Ayah 41:48وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَظَنُّوْا مَالَھُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 48)
(اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ سارے معبود جن کو وہ اس سے پہلے پکارتے رہے تھے اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
گزشتہ آیت کے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جنھیں تم نے میرا شریک بنا رکھا تھا تو اللہ کی طرف سے پکار اور قیامت کی ہولناکی سے ان تمام معبودوں کا تصور ان کے دماغ سے نکل جائے گا اور انھیں یقین ہوجائے گا کہ جنھیں ہم نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنا معبود بنا رکھا تھا یا جن کی شفاعت پر ہم بھروسہ رکھتے تھے وہ آج ہمارے کام آنے والے نہیں۔ آج اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں، اور آج کوئی نکلنے کا راستہ نہیں جس سے نکل کر ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں۔ اور آج کسی کی پناہ ہمارے کام نہیں آسکتی۔
Ayah 41:49لاَ یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَـآئِ الْخَیْرِ ز وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّفَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 49)
(انسان کبھی بھلائی کی دعا سے نہیں تھکتا، اور اگر اس کو کوئی تکلیف آجائے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے۔ )
مخالفین کا نفسیاتی تجزیہ
وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کی مخالفت میں بڑھ بڑھ کر باتیں بناتا اور قیامت کے حوالے سے مذاق اڑانے سے باز نہیں آتا اور بات بات پر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے اس کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی حوصلہ مندی کا حال یہ ہے کہ کبھی اپنے لیے کانٹے کی چبھن کو پسند نہیں کرتا۔ اولاً تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے روگردانی اس کا معمول بن جاتا ہے لیکن جب کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا موقع آتا ہے تو وہ ہمیشہ اس سے بھلائی اور خیر کی دعائیں کرتا ہے۔ خیر سے مراد یہاں نیکی یا آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیوی نعمتیں اور اس کی سرفرازیاں ہیں۔ وہ غموں سے لرزاں و ترساں اور خوشیوں کا حریص رہتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کو بھی اپنے لیے بڑی مصیبت جانتا ہے۔ اس لیے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے فائدے کی طلب کی بات کرے۔ لیکن اگر کبھی اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے، کوئی ناگوار بات ہوجاتی ہے، کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ سے ہر امید توڑ بیٹھتا ہے، نہایت مایوس اور دل شکستہ ہوجاتا ہے۔ یعنی خوشحالی اسے مزید خوشحالی کی طلب دیتی ہے اور تکلیفیں اسے مایوس اور دل شکستہ کردیتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی کمزور شخصیت کا مالک اور حوصلوں کے اعتبار سے کتنا مفلس انسان ہے۔
Ayah 41:50وَلَئِنْ اَذَقْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْ م بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْۃُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ لا وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَـآئِمَۃً لا وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْٓ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی ج فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا ز وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 50)
(اور اگر ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اسی کا مستحق ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو بیشک میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہی ہے، پس ہم ضرور آگاہ کریں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال سے متعلق، اور انھیں ایک سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
وہ شخص جو تکلیف پہنچنے سے مایوس اور دل شکستہ ہوجاتا ہے اس کے مزاج کے تلون کا سفر یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی غیرمتوازن طبیعت کا حال یہ ہے کہ اگر ہم تکلیف سے اسے نجات دے دیتے ہیں مثلاً وہ بیمار تھا ہم اس کو صحت دے دیتے ہیں، اس کا کاروبار تباہ ہوگیا تھا ہم بحال کردیتے ہیں اور مزید نوازشات کی بارش کرتے ہیں، تو بجائے شکرگزار ہونے کے برخودغلط ہوجاتا ہے۔ اپنی اس بدلی ہوئی حالت کو اللہ تعالیٰ کی نوازشات سمجھنے کی بجائے اپنا استحقاق سمجھنے لگتا ہے کہ مجھ پر جو مصیبت آئی وہ دنوں کا پھیر تھا، ایسے تغیرات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اصلاً میرا استحقاق یہ ہے کہ میں ہمیشہ خوشحالی کے جھولے جھولوں۔ اور عیش و عشرت میں شب و روز گزاروں۔ اور اگر کوئی ہمدرد اور بہی خواہ اسے توجہ دلاتا ہے کہ اگلی فکر بھی کرو، قیامت یقینا آئے گی، وہاں اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے تو فوراً پکار اٹھتا ہے کہ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ قیامت بھی کبھی آئے گی۔ یہ تو محض لوگوں کے بہلاوے ہیں۔
کہاں کا آنا کہاں کا جانا فریب ہے امتیازِ عقبیٰ
نمود ہر شے میں ہے ہماری کوئی ہمارا وطن نہیں ہے
بفرضِ محال اگر قیامت آہی گئی اور میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو مجھے یقین ہے کہ وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس میرے لیے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ وہاں بھی مزے ہی مزے ہیں۔ جس نے دنیا میں بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ آخرت میں ہمیں ان سے محروم رکھے جیسے میری دنیا شاندار ہے ایسے ہی میرا انجام بھی شاندار ہوگا۔ پروردگار نے اس پر نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ یہ لوگ خود فریبی کا شکار ہیں نہ جانے کس جنت الحمقاء میں بستے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم آخرت میں ان کے اعمال ان کے سامنے رکھیں گے۔ یہ اپنے اعمال دیکھ کر ہی اپنے سر پیٹ لیں گے۔ انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہم دنیا میں جو کچھ کرتے رہے ہیں آج اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا۔ پھر اس کا نیتجہ ان کے سامنے آئے گا جب ہم انھیں ایک عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 41:51وَاِذَٓا اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَـاٰ بِجَانِبِہٖ ج وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّفَذُوْدُعَـآئٍ عَرِیْضٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 51)
(جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور پہلو بچا کے نکل جاتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا بن جاتا ہے۔ )
انسان کی غیرمتوازن شخصیت کا ایک انداز
انسان کی غیرمتوازن شخصیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب ہم اسے نعمتوں سے نوازتے اور اپنے فضل و کرم سے گراں بار کردیتے ہیں تو بجائے شکرگزار ہونے کے اسے دولت کا خمار آپکڑتا ہے اور غرور و استکبار اس کی شخصیت کا لازمہ بن جاتا ہے۔ اب وہ اللہ تعالیٰ کے شکر سے اعراض کرتا اور اس کے ذکر سے پہلو بچاتا اور کندھے جھکٹتا ہوا وہاں سے چل دیتا ہے۔ بھلائی اور نیکی کی ہر بات سے اسے تنفر ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور انسانی رشتوں سے اسے اس حد تک بیگانگی ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اکڑتا اور انسانوں سے بھی تکبر سے معاملہ کرتا ہے۔ لیکن اس کی شخصیت کے بودے پن کا حال یہ ہے کہ یہ غروروتکبر اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دولت کی توانائی اس کے احساس کو قوت بخشتی رہتی ہے۔ لیکن جب اسے کوئی مصیبت آپکڑتی ہے، ناکامیاں اور تکالیف اسے گھیر لیتی ہیں، کا وبار مندا پڑجاتا ہے اور محرومیاں اس کا مقدر معلوم ہونے لگتی ہیں تو پھر یہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بھی اعراض کرتا تھا اور جسے عاجزی اور انکساری چھو کے بھی نہیں گئی تھی، اب اللہ تعالیٰ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے والا بن جاتا ہے۔ آیت میں لمبی دعائوں کو چوڑی دعائوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ جس کی چوڑائی غیرمعمولی ہو اس کی لمبائی خودبخود غیرمعمولی دکھائی دینے لگتی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں لمبی دعائوں کو پسند کیا گیا ہے، لیکن ان سے مراد وہ دعائیں ہیں جنھیں اخلاص، للہیت اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے احساس نے طویل کیا ہو۔ لیکن وہ دعائیں جو محض اپنی ضرورت کے باعث طویل و عریض ہوتی ہیں اور حرص اور خودغرضی جنھیں طویل و عریض کرتی ہے وہ ممدوح و محبوب نہیں بلکہ مذموم ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت کس قدر کمزور اور ان کا طنطنہ کس قدر بےبنیاد ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں۔
Ayah 41:52قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ھُوَفِیْ شِقَاقٍ م بَعِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 52)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے تم نے کبھی غور کیا کہ اگر واقعی یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا تو اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو۔ )
منکرینِ قرآن سے ایک سوال
پروردگار نے اس آیت کے آغاز میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو اپنے رویئے پر غور و فکر کی دعوت دیں، کیونکہ بات صرف اتنی سادہ نہیں کہ آپ کی دعوت کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی دعوت کے قبول کرنے یا رد کردینے پر ان کے انجام کا دارومدار ہے بیوقوف سے بھی بیوقوف آدمی کبھی کسی ایسی بات کا فیصلہ گہرے غور و فکر کے بغیر نہیں کرتا جس پر اس کی زندگی کے کسی بڑے مسئلے کا انحصار ہو۔ لیکن اگر وہ مسئلہ اس کے دنیوی اور اخروی انجام سے متعلق ہے تو پھر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس کا فیصلہ کس قدر سنجیدگی، باہمی مشاورت اور دل و دماغ کی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لا کر کرے گا۔ نبی کریم ﷺ کی دعوت کا تعلق انسانوں کے دنیوی انجام سے بھی ہے اور اخروی انجام سے بھی۔ دنیا بھی ان کی معرض خطر میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کی تکذیب نزول عذاب کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ اور آخرت میں بھی یقینی سزا سے واسطہ پڑنے کا اندیشہ ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول نہ کیا گیا۔ لیکن قریش اور دیگر اہل مکہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ساتھ غیرسنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اس سے کہیں بھی یہ مترشیح نہیں ہوتا کہ وہ نہایت فکرمندی کے ساتھ اپنے انجام کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم معاملہ جس سے انسان کی فوز و فلاح کا تعلق ہو انسان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تو وہ اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے یقینا اس کے صحیح اور غلط ہونے کے جتنے ممکن ذرائع ہوسکتے ہیں انھیں بروئے کار لا کر فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ کی نبوت یقینا اپنے ساتھ دو پہلو رکھتی ہے کہ یا وہ صحیح ہے اور یا وہ غلط ہے۔ اور سرسری نگاہ میں دونوں پہلو برابر دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ فیصلہ ہونے تک ہر خبر اور ہر نظریئے کے بارے میں یہ دونوں باتیں سامنے ہوتی ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ غلط ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہی صحیح ہو۔ اور یہ بات واضح ہے کہ کسی مضبوط دلیل سے ابھی تک لوگوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو غلط ثابت نہیں کیا گیا۔ تو پھر اس صورتحال کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم انتہائی سنجیدگی اور فکرمندی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کے بارے میں اس طرح فیصلہ کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ اس بات کو بہرحال رد نہیں کیا جاسکتا کہ جس طرح اس دعوت کے غلط ہونے کے امکانات ہیں اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ صحیح ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ آپ نے اگر غور و فکر کیے بغیر اس دعوت کو رد کردیا اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے سے انکار کردیا اور اس کی مخالفت اور مخاصمت میں بڑھتے چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس منزل پر پہنچ جائیں جہاں سے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے۔
دونوں پہلوئوں پر غور کرنے کی صورت میں ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ اگر آپ کے انکار کا پہلو درست نکلا تو تمہارے اپنے خیال کے مطابق زیادہ سے زیادہ بس یہی ہوگا کہ ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں یکساں رہیں گے کیونکہ دونوں ہی کو مر کر مٹی میں مل جانا ہے اور آگے کوئی زندگی نہیں ہے۔ لیکن اگر دوسرا پہلو صحیح نکلا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو پھر سوچ لو کہ اس کا انکار کرکے اور اس کی مخالفت میں اتنی دور جا کر کس انجام سے دوچار ہونے کا اندیشہ ہے۔
Ayah 41:53سَنُرِیْہِمْ اٰیٰـتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّـہُ الْحَقُّ ط اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 53)
(عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے۔ )
قرآن کریم کی صداقت پر دلائل
گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفین کے اپنے نفع و ضرر کے حوالے سے نہایت دھیمے انداز میں انھیں قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی دعوت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور عقلی اسلوب اختیار کرتے ہوئے انھیں عقل سے کام لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں مخالفین کو تہدید کرتے ہوئے آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم نہ نصیحت قبول کرتے ہو اور نہ کوئی عقل کی بات تمہیں پسند آتی ہے، بلکہ بات بات پر نشانیاں طلب کرتے ہو۔ ہم تمہارے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے عنقریب تمہیں ایسی نشانیاں دکھائیں گے جن کا تعلق آفاق سے بھی ہوگا اور انفس سے بھی۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی جس دعوت پر تم نے مکہ کی سرزمین تنگ کردی اور اپنے دل اس کے لیے سخت کردیئے اور اس پر تم خوش ہو کہ تم نے اس دعوت کے راستے مسدود کردیئے، لیکن عنقریب تم دیکھو گے کہ علاقوں پر علاقے فتح ہوتے چلے جائیں گے، لوگوں کی گردنیں ہی نہیں بلکہ ان کے دل بھی اس دعوت کے سامنے جھک جائیں گے۔ جس دعوت کو تمہاری نگاہ میں چند نفوسِ قدسیہ کے سوا کسی نے قبول کرنا پسند نہیں کیا وہی دعوت عرب و عجم کا سب سے بڑا انقلاب بن جائے گی۔ تمہارے اپنے گھروں سے خاموشی سے اسلام قبول کرنے والے اٹھیں گے اور وہ خود اپنے لیے نئے نئے راستے نکالیں گے۔ چناچہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد اہل مدینہ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کا حق ادا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس دین اور اس کے قبول کرنے والوں کو ایسی پذیرائی بخشی کہ ان کے اخلاص کا دامن پھیلتا چلا گیا۔ چند ہی سالوں میں مکہ ان کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔ حنین اور ثقیف کی وادیاں ان کے سامنے جھک گئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے جزیرہ عرب سے وفود کی آمد کا تانتا بندھ گیا۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کی تیار کردہ امت کے سرفروش جب جزیرہ عرب سے باہر نکلے تو ملکوں کے ملک ان کے سامنے بچھتے چلے گئے۔ ربع صدی گزرنے نہ پائی کہ مشرق وسطیٰ اسلام کی آغوش میں آگیا۔ مزید قدم آگے بڑھا تو نہ صرف ایشیا ان کے سامنے سمٹ گیا بلکہ یورپ کے بعض علاقوں کے دروازے بھی کھل گئے۔ اور پھر یہ فتوحات صرف سروں کے جھکنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ لوگوں نے اپنا دین تک بدل ڈالا، اپنی زبانیں بدل لیں۔ اور ایک بہت بڑی تعداد ہر ملک سے مبلغین اور مجاہدین کی نکلی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں ان تمام خصوصیات کو نمایاں کیا جو کبھی صرف زہاد اور عباد میں دیکھی جاسکتی تھی۔ انھوں نے جس طرح عبادات کے چراغ جلائے، اخلاق کی شمع روشن کی، علم کا شوق پیدا کیا، معاملات کی ادائیگی میں خوف خدا کو بنیاد بنایا، ہر انسان کو مسؤلیت کے لیے فکرمند بنایا۔ حتیٰ کہ جب اس دور کی سب سے بڑی حکومت کے چلانے کی ذمہ داریاں ان پر ڈالی گئیں تو دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہ لوگ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے درویش اور فقیر تھے اسی طرح حکومتوں کے تخت نشین ہو کر بھی فقیر کے فقیر ہی رہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
ان کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب
سلطنتِ اہل دیں فقر ہے شاہی نہیں
آخر میں فرمایا کہ غلبہ حق کی جو بشارت تمہیں دی جارہی ہے اس کا تعلق اگرچہ مستقبل سے ہے لیکن تمہارا رب ماضی، حال اور مستقبل کی ہر چیز سے واقف ہے اس لیے اس کی کوئی بات اور کوئی وعدہ بھی وقت کی تنگنائی میں سمٹا ہوا نہیں ہوتا۔ وہ ہر دور کی ہر بات سے واقف ہے۔ اس کا وعدہ جس طرح آج اپنی نمود دکھا رہا ہے اس کا مستقبل بھی اسی سے روشن ہوگا۔
Ayah 41:54اَ لَآ اِنَّھُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَـآئِ رَبِّھِمْ ط اَ لَآ اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ مُّحِیْطٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 54)
(آگاہ رہو یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں، خبردار وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ )
معاندین کی اصل علت فساد
سورة کی اس آخری آیت میں معاندین اور مخالفین کی اصل علت فساد سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ ان لوگوں پر نہ نصیحت اثر کرتی ہے نہ کوئی تنبیہ اثرانداز ہوتی ہے اور بڑی سے بڑی بات کو بھی یہ لوگ سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دلآویز شخصیت انتہائی ہمدردی اور غمگساری سے انھیں ان کے انجام سے فکرمند کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ چکنے گھڑے ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے والے کی حیرانی کو دور کرنے کے لیے ان کی اصل خرابی کی اطلاع دی کہ ان کے عقیدہ و عمل کے فساد کا اصل سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور قیامت کے دن اس کے سامنے جواب دہی کے بارے میں انھیں شک ہے۔ گمان یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں ہمیں جو کچھ کہا جارہا ہے اس کی حیثیت ڈراوے اور بہکاوے سے زیادہ نہیں۔ ان کے اسی تصور نے انھیں زندگی کے معاملات میں ناعاقبت اندیش اور حق کی مخالفت میں دلیر بنادیا ہے۔ انھیں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں۔ اور کوئی شخص اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں نکل سکتا۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، کوئی شخص اس کے ارادے کو چیلنج نہیں کرسکتا۔