40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsروح القرآن

Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو شخص برائی کرے گا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی، اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن بھی ہوا تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلاَ یُجْزٰٓی اِلاَّ مِثْلَھَا ج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُوْلٰٓئِکَ یدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوْنَ فِیْھَا بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (المؤمن : (40) (جو شخص برائی کرے گا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہوگی، اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن بھی ہوا تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا۔ ) ضابطہ آخرت کی وضاحت اوپر کی آیت میں آخرت کا جو حوالہ دیا گیا ہے اس کی مناسبت سے ضروری ٹھہرا کہ وہاں جزاء و سزا کا جو ضابطہ نافذ ہوگا اسے بیان کردیا جائے۔ چناچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہاں جو شخص برائیوں کا سرمایہ لے کر پہنچے گا تو اللہ تعالیٰ چونکہ نہایت عادل ہے وہ برائیوں کے مطابق ایسے شخص کو سزا دے گا۔ یعنی ہر بدی کے مقابلے میں ایک ہی بدی کی متعین سزا اسے دی جائے گی۔ اور اس حوالے سے اس پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ نہ اس کی سزا میں زیادتی ہوگی اور نہ برائی کے بغیر اس کو سزا دی جائے گی۔ اور ایسا بھی نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے کی برائی پر اسے پکڑ لیا جائے۔ کیونکہ وہاں کسی غلطی کا امکان نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو شخص نیکیوں کا سرمایہ لے کر پہنچے گا اور اس میں کوئی تخصیص نہیں کہ وہ مذکر ہو یا مونث، کیونکہ جزاء و سزا میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ لیکن نیکی کے بدلے کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ نیکی کرنے والا ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہو۔ کیونکہ جو شخص ایمان کے بغیر کوئی بھلائی کا کام کرتا ہے دنیا میں ممکن ہے کہ اس کے اجر کے طور پر اس کے رزق میں اضافہ کردیا جائے۔ لیکن قیامت کے دن اسے اس کی بھلائیوں کا کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس روز صرف اللہ تعالیٰ کی حکومت ہوگی۔ اور اس شخص نے اس پر ایمان لانے سے انکار کرکے اس کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ تو آج اس کی کسی نیکی اور بھلائی کا صلہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ جو شخص کسی ملک کے سربراہ اور یا ملک کے آئین کو ماننے سے انکار کرتا ہے اسے کسی بھی بھلائی کا حقدار نہیں سمجھا جاتا۔ تو ایسے لوگ جو ایمان کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شریعت کی پابندی کرتے رہے وہ یقینا جنت میں داخل ہوں گے۔ اور وہاں انھیں اجر وثواب اور نعمتوں کی صورت میں جو کچھ ملے گا آج اس کا حساب نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی ہمارے حساب کے پیمانے اسے ناپنے تولنے اور جانچنے اور پرکھنے سے عاجز ہوجائیں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی کمیت اور کیفیت سے آگاہ نہیں ہوگا وہ یقینا ہر چیز کو اس کی کمیت اور کیفیت سمیت جانتا ہے۔ اس کے یہاں کوئی چیز بھی بےحساب نہیں ہوتی۔ بےحساب کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی وہ اپنے صاحب ایمان اور نیکوکار بندوں پر اس قدر مہربان ہوگا کہ بارش کی طرح ان پر نعمتیں برسیں گی۔ دیکھنے والی نگاہیں جس کا حساب نہیں کرسکیں گی۔ البتہ اس بات کا ہر شخص کو احساس ہوگا کہ آج اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں کو ڈھانپ لینا چاہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بےحساب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک استعارہ ہے جو بندوں کے لیے انتہائی قابل فخر اور انتہائی قابل احترام ہے۔ لیکن کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہمارے اردو اور فارسی لٹریچر نے جس طرح اس کو بےوقار کیا ہے اور اس کے مفہوم میں استخفاف کے جراثیم ڈالے ہیں وہ بجائے خودبخود تکلیف دہ ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے : آگے چل کر حساب ہونا ہے اس لیے بےحساب پی لیجے دو ہی گھونٹ ہیں جام کے اندر کر کے زیرنقاب پی لیجے اندازہ کیجیے کہ شاعر نے اس لفظ کے تقدس کو کس بری طرح پامال کیا ہے۔
Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! یہ کیا بات ہے میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے نارِ (جہنم) کی طرف بلا رہے ہو

وَیٰـقَوْمِ مَالِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ ۔ (المؤمن : 41) (اور اے میری قوم کے لوگو ! یہ کیا بات ہے میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے نارِ (جہنم) کی طرف بلا رہے ہو۔ ) قوم کے بعض لوگوں کے رویے کا جواب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مردمومن کے خطاب کے درمیان عمائدینِ سلطنت میں سے بھی کچھ لوگوں نے آپ کی تقریر کو روک کر اپنی بات کہنے کی کوشش کی۔ اور بعض لوگوں نے انھیں اپنے آبائواجداد کے خیالات سے بغاوت کا طعنہ دیا۔ اور جن لوگوں نے زیادہ شائستگی دکھائی انھوں نے دھیمے لہجے میں انھیں آباء پرستی کی تلقین کی اور اسی طریقے پر چلنے کو کہا جس پر اب تک ان کے آبائواجداد قائم رہے تھے۔ چناچہ ان تمام باتوں کے جواب میں مردمومن نے نہایت ناصحانہ اور حکیمانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا یہ کیسی عجیب بات ہے اور عجب ماجرا ہے اور کیسی اپنے آپ سے دشمنی ہے کہ میں تو تمہیں اس راستے کی طرف لے جارہا ہوں جو نجات کا راستہ ہے، لیکن تم مجھے اس بات کی تلقین کررہے ہو جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہے۔ یعنی ایک طرف خیرخواہی اور ہمدردی اور دوسری طرف دشمنی اور بدخواہی۔ ان دونوں باتوں میں آخر کیا تعلق ہے۔ اگر تم بھی خیرخواہی سے میری باتوں پر غور کرو گے تو ماننا پڑے گا کہ عافیت کا راستہ وہی ہے جس کی طرف میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہرائوں جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں، حالانکہ میں تمہیں اس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ز وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِالْغَفَّارِ ۔ (المؤمن : 42) (تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہرائوں جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں، حالانکہ میں تمہیں اس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل یہ آیت گزشتہ آیت کے مضمون کا تسلسل ہے۔ یعنی تم مجھے جس فکری راستے اور طرزعمل کی طرف بلا رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے کفر کروں۔ یعنی یا تو اسے ماننے سے انکار کردوں کہ ہمارا کوئی خالق ومالک اور اِلٰہ نہیں۔ اور یا اسے زبانی حد تک تسلیم کروں لیکن اس کی اطاعت کرنے سے انکار کردوں، یہ دونوں باتیں عقل کے بھی خلاف ہیں اور تمام مذاہب کی بنیادی تعلیم کے بھی خلاف ہیں۔ جس نے بھی مخلوق کی حقیقت پر غور کیا ہے اس نے ایک خالق کو ضرور مانا ہے۔ اور جس نے ربوبیت کے پھیلے ہوئے فیضان پر توجہ دی ہے اس نے بھی ایک رب کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ اسی طرح جس نے بھی الوہیت اور ربوبیت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے وہ یقینا اس نتیجے پر پہنچا ہے جو خالق ہوتا ہے وہی حکم دینے کا حق رکھتا ہے۔ اور جو مخلوق ہوتا ہے اس کے لیے اپنے خالق کے حکم کو نہ ماننے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ خلق اور امر آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ دوسری جس بات کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان چیزوں اور ان ہستیوں کو شریک کروں جنھیں تم اس کے ساتھ شریک ٹھہرا چکے ہو۔ یہ بات بھی علمی لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔ کیونکہ جہاں تک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا تعلق اور اس کی وحدانیت پر یقین لانے کا تعلق ہے یہ وہ چیز ہے جس کا کبھی کسی نے انکار نہیں کیا۔ جس کی طبیعت میں سلامتی ہے اور جس کی عقل مسموم خیالات سے کند نہیں ہوچکی وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن جہاں تک کسی اور کو اس کا شریک کرنے کا تعلق ہے اس پر آج تک کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکی، اس کے بارے میں کسی مذہب نے دعویٰ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر کوئی سند اتاری ہے۔ تو پھر میں ایک بےسند اور بےدلیل بات کو کیسے تسلیم کرلوں۔ اور میں تمہیں ایک ایسے پروردگار کی طرف دعوت دے رہا ہوں جس کی قدرت و طاقت تمام کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔ اور جس کے غضب و انتقام پر معذب قوموں کی تاریخ شاہد ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بات کہ وہ بخش دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ بڑے سے بڑا پاپی بھی اخلاص کے ساتھ اس کے دروازے پر آجائے اور استغفار کرے تو وہ کبھی محروم نہیں لوٹتا۔ اندازہ کیجیے میری دعوت اور تمہاری دعوت میں کتنا تضاد ہے۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، ان کی کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں، اور بیشک ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی آگ میں جانے والے ہیں

لاَ جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَیْہِ لَیْسَ لَہٗ دَعْوَۃٌ فِی الدُّنْیَا وَلاَ فِی الْاٰخِرَۃِ وَاَنَّ مَرَدَّنَـآ اِلَی اللّٰہِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ھُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ۔ (المؤمن : 43) (اس میں کوئی شک نہیں کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، ان کی کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں، اور بیشک ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی آگ میں جانے والے ہیں۔ ) لاَ جَرَمَ کی تحقیق اور خلاصہ بحث لاَ جَرَمَ … اصل کے اعتبار سے تحقیق کے معنی میں ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ لاَ بُدَّ ، لامحالہ کے معنی میں ہے۔ قاموس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض اہل علم نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ لاَ سے اس کی نفی مطلوب ہے جس کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے۔ اور جَرَمَ فعل ماضی ہے جو حَقَّ اور ثَبَتَ کے معنی میں ہے۔ مردِمومن نے اپنے دلائل کو سمیٹتے ہوئے خلاصہ ٔ بحث کو سامعین کے سامنے رکھا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے کی مجھے دعوت دے رہے اور پھر ان کی پوجا پاٹ کی مجھے ترغیب دے رہے ہو یا جو بڑے لوگ اللہ تعالیٰ کے اختیارات سنبھالتے ہوئے لوگوں سے اپنی غیرمشروط اطاعت کروا رہے ہیں تم مجھے ان کی اطاعت کی طرف بلا رہے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ نہ ان کی دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ آخرت میں۔ بعض اہل علم نے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں فعل کی نفی اس کے فائدہ کی نفی کے پہلو سے ہے۔ یعنی ان کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ اس دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو نہ تو دنیا میں کوئی حق پہنچتا ہے اور نہ آخرت میں پہنچے گا کہ ان کی خدائی کو تسلیم کرنے کے لیے خلق خدا کو دعوت دی جائے۔ کیونکہ پرستش اور بندگی کے لیے الوہیت کی جو صفات ضروری ہیں ان میں سے کوئی صفت بھی ان کے اندر نہیں پائی جاتیں۔ اور نہ انھوں نے خود کبھی دنیا میں اپنے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور نہ وہ آخرت میں یہ دعویٰ لے کر اٹھیں گے کہ ہم بھی تو خدا تھے، ہمیں تسلیم کیوں نہ کیا گیا۔ رہے وہ لوگ جن لوگوں نے شرک کا یہ کھڑاگ رچا رکھا ہے وہ درحقیقت حد سے گزر جانے والے ہیں۔ انھوں نے نہ صرف شریعت کی حدود کو پامال کیا بلکہ عقل اور انسانیت کی حدود بھی روند ڈالیں۔ کیونکہ حد سے گزر جانے کی تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی خدائی کا دعویٰ کرے اور ان کو مانے، یا خود خدا بن بیٹھے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے باغی ہو کر دنیا میں خودمختاری کا رویہ اختیار کرے۔ ظاہر ہے ان میں سے کسی کے حق میں بھی نہ کوئی عقلی دلیل قائم ہے اور نہ کوئی نقلی۔ صرف خواہشِ نفس کے پرستار حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

تو تم عنقریب ان باتوں کو یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے

فَسَتَذْکُرُوْنَ مَـآ اَقُوْلُ لَـکُمْ ط وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ ۔ (المؤمن : 44) (تو تم عنقریب ان باتوں کو یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے۔ ) مردِمومن کی تقریر کا اختتام اس آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردمومن کی تقریر کا آخری حصہ ہے جس میں اس نے خیرخواہی کی انتہا کردی ہے۔ جس طرح ایک شفیق باپ اپنے بیٹے کو حق نصیحت ادا کردینے کے بعد جب بیٹے کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں پاتا بلکہ قرائن سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاید اس نصیحت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں، تو وہ اپنے دل میں محبت اور شفقت کے تمام تر جذبات کو سمیٹتے ہوئے یہ بات کہتا ہے کہ بیٹا ! تمہیں شاید آج یہ میری باتیں سمجھ نہیں آرہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب تم میری باتوں کو یاد کیا کرو گے کہ میرے باپ نے ٹھیک کہا تھا۔ لیکن اس وقت شاید عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہوگا۔ یہاں بھی مردمومن نے عمائدینِ سلطنت کے سامنے تمام تر خطرات کو سامنے دیکھتے ہوئے حقِ نصیحت ادا کرنے کی کوشش کی اور جب ان کی طرف سے کسی مثبت جواب کی امید نہ ہوئی تو تب اس نے یہ کہا کہ مجھے جو کہنا تھا، کہہ چکا، تم اسے قبول کرو یا نہ کرو۔ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔ لیکن اس وقت حسرت کے سوا تمہارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ یہاں جس وقت کا ذکر کیا جارہا ہے اس سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے کہ آخرت کے عذاب کو دیکھ کر تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔ اور یا اس سے مراد رسول کی تکذیب کی صورت میں جو عذاب آیا کرتا ہے وہ عذاب بھی ہوسکتا ہے کہ جب اس عذاب کی علامتیں ظاہر ہوں گی تو تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی، لیکن اس وقت بھی تمہاری ندامت نہ دنیا میں آنے والے عذاب کو روک سکے گی اور نہ آخرت کی سزا کو ٹال سکے گی۔ پھر مردمومن نے خطرات کو بھانپتے ہوئے نہایت جرأت سے یہ بات کہی کہ میں جانتا ہوں کہ تم میرے اظہارِحق کی کوشش کو برداشت نہیں کر پائو گے اور مجھے اس کی بڑی سے بڑی سزا دینے کی کوشش کرو گے، لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں، میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے، میں نے جو کچھ کہا سوچ سمجھ کر کہا اور اپنا فرض ادا کیا، اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے مجھے اس سے کوئی اندیشہ نہیں، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے، وہ میری ان ادنیٰ کاوشوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے کافرانہ رویئے کو بھی، مجھے اپنا فرض انجام دینا ہے اور تمہیں اپنا فرض ادا کرنا ہے، اب میرا معاملہ بھی اور تمہارا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ بعض اہل علم نے اس سے یہ بات بھی سمجھی ہے کہ تفویض صرف اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے ہی کو نہیں کہتے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کے حالات اور انجام کو بھی اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے کے بعد ان کی عاقبت اور انجام کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے اور اپنی طرف سے کوئی بڑی بات کہنے کی کوشش نہ کی جائے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پس اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی آفتوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا

فَوَقٰـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ ۔ (المؤمن : 45) (پس اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی آفتوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا۔ ) مخالفین کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے گمان ہوتا ہے کہ مردمومن کی حق گوئی کے نتیجے میں حالات تیزی سے بگڑے۔ فرعون اور اس کے حواریوں نے مردمومن پر براہ راست ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ وہ اس وہم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ جس سچائی نے مردمومن کو اتنے بڑے اقدام پر مجبور کردیا ہے نہ جانے وہ سچائی کس کس دل میں اتر چکی ہے۔ ممکن ہے کہ عمائدینِ سلطنت میں سے اور بھی کچھ لوگ مردمومن کی طرح خفیہ ایمان لا چکے ہوں اور وقت آنے پر اپنے ایمان کا اظہار کریں۔ اس لیے اندر ہی اندر یہ کھوج لگانے کی کوششیں تیز ہوگئیں کہ ایسے لوگ جو اس سچائی سے متأثر ہیں ان کا سراغ لگایا جائے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ایک عرصے تک چلتی رہی۔ لیکن انھوں نے مردمومن کے لیے زندگی اجیرن بنادی۔ اس کو قتل کرنے کی سازشیں تو کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اس کو بدنام کرنے اور اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ ممکن ہے کہ تعزیر اور تعذیب کے شکنجوں میں اسے کسا گیا ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مکروہات اور مصائب سے مردمومن کو محفوظ رکھا جو فرعون اور آل فرعون کے پیش نظر تھے۔ اسی دوران وہ وقت آگیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو صاحب ایمان لوگوں کو ساتھ لے کر ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ اور فرعون ان کا پیچھا کرتے ہوئے بحرِقلزم تک جا پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ ایمان کو بحرقلزم سے خیریت سے گزار دیا۔ لیکن فرعون اپنے لشکروں سمیت بحرقلزم میں غرق کردیا گیا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(جہنم کی) آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا ج وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ قف اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّالْعَذَابِ ۔ (المؤمن : 46) (جہنم کی) آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو۔ ) سُوْٓئُ الْعَذَابِ کی وضاحت گزشتہ آیت کریمہ میں جس عذاب کو سُوْٓئُ الْعَذَابِ قرار دیا گیا ہے وہ بحرقلزم میں غرقابی کے ساتھ ساتھ برزخ کا عذاب بھی ہے جس سے یہ لوگ دوچار ہوں گے۔ برزخی زندگی میں فرعون اور آل فرعون صبح و شام دوزخ کے عذاب پر پیش کیے جائیں گے۔ یعنی ہر صبح اور ہر شام انھیں اس عذاب کا مشاہدہ کرایا جائے گا جس عذاب میں وہ قیامت کے روز ڈالے جائیں گے۔ تاکہ وہ دیکھتے رہیں کہ وہ اصل ٹھکانہ کون سا ہے جس سے قیامت کے دن انھیں واسطہ پڑنے والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی مرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ اور یہ وہ عذاب ہے جو ہلکا عذاب ہے کہ کافروں کو صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخرکار ہمیں جانا ہے۔ لیکن جب قیامت آجائے گی تو پھر اصلی اور بڑے عذاب میں مبتلا کردیئے جائیں گے۔ اور یہ وہ قیامت کا عذاب ہوگا جس کا نظارہ انھیں صبح و شام عالم برزخ میں کرایا جاتا رہا۔ اور یہ معاملہ صرف فرعون اور آل فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں تمام کفار بھی شریک ہیں اور مسلمان بھی۔ باعمل مسلمانوں کو ان کا وہ ٹھکانہ دکھایا جاتا رہے گا جو قیامت کے دن جنت میں ان کو دیا جائے گا۔ اور کافروں کو وہ ٹھکانہ دکھایا جائے گا جو جہنم میں ان کا منتظر ہے۔ بخاری، مسلم اور مسنداحمد میں حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی روایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی مرتا ہے اسے صبح و شام اس کی آخری قیام گاہ دکھائی جاتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے روز دوبارہ اٹھا کر اپنے حضور بلائے گا۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو زیردست ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم لوگ نار جہنم کا کچھ حصہ ہماری جگہ اپنے سر لینے والے بنو گے

وَاِذْ یَتَخَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓـؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْٓا اِنَّا کُنَّا لَـکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ ۔ (المؤمن : 47) (اور اس وقت کو یاد کرو جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو زیردست ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم لوگ نار جہنم کا کچھ حصہ ہماری جگہ اپنے سر لینے والے بنو گے۔ ) اہلِ جہنم کے درمیان توتکار کا ایک منظر جب بھی دنیا میں حق سے دوری کی وجہ سے حالات بگڑے ہیں تو ان میں سب سے بڑا بگاڑ یہ ہوتا ہے کہ ان میں طبقات پیدا ہوجاتے ہیں۔ سب سے بڑا طبقہ جن کے پیچھے لوگ چلتے ہیں ان لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو دولت و حکومت کے باعث اپنی بڑائی کے پندار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جو غریب اور کمزور ہونے کی وجہ سے ان بڑے لوگوں کے زیردست اور تابع بن کر رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنے بالائی طبقے کے پیروکار بن کر رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کی دنیا بھی ان کے تابع ہوتی ہے اور ان کا دین بھی۔ وہ اپنی عقلیں بھی اپنے مفادات کے تابع کرتے ہیں۔ اور مفادات چونکہ بالائی طبقے کے قبضے میں ہوتے ہیں اس لیے وہ ان کی عقلوں پر بھی قابض رہتے ہیں۔ دنیا میں ان لوگوں نے صرف اس لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت پر کان نہ دھرا، کیونکہ ان کے آقائوں نے اپنے شخصی اور گروہی مفادات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دین پر ایمان لانے سے انکار کیا تاکہ ان کی شخصی اور گروہی وجاہتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اب جب یہ دونوں جہنم میں اکٹھے ہوں گے تو غریب لوگ جو ان بڑے بننے والوں کے تابع ہو کر رہے ان سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں آپ کے تابع بن کر رہے اور آب بڑے طمطراق سے ہم پر حکومت چلاتے رہے تو کیا اب بھی اپنی بڑائی کا ثبوت دیتے ہوئے جہنم کے عذاب کا کوئی حصہ اپنے سر لینے کے لیے تیار ہوں گے تاکہ ہمارے عذاب میں تھوڑی بہت کمی ہوجائے۔ جہنم میں جانے کے بعد ان پر یہ بات کھل چکی ہوگی کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور سہارا کام دینے والا نہیں۔ جس طرح ہم اس عذاب کا شکار ہیں اسی طرح بڑائی کے دعویدار بھی اس عذاب کا شکار ہیں۔ وہ ان سے یہ سمجھ کر مدد کی درخواست نہیں کریں گے کہ وہ ان کے لیے کچھ کرسکتے ہوں، بلکہ وہ انھیں ذلیل کرنے کے لیے ان سے یہ مطالبہ کریں گے۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

جو بڑے بنے رہے وہ جواب دیں گے، اب تو ہم سب اس میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْھَـآ لا اِنَّ اللّٰہَ قَدْحَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ۔ (المؤمن : 48) (جو بڑے بنے رہے وہ جواب دیں گے، اب تو ہم سب اس میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ ) تو بڑے طبقے کے لوگ اپنے پیروکاروں کو جواب دیں گے کہ یہاں ہم سب گرفتارِعذاب ہیں، یہاں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں۔ یہاں عظمت اور بڑائی صرف ایک ذات کو حاصل ہے جسے اللہ کہتے ہیں۔ اور اس نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا ہے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ اب تمہارے یہ گلے شکوے یہاں کسی کام نہیں آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور کی دولت سب کو دی تھی۔ رسول سب کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ہم نے اپنے مفادات کی خاطر ان کی بات نہیں سنی۔ اور تم نے اپنے مفادات کی خاطر ہماری پیروی کی۔ اور دونوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ کافر اور مشرک جہنم میں رہیں۔ تو اس فیصلے کے تحت ہم سب کو جہنم میں ڈال دیا گیا۔ اس میں اب کسی کم بیشی کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ کمی بیشی بھی وہی کرسکتا ہے جسے فیصلے کا اختیار ہو۔
Ayahs 40:49–50

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کردے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے ہاں، تو جہنم کے داروغے بولیں گے پھر تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے

وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَھَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّـکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ ۔ قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَـکُ تَاْ تِیْکُمْ رُسُلُـکُمْ بِالْـبَـیِّنٰتِ ط قَالُوْا بَلٰی ط قَالُوْا فَادْعُوْا ج وَمَا دُعٰٓـؤُا الْـکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ ۔ (المؤمن : 49، 50) (پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کردے۔ وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے ہاں، تو جہنم کے داروغے بولیں گے پھر تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے۔ ) اہلِ جہنم کی آخری تدبیر اور اس کی ناکامی جہنم میں ڈالے جانے والے جب یہ دیکھیں گے کہ آج کوئی سہارا ہمارے کام آنے والا نہیں اور کسی کے بس میں نہیں کہ ہماری سفارش کرسکے، تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر دوزخ کے داروغوں سے التجا کریں گے کہ آپ ہی اپنے رب سے درخواست کریں کہ ہمارے عذاب میں ایک ہی دن کی تخفیف کردے تاکہ ہم ایک ہی دن کے لیے سکھ کا سانس لے سکیں۔ تو جہنم کے داروغے جواب میں ان سے یہ پوچھیں گے کہ کیا تم لوگوں کے پاس تمہیں راہ راست دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں آئے تھے اور تمہارے فہم و ادراک کی آسانی کے لیے وہ اپنے پاس واضح دلائل اور معجزات لے کر نہیں آئے تھے۔ تو اہل دوزخ جواب دیں گے کہ ہاں، ہمارے پاس رسول بھی آئے اور انھوں نے نہایت واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کے دین کی حقانیت کو ہمارے سامنے واضح فرمایا۔ لیکن ہماری قسمت پھوٹ گئی، ہم نے ان کی بات نہ سنی۔ تو جہنم کے اہلکار جواب دیں گے کہ پھر تم ہی بتائو ہم اللہ تعالیٰ کے حضور تمہارے لیے دعا کیسے کریں، اور کس وجہ سے تمہارے عذاب میں تخفیف کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کفر و شرک کے حوالے سے کوئی بھی سفارش کرنے کا مجاز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں کسی تبدیلی کا تصور بھی کسی دوسرے کے لیے ممکن نہیں۔ البتہ اگر تم اس بات پر اصرار کرتے ہو تو ہم تو یہ جرأت نہیں کرسکتے، تم خود اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے دیکھو۔ لیکن ہم تمہیں یہ بات پیشگی بتائے دیتے ہیں کہ کافر اور مشرک کی کوئی دعا، فریاد یا چیخ و پکار قبول کرنا تو دور کی بات ہے، سنی بھی نہیں جاتی۔ تم جو بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو گے وہ صدابصحرا ثابت ہوگی۔
Ayahs 40:51–52

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہیں دے گی اور ان کے اوپر لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ۔ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَھُمُ اللَّغْنَۃُ وَلَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ ۔ (المؤمن : 51، 52) (یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہیں دے گی اور ان کے اوپر لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا۔ ) حق و باطل کی کشمکش اور اللہ تعالیٰ کی سنت گزشتہ آیات میں مردمومن کی جرأتِ اظہار، حق گوئی، اللہ تعالیٰ پر توکل اور حکومتِ وقت کے جبر و استبداد سے بےنیازی کا ذکر فرمانے کے بعد اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی انتہائی بےبسی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم پر فرعونِ وقت کی قوتوں سے جا ٹکرائے اور مردمومن اپنی حق گوئی کی وجہ سے فرعون اور آل فرعون کے عتاب کا ہدف بنا۔ لیکن آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ آیا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، مردِمومن اور باقی تمام اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب و کامران ٹھہرے۔ اور فرعون اور آل فرعون کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے آپکڑا اور وہ ہمیشہ کے لیے عبرت بن کر رہ گئے۔ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص جو حق و باطل کی کشمکش کو سمجھنا چاہتا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ایسی کشمکش میں ہمیشہ اپنے رسولوں اور اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی مدد فرمائیں گے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قریش کی دولت و رفاہیت نے جس طرح انھیں طاقت کے پندار میں مبتلا کر رکھا ہے اور وہ نبی کریم ﷺ اور اصحابِ ایمان کی فقر و غربت کو دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں، لیکن وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کو فتح و نصرت سے نوازے گا اور ان کے مخالفین نہایت لجاجت اور عاجزی سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جان کی امان مانگ رہے ہوں گے۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے وہاں تو اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول اور ان پر ایمان لانے والے یقینا جنت کے انعامات سے نوازے جائیں گے۔ ایک اشکال کا جواب اس پر بعض لوگوں کو اشکال ہوا ہے کہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء اور رسل کو ایسی ہی کامیابیوں سے نوازا۔ مگر بعض انبیاء (علیہم السلام) جیسے حضرت یحییٰ ، زکریا اور شعیب (علیہم السلام) کو دشمنوں نے شہید کردیا۔ اور بعض انبیاء اور رسل کو وطن سے ہجرت کرنا پڑی اور پھر کبھی وطن لوٹ کر نہ جاسکے۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ ابن کثیر نے ابن جریر کے حوالہ سے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آیت میں نصرت سے مراد انتصار اور دشمنوں سے انتقام لینا ہے۔ خواہ ان کی موجودگی میں ان کے ہاتھوں سے یا ان کی وفات کے بعد یہ وہ حقیقت ہے جو تمام انبیاء اور مومنین پر بلا کسی استثنیٰ کے صادق آتی ہے۔ جن لوگوں نے اپنے انبیاء کو قتل کیا پھر وہ کیسے کیسے عذابوں میں گرفتار کرکے رسوا کیے گئے، تاریخ ان واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت یحییٰ ، زکریا اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قاتلوں پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا گیا جنھوں نے ان کو ذلیل و رسوا کرکے قتل کیا۔ نمرود کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی عبرت آمیز سزا میں مبتلا کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمنوں پر اللہ تعالیٰ نے روم کو مسلط کردیا جنھوں نے ان کو ذلیل و خوار کیا۔ بعض اہل علم نے اس کی توجیہ اس طرح کی ہے کہ امداد، غلبہ اور استیلا کئی طرح کا ہوتا ہے۔ مثلاً دینی، اخلاقی اور سیاسی۔ بعض مواقع پر غلبے سے مراد یہ تینوں ہی غلبے ہوتے ہیں کہ وہاں رسول کا لایا ہوا دین غالب آجاتا ہے۔ رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو اپنے مخالفین پر اخلاقی تفوق حاصل ہوتا ہے اور دشمن بھی ان کی سیاسی برتری کو تسلیم کرتا ہے۔ اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں، رسولوں اور اصحابِ ایمان کو سیاسی غلبے سے نوازتا ہے۔ ملک کے اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آجاتی ہے اور آہستہ آہستہ ان کے نظریات، ان کا طرززندگی، اس ملک میں رہنے والوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر غالب آجاتا ہے۔ تو ان تینوں میں سے کوئی نہ کوئی تفوق اور غلبہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو ضرور عطا کرتا ہے۔ بظاہر جن انبیاء کو شہید کردیا گیا یا جن رسولوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا، تاریخ آج بھی ان کو سلام کرتی ہے۔ بڑے سے بڑے فلسفی کا فلسفہ اور اس کی فکری برتری آہستہ آہستہ تجربوں سے گزرنے کے بعد ناکام ہوجاتی ہے اور دنیا اسے ماننے سے انکار کردیتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے جن حقائق کو ہزارہا برس پہلے لوگوں کے سامنے پیش کیا ان کی عظمت کا کبھی انکار نہ کیا جاسکا۔ وہ ہر دور میں ایک ایسی حقیقت بن کر رہے جس کی اہمیت و افادیت سے کبھی انکار ممکن نہ ہوسکا۔ ایک تیسرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہے رسولوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ جس قوم کی طرف بھیجے جاتے ہیں ان کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت ہوتے ہیں۔ اگر قوم ان کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے۔ عام اس سے کہ وہ کسی خدائی عذاب سے تباہ ہو یا اہل حق کی تلوار سے شکست کھائے اور عام اس سے کہ یہ واقعہ رسول کے سامنے ہی پیش آئے یا رسول کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک ہر رسول کی زندگی اس سنت الٰہی کی شہادت دیتی ہے۔ یہ تو دنیا کی زندگی میں ہے۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اس دن اللہ تعالیٰ ہر نبی اور ہر رسول سے گواہی دلوائے گا کہ اس نے لوگوں کو کیا تعلیم دی۔ اسی طرح امتوں سے سوال ہوگا کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا ان کی گواہی کے بعد۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو رد کرکے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان کا کوئی عذر بھی کارگر نہیں ہوسکے گا۔ یہاں تک کہ جو لوگ اپنی گمراہی کا ذمہ دار اپنے لیڈروں کو بنانا چاہیں گے ان کا عذر بھی مسموع نہیں ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے جرم میں پکڑے جائیں گے۔ ان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی پھٹکار ہوگی اور ان کا نہایت برا ٹھکانہ ہوگا۔
Ayahs 40:53–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْھُدٰی وَاَوْرَثْـنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْـکِتٰبَ ۔ ھُدًی وَّ ذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ (المؤمن : 53، 54) (ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا۔ جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔ ) نصرتِ الٰہی کی وضاحت اوپر کی دو آیتوں میں پروردگار نے اپنی سنت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہمیشہ رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کی نصرت فرمائی ہے اور دشمنوں کو اپنے عذاب کا نشانہ بنایا۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے آل و اتباع کا ذکر کیا کہ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیسی بےسروسامانی میں فرعون جیسے جابر و قاہر حکمران کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دینے کے لیے اٹھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےبسی کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ یہ کبھی اپنی دعوت میں کامیاب ہوں گے اور ان کی دعوت فتح و نصرت کا پھریرا بن کر لہرائے گی۔ اور وقت کا فرعون اور اس کی فوجیں بحرقلزم میں غرقاب ہوجائیں گی۔ اور بنی اسرائیل جیسی غلامی کی خوبو رکھنے والی قوم ایک بہت بڑی قوم بن کر اٹھے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی۔ یعنی آپ کو رہنمائی دی کہ آپ نے کس طرح بنی اسرائیل کو ایک عظیم قوم میں تبدیل کرنا ہے اور کس طرح فرعون اور آل فرعون کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دینی ہے۔ اور بنی اسرائیل کو ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا جو کتاب دنیا میں رہنمائی دینے کے لیے آئی تھی اور عقل والوں کے لیے نصیحت تھی۔ وارث بنانے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کتاب کی وراثت کا مفہوم یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے پڑھا جائے اسے یاد کیا جائے اور پھر اس کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رہنما کی حیثیت دے کر ہر ادارہ اس کی رہنمائی کے مطابق چلے۔ کتاب کا پڑھنا اور یاد کرنا تو اقتدار کی قوت کے بغیر بھی ممکن ہے لیکن کتاب چونکہ احکام و قوانین کا مجموعہ ہوتی ہے اس لیے اس کا حق ادا کرنے کے لیے کسی قطعہ زمین پر اقتدار کا ملنا بھی ضروری ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو غلبہ و تمکن بھی عطا کیا، یعنی اس کے لیے اس بات کا امکان پیدا کیا کہ وہ کتاب کی رہنمائی کے مطابق اجتماعی زندگی کو استوار کرے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس آپ صبر کریں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے، اور اپنے قصور کی معافی چاہیں اور شام و صبح اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اس کی حمد کے ساتھ

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔۔ (المؤمن : 55) (پس آپ صبر کریں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے، اور اپنے قصور کی معافی چاہیں اور شام و صبح اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اس کی حمد کے ساتھ۔ ) خلاصہ بحث بحث کو سمیٹتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کی مخالفتوں اور ان کی اذیت رسانیوں کی طرف توجہ نہ دیں۔ ہم نے اس سے پہلے جس وعدہ کا ذکر کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا برحق اور پختہ وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ تو آپ تو اس کے آخری رسول ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں آپ کی مدد نہ کرے۔ البتہ اس کی مدد کا طریقہ کیا ہوگا اور وہ نصرت کب آئے گی اس کا اظہار اپنے وقت پر ہوجائے گا۔ آپ کی دلبستگی اور حوصلہ مندی کے لیے اتنی بات کفایت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ضرور آپ کو غلبہ دے گا اور آپ کے دشمن خائب و خاسر ہوں گے۔ البتہ آپ کے لیے اس راستے کے اثاثے کے طور پر جن چیزوں کی ضرورت ہے اور جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت آتی ہے ان میں پہلی چیز یہ ہے کہ آپ اپنی ہر فروگزاشت اور قصور کی اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے رہیں اور اپنے رب کی تسبیح و حمد کرتے رہیں۔ اس میں جس قصور سے استغفار کی بات کی گئی ہے اس کا ایک مطلب اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ اس معاملے میں ذرا بھی بےصبری کا اظہار نہ کریں۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب مصیبتیں حد سے گزر جاتی ہیں اور مخالفین مخالفت میں شرافت کی ہر قدر کو پامال کردیتے ہیں اور یا وہ استہزاء کے طور پر آئے دن نئے نئے معجزات کی طلب کرتے ہیں تو طبیعت میں بےقراری پیدا ہوتی ہے۔ تو کیا حرج ہے اگر ان کو ایسا معجزہ دکھا دیا جائے جس سے یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ اور کبھی یہ بےقراری کی کیفیت اپنے ساتھیوں کی مظلومیت دیکھ کر پیدا ہوتی ہے کہ آخر یہ کب تک ناقابلِ برداشت تکلیفیں برداشت کرتے رہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی بات ظہور میں آنی چاہیے جس سے مخالفت کا طوفان ٹھنڈا ہوجائے۔ یہ بات بجائے خود گناہ نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس کا مقصد لوگوں کو راہ حق کی طرف لانا اور ہدایت کا راستہ روشن کرنا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول جس مقام بلند پر سرفراز ہوتے ہیں وہ مقام زبردست اولوالعزمی کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے ذرا سی جلد بازی آنے والی امت کے لیے بہت بڑی رخصت کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ اس میں بظاہر نبی کریم ﷺ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے لیکن ایسے خطابات میں نبی کریم ﷺ شخصاً مخاطب نہیں ہوتے بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کو جس استغفار کا حکم دیا گیا ہے وہ آپ پر ایمان لانے والوں کی ان کمزوریوں کے حوالے سے ہے جس کا صدور کبھی کبھی نومسلموں سے تربیت کی کمزوری کے باعث ہوجاتا تھا۔ اور آخر میں صبح و شام جس تسبیح وتحمید کا حکم دیا گیا ہے اس میں ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آپ پر ایمان لانے والے سبھی شامل ہیں۔ کیونکہ جس صورتحال سے اس وقت حق و باطل کی کشمکش گزر رہی تھی اس میں اہل حق کے لیے اللہ تعالیٰ سے نصرت طلب کرنے اور اپنے اندر غیرمعمولی حوصلہ پیدا کرنے کے لیے یہی سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی سند اور حجت کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں ایک گھمنڈ ہے جس کو وہ کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں، پس تم اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـھُمْ لا اِنْ فِیْ صُدُوْرِ ھِمْ اِلاَّ کِبْرٌمَّا ھُمْ بِبَالِغِیْہِ ج فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 56) (بےشک جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی سند اور حجت کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں ایک گھمنڈ ہے جس کو وہ کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں، پس تم اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ ) ایک اشتباہ کا ازالہ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت میں ایک اشتباہ کا ازالہ بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی۔ اشتباہ یہ ہے کہ سلسلہ کلام کو دیکھتے ہوئے ایک غیرجانبدار شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اتنے واضح موقف پر اس قدر واضح دلائل کی موجودگی میں کوئی شخص انکار اور مخالفت پر اڑا رہتا ہے تو یقینا اس کی کوئی وجہ ہے ورنہ ایسے زوردار دلائل کے سامنے مخالفت کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان کی مخالفت اس سبب سے نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت اپنے اندر اپیل نہیں رکھتی یا ان کی ذہنی رسائی سے بلند ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کچھ ان کے سامنے پیش کررہے ہیں وہ ان کے ذہنوں کو اپیل بھی کرتا ہے اور دلوں میں اترتا بھی ہے۔ لیکن قبولیت کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ان کے اندر کا وہ روگ ہے جسے آیت کریمہ میں کبر کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی ان کے اندر اپنی معاشرتی حیثیت، اپنی دولت و رفاہیت اور اپنے اثرورسوخ کا جو گھمنڈ پیدا ہوچکا ہے اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ اور مومنوں کی غربت اور ناداری ان کے لیے ایک رکاوٹ بن کر رہ گئی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس سطح کے لوگ ہیں ہماری بات سنی جاتی اور مانی جاتی ہے۔ غریب اور نادار لوگ ہمارے سامنے دست سوال پھیلائے رکھتے ہیں۔ ان کے اندر یہ جرأت کبھی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ ہمارے سامنے اپنی بات کہہ سکیں۔ آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھی جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کو مان لینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ محمد ﷺ کو اپنا رہنما، اپنا قائد، اپنا محبوب اور اپنا مقتداء تسلیم کیا جائے۔ اور ان پر ایمان لانے والوں کو ان کی غربت سمیت برابری کا درجہ دیا جائے، بلکہ وہ اپنی سبقت ایمانی اور اپنی سرفروشیوں کے باعث وہ مقام حاصل کرچکے ہیں جس تک ہم شاید کبھی نہ پہنچ سکیں۔ اس حیثیت کو قبول کرلینے کے بعد نہ ہماری سیادت باقی رہتی ہے اور نہ ہمارا معاشرتی مقام باقی رہتا ہے۔ یہ چیز تو ہماری بڑائی کے لیے ایک ایسا چیلنج ہے جسے ہم کسی طرح قبول نہیں کرسکتے۔ درحقیقت یہ وہ بیماری ہے جس نے ان کے لیے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول بنادیا ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کی بحث اور ان کی کٹ حجتیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ آپ کی دلیل کا توڑ دلیل سے نہیں کرتے۔ اور آپ کی حقیقت بیانی کو کسی حقیقت کے زور پر رد نہیں کرتے، بلکہ ان کی ہر بات بےسند اور بےدلیل ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ پروردگار نے کسی دور میں بھی اور کسی شخص پر بھی وہ باتیں نہیں اتاریں جس کا انھیں دعویٰ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک بےدلیل اور بےسند بات کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے۔ صرف ان کا کبر اور غرور ہے جو انھیں آپ کی دعوت قبول کرنے نہیں دیتا۔ وہ یہ سوچ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ آج جس شخص کو ہم اپنے برابر کا نہیں سمجھتے اس پر ایمان لانے کے بعد ہم نہ صرف اسے اپنے برابر کا سمجھنے پر مجبور ہیں بلکہ وہ ہمارا مقتداء اور آئیڈیل ہوگا جس کی رہنمائی میں ہم زندگی کا سفر کریں گے۔ اس لیے آپ کو ان کی مخالفت کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کی کاوشوں کو کبھی بامراد نہیں ہونے دے گا۔ یہ جتنی سازشیں چاہیں کرلیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ لوگ آپ کے سامنے ہاتھ باندھے امان طلب کررہے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ وہ آپ کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی تدبیر کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کے قتل کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ تو آپ اس کی بھی فکر نہ کریں، آپ کا کام صرف یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہیں اور اس کی پناہ طلب کرتے رہیں۔ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دھمکی کے بعد یہ کہا تھا کہ میں اپنے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر متکبر اور یوم الحساب پر ایمان نہ لانے والے کے مقابلے میں۔ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر مجھ پر وار کرنا چاہتا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اس کی ذات سب سے عظیم ہے، اس کی قدرت بےپناہ ہے۔ جو شخص اس کی پناہ میں آجاتا ہے اسے کوئی قوت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ وہ ذات ہر وقت سننے والی اور دیکھنے والی ہے۔ کوئی سازش اس سے مخفی نہیں رہتی۔ اور کسی دھمکی دینے والے کی دھمکی اس کے علم سے باہر نہیں، وہ سب کے اعمال کو دیکھ رہا ہے، سب کو اس کے مطابق صلہ دیا جائے گا۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المؤمن : 57) (آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ) امکانِ آخرت پر دلیل آنحضرت ﷺ لوگوں کو جس دین کی طرف بلاتے تھے اس کے تین بنیادی اجزاء تھے۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ قریش اور اہل مکہ کو سب سے زیادہ جو چیز کھٹکتی تھی اور جس چیز کو وہ خلاف عقل قرار دیتے تھے وہ عقیدہ آخرت تھا۔ اس میں عجیب و غریب دلائل اور کٹ حجتیوں سے کام لیتے تھے۔ زیادہ زور اس بات پر تھا کہ بیشمار مخلوق اب تک مرچکی ہے اور دنیا کے گوشے گوشے میں ان کی قبریں بن چکی ہیں، لیکن نہ قبروں کے نشان باقی ہیں، نہ ان کے جسموں کے آثار باقی ہیں۔ ہَوائوں نے ان کے ذرات تک نہ جانے کہاں کہاں بکھیر دیئے۔ اور آخرت کے وقوع پذیر ہونے تک نہ جانے اور کتنی مخلوق پیدا ہوگی اور مرے گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کردیا جائے جبکہ ان کے نشانات اور آثار تک باقی نہیں۔ اس کے جواب میں پروردگار نے سب سے پہلے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ہے جس کا سمجھنا ایک عام آدمی کے لیے بھی مشکل نہیں۔ اور مزید یہ کہ اس کے سمجھ لینے سے کم از کم ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کا وقوع محال نہیں، بلکہ ممکن ہے۔ جو بات ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ تم یہ بتائو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا زیادہ بڑی بات ہے یا تمام مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کرنا، جبکہ تم تسلیم کرتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور اس سے مراد پوری کائنات ہے جس میں نہ جانے کتنی اور مخلوقات ہیں، کتنے اور کُرّے ہیں۔ اور پھر اس کائنات کی وسعتوں کا کسی کو اندازہ نہیں۔ انسان سب سے چھوٹے کُرّے کا مکین ہے۔ تو جب اس سے بڑے کُرّے اور بےاندازہ وسعتوں کی حامل کائنات اور بیشمار مخلوقات کو اللہ تعالیٰ پیدا کرچکا ہے اور اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور پھر انسانوں کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے تو آخر دوبارہ ان کا پیدا کرنا یعنی زندہ کرنا کیوں مشکل ہے۔ غبی سے غبی آدمی بھی اس بات کو سمجھنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا کہ جو ذات بڑے کام کو سر انجام دے سکتی ہے اس کے لیے چھوٹے کام کو پایہـ ٔتکمیل تک پہنچانا کبھی مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اتنی سامنے کی بات بھی اکثر لوگ نہیں جانتے۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اندھا اور بینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جو برائی کرنے والے ہیں برابر نہیں ہوسکتے، تم لوگ بہت کم سمجھتے ہو

وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰے وَالْبَصِیْرُ لا 5 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلاَ الْمُسِیْٓ ئُ ط قَلِیْلاً مَّا تَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (المؤمن : 58) (اندھا اور بینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جو برائی کرنے والے ہیں برابر نہیں ہوسکتے، تم لوگ بہت کم سمجھتے ہو۔ ) اخلاقی اعتبار سے آخرت کا وجوب اس آیت کریمہ میں وجوبِ آخرت کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ یعنی صرف ایسا نہیں کہ آخرت آسکتی ہے بلکہ اخلاقی امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ آخرت کا آنا اخلاقی ضرورت ہے، ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں نیکی اور بدی برابر ہے، اچھے اور برے یکساں ہیں۔ جو آدمی دل بیدار کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اس میں اور مردہ دل میں کوئی فرق نہیں۔ ایک آدمی دوسروں کے بھلے کے لیے نقصان برداشت کرتا ہے اور دوسرا آدمی دوسروں کے کھنڈر پر اپنی عمارت تعمیر کرتا ہے، لیکن دونوں یکساں ہیں۔ کیونکہ اچھائی کرنے والا آخرت نہ ہونے کی صورت میں اس بات کا جواب نہیں دے سکتا کہ میں آخر اچھائی کیوں کررہا ہوں اور مجھے اس کا کیا صلہ ملے گا۔ اس طرح برائی کرنے والے کو یہ کہہ کر نہیں روکا جاسکتا کہ تم برائی سے رک جاؤ۔ کیونکہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ جب برائی پر کوئی سزا نہیں ہوگی اور نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کا انجام ایک ہی جیسا ہوگا تو پھر میں برائی سے کیوں رکوں۔ اسی طرح کتنے ایثار کرنے والے اور جان پر کھیل کر صداقتوں کو تقویت دینے والے لوگ ہیں جو صرف اس امید پر یہ سب کچھ کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب اللہ تعالیٰ ہمارے ایثار اور ہماری قربانیوں کا ہمیں صلہ عطا فرمائے گا۔ ہمیں دنیا میں کچھ نہیں چاہیے اور ہم آخرت سنوارنے کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ اسی طرح کتنے لوگ ایسے ہیں جو دنیا میں محرومیوں کا شکار ہیں۔ دنیا میں ہزار کوششوں کے باوجود ان کی محرومیوں کی تلافی نہیں ہوتی۔ ان کو سہارا دینے والی چیز کیا ہے جو انھیں زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ایک ماں جس کا جوان بیٹا اندھی گولی کا نشانہ بن گیا وہ پولیس کے پھیرے پھاڑتی اور عدالتوں کے چکر لگاتی اندھی ہوجاتی ہے لیکن کوئی اس کے بیٹے کے خون کی قیمت ادا نہیں کرتا اور کوئی اس قاتل کو نہیں پکڑتا جس نے اس گھر کو ویران کیا ہے۔ محرومیوں کی تلافی اور ایسے مایوس لوگوں کو زندہ رکھنے کے لیے اگر کوئی چیز امید کا دیا روشن کرسکتی ہے تو وہ صرف آخرت کا تصور ہے جو اچھائی کو باقی رکھنے اور برائی کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ اس اہم حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لاَّرَیْبَ فِیْھَا وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المؤمن : 59) (بےشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔ ) وقوعِ آخرت کا حتمی اعلان گزشتہ دونوں آیتوں سے امکانِ آخرت اور آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح ہوجاتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں وقوع آخرت کو یقینی اور حتمی انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ عقلی اور واقعاتی استدلال سے کسی چیز کا امکان اور اس کی ضرورت کو تو واضح کیا جاسکتا ہے لیکن حتمی انداز میں اس کے وقوع کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جس کا سرچشمہ یقین کی قوت سے بہرہ ور ہو۔ اور وہ ظاہر ہے کہ وحی الٰہی ہے۔ آخرت ہوگی یا نہیں ہوگی اس پر دلائل تو دیئے جاسکتے ہیں لیکن حتمی انداز میں کوئی بات کہنا ممکن نہیں، کیونکہ انسان کے اکتسابی علم کا تعلق محسوسات، تجربات اور معقولات سے ہے۔ جو چیز ان سے ماورا ہے انسان اس کے بارے میں صرف اندازہ لگا سکتا ہے اور ظن و گمان سے کوئی بات کہہ سکتا ہے، لیکن حتمی انداز میں نہیں کہہ سکتا۔ حتمی انداز میں بات کہنا صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کا کام ہے۔ کیونکہ کتاب وحی الٰہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے رسول کے دل پر اس سرچشمہ ٔ علم سے اتری ہے جس کا تعلق ذات خداوندی سے ہے۔ اس لیے اسی کو یہ حق ہے کہ وہ یقینی اور حتمی انداز میں کوئی بات کہے۔ چناچہ جب وحی الٰہی سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ قیامت یقینا آکے رہے گی تو اب اس کے آنے میں کسی شک و شبہ کا احتمال بےعقلی بھی ہے اور کفر بھی۔