ان میں تنوع انسان کے لیے حیران کن ہی نہیں بلکہ اس کی تحقیق کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ اسی طرح اس سے بھی بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے کہ پتھروں کے نیچے رہنے والی مخلوقات اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسنے والی مخلوقات اور سمندر کی تہوں میں زندہ رہنے والے جانور ہر ایک کو ان کے ذوق کے مطابق ایسی فراوانی سے غذا پہنچ رہی ہے کہ جس کا امکان اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سوا اور کسی کے بس میں نہیں۔ اور ان میں سے ہر مخلوق آیت میں مذکور لفظ ” سائلین “ میں شامل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کا چاہے ہماری نگاہ میں وہ کتنی حقیر کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی رزاقی پر یکساں حق ہے۔ جس طرح انسان کو بھوکا رکھنا اس کے ساتھ ظلم ہے، اسی طرح سانپوں اور بچھوئوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی قدرت خداوندی کبھی بھوکا نہیں رکھتی، اور انھیں بھی غذا بہم پہنچائی جارہی ہے۔ اس حق کی یکسانی کو یہاں سوائ کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ رحم کرے ہمارے تصوراشتراکیت سے مسموم ذہنوں پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کو صرف انسان تک محدود سمجھ کر سائلین کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ اور پھر سواء کا ترجمہ برابر کرنے کے بعد قرآنیِ نظام ربوبیت کے نام سے اشتراکیت کا جواز پیدا کرتے ہیں جس کا اس آیت سے کم از کم دور کا بھی تعلق نہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زمین کی تخلیق، اس میں پہاڑ گاڑنے اور غذائی ذخیرے مختلف مخلوقات کی مناسبت سے زمین میں رکھنے جیسے تمام امور کے لیے سب ملا کر چار دن صرف ہوئے۔ یعنی اس میں زمین کی تخلیق کے دو دن بھی شامل ہیں اور باقی کاموں کے بھی۔ یعنی یہ پورا کام چار دنوں میں اختتام کو پہنچا۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ محض دھواں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعاً یا کرہاً ، دونوں نے کہا، ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح

ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَـآئِ وَھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا ط قَالَـتَـآ اَتَیْنَا طَـآئِعِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 11) (پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ محض دھواں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعاً یا کرہاً ، دونوں نے کہا، ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح۔ ) ثُمَّ … جس طرح ترتیبِ زمانی کے لیے آتا ہے، اسی طرح ترتیبِ بیان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ثُمَّ سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین بنائی اور اس کے بعد آسمان بنایا۔ استوائِ شمس سے مراد اسْتَوٰٓی اِلَی الشَّیِ ئٍ کے معنی ہیں، اس کی طرف توجہ کی، اس کا ارادہ کیا، اس کا قصد کیا۔ تخلیقِ زمین کے جن مراحل کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے ان کے بعد آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اور اس وقت وہ دھویں کی شکل میں تھا۔ اور دھویں سے مراد سائنسدانوں کی اصطلاح میں مادے کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں وہ کائنات کی صورت گری سے پہلے ایک بےشکل منتشر الاجزاء غبار کی طرح فضا میں پھیلا ہوا تھا۔ موجودہ زمانے کے سائنسدان اسی کو نبی ولا (Nebula) یا سحابیئے کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا۔ اس لیے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ خام مواد جو آسمان کی تعمیر کے لیے ضروری تھا وہ سب مہیا کیا جاچکا تھا۔ اب صرف اس کی تعمیر اور تشکیل باقی تھی۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ گزشتہ آیت میں تخلیقِ ارض کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ بھی زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ ہو۔ اور جن دو دنوں میں زمین کے ابتدائی مراحل طے ہوئے ہیں انھیں دنوں میں آسمان کا ہیولا بھی تیار کیا گیا ہو۔ چناچہ اب پروردگار نے اس کی تکمیلی شکل کے لیے توجہ فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کا طریق تخلیق اللہ تعالیٰ کے تخلیقی عمل کا یہ طریقہ نہیں کہ پہلے وہ کسی مخلوق کا نقشہ تیار کرے اور پھر اس کے لیے مٹیریل فراہم کرے اور پھر درجہ بدرجہ تشکیلی مراحل طے پائیں۔ اور آخر میں اسے تکمیلی مراحل سے گزارا جائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی عمل کا حال تو یہ ہے کہ وہ جب کسی چیز کو وجود دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کُنْ کہتا ہے، وہ ہوجاتی ہے۔ جسے قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ شَیٔاً اَنْ یَّـقُوْلَ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنَاس لحاظ سے زمین و آسمان دونوں کو ابتدائی مراحل سے گزارنے کے بعد اس نے فرمایا کہ تم دونوں حاضر ہوجاؤ، یعنی وجود میں آجاؤ، مرضی سے یا مجبوراً ۔ انھوں نے سرتسلیم خم کردیا۔ اس صورتحال کو سامنے رکھیں تو یہ بحث غیرمتعلق معلوم ہوتی ہے کہ پہلے زمین وجود میں آئی یا آسمان۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ انسان کی رہائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنایا جس میں زمین کی حیثیت فرش کی ہے، اور آسمان کی چھت کی۔ اس طرح دونوں سے جب ایک مکان تیار ہوگیا تو تب اس میں انسان کو بھیجا گیا اور اسے اپنا خلیفہ بنایا گیا۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم بعض دفعہ آسمان کے حوالے سے کسی تخلیقی عمل کا ذکر کرتا ہے اور کبھی زمین کے حوالے سے۔ تو یہ بلاتشبیہ اس طرح کی بات ہے جیسے کسی بڑی عمارت کی تعمیر ایک ہی وقت میں شروع کی جاتی ہے، لیکن اس کے متعلقات میں سے کبھی کسی کو پہلے شروع کیا جاتا ہے اور کسی کو بعد میں۔ ایک ابھی ناتمام ہوتا ہے کہ دوسرے کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن تکمیل سارے پر اجیکٹ یا پورے مکان کی ایک ساتھ ہوتی ہے۔ اس لیے ان میں سے کسی کو بھی نہ پہلے کہا جاسکتا ہے اور نہ بعد میں۔ اسی طرح پروردگار نے چار دنوں میں زمین و آسمان کے ابتدائی مراحل اور اس میں رکھے جانے والے والے غذائی ذخیروں اور دونوں کے سپرد کیے جانے والے وظائف اور ان کو روبہ عمل لانے والی صلاحیتوں کو عطا فرمانے کے بعد دونوں کی تکمیلی تشکیل کی طرف توجہ فرمائی، اور اپنی سنت کے مطابق انھیں حکم دیا کہ وہ اس طرح وجود میں آجائیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اور ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح فرما دی کہ تمہیں بہرصورت ہماری اطاعت کرنی ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہا کہ ہم رضا مندانہ اطاعت کے لیے حاضر ہیں۔ اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ تمام مخلوقات پر کہیں تکوینی طور پر اور کہیں تشریعی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت لازم ہے۔ تشریعی طور پر جنھیں احکام کا مکلف بنایا گیا ہے ان کے لیے انکار اور نافرمانی کی گنجائش بھی چھوڑی گئی ہے۔ لیکن جنھیں تکوینی اطاعت کا پابند ٹھہرایا گیا ہے ان پر اطاعت کے لیے جبر تو نہیں کیا گیا لیکن ان کے اندر معصیت اور انکار کی خواہش پیدا نہیں کی گئی۔ وہ اپنی جبلت کے تقاضوں سے ہمیشہ اطاعت کی طرف مائل رہتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آدمی کو کھانا کھانے، پانی پینے، حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی کرنے، موسم کی شدت سے بچنے اور اپنے ذوق کی تسکین کا سروسامان کرنے کا پابند نہیں ٹھہرایا گیا، لیکن اس کی فطرت اور جبلت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ان چیزوں کی طرف میلان رکھتا اور پابندی اختیار کرتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہم جن چیزوں کو لایعقل جمادات کا درجہ دیتے ہیں ان کی یہ حیثیت ہماری نسبت سے ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے تعلق کے حوالے سے انھیں لایعقل کہنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سمجھتے، اس کے ارشادات کی تعمیل کرتے اور اپنی جبلت کے مطابق اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے ہیں۔ اسی لیے ارض و سما نے پروردگار سے عرض کیا کہ ہم نیازمندانہ حاضر ہیں اور اطاعتِ امر میں کبھی کمی نہیں کریں گے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

تب اس نے دو دن کے اندر ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرما دیا، اور ہر آسمان میں اس کے فرائض وحی کردیئے، اور ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا اور اس کو خوب محفوظ کردیا، یہ ایک زبردست علیم ہستی کی منصوبہ بندی ہے

فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَھَا ط وَزَیَّـنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ صلے ق وَحِفٰظًا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُالْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 12) (تب اس نے دو دن کے اندر ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرما دیا، اور ہر آسمان میں اس کے فرائض وحی کردیئے، اور ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا اور اس کو خوب محفوظ کردیا، یہ ایک زبردست علیم ہستی کی منصوبہ بندی ہے۔ ) ساتوں آسمانوں کی تکمیل آسمان ابتدائی مراحل سے گزرنے کے بعد دھویں کی شکل میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تکمیلی تشکیل کی طرف توجہ فرمائی تو اس کا ابتدائی ہیولا چونکہ سات آسمانوں کے لیے تھا اور ممکن ہے اس میں زمین کی ابتدائی حالت بھی شامل ہو۔ اس لیے ضمیر کو جمع لایا گیا تاکہ ان سب کی طرف اشارہ ہوسکے۔ چناچہ انھیں سات آسمان بن جانے کا فیصلہ فرما دیا۔ اور ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کے بن جانے کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے کُن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ اور اگر اس جمع کی ضمیر میں اشارہ آسمانوں اور زمین دونوں کی طرف ہو تو پھر سَبْعَ سَمٰوَاتٍسے پوری کائنات مراد ہوگی۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں یعنی پوری کائنات کے بننے کا فیصلہ فرما دیا اور وہ وجود میں آگئی۔ اور پھر ان میں سے ہر آسمان کے کائنات کے مجموعی نظام میں جو فرائض ہیں ان کی طرف ان کی وحی کردی گئی۔ یعنی انھیں بتادیا گیا کہ تمہیں اپنے فرائض کس طرح انجام دینے ہیں، اور وہ فرائض کیا کیا ہے۔ مزید فرمایا گیا کہ یہ آسمانِ دنیا جو اہل زمین کو نظر آتا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے آراستہ فرمایا اور ہم ان ستاروں کو چونکہ چراغوں کی صورت میں دیکھتے ہیں اس لیے فرمایا گیا کہ ان چراغوں سے آسمان کو سجایا گیا۔ اور مزید فرمایا کہ ان ہی چراغوں کے ذریعے اس آسمان کی حفاظت بھی کی گئی۔ اور شیاطین کی دراندازیوں سے محفوظ کردیا گیا۔ حِفٰظًا یہ محذوف فعل کا مصدر ہے جسے تاکید کے لیے لایا گیا۔ یعنی آسمانِ دنیا میں چمکتے ہوئے چراغوں کو دیکھ کر صرف زینت آرائی کا تصور کافی نہیں بلکہ یہ چراغ ان جنات کے لیے جو ممنوعہ علاقوں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں شہاب ثاقب بن کر ان کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ اور قرآن کریم کے دوسرے مواقع پر اس کی تفصیل ہوچکی ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور جو بھی اس تخلیق کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کرے گا اور اس کی تشکیل اور تکمیل کے مراحل کو جاننے کی کوشش کرے گا وہ یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ ایک ایسی ذات کی منصوبہ بندی ہے جو بیک وقت عزیز بھی ہے کہ کوئی چیز اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی اور علیم بھی ہے کہ اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں۔ اس پوری صورتحال کو سامنے رکھ کر ان چار آیتوں میں سے پہلی آیت کے اندازِتخاطب پر غور کیا جائے تو بات بڑی آسانی سے کھل جاتی ہے کہ وہ ذات جو ایسی غالب اور زبردست اور ایسی علم و حکمت والی ہے کہ جس نے نہایت حکیمانہ تدبر اور منصوبہ بندی کے ساتھ کائنات کی تخلیق فرمائی اور تمام مخلوقات کے لیے ربوبیت کا دسترخوان بچھایا اور پھر کائنات کے اہم ستونوں یعنی زمینوں اور آسمانوں کو ان کے فرائض سے اچھی طرح باخبر فرمایا اور انھیں ایک ایسے نظام کا پابند کیا جس میں آج تک خرابی پیدا نہیں ہوسکی اور نہ آئندہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ تو جو لوگ اس کے مقابلے میں دیویوں اور دیوتائوں، اجرامِ فلکی، جنات یا بتوں کو اس کا شریک بناتے ہیں انھیں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں۔ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے کافر ہیں، ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی بعض صفات کا اقرار یا تو فریب خوردگی کا شاخسانہ ہے اور یا فریب دہی کی ایک واردات ہے۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں اسی طرح کے ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے، جیسا عذاب عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُـکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 13) (پس اگر یہ لوگ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں اسی طرح کے ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے، جیسا عذاب عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔ ) قریش کو تنبیہ محدثین نے حضرت جابر ( رض) بن عبداللہ سے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ جب حضور ﷺ عتبہ کے سامنے حم السجدۃ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے، تو عتبہ نے بےاختیار آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اور کہا : ” خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔ “ بعد میں اس نے سردارانِ قریش کے سامنے اپنے اس فعل کی وجہ یہ بیان کی کہ ” کیا آپ لوگ جانتے نہیں کہ محمد ﷺ کی زبان سے جو بات نکلتی ہے پوری ہو کر رہتی ہے، اس لیے میں ڈر گیا کہ کہیں ہم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ “ اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ گزشتہ آیات میں جس طرح کفر اور شرک پر تنقید کی گئی ہے اور قریش مکہ کے رویوں پر دلائل سے رد کیا گیا ہے ان سے کوئی اثر قبول کیے بغیر اگر یہ لوگ اپنے اعراض کے رویئے کو جاری رکھتے ہیں اور اپنے کفر و شرک پر مبنی تصورات کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر انھیں ان قوموں کے انجامِ بد کی خبر دیجیے جنھوں نے بالکل ان کی طرح اعتقادات اختیار کیے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تمام تر کاوشوں کے باوجود کسی طرح بھی اپنے تصورات میں تبدیلی کے لیے تیار نہ ہوئے، بلکہ ہر ممکن کوشش کی کہ رسول کی دعوت کو ناکام کردیا جائے اور اگر ممکن ہو تو اللہ تعالیٰ کے رسول کے قتل سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ تو آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑا۔ اور وہ عذاب ان پر شمال کی طرف سے آنے والی بادتند، ژالہ باری اور ہولناک رعد و برق کا مجموعہ تھا جو ان پر اچانک آیا۔ جس کا نیتجہ یہ ہوا کہ ان قوموں کے ایک ایک فرد کو نہایت ذلت کے ساتھ پامال کردیا گیا۔ ان کی زندگی کی جڑیں کھود ڈالی گئیں اور ایک شخص بھی ان کا نام لیوا باقی نہ رہا۔ اگر قریش نے بھی ان ہی جیسا رویہ اختیار کیے رکھا تو ظاہر ہے کہ یہ اس انجام سے بچ نہیں سکیں گے جس سے وہ قومیں دوچار ہوئیں۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جبکہ آئے ان کے پاس رسول، ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے، یہ دعوت لے کر کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، تو انھوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا، لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو

اِذْ جَآئَ تْہُمُ الرُّسُلُ مِنْ م بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اللّٰہَ ط قَالُوْا لَوْشَآئَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْـتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 14) (جبکہ آئے ان کے پاس رسول، ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے، یہ دعوت لے کر کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، تو انھوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا، لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ ) لفظِ رُسُل کے جمع لانے کا سبب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتا جب تک ان پر اتمامِ حجت نہیں کرلیتا۔ اور اتمامِ حجت کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوتا ہے۔ چناچہ ان قوموں کی طرف جن کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے ایک رسول نہیں آیا بلکہ یکے بعد دیگرے کئی رسول آئے۔ اگرچہ دونوں قوموں کی طرف قرآن کریم نے حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہما السلام) کی بعثت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس آیت میں دو سے زیادہ رسولوں کی تشریف آوری کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں قوموں کی طرف اگرچہ متذکرہ بالا دو ہی رسول آئے لیکن دوسری قوموں کی طرف آنے والے رسولوں کی دعوت بھی ان تک پہنچتی رہی۔ اور رسولوں کی دعوت چونکہ ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو، تو اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کئی رسول ان کے پاس آئے۔ اور پھر ان کی شب و روز تبلیغی کاوشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ وہ ان کے آگے سے آئے اور ان کے پیچھے سے آئے۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے لیے جس طرح کی کاوشیں بھی ممکن ہوسکتی تھیں انھوں نے اس سے دریغ نہیں کیا۔ انھیں سمجھانے میں انھوں نے اپنی جان تک لڑا دی۔ اپنی شخصیتوں کا سارا وزن اس میں جھونک دیا۔ لیکن انھوں نے جواب میں وہی کچھ کہا جو اس سے پہلے قومیں کہتی رہی ہیں۔ ان کی شب و روز کی کاوشوں سے ان پر کوئی اچھا اثر ہونے کی بجائے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوگیا۔ حالانکہ ایک معمولی شخص بھی جب کسی ہمدرد کو حق نصیحت ادا کرتے ہوئے بےحال ہوتے دیکھتا ہے تو وہ یقینا اس کا اثر قبول کرتا ہے۔ لیکن ان قوموں نے کوئی اثر قبول کرنے کی بجائے ان کے قتل کے منصوبے باندھے۔ اور ان کی دعوت کے جواب میں یہ کہا کہ تم تو ہماری طرح انسان اور بشر ہو، نبوت اور رسالت کا مقام بہت بلند ہے اور بشر کا مقام نہایت فروتر۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بشر کو ایسے عظیم منصب پر فائز کردیا جائے۔ اس لیے تمہارا دعویٰ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو واقعی ہماری ہدایت منظور ہوتی اور اس کی نظر میں ہماری موجودہ زندگی کا انداز غلط ہوتا تو وہ ہماری اصلاح کے لیے فرشتوں میں سے کسی کو بھیج دیتا۔ لیکن اس کا فرشتے کو نہ بھیجنا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری موجودہ حالت سے مطمئن ہے۔ اس لیے ہم تمہارے اس دعوے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص پیغام لے کے آئے ہو، اس لیے ہم ہرحال میں تمہارے اس پیغام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ کفار کا یہ کہنا کہ جس چیز کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا سمجھتے تھے اور پھر ان کی بات ماننے سے انکار کرتے تھے، بلکہ یہ اسی طرح کا اندازِبیان ہے جیسے فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اپنے درباریوں سے کہا تھا کہ اِنَّ رَسُوْلَـکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ۔ (الشعراء، آیت : 27) ” یہ رسول صاحب جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔ “
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پس جہاں تک عاد کا تعلق ہے انھوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زورآور ہے، وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے ہیں

فَامَّا عَادٌ فَاسْتَـکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ط اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ھُوَاَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَکَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 15) (پس جہاں تک عاد کا تعلق ہے انھوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زورآور ہے، وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے ہیں۔ ) قومِ عاد اور اس کے رویئے پر تنقید گزشتہ سے پیوستہ آیت میں قریش کو یہ تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر انھوں نے حق سے اعراض کی روش ترک نہ کی اور اپنے کفر و شرک میں بڑھتے چلے گئے تو پھر ان کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو عاد وثمود کا ہوا۔ عاد وثمود کی تاریخ سے اہل عرب عموماً اور قریش خصوصاً بہت حد تک واقف تھے۔ لیکن جس چیز کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے اس کی طرف دھیان بہت کم دیا جاتا تھا۔ اس لیے اس اصل مرض کی نشاندہی پیش نظر آیت میں خاص طور پر فرمائی گئی۔ عاد اور ثمود میں چونکہ قوم عاد کو زمانی تقدم حاصل ہے اس لیے پہلے ان کا ذکر فرمایا کہ ان کا اصل مرض یہ تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو بیش از بیش نعمتیں عطا فرمائی تھیں خوشحالی سے نوازا تھا، ریاستی استحکام بخشا تھا اور دوسری قوموں پر انھیں ہر طرح کا تفوق حاصل تھا، ان پر شکرگزار ہونے کی بجائے انھوں نے ان نعمتوں کو ذاتی استحقاق اور ذاتی کاوشوں کا نتیجہ سمجھ کر تکبر کا شکار ہوگئے۔ دوسروں کو اپنے مقابلے میں حقیر جاننے لگے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر ظلم اور فساد برپا کرنے میں بےدریغ ہوگئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ کوئی قوم مالی اور سیاسی لحاظ سے یا دفاعی نقطہ نگاہ سے ان کی ہمسر نہیں اور یہ طاقت میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں تو ان کی زندگی کی ہر روش میں تکبر نے راہ پا لی۔ صحیح سے صحیح بات کو قبول کرنے میں بھی انھیں صرف اس لیے تأمل ہونے لگا کہ یہ بات دوسروں کی جانب سے کہی جارہی ہے۔ ہر امیر، غریب کو حقیر جاننے لگا، ہر منصب دار اپنے منصب پر اترانے لگا، حتیٰ کہ جب ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ان کی ہدایت کے لیے تشریف لائے تو انھوں نے بجائے ان کی تعلیمات پر غور کرنے کے ان کی غربت اور ناداری کو تمسخر اور انکار کا ہدف بنایا۔ ان کی یہاں بڑی سے بڑی صداقت، مال و زر اور عہدہ و منصب کے ترازو میں تلنے لگی۔ قریش مکہ کی طرح انھوں نے بھی طاقت اور دولت کو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت سمجھا۔ اور اس کی وجہ سے ان کے اندر غیرمعمولی تکبر اور اپنے اندر غیرمعمولی خودسری پیدا ہوگئی۔ اور جب کسی نے ان کی غلطیوں پر انھیں ٹوکا تو بجائے غلطیوں کی اصلاح کے اپنی قوت پر اکڑتے ہوئے اپنی برتری کا اظہار کرنے لگے۔ پروردگار نے ان کی بےبصیرتی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا انھوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے بل بوتے پر جس رسول کی رسالت اور دعوت سے انکار کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مقابلے میں کسی مخلوق کی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ ذات جو ساری کائنات کی خالق ومالک ہے اور جس کے خوان ربوبیت سے تمام مخلوقات فیض پا رہی ہیں کیا ان کی طاقت اس کی طاقت سے بڑھی ہوئی ہے اگر وہ ایسا سوچتے ہیں تو اسے ان کی دماغی خرابی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ چونکہ ان کا تکبر ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر رویئے پر غالب آگیا تھا نہ کوئی سوچ ان کی اس سے مبرا تھی اور نہ کوئی عمل اس سے آزاد تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام رسول کی معرفت ان تک پہنچتے رہے اور یا اللہ تعالیٰ کے رسول نے جن نشانیوں اور معجزات کا اظہار کیا ان کے تکبر اور بڑائی کے مرض نے ان میں سے کسی بات کو بھی انھیں ماننے پر آمادہ نہ ہونے دیا بلکہ وہ ہر بات کا انکار کرتے چلے گئے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔