Ayah 41:34وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَـکَ وَبَیْنَـہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّـہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 34)
(اور نیکی اور بدی برابر نہیں، بدی کو اس نیکی سے ہٹائو جو بہترین ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی دشمنی تھی گویا کہ وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ )
مخالفانہ ماحول میں ایک داعی کا رویہ
اس آیت کریمہ میں انتہائی مخالفانہ ماحول کو بدلنے کی ترکیب بتائی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کہ تم نے جو شمع جلا رکھی ہے جسے کافر ہر ممکن طریقے سے بجھا دینا چاہتے ہیں وہ نیکی کی شمع ہے اور کافروں کی کوششیں اس کے مقابلے میں ایک برائی اور بدی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نیکی کے سلسلے میں دو باتیں ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہئیں۔ ایک تو یہ بات کہ نیکی کو قبول کرنے کے لیے بہت سی نفسانی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہے، بگڑے ہوئے ماحول کا چلن اسے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے جو شخص بھی اس نیکی کا مبلغ بن کر اٹھتا ہے اسے اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ میں ایک طوفان سے لڑنے کے لیے اٹھا ہوں۔ مخالف ہوائیں مجھے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔ لیکن میں چونکہ نیکی کا مبلغ ہوں اس لیے اس کی ضرورت اور اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ میں اس کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کروں۔ اور وہ قیمت یہ ہے کہ برائی میرا راستہ روکنے کے لیے کیسی بھی سر توڑ کوشش کرے میں اس تصور کو کبھی نہ بھولوں کہ نیکی اور بدی برابر نہیں۔ نیکی کو پھیلانے اور عام کرنے کے لیے ان تمام تکالیف کا سامنا کرنا اس راستے کی وہ سنت ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔ اور دوسری یہ بات کہ میں جن لوگوں کو اپنا مخاطب سمجھتا ہوں اور نیکی کی روشنی ان کے دل و دماغ میں اتارنا چاہتا ہوں وہ نفسانی خواہشات، سفلی جذبات اور انفرادی اور اجتماعی مفادات کے بندے اور رسیا لوگ ہیں۔ وہ میری بات کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے مجھے ان کے رویئے پر ہرحال میں صبر کرنا ہے۔ مجھے دلیل کی قوت اور اپنے عمل کی صداقت سے ان پر حق واضح کرنا ہے۔ یہ کام چونکہ بہت مشکل ہے اس لیے مجھے اس راستے میں آنے والی مشکلات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
مخالفانہ ماحول کو بدلنے کے لیے دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین کے دشمن اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو روکنے والے کسی قاعدہ اور قانون کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ نہ انسانی شرافتوں کو مانتے ہیں اور نہ اخلاقی قدروں کو۔ اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا حرکت کو بھی اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ تم ان کے اس رویئے کو کبھی دشمنی پر محمول نہ کرنا۔ ان کی یہ حرکتیں ایسے لوگوں کی حرکتیں ہیں جو دماغی توازن کھو چکے ہوں اور قلبی احساسات سے محروم ہوچکے ہوں۔ ان کے پیش نظر صرف دین کی دعوت کو روکنا ہے اور تمہارے پیش نظر ایک فرض کی انجام دہی اور اس کے لیے ہر ممکن قربانی دینا ہے۔ اس لیے اگر وہ مخالفت میں تمہیں گالی دیں یا تمہارا گریبان پھاڑ دیں یا اس سے بھی قدم آگے بڑھاتے ہوئے کوئی اور نامناسب حرکت کریں تو تمہیں نہ صرف اسے برداشت کرنا ہے بلکہ اس پر دعا دینی ہے۔ اور اگر کبھی موقع ہاتھ آئے تو ان کی زیادتیوں کے جواب میں ان پر احسان کرنا ہے۔ جیسے سیدنا حضرت حسن ( رض) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ جب وہ اپنے مہمانوں کے پاس بیٹھے تھے اور ان کا غلام کھانا لا رہا تھا، وہ گرم شوربے کا لبریز پیالہ لے کر آیا، اس کا پائوں الجھا تو پیالہ اچھل کر سیدنا حسن ( رض) کی کمر پر جا گرا۔ گرم گرم شوربے نے ان کی کھال ادھیڑ ڈالی۔ انھوں نے نہایت غضب ناک ہو کر اپنے غلام کی طرف دیکھا۔ وہ بھی چونکہ خاندانِ نبوت میں پلا بڑھا تھا۔ فوراً اس نے قرآن کریم کی ایک آیت کا ایک جملہ پڑھا والکا ضمین الغیظ ” اللہ کے نیک بندے غصے کو پی جایا کرتے ہیں۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فوراً آنکھیں جھکالیں۔ پھر اس نے اگلا جملہ پڑھا والعافین عن الناس ” وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں۔ “ تو آپ نے کہا جا میں نے تجھے معاف کیا۔ پھر اس نے تیسرا جملہ پڑھا واللہ یحب المحسنین ” اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ اندازہ فرمائیے کہ غلام سے ایک غلطی ہوئی تو آپ نے نہ صرف اس کی غلطی معاف فرمائی بلکہ اس پر احسان کرتے ہوئے اسے آزاد فرما دیا۔ یہاں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ آپ مخالفین کی اذیتوں کے مقابلے میں ان پر احسان کریں، مشکلات میں ان کے کام آئیں، کوئی ضرورت پیدا ہو تو ان کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو آج آپ کے بدترین دشمن ہیں ایک وقت آئے گا کہ وہ آپ کے جگری دوست بن جائیں گے۔ کیونکہ بالعموم جس انسان میں انسانیت مر نہیں گئی وہ نیکی اور برائی کے فرق کو سمجھتا ہے۔ وہ نیکی کا راستہ روکتا ہے لیکن دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہوتا ہے۔ اور اگر اس کی اذیتوں کے مقابلے میں نیکی کرنے والا بدی یا ظلم کا بدلہ لینے کی بجائے احسان و مروت سے کام لے تو کم ہی ایسے بدفطرت لوگ ہوتے ہیں جو اس کے بعد بھی اپنی مخالفت پر جمے رہیں۔
Ayah 41:35وَمَا یُلَقّٰھَـآ اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا ج وَمَا یُلَقّٰھَـآ اِلاَّ ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 35)
(اور یہ بات نہیں ملتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ دولت ہاتھ نہیں آتی مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ )
داعیانہ رویہ بڑے صبر اور نصیب کی بات ہے
جفا کے مقابلے میں دعا اور ظلم کے مقابلے میں احسان کہنے کو تو ایک آسان سی بات ہے مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے بڑا دل گردہ، بڑا عزم، حوصلہ اور بڑی قوت برداشت چاہیے۔ وقتی طور پر ایک آدمی کی برائی کے مقابلے میں خاموش رہنا یا نیکی کا رویہ اختیار کرنا غیرمعمولی بات نہیں۔ لیکن جہاں سالہا سال مخالفین کا رویہ بدلنے نہ پائے اور پھر جیسے ہی انھیں طاقت و اختیارات ملیں تو وہ بالکل بےقابو ہوجائیں، ایسے لوگوں کے ساتھ ہر برائی کے مقابلے میں نیکی کا رویہ اختیار کرنا اور کبھی بھی ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہ آسان کام نہیں۔ یہ وہی شخص کرسکتا ہے جس نے سوچ سمجھ کر صبر کا رویہ اختیار کیا ہو اور وہ یہ فیصلہ کرچکا ہو کہ مجھے صلہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے لینا ہے۔ میں جیسے جیسے صبر دکھائوں گا ویسے ویسے میرے اجروثواب میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بلند مرتبے کا انسان ہو۔ اس کی سوچ بہت بلند، اس کا حوصلہ ناقابلِ شکست اور اس کی نگاہ دنیا کی بجائے ہمیشہ آخرت پر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے ہی لوگ نصیبے والے لوگ ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ( رض) کو کسی شخص نے برا بھلا کہا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اپنے کلام میں سچے ہو اور میں مجرم اور خطار ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے۔ اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرما دے۔ (قرطبی)
Ayah 41:36وَاِمَّا یَنْزَغَنَّـکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 36)
(اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ سے پناہ مانگو، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ )
صاحبِ تفہیم القرآن نے اس پر ایک خوبصورت نوٹ لکھا ہے ہم یہاں اسے نقل کررہے ہیں۔
شیطان کی اکساہٹ کا علاج
شیطان کو سخت تشویش لاحق ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں کمینگی کا مقابلہ شرافت کے ساتھ اور بدی کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک ہی مرتبہ سہی، حق کے لیے لڑنے والوں اور خصوصاً ان کے سربرا آوردہ لوگوں اور سب سے بڑھ کر ان کے رہنما سے کوئی ایسی غلطی کرا دے جس کی بنا پر عامۃ الناس سے یہ کہا جاسکے کہ دیکھئے صاحب، برائی یکطرفہ نہیں ہے، ایک طرف سے اگر گھٹیا حرکتیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف کے لوگ بھی کچھ بہت اونچے درجے کے انسان نہیں، فلاں رکیک حرکت تو آخر انھوں نے بھی کی ہے۔ عامۃ الناس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ٹھیک انصاف کے ساتھ ایک طرف کی زیادتیوں اور دوسری طرف کی جوابی کارروائی کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ وہ جب تک یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ مخالفین ہر طرح کی ذلیل حرکتیں کررہے ہیں مگر یہ لوگ شائستگی و شرافت اور نیکی و راستبازی کے راستے سے ذرا نہیں ہٹتے، اس وقت تک وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کہیں ان کی طرف سے کوئی بیجا حرکت یا ان کے مرتبے سے گری ہوئی حرکت سرزد ہوجائے خواہ وہ کسی بڑی زیادتی کے جواب ہی میں کیوں نہ ہو تو ان کی نگاہ میں دونوں برابر ہوجاتے ہیں اور مخالفین کو بھی ایک سخت بات کا جواب ہزار گالیوں سے دینے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا کہ شیطان کے فریب سے چوکنے رہو، وہ بڑا دردمند و خیرخواہ بن کر تمہیں اشتعال دلائے گا کہ فلاں زیادتی تو ہرگز برداشت نہ کی جانی چاہیے اور فلاں بات کا تو منہ توڑ جواب دیا جانا چاہیے اور اس حملے کے جواب میں تو لڑ جانا چاہیے ورنہ تمہیں بزدل سمجھا جائے گا اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ایسے ہر موقع پر جب تمہیں اپنے اندر اس طرح کا کوئی نامناسب اشتعال محسوس ہو تو خبردار ہوجاؤ کہ یہ شیطان کی اکساہٹ ہے جو غصہ دلا کر تم سے کوئی غلطی کرانا چاہتا ہے اور خبردار ہوجانے کے بعد اس زعم میں نہ مبتلا ہوجاؤ کہ میں اپنے مزاج پر بڑا قابو رکھتا ہوں، شیطان مجھ سے کوئی غلطی نہیں کرا سکتا ہے یہ اپنی قوت فیصلہ اور قوت ارادی کا زعم شیطان کا دوسرا اور زیادہ خطرناک فریب ہوگا۔ اس کی بجائے تم کو خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ وہی توفیق دے اور حفاظت کرے تو آدمی غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔
اس مقام کی بہترین تفسیر وہ واقعہ ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کو بےتحاشا گالیاں دینے لگا۔ حضرت ابوبکر ( رض) خاموشی کے ساتھ اس کی گالیاں سنتے رہے اور نبی کریم ﷺ انھیں دیکھ کر مسکراتے رہے۔ آخرکار جناب صدیق ( رض) کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور انھوں نے بھی جواب میں اسے ایک سخت بات کہہ دی۔ ان کی زبان سے وہ بات نکلتے ہی حضور ﷺ پر شدید انقباض طاری ہوا جو چہرہ مبارک پر نمایاں ہونے لگا اور آپ فوراً اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر ( رض) بھی اٹھ کر آپ کے پیچھے ہولیے اور راستے میں عرض کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے، وہ مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ خاموش مسکراتے رہے، مگر جب میں نے اسے جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے ؟ فرمایا : ” جب تم خاموش تھے، ایک فرشتہ تمہارے ساتھ رہا اور تمہاری طرف سے اس کو جواب دیتا رہا، مگر جب تم بول پڑے تو فرشتے کی جگہ شیطان آگیا، میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ “
Ayah 41:37وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 37)
(اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند، سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا ہے، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ )
توحید کے راستے کی ایک غلط فہمی کا ازالہ
توحید اور اس کے متعلقات کا مضمون جاری تھا کہ درمیان میں ایک تقریب کے تحت چند جملہ ہائے معترضہ پیش آگئے، اب پھر اصل مضمون کو لیا جارہا ہے اور مخاطب عام لوگ ہیں جو توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بارے میں چند غلط فہمیوں کا شکار تھے۔ ان ہی میں سے ایک غلط فہمی یہ تھی کہ کائنات کے بڑے بڑے کُرّے اور اجرامِ فلکی جن کے ساتھ انسانوں کی بہت سی ضرورتیں وابستہ ہیں ان میں قوت و شوکت اور افادیتِ عامہ کو محسوس کرتے ہوئے لوگوں نے یہ تصور باندھ لیا کہ ان کی قوت اور ان کی افادیت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی نمود ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے خاص حیثیت دے رکھی ہے۔ ان کی پوجا پاٹ اور عبادت سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے کیونکہ ان کی عبادت درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہے۔ چناچہ اس تصور کے تحت انھوں نے سورج اور چاند کی پوجا پاٹ اور بندگی شروع کردی تھی۔ چناچہ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی ذات کی نمود نہیں بلکہ اس کی قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں ان پر غور کرنے سے کائنات اور اس کے نظام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے جب تم ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کی نمود سمجھ کر ان کو سجدہ کرتے ہو تو تم درحقیقت مخلوق کو خالق اور عابد کو معبود بنا دیتے ہو۔ ان کی عظمت اور افادیت اپنی جگہ لیکن وہ ان کی ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ سورج اسی کے حکم اور اسی کی عطا سے چمکتا ہے۔ اور چاند اسی کی مہربانیوں سے دمکتا ہے۔ سورج اور چاند کے ذکر سے پہلے رات اور دن کا ذکر درحقیقت ان کی محکومیت اور ان کے مخلوق ہونے کو نمایاں کرتا ہے۔ سورج چھپتا ہے تو رات آجاتی ہے اور چاند نکل آتا ہے۔ اور پھر چاند چھپتا اور سورج نمودار ہوجاتا ہے تو دن آجاتا ہے۔ اور شب و روز کا آنا جانا یہ ہماری روز کی دیکھی بھالی بات ہے۔ تو یہ دو کُرّے جس پابندی کے ساتھ شب و روز کے آنے کا سبب بنتے ہیں کیا ان کے بارے میں اس غلط فہمی کا کوئی جواز ہے کہ وہ خود خدا ہوں یا خدا کا مظہر۔ وہ تو ایسے ہی مجبور اور لاچار بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قانون میں بندھے ہوئے ہیں جیسے کائنات کا گوشہ گوشہ اس کے احکام کا پابند ہے۔ تو جو شخص ان دونوں کو سجدہ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی نشانیوں کو سجدہ کرتا ہے۔ اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا چونکہ حرام ہے اس لیے وہ ایک حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔
عبادت کی نیت سے کسی بھی مخلوق کو سجدہ کرنا ہر شریعت میں حرام رہا ہے۔ البتہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ تعظیم و تکریم کی نیت سے سجدہ پہلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن اب باجماعِ امت سجدہ عبادت کی طرح یہ بھی حرام ہے۔ البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو شخص عبادت کی نیت سے کسی کو سجدہ کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔ اور جس نے محض تعظیم و تکریم کے لیے سجدہ کیا اس کو کافر تو نہ کہیں گے مگر ارتکابِ حرام کا مجرم اور فاسق ضرور کہا جائے گا۔
Ayah 41:38فَاِنِ اسْتَـکْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوْنَ لَـہٗ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَھُمْ لاَ یَسْئَمُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 38)
(پس اگر یہ لوگ تکبر کریں تو جو لوگ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کررہے ہیں اور وہ کبھی نہیں تھکتے۔ )
اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ہے
گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ مشرکینِ مکہ اتنے واضح دلائل کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے باز نہیں آتے اور مخلوقات میں سے بعض کو سجدہ کرتے ہیں اور بجائے آپ کی نصیحتوں پر کان دھرنے کے وہ تکبر کی وجہ سے انھیں سننے کے بھی روادار نہیں تو آپ بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ کائنات کا نظام جن فرشتوں کے ذریعے سے چل رہا ہے وہ شب و روز اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے ہیں اور وہ ہر وقت یہ شہادت دے رہے ہیں کہ ان کا رب ہر طرح کے شرک سے بلند پاک اور منزہ ہے۔ اور پھر یہ ان کی تسبیح وتحمید اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے رہنا کوئی چند دنوں کی بات نہیں وہ تو ہمیشہ اس پر لگے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس بندگی میں وہ کبھی نہیں تھکتے۔
اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ تمام اہل علم کے نزدیک یہاں سجدہ ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ پیش نظر دو آیتوں میں سے کون سی آیت، آیت سجدہ ہے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت علی ( رض) اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) پہلی آیت کے ختم پر سجدہ کرتے تھے۔ یعنی اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ پر۔ اور اسی کو امام مالک نے اختیار فرمایا۔ لیکن حضرت ابن عباس، ابن عمر، سعید بن المسیب، مسروق، قتادہ، حسن بصری اور متعدد دوسرے اکابر وَھُمْ لاَ یَسْئَمُوْنَ پر سجدے کے قائل تھے۔ امام ابوحنیفہ کا قول بھی یہی ہے اور شوافع بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ امام ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اختلاف کی بنا پر احتیاط بھی اسی میں ہے کہ دوسری آیت کے ختم پر سجدہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر سجدہ پہلی آیت سے واجب ہوچکا ہے تو وہ اب ادا ہوجائے گا اور اگر اسی آیت سے واجب ہوا ہے تو اس کا ادا ہونا تو ظاہر ہے۔
Ayah 41:39وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنَّـکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَـآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ ط اِنَّ الَّذِیْْٓ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ط اِنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 39)
(اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی پڑی ہے، پھر جیسے ہی ہم نے اس پر پانی اتارا تو وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے، بیشک جس ذات نے اس کو زندہ کیا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گا، بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ )
توحید اور قیامت پر دلیل
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی توحید پر بھی دلیل ہے اور وقوع قیامت پر بھی۔ اور دلیل میں کاٹ ایسی ہے کہ اَن پڑھ سے اَن پڑھ آدمی کے دل میں بھی اتر جاتی ہے۔ اور پڑھے لکھے آدمی کے خیالات کے شبہات کو کاٹ کے رکھ دیتی ہے۔ اور ایسی عام فہم ہے کہ جو شخص بھی جزیرہ عرب میں رہتا ہے یا اس جیسی سرزمین کے حالات سے واقف ہے وہ بہت دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوگا کہ بعض دفعہ مہینوں اور کبھی سالوں تک بارش برسنے کی نوبت نہیں آتی۔ پانی کے جوہڑ ختم ہوجاتے ہیں، چشمے خشک ہوجاتے ہیں اور کہیں سبزے کی پتی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ زمین پر ایسی مردنی طاری ہوتی ہے کہ ہر طرف موت کا سناٹا چھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں پروردگار کی رحمت جوش میں آتی ہے اور بارش نازل ہوجاتی ہے۔ وہ زمین جس میں زندگی کے آثار گم ہوچکے تھے، اچانک پھبک اٹھتی اور پھول جاتی ہے۔ موت کی جگہ جابجا زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں، سوکھے ہوئے درختوں میں نئی نئی کونپلیں نکل آتی ہیں، جوہڑوں میں پانی بھرنے سے مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ چند ہی دنوں میں زمین مخمل کا لباس پہن لیتی ہے۔ یہ صرف بارش کے چند چھینٹوں سے مردہ زمین کا زندہ ہوجانا کیا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ جو قادرمطلق مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ مردوں کو بھی ازسرنو زندہ کرسکتا ہے، کیونکہ وہ ہر بات پر قادر ہے جس کی قدرت سوکھے درختوں اور مردہ زمین سے اپنا ظہور کرتی ہے آخر وہ مردوں کو زندگی کیوں نہیں عطا کرسکتی۔
Ayah 41:40اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِـنَا لاَ یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا ط اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِعْمَلُوْا مَاشِئْـتُمْ لا اِنَّـہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 40)
(بےشک جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں، بھلا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں ڈالا جائے گا یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن کی حالت میں آئے گا، کیے جاؤ جو چاہو، بیشک وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ )
اس آیت کی تفسیر میں صاحب معارف القرآن نے جو کچھ لکھا ہے ہم اسے افادہ عام کے لیے نقل کررہے ہیں۔
کفر کی ایک خاص قسم الحاد ہے، اس کی تعریف اور احکام
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَااس سے پہلی آیات میں ان منکرینِ توحید و رسالت کو زجروتنبیہ اور ان کے عذاب کا ذکر تھا جو رسالت و توحید کا کھل کر صاف انکار کرتے تھے۔ یہاں سے انکار کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جاتا ہے جس کا نام الحاد ہے۔ لحد اور الحاد کے لغوی معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ قبر کی لحد کو بھی اسی لیے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف مائل ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں آیات قرآنی سے عدول و انحراف کو الحاد کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے اعتبار سے یہ عام ہے صراحۃً کھلے طور پر انکار و انحراف کرے یا تاویلات فاسدہ کے بہانہ سے انحراف کرے۔ لیکن عام طور سے الحاد ایسے انحراف کو کہتے ہیں کہ ظاہر میں تو قرآن اور اس کی آیات پر ایمان و تصدیق کا دعویٰ کرے مگر ان کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن و سنت کی نصوص اور جمہور امت کے خلاف ہوں اور جس سے قرآن کا مقصد ہی الٹ جائے۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے اس آیت کی تفسیر میں الحاد کے معنی یہی منقول ہیں فرمایا الا لحادھو وضع الکلام علٰی غیرموضعہ۔ اور آیت مذکورہ میں ارشاد لاَ یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا بھی اس کا قرینہ ہے کہ الحاد کوئی ایسا کفر ہے جس کو یہ لوگ چھپانا چاہتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہم سے اپنا کفر نہیں چھپا سکتے۔
اور آیت مذکورہ نے صراحۃً یہ بتلا دیا کہ آیات قرآنی سے انکار و انحراف صاف اور کھلے لفظوں میں ہو یا معانی میں تاویلات باطلہ کرکے قرآن کے احکام کو بدلنے کی فکر کرے یہ سب کفروضلال ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ الحاد ایک قسم کا کفر اور نفاق ہے کہ ظاہر میں قرآن اور آیات قرآن کو ماننے کا دعویٰ اور اقرار کرے لیکن آیات قرآنی کے معانی ایسے گھڑے جو دوسری نصوص قرآن و سنت اور اصول اسلام کے منافی ہوں۔ امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا :
کذالک الزنادقۃ الذین یلحدون وقد کانوا یظھرون الاسلام
(ایسے ہی وہ زندیق لوگ ہیں جو الحاد کرتے ہیں اور بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں)
اس سے معلوم ہوا کہ ملحد اور زندیق دونوں ہم معنی ہیں جو ایسے کافر کو کہا جاتا ہے جو ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرے اور حقیقت میں اس کے احکام کی تعمیل سے انحراف کا یہ بہانہ بنائے کہ قرآن کے معانی ہی ایسے گھڑے جو خلاف نصوص و خلاف اجماعِ امت ہوں۔
ایک مغالطہ کا ازالہ
کتب عقائد میں ایک ضابطہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ متاوّل کو کافر نہیں کہنا چاہیے یعنی جو شخص عقائد باطلہ اور کلماتِ کفریہ کو کسی تاویل سے اختیار کرے وہ کافر نہیں۔ لیکن اس ضابطہ کا مفہوم اگر عام لیا جائے کہ کیسے ہی قطعی اور یقینی حکم میں تاویل کرے اور کیسی ہی فاسد تاویل کرے وہ بہرحال کافر نہیں تو اس کا نتیجہ یہ لازم آتا ہے کہ دنیا میں مشرکین، بت پرست اور یہودونصاریٰ میں سے کسی کو بھی کافر نہ کہا جائے کیونکہ بت پرست مشرکین کی تاویل تو قرآن میں مذکور ہے۔ مَانَعْبُدُھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَـآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی یعنی ہم بتوں کی فی نفسہ عبادت نہیں کرتے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سفارش کرکے اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں تو درحقیقت عبادت اللہ ہی کی ہے۔ مگر قرآن نے ان کی اس تاویل کے باوجود انھیں کافر کہا، یہودونصاریٰ کی تاویلیں تو بہت ہی مشہور و معروف ہیں جن کے باوجود قرآن و سنت کی نصوص میں ان کو کافر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ متاول کو کافر نہ کہنے کا مفہوم عام نہیں۔
اسی لیے علماء و فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ تاویل جو تکفیر سے مانع ہوتی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ ضروریاتِ دین میں ان کے مفہوم قطعی کے خلاف نہ ہو۔ ضروریاتِ دین سے مراد وہ احکام و مسائل ہیں جو اسلام اور مسلمانوں میں اتنے متواتر اور مشہور ہوں کہ مسلمانوں کے اَن پڑھ جاہلوں تک کو بھی ان سے واقفیت ہو جیسے پانچ نمازوں کا فرض ہونا۔ صبح کی دو ، ظہر کی چار رکعت کا فرض ہونا۔ رمضان کے روزے فرض ہونا، سود، شراب، خنزیر کا حرام ہونا وغیرہ۔ اگر کوئی شخص ان مسائل سے متعلق آیات قرآن میں ایسی تاویل کرے جس سے مسلمانوں کا متواتر اور مشہور مفہوم الٹ جائے، وہ بلاشبہ باجماع امت کافر ہے، کیونکہ وہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے انکار ہے اور ایمان کی تعریف جمہور امت کے نزدیک یہی ہے کہ :
تَصدیق النّبی صلّی اللّٰہ عَلیہِ وسَلّم فیما علم مجیئہٗ بہِ ضرورۃ۔
(یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرنا ان تمام امور میں جن کا بیان کرنا اور حکم کرنا رسول اللہ ﷺ سے ضرورۃً ثابت ہو یعنی ایسا یقینی ثابت ہو کہ علماء کے سوا عوام بھی اس کو جانتے ہوں۔
اس لیے کفر کی تعریف اس کے بالمقابل یہ ہوگی کہ جن چیزوں کا لانا رسول اللہ ﷺ سے ضروری اور قطعی طور پر ثابت ہو ان میں سے کسی کا انکار کفر ہے۔
تو جو شخص ایسی ضروریاتِ دین میں تاویل کرکے اس حکم کو بدلے وہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کا انکار کرتا ہے۔
اس زمانے میں کفر و الحاد کی گرم بازاری
اس زمانے میں ایک طرف تو دین اور احکام دین سے جہالت اور غفلت انتہا کو پہنچ گئی کہ نئے لکھے پڑھے لوگ بہت سی ضروریاتِ دین سے بھی ناواقف رہتے ہیں۔ دوسری طرف جدید بے خدا تعلیم جس کی بنیاد ہی مادہ پرستی پر ہے۔ کچھ اس کے اثر سے، اس پر مزید یورپ کے مستشرقین کے پھیلائے ہوئے اسلام کے خلاف شبہات و اوہام سے متاثر ہو کر بہت سے ایسے لوگوں نے اسلام اور اصول اسلام پر بحث و گفتگو شروع کردی ہے جن کو اسلام کے اصول و فروغ، قرآن و حدیث کے علوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ انھوں نے اسلام کے متعلق اگر کچھ معلومات بھی حاصل کی ہیں تو اہل یورپ دشمنان اسلام سے حاصل کی ہیں۔ ایسے لوگوں نے قرآن و حدیث کی نصوص قطعیہ ضروریہ میں طرح طرح کی باطل تاویلیں کرکے شریعت اسلام کے متفق علیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت شدہ احکام کی تحریف کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ کھلا کفر ہے تو وہ مشہور ضابطہ کا سہارا لیتے ہیں کہ ہم اس حکم کے منکر تو نہیں بلکہ ایک تاویل کررہے ہیں اس لیے ہم پر یہ کفر عائد نہیں ہوتا۔
اسی لیے وقت کی اہم ضرورت سمجھ کر ہمارے استاد حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ( رح) نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ہے اکفار المحدین والمتأولین فی شی ئٍ من ضروریات الدین۔ اس میں ہر طبقہ ہر مسلک کے علماء و فقہاء کی تصریحات سے ثابت کیا ہے کہ ضروریاتِ دین میں کسی کی تاویل مسموع نہیں اور یہ تاویل ان کی تکفیر سے مانع نہیں۔ یہ کتاب بزبان عربی شائع ہوئی ہے، احقر نے اس کا خلاصہ اردو زبان میں بنام ” کفرواسلام قرآن کی روشنی میں “ شائع کردیا ہے۔ اور احکام القرآن حزب خامس میں اس کا خلاصہ بزبان عربی بیان کردیا ہے اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی ایک تحریر سے نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے فرمایا کہ آیات قرآن میں تاویل باطل جس کو قرآن کی آیت مذکورہ میں الحاد فرمایا ہے اس کی دو قسمیں ہیں اول وہ تاویل باطل جو نصوص قطعیہ متواترہ یا اجماع قطعی کے خلاف ہو وہ تو بلاشبہ کفر ہے۔ دوسری یہ کہ وہ ایسی نصوص کے خلاف ہو جو اگرچہ ظنی ہیں مگر قریب بہ یقین ہیں یا اجماع عرف کے خلاف ہو۔ ایسی تاویل گمراہی اور فسق ہے، کفر نہیں۔ ان دو قسم کی تاویلوں کے علاوہ باقی تاویلات جو قرآن و حدیث کے الفاظ میں مختلف احتمالات ہونے کی بنا پر ہوں وہ تاویل عام فقہاء امت کا میدان اجتہاد ہے جو بتصریح حدیث ہرحال میں باعث اجروثواب ہے۔
Ayahs 41:41–42اِنَّ الَّذْیِنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَـآئَ ھُمْ ج وَاِنَّـہٗ لَـکِتٰبٌ عَزِیْزٌ۔ لاَّیَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ ط تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 41، 42)
(بےشک جن لوگوں نے قرآن کریم کو ماننے سے انکار کیا جب وہ ان کے پاس آگیا، (تو انھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی) بیشک وہ ایک نادر کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ سامنے سے داخل ہوسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ خدائے حکیم وحمید کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ )
قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کے انکار پر اظہارِتعجب
آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین پر ایک طرح سے اتمامِ حجت کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت ان کی دنیا و عقبیٰ سنوارنے کے لیے ان پر نازل فرمائی ہے۔ اور انھوں نے نبی آخرالزماں ﷺ کی اثرآفریں زبان سے اس کی تلاوت بھی سنی۔ اور ان کی دلآویز شخصیت کو اس کی وضاحت کرتے اور اس کا حق ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ لیکن اس کا انکار کرکے انھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی۔ اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اس کتاب کا انکار محض سنی سنائی باتوں پر نہیں کیا بلکہ اس وقت اس کا انکار کیا جب وہ فی الواقع ان کے درمیان پڑھی جارہی تھی، اس کے حقائق واضح کیے جارہے تھے، اس کی فصاحت و بلاغت ان کی زبانوں کو بند کیے دے رہی تھی اور جو شخص بھی ایک دفعہ اسے قبول کرلیتا تھا اس کا ایمان اور استقامت بجائے خود ان کے لیے سوالیہ نشان بن جاتی تھی۔ لیکن بدنصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے کہ انھوں نے پھر بھی اس کا انکار کیا، حالانکہ حقیقت میں وہ کتاب ایک نادر کتاب ہے، ایک زوردار کتاب ہے اور ایک بلند پایہ کتاب ہے۔ اور اس کے حقائق، اس کی تعلیم، اس میں پیش کردہ نظام زندگی اس قدر محفوظ ہے کہ باطل نہ اسے سامنے سے چیلنج کرسکتا ہے اور نہ پس پشت اس پر عیب لگا سکتا ہے۔ زمانے کے ہزاروں انقلابات کے بعد بھی کبھی اس کے بیان کردہ حقائق اور حکمتوں میں کوتاہی یا کمی تلاش نہیں کرسکتا۔ باطل سے مراد شیطان اور شیطانی قوتیں بھی ہیں اور تمام بگڑی ہوئی انسانی قوتیں بھی۔ جو کتاب انسانی فہم و فراست سے اس قدر بلند اور اس کی زندگی کے لیے اتنی بڑی نعمت اور اپنے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے اتنی عظیم ہو۔ کس قدر بدنصیب ہے وہ شخص جو اسے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
قرآن کریم کے نزول سے پہلے جتنی کتابیں بھی اتاری گئی ہیں ان میں سے کسی کتاب کی حفاظت کے بارے میں پروردگار نے کبھی وعدہ نہیں فرمایا۔ کیونکہ پروردگار سے بڑھ کر اس بات کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ بڑی سے بڑی حقیقت بھی فکری ارتقاء کے ساتھ ساتھ اور حالات کے تغیرات کے نتیجے میں کبھی نہ کبھی تبدیلی کا شکار ہوتی ہے۔ اور انسانی حالات کے تقاضے کے طور پر نئے احکام کی ضرورت پڑتی اور تربیت کے نئے انداز اختیار کیے جاتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم واحد کتاب ہے کہ جس کی نہ صرف حفاظت کا وعدہ فرمایا بلکہ اس کے جمع کرنے، اس کے سنانے اور پھر اس کی وضاحت کی ذمہ داری بھی پروردگار نے خود اپنے ذمہ لی۔ سورة القیمۃ کی آیت 16 تا 19 میں یہی بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اور پھر اس کی حفاظت کے اسباب اس طرح فراہم فرمائے کہ جب اس کتاب کو نازل کیا جاتا تو فرشتوں کی فوجیں اس کی حفاظت کے لیے حامل وحی کی ہمرکاب ہوتیں۔ اس طرح شیاطین کی دخل اندازی سے اسے محفوظ کردیا گیا۔ پھر جس عظیم فرشتے کو اس کتاب کا حامل بنایا گیا وہ حضرت جبریلِ امین (علیہ السلام) ہیں جسے قرآن کریم نے ذِی قُوَّۃٍ ، مطاع، قوی، امین اور عندذی العرش مکین قرار دیا ہے۔ اس کی قوتوں کے سامنے یقینا تمام ارواحِ خبیثہ بےبس ہیں۔ پھر اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس ذات عزیز کو منتخب فرمایا گیا وہ نہ صرف خیرالخلائق ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت اور فرشتوں کی تائید ہر وقت اس کے ہمرکاب رہتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان عظیم صحابہ کی معیت عطا فرمائی جن سے زیادہ پاکیزہ صفت، سرفروش، وفاشعار اور اطاعت و اتباع کے پیکر کسی پیغمبر کو نہیں دیئے گئے۔ اور حفاظتِ قرآن کا انھیں ایسا ذوق بخشا گیا کہ جتنا قرآن کریم نازل ہوتا جلیل القدر صحابہ اسے پہلی فرصت میں یاد کرنے کی کوشش کرتے۔ اور پھر پانچ وقت نمازوں میں قرآن کریم کو دہرایا جاتا۔ جہری نمازوں میں آنحضرت ﷺ بعض اوقات لمبی سورتیں تلاوت فرماتے تاکہ صحابہ اپنے حفظ کو تازہ رکھ سکیں۔ جب رمضان المبارک آتا تو آنحضرت ﷺ حضرت جبریل کے ساتھ اس کا مذاکرہ فرماتے اور صحابہ کرام ٹولیوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے مذاکرہ کرتے۔
اور پھر قرآن کریم کو ایسی فصیح وبلیغ زبان میں نازل کیا گیا اور اس میں بیشمار اعجاز کی صورتیں پیدا فرمائی گئیں جن میں سے کسی ایک کا جواب بھی انسانوں کے بس کی بات نہ تھی۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کا اپنا کلام بھی باجودیکہ آپ افصح العرب والعجم ہیں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ مخلوط ہوسکے۔ اور پھر قیامت تک آنے والی امت کے نونہالوں میں حفظ قرآن کی ایسی جوت جگا دی گئی کہ ہر دور میں قرآن کریم کے حفاظ کی تعداد کروڑوں میں شمار کی گئی جنھوں نے اپنی قوت حفظ سے قرآن پاک کی ایسی حفاظت کی کہ دنیا سے اگر پریس ختم بھی ہوجائیں تو قرآن کریم کے مٹ جانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ جو کتاب ان صفات کی حامل ہو اور جسے اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت بخشی ہو اس کا انکار کرنا اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے تو دوسری طرف اپنی دنیا و عقبیٰ سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔
Ayah 41:43مَایُقَالُ لَـکَ اِلاَّ مَاقَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ ط اِنَّ رَبَّـکَ لَذُوْمَغْفِرَۃٍ وَّذُوْعِقَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 43)
(اے پیغمبر ! آپ کو وہی کچھ کہا جارہا ہے جو آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کو کہا گیا ہے، بیشک آپ کا رب بڑی مغفرت والا بھی ہے اور دردناک عذاب دینے والا بھی۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ یہ گمان نہ کریں کہ آپ کی قوم نے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اور نہایت دریدہ دہنی اور سنگدلی کا جو معاملہ آپ کے ساتھ کیا جارہا ہے یہ تاریخِ مذہب میں شاید پہلا واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی طرزعمل اختیار کیا۔ وہ ان کی اصلاح اور بھلائی کے لیے خون کے گھونٹ پی پی کر کوششیں کرتے تھے، لیکن قوم ان کی دعائوں کے جواب میں گالیاں دیتی تھی، ان کے دلائل کو خرافات کہا جاتا تھا اور ان کی غمگساری کی باتوں کو جنون سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ لیکن وہ سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ یہی کچھ آپ کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس لیے اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔
زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے
وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے ظالموں کو پروردگار کھلی چھوٹ دے دیتا ہے اور کبھی انھیں سرزنش نہیں کرتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کی طرف بھی اپنا رسول بھیجتا ہے انھیں تاحدامکان سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے۔ ایمان لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈھیل دیتا ہے۔ لیکن جب ان کے انکار و تمرد کا پیمانہ بھر جاتا ہے اور مہلت کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر ان کی گرفت ہوتی ہے۔ یہ انھیں زیادہ سے زیادہ ڈھیل دینا اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نہایت عفو و درگزر والا اور مغفرت فرمانے والا ہے۔ وہ کسی کے لیے یہ کہنے کا موقع نہیں چھوڑتا کہ ہمیں سزا دینے میں جلدی کی گئی ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام مراعات کے باوجود وہ اپنا رویہ بدلنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے۔ قریش اور ان کے ہم خیال لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جو ڈھیل دے رکھی ہے وہ اس کی اسی عادت کا نتیجہ ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں کہ اگر انھوں نے اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو اللہ تعالیٰ انھیں بدترین سزا دے گا۔ لیکن یہ سزا آخری اور مکمل نہیں ہوگی بلکہ آخری اور مکمل سزا قیامت کے دن ملے گی۔
Ayah 41:44وَلَوْ جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلاَ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُـہٗ ط ئَ اَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ ط قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اَمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَـآئٌ ط وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرٌوَّھُوَ عَلَیْھِمْ عَمًی ط اُوْلٰٓئِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 44)
(اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی۔ کیا کلام عجمی اور مخاطب عربی، آپ کہہ دیجیے یہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں ہدایت اور شفاء ہے۔ اور جو لوگ ایمان نہ لائیں ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے، یہ لوگ دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے۔ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
قرآن کریم کی دعوت کو لوگوں میں بےاثر بنانے کے لیے اشرارِ قریش نے بالعموم یہود کی مدد سے طرح طرح کے اعتراضات اٹھاتے تاکہ انھیں اعتراضات میں الجھا کر عام لوگوں کو قرآن کریم کی دعوت سے اتنا بدگمان کردیا جائے کہ وہ کبھی بھی آنحضرت ﷺ کی طرف متوجہ نہ ہوسکیں۔ ایسے اعتراضات میں سے یہ بھی ایک اعتراض تھا کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو اس میں یقینا کوئی غیرمعمولی بات ہوتی، اور ہر سننے والا اور دیکھنے والا پہلی نظر میں جان لیتا کہ اس قرآن کا پیش کرنے والا یقینا اللہ تعالیٰ کا رسول ہے ورنہ ایسی بات کسی اور سے تو ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ یعنی اگر یہ قرآن نبی کریم ﷺ نے خود نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے تو پھر اسے کسی اور زبان میں نازل ہونا چاہیے۔ جو زبان رسالت کا دعویٰ کرنے والا نہ جانتا ہوتا تو خود بخود یہ بات واضح ہوجاتی کہ جب انھیں یہ زبان سرے سے آتی ہی نہیں تو اس میں کسی کتاب کا پیش کرنا یا کسی ایک سورة کا بھی پڑھ کے سنا دینا یقینا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگا۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور عربی زبان خود محمد ﷺ کی مادری زبان ہے۔ اپنی زبان میں کوئی تقریر کرلینا یا مضمون پیش کردینا کون سی حیران کن بات ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل کرتے تو تم میں سے ہر شخص اعتراض کرتا کہ جس زبان کو ہم نہیں جانتے اس زبان میں وحی کے نازل ہونے کا کیا مطلب ہے۔ کیونکہ اس میں جو کچھ کہا گیا ہے زبان کی اجنبیت کے باعث ہم تو اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یا تو پھر اس کا ترجمہ کیا جاتا اور اس کی ایک ایک بات کی وضاحت کی جاتی، ورنہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جنھیں سنایا جارہا ہے وہ عربی ہیں اور قرآن کریم عجمی زبان میں نازل کیا جارہا ہے۔ یہ بےتکا پن اللہ تعالیٰ کے کلام میں تو کبھی نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ اس طرح کے اعتراضات قریش اور دوسرے لوگوں کے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے بہانے تھے۔ اصل بیماری انھیں یہ ہے کہ وہ کسی قیمت پر ایمان نہیں لانا چاہتے۔ اور انھیں کسی طرح یہ گوارا نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیا جائے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ انھیں یہ بتا دیجیے کہ قرآن کریم ان لوگوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ کسی طور پر بھی ایمان لانا پسند نہیں کرتے۔ وہ اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان کے کان بھی اس کے سننے سے بند ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کانوں میں بوجھ ہے جس نے ان کی قوت سماعت سلب کردی ہے۔ اور ان کی بصارت نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح سے وہ قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا رسول جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھتا ہے اور ان کے سامنے دین کی دعوت پیش کرتا ہے تو چونکہ یہ لوگ کسی طرح بھی قرآن کریم کی ہدایت کو قبول نہیں کرنا چاہتے اس لیے وہ دعوت ان کے لیے ایسی اجنبی ہو کر رہ گئی ہے جیسے کسی شخص کو دور سے پکارا جائے تو ظاہر ہے اسے ایک مجمل سی آواز تو سنائی دے گی لیکن کیا کہا جارہا ہے اس کو وہ نہیں سمجھ سکے گا۔
Ayah 41:45وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبُ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ ط وَلَوْ لاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 45)
(ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا، اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا، بیشک یہ لوگ اس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
ایک اور اعتراض اور اس کا جواب
اس آیت میں بھی کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اعتراض پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات انھیں یہود کی طرف سے سجھائی گئی ہوگی۔ اعتراض یہ ہے کہ قرآن کریم اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ایک عظیم رسول کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے اور ان پر پروردگار نے تورات نازل فرمائی تھی۔ وہ آج بھی یہود کے پاس موجود ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس کتاب کی موجودگی میں آخر نئی کتاب نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مختلف پہلوئوں سے اس کا جواب دیا ہے۔ یہاں ایک نئے پہلو سے اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تورات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کتاب اپنی اصل حالت پر قائم ہے ؟ کیا خود اس کے اسفار میں اس قدر اختلاف اور تناقض پیدا نہیں کردیا گیا کہ اصل بات کو سمجھنا مشکل ہوگیا ہے۔ تورات کے مختلف حصوں میں ایک ہی بات اتنے متضاد طریقوں سے بیان کی گئی ہے کہ اصل حقیقت گم ہو کر رہ گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کی پیشگوئیاں جو تورات میں موجود تھیں یہود نے جس طرح انھیں توڑا اور مروڑا اور ان کی حالت کے بدلنے کی کوشش کی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تورات میں کس حد تک تحریف اور ترمیم کی گئی ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعلق کو مکہ معظمہ سے منقطع کرنے کے لیے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبیح اللہ ہونے سے انکار کے لیے جس طرح جگہوں کے نام بدلے گئے، پہاڑوں کے ناموں کے تلفظ میں تبدیلیاں کی گئیں اسے آج بھی تورات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اور اس پر مزید یہ کہ تورات کو ایسے حوادث سے واسطہ پڑا کہ جس سے اس کی بقاء مخدوش ہو کر رہ گئی۔ ایک سے زیادہ مرتبہ اسے جلایا گیا اور بخت نصر نے صرف ہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجائی بلکہ تورات کو بھی ختم کرنے کی انتہائی کوشش کی اور جہاں بھی اس کا کوئی نسخہ ملا اسے جلا ڈالا۔ اس کے بعد حضرت عزیر (علیہ السلام) نے علماء یہود کی مدد سے تورات کو ازسرنو مرتب کیا اور اہل علم خوب جانتے ہیں کہ وہ مرتب ہونے والی تورات اصل تورات نہیں بلکہ یہود کی تاریخ اور تورات کی بعض آیات کا ایک مرکب ہے جسے عہدعتیق کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ جو شخص بھی تورات کے تناقضات اور تورات کی تاریخ پر نظر رکھتا ہے اس کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ قرآن کریم کے نزول کی ضرورت کیوں تھی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا تھا کہ جب اہل کتاب کی مہربانیوں سے تورات و انجیل بدل ڈالی گئی اور انسانیت اللہ تعالیٰ کی حقیقی رہنمائی سے محروم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت کے تحت اپنی آخری کتاب نازل فرمائی اور اپنے آخری رسول کو مبعوث فرمایا۔
یہود نے تورات کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برستا اور انھیں صفحہ ٔ ہستی سے مٹا دیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ ہر امت کے فیصلہ کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس وجہ سے ان کو بھی مہلت دی گئی۔ اور پھر قدرت نے عبرت کے طور پر آج تک انھیں زندہ رکھا ہے تاکہ لوگ بچشم سر دیکھ سکیں کہ ایسی قوم جو کبھی حامل دعوت امت رہی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کے احسانات بارش کی طرح برستے رہے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کرکے اپنا مقدر کھو دیتی ہے تو اس کے بگاڑ کی صورتیں کیا ہوتی ہیں۔ اور اس کے سیرت و کردار میں وقت کے ساتھ ساتھ کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ آج اگر کوئی اجتماعی زندگی کے مقاصد اور حکمتوں کو جاننے اور عروج وزوال کے فلسفہ کو سمجھنے کے لیے قوم یہود کی تاریخ اور عہد بہ عہد ان کی بدلنے والی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرے تو یہود کا وجود اس کے لیے بسا غنیمت ہے۔
آیت کے آخر میں کفار مکہ کی ذہنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بظاہر آنحضرت ﷺ کی دعوت کی ایک ایک بات کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ ہر بات کا مذاق اڑاتے اور مسلمانوں کو تختہ مشق بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور انھوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو یہاں پنپنے نہیں دیں گے۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف ان کا ذاتی مفاد، ان کے نفس کی خواہشات اور ان کے جاہلانہ تعصبات انھیں اکساتے ہیں کہ تم اسلام کی دعوت کو جمنے اور آگے بڑھنے کا موقع نہ دو اور دوسری طرف ان کی ذہنی کیفیت یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت، آپ کے بےعیب کردار، حق پر آپ کی استقامت اور ان کی تمام دنیوی پیشکشوں سے آپ کی بےنیازی بار بار انھیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم جو کچھ اس ذات عزیز کے بارے میں کہتے ہیں کیا وہ سچ ہے، کیا ایسا شخص کبھی مجنون ہوسکتا ہے، کیا ایسے شخص پر شیاطین اتر سکتے ہیں، کیا کبھی کسی شاعر نے اس طرح کا کلام اور اس طرح کی خدا پرستی، نیکی اور پاکیزگی کی تعلیم بھی دی ہے، اور شخص جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیا وہ اب ڈھلتی ہوئی عمر میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے گا۔ اسی طرح اس پر نازل ہونے والی کتاب جس فصاحت و بلاغت کے ساتھ، خیالاتِ عالیہ، ایک مکمل نظام زندگی اور قدیم قوموں کے صحیح حالات اور ان کے زوال کے صحیح اسباب جس طرح بیان کرتی ہے کیا ایسی کتاب محمد ﷺ خود یا دوسرے لوگوں کی مدد سے لکھ سکتے ہیں۔ قرآن کریم کی زبان تو انسانی زبان سے بہت بلند ہے۔ تو پھر ہم محمد ﷺ کی طرف اس کا انتساب کیونکر کرتے ہیں۔ یہ وہ اضطراب انگیز شک ہے جو ان کے ذہنوں میں بسیرا کرچکا ہے اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ کتنی بڑی سزا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور خواہشات کے تحت جس دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کررہا ہے اس کا ذہن نہ صرف اس سے مطمئن نہ ہو بلکہ وہ اس کے دل کی پھانس بن چکا ہو۔
Ayah 41:46مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَـآئَ فَعَلَیْھَا ط وَمَا رَبُّـکَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 46)
(جو نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو بدی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، اور آپ کا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ )
مخالفین سے بےنیازی کا اعلان
بات کو پوری طرح واضح کردینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص آپ کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور آپ کی ہدایت کے مطابق اپنا رویہ بدلتا اور اپنے اعمال کو درست کرلیتا ہے تو اس کا فائدہ اسے ہی پہنچے گا، نہ پروردگار کو اس کا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ آپ اس سے کوئی فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی طرح جو شخص کوئی برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی کی طرف لوٹ کے آتا ہے۔ پروردگار یا اس کے رسول کا تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ نے انھیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی جتنی کوششیں کی ہیں وہ کافی ہیں۔ اس لیے آپ کے لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں۔ لوگ اگر اپنی بھلائی کے لیے بھی راہ راست اختیار نہیں کرنا چاہتے تو خود اس کا انجام بھگتیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے جزاء و سزا کے قانون کو پوری طرح ان پر واضح کردیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس کی گرفت میں آتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر ظلم نہیں بلکہ اس کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔
آخری جملے میں مبالغے پر نفی وارد ہوئی ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وَمَا رَبُّـکَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ کے معنی ہوں گے ” اور آپ کا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “
Ayah 41:47اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ ط وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَا مِھَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلاَ تَضَعُ اِلاَّ بِعِلْمِہٖ ط وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَـآئِ یْ لا قَالُـوْٓا اٰذَنّٰـکَ لا مَامِنَّا مِنْ شَھِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 47)
(اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، اور کوئی پھل اپنے غلاف سے باہر نہیں نکلتا، اور کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اسی کے علم سے، پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ تو وہ کہیں گے ہم نے تجھ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔ )
مشرکین کے ایک سوال کا جواب
یہ بھی مشرکین کے ایک سوال کا جواب ہے۔ وہ عموماً مذاق اڑاتے ہوئے یہ سوال کرتے کہ آپ ہمیں بار بار قیامت کے آنے سے ڈراتے ہیں جسے سن سن کے ہمارے کان پک گئے ہیں لیکن وہ قیامت آنے میں نہیں آتی۔ آخر اسے کس چیز نے روک رکھا ہے، ہمیں بتا کیوں نہیں دیا جاتا کہ قیامت کے آنے کا وقت کیا ہے اور وہ کب آئے گی۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے آنے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس کے ٹھیک وقت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کا آنا ایک حقیقت ہے۔ اس کائنات اور اس کے خالق کی صفات کا یہ ایک بدیہی تقاضا ہے۔ عقل بھی اس کا تقاضا کرتی ہے اور اخلاق بھی اس کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ کتنے ایسے سوالات ہیں وقوع قیامت کے سوا جن کا کوئی جواب نہیں۔ البتہ یہ سوال کہ وہ کب آئے گی اس کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ رہی یہ بات کہ جب تک ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ اس کے آنے کا ٹھیک وقت کیا ہے ہم اس پر یقین کیسے کرلیں۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ زندگی کی کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جنھیں انسان نہیں جانتا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے حقیقت ہونے سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ گندم کا ایک خوشہ نمودار ہوتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پکنے کی نوبت آئے گی یا نہیں۔ اور آئے گی تو اس میں کتنے دانے ناقص نکلیں گے، کتنے صحیح، کتنے ضائع جائیں گے اور کتنے محفوظ رہیں گے۔ ان کے پکنے کی ٹھیک ٹھیک تاریخ کیا ہے۔ اور ان میں سے کتنے دانے کسان کے نصیب میں ہوں گے۔ اور کتنے چرند و پرند کی نذر ہوجائیں گے۔ ان ساری باتوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ لیکن اس قدر ناواقفیت کے باوجود انسان کبھی گندم کے پکنے سے انکار نہیں کرتا۔ اور نہ اس کی کبھی امید ٹوٹتی ہے کہ نہ جانے میرے گھر میں گندم کا کھلیان آتا ہے یا نہیں۔
کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے تو اس کے حمل میں ہونے والی تبدیلیوں سے اللہ تعالیٰ کے سوا کون واقف ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ بچہ اپنے ماں کے پیٹ میں کیا صورت اختیار کرے گا، اس کی زندگی اور موت کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس کی قسمت کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اس کے شقی یا سعید ہونے کی کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو جانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ہی بیشمار حقائق ہیں جن سے ہم واقف نہیں ہیں۔ باایں ہمہ ہمیں ان سے انکار بھی نہیں ہے۔ لیکن ایک پروردگار ہے جو ان تمام چیزوں کی جزئیات تک سے واقف ہے۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ ہم بہت ساری چیزوں کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کا انکار نہیں کرتے تو قیامت کے وقت سے ہماری ناواقفیت قیامت کے انکار کا سبب کیوں بنتی ہے۔ اسی طرح وہ ذات جو امورغیب کا علم رکھتی ہے اور جس کے سامنے کوئی جزئی بھی پردہ غیب میں نہیں۔ اس کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ انسان کے اعمال و افعال کی تفصیلات کو کیسے جان سکتا ہے اور پھر اربوں کھربوں انسانوں کی موت کے بعد انھیں کیسے ازسرنو زندہ کرسکتا ہے، یہ کس قدر خودفریبی اور سامنے کی بات کے انکار کے مترادف ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو قیامت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن اس کی طرف سے بےپروائی اور بےنیازی صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے مزعومہ شرکاء کے بارے میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر قیامت آہی گئی تو یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے، بلکہ اس کا موقع ہی نہیں آنے دیں گے کہ ہمارے اعمال کا حساب لیا جائے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ تم نے جنھیں میرا شریک گمان کر رکھا ہے ان کو بلائو، وہ آج میری پکڑ سے تم کو بچائیں۔ تو یہ جواب دیں گے کہ ہم نے عرض کردیا کہ اب ہم میں سے کوئی بھی ان کی گواہی دینے والوں میں سے نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تیرا شریک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ہولناکی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دیکھ کر یہ لوگ ان مزعومہ شرکاء کا انکار کردیں گے جن کی شفاعت کا انھیں ہمیشہ یقین رہا ہے۔ اور پہلی ہی پکار پر ان کی عقیدت کا نشہ ہرن ہوجائے گا۔