Ayah 40:60وَقَالَ رَبُّـکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَـکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْ خُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ ۔ (المؤمن : 60)
(اور تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ میری بندگی سے گھمنڈ میں آکر اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ )
عقیدہ آخرت کو نقصان پہنچانے والے دو سبب اور ان کا رد
آخرت کے عقیدے کو جن تصورات نے نقصان پہنچایا ہے ان میں سے ایک تصور یہ ہے کہ اس کا وقوع بعیداز عقل ہے۔ اوپر کی آیات میں اس کا جواب دیتے ہوئے ایک تو اس کا امکان واضح کیا گیا اور دوسرے اسے اخلاقی ضرورت قرار دیا گیا۔ اور دوسرا تصور جس سے عقیدہ ٔ آخرت کو نقصان پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی یہ سمجھے کہ اگر قیامت آہی گئی تو ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ اس لیے کہ جن شرکاء و شفعاء کو زندگی بھر اپنی قربانیوں کے ذریعے خوش کرنے کی کوشش کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں ان کو شریک سمجھا ہے وہ یقینا ہماری شفاعت کریں گے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ اس کا جواب اس آیت کریمہ میں دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہاری دعائیں سننے والا اور کوئی نہیں۔ تم دنیا میں جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا چکے ہو کسی مشکل وقت میں انھوں نے کبھی تمہاری فریاد نہیں سنی۔ اور آخرکار تم نے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا اور اس نے تو ہمیشہ تمہاری مدد کی۔ اسی طرح آخرت میں بھی تم اپنے ان شرکاء کو پکارو گے کو تو وہ تمہاری کسی پکار اور کسی فریاد کا جواب نہیں دیں گے۔ کیونکہ وہ اس قابل نہیں کہ تمہاری مدد کرسکیں۔ اس لیے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ تمہیں مجھ سے مانگنے کے لیے درمیان میں کسی کو وسیلہ اور واسطہ بنانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں سمیع بھی ہوں اور قریب بھی۔ جسے جو بھی مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگے، میں اس کی درخواست قبول کروں گا۔ میرے یہاں میری اجازت کے بغیر کسی شفاعت اور سفارش کا کوئی جواز نہیں۔
یہ جو فرمایا کہ تم مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا، اس سے بعض لوگوں شبہ پیدا ہوا کہ پروردگار تو ہر دعا کو قبول کرنے کی بشارت دے رہا ہے لیکن ہم بارہا دعائیں کرتے ہیں، لیکن ہماری دعائیں سنی نہیں جاتیں۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد نے اس شبے کا ازالہ فرما دیا۔ حضرت ابوسعید خدری نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ایک مسلمان جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں قبول فرماتا ہے۔ یا تو اس کی وہ دعا اسی دنیا میں قبول کی جاتی ہے یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ہے اور یا اسی درجہ کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک لیا جاتا ہے۔ (مسند احمد)
ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ ( رض) نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو اور جلدبازی سے کام نہ لے۔ عرض کیا گیا کہ جلدبازی کیا ہے ؟ فرمایا : جلدبازی یہ ہے کہ آدمی کہے کہ میں نے بہت دعا کی، بہت دعا کی، مگر میں دیکھتا ہوں کہ میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی۔ اور یہ کہہ کر آدمی تھک جائے اور دعا مانگنی چھوڑ دے۔
بعض احادیث میں ان موانع کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کی موجودگی میں دعا قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی بہت سفر کرتے اور آسمان کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے اور یارب، یارب کہہ کر اپنی حاجت مانگتے ہیں، مگر ان کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، ان کو حرام ہی سے غذا دی گئی تو ان کی دعا کہاں قبول ہوگی۔ (رواہ مسلم)
اس آیت کریمہ میں دعا اور عبادت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ پہلے فقرے میں جس چیز کو دعا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کو دوسرے فقرے میں عبادت کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ دعا عین عبادت اور جامع عبادت ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ جملہ اِنَّ الدُّعَآئَ ھُوَالْعِبَادَۃُ میں بقاعدہ عربیت یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ دعا عبادت ہی کا نام ہے۔ یعنی ہر دعا عبادت ہی ہے اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ہر عبادت ہی دعا ہے۔ یہاں دونوں احتمال ہیں۔ اور مراد یہاں یہ ہے کہ دعا اور عبادت اگرچہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے دونوں جدا جدا ہیں مگر مصداق کے اعتبار سے دونوں متحد ہیں۔ کیونکہ عبادت نام ہے کسی کے سامنے انتہائی تذلل اختیار کرنے کا۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو کسی کا محتاج سمجھ کر اس کے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلانا بڑا تذلل ہے۔ یہی مفہوم عبادت کا ہے۔ چناچہ جو آدمی گھمنڈ میں آکر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے سے اعراض کرتا ہے وہ درحقیقت اپنی عبدیت سے انکار کرتا ہے۔ حضرت انس ( رض) کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اَلدُّعَآئُ مُخُّ الْعِبَادَہِ ” دعا مغز عبادت ہے۔ “ حضرت ابوہریرہ ( رض) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ لَمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضِبُ اِلَیْہِ ” جو اللہ سے نہیں مانگتا، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے۔ حضرت انس ( رض) کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کو اپنی حاجت خدا سے مانگنی چاہیے، حتیٰ کہ اگر اس کی جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو خدا سے دعا کرے۔ یعنی جو معاملات بظاہر آدمی کو اپنی اختیار میں محسوس ہوتے ہیں ان میں بھی تدبیر کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کیونکہ کسی معاملے میں ہماری کوئی تدبیر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تائید کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 40:61–62اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَ کْثَرَالنَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ م لَآ اِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ز ج فَاَنّٰی تُؤْفَـکُوْنَ ۔ (المؤمن : 61، 62)
(اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو پھر تم کس طرح اوندھے ہوجاتے ہو۔ )
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جو بات کسی لفظ کے لازم کے طور پر خودبخود ذہن میں ابھرتی ہے اسے وہ لفظوں میں حذف کردیتا ہے لیکن معنی میں باقی رہتی ہے اور اس کا لازم کے طور پر سمجھ میں آنا اس کے لیے قرینہ ہوتا ہے۔ اس آیت میں وہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ تو اس سے خودبخود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آرام کے لیے چونکہ تاریکی اور خاموشی ضروری ہوتی ہے کیونکہ شور اور روشنی میں نیند آسانی سے نہیں آتی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں مُظْلِمًا کو حذف کردیا گیا ہے جس کا معنی ہے تاریک۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات کو تاریک بنایا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ دن کو روشن بنایا۔ سوال یہ ہے کہ روشن کیوں بنایا گیا ؟ جواب واضح ہے جو خودبخود سمجھ میں آتا ہے تاکہ تم دن کے وقت کام کرسکو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں لِتَعْمَلُوْا محذوف ہے۔
توحید، ربوبیت اور معاد کی تفہیم کے لیے چند نشانیوں سے استشہاد
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی چند نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر غور کرنے سے توحید، ربوبیت اور آخرت کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے توحید پر دلیل قائم کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو تاریک پیدا فرمایا اور دن کو روشن بنایا۔ اور اس طرح تمہارے آرام اور معاش کا انتظام فرمایا۔ رات اگر تاریک اور ٹھنڈی نہ ہوتی اور موسم گرما کے دن کی طرح لو چلتی اور دھوپ کی شکل میں آگ برستی تو انسانوں کے لیے آرام کرنا محال ہوجاتا۔ اور دن کو اگر روشن نہ بنایا جاتا بلکہ رات کی طرح تاریک رکھا جاتا تو حصول معاش کی سرگرمیاں ماند پڑجاتیں۔ اور انسان کی محنت کا جذبہ اور کام کرنے کی امنگ سرد ہوجاتی۔ سوال یہ ہے کہ دن اور رات کا ایک دوسرے کے بعد نہایت پابندی کے ساتھ آنا اور کبھی اپنے وقت سے تخلف نہ کرنا اور کبھی معمولات میں تبدیلی کا واقع نہ ہونا۔ سورج کا اپنی تمام ضخامت اور قوت کے باوجود ایک طریقے کی پابندی کرنا اور کبھی اس سے اختلاف کی جرأت نہ کرنا اور چاند اور سورج کا اپنی اپنی منزلوں پر چلنا اور اپنے مدار میں قائم رہنا، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ان کا پیدا کرنے والا بھی ایک ہو۔ اور ان پر حکمران بھی ایک ہو۔ اگر ان کے خالق مختلف ہوتے تو ان کی صلاحیتوں میں کبھی یکسانی نہ ہوتی۔ اور باہمی تخالف کے باوجود ایک قانون کی پابندی پر کبھی مجبور نہ ہوتے۔ اس سے خودبخود نتیجہ نکلتا ہے کہ کائنات کے سفر کا بغیر کسی تصادم کے جاری رہنا اور کبھی کسی کُرّے کا ایک دوسرے سے نہ ٹکرانا اور کبھی باہمی تخالف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے انکار نہ کرنا ایک ہی بات کا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ ان کا خالق بھی ایک ہے اور ان کا حکمران بھی ایک ہے۔ اور اسی کا قانون پوری کائنات پر تکوینی طور پر نافذ ہے ورنہ ہمیں یہ ہم آہنگی اور یکسانی نظر نہ آتی۔
اور دوسری یہ بات کہ اگر دن اور رات کا آنا جانا اسی طرح ہوتا، کائنات اسی طرح محوسفر رہتی، تمام عناصر اپنی اپنی جگہ اسی طرح کام کرتے، لیکن وہ انسان کی منفعت کا کبھی خیال نہ کرتے۔ ان کی یہ ساری سرگرمیاں انسانی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے نہ ہوتیں ان کی تمام قوتیں اپنی اپنی جگہ کام کرتیں لیکن انسان کی ضروریات اور حصول معاش میں کبھی ممدومعاون ثابت نہ ہوتیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ خالق اور حکمران تو ہے لیکن اپنے بندوں کے لیے ربوبیت کا فیضان اپنے اندر نہیں رکھتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورج سمندر سے پانی کے ڈول بھر بھر کر فضا میں ابر کی چادریں بچھاتا ہے۔ ہوا انھیں کھینچتی ہوئی مطلوب جگہ تک لے جاتی ہے اور وقت مقرر پر انھیں برسا دیتی ہے۔ زمین کی قوت روئیدگی اپنی سینہ انسانی ضروریات کو پیدا کرنے کے لیے کھول دیتی ہے۔ اس کی آغوش انسان کو اپنے اندر نہ صرف پناہ دیتی ہے بلکہ اس کی ضروریات بھی فراہم کرتی ہے۔ رات کی تاریکی اسے اگر سکون دیتی ہے تو دن کی روشنی اس کے اندر طلب معیشت کی امنگ پیدا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہمارا خالق ہے وہ ہمارا رب بھی ہے۔ اس نے جس طرح ہمیں تخلیق فرمایا ہے اسی طرح اس نے ربوبیت کا دسترخوان بھی بچھایا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ انسان اس کے خوان ربوبیت سے فائدہ تو اٹھاتا ہے لیکن اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ حالانکہ حیوانات تک اپنے مالک کے احسانات کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں اور اس کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ لیکن انسان جس کے لیے سب کچھ پیدا کیا گیا ہے وہ نہ اپنے خالق ومالک کو پہچانتا ہے اور نہ اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ حالانکہ بالکل سیدھی بات ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے تمہارے کھانے پینے کا انتظام کیا اور تمہاری ضرورت کی ہر چیز پوری کی اور تمہیں اور تمہاری اولاد کو پیدا کیا تو کیا اس کے سوا کوئی اور بھی تمہارا معبود ہوسکتا ہے۔ انسان جس کا کھاتا ہے، اسی کا گاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں انسان عجیب واقعہ ہوا ہے کہ اسی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر وہ اسی سے غداری اور بےوفائی کرتا ہے۔ اور جو لوگ انھیں الٹی پٹی پڑھاتے اور انھیں اتباعِ ہویٰ کا درس دیتے ہیں۔ وہ ان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے بہکاوے میں آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔
Ayah 40:63کَذٰلِکَ یُؤْفَـکُ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ (المؤمن : 63)
(اسی طرح وہ لوگ بھی اوندھے ہوجاتے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ )
قوموں کی دیرینہ بیماری
آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ حق سے انحراف اور اس راہ میں سیدھی سادھی باتیں ماننے سے بھی گریز آج کی نئی بیماری نہیں بلکہ یہ وہ پرانا مرض ہے جس کا شکار قدیم زمانے کی قومیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ جو سبب ان کی بیماری کا تھا، وہی آج بھی ہے۔ وہ بیماری یہ ہے کہ انسان جب اتباعِ ہویٰ کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ ہر بات کو خواہشِ نفس کے آئینہ میں دیکھتا ہے۔ وہ ہر بات کا مشورہ عقل سے نہیں بلکہ نفس امارہ سے لیتا ہے۔ اور وہ عقل کو نفسانی خواہشات اور سفلی جذبات کا خادم سمجھتا ہے۔ تو پھر اس کی عقل مائوف ہو کر رہ جاتی ہے اور نفسانی جذبات اس کی طبیعت پر حکمرانی کرنے لگتے ہیں۔ اس بیماری کے علاج کے لیے پروردگار نے ہمیشہ اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ اور ان کی مدد سے ان کے سامنے زندگی کا صحیح راستہ روشن کیا، لیکن انھوں نے ہدایت کی پیروی کی بجائے ہمیشہ ہوائے نفس کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے اور اس کی رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگ تباہ ہوگئے۔ آج کے مخالفین نے بھی یہی روش اختیار کی ہے۔ اس لیے ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی اور ایمان کی بجائے کفر اور انکار پر اڑے رہے تو پھر وہ تباہی سے کبھی نہیں بچ سکیں گے۔ اقبال نے اسی مضمون کو لپیٹتے ہوئے اپنے انداز میں کہا تھا :
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
Ayah 40:64اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَـآئً وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَـکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ صلے ج فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 64)
(وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا، اور تمہاری صورت بنائی، پس اس نے تمہاری صورتوں کو بہترین بنایا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا، وہی اللہ تمہارا رب ہے، بس بڑی ہی برکتوں والا اللہ جو کائنات کا رب ہے۔ )
توحید اور ربوبیت پر ایک اور دلیل
اللہ کی توحید اور اس کی ربوبیت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا : بہت دور کی باتیں چھوڑو، اس زمین پر غور کرو جس میں تم نے سکونت اختیار کر رکھی ہے۔ یہ زمین تمہارا ایسا مستقر اور جائے قرار ہے کہ تم اپنی عقل اور ذوق سے کام لے کر جس طرح کا مکان تعمیر کرنا چاہتے ہو، زمین اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار نہیں کرتی۔ زمین پر دوڑنا چاہتے ہو، وہ اپنا سینہ نہیں پھیرتی، تم تھک کر اس پر لیٹ جاتے ہو تو وہ نہ تمہارے لیے اتنی نرم ہوتی ہے کہ تم اس سے اٹھ نہ سکو اور نہ وہ اتنی سخت ہوتی ہے کہ تمہاری کمر چھل کر رہ جائے۔ وہ آغوش مادر کی طرح تمہارے سامنے بچھ جاتی ہے۔ زمین کو جائے قرار بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسمان کو چھت بنایا اور اس طرح سے تمہارا وہ گہوارہ تعمیر ہوا جس میں تم زندگی بسر کرسکتے ہو۔ اس نے تمہیں پیدا کرکے غیرمحفوظ حالت میں نہیں چھوڑا کہ عالم بالا کی آفات بارش کی طرح برس کر تمہیں تہس نہس کردیں، بلکہ زمین کے اوپر ایک نہایت مستحکم سماوی نظام تعمیر کردیا جس سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز تم تک نہیں پہنچ سکتی۔ پھر زمین اور آسمان جو بظاہر ایک دوسرے کے متخالف ہیں ان دونوں میں اس طرح توافق پیدا کردیا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوگئے۔ زمین غلہ اگاتی ہے تو آسمان آبیاری کرتا ہے۔ زمین پودوں کو ابھارتی ہے تو آسمان کا سورج ان میں پختگی پیدا کرتا اور پھر ان کے پھلوں اور دانوں کو پکاتا ہے۔ زمین کا مستقر ہونا اور آسمان کا چھت کی طرح پناہ مہیا کرنا اور دونوں کو انسانی ضروریات کی افزائش میں ایک دوسرے کا مددگار ہونا اور باہمی تخالف کی نسبت رکھنے کے باوجود توافق کا فرض انجام دینا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لاشریک ہے، اس کا قانون سب پر حاوی ہے، زمین و آسمان کی ہر مخلوق اسی کے قبضے میں ہے اور عناصرِحیات کا ہر عنصر اسی کے حکم کے تحت کام کررہا ہے۔
زمین و آسمان کا گہوارہ جو انسان کے لیے خوبصورت گھر کا کام دیتا ہے اس کی آراستگی کے بعد اس نے انسانوں کو وجود بخشا، یعنی پہلے مکان تیار کیا اور اب مکین کو بنایا گیا اور مکین کی شکل و صورت، خوبصورتی اور رعنائی، اس کے جسم اور ذہن کا تناسب، اس کی جسمانی اور ذہنی قوتوں میں اعتدال، اس کا قدو قامت، اس کے ہاتھ اور پائوں، آنکھ اور ناک، اس کی بولتی ہوئی زبان، اس کی استنباط اور استتناج کی صلاحیت، غرضیکہ ہر چیز کو دوسری مخلوقات کی نسبت نہایت موزوں اور خوبصورت بنایا۔
مکان اور مکین کے بن جانے کے بعد جب ایک آراستہ گھر تیار ہوگیا تو پھر ان کے رزق کے لیے وسیع خوان یغما بچھایا گیا۔ کھانے اور پینے کی ایسی ایسی خوش ذائقہ اور خوش رائحہ نعمتیں عطا فرمائیں کہ جن کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ جن چیزوں کو حلال اور طیب بنایا ان میں سے ہر چیز حفظانِ صحت کے اصولوں کے معیار پر بنائی گئی۔ ہر غذا میں افادیت بھی رکھی اور طاقت بھی، جو جسم کی پرورش اور نشو و نما کے لیے ضروری ہے۔ پھر قسم قسم کی ترکاریاں، پھل، دودھ، شہد، گوشت، نمک، مرچ، مصالحے اور غلے پیدا فرمائے جو انسانی غذا کے لیے نہایت موزوں، زندگی کے لیے طاقت بخش اور ذوق کی تسکین کا باعث تھے۔ اور یہ تمام نعمتیں زمین پر اتنی افراط سے پیدا فرمائیں کہ ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے سوا اس میں کمی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ ان تمام چیزوں کی طرف توجہ دلا کے فرمایا کہ جس نے تمہیں ان پاکیزہ نعمتوں کا رزق عطا فرمایا ہے وہی اللہ تمہارا رب ہے جو بےحساب برکتوں والا ہے جس کی ہر نعمت اپنے اندر نمو بھی رکھتی ہے اور نمود بھی۔ اور ہر ناگزیر ضرورت کے زمین میں خزانے پیدا کردیئے اور پھر انسان کو تجسس اور تسخیر کی قوت دے کر بہت سی نعمتوں کا کھوج دے کر اس کی صلاحیتوں کے لیے چیلنج بنادیا۔ اندازہ فرمایئے کہ جس پروردگار نے انسان پر یہ احسانات کیے ہیں اور نہ صرف بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے بلکہ غیرمعمولی صلاحیتیں بھی عطا فرمائی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اِلٰہ ہوتا تو کیا ان نعمتوں کا وجود ممکن تھا۔ اور اگر یہ نعمتیں ہوتیں بھی تو کیا ان میں یہی تناسب اور یہی توافق ہوتا اور کیا یہ زمین واقعی انسان کے لیے مستقر ثابت ہوتی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ جس نے انسان کو یہ سب کچھ عطا کیا ہے کیا اس نے یہ سب کچھ اس لیے دیا ہے کہ انسان خودرو پودے کی طرح اگے اور ختم ہوجائے یا وہ شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارے اور کبھی اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش نہ ہونا پڑے۔ نہ بھلائی کرنے والے کے لیے کوئی جزاء ہو اور نہ برائی کرنے والے کے لیے کوئی سزا۔ خیر اور شر، نیکی اور بدی ایک ہی نگاہ سے دیکھے جائیں۔ تو کیا عقل اور اخلاق اس صورتحال کو تسلیم کرسکتے ہیں۔
Ayah 40:65ھُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 65)
(وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کو پکارو، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، ساری تعریف (شکر) اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ )
نتیجہ بحث
گزشتہ آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے خودبخود جو نتیجہ نکلتا ہے اس کو اس آیت میں ذکر فرما دیا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی زندہ اور زندگی عطا کرنے والا وہی اللہ ہے۔ یعنی اپنے بل پر اور بغیر کسی کی عطا کے وہی زندہ ہے۔ ازلی اور ابدی حیات اس کے سوا کسی کو بھی میسر نہیں۔ اس کے مقابلے میں جن کو تم پکارتے ہو ان کی حیثیت اموات غیراحیاء کی ہے یعنی وہ زندگی سے محروم مردے ہیں۔ وہ نہ سنتے اور نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ نہ ان کے پکارنے سے کچھ فائدہ ہے اور نہ ان کے چھوڑ دینے سے کچھ نقصان۔ تمہارا کام یہ ہے کہ بجائے غیر اللہ کو پکارنے کی حماقت کرنے کے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے پکارو۔ دین کو خالص کرنے سے مراد جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے، اطاعت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ماننے یا اس کو پکارنے کا معنی صرف اس کا وظیفہ کرنا اور کبھی مصیبت میں اسے یاد کرلینا نہیں بلکہ اسی کی خالص اطاعت ہونی چاہیے۔ کیونکہ زندگی کی کوئی نعمت ایسی نہیں جو اس کے سوا کسی اور نے عطا کی ہو اور خود زندگی جیسی نعمت کا وجود بھی اسی کا مرہونِ منت ہے۔ دوسرا معنی دین کا یہ ہے کہ اپنی زندگی کے مجموعی طرزعمل کو اسی کے لیے خالص کردو۔ عبادت، معاشرت، معیشت، تجارت، حکومت، سیاست غرضیکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ ہو جس پر کسی اور کا حکم چلے یا اس میں کسی اور کی رہنمائی قبول کی جائے یا کسی کی رضامندی پیش نظر ہو یا کسی کی ناراضگی کا اندیشہ ہو۔ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت اور اس کے دین کے حوالے سے پہچانی جانی چاہئیں۔ اس میں کسی دوسرے کی شرکت بھی اسے گوارا نہیں۔
باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
وہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے اور ہر طرح کے شکر کا سزاوار بھی وہی ہے۔
Ayah 40:66قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَالَّذِینَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآئَ نِیَ الْـبَـیِّـنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ ز وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 66)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کہ مجھے روک دیا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آچکی ہیں، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے تئیں رب العالمین کے سپرد کردوں۔ )
حتمی اعلانِ حق
تاریخ و سیر کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے اور احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ مشرکینِ مکہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ آنحضرت ﷺ سے مصالحت کی گفتگو کی۔ اور بعض دفعہ حضرت ابوطالب کو بھی واسطہ بنایا۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ آپ توحید کی دعوت میں کسی طرح کی مداہنت کے لیے تیار نہیں اور نہ آپ بتوں کی مذمت سے رکنے والے ہیں۔ تو انھوں نے کوشش کی کہ کوئی درمیان کا راستہ نکالا جائے۔ اس کے لیے انھوں نے جو پیشکش کی وہ یہ تھی کہ ہم آپ کے خدائے وحدہ لاشریک کو ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے خدائوں کو بھی تسلیم کریں۔ ہفتے کے دن تقسیم کرلیے جائیں۔ نصف ہفتہ ہم آپ کے رب کی پوجا کریں گے اور نصف ہفتہ آپ ہمارے بتوں کی پرستش کریں۔ چناچہ اسی سلسلے میں سورة الکٰفرون بھی نازل ہوئی اور بعض دوسری آیات بھی۔ اسی سلسلے کی یہ آیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی زبان سے فیصلہ کن جواب دلوایا گیا تاکہ ان کی ہر امید ٹوٹ جائے اور وہ اسلام کی دعوت پر پوری طرح توجہ دینے پر آمادہ ہوسکیں۔ آپ سے فرمایا گیا کہ آپ انھیں خبردار کردیں کہ مجھے میرے اللہ کی طرف سے ایسی ہر پیشکش کو قبول کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ میں کسی دیوتا کی پرستش کرنے کے لیے تیار نہیں جنھیں تم پوجتے ہو۔ کیونکہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی پرستش پر جو اصرار کررہا ہوں اور باقی ہر طرح کی پرستش سے مجھے انکار ہے تو اس کی وجہ میری ضد نہیں، نہ اس کے پیچھے کوئی تعصب کارفرما ہے بلکہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی روشن دلیلیں نازل ہوچکی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے واضح احکام آچکے ہیں کہ جن کی موجودگی میں، میں کسی دوسرے کی عبادت اور بندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور میرے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کے سلسلے میں کسی دوسرے کی شرکت گوارا کروں کیونکہ میرا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور اس کی نگرانی میں ہے۔ اور میری زندگی کا ہر شعبہ اسی کی ہدایت کے تابع ہے۔ اس لحاظ سے میں اس کا پابند ٹھہرایا گیا ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی رب العالمین کے سپرد کردوں۔
Ayah 40:67ھُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا ج وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلاً مُّسَمًّی وَّلَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (المؤمن : 67)
(وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تم کو وجود میں لاتا ہے ایک بچہ کی شکل میں، پھر وہ تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ اپنی جوانی کو پہنچو، پھر مزید بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو، اور تم میں سے بعض کو پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے۔ اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ، اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم حقیقت کو سمجھو۔ )
اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت پر انسان کے اپنے وجود سے استدلال
توحیدِباری تعالیٰ اور اثباتِ آخرت پر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے استدلال کیا گیا ہے اور استدلال کا حوالہ ان چیزوں کو بنایا گیا ہے جس سے ہر انسان خود گزرتا ہے یا گزرنے والوں کو دیکھتا ہے اور اس سے زیادہ سامنے کی بات اور آپ بیتی شاید اور کوئی نہ ہو۔ جس انسان کو بھی اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا اور زندگی عطا کی ہے وہ جانتا ہے کہ میں کن کن مراحل سے گزرا ہوں۔ کیونکہ وہ اپنے جیسے انسانوں کو ان مراحل سے گزرتے دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے خلقت کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے کی اور انھیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ پھر میاں بیوی کے اتصال سے نطفے کی صورت میں ایک خوردبینی کیڑے کو ماں کے رحم میں پہنچایا۔ استقرارِحمل کے بعد پانی کی اس بوند نے گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کی، پھر بتدریج نشو و نما پا کر ایک جنین کی شکل اختیار کرگئی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو ایک جیتے جاگتے بچہ کی صورت میں ماں کے پیٹ سے باہر لے آیا۔ سوال یہ ہے کہ نطفے کے خوردبینی کیڑے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق کا وجود میں آنا اور پھر ماں کے پیٹ میں استقرارِحمل کے وقت سے وضع حمل تک اندر ہی اندر اس کا اس طرح پرورش پانا کہ اس کی جنس، اس کی شکل و صورت، اس کے جسم کی ساخت، اس کے ذہن کی خصوصیات اور اس کی قوتیں اور صلاحیتیں سب کچھ وہیں متعین ہوجائیں اور ان کی تشکیل پر دنیا کی کوئی طاقت اثرانداز نہ ہوسکے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سوا کسی اور چیز کا اظہار ہے۔ کیا کسی انسان کی قدرت میں یہ بات ہے کہ وہ گندے پانی کے ایک قطرے کو ماں کے پیٹ میں باہر کے اثرات کے بغیر نہایت خفیہ طریقے سے جہاں کسی کی نظر بھی نہ پہنچ سکے انسان کی شکل میں تبدیل کردے اور اس کے اندر نہ صرف جان پیدا کرے بلکہ اس کی تمام صلاحیتوں اور خصوصیات حتیٰ کہ عمر اور قسمت کا تعین تک کردے، ظاہر ہے کہ اس میں سے کوئی بات بھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور پھر مزید عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت جس کے اسقاطِ حمل کا فیصلہ کرتی ہے وہ اسقاط ہو کر رہتا ہے۔ اور جسے بچپن میں مرنا ہے وہ بچپن ہی میں مرجاتا ہے۔ چاہے وہ کسی بادشاہ ہی کا بیٹا کیوں نے ہو۔ کوئی حکومت اور ریاست کسی کو موت کے منہ سے نہیں چھین سکتی۔ اور جسے جوانی یا بڑھاپے کی عمر تک پہنچنا ہے۔ وہ ہر طرح کے خطرناک حالات سے گزر کر بھی جوانی یا بڑھاپے تک پہنچ کر رہتا ہے۔ زندگی کا ہر مرحلہ اس کے ہاتھ میں ہے کوئی دوسرا ہزار کوشش کے باوجود بھی اس میں تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا استقرارِحمل سے لے کر وضع حمل تک اور پھر اس کی حیرت انگیز ساخت اور اس کی محیرالعقول صلاحیتیں اور اس کی زندگی کے مختلف مراحل اور ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور کیا یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ انسان میں ہر تبدیلی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آتی ہے، اس کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے گراں بار ہے، اس کی زندگی کے ہر شعبے پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات ہیں، اس قادرمطلق کے سوا ان تمام باتوں میں کسی اور کا اختیار نہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے، کسی اور سے دعائیں کیسے کی جاسکتی ہیں، کسی اور کو یہ منصب کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ تحلیل و تحریم کا مجاز ہو۔ اور کسی اور کی اس کے سوا غیرمشروط اطاعت کیسے کی جاسکتی ہے۔ یہ ہے وہ سوال جس پر غور و فکر کی اس آیت کریمہ میں دعوت دی گئی ہے۔
Ayah 40:68ھُوَالَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَـقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ۔ (المؤمن : 68)
(وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور جو مارتا ہے، پس جب وہ کسی عمل کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس کا حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ )
گزشتہ دلیل کا نتیجہ
گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے جو غور و فکر کی دعوت دینے کے بعد ہر غور و فکر کرنے والے کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کی اصل چیز زندگی اور موت ہے کیونکہ نظریات سے لے کر اعمال تک ہر چیز کا تعلق زندگی سے ہے اور موت ہر چیز کے خاتمے اور فنا کا نام ہے۔ اور ان دونوں چیزوں کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی ہزار انکار کرے اور نمرود کی طرح تاویل کی حماقت بھی کرے جب بھی یہ بات مُسلّم ہے کہ موت وحیات اسی کے قبضے میں ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ کائنات وجود میں کیسے آئی اور کیسے یک لخت ختم ہوجائے گی اور مردہ انسان کس طرح ازسرنو زندہ کردیئے جائیں گے۔ اور کائنات کی بساط دوبارہ کیسے بچھائی جاسکے گی۔ ان سب کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ پروردگار جو موت وحیات کا مالک ہے اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ صرف ایک حکم دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ امر ہوجاتا ہے۔ اسے کسی تیاری یا محنت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں۔ اس لیے اگر اللہ تعالیٰ کا رسول لوگوں کے سامنے اصرار کرتا ہے کہ تمام کائنات کی صف ایک دن لپیٹ دی جائے گی اور پھر ازسرنو زندگی وجود میں آئے گی اور تمام انسان زندہ کیے جائیں گے اور وہ جواب دہی کے لیے میدانِ حشر میں جمع ہوں گے اور ایمان و عمل کے اعتبار سے جزاء اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ تو یہ بات کسی کے لیے چاہے کیسی بھی بعیدازعقل ہو اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اس لیے کہ جب وہ حکم دے گا تو قیامت بپا ہوجائے گی۔
Ayahs 40:69–70اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ ط اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْـکِتٰبِ وَبِمَـآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَا قف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المؤمن : 69، 70)
(کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، وہ کہاں سے پھرائے جارہے ہیں۔ جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور ان چیزوں کو بھی جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا، وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
کفار کی کٹ حجتی کا سبب
اوپر والی تقریر نے ہر فکری گمراہی کو کھول کر رکھ دیا ہے اور ہر ذہنی الجھن کی گرہ کھول دی ہے۔ حقائق بالکل واشگاف ہو کر سامنے آگئے ہیں، اس کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں کٹ حجتی کرتے اور بات کو سمجھنے کی بجائے الجھانے کے درپے ہیں، کیا تمہیں اندازہ نہیں ہوسکا کہ ان کی اس گمراہی اور کج روی کا سبب کیا ہے۔ اور وہ یہ کٹ حجتی کس بناء پر کررہے ہیں۔ کیا ان کا ذہنی سانچہ الٹ گیا ہے یا ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ گیا ہے۔ آخر وہ کس سبب سے ہر چیز کو الٹا دیکھ رہے ہیں۔
دوسری آیت میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کی کٹ حجتی کا اصل سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کریم کی تکذیب کی۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کو ماننے سے انکار کردیا۔ انھوں نے زندگی کو عیش پرستی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے زندگی کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے سے انکار کردیا اور عقل کو استعمال کرنے کی بجائے اتباعِ ہَویٰ کو اپنا شعار بنا لیا۔ اب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب بھی ان کی ہَوائے نفس کے خلاف کوئی بات کہی جاتی ہے اور دنیا کی بجائے آخرت کی فکر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اسے سنجیدگی سے لینے کی بجائے کٹ حجتی کا موضوع بنا لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی ہر بات میں جھگڑا کرنا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ صرف آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی جس کتاب کی تکذیب کی انھوں نے جسارت کی ہے عنقریب وہ اس کا انجام دیکھ لیں گے۔
Ayahs 40:71–72اِذِالْاَغْلٰـلُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ ط یُسْحَبُوْنَ ۔ فِی الْحَمِیْمِ لا 5 ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ ۔ (المؤمن : 71، 72)
(جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی، وہ کھینچے جائیں گے۔ کھولتے ہوئے پانی میں، پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ )
آخرت میں مخالفین کا انجام
تکذیبِ رُسل اور تکذیبِ کتاب کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت میں ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور جسم کے مختلف حصے زنجیروں میں جکڑے جائیں گے۔ پھر جب وہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر پانی مانگیں گے تو جہنم کے کارکن ان کو زنجیروں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے اور ان چشموں پر لے جائیں گے جن سے کھولتا ہوا پانی نکل رہا ہوگا۔ جب وہ پانی پی چکیں گے تو پھر وہ جہنم کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔
Ayahs 40:73–74ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَـکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (المؤمن : 73، 74)
(پھر ان سے پوچھا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم شریک کرتے تھے۔ اللہ کے سوا، وہ جواب دیں گے وہ سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو بھی نہ پکارتے تھے، اس طرح اللہ کافروں کے حواس گم کردے گا۔ )
مشرکین کا اعتراف
جب یہ لوگ اپنے کفر و شرک کی پاداش میں جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے تو پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے کچھ قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور ان کے بارے میں تمہارا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر ہم پر کوئی افتاد پڑی تو یہ شرکاء ہماری ضرور مدد کریں گے۔ اب جبکہ تم اپنے جرائم میں پکڑے گئے ہو اور جہنم کی بدترین سزا میں گرفتار ہو تو اب وہ تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں پہنچ رہے ہیں۔ تو وہ جواب میں کہیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے، یعنی ہم نے جن پر بھروسہ کیا تھا آج ان کا کوئی وجود نہیں۔ یہ ہماری حماقت تھی کہ ہم نے ان کے اعتماد پر شرک کا راستہ اختیار کیا اور انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے رہے۔ لیکن آج معلوم ہوا کہ وہ ہماری مدد کرنے کے قابل نہ تھے اس لیے وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ اس لیے آج ہم پر یہ بات کھلی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا وہم سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ تو آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بظاہر ہم نے ان کو دنیا میں اسی لیے پکارا کہ وہ آخرت میں ہمارے کام آئیں گے لیکن اب معلوم ہوا کہ جنھیں ہم سہارا سمجھتے تھے وہ کچھ بھی نہ تھے۔ اس طرح سے ہم نے دیواروں سے سر ٹکرایا، اور ہَوائوں کو مٹھی میں تھامنے کی کوشش کی۔ اور جو قوتیں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہیچ اور لاشے تھیں انھیں سہارا سمجھنے کی حماقت میں مبتلا رہے۔
بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ وہ جواب کے آغاز میں دوسروں کی پرستش اور ان سے استمداد کا اعتراف کریں گے۔ لیکن پھر معاً ان کو خیال آئے گا کہ یہی تو وہ جرم ہے جس کی پاداش میں ہمیں پکڑا گیا ہے اور ہم اسی کا اعتراف کرکے اپنے جرم کی گواہی دے رہے ہیں۔ اس لیے وہ فوراً اس سے مکر جائیں گے۔ اور کہیں گے کہ ہم نے کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ اور ہم کسی کو نہیں پکارتے رہے۔ خیال ان کا یہ ہوگا کہ شاید اس سخن سازی سے ہمارے عذاب میں کوئی تخفیف ہوجائے یا ہمیں اس سے کوئی نفع پہنچے۔ انجام کے اعتبار سے دونوں معنوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ بلاشبہ عذاب کی شدت سے مشرکین پر ایک بدحواسی طاری ہوگی۔ اس لیے کبھی وہ کچھ کہیں گے اور کبھی کچھ۔ مقصد صرف یہ ہوگا کہ شاید اس طرح ہمارے چھوٹ جانے کا کوئی امکان پیدا ہو۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس طرح کافروں کو حواس باختہ کردے گا۔
Ayah 40:75ذٰلِـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ ۔ (المؤمن : 75)
(یہ اس سبب سے ہوا کہ تم زمین میں غیرحق پر خوشیاں مناتے اور اکڑتے تھے۔ )
کافروں کے جرائم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جس انجام کو پہنچے ہو اس کا سبب کوئی ایک جرم نہیں بلکہ جرائم کی ایک فہرست ہے۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم نے زندگی کے جو اصول بنا رکھے تھے اور پھر ان میں جو ترجیحات قائم کر رکھی تھیں ان پر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ سند تمہارے پاس موجود نہ تھی۔ تمہاری ہوس اور خواہشِ نفس نے جیسے تمہیں رہنمائی دی اسی کو تم نے حرف آخر جانا اور اسی کو حق قرار دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ بلکہ تم اس اتباعِ نفس اور باطل پرستی پر اس قدر نازاں رہے کہ وہی تمہاری خوشیوں کا محور بن گئی اور اسی کو تم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات پر ترجیح دی۔ جب بھی کسی نے تمہاری حالت بدلنے کے لیے نصیحت کی کوشش کی تو تم نے اسے دھتکار دیا۔ اور اپنے مزعومہ عقائد اور خیالات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان پر اکڑتے رہے۔
Ayah 40:76اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (المؤمن : 76)
(داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے، پس بہت برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ )
تکبر کرنے والوں کا انجام
تم نے جس طرح دنیا میں حق کو نظرانداز کیا اور اہل حق کی باتوں کی تضحیک کی اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو ناقابلِ اعتنا ٹھہرایا اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ جہنم کے دروازے کھلے ہیں ان میں داخل ہوجاؤ، اب ہمیشہ اسی میں رہنا ہے اور یہ توقع نہ رکھنا کہ تم اس سے کبھی نکل سکو گے۔ پھر ان سے منہ پھیر کر ارشاد ہوگا کہ کس قدر برا ٹھکانہ ہے جو ان متکبروں کا مقدر بنا ہے۔ لیکن غیرمتوقع ہرگز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے مقابلے میں جو بھی بڑائی اور عظمت کا صور پھونکے گا وہ ایک ایسا جرم کرے گا جس سے بڑے جرم کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 40:77فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَاِمَّا نُرِیَنَّـکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّـکَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ۔ (المؤمن : 77)
(پس اے نبی صبر کیجیے، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے، یا تو ہم آپ کو اس کا کچھ حصہ جس کی ہم ان کو وعید سنا رہے ہیں، دکھا دیں گے اور یا ہم آپ کو وفات دے دیں گے، پھر وہ ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر مخالفین جس طرح آپ کی ایذارسانی میں روزبروز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں آپ اس سے ہرگز غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور ہو کے رہنے والا ہے۔ مراد اس وعدے سے دنیا میں آنے والا وہ عذاب ہے جو تکذیبِ رسول کے نتیجے میں قوم پر آتا ہے۔ اور یا اس سے مراد وہ وعدہ ہے جس میں آخرت کے روز کفار گرفتار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے مکمل طور پر انکار کردیتی ہے اور پھر رسول کے قتل کے منصوبے باندھنے لگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو وہاں سے ہجرت کا حکم دے دیتا ہے۔ اور اس طرح سے انھیں کسی عافیت کی جگہ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اور پھر اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اترتا ہے جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ لیکن آخرت کا عذاب اس عذاب سے کہیں بڑھ کر ہے دنیا کے عذاب میں مبتلا ہونے والے بھی آخرت کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی جو امت دعوت تھی یعنی قریش اور دیگر اہل عرب ان پر عذاب کا کچھ حصہ آنحضرت ﷺ کے سامنے نازل ہوا۔ یعنی وہ لوگ جنگ بدر میں اپنے تمام کروفر کے باوجود انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئے۔ ان کی قومی سیادت کی پہلی صف قتل ہوگئی اور دوسری صف نے قید کی ذلت اٹھائی۔ لیکن جو لوگ اس عذاب سے بچ گئے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انھیں بہرصورت ہمارے پاس ہی لوٹ کے آنا ہے، اس لیے وہ قیامت کے اصل عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ کفروشرک کے انجام کے طور پر اصل سزا آخرت میں جہنم کی صورت میں ہوگی۔ لیکن جن قوموں پر دنیا میں عذاب آتا ہے یا وہ عذاب کے کسی ایک حصے کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی درحقیقت آخرت ہی کے عذاب کا ایک حصہ ہے۔ لیکن اصل عذاب، عذاب آخرت ہے جسے قرآن کریم نے عذاب اکبر قرار دیا ہے جس میں تمام کافر ایک ہی ساتھ جھونک دیئے جائیں گے۔
Ayah 40:78وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ ط وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیـَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ج فَاِذَا جَـآئَ اَمْرُاللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ (المؤمن : 78)
(اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے حالات آپ کو نہیں سنائے، کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ کوئی نشانی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر لاسکے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت اہل باطل خسارے میں پڑگئے۔ )
آیت میں تین باتوں کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ قریش کی طرف سے منہ مانگے معجزات کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے جتنے رسول آئے ہیں ان کی قوموں نے بھی ہمیشہ اس طرح کے مطالبات کیے ہیں۔ ان رسولوں میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو سنائے ہیں اور بعض کا ہم نے آپ سے ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ہر رسول کی امت معجزات طلب کرتی رہی ہے۔ اب اگر قریش کو عجیب و غریب معجزات کی طلب ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ کسی قوم کی طرف کوئی رسول اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں بھیجا جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت عطا کی ہو کہ وہ لوگوں کے مطالبے پر اپنی مرضی سے ان کا منہ مانگا معجزہ دکھا دے۔ جب بھی کسی پیغمبر کے ہاتھ پر کسی معجزے کا ظہور ہوا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اِذن، اس کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوا ہے۔ اس لیے معجزات کا دکھایا جانا سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے متعلق ہے، اللہ تعالیٰ کے نبی کی پسند و ناپسند سے نہیں۔ اسے اگر کبھی ایسا خیال ہوتا ہے تو وہ اپنے اللہ سے دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق اس کا جواب دیتا ہے۔ اس لیے قریش اور دیگر مخالفین کو اولاً تو نبی کریم ﷺ سے اس طرح کے معجزات کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے رسول کا نہیں بلکہ پروردگار کا ہے۔ اور پروردگارِعالم لوگوں کے مطالبات پر فیصلے نہیں کرتا، اپنی حکمت کے مطابق کرتا ہے۔ پیغمبر کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اور اس کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کی اپنی بساط کے مطابق کوشش کرے۔
تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جب کبھی لوگوں کے مطالبات پر اللہ تعالیٰ کسی نشانی کو دکھانے اور کسی معجزے کے ظہور کا حکم دے دیتا ہے تو پھر قریش اور دیگر مخالفین کو یاد رکھنا چاہیے کہ معجزے کا مطالبہ کرنے والے بہت بڑے خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ کبھی تو وہ اپنے پیغمبر کو سندماموریت کے طور پر بعض معجزات کے ساتھ مسلح کرکے بھیجتا ہے۔ اور کبھی اس کی دعوت کو آسان بنانے اور مخالفین کی مخالفت کو کم کرنے کے لیے معجزات کا ظہور فرماتا ہے۔ لیکن وہ معجزات اور وہ نشانیاں جن کا مطالبہ قوم کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی جاتی ہے کہ اگر ایسے معجزات دکھا دیئے جائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اور پھر وہ قوم ان معجزات کے بعد بھی ایمان نہیں لاتی، تو لازمی طور پر تباہ کردی جاتی ہے۔ اس لیے جس قوم کو اپنی خیریت مطلوب ہے اس کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی پر ایمان لائے۔ اور اگر ایمان اس کے نصیب میں نہیں تو اپنے منہ مانگے معجزات کو مشروط طور پر پیش نہ کرے ورنہ اسے خسارے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور یہاں اس خسارے سے مراد اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے جو تباہی کا پیغام بن کر آتا ہے۔
Ayahs 40:79–81اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْھَا وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْھَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ وَیُرِیْـکُمْ اٰیٰـتِہٖ صلے ق فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنْـکِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 79 تا 81)
(اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے تاکہ تم ان میں سے کسی سے سواری کا کام لو اور کسی کا گوشت کھائو۔ ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اس ضرورت تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو۔ اللہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے۔ )
گردوپیش میں پھیلی ہوئی نشانیوں کی طرف رہنمائی
اوپر کی آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ پہلی امتیں بھی اپنے رسولوں سے مختلف قسم کے معجزات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور ایسے ہی مطالبات قریش بھی کررہے تھے۔ چناچہ پہلے رسولوں کے طرزعمل اور امتوں کے انجام کے حوالے سے اس کا جواب دیا گیا۔ اب پیش نظر آیت میں ان کے مطالبات کا جواب ایک اور پہلو سے دیا جارہا ہے۔ وہ یہ کہ تم اگر معجزات کا مطالبہ محض تفریحِ طبع کے لیے کررہے ہو تو یہ ایک ایسی غیرسنجیدہ بات ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر معجزات کا مطالبہ تم اس لیے کررہے ہو تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے رسول کا سچا ہونے کا یقین ہوسکے تو اس کے لیے کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے لیے وہ نشانیاں کافی ہیں جو تمہارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں اور تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آرہی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ وہ چارپائے ہیں جن سے انسان ہر روز مختلف قسم کے فوائد حاصل کررہا ہے۔ ان میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو جانور انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں مثلاً گائے، بیل، بھینس، بھیڑبکری، اونٹ اور گھوڑے، ان میں سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ اپنی تمام ضخامت و جسامت اور قوت و طاقت اور بہیمانہ خصائل کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح پیدا فرمایا ہے کہ وہ بڑی آسانی سے انسان کی خدمت کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ ان سے اس کی بیشمار ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ کسی پر انسان سواری کرتا ہے، کسی کو باربرداری کے کام میں لاتا ہے، کسی کو کھیتی باڑی میں استعمال کرتا ہے اور کسی کا دودھ نکال کر پیتا بھی ہے اور اس سے دہی، لسی، مکھن، گھی، کھویا، پنیر اور طرح طرح کی مٹھائیاں بھی بناتا ہے۔ پھر ان میں سے بعض کا گوشت کھاتا ہے، ان کی چربی استعمال کرتا ہے، ان کے اون، بال، کھال، آنتیں، ہڈی، خون اور گوبر ہر چیز اس کے کام آتی ہے۔ کیا یہ نشانیاں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف رہنمائی کے لیے کافی نہیں۔ اور پھر لطف یہ ہے کہ نشانیوں کا معاملہ صرف اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ انسان کو اپنی ضروریات کے حصول کے لیے برِّی سفر بھی کرنے پڑتے ہیں اور بحری بھی۔ کیونکہ جس خطہ ٔ زمین پر قرآن کریم کا نزول ہورہا تھا وہاں کے رہنے والوں کی ضروریات کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ یہ سفر ہی تھے۔ تجارت ان کی زندگی بن کر رہ گئی تھی۔ وہ ملکوں ملکوں تجارت کے لیے گھومتے تھے اور اس کی وجہ سے عرب کے شہروں میں دنیا بھر کی ہر چیز میسر ہوتی تھی۔ اشیائے خوردونوش کی بھی کمی نہ تھی اور ضرورت کی دیگر اشیاء کی بھی فراوانی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں جن برِّی سفروں کے نتیجے میں ان کو حاصل ہوتی تھیں ان کا ذریعہ اونٹ تھا جو اہل عرب کے لیے صحرائی سفینہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور بحری سفروں میں جو ان کی تجارت کے لیے ضروری تھے انھیں کشتیاں استعمال کرنی پڑتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی تھی کہ انسانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جس طرح اس نے اونٹ پیدا فرمایا، اسی طرح پانی اور سمندروں اور ہَوائوں کو ایسے قوانین کا پابند بنایا جن کی بدولت کشتیاں پانی پر تیرتی پھرتی ہیں۔ اور ان کے واسطے سے جن ملکوں میں برِّی سفر ممکن نہ تھا وہاں ان کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے سے سامانِ تجارت لانا اور لے جانا ممکن بنادیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جن سے انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت اور اس کی بےپناہ قدرت کو بڑی آسانی سے جان سکتا ہے۔ اور اسی سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ جس حکیم وعلیم نے اپنی بیشمار چیزیں انسان کے تصرف میں دی ہیں اور اسے قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے اور بروبحر کو اس کے لیے مسخر کردیا ہے کیا اسے دنیا میں شتر بےمہار بن کر زندگی گزارنے کی اجازت دے گا ؟ اور کبھی ایسا دن نہیں لائے گا جب اس انسان سے وہ اپنی نعمتیں اور اپنی دی ہوئی صلاحیتوں کے حوالے سے جواب طلبی کرے۔
Ayah 40:82اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَانُوْٓا اَکْثَرَمِنْھُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (المؤمن : 82)
(کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے۔ ان سے بڑھ کر طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے۔ پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ انھوں نے کمایا تھا۔ )
ایک تنبیہ
آخر میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ان لوگوں نے اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی نشانیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے غیرمعمولی معجزات کے ظہور پر اصرار جاری رکھا تو یہ وہی طرزعمل ہے جس کا ارتکاب اس سے پہلے امتیں کرچکی ہیں۔ ان کی تاریخ ان کے لیے اجنبی نہیں، وہ اپنے تجارتی سفروں میں ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں۔ تو کیا ان کو وہاں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ان قوموں کا انجام کیا ہوا۔ حالانکہ وہ افرادی قوت میں ان سے بڑھ کر تھے۔ وہ اپنی ہیبت اور دبدبے میں اپنی مثال آپ تھے۔ اور انھوں نے اپنے پیچھے جو تمدنی آثار چھوڑے اور تعمیری یادگاریں چھوڑیں ان کا اس معاملے میں ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ آج تک پہاڑوں میں کھدے ہوئے محلات ان کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن جب ان پر اخلاقی زوال مسلط ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت اور اپنی حقیقت کو بھول گئے تو ان کی یہ ساری ترقیاں ان کے لیے بیکار ثابت ہوئیں اور کوئی چیز بھی ان کو تباہی سے نہ بچا سکی۔ کیونکہ اخلاقی زوال میں مبتلا قومیں اپنے تمدنی آثار کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتیں۔