Ayah 41:16فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْٓ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّـنُذِیْـقَھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰی وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 16)
(تو ہم نے ان پر چند منحوس دنوں میں ایک سخت طوفانی ہوا بھیجی تاکہ ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا، اور وہ کوئی مدد نہیں کیے جائیں گے۔ )
قومِ عاد پر آنے والے عذاب کی تفصیل
یہ اس عذاب کی تفصیل ہے جو قوم عاد پر بھیجا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان پر ایک طوفانی ہوا بھیجی، یہ وہ بادتند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے ہیں اور برق چمک بھی۔ اہل لغت نے اگرچہ ریح صرصر کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل لغت اسے گرم اور تیز لو کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض اسے یخ کردینے والی تیز ہوا کے معنی میں بولتے ہیں۔ لیکن دونوں کے نزدیک اس کے بادتند ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گرمیوں میں چلنے والی تیز لو نہیں تھی بلکہ جما دینے والے تیز ہوا تھی جس میں گرد چمک کے ساتھ ژالہ باری بھی تھی۔ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہوا مسلسل سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ اس کے زور اور شدت کی وجہ سے لوگ اس طرح گر گر کر مرتے رہے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے گرے پڑے ہوتے ہیں۔ اور جس چیز پر سے بھی یہ ہوا گزر گئی اس کو بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ لوگوں نے اسے ایک اٹھتی ہوئی گھٹا سمجھا، جیسے گھٹائیں برسات میں اٹھا کرتی ہیں، دیکھ کر خوش ہوئے کہ زمین کی سیرابی سے ہماری قسمت سنور جائے گی لیکن وہ رحمت کا پیغام لے کر نہیں بلکہ ہلاکت کی پیغامبر بن کر آئی تھی جس نے پورے علاقے کو تہ وبالا کرکے رکھ دیا۔
آیت میں منحوس دنوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ یہ دن ایسے منحوس تھے کہ جن کی نحوست نے اس قوم کو تباہ کردیا۔ حالانکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان ایام میں چونکہ اس قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوا اس بناء پر وہ قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ ورنہ اپنی ذات میں دن نہ منحوس ہوتے ہیں اور نہ مسعود ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ سخت سردیوں کے دنوں میں سردی کی شدت کی وجہ سے جب درختوں کے پتے گرجاتے اور ہر چیز پر اداسی اور افسردگی چھا جاتی ہے تو ہر دیکھنے والی نگاہ یوں محسوس کرتی ہے کہ جیسے ہر چیز پر نحوست چھا گئی ہے۔ اس لیے ان دنوں کو منحوس قرار دیا گیا ہے۔
قومِ عاد نے چونکہ استکبار کی وجہ سے حق سے اعراض کی روش اختیار کی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب بھیجا جس نے ان کے استکبار کے جواب میں ذلت کا عذاب ان پر مسلط کردیا، کہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول اور یا ایمان لانے والے لوگ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو وہ اپنی قوت و طاقت کے حوالے سے ان کا مذاق اڑاتے اور تکبر کا اظہار کرتے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے انھیں عذاب کا شکار کرکے ذلت کی تصویر بنادیا۔ اور ان کی دوسری ہم چشم قوموں کی نگاہ میں بھی وہ ایک نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ یہ تو ان کا انجام ہوا دنیوی عذاب کے حوالے سے۔ لیکن جب وہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا۔ ان کے سب جاننے والے وہاں موجود ہوں گے اور وہ ان کی ذلت کا تماشا دیکھیں گے۔ اور جن قوتوں کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر ان سے مدد کی امیدیں باندھ رکھی تھیں ان کی طرف سے بھی انھیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اور نہ ان کی وہ قوت و جمعیت کام آئے گی جس کی وجہ سے ان کے اندر تکبر کا مرض پیدا ہوا۔ وہ چیختے رہیں گے لیکن کسی طرف سے ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں آئے گا۔
Ayah 41:17وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَھَدَیْنٰـھُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْھُدٰی فَاَخَذَتْھُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْھُوْنِ بِمَا کَانُوْا یَـکْسِبُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 17)
(اور رہے ثمود تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی، مگر انھوں نے راستہ دیکھنے کی بجائے اندھے پن کو ترجیح دی، تو آپکڑا ان کو ذلت کے عذاب کے کڑکے نے، اس سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
قومِ ثمود کا رویہ اور ان پر عذاب
قومِ عاد کے بعد قوم ثمود کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یہ قوم بھی قوم عاد کی طرح بڑی مضبوط حیثیت کی مالک اور بڑی ترقی یافتہ قوم تھی۔ اور ہم مختلف مواقع پر ان کی تاریخ کا ذکر کرتے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے بھی اپنے رسول کو بھیجا اور اس طرح سے ان کے سامنے ہدایت کا راستہ کھولا اور ان کے لیے اس بات کا امکان پیدا کیا کہ وہ اگر چاہیں تو دنیا میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوسکتے ہیں۔ لیکن انھوں نے ہدایت پر اندھا رہنے کو ترجیح دی۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حقانیت کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے، اس کے معجزات کو دیکھتے اور ان پر غور کرتے۔ لیکن انھوں نے طاقت کے گھمنڈ میں نہ کسی بات کو سن کردیا اور نہ کسی صداقت کو دیکھنے کی کوشش کی۔ تو آخر اللہ تعالیٰ نے قوم عاد ہی کی طرح ان پر بھی ذلت کا عذاب مسلط کردیا۔ یعنی ان کا عذاب بھی ویسا ہی تھا جیسا عذاب قوم عاد پر آیا تھا۔ اور انھوں نے چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ استکبار کا رویہ اختیار کیا تھا اور اپنی ہم چشم قوموں کے سامنے بھی قوت و حشمت کی بناء پر تکبر کا رویہ اختیار کیے ہوئے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عذاب کے ذریعے پامال کرکے دوسروں کے لیے ان کی ذلت کا سامان کیا اور تاریخ میں انھیں عبرت بنادیا۔ اور یہ جو کچھ ہوا یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ اور ثمرہ تھا۔
Ayah 41:18وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 18)
(اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے بچتے تھے۔ )
نجات پانے والے اور ان کا رویہ
عاد وثمود کے انجام سے ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے ان قوموں جیسی روش اختیار کر رکھی ہے کہ وہ اپنی طاقت و دولت کے گھمنڈ میں کسی صحیح بات سننے کے روادار نہیں۔ لیکن اب پیش نظر آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائے اور اس کی دعوت سے متأثر ہو کر انھوں نے تقویٰ کی زندگی اختیار کی۔ ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ کی شریعت کو دیکھنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو جاننے کو انھوں نے اپنی روش بنا لیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات کا دھیان رکھا کہ ان کا ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔ نہ اس میں بےعملی راہ پائے اور نہ وہ ریا کا شکار ہو۔ اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اس طرح جگہ بنا لے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا تصور بھی ان کے لیے تکلیف دہ ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس انجام سے بچا لیا جس سے ہدایت سے منہ پھیرنے والے دوچار ہوئے تھے۔ انھیں عذاب سے پہلے ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عافیت اور حفاظت کا سامان بہم پہنچایا۔
Ayah 41:19وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآئُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 19)
(اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے، پھر وہ روکے جائیں گے۔ )
یُحْشَرُکے بعد اِلیٰ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یُحْشَرُ ، یُسَاقُوْنَیا اس کے ہم معنی کسی لفظ کے مفہوم میں ہے۔ یعنی وہ لوگ گھیر کر اور کھینچ کر ہانکتے ہوئے لائے جائیں گے۔ یُوْزَعُوْنَ وزع سے مشتق ہے جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں۔
دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کی رسوائی
تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں قومیں دنیا ہی میں جس طرح عذاب کا شکار ہو کر رسوائی کا حوالہ بنتی رہی ہیں عاد وثمود کے ذکر سے اس کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔ اور قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم بھی ہمارے آخری رسول کی دعوت کا انکار کرکے جس راستے پر چل رہے ہو یہ راستہ وہی ہے جو عادوثمود نے اختیار کیا تھا۔ ایک جیسے اعمال کا صلہ اور نتیجہ چونکہ یکساں ہوتا ہے اس لیے تم بھی یقینا اس انجام سے دوچار ہو کے رہو گے جس انجام سے عادوثمود دوچار ہوئے تھے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی تنبیہ میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں جو قومیں عذاب کا شکار ہوئی ہیں یہ مت سمجھو کہ دنیا کا عذاب ان کے تمرد اور سرکشی کی کافی سزا تھی بلکہ اس سے بڑی سزا ان کے انتظار میں ہے جو قیامت کو انھیں دی جائے گی اور اس وقت حال یہ ہوگا کہ قیامت کا اعلان ہوجانے کے بعد تمام قوموں کے افراد اپنی اپنی قبروں سے نکالے جائیں گے۔ کوئی زمین میں دفن ہوا یا کسی کو درندہ کھا گیا، یا کسی کی لاش پانی کی نذر کردی گئی۔ یہی ان کی قبریں ہیں اور ان سے ہر شخص کو نکالا جائے گا۔ پھر ایک میدانِ حشر ہوگا جس میں ان سب کو ہانک کر لایا جائے گا۔ ان کا یہ ہانک کر لایا جانا اگرچہ میدانِ حشر کی طرف ہوگا لیکن مقصود چونکہ انھیں جہنم کی آگ کے سپرد کرنا ہے اس لیے میدانِ حشر کے ذکر کی بجائے اصل مقصود کو ذکر کیا گیا ہے کہ انھیں نارجہنم کی طرف کھینچ کر لایا جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ لائے جانے والے تمام لوگ یقینا میدانِ حشر میں ایک ساتھ نہیں پہنچیں گے۔ کچھ قومیں پہلے پہنچ جائیں گی، کچھ پیچھے آرہی ہوں گی۔ پہلے پہنچنے والی قوموں کو روک دیا جائے گا تاکہ سب میدانِ حشر میں ایک ساتھ پہنچیں اور سب کا حشر ایک ساتھ برپا ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح افراد کا عمل اپنے اثرات کے اعتبار سے دوسروں تک متعدی ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آدمی مسکراتا ہے تو دیکھنے والا مسکرانے لگتا ہے۔ آدمی روتا ہے تو دیکھنے والے کی شکل خودبخود رونے والی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح آدمی کوئی کام کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کی اپنی ذات تک بہت کم محدود رہتے ہیں بلکہ بیشتر مواقع پر دوسرے لوگ یا دوسری چیزیں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ مثلاً ایک شخص ایک تعلیمی ادارہ کھولتا ہے تو اس کا یہ عمل چند افراد تک نہیں بلکہ نسلوں تک پھیل جاتا ہے۔ اس کی تعلیمی کاوشوں سے ذہنوں میں جو تخریبی یا تعمیری خیالات پیدا ہوئے ہیں اس کے دائرہ اثر کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ جس طرح جھیل میں پھینکا ہوا ایک کنکر جو لہریں پیدا کرتا ہے وہ لہریں اس وقت تک پھیلتی جاتی ہیں جب تک ساحل سے جا کر نہیں ٹکراتیں، یہی حال انسانی اعمال کا بھی ہے۔ اسی طرح قوموں کے بھی اجتماعی طرزعمل سے دوسری قومیں متأثر ہوتی ہیں۔ ایک کی تہذیب دوسروں کی تہذیب پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اب تو قومیں بہت سے حوالوں سے ایک دوسرے سے اس قدر قریب آچکی ہیں کہ ایک کے اثرات سے دوسری قوموں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد ہوں یا اقوام ان کے اعمال کا الگ الگ حساب ممکن ہی نہیں، کیونکہ دنیا میں تو ایک شخص کے صرف عمل کا حساب ہوتا ہے کیونکہ عدالت نہ اس کے عمل کے محرکات کو یقینی طور پر جان سکتی ہے اور نہ اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے پوری طرح آگاہی حاصل کرسکتی ہے۔ قوموں کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ مشکل اور گھمبیر ہے۔ تاتاریوں نے مسلمان شہروں کو تاراج کرنے اور اسلامی تہذیب کو پامال کرنے میں جو کردار ادا کیا، جرمنی نے یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کیا اور جرمن کے یہودی سائنسدانوں نے انتقام میں آکر جس طرح پوری انسانیت کے مستقبل کو خطرے میں ڈالا اور عیسائیوں نے صلیبی جنگوں کا انتقام لینے کے لیے مسلمان ملکوں کے خلاف جو سازشیں کیں اور جس طرح ان میں غدار تیار کیے اور ان کے واسطے سے اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی تمدن اور مسلمانوں کی سیاست کو جس طرح اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ان کا فیصلہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک موثر اور متأثر قومیں آمنے سامنے نہ ہوں۔ زخم لگانے والا بھی شمشیربدست کٹہرے میں کھڑا ہو اور زخمی بھی اپنے گھائو سمیت عدالت میں موجود ہو، اس وقت تک عدل کے ترازو کو ٹھیک ٹھیک بروئے کار لانا ممکن نہیں۔ چناچہ اسی لیے اللہ تعالیٰ میدانِ حشر میں لے جانے سے پہلے تمام قوموں کو ایک جگہ جمع ہونے کے لیے روک دے گا اور اس کے بعد ان کے محشر میں داخل کیا جائے گا۔
Ayah 41:20حَتّٰی اِذَا مَا جَآئُ وْھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 20)
(یہاں تک کہ جب وہ سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ )
جرائم پر اعضاء کی گواہی
جب سب لوگ یا سب مجرم محشر کے پاس یا جہنم کے پاس جمع ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے عقائد اور جرائم کے بارے میں سوال کرے گا کہ کیا تم نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا تھا، اور کیا واقعی تم نے فلاں فلاں جرم کی جسارت کی تھی ؟ تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے جرائم کو تسلیم کرلیں گے۔ لیکن کچھ ایسے ہٹ دھرم بھی ہوں گے کہ جو اپنی حماقت سے یہ سمجھیں گے کہ شاید ہم جرم کا انکار کرکے یا سخن سازی سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی عدالت کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیں اور سزا سے بچ جائیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کے جرائم ثابت کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جائے گا کہ ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم سے اس شخص یا اس قوم نے اس اس جرم کا ارتکاب کرایا تھا۔ ان کے کان گواہی دیں گے کہ ہماری سماعتوں کو کس طرح استعمال کیا گیا، یا ہم نے اپنی سماعتوں سے کیسے کیسے جرائم کیے۔ ان کی آنکھیں بھی گواہی دیں گی کہ ہماری بیباک نگاہوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور کس طرح دیکھتے ہوئے بھی ہماری نگاہوں نے ظلم کو چھپایا۔ اور ان کی کھالیں بھی گواہی دیں گی کہ ہمارے جسم کے مس نے کیا کیا جرائم پیدا کیے اور جرائم میں کیسے کیسے اضافے کیے۔ بعض اہل علم نے جلود کا ترجمہ رونگٹوں سے کیا ہے۔ اور سورة زمر کی آیت 23 اس مفہوم کی تائید بھی کرتی ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہر مجرم کے بدن کا رواں رواں زبان بن جائے گا اور وہ بتائے گا کہ آج انکار کرنے والے مجرم کیسے کیسے جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔
Ayah 41:21وَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا ط قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْ ئٍ وَّھُوَ خَلَقَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 21)
(اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی، وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اسی اللہ نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کیا ہے، اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اور اب اسی کی طرف لوٹائے جارہے ہو۔ )
اعضاء کی گواہی، مجرمین کی حیرت
کفار جب اپنے روئیں روئیں کو اپنے خلاف گواہی دیتا ہوا سنیں گے تو انھیں حیرت ہوگی کہ وہ کان جو سننے میں ہمارے ارادے کی پیروی کرتے تھے اور وہ آنکھیں جو ہماری چاہتوں سے کھلتی تھیں اور وہ کھالیں جو ہماری قوت احساس کے تحت کام کرتی تھیں آج انھیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم سے بغاوت کرکے ہمارے ہی خلاف سلطانی گواہ بن گئی ہیں، تو وہ اپنی کھالوں یعنی اپنے جسموں سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ تم کس طرح ہمارے خلاف گواہی دے رہے ہو۔ اور یہ تم میں بولنے کی قوت کہاں سے آئی ہے ؟ تو وہ جواب میں صرف اسی بات کے جواب پر اکتفا نہیں کریں گے کہ ہم میں یہ بولنے کی قوت کہاں سے آئی ہے بلکہ ایک اور عقدہ کی بھی گراہ کھول دیں گے جس سے اس بات کی وسعت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ وہ جواب میں یہ کہیں گے کہ ہمیں اسی اللہ نے قوت گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ یعنی ہم جو تمہارے خلاف گواہی دے رہے ہیں اور تمہیں اس پر تعجب ہورہا ہے، لیکن تم اگر آنکھیں کھول کر دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ آج تمہارا جسم ہی تمہارے خلاف گواہی نہیں دے رہا بلکہ زمین بھی تمہارے خلاف گواہ بن گئی ہے کہ انسان نے جو کچھ زمین پر کیا ہے اس نے اپنے جرائم کو جس طرح اس میں دفن کیا ہے اور جس طرح اس نے زمین کی ذرخیزی کو لوگوں کی محرومیوں کا سبب بنایا ہے اور اس کے سینے کو اپنے خزانوں کے لیے دفینہ اور اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے قبروں میں تبدیل کیا ہے، ان میں سے ہر چیز کو وہ کھول کر بیان کرے گی۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا۔ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا۔ یَوْمَئِذٍ تُحَدُّثُ اَخْبَارَھَا۔ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحَیٰ لَہَا۔
” جبکہ زمین پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی، اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال پھینکے گی، اور انسان پکار اٹھے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، اس روز زمین اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی، کیونکہ تیرا رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہوگا۔ “
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ زمین کی ہر حالت اور ہر کیفیت انسان کے خلاف یا اس کے حق میں گواہ بن جائے گی۔ جو جرائم اس کی دھرتی پر کیے گئے اور ان کا نشان مٹانے کے لیے اس کے پیٹ کا استعمال کیا گیا اور اپنے ظلم کی بقاء کے لیے اس کے خزانوں سے قوم کو محروم رکھا گیا وہ ہر چیز اگل ڈالے گی، قصہ خوانی بازار بتائے گا کہ یہاں کتنے لوگوں کا خون بہایا گیا تھا، دہلی کے گلی کو چے مسلمانوں کے خون کی ارزانی کی گواہی دیں گے، عیسائیوں کی نام نہاد مہذب قوم کی اندلس اور ایشیا کے مختلف ملکوں میں قائم کردہ نوآبادیوں اور جدید دور میں لبنان، فلسطین، عراق، افغانستان اور بوسنیا میں روا رکھے جانے والے ظلم کی داستان بیان ہوگی۔ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کا خون بولے گا اور ان کی جلائے جانے والی لاشوں کے ملبے کو کہاں جا کے پھینکا گیا، زمین چیخ چیخ کر گواہی دے گی۔ غرضیکہ :
یہاں لٹی تھی کسی کی عصمت، وہاں گرا تھا لہو کسی کا
یہاں جلائے گئے تھے انساں، ہر ایک شے کا حساب ہوگا
جس قادرمطلق کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس کی قدرت سے انسانوں کے جسم اور زمین کا ذرہ ذرہ انسان کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان تمام بےجان چیزوں کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور تم اس کی قدرت کے حوالے سے خود اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تم قیامت کے برپا ہونے کو اس لیے خلاف عقل سمجھتے ہو کہ اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ حالانکہ امکانات تو بہت ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر یقین کرلو تو جس کی قدرت نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا ہے تو کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ اور جس نے تمہیں پہلی مرتبہ دنیا میں بھیجا ہے تو کیا تم دوبارہ اس کے سامنے حاضری کے لیے لے جائے نہیں جاسکتے۔ لیکن تمہاری حماقت صرف یہیں تک نہیں کہ تم قیامت کا انکار کرتے ہو بلکہ تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری واپسی تمہارے ان مزعومہ دیویوں اور دیوتائوں میں سے کسی کی طرف ہوگی، جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جن کو خلق و تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے وہ مولیٰ اور مرجع کس طرح بن جائیں گے۔
Ayahs 41:22–23وَمَا کُنْـتُمْ تَسْتَـتِرُوْنَ اَنْ یَّشْھَدَعَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلاَ جُلُوْدُکُمْ وَلٰـکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لاَ یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْن۔ َ وَذٰلِکُمْ ظَنُّـکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اٰرْدٰ کُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 22، 23)
(اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی بلکہ تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا تمہیں ہلاک کردیا، اور تم خسارے میں پڑنے والے بن گئے۔ )
تَسْتَـتِرُوْنَ ، تَخَافُوْنَ کے معنی میں
بعض اہل علم نے تَسْتَـتِرُوْنَ کو تَخَافُوْنَکے معنی میں لیا ہے۔ یہ دراصل لازم سے ملزوم پر استدلال کیا گیا ہے۔ یعنی تم جو برے اعمال کرتے ہوئے اس سے چھپتے نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ تمہارے اپنے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر تمہیں اس بات کا خیال ہوتا کہ جن اعضاء سے کام لے کر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو، وہ تمہارے خلاف گواہی بھی دے سکتے ہیں، تو تم کبھی بھی ان برائیوں کا ارتکاب کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ لیکن یہ اندیشہ تمہارے تصور پر کبھی حاوی نہیں ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے میں دلیر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ شرک اور کفر جیسا جرم بھی تمہارے نزدیک مباح ہوگیا۔ اس صورتحال نے تمہیں ہلاکت کی نذر کردیا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل خسارہ جنت کے استحقاق سے محرومی اور جہنم کا عذاب ہے۔ یہ لوگ چونکہ جہنم میں ڈالے گئے ہیں اس لیے سب سے بڑے نقصان اور خسارے میں پڑگئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان جو بھی طرزعمل اختیار کرتا ہے وہ اس خیال کے تابع ہوتا ہے وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے ایمان کی بنیاد کے طور پر عقیدہ توحید کو ماننا لازم ٹھہرایا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے دل کے خیالات، اپنے دماغی تصورات اور اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کو مکمل طور پر تسلیم کرلیتا ہے اور وہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہوں کے سامنے ہوں، میرا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ہے یقینا ایک دن جواب دہی کے لیے اس کے سامنے حاضر ہونا ہے وہاں میرے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا اور اسی کے مطابق جزاء و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس تصور کے راسخ ہوجانے کے بعد کفروشرک یا فسق و فجور میں انسان کا مبتلا ہونا ناممکن نہیں تو محال ضرور ہوجاتا ہے۔
Ayah 41:24فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالْـنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ ج وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ھُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 24)
(پس اگر وہ صبر کریں تو نارجہنم ہی ان کا ٹھکانہ ہے، اور اگر وہ معافی مانگیں گے تو ان کو معافی نہیں ملے گی۔ )
قیامت کا عذاب حتمی ہے، رویوں سے متاثر نہیں ہوگا
جن لوگوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر مطمئن ہو کر صبر کریں، یعنی نہ اس سے نکلنے کی جستجو کریں اور نہ زبان سے اس کے خلاف کچھ کہیں بلکہ اس بات کا یقین کرلیں کہ ہم اسی سزا کے مستحق تھے، ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کیا، اس پر نازل ہونے والی کتاب سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کی مخالفت کی اور نیکی کی ہر بات سے ہمیں ضد سی ہوگئی۔ تو ایسی صورتحال کا جو انجام ہونا چاہیے تھا وہی ہوا۔ تو جو لوگ یہ رویہ اختیار کریں گے تو ان کا یہ صبر اور فیصلے پر یکسوئی ان کے عذاب میں کمی نہیں کرے گی اس لیے کہ قیامت کے برپا ہوجانے کے بعد کوئی اچھی سے اچھی بات بھی صلہ یا انعام کی مستحق نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ دارالجزاء ہے درالعمل نہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا ٹھکانہ ہر صورت میں نارجہنم ہی ہوگا۔ لیکن اگر وہ صبر کی بجائے استعتاب چاہیں استعتاب کا معنی ہوتا ہے رجوع کرنا یا گناہوں سے معافی مانگنا۔ یعنی وہ اپنی گزشتہ زندگی پر نادم ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہوں تو انھیں معافی نہیں ملے گی۔ وہ گزشتہ گناہوں سے پاکیزہ زندگی اختیار کرنے کا عہد کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اگر وہ اچھی زندگی کے وعدے پر دوبارہ دنیا میں جانے کی درخواست کریں گے تو ان کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
Ayah 41:25وَقَـیَّـضْنَا لَہُمْ قُرَنَـآئَ فَزَیَّنُوْا لَھُمْ مَّابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ج اِنَّھُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 25)
(اور ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جو انھیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کے دکھاتے تھے۔ آخر ان پر بھی وہی بات پوری ہو کے رہی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر پوری ہوچکی تھی۔ یقینا وہ خسارے میں رہنے والے تھے۔ )
مسلسل اعراض کا نتیجہ
بعض دفعہ تبلیغ و دعوت کا کام کرنے والوں کو ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو انھیں بعض دفعہ تبلیغی کاوشوں سے مایوس کردینے کا باعث بنتی ہے۔ اور یا کم از کم ان کے اندر اشتباہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ وہ صورتحال یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی پڑھا لکھا ہے، سمجھدار ہے، بات کو سنتا بھی ہے لیکن بات کو قبول نہیں کرتا۔ تمام تبلیغی کاوشیں اس کے سامنے بےبس ہو کر رہ جاتی ہیں۔ تو مبلغ پریشان ہو کے رہ جاتا ہے کہ کیا میری دعوت میں اخلاص نہیں یا میں جس بات کی دعوت دے رہا ہوں اس کی صداقت محل نظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مسلسل اعراض کرتا ہے اور اس کی نصیحت سے ہمیشہ منہ پھیرتا ہے اور اچھے لوگوں کی صحبت سے تنفر کا اظہار کرتا ہے اور دین کی ہر بات سے اباء کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر ایک شیطان کو مسلط کردیتا ہے جو اس کا ہر وقت ساتھی بنا رہتا ہے اور اسے اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اسے کسی کھائی میں گرا نہیں دیتا۔ چناچہ اوپر جن لوگوں کے حوالے سے گفتگو جاری تھی ان کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ چونکہ دین سے ہمیشہ اعراض کرنے والے لوگ تھے تو ہم نے ایسے ساتھی اور دوست انھیں عطا کیے یا ان پر مسلط کردیئے کہ جنھوں نے ان کی ہر بری بات کو بھی نیکی بنا کر دکھایا۔ انھوں نے ماضی میں اگر برائیاں کی تھیں تو انھوں نے انھیں بھی حسن کی تصویر بنادیا۔ اور آئندہ اس کے عزائم اسلام کے لیے چاہے کیسے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں اور خود اس کی اپنی ذات کے لیے کیسے ہی رسوا کن کیوں نہ ہوں وہ انھیں بھی اس طرح مزین کرکے پیش کریں گے کہ گویا اس سے بہتر بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ تزیینِ اعمال شیطان کا ایک ایسا دھوکہ ہے جس سے انسان کو ہمیشہ گمراہ کیا گیا ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر تنقید پسند نہیں کرتا۔ تاوقتیکہ تنقید کرنے والے کا اخلاص اور اس کی ہمدردی و غمگساری اس کا دل نہ جیت لے۔ لیکن اگر وہ ایسے اہل مجلس میں گھرا رہے اور اس کے گرد ایسے احباب اکٹھے ہوجائیں جو ہمیشہ اس کے افکار و اعمال کی تزیین کرتے رہیں اور اس کی غلطیوں کو بھی کارنامے بنا کردکھائیں تو پھر اسے تباہ ہونے سے بچانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ جن قوموں نے بھی یہ رویہ اختیار کیا وہ ہمیشہ تباہ ہو کے رہیں۔ چناچہ قریش کو بھی اس صورتحال سے تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہارے اشراف جن کے سروں پر تم نے سیادت کا تاج رکھا ہوا ہے وہ اسلام کی دعوت سے اس لیے دور ہیں کہ تم انھیں کبھی ان کی برائیوں اور افکار کی غلطیوں پر متنبہ ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ اور یا وہ خود ایسے دوست بنا چکے ہیں جو ہمیشہ انھیں اسی فریب خوردگی کا شکار رکھتے ہیں۔ تو نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ وہ پہلی امتوں کی طرح بالآخر تباہ ہو کے رہیں گے۔ اور آخرت میں تو وہ یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔
Ayah 41:26وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تَغْلِبُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 26)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا کہ اس قرآن کو نہ سنو، اس کے بیچ میں شور برپا کرو تاکہ تم غالب آجاؤ۔ )
قرآنی دعوت کو بےاثر کرنے کا ایک حربہ
نبی کریم ﷺ کی بعثت سے سرزمینِ مکہ پر حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہوئی جہاں اس میں نبی کریم ﷺ نے اظہارِحق کی ہر ممکن کوشش کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف مائل کرنے کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا وہیں کفار مکہ نے بالخصوص ان کے سرداروں نے مخالفت کا ہر طریقہ آزمایا۔ کبھی مذاق اڑایا، کبھی اعتراضات کی بوچھاڑ کی، کبھی الزامات کا طومار باندھا اور کبھی اذیت رسانی کی انتہاء کردی۔ جب ان میں سے کوئی حربہ بھی کارگر ثابت نہ ہوا تو پھر انھوں نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ اس دعوت کا راستہ روکنے کی ایک ہی شکل ہے کہ جب بھی نبی کریم ﷺ لوگوں کو دعوت حق پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی تلاوت کریں تو اسے نہ خود سنو اور نہ لوگوں کو سننے دو ۔ کیونکہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت، اس کی دلآویزی اور اس کی معجزانہ اثراندازی کو اپنا کام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی بھرپور اور پرعزم شخصیت، آپ کا دل کو موہ لینے والا لہجہ اور آپ کا دل میں اتر جانے والا حُسنِ کردار اور آپ کی خوبصورت اور دلآویز آواز میں قرآن کریم کی تلاوت اپنے اندر وہ شان رکھتی ہے کہ جو ایک دفعہ اسے دل لگا کر سن لیتا ہے وہ گھائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس لیے آپ کی دعوت اور قرآن کریم کے اثرات سے بچائو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ قرآن کریم کی تلاوت کریں تو شور مچا دیا جائے، آوازے کسے جائیں، تالیاں پیٹی جائیں، اعتراضات کی بوچھاڑ کی جائے، غرضیکہ ایسی ہر حرکت کی جائے جس سے قرآن کی آواز دب جائے اور لوگوں کے کانوں تک شور کے سوا کچھ نہ پہنچے۔ اس طرح ممکن ہے کہ تم غالب آجاؤ، یعنی حق و باطل کی کشمکش میں تمہارا پلڑا جھک جائے اور اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کے پیغام کے غلبے کی جو دعوت دی جارہی ہے وہ ناکام ہوجائے۔
Ayah 41:27فَلَـنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا لا وَّلَنَجْزِیَنَّـھُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 27)
(پس ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور ان کو عمل کا بدترین صلہ دیں گے۔ )
کفار کو تنبیہ اور مسلمانوں کو تسلی
اس میں کفار کو نہایت سخت تنبیہ بھی کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے۔ تنبیہ سے مراد یہ ہے کہ کفار آج جو کچھ کررہے ہیں انھیں شاید اندازہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو کتنے عظیم خطرے سے دوچار کررہے ہیں۔ وہ بظاہر قرآن کریم کو دبانے اور ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔ اور اسی سلسلے میں وہ شوروشغب اور ہڑبونگ کو اپنے لیے سہارا بنا رہے ہیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں کل کو جو انھیں عذاب ہونے والا ہے اور جو انھیں سزا ملنے والی ہے انھیں آج اس کا تصور نہیں ہے، ورنہ وہ یہ حرکت کبھی نہ کریں۔
اور تسلی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کی تلاوت کو جن گھٹیا طریقوں سے روک دینا چاہتے ہیں ان سے نبی کریم ﷺ کو اور مسلمانوں کو کوئی اثر قبول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ اپنی بات نہیں بلکہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کا کلام پیش کررہے ہیں۔ اور وہ ہر ممکن طریقے سے اسے روک دینا چاہتے ہیں۔ تو یہ کشمکش درحقیقت اللہ تعالیٰ اور ان منکرینِ حق کے درمیان برپا ہے۔ ایسی صورت میں وہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا بظاہر ہدف تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے لیکن حقیقی ہدف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ اس کا نوٹس لے گا اور منکرینِ حق کی اس حرکت کی انھیں سخت سزا دے گا۔
اس آیت کریمہ میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے اور یہ درحقیقت اس عذاب شدید کی وضاحت ہے جس سے قیامت کے دن مخالفینِ حق دوچار ہونے والے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں انسان کا ہر عمل نیک ہو یا بد، اپنے اندر متعدی اثرات رکھتا ہے۔ انسان کی ایک چھوٹی سی نیکی بڑھتے بڑھتے احد پہاڑ کے برابر ہوسکتی ہے اور ایک چھوٹی سے برائی بڑھتے بڑھتے خوفناک جنگل بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں حق کی ایک چھوٹی سی شمع جلاتے ہیں لیکن وہ بڑھتے بڑھتے زمین کے بہت بڑے حصے پر روشنی کا سامان کردیتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب نبوت کا چراغ روشن کیا تو اسے بجھانے کے لیے اہل مکہ نے جو کچھ کیا، اسے دیکھ کر کون اندازہ کرسکتا تھا کہ یہ چراغ دیر تک روشنی دے سکے گا۔ لیکن نصف صدی کا عرصہ گزرنے نہیں پایا کہ آدھی زمین سے زیادہ اس چراغ کی روشنی سے منور ہوگئی اور زمین پر بسنے والے لوگوں کے دل اس کے نور سے روشن ہوگئے۔ اسی طرح کتنے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں برائی کا ایک بیج بویا، جو بڑھتے بڑھتے بہت بڑے فساد کا باعث بن گیا۔ کا رمارکس ایک شخص تھا لیکن اس کے اثرات کتنے ملکوں تک پھیلے اور کتنی نسلیں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ سینٹ پال نے عیسائیت کو پٹڑی سے اتارا اور شریعتِ موسوی سے انھیں آزاد کردیا۔ یہ بظاہر ایک ابتدائی کوشش تھی لیکن آج دنیا میں عیسائیت شریعت سے آزاد ہو کر کھل کھیل رہی ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لایا ہوا دین ان کے کسی گرجے میں دکھائی نہیں دیتا۔ قیامت کے دن عمل کی ابتدائی صورت نہیں بلکہ قیامت تک پھیلے ہوئے اس کے اثرات کو سامنے رکھ کر اس کی آخری صورت متعین کی جائے گی، اور اسی حساب سے جزاء اور سزا ہوگی۔ چناچہ قیامت تک پھیلے ہوئے مشرکینِ مکہ کے ان برے اعمال کے اثرات جو صورت پیدا کریں گے اس کے مطابق ان کے اعمال کی سزا انھیں دی جائے گی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف وَلَـنَجْزِیَنَّـھُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْن سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یعنی مشرکینِ مکہ اور ان کے سرداروں کو اس کا اندازہ نہیں کہ قرآن سے لوگوں کو روک کر وہ اپنے لیے کیسی بس بھری فصل تیار کررہے ہیں۔ جب اس کا حاصل ان کے سامنے آئے گا تب وہ اس کا بدترین پہلو دیکھیں گے۔ اس وقت انھیں اندازہ ہوگا کہ وہ اپنی تباہی کا کیا سامان کرکے آئے ہیں۔
Ayah 41:28ذٰلِکَ جَزَآئُ اَعْدَآئِ اللّٰہِ النَّارُ ج لَھُمْ فِیْھَا دَارُالْخُلْدِ ط جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 28)
(یہ اللہ کے دشمنوں کی جزاء ہے یعنی دوزخ، اسی میں ہمیشگی کا ان کے لیے گھر ہے، یہ سزا ہے اس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ہیں۔ )
قرآنی دعوت کو روکنے کی سزا
ذٰلِکَ سے اشارہ اسی بدترین جزاء کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ البتہ اس سے مراد دوزخ ہے جسے النَّارُسے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور النَّارُ سے پہلے مبتدا محذوف ہے، اس لحاظ سے کہنا چاہیے کہ یہ پورا جملہ ہے۔ اور اَعْدَآئُ اللّٰہِ سے مراد وہی لوگ ہیں جنھوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ قرآن کریم کو نہ خود سنو اور نہ دوسروے کو سننے دو ۔ اور جب اس کی تلاوت کی جائے تو خوب شور مچائو۔ مزید فرمایا کہ یہ سزا چند دنوں کے لیے نہیں ہوگی، اسی میں ان بدنصیبوں کے گھر ہوں گے جن میں انھیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ پھر اس سزا کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی کہ یہ سزا انھیں اس جرم کی بناء پر ملے گی کہ وہ برابر اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں۔ نہ قرآن کریم کا معجزانہ انداز انھیں راس آیا، نہ نبی کریم ﷺ کی غیرمعمولی ہمدردی و غمگساری ان پر اثرانداز ہوسکی۔ وہ بگڑے ہوئے حیوان کی طرح اپنے مالک کی ہمدردی کو سمجھنے کی بجائے سینگ ہی مارتے رہے ہیں اور اسی طرح اپنے آپ کو برباد کرلیا۔
Ayah 41:29وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَـآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقْدَا مِنَا لِیَـکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 29)
(اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے اللہ ! ہمیں ان لوگوں کو دکھا جنھوں نے جنوں اور انسانوں میں سے ہم کو گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے پائوں کے نیچے پامال کریں گے تاکہ وہ ذلیل ہوجائیں۔ )
آخرت میں عوام کا اپنے لیڈروں پر غصہ
اس آیت کریمہ میں پروردگار عوام اور ان کے لیڈروں کے تعلق کی حقیقت کھول رہے ہیں کہ آج اشرافِ قریش اور ان کے پیچھے چلنے والے نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں پوری طرح شریک اور ہم آواز ہیں۔ عوام اور رہنمائوں کے سامنے ایک ہی ہدف ہے جس کے لیے وہ کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کتنا اخلاص رکھتے ہیں اس کا اندازہ قیامت کے دن ہوگا، جب عام لوگ دیکھیں گے کہ ہمارے لیڈر ہمیں کس برے انجام سے دوچار کرنے کا باعث بنے ہیں، ہم نے ان کی قیادت پر اندھا اعتماد کیا، لیکن آج وہ ہمیں جہنم کے دروازوں تک لے آئے ہیں۔ اس انجام کو دیکھ کر اور یہ گمان کرکے کہ ہمارے لیڈر ہی اس کا سبب بنے ہیں اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ یا اللہ اس واردات میں جو لوگ بھی شریک رہے ہیں اور جنھوں نے ہمیں ان برے حالوں تک پہنچایا ہے چاہے وہ انسان ہوں یا جنات ایک دفعہ تو انھیں ہمارے سامنے لے آ تاکہ ہم انھیں اپنے پائوں تلے روند کر اپنے دل کی بھڑاس نکالیں اور جس طرح وہ ہماری رسوائی کا باعث ہوئے ہیں ہم بھی انھیں پائوں تلے روند کر ذلت کی انتہاء تک پہنچا دیں۔ لیکن ان کا اس طرح سے غصے کا اظہار ان کے کسی کام نہ آئے گا جس طرح ان کے لیڈر جہنم میں پھینکے جائیں گے یہ بھی انھیں کی طرح جہنم میں ڈالے جائیں گے اور اس طرح سے دونوں اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
Ayah 41:30اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 30)
(بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقینا ان پر فرشتے نازل ہوں گے کہ اب نہ کوئی اندیشہ کرو اور نہ کوئی غم کرو، اور خوشخبری قبول کرو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ )
ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت
منکرینِ حق کا قیامت کے دن جو حشر ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے، پھر نہایت جرأت اور پامردی کے ساتھ اعلان کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اور پھر اس نعرے اور قول کے نتیجے میں جب ان پر مصائب کی بوچھاڑ ہوئی اور قدم قدم پر انھیں ادھیڑا اور کدھیڑا گیا تو بجائے سراسیمہ اور مضمحل ہونے کے استقامت کی تصویر بن گئے۔
اس میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں وہ درحقیقت اس کے رب ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ مشرکینِ عرب اگرچہ اللہ تعالیٰ کو مانتے اور اس کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کو رب تسلیم نہیں کرتے بلکہ انھوں نے بہت ساری دوسری قوتوں کو اپنا رب بنا رکھا ہے۔ اس کی حقیقت حضرت عدی بن حاتم طائی کے اس واقعہ سے کھلتی ہے جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس اسلام کی حقیقت جاننے اور ان پر ایمان لانے کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے انھیں حاتم طائی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بڑے لحاظ کے ساتھ اپنے گھر میں اپنی مسند پر بٹھایا۔ اور ان سے اسلام کی حقیقت کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ تو حضرت عدی بن حاتم طائی نے اپنے اشتباہات کو دور کرنے کے لیے آپ ﷺ سے ایک سوال کیا کہ میں نے مسلمانوں سے سنا ہے کہ وہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے عیسائیوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنا رکھا ہے۔ میں عیسائی ہوں، میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ہم نے اپنے احبارو رہبان کو کبھی رب نہیں مانا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے تو اس میں تو کسی ایسے غلط الزام کا وجود بھی ناقابلِ یقین ہے۔ تو پھر اس الزام کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ اور قرآن کریم کا یہ الزام بھی حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے آپ نے حضرت عدی بن حاتم طائی سے ایک سوال کیا کہ تم یہ بتائو کہ تم جب تحلیل و تحریم اور جائز و ناجائز کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے ہو تو کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی تورات کو دیکھتے ہو یا اپنے علماء سے پوچھتے ہو۔ اور تمہارے علماء تمہیں جو بتادیں وہ چاہے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تم اسے قبول کرلیتے ہو، جبکہ قانون سازی کا غیرمشروط حق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ شریعت کا سرچشمہ صرف اس کی ذات ہے اور اس کی کتابیں اسی کی طرف سے نازل کردہ ہیں اس لیے کتاب اللہ کے احکام کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی سند سمجھ کر قبول کرنا فرض اور واجب ہے۔ لیکن تم نے جب یہ حیثیت کتاب اللہ کی بجائے احبارو رہبان کو دے دی تو گویا تم نے احبارو رہبان کو اپنا رب بنا لیا۔ کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حقوق ان کی طرف منسوب کردیئے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم نے ارشاد فرمائی۔ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُہْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ” انھوں نے اللہ کے علاوہ اپنے احبارو رہبان کو اپنا رب بنا لیا۔ “ تو سب سے پہلی بات جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنا رب مانتے ہیں۔ یعنی وہ تحلیل و تحریم اور جائز و ناجائز کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو دیتے ہیں۔ وہ غیرمشروط اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی کرتے ہیں۔ کسی وضعی قانون کو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مقابلے میں پَرِ کا ہ کے برابر بھی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اور دوسری یہ بات فرمائی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب زبان ہی سے نہیں کہتے بلکہ ان کا عمل اور ان کا عزم بھی اس کی گواہی دیتا ہے۔ حالات چاہے کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں اور مخالفین مخالفت کا چاہے کیسا ہی طوفان کھڑا کردیں لیکن وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں کسی دوسرے کی شرکت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اور وہ اپنے اس عقیدے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ نہ طاقت انھیں جھکا سکتی ہے اور نہ دولت انھیں بہلا سکتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو یہاں استقامت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آیت میں مزید فرمایا گیا ہے کہ جب کوئی مومن اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر جم جاتا ہے تو پھر اس پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ ان فرشتوں کا نزول موت کے وقت یا قبر کی تنہائی میں ہوتا ہے اور وہ انھیں آکر تسلی دیتے ہیں کہ اب تمہارے لیے خوف و حزن کا کوئی موقع نہیں۔ اور بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول قیامت کے دن فیصلہ امور سے پہلے ان کی دلداری اور تسلی کے لیے ہوگا تاکہ وہ انھیں اطمینان دلائیں کہ بس اب آپ لوگوں کی آزمائش کا دور ختم ہوا اور اب آپ کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم۔ لیکن سلسلہ کلام کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرشتوں کا نزول کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ وہ موت کے وقت بھی آتے ہیں اور قبر میں بھی۔ اور قیامت کے دن بھی مختلف مواقع پر ان کا نزول ہوگا۔ اور ہر موقع پر وہ مومن کے لیے تسلی کا باعث ہوتے ہیں۔ بلکہ زیادہ واضح بات یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں جس طرح باطل پرستوں کے ساتھ ان کے ساتھی ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنا کردکھاتے ہیں کہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جو ظلم و ستم تم کررہے ہو اسی میں تمہاری کامیابی ہے اور اسی میں تمہاری سرداری اور تمہاری وجاہت کی بقاء مضمر ہے۔ اسی طرح فرشتے بھی اس وقت مومنوں پر اترتے ہیں جب ان پر مصائب کا ہجوم ہوتا ہے تو وہ انھیں یقین دلاتے ہیں کہ تم ان مصائب میں اپنے آپ کو لاوارث مت سمجھو، تمہارے یہ مصائب اور یہ غم عارضی ہیں۔ عنقریب تمہارے لیے کامیابی و کامرانی کے دروازے کھلنے والے ہیں اس لیے رنج و غم کا تمہارے لیے کوئی موقع نہیں، قیامت کے دن جنت تمہارے انتظار میں ہے، اس کی بشارت قبول کرو اور خوش ہوجاؤ۔
Ayah 41:31نَحْنُ اَوْلِیٰٓـؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج وَلَـکُمْ فِیْھَا مَاتَشْتَھِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَـکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 31)
(ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی رہے ہیں اور آخرت کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں، اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم چاہو گے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ )
صاحبِ ایمان لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں فرشتوں کی مصاحبت حاصل ہوتی ہے
جب کبھی نامساعد حالات میں تمہارا حوصلہ جواب دینے لگتا تو ہم تمہارے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ جب کبھی شیطانی قوتیں تمہیں مصائب کے سامنے جھکانے کے لیے ہراساں کرنے کی کوشش کرتیں تو ہم ہمیشہ تمہارے دل پر استقامت کی ٹھنڈک اتارتے تھے۔ تم اگرچہ ہمیں دیکھ نہیں پاتے تھے لیکن شیطانی وساوس سے محفوظ رکھنا اور حالات کو ایک حد سے بےقابو نہ ہونے دینا اور بڑی قوتوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے ہمت کا عطا ہونا، یہ تم نے بھی ہمیشہ محسوس کیا کہ کوئی غیرمرئی قوت ہے جو ہمارے لیے ایسا کررہی ہے۔ ظاہر ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تھے جو اس طرح اصحابِ ایمان کے ساتھ ہوتے اور ان کی مدد کرتے۔ اور اسی طرح ہم آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے کہ وہاں ہم قدم قدم پر تمہاری تسکین و اطمینان کا باعث بنیں گے، تمہارا استقبال کریں گے اور خوشی اور مسرتوں میں بیش از بیش اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور مزید فرمایا گیا کہ تم نے جو بےپناہ مصائب جھیلے ہیں ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا تصور تو کسی کے بس میں نہیں لیکن نہایت اجمال کے ساتھ یہ ذہن میں رکھو کہ وہاں تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی کبھی چاہت تمہارے دل میں پیدا ہوگی۔ اور وہ سب کچھ ملے گا جس کو کبھی تم طلب کرو گے۔ حالانکہ دنیا میں بڑے سے بڑا شہنشاہ بھی اس نعمت سے کبھی بہرہ ور نہیں ہوا۔ نہ جانے کتنے ارمان ہیں وہ جو دل ہی میں ساتھ لیے آخرت کو سدھار جاتا ہے، کتنے سکندر ہیں جو خالی ہاتھ دنیا سے جاتے ہیں۔ اور جب کامیابیاں ان کے سامنے ہوتی ہیں تو موت انھیں آدبوچتی ہے اور کتنے ایسے مطالبات ہیں جنھیں وہ اپنوں یا بیگانوں سے کرتے ہیں لیکن ان کے حصول میں کامیاب نہیں ہوتے۔ لیکن یہ غیرمعمولی بات اہل جنت کو حاصل ہوگی۔ کیونکہ وہ اس قادر مطلق کے مہمان ہوں گے جس کی قدرت کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں۔
Ayah 41:32نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 32)
(یہ ہے سامانِ ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے۔ )
نُزُلْ … مہمان کی ابتدائی ضیافت کو کہتے ہیں۔ یعنی جب کوئی مہمان ہمارے پاس اترتا ہے تو کھانے کے وقت سے پہلے یا کھانا تیار ہونے تک ہم کسی ٹھنڈے یا گرم مشروب سے مہمان کی ضیافت کرتے ہیں تو یہ اس کی ابتدائی مہمانی ہوتی ہے جس میں مہمان اور میزبان دونوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی چیزیں ہیں ابھی حقیقی ضیافت کا وقت نہیں آیا۔ اوپر کی آیت میں اصحابِ ایمان کے لیے جن نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو جاتے ہی ان کو جنت میں ملیں گی وہ ابتدائی مہمانی ہوگی۔ اور اس کا حال بھی یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن بڑی اور حقیقی مہمانی جو اس کے بعد ہوگی اور ہمیشہ جاری رہے گی وہ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر ہوگی۔ ہم صرف اس پر یقین کرسکتے ہیں، اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ اس کی حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔
Ayah 41:33وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَـآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 33)
(اور اس شخص سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ )
سب سے بہتر وہ ہے جو قول و عمل سے دین کی دعوت دیتا ہے
انتہائی بدترین حالات میں اور کافروں کی منہ زور مخالفت کے باوجود ان لوگوں کا رویہ یقینا انتہائی قابل تحسین ہے اور یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹے ہوئے دلوں اور زخم زخم جسموں پر تسکین و اطمینان کا مرہم رکھتے ہیں۔ جن لوگوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنا رب بنایا، اس کے قانون کو اپنا قانون سمجھا، اس کی اطاعت کو زندگی کا رویہ بنا لیا اور دنیا بھر کے مخالفین کی مخالفت کے باوجود استقامت کی تصویر بنے رہے۔ یہ وہ بات ہے جو آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسکین دیتے ہوئے گزشتہ آیتوں میں فرمائی گئی ہے۔ اب ایک قدم آگے بڑھ کر یہ فرمایا جارہا ہے کہ بات صرف اقرار اور استقامت کی نہیں بلکہ جس اللہ کی اطاعت کا عہد کیا ہے اور جس اللہ کو اپنا رب ماننے کا اعلان کیا ہے بات اس کے دین کی دعوت کی بھی ہے۔ سب سے زیادہ قابل قدر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مستحق وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو رب ماننے اور ہر طرح کے حالات میں استقامت کی تصویر بن جانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دیتا ہے، اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی۔ کیونکہ اسے یہ بات بتادی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین انفرادی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اجتماعی تبدیلی کے لیے آیا ہے، وہ ایک ہمہ گیر انقلاب ہے۔ اس میں صرف اپنے ضمیر کو روشن کرنا کافی نہیں بلکہ اس روشنی کو عام کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کی مشعل صرف اپنے گھر میں جلتی رہنے سے اس کا وہ حقیقی مقصد پورا نہیں ہوتا جب تک وہ مشعل ہر گھر میں نہیں پہنچتی۔ اور اس کی روشنی سے ماحول منور نہیں ہوجاتا۔ اس لیے سب سے بہتر بات اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دیتا ہے اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی، کہ اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی عقائد اس دین کی بنیاد بنائے ہیں اور جن چیزوں کو ضروریات دین قرار دیا گیا ہے وہ ہر شخص کے سامنے ان میں سے ایک ایک بات کی وضاحت کرتا ہے اور ان کے دلوں کو ان بنیادی صداقتوں پر مطمئن کرنے اور دماغوں کے شک و ارتیاب کے کانٹے چننے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر اسلام کے مخالفین اس کے قول و عمل کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور ان کی مخالفت بعض دفعہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر جاتی ہے۔ تو وہ بجائے منقارِزیر پر ہونے کے پوری جرأت سے اپنے مسلمان ہونے اور اپنے فرمانبردار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ اور کوشش کرتا ہے کہ وہ ماحول جو کفر اور انکار کے کہر میں ڈوب گیا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کے دین کی بات کہنا موت کی دعوت دینے کے مترادف ہوگیا ہے میں اس ماحول کو اپنی جرأت و استقامت اور اپنے عمل کی قوت سے اگر تار تار نہ کرسکا تو ایک چراغ جلا کر آنے والوں کو روشنی مہیا کرنے کی کوشش ضرور کروں گا تاکہ تاریکیاں ان پر حملہ آور ہو کر ان کی منزل کھوٹی کرنے کی کوشش نہ کریں۔