40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsروح القرآن

Ayahs 40:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِالذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِالْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ط اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 1 تا 3) (ح۔ م اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) کتاب کا نزول احسان بھی ہے اور مخالفین کے لیے تنبیہ بھی حٰـمٓ … حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة فاتحہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ اتنی عظیم کتاب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا نازل کرنا خاص اہتمام سے ہوا ہے۔ اس طرح سے اس نے نوع انسانی پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ کیونکہ تنزیل میں اہتمام کا معنی بھی شامل ہے۔ اب جو لوگ بھی اس کتاب کو پڑھیں اور اس سے استفادہ کریں اور اسے زندگی کا رہنما بنائیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے شکرگزار ہوں کہ اس نے ہماری ہدایت کے لیے ایک عظیم اہتمام فرمایا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ مخالفین اور منکرین کے لیے تنبیہ بھی کہ اگر انھوں نے اس کتاب سے ہدایت حاصل کرنے سے انکار کردیا یا سرے سے اسے منزل من اللہ ہی تسلیم نہ کیا تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس پروردگار نے اس اہتمام کے ساتھ یہ کتاب اتاری ہے وہ عزیز بھی ہے۔ یعنی سب پر غالب ہے۔ اس کا فیصلہ نافذ ہو کر ہی رہتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے، وہ مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دینے پر قادر ہے، کسی کی مجال نہیں کہ اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔ اس کتاب کے نازل کرنے والا علم کی نارسائی سے پاک ہے مزید فرمایا کہ وہ علیم بھی ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ دنیا کی ہر کتاب کا لکھنے والا اپنی ذہانت، اپنے تجربے اور اپنے اندازے کے مطابق لکھتا ہے۔ اور انسانی علم چونکہ غلطیوں سے پاک نہیں اور مزید یہ کہ وہ محدود بھی ہے۔ کیونکہ علم و معرفت کے جتنے ذرائع ہیں وہ حس و ادراک سے باہر نہیں۔ اس لیے جو باتیں وہ ماورائے حِس و ادراک حقیقتوں کے متعلق لکھی جاتی ہیں وہ محض ظن وتخمین پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کے غلط ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دنیا کی واحد کتاب ہے کہ جس کا نازل کرنے والا جس طرح حس و ادراک کی دنیا سے باخبر ہے، اسی طرح ماورائے حِس و ادراک حقائق سے بھی آگاہ ہے۔ اس کے سامنے نہ علم کی تقسیم ہے نہ علمی ذرائع کی۔ جو چیز انسان کی استطاعت سے باہر ہے وہ اس کے لیے سامنے کی چیز ہے۔ وہ باطن کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو جانتا ہے۔ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اس کتاب سے استفادہ کرنے والا درحقیقت علم کے ایسے سرچشمے سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے جو انسان کا خالق بھی ہے اور انسان کی فلاح و کامرانی کے بنیادی اور یقینی اسباب کو جانتا بھی ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں انسانی بہتری کے لیے جو اصول و قوانین دیئے ہیں اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی ہر تعلیم حکمت اور علم صحیح پر مبنی ہے۔ لہٰذا اس کی ہدایات کو قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آدمی علم سے نہیں بلکہ جہالت سے وابستہ رہنا چاہتا ہے اور اسے فوزوفلاح سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ تباہی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ اس کے علیم ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قرآن کریم کی تنزیل کے بعد مکہ میں جو کشمکش برپا ہے اس کی نوعیت کیا ہے، وہ کس مرحلے میں ہے، اس کے حقیقی محرکات کیا ہیں، اور مخالفین اس نئے دین کا راستہ روکنے کے لیے کیا سوچ رہے اور کیا کررہے ہیں، اور وہ کیسی کیسی سازشوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اس کتاب کا نازل کرنے والا مخالفین کی ایک ایک حرکت سے آگاہ ہے۔ اس لیے مخالفت کرنے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ یہ کتاب کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز وعلیم کا اتارا ہوا صحیفہ ٔ ہدایت ہے۔ پروردگار کی چند صفات کا ذکر تیسری آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنی مزید صفات بیان فرمائی ہیں جن میں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ پروردگار جس نے یہ کتاب اتاری ہے وہ گناہ بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ دونوں صفات بظاہر ایک ہی نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ پہلی صفت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اور اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے گناہوں کی معافی کسی صورت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے اگر ہم اسلام قبول بھی کرلیں تو ہم اپنے گناہوں کی پاداش میں قیامت کے دن یقینا پکڑے جائیں گے۔ تو ہمارے لیے اسلام کی قبولیت کیا معنی رکھتی ہے۔ ان کے لیے روشنی کا ایک دریچہ کھولا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ انھوں نے بندگی کی حدود سے بےپناہ تجاوز کیا ہے، لیکن انھیں امید رکھنی چاہیے کہ اگر وہ اپنی زندگی کو بدلنے کے لیے ایمان کا راستہ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ اتنا رحیم ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی اطاعت میں اخلاص سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو نہ صرف اس کے ایمان اور اس کی نیکیوں کو قبول کیا جائے گا بلکہ اگر اس راستے میں اس سے چھوٹی بڑی غلطیاں بھی ہوں جنھیں صغیرہ گناہ کہا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صغائر کو اس کی نیکیوں کی وجہ سے بخش دے گا۔ چاہے وہ اپنی غلطیوں کو خود بھول بھی چکا ہو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے دل و دماغ میں بندگی اس حد تک اتر گئی ہو کہ سرکشی کے داغ تک مٹ چکے ہوں۔ پھر نہ صرف پروردگار نیکیوں کے بدلے میں خطائیں معاف فرمائے گا بلکہ اگر وہ کبھی کسی تکلیف یا مصیبت میں مبتلا ہوگا یا کبھی کسی بیماری سے دوچار ہوگا، تو تکلیفیں اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔ لیکن اگر اس نے کبائر کا ارتکاب کیا یعنی اس سے بڑے بڑے گناہوں کا صدور ہوا، یعنی ایسے گناہ جن سے قرآن و سنت میں تاکید سے روکا گیا ہو یا جن کے کرنے والوں پر لعنت کی گئی ہے یا جن گناہوں پر سابقہ قوموں پر عذاب نازل ہوچکے ہیں ایسے گناہ، گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں۔ اس کی بخشش کے لیے توبہ ضروری ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسا رجوع جس میں اپنے گناہوں پر ندامت، آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد، اللہ تعالیٰ کے سامنے رو رو کر گناہوں سے معافی شامل ہو، تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کردیتا ہے۔ لیکن اگر ان گناہوں کا تعلق فرائض سے ہو جن کی قضاء ہوسکتی ہے تو پھر ان کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر ان کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس کوتاہی کی معافی بھی کہ میں بروقت ان فرائض کو ادا نہ کرسکا اور مجھ سے ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی تو یقینا ایسا مومن اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا پائے گا۔ دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سخت عذاب دینے والا ہے یعنی کوئی آدمی یہ دیکھ کر کہ لوگ گناہ پر گناہ کرتے ہیں لیکن کبھی ان پر گرفت نہیں ہوتی، گناہوں پر دلیر ہوتا جائے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو محض ایک افسانہ سمجھے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔ وہ سنبھلنے کا موقع دیتا ہے اس لیے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اور اسے یہ اندیشہ بھی نہیں ہوتا کہ اگر میں نے گرفت نہ کی تو یہ مجرم میری دسترس سے نکل جائے گا۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص بغاوت و سرکشی میں تمام حدود کو پامال کرگیا ہے تو پھر وہ اسے مزید مہلت نہیں دیتا۔ لیکن پھر اس کی سزا ایسی ہولناک ہوتی ہے کہ جس کا تصور بھی کپکپی پیدا کردینے والا ہے۔ تیسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ طول والا ہے۔ طَول کا معنی قدرت کے بھی ہیں اور فضل و کرم کے بھی۔ اگر تقابل کے اصول کو ملحوظ رکھا جائے تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ بڑی قدرت والا ہے، کسی شخص کو یہ گمان نہ ہو کہ کوئی اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ وہ ایسی قدرت والا ہے کہ ایک لمحے میں ساری کائنات کو تباہ کرسکتا ہے اور پھر اسے زندہ بھی کرسکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ترجمہ فضل و کرم کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس کا عذاب بےپناہ ہے اور اس کی گرفت انتہائی شدید ہے، اسی طرح اس کی رحمت بھی بےپایاں ہے۔ وہ کشادہ دست، غنی اور فیاض بھی ہے۔ تمام مخلوقات اسی کے خوان کرم سے فیض پا رہی ہیں۔ جس کو جو کچھ مل رہا ہے وہ سب اس کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ حاصل ان صفات کا یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اِلٰہ اور معبود نہیں۔ اور آخر ایک دن سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ہر ایک کو وہی نوازتا ہے، وہی پکڑتا ہے، وہی رحمت کا معاملہ کرتا ہے، وہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ تو پھر اس کے سوا کسی اور معبود کے لیے کیا گنجائش ہے۔ اور مر کر آخر جانا بھی اسی کے حضور ہے۔ اسی کے سامنے اپنے ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ وہاں اس کے اذن کے بغیر کوئی کسی کے لیے سفارش نہ کرسکے گا۔ کس قدر حماقت کی بات ہے کہ اتنے واضح حقائق کے بعد بھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرے یا غلط سہاروں پر زندگی گزارے۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی آیات میں کج بحثیاں نہیں کرتے، مگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو ملکوں میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکہ میں نہ ڈالے

مَایُجَادِلُ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلاَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلاَ یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُھُمْ فِی الْبِلاَدِ ۔ (المؤمن : 4) (اللہ کی آیات میں کج بحثیاں نہیں کرتے، مگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو ملکوں میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ ) کج بحثی کرنے والوں کو تنبیہ اور ان کی بظاہر خوشحالی سے بےنیازی کی ترغیب نبی کریم ﷺ اور آپ کی دعوت کے مخالفین ہمیشہ یہ کوشش کرتے کہ اسلام کی دعوت کے حوالے سے کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی بات ہانکتے رہیں۔ قرآن کریم کی کسی آیت کے بارے میں کبھی کوئی نکتہ اٹھاتے، کبھی کوئی بحث چھیڑتے، کبھی کسی بات کی میں میخ نکالتے، کبھی کسی آیت کے حوالے سے شبہات و الزامات کی عمارتیں کھڑی کردیتے۔ کلام کے اصل مدعا کو نظرانداز کرکے اس کو غلط معنی پہناتے۔ اس طرح سے ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو اصل دعوت سمجھنے کا موقع نہ دیا جائے اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو اصل کام کرنے کی بجائے راستے کے ان ہی کانٹوں کو چننے پر لگا دیا جائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کسی دعوت کو ناکام کرنے یا اس کی منزل کھوٹی کرنے کا یہ ایک نیا طریقہ ہے جس کو آج کے دور نے ایجاد کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کوئی برائی نئی نہیں ہوتی بلکہ اس کا سررشتہ کسی نہ کسی طرح دوسری برائی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے۔ اسی طرح حق کا راستہ روکنے کے جتنے ذرائع ہیں وہ حالات کے مطابق ہر دور میں یکساں ہوتے ہیں۔ آج بھی سب سے زیادہ زور بات کو بگاڑنے، کج بحثی کرنے، عبارت کو کانٹ چھانٹ کر اپنے ڈھب کا مطلب پیدا کرنے اور الفاظ کو سیاق وسباق سے کاٹ کر کچھ سے کچھ بنا دینے کا فن عروج پر ہے۔ اور اسی کو اس دور میں بھی استعمال کیا جاتا تھا جس کا قرآن کریم ذکر کررہا ہے۔ اور مزید غلط فہمی یہ پیدا کی جاتی تھی کہ بڑے کاروبار والے لوگوں کا مختلف شہروں اور مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے کاروبار اور خوشحالی کی مختلف صورتوں کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا کہ اتنے بڑے کاروبار والے لوگ جو ملکوں ملکوں اور شہروں شہروں میں اپنے کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے دوڑے بھاگے پھر رہے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ ساری خوشحالی اس لیے دے رکھی ہے کہ وہ کل کو جہنم کا ایندھن بننے والے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے نہایت گرے ہوئے لوگ ہیں، یقینا ایسا نہیں ہوسکتا، کوئی درباری اپنے بادشاہ کی نظر سے گر کر کبھی کسی بڑے منصب کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ اور نہ اس کے گھر میں خوشی کے شادیانے بجتے ہیں۔ لیکن جس کو صاحب منصب اور امیر کبیر دیکھا جاتا ہے تو یقینا اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بادشاہ کا منظورِنظر اور اس کی نگاہوں میں عزت والا ہے۔ اس کا رد کرتے ہوئے پروردگار فرما رہا ہے، اے پیغمبر ! آپ ان کے کاروبار اور ان کی اس چلت پھرت کو دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلاء نہ ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں۔ ہم نے ان کو یہ سب کچھ ان کی آزمائش کے لیے دیا ہے اور ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ پانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندے رہتے ہیں یا اس کے بداطوار بندے بن کر کافر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس امانت سمجھتا ہے تو وہ ہمیشہ اس کا حق ادا کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہ کبھی اس سے سرکشی اختیار نہیں کرتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ بھی کبھی یہ طرزعمل اختیار نہیں کرسکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو غلط استعمال کرے اور یا اس کی آیات میں میں میخ نکالے۔ یہ باتیں صرف کافر کو زیب دیتی ہیں۔ تو جب تک یہ لوگ اپنے کفر سے تائب نہیں ہوتے اس وقت تک ان سے ایسی حرکتوں کا صدور قابل تعجب نہیں۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے اور اس کے بعد کئی گروہ بھی جھٹلا چکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا، اور انھوں نے کوشش کی باطل کے ذریعہ سے، تاکہ اس سے حق کو پسپا کردیں، تو میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر کیسا تھا میرا عذاب

کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نْوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْ م بَعْدِھِمْ ص وَھَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍ م بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ ھوَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ۔ (المؤمن : 5) (ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے اور ان کے بعد کئی گروہ بھی جھٹلا چکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا، اور انھوں نے کوشش کی باطل کے ذریعے سے تاکہ اس سے حق کو پسپا کردیں، تو میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر کیسا تھا میرا عذاب۔ ) مخالفین کے انجام پر تاریخ سے استشہاد اوپر کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ شہروں اور ملکوں میں ان کی چلت پھرت، دوڑبھاگ اور لمبا چوڑا کاروبار آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈالے کہ یہ لوگ شاید اللہ تعالیٰ کے منظورِ نظر ہیں اور اپنی سرکشی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر شہروں میں پھیلا ہوا کاروبار اور ملکوں پر تسلط، ٹھاٹ باٹ اور کروفر کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکتا تو پھر کم از کم ان قوموں پر عذاب نہ آتا جو اس زمین پر حکومت کرچکی ہیں اور بہت بڑی دولت و رفاہیت کی مالک تھیں اور اپنے وقتوں میں کوئی دوسری قوم ان کی ہم پلہ نہ تھی۔ چناچہ اس کی تائید میں پیش نظر آیت کریمہ میں چند قوموں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ ان میں سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مقابلے میں ان کے مخالفین نہ صرف کاروبار پر بلکہ ملک پر قابض تھے اور نہایت طمطراق سے ملک چلا رہے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب انھیں پکڑا تو کسی ایک بچے کو بھی زندہ نہیں چھوڑا۔ اسی طرح ان کے بعد کتنی قومیں آئیں جنھوں نے یہی رویہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تباہ کردی گئیں۔ اس سے اشارہ عادوثمود اور دوسری معذب قوموں کی طرف ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے رسول کو گرفتار کرنا چاہا اور اپنی فضول بحثوں اور کج بحثیوں سے حق کو پسپا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ہاتھ ڈالیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کتنا شدید تھا اور یہ قومیں کس بری طرح پامال ہوئیں۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کیونکہ جس زمانے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے اس وقت قریش آنحضرت ﷺ کو گرفتار کرنے اور محبوس کردینے کے مشورے کررہے تھے۔ چناچہ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر تم کوئی اس قسم کا اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہو تو اس کے نتائج پر اچھی طرح غور کرلو۔ جس طرح پہلی قومیں اپنی اس طرح کی حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں، تم اس طرح کے اقدامات سے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہ دو ۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اس طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر چسپاں ہوچکی ہے جنھوں نے کفر کیا کہ یہ لوگ جہنم میں پڑنے والے ہیں

وَکَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ۔ (المؤمن : 6) ( اور اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر چسپاں ہوچکی ہے جنھوں نے کفر کیا کہ یہ لوگ جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کا فیصلہ مسلط ہو کر رہتا ہے اس آیت میں کلمے سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جو ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہر وہ قوم جو کفر کا راستہ اختیار کرے گی اس پر چسپاں ہو کر رہے گا۔ جو قومیں اس سے پہلے عذاب کا شکار ہوچکیں ان پر یہ فیصلہ چسپاں ہوچکا۔ یعنی وہ عذاب ان کے لیے آخری عذاب نہ تھا بلکہ اصل عذاب تو قیامت کے دن ہوگا۔ اسی طرح اب اگر قریش اسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان پر بھی ثابت ہو کر رہے گا۔ یعنی دنیا میں وہ عذاب آئے گا جو دراصل عذاب جہنم کی تمہید ہے اور پھر جہنم یعنی آگ کا عذاب وہ اس عذاب کی تکمیل کی صورت میں آئے گا اور اسی عذاب کو قرآن کریم نے عذاب اکبر قرار دیا ہے۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَـہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْ ئٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَـکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ (المؤمن : 7) (جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔ ) مسلمانوں کو تسلی اور فرشتوں کو سفارشی سمجھنے والوں کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنا سفارشی اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم کفارِمکہ کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے یقینا نہایت دل شکستہ ہورہے ہو۔ یقینا تمہیں اپنی بیچارگی کا کبھی نہ کبھی خیال آتا ہوگا، لیکن تمہیں معلوم نہیں کہ جو لوگ تمہیں تکلیف پہنچا رہے ہیں وہ نہایت گھٹیا اور رزیل لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی مقام نہیں۔ ان کی باتوں کا کیا اثر لینا، تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقام عطا فرمایا ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور عرش کے گردوپیش حاضر رہنے والے ملائکہ تک تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائوں میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ عام فرشتے نہیں بلکہ سلطنتِ خداوندی کے ستون اور فرماں روائے کائنات کے ہاں قرب کا مقام رکھنے والے ہیں۔ اور جیسے تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو، وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی پر ایمان رکھتے ہیں یعنی تمہاری اور ان کی نسبت ایک ہے۔ اور کفار مکہ کے مقابلے میں چونکہ تم ہی اس نسبت کے پاسبان ہو، اس لیے انھیں اس نسبت کا تقدس اور پاسداری کا اتنا خیال ہے کہ وہ برابر تمہارے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ! تو اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، یعنی تیری رحمت کا دامن بھی وسیع ہے اور تیرے علم کا بھی۔ تو اپنے علم کی وسعت کی وجہ سے ہر شخص کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ تو اصحابِ ایمان کی کمزوریوں سے بھی آگاہ ہے اور ان کی خوبیوں سے بھی۔ ہم تیری بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ایسے مشکل حالات میں ہر طرف سے کٹ کر تیرا دامن پکڑا ہے اور تیرے ہی راستے پر چلنے کا تہیہ کر رکھا ہے تو ان سے رحمت کا معاملہ فرما اور ان کے گناہوں کو بخش دے۔ اور معافی کا اصل نتیجہ چونکہ جنت ہے اور جہنم سے بچائو ہے اس لیے تو ان کی بخشش کو ایسا بارآور فرما کہ جہنم کی آگ ان پر حرام ہوجائے۔ دعا میں خاص طور پر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اس میں پروردگار سے جن چیزوں کی التجا کی جارہی ہے ان کو اختصار سے نہیں بلکہ وسعت کے ساتھ مانگا جارہا ہے۔ یہ دعا کا خاص اسلوب ہے اور یہ وہی اختیار کرتا ہے جسے اس کے ساتھ گہری دلچسپی ہو جس کے لیے وہ دعا مانگ رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو اہل ایمان کے ساتھ ایسا گہرا رشتہ ہے کہ وہ نہایت عاجزی اور الحاح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور مسلمانوں کی مغفرت کی التجا پیش کررہے ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ عام فرشتے نہیں بلکہ وہ فرشتے جو خاص مرتبے کے حامل، عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے اور اس کے گردوپیش میں اللہ تعالیٰ کی حمد کی تسبیح کرنے والے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے یہاں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے ان کا حال بھی یہ ہے کہ وہ دعا اور سفارش کرتے ہیں تو اصحابِ ایمان کے لیے کرتے ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک بھی قابل لحاظ اور قابل عزت کوئی چیز ہے تو وہ ایمان ہے، کوئی نسبت، کوئی رشتہ داری یا اور کوئی حوالہ نہیں۔ اور پھر اپنے اللہ سے وہ نہایت الحاح وزاری سے دعا مانگتے ہیں لیکن آگے بڑھ کر نازوانداز کے ساتھ کسی کے حق میں کچھ کہنے کی جرأت کبھی نہیں کرتے۔ اور پھر اصحابِ ایمان کے لیے بھی ان صفات کے ساتھ دعا مانگتے ہیں کہ یہ تیرے وہ بندے ہیں جنھوں نے اپنی گزشتہ زندگی سے توبہ کرلی ہے اور تیرے راستے کی پیروی اب ان کا اصل مقصد بن گیا ہے۔ اندازہ کیجیے اس میں اہل کفر کے لیے سفارش کا تصور کیسے راہ پاسکتا ہے۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں، بیشک تو عزیز ہے اور حکیم ہے

رَبّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِہِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰـتِـھِمْ ط اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (المؤمن : 8) (اے ہمارے رب ! اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں، بیشک تو عزیز ہے اور حکیم ہے۔ ) فرشتوں کے استغفار کی مزید تفصیل یہ فرشتوں کے استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان کے لیے صرف جہنم سے بچانے کی دعا نہیں کرتے بلکہ ان جنتوں میں داخل کرنے کی دعا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وعدہ فرمایا تھا۔ اسی طرح وہ ان کی بیویوں، ان کے والدین اور ان کی اولاد کے حق میں بھی یہ دعا کرتے ہیں کہ اگر وہ صالح ہوں اور توبہ و اصلاح کے مرحلے سے گزر چکے ہوں تو انھیں بھی جنت میں داخل فرما تاکہ ماں باپ اپنے بچوں کو دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کریں اور شوہر اپنی بیوی کو دیکھ کر اور بیوی اپنے شوہر کو دیکھ کر ایک اطمینان محسوس کرے۔ اور پھر اپنے عقیدے کے اظہار کے لیے یا ہر طرح کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے آخر میں یہ عرض کرتے ہیں کہ یا اللہ ! تو ہی عزیز ہے، یعنی سب پر غالب ہے اور تو ہی حکیم ہے جو فیصلہ کرے گا وہ حکمت پر مبنی ہوگا۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا لیا تو، تو نے اس پر بڑا رحم فرمایا، اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے

وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِ ط وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَـہٗ ط وَذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ (المؤمن : 9) (اور ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا لیا تو، تو نے اس پر بڑا رحم فرمایا، اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔ ) ان کی دعا کی مزید تفصیل یہ ہے کہ وہ اصحابِ ایمان کے لیے یہ دعا بھی کریں گے کہ یا اللہ ان کو سَیِّاٰتِسے محفوظ فرما۔ سَیِّآتِ برائیوں کو بھی کہتے ہیں اور برائیوں کے نتائج کو بھی۔ کیونکہ عمل اور نتیجے میں جو لزوم پایا جاتا ہے اس کے پیش نظر بعض دفعہ فعل کو نتیجہ فعل کے مفہوم میں بول دیتے ہیں۔ اگر اس کو برائیوں کے معنی میں لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر برا عمل ایک برائی ہے، ہر مصیبت ایک برائی ہے، چاہے وہ عالم برزخ کی ہو یا روزقیامت کی۔ اسی طرح دنیا کا ہر دکھ بھی ایک برائی ہے۔ تو فرشتے ایک وسیع تر معنی میں اہل ایمان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ! ان کو ہر طرح کی مصیبت سے محفوظ فرما۔ دنیا میں بھی یہ برائیوں سے بچے رہیں اور عالم برزخ کی ہر تکلیف سے انھیں نجات عطا فرما اور آخرت کی ہولناکی سے بھی محفوظ رکھ۔ اور اگر اس کا ترجمہ برائیوں کے نتائج کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تو ان کو بدیوں کے نتیجے سے محفوظ فرما۔ یعنی ان کے گناہوں کو جھاڑ دے تاکہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔ اور آخر میں فرمایا کہ جس کو تو نے برائیوں کے شر سے بچا لیا یعنی قیامت کی ہولناکی، حساب و کتاب کی سختی اور ہر قسم کی سزا سے محفوظ رکھا اور آخر ان کو جنت عطا فرمائی، تو، تو نے ان پر بڑا رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ پروردگار نے ارشاد فرمایا فَمَنْ زُحْزِحَ عَنَ النَّارِ وَاُدْخِلَ الَّجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَا ” جس کو جہنم کی آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ ہوا کامیاب۔ “
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے روز ان کو پکار کر کہا جائے گا اللہ کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے، جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُمِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فََتَـکْفُرُوْنَ ۔ (المؤمن : 10) (بےشک جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے روز ان کو پکار کر کہا جائے گا اللہ کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے، جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے۔ ) قیامت میں کفار پر گزرنے والی کیفیت کا ایک منظر آخرت کے میدان میں کفار کے ساتھ جو کچھ گزرے گی اور وہ جن کیفیات سے دوچار ہوں گے ان میں سے ایک منظر کی تصویرکشی کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ آخرت میں یہ کافر لوگ نہایت پریشانی کے عالم میں غصے میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے اپنی انگلیاں کاٹیں گے اور نہایت بیزاری کے عالم میں اپنے بدبختی و محرومی اور لیڈروں کی کج اندیشی اور ضلالت پر لعنت بھیجیں گے کہ ہم نے دنیا میں اپنی خواہشات کی پیروی اور اپنے گمراہ لیڈروں کے پیچھے لگ کر اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کا انکار کیا۔ حالانکہ اس نے ہمیں بار بار تنبیہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا اور مجھ پر ایمان لا کر میری پیروی نہ کی تو تمہیں بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ لیکن ہم نے اس کی ایک نہ سنی، بلکہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس وقت منادی کی آواز آئے گی اور یہ بات ان سے پکار کر کہی جائے گی کہ آج تم جس کیفیت سے دوچار ہو اور تمہیں اپنے آپ سے بیزاری ہورہی ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا تھا اور اسے تمہاری حالت سے بیزاری ہوتی تھی، جب تمہیں اس انجام سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور دوسرے نیک لوگ راہ راست کی دعوت دیتے تھے تو تم نہایت رعونت سے اسے ٹھکرا دیتے تھے، تو اب اپنی اس رعونت اور اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں تمہاری مدد کو کوئی پہنچنے والا نہیں۔ یہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا ہے یہ اچانک اور بلا اطلاع نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کے بعد ہوا ہے۔ اس لیے تم ہر لحاظ سے اسی کے سزاوار تھے۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی بخشی، تو اب ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے

قَالُوْا رَبَّنَـآ اَمَتَّـنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِدُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ (المؤمن : 11) (وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی بخشی، تو اب ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے۔ ) بعدازوقت اقرار ہر دور کے کفار کو اس بات سے انکار رہا ہے کہ قیامت آسکتی ہے، وہ اسے مستبعد از عقل سمجھتے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ جو بیشمار لوگ اب تک مرچکے ہیں اور آئندہ نہ جانے مرنے والوں کی تعداد اور کتنی ہوگی اور پھر کچھ خبر نہیں کہ ان کی قبریں کہاں بنیں گی۔ اور ان میں سے بیشتر خاک کے ذروں میں تبدیل ہو کر ہوا کی نذر ہوچکے ہوں گے۔ انھیں آخر ایک دن ازسرنو زندہ کرکے میدانِ حشر میں کیسے جمع کیا جائے گا، اور ان کے بیشمار اعمال کا حساب کس طرح لیا جاسکے گا۔ انبیائے کرام انھیں دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن میں سے ایک دلیل یہ بھی ہوتی جو سورة البقرۃ میں بیان کی گئی ہے، کہ تم قیامت کا کیسے انکار کرتے ہو جبکہ تم عدم میں تھے تو اس نے تمہیں وجود بخشا، تو گویا عدم میں ہونا موت کے مترادف ہے۔ اور پھر طبعی عمر کے اختتام پر موت کا شکار ہوگے تو یہ دوسری موت ہے جو تم پر طاری ہوئی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدم سے وجود میں آنے سے پہلے تم پر ایک موت طاری تھی، پھر تمہیں زندگی ملی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے تم ایک موت اور ایک زندگی کا تجربہ تو کرچکے ہو اور اب طبعی عمر گزارنے کے بعد تمہیں دوسری موت آئے گی تو تمہیں یہ بتایا جارہا ہے کہ قیامت کی صورت میں تمہیں پھر زندہ کیا جائے گا۔ تو آخر تمہیں اس زندگی سے انکار کیوں ہے۔ جو ذات تمہیں پہلے ایک دفعہ موت سے زندگی دے چکی ہے اب وہ دوسری موت سے تمہیں زندہ کیوں نہیں کرسکتی۔ لیکن کفار اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اب قیامت کے دن جب وہ اپنی آنکھوں سے اس دوسری زندگی کو دیکھ لیں گے تو اب وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ پروردگار تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی عطا کی۔ اب ہم نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اب ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کے پیغمبر ٹھیک کہتے تھے ہم نے ناحق ان کی مخالفت کی اور اپنی غلطی پر اڑے رہے۔ تو ہمارے اس اعتراف اور توبہ کے بعد کیا کوئی ایسا راستہ ہوسکتا ہے کہ ہم اس صورتحال سے نکل سکیں اور ازسرنو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

(پروردگار کی طرف سے جواب ملے گا) یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے اختیار میں ہے

ذٰلِکُمْ بِاَنَّـہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ ج وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنْوْا ط فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْـکَبِیْرِ ۔ (المؤمن : 12) (پروردگار کی طرف سے جواب ملے گا) یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے اختیار میں ہے۔ ) کفار کی درخواست کا جواب اوپر کی آیت میں کفار نے پروردگار کے حضور جو درخواست کی تھی اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تم آج جس انجام سے دوچار ہوئے ہو اور جس نے تمہیں اپنے گناہوں اور غلطیوں کے اعتراف پر مجبور کیا ہے، یہ سب تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں تو تمہاری بدبختی کا عالم یہ تھا کہ جب تمہیں ایک اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو تم کفر کرتے تھے حالانکہ ایک اللہ پر ایمان یعنی توحید پورے دین کی اساس ہے۔ رسالت اور آخرت اور پورا اسلامی نظام اسی پر بیس اور انحصار کرتا ہے۔ لیکن تمہیں ایک اللہ کے نام سے چڑ تھی۔ اور جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا ان سے تمہیں غایت درجہ محبت تھی۔ انھیں چھوڑ کر ایک اللہ کو پکارنا تمہیں کسی طرح گوارا نہ تھا۔ اب تم خود دیکھ رہے ہو کہ ہر بات کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ اختیار بھی اسی کو حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے جہنم میں بھیج دے اور جسے چاہے معاف کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں یہ اختیار ہے تم نے دنیا میں کبھی اس کی وحدت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے علی الاطلاق اختیارات کو تم نے ہمیشہ دوسروں میں بانٹے رکھا۔ اور جب بھی کوئی درخواست کی تو ہمیشہ ان شرکاء سے کی۔ اس لیے اب اللہ تعالیٰ سے تو تم کوئی درخواست کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ رہے وہ دوسرے شرکاء جنھیں تم نے خدائی کے اختیارات میں ہمیشہ حصہ دار سمجھا، انھیں اس بات میں کوئی دخل نہیں کہ وہ تمہاری جہنم سے آزادی کا فیصلہ کرسکیں۔ وہ تو خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ان کا فیصلہ بھی اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق اتارتا ہے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے، مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں

ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُنَزِّلُ لَـکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ رِزْقًا ط وَمَا یَتَذَکَّرُ اِلاَّ مَنْ یُّنِیْبُ ۔ (المؤمن : 13) (وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق اتارتا ہے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے، مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید ایک دلیل اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے حوالے سے مزید ایک دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انسان کی بنیادی ضرورت اس کی خوراک ہے اور اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ زمین کی قوت روئیدگی اپنا کام کرے اور اوپر سے پانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت آبیاری کا سامان کرے۔ لیکن اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بارش بھیجنے سے پہلے انسانوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ یعنی گھٹا جھوم کر اٹھتی ہے، اس میں کبھی بادل گرجتا ہے، کبھی رعد کڑکتی ہے، کبھی برق کوندتی ہے اور کبھی صاعقہ بن کر گرتی ہے۔ اور ان میں سے ہر چیز آدمی کو دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ اگر سوچنے سے محروم نہیں ہوا تو ضرور سوچتا ہے کہ جس ذات نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے اس کے اپنے غیظ و غضب کا عالم کیا ہوگا۔ اور اس کی حکم عدولی کیا نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اس سے دل خوف سے بھر جاتے ہیں اور آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہی بادل آب حیات برسانے لگتا ہے، مردہ زمین زندگی کا لباس پہن لیتی ہے، ہر طرف کی ویرانی بہار میں تبدیل ہوجاتی ہے، زمین پر سبزے کا مخملی فرش بچھ جاتا ہے اور جابجا پھول مسکرانے لگتے ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ جس پروردگار نے بارش کی صورت میں یہ رحمت نازل فرمائی ہے اور حیات بخش پانی نازل فرمایا ہے اس کی اپنی ذات کس قدر حسین اور رحیم و کریم ہوگی۔ اس سے دل امیدوں سے بھر جاتے ہیں اور بیم و رجا یعنی امید اور خوف یہی ایمان کے دو پَر ہیں جن سے وہ پرواز کرتا ہے۔ اور اسی سے رزق و فضل کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان کی خوراک کی ضروریات کا سروسامان ہوتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان دونوں ایک ہی ذات کے تصرف میں ہیں۔ اسی کے ہاتھ میں صاعقہ ٔ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔ بلاشبہ یہ حقائق اور یہ نصائح اس صورتحال سے پھوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ اتنی واضح نشانیاں جو یقینا تذکیر وتعلیم کے لیے دکھائی جاتی ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھاتا ہے جس کے اندر متوجہ ہونے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کا اسیر ہو کر اور اپنے مفادات کا غلام بن کر اپنے عزم و ارادہ کی قوت کھو چکا ہے اور اس کے ضمیر کی آواز دب چکی ہے تو ایسا شخص بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ آنکھ دیکھتی اور کان سنتے ہیں لیکن حقیقت کو دیکھنے کے لیے دل میں روشنی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو اللہ ہی کو پکارو، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے، خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 14) (تو اللہ ہی کو پکارو، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے، خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ ) ایمان کے ساتھ اطاعت کا عزم بھی ضروری ہے کافر چونکہ قلب منیب سے محروم ہوچکے اور اللہ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے قلب منیب ضروری ہے۔ یہ دولت اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نصیب کی ہے جو عقل اور شعور کے صحیح استعمال سے ایمان کی دولت تک پہنچتے ہیں۔ انھیں خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اگر ایمان کی دولت دے دی ہے تو اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے اللہ کو اس طرح پکارو کہ تمہاری اطاعت بھی اسی کے لیے خالص ہو کر رہ جائے۔ یعنی عقیدہ کی حد تک تو تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرچکے ہو اور مشرکین نے جتنے شرکاء بنا رکھے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تم سب سے بیزار ہوگئے ہو۔ لیکن توحید کا یہ سبق نامکمل رہے گا اگر اس میں خالص اطاعت شامل نہ ہو۔ زندگی کے ہر شعبے میں اور زندگی کے ہر مرحلے پر فیصلے کا وقت ہو یا عمل کا، دیکھنے والوں کو نظر آنا چاہیے کہ یہ شخص جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کی اطاعت بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اس کا سر بھی اسی کے سامنے جھکتا ہے اور اس کا دل بھی۔ اس کے اعضاء وجوارح بھی اسی کے حکم سے حرکت کرتے ہیں اور اس کے معاملات بھی اسی کی ہدایت کے مطابق متشکل ہوتے ہیں۔ دل میں چھپی ہوئی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور الوہیت کافروں کو اتنی تکلیف نہیں پہنچاتی جتنا انھیں اس وقت دکھ ہوتا ہے جب ایک مومن کی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تصویر بن جاتی ہے۔ اس کا معاشرہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا عکاس بن جاتا ہے اور اس کے ادارے اسی کے احکام کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ یہ دیکھ کر کفر سر پیٹ لیتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم ہر صورت میں اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرو چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
Ayahs 40:15–16

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے، وہ اتارتا ہے روح کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کرے

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن سب لوگ بےنقاب ہوں گے، ان کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہوگی، آج بادشاہی کس کی ہے، اللہ واحد قہار کی

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوالْعَرْشِ ج یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلاَقِ ۔ یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ ج 5 لاَ یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْھُمْ شَیْ ئٌ ط لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط لِلّٰہِ الْوَاحِدِالْقَھَّارِ ۔ (المؤمن : 15، 16) (وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے، وہ اتارتا ہے روح کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کرے۔ جس دن سب لوگ بےنقاب ہوں گے، ان کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہوگی، آج بادشاہی کس کی ہے، اللہ واحد قہار کی۔ ) بلند وبالا پروردگار کی مرضیات کا علم صرف وحی الٰہی سے ہوسکتا ہے جس اللہ کو پکارنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ بڑے بلند درجوں والا۔ اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ بعض اہل علم نے درجات کو صفات کے معنی میں لیا ہے، یعنی وہ بلند صفات کا مالک ہے۔ اور بعض اہل علم درجات کو درجات کے معنی ہی میں لیتے ہیں کہ وہ بڑے بلند مقامات کا حامل ہے۔ یعنی فضائل و مراتب اور مقامات کا جو تصور بھی انسانی ذہن میں آسکتا ہے وہ اس سے بھی بلند تر مقامات کا حامل ہے۔ اور وہ عرش حکومت کا مالک ہے یعنی کائنات پوری طرح اس کے قبضے میں ہے۔ تکوینی طور پر تمام کائنات پر اس کی حکومتی چھائی ہوئی ہے۔ کہیں اس کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی۔ وہ صرف خالق اور روزی رساں ہی نہیں بلکہ حاکم مطلق بھی ہے۔ اور اپنی ہر مخلوق کا نگران اور نگہبان بھی۔ اتنے بلند مقامات کے حامل تک کسی کی رسائی کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ مشرکین نے اس کے جو شریک وسہیم بنا رکھے ہیں، ان کی رسائی تو ساری مخلوقات تک ممکن نہیں، خالقِ کائنات تک کیسے ہوسکتی ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں جو عقائد اختیار کر رکھے ہیں وہ ان کے اپنے وضع کردہ ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ رہی یہ بات کہ انسان جس طرح اپنی جسمانی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے اسی طرح وہ اپنی روحانی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا محتاج ہے۔ وہ جس طرح خالق کائنات ہے، اسی طرح وہ کائنات کا حکمران بھی ہے۔ انسان ایک مکلف مخلوق ہے اس کے لیے یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی گزارنے کے لیے کیا احکامات دیئے ہیں۔ اور میری روح کو زندہ رہنے کے لیے کن باتوں کی پابندی ضروری ہے۔ مشکل یہ ہے کہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے معلوم کرسکے کہ وہ کن باتوں میں راضی ہے اور انسانوں سے وہ کس طرح کی زندگی کا طلبگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس ضرورت کو اس طرح پورا فرمایا کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح کو نازل کردیتا ہے۔ اور روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض دیگر مقامات پر بھی اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس کو روح سے شاید اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے بھی انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی میسر آتی ہے۔ اور پروردگار کا یہ فرمانا کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے نازل کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اور کو اس میں داخل دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ بات سراسر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے لیے انتخاب فرماتا ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی اس کا اہل ہوتا ہے۔ مشرکین کا یہ کہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانا ہی چاہتا تھا تو وہ طائف کے سرداروں میں سے کسی کو بنا دیتا یا مکہ کے بااثر لوگوں میں سے کسی کا انتخاب کرتا۔ ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے، یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے وہ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول دنیا میں اس لیے بھیجتا ہے تاکہ یوم التلاق سے خبردار کرے۔ یوم التلاق سے مراد روزقیامت ہے۔ کیونکہ اہل دنیا کو اصل بتانے کی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا میں شتر بےمہار بنا کے نہیں بھیجا کہ تم جس طرح چاہو زندگی گزارو۔ بلکہ تمہاری زندگی کا ایک مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایک دن لایا جائے گا جب ہر انسان سے بازپرس ہوگی کہ اس نے زندگی اس طریقے کے مطابق گزاری ہے یا اس کے خلاف۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کی اصلاح کے لیے کارآمد نسخہ ہے۔ جس شخص کو قیامت کے دن جواب دہی کا یقین ہوجاتا ہے وہ شخص شیطان کی پیروی کبھی نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول سے کبھی منہ نہیں پھیرتا۔ اور جسے اس دن کے آنے کا یقین نہیں ہوتا اس کی زندگی میں اور حیوان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی کو صرف کھانے پینے اور دادعیش دیتے ہوئے گزار دیتا ہے اور اسی کو وہ کامیابی سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہوگی دوسری آیت میں فرمایا کہ قیامت کے دن تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے بےنقاب ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کا ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھلا ہوگا۔ کوئی بات اس سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکے گی، کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ کسی بات کو چھپا سکے۔ اور کسی کے لیے کسی کی جھوٹی سفارش کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس دن ایک ایسی ہیبت سب پر چھائی ہوئی ہوگی کہ کوئی شخص غلط بات کہنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ اور پھر میدانِ حشر میں صرف غرباء ہی نہیں، امراء اور سلاطین بھی موجود ہوں گے۔ ان میں کتنے ایسے ہوں گے جنھوں نے دنیا میں اپنی سلطانی اور جباری کے ڈنکے پیٹے ہوں گے۔ اور کتنے ایسے ہوں گے جنھیں حکمرانی کے خمار نے ظلم کے راستے پر ڈالا ہوگا۔ جب ان کے سامنے یہ سوال کیا جائے گا کہ بتائو آج کس کی حکومت ہے ؟ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے دلوں پر کیا گزرے گی۔ اور مشرکین کے لیے بھی یہ بات ایک لمحہ فکریہ ہوگی کہ ہم دنیا میں جن پر سہارا کیے بیٹھے تھے اور اللہ تعالیٰ کا شریک وسہیم سمجھ کر اپنی نجات کی ان سے توقع کیے ہوئے تھے وہ آج سب کہاں ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ قیامت تو خیر ایک ہولناک دن ہے جس کا تصور ہی ناقابلِ برداشت ہے۔ لیکن آج بھی اگر کوئی شخص جس کی رعونت نے اس کا دماغ خراب کر رکھا ہے گوش ہوش سے اس آیت کو پڑھے تو اس پر لرزہ طاری کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے اندر قلب منیب موجود ہو۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سامانی خاندانی کا فرماں روا نصر بن احمد (301۔ 331) جب نیشا پور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کارروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انھوں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر بن احمد پر ہیبت طاری ہوگئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اترا، تاج سر سے اتار کر سجدے میں گرگیا اور بولا، اے رب ! بادشاہی تیری ہے نہ کہ میری۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں ہوگا، اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے

اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (المؤمن : 17) (آج ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں ہوگا، اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ ) قیامت کامل عدل کے ظہور کا دن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی کامل فرماں روائی اور کامل عدل کا ظہور ہوگا۔ کوئی شخص ایسا نہیں رہے گا جس نے کوئی نیکی کی ہو اور اسے اس کا صلہ نہ ملے۔ اور نہ کوئی شخص ایسا ہوگا کہ اس نے کوئی برائی کی ہو تو اسے برائی کی سزا نہ ملے۔ ہر شخص نے دنیا میں اپنی زندگی میں جو کچھ کیا ہوگا چاہے کسی کو اس کی خبر ہو یا نہ ہو اور ممکن ہے اس کو وہ خود بھی بھول چکا ہو، لیکن آج اس کا کیا ہوا عمل جزاء و سزا سے بیگانہ نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ یہ بات بھی خلاف عدل ہے کہ کوئی شخص نیکی کرے، اسے صلہ نہ ملے۔ اور کوئی شخص برائی کرے تو وہ اس خیال سے دندناتا پھرے کہ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج ہر شخص کی امنگیں بھی پوری ہوں گی اور ہر شخص اپنے کیے کی سزا بھی پائے گا۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ کیونکہ دنیا کی عدالتیں انصاف کرنا بھی چاہیں تو ہزار کوشش کے باوجود کامل عدل اور انصاف تک نہیں پہنچ سکتیں۔ کیونکہ ظلم کی کوئی ایک صورت نہیں، کئی صورتیں ہیں جن سے بعض دفعہ عہدہ برآ ہونا عدالتی استطاعت میں نہیں ہوتا۔ لیکن قیامت کی عدالت ایسی ہوگی جس میں کسی طرح کا بھی ظلم نہیں ہوگا۔ یعنی وہاں یہ بات بھی نہیں ہوگی کہ کوئی شخص اجر کا مستحق ہے اور اس کو اجر نہ ملے۔ یا وہ جتنے اجر کا مستحق ہے اس سے کم ملے اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں کی وجہ سے سزا کا سزاوار ہے لیکن اسے سزا اس لیے نہ دی جاسکے کہ اس کے جرم کا ثبوت کافی نہیں، یا اس کے جرم کے گواہ اس کے خوف کی وجہ سے گواہی دینے سے پس و پیش کررہے ہیں۔ یا عدالت اس کے فتنے سے ڈر کر اسے سزا نہ دے سکے اور معاملہ رفت گزشت کردے۔ اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ جو کم سزا کا مستحق ہو، اسے زیادہ سزا دے دی جائے اور جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جائے۔ اور ایسا بھی نہیں ہوسکے گا کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا جائے۔ غرضیکہ ظلم کی ہر صورت وہاں ختم ہو کر رہ جائے گی۔ ایسے کامل عدل کا ظہور ہوگا کہ ہر شخص محسوس کرے گا کہ آج ہر شخص کو وہی کچھ مل رہا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ اور ہر شخص کو وہی سزا دی جارہی ہے جس کا وہ سزاوار ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے، یعنی اسے حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ مشرکین کو سب سے بڑا اشتباہ یہ تھا کہ بیشمار مخلوق کے بیشمار اعمال کا حساب کیسے ہوسکے گا۔ اس لیے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کی بیشمار مخلوق کو بیک وقت رزق دے رہا ہے اور کوئی خاکی یا آبی، سماوی یا فضائی مخلوق ایسی نہیں جسے رزق نہ پہنچ رہا ہو۔ اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں ایسی مشغولیت نہیں ہوتی جو دوسروں کے رزق میں مانع ثابت ہو۔ اسی طرح وہ کائنات کی ہر چیز کو بیک وقت دیکھ رہا ہے۔ تمام پکارنے والوں کی پکار کو ایک ساتھ سن رہا ہے۔ اور کائنات کے معاملات کی ایک ہی وقت میں تدبیر کررہا ہے۔ اور کوئی چیز اس کی توجہ کو اس طرح جذب نہیں کرسکتی کہ وہ اس وقت دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ یہی اس کی قدرت کاملہ۔ قیامت میں محاسبے کے وقت بھی روبعمل ہوگی۔ بیشمار مقدمات کو ایک ہی وقت میں نمٹایا جائے گا اور عدالت کی کارروائی میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ان لوگوں کو خبردار کیجیے قریب آجانے والی آفت کے دن سے، جبکہ دل حلق میں آپھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے، نہ ظالموں کا کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ ایسا شفیع جس کی بات مانی جائے

وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِالْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیْنَ ط 5 مَالِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلاَ شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ۔ (المؤمن : 18) (اے پیغمبر ! ان لوگوں کو خبردار کیجیے قریب آجانے والی آفت کے دن سے، جبکہ دل حلق میں آپھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے، نہ ظالموں کا کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ ایسا شفیع جس کی بات مانی جائے۔ ) قیامت قریب بھی ہے اور ہولناک بھی اٰزِفَۃِ… قریب آجانے والی مصیبت یا چیز کو کہتے ہیں۔ آیت میں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس سے یہ تصور دینا مقصود ہے کہ قیامت کا آنا کوئی دور کی بات نہیں، کسی وقت بھی اچانک آسکتی ہے، البتہ اس کے آنے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس طرح موت کا آنا یقینی ہے، قیامت کا آنا اس سے بڑھ کر حتمی اور یقینی ہے۔ زور اس بات پر ہے کہ انسان یا تو اس کے یقینی ہونے میں شبہ کرتا ہے اور یا وہ اسے بہت دور کی چیز سمجھتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں تباہ کن ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ قیامت کا آنا تو اس قدر یقینی ہے کہ یوں سمجھو کہ قیامت آگئی۔ ویسے بھی قیامت جواب دہی کا دن ہے۔ ہر انسان نے زندگی میں جو کچھ کیا ہے وہاں اس سے اس کے کیے ہوئے ایک ایک عمل کی بازپرس ہونے والی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ انسان جب تک دنیا میں ہے اور طبعی عمر گزار رہا ہے تو اسے ایک مہلت عمل ملی ہوئی ہے جس میں وہ اچھے یا برے اعمال کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ لیکن موت آجانے کے بعد اس کی یہ مہلت عمل ختم ہوجائے گی۔ اس کے بعد اس کی برزخی زندگی ہے۔ عالم برزخ میں وہ اس وقت تک رہے گا جب تک قیامت نہیں آتی۔ اور جب قیامت کے اعلان سے اسے اٹھایا جائے گا تو وہ حیران ہو کے پوچھے گا کہ مجھے میری نیند سے کس نے اٹھایا۔ گویا اسے موت سے لے کر قیامت کے آنے تک وقت گزرنے کا بالکل احساس نہیں ہوگا۔ تو جو مدت عدم احساس میں گزری ہے وہ مدت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ ” جس شخص کو موت آگئی اس کی قیامت آگئی۔ “ یعنی قیامت میں اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے موت کے آنے میں باقی ہیں۔ اور موت کا کوئی دن مقرر نہیں۔ وہ تو آدمی کے جوتے کے تسمے سے بندھی ہوئی ہے۔ اس کا وقوع کسی وقت بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے آنے میں بھی کوئی دیر نہیں، وہ بھی کسی وقت آسکتی ہے۔ انسان کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ اپنی موت کو بھی بعید سمجھتا ہے اور اپنی قیامت کو بعیدتر سمجھتا ہے۔ اور اسی احساس کی کمزوری نے اسے ایمان و عمل سے بیگانہ کردیا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ انھیں قیامت سے ڈرائیں کہ وہ تمہارے پہلو میں کھڑی ہے اور تم اس سے بےفکر ہو۔ اور پھر اس کی ہولناکی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کا آنا کسی مہمان کے آنے کی طرح نہیں، بلکہ وہ تو ایک ایسا ہولناک حادثہ ہے کہ اسے دیکھتے ہی یا اس میں پیش آنے والے مناظر کو دیکھتے ہی دل حلق میں آپھنسیں گے۔ یعنی ایسا معلوم ہوگا کہ کلیجہ اچھل کر حلق میں آگیا ہے اور تمام لوگ ڈرے سہمے چپ چاپ کھڑے غموں کے گھونٹ پی رہے ہوں گے۔ کسی کے منہ سے اپنی مدافعت میں کوئی آواز نہیں نکلے گی۔ اور نہ ان کے ساتھ ایسا کوئی ہمدرد دوست ہوگا جو ان کی غمگساری کرسکے۔ اور نہ ایسا کوئی شفیع اور سفارشی ہوگا جو آگے بڑھ کر ان کی شفاعت کرنے کی جرأت کرے۔ اور شفیع بھی ایسا ہو کہ جس کی بات واقعی سنی اور مانی جائے۔ یہ بات برسبیلِ تنزل فرمائی گئی ہے ورنہ قیامت میں کافروں کے کسی شفیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہاں ازخود شفاعت کی جرأت کا تو امکان ہی نہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفارش کی اجازت ملے گی تو وہ یقینا کافروں اور مشرکوں اور فساق و فجار کی تو شفاعت نہیں کریں گے۔ اور وہ مشرک جو اس لیے قیامت سے بےنیاز ہیں کہ اولاً تو اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں اور اگر آہی گئی تو ان کے سفارشی انھیں چھڑا لیں گے۔ اس سے ان کے سر پر ضرب لگائی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی خود فریبیوں سے نکلیں اور حقیقت کا سامنا کریں۔