40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsروح القرآن

Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔ پھر اسی چیز نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

فَلَمَّا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (المؤمن : 83) (اور جب ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔ پھر اسی چیز نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ) جب اللہ تعالیٰ کے رسول ان کی زندگی کی اصلاح کے لیے ان کے پاس وہ علم لے کر آئے جس کے نتیجے میں انسانی زندگی کی ہر چول اپنی جگہ بیٹھ جاتی ہے۔ فکری صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے، قلبی انتشار سکون میں تبدیل ہوجاتا ہے، معاملات میں اعتدال پیدا ہوتا اور حقوق میں ایثار و اخلاص کی خو جنم لیتی ہے۔ تو یہ لوگ بجائے اس نسخہ کیمیا کے قبول کرنے کے اپنے فلسفے اور سائنس، اپنے قانون، اپنے دنیوی علوم اور اپنے پیشوائوں کے گھڑے ہوئے مذہبی افسانوں اور دینیات ہی کو اصلی علم سمجھتے ہوئے اس پر جمے رہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کے لائے ہوئے علم کو ہیچ سمجھ کر اسے ماننے سے انکار کردیا۔ تو آخر اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جو کچھ ہم دنیا کے بارے میں جانتے ہیں یہی علم کی معراج ہے اور جو کچھ یہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہمیں بتا رہے ہیں یہ محض افسانے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا یہ پندار اور خودپسندی ان کی تباہی کا باعث بنی۔
Ayahs 40:84–85

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو، اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم شریک ٹھہراتے تھے

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پس نہ نفع دیا ان کے ایمان نے جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے

فَلَمَّا رَاَوْبَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ ۔ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ اِیْمَانُھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ط سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ ج وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 84، 85) (پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو، اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم شریک ٹھہراتے تھے۔ پس نہ نفع دیا ان کے ایمان نے جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔ ) عذاب دیکھ کر ایمان قبول نہیں ہوتا رسولوں نے ہرچند انھیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے ان کی ایک بات بھی سن کر نہیں دی۔ تاآنکہ تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ جب انھوں نے عذاب کو دیکھا تو اب وہ ایمان کا دعویٰ کرنے لگے۔ اور اس شرک سے توبہ کرنے لگے جس کے خلاف بات سننے کے بھی روادار نہ تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے دلائل کی روشنی میں قبول کیا جائے۔ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد بھی ایمان لانا یا توبہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جس پر ہر دور میں عمل ہوتا رہا ہے۔ اس لیے کسی کو بھی اس سے استثناء نہیں۔