Ayah 40:19یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ۔ (المؤمن : 19)
(وہ نگاہوں کی چوری سے بھی واقف ہے اور ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔ )
شفاعتِ باطلہ کی تردید
گزشتہ مضمون کے تسلسل میں مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ سفارش اس کے یہاں سنی جاتی یا قبول کی جاسکتی ہے جس کے یہاں معاملات کے تمام گوشے واضح نہ ہوں۔ اور وہ بہت ساری چیزوں سے بیخبر ہو۔ تو کوئی اس سے زیادہ باخبر شخص اپنی باخبری کے حوالے سے ملزم کی سفارش کرسکتا ہے۔ اور یہ قرین انصاف بھی ہے۔ کیونکہ اس سفارش کا مطلب ایک ایسے شخص کو حق دلانا ہے جس کا حق بیخبر ی کی نذر ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسی سفارش کیسے کارآمد ہوسکتی ہے کیونکہ وہ تو نگاہوں کی خیانت تک سے واقف ہے۔ وہ بھید جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں اور جنھیں کوئی دوسرا شخص نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ تو اس سے بھی آگاہ ہے۔ تو کوئی شخص اس سے سفارش کی جرأت کرے تو کیوں کر ؟
Ayah 40:20وَاللّٰہُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ ط وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَقْضُوْنَ بِشَیْ ئٍ ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 20)
(اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا، اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں، اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ )
چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہر چیز کی خبر نہیں رکھتا، کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ وہ نگاہوں کی خیانتوں سے بھی آگاہ ہے اور سینوں کے بھیدوں سے بھی۔ تو وہ اپنے علم اور قدرت کی وجہ سے قیامت کے دن ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ بےلاگ فیصلہ کرے گا۔ رہے وہ معبودانِ باطل جن پر مشرکین تکیہ کیے بیٹھے ہیں۔ ان میں فرشتے شامل ہوں یا جنات یا بتوں کے نام سے بزرگوں کے مجسمے۔ ان میں سے فیصلہ کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہوگا۔ اس لیے ان میں سے کوئی کسی کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ علاوہ ازیں یہ معبودانِ باطل نہ کسی کی حمایت کرسکیں گے اور نہ مخالفت۔ کیونکہ معاملات کے فیصلے کے لیے منصف کا سمیع اور بصیر ہونا ضروری ہے۔ یعنی وہ معاملات میں اتنی آگاہی رکھتا ہو کہ گویا سب کچھ سن چکا ہے اور سب کچھ دیکھ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ وہی سمیع اور بصیر ہے، کوئی آواز اس کی سماعت سے گریزاں نہیں ہوسکتی۔ اور کوئی واقعہ اس کی بصارتِ کاملہ سے بیگانہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 40:21اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانْ عَاقـِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْا ھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ۔ (المؤمن : 21)
(کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھیں کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ ان سے زیادہ تھے قوت میں، اور ان آثار کے اعتبار سے جو وہ زمین میں چھوڑ گئے، پس اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انھیں پکڑ لیا، اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ )
قریش کو سخت تنبیہ
آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین بالخصوص قریش کو تہدید آمیز انداز میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جس طرح ہمارے رسول کی بےلگام ہو کر مخالفت کررہے ہیں اور انھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کی یہ مخالفت کیا رنگ لائے گی۔ تو کیا ان لوگوں نے معذب قوموں کی سرزمین سے کبھی گزر کر نہیں دیکھا یا کبھی وہاں گھومے پھرے نہیں۔ مراد اس سے عادوثمود اور اہل مدین ہیں جن کے کھنڈرات سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے رہتے تھے۔ اور وہ لوگ ان کے حالات سے بھی خوب واقف تھے۔ تو کیا ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہوئے انھیں کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ یہ لوگ اپنی افرادی قوت اور اپنی قوت و جمعیت میں ان سے بدرجہا بڑھے ہوئے تھے۔ اور ان کی تعمیر و تمدن کے آثار جو آج تک کھنڈرات میں بکھرے ہوئے ہیں وہ ان کی ترقی پر دلالت کررہے ہیں۔ اور ہر دیکھنے والی نگاہ اندازہ کرسکتی ہے کہ یہ قومیں نہ صرف بےپناہ قوت و جمعیت کی مالک تھیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ انتہائی ترقی یافتہ بھی تھیں جس کی ان کے تعمیری و تمدنی آثار نشان دہی کررہے ہیں۔ آج تک پہاڑوں میں کھدے ہوئے ان کے محلات ان کی ترقی اور عظمت کے گن گا رہے ہیں۔ ان کا ایک آدھ شہر جو کھدائی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اس سے ان کے ترقیاتی آثار کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کردی اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو ماننے سے انکار کردیا اور اپنی سرکشی اور بدعملی میں بڑھتے چلے گئے اور ان کے اجتماعی معاملات روز بروز بگاڑ کا شکار ہوتے گئے اور اصلاح کی ہر کوشش کو انھوں نے ناکام بنادیا تو آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔ پھر نہ ان کی قوت و جمعیت ان کے کام آئی اور نہ ان کے تمدنی اور تعمیری آثار انھیں بچا سکے۔ وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں عبرت کا نشان ہو کر رہ گئے۔ قریش اور دیگر مخالفین کو آج ان کی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ورنہ کل کو یہ لوگ بھی تاریخ میں عبرت ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayah 40:22ذٰلِکَ بِاَلَّھُمْ کَانَتْ تَّاْتِیْھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْـبَـیِّـنٰتِ فَـکَفَرُوْا فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ ط اِنَّـہٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (المؤمن : 22)
(یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آتے تھے اور انھوں نے ماننے سے انکار کیا، پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بیشک وہ بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔ )
گزشتہ قوموں پر عذاب کا سبب
ان قوموں پر جو عذاب آیا اس آیت میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ان قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت لے کے آئے اور بینات کے ذریعے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی سندماموریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ شخص واقعی اللہ تعالیٰ کا رسول اور نمائندہ ہے۔ اور اسی میں وہ روشن دلیلیں بھی شامل ہیں جو اپنی دعوت کے اثبات میں اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے تھے۔ وہ دلیلیں ایسی محکم اور ایسی واضح ہوتی تھیں جنھیں کوئی فکری سلامتی رکھنے والا شخص غلط کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن انھوں نے ان کی ہر بات کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے بعض رسول مدت ہائے دراز تک ان کی زبانوں کے زخم سہتے رہے اور ان کی طرف سے پہنچائی جانے والی جسمانی اذیتوں کو برداشت کرتے ہوئے نہایت ہمدردی اور غمگساری کے ساتھ انھیں سمجھانے میں لگے رہے، لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا اور پھر یہ قومیں اپنی ساری قوت و شوکت کے باوجود اس کی گرفت سے نکل نہ سکیں اور اس کے عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل نہ کرسکیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی قوت والا اور ایسی سخت سزا دینے والا ہے کہ جب وہ پکڑتا ہے تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayahs 40:23–24وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (المؤمن : 23، 24)
(اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ۔ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انھوں نے کہا کہ یہ تو ساحر ہے کذاب ہے۔ )
گزشتہ مضمون پر تاریخ سے استشہاد
گزشتہ آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اب تاریخ سے اس پر استشہاد کیا جارہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھو انھیں ہم نے اپنی آیات اور سلطانِ مبین دے کر بھیجا۔ آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو حسب ضرورت بتدریج انھیں عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصر میں ان کی دعوتی زندگی میں جو معجزات ان سے ظہورپذیر ہوتے رہے، مثلاً ان کی دعا سے پورے ملک میں قحط پڑجانا یا لاکھوں مربع میل علاقے میں طوفان کا آجانا اور پھر آپ کی دعا سے اس کا ختم بھی ہوجانا، پانی کا خون بن جانا، گھروں میں پسووں کا پھیل جاناجی سے معجزات مراد ہوں۔ اور سلطانِ مبین سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ ٔ عصا کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو اول مرحلہ ہی میں دیکھنے والوں کو یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر بن کر آئے ہیں اور یہ عصا سندماموریت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے رسول کی اپنی ذات، اس کی جرأت و استقامت، اپنی دعوت پر غیرمعمولی اعتماد اور دشمنوں کے ہجوم میں تنہا ہونے کے باوجود خود اعتمادی اور بےنیازی بجائے خود ایسی چیزیں ہیں جن میں سے ایک ایک چیز معجزے سے کم نہیں۔ بلکہ ان میں سے ایک ایک چیز سندماموریت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن عصا کا اچانک اژدھا کی صورت اختیار کر جانا اور فضاء میں ایک ہیبت طاری کردینا، ایک ایسا غیرمعمولی معجزہ تھا جس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے سفیر اور نمائندہ بن کر آئے ہیں۔ اور ان کی مخالفت اللہ تعالیٰ کی مخالفت کے مترادف ہوگی۔
فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں کے ذکر کا سبب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یوں تو مصر میں رہنے والے تمام لوگوں کی طرف چاہے وہ اسرائیلی ہوں یا غیراسرائیلی، اللہ تعالیٰ کے رسول بن کر آئے تھے۔ لیکن یہاں صرف فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں کا ذکر ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل تو خیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا خاندان تھا، لیکن حکومت کی طاقت کا اظہار اور اس کی نمائندگی ان تین آدمیوں سے ہوتی تھی۔ اس لیے خاص طور پر ان کا ذکر فرمایا گیا۔ فرعون سربراہِ ریاست بھی تھا اور سربراہِ مملکت بھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ سورج دیوتا کا مظہر بھی سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کی حیثیت ایک اوتار بادشاہ کی تھی۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے سلسلے میں اس کا ذکر بار بار آتا ہے۔ ہامان اس کے وزراء میں سب سے اہم وزیر تھا۔ حکومت کی پالیسیوں میں ہوسکتا ہے اس کا رول سب سے موثر ہو، اس لیے اس کا ذکر فرمایا گیا۔ جہاں تک قارون کا تعلق ہے وہ نسلاً اسرائیلی تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عزیزوں میں سے تھا۔ لیکن اس نے فرعونی حکومت کے زیرسایہ بیشمار دولت اکٹھی کرلی تھی۔ اور یہی دولت اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کا سب سے بڑا سبب بنی۔
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دربار میں پہنچ کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تو انھوں نے معجزے کو سحر قرار دیا اور آپ کی دعوت کو جھٹلاتے ہوئے اور آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔
Ayah 40:25فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَـآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسْآئَ ھُمْ ط وَمَا کَیْدُالْـکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ ۔ (المؤمن : 25)
(اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر آئے، تو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کردو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو، اور کافروں کی چال بالکل اکارت گئی۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا فرعونیوں پر الٹا اثر
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت حق لے کر پہنچے، انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی، تو بجائے اسے قبول کرنے کے نہایت برہمی کا اظہار کیا۔ اور یہ محسوس کرکے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں میں سے کچھ لوگ آپ پر ایمان لا چکے ہیں یا ممکن ہے ان کی اکثریت آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول مان چکی ہو۔ اس کا فوری نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اس طرح بنی اسرائیل کو منظم کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور کل کو ان کے ذریعے ملک میں بغاوت کھڑی کردیں۔ کیونکہ یہ لوگ اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کو ماننے کو تیار تو نہ تھے لیکن ان کی غیرمعمولی ذہانت اور رہنمائی کی قوت کو محسوس کرچکے تھے۔ اس لیے انھیں فوری خطرہ لاحق ہوا کہ بنی اسرائیل کی قوم جو پہلے ہی خاصی بڑی افرادی قوت کی مالک ہے اور پھر ان کی پیداواری صلاحیت دوسری قوموں سے کہیں زیادہ ہے اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو ان کے اندر پھیلنے کا موقع دیا گیا تو اندیشہ ہے کہ وہ ان کی شیرازہ بندی کے ذریعے ہمارے لیے کوئی بہت بڑا خطرہ ثابت ہوں۔ اس لیے فوری حکم دیا گیا کہ جن لوگوں کو دیکھو کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو۔ لیکن ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو تاکہ انھیں لونڈیاں بنایا جاسکے۔ بچوں کو قتل کرنے اور بچیوں کو زندہ رکھنے کا حکم تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت سے دیاجاچکا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یا تو اس پر عمل روک دیا گیا تھا اور یا اس پر عمل کرنے والوں نے اس پر غفلت و تساہل کا پردہ تان دیا تھا۔ اور اب اسی حکم کو ازسرنو زندہ کیا جارہا تھا۔ اور یا ممکن ہے کہ یہ حکم ابھی دیا گیا ہو۔ کیونکہ بعض مؤرخین کی تحقیق کے مطابق جس فرعون نے پہلا حکم دیا تھا وہ مرچکا تھا۔ اب جس فرعون سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا تھا یہ پہلے فرعون کا بیٹا تھا۔ اس نے یہ حکم دے کر فوری طور پر اس دعوت کے اثرات کا تدارک کرنے کی تدبیر کی تھی۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اس سلسلے میں جتنی تدبیریں کی گئیں وہ سب ناکام ثابت ہوئیں۔ بنی اسرائیل کی تعداد میں بھی روزافزوں ترقی ہوتی چلی گئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے اثرات بھی پھیلتے چلے گئے۔
Ayah 40:26وَقَالَ فِرْعَوْنَ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّـہٗ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّـبَدِّلَ دِیْنَـکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ ۔ (المؤمن : 26)
(اور فرعون نے کہا، مجھے چھوڑ دو ، میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور موسیٰ کو چاہیے کہ اپنے رب کو پکار دیکھے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔ )
فرعون اور اس کے مصاحبین کی برہمی
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش نے ایسی نازک صورت اختیار کرلی کہ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت یہ محسوس کرنے لگے کہ اب معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اگر ہم نے (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعوت کو برداشت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اندیشہ ہے کہ یہ دعوت ہماری حکومت ختم نہ ڈالے۔ مصر میں اس وقت جو دین کارفرما تھا اس کی بنیاد فرعون کی ربوبیت پر تھی۔ کیونکہ فرعون اپنی قوم والوں کے نزدیک سورج دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت ایک اوتار بادشاہ کی تھی، اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو مصریوں کا رب کہتا تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی حاکمیت پر تھی۔ چناچہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ فرعون کی ربوبیت ختم ہوجائے، اس کی مرکزیت کو ماننے سے لوگ انکار کردیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ اس کی حکومت ختم ہو کر رہ جائے گی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی نوبت آجائے گی۔ لیکن وہ مکار حکمرانوں کی طرح اپنی حکومت کی بجائے لوگوں کا دین بدلنے کا اندیشہ ظاہر کررہا تھا۔ اور دوسری بات اس نے یہ کہی کہ اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوا تو یہ بات تو طے ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو منظم کرنے کے بعد ملک میں فساد برپا کرے گا۔ یعنی ایک بغاوت پھوٹے گی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ان خطرات کے سدباب کے لیے موسیٰ کو قتل کرنا ضروری ہے۔ تو تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے قتل کردوں۔
اجازت مانگنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اتنی قوت اور ایسا نفوذ پیدا کرچکی تھی کہ اب ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں رہا تھا۔ اس لیے فرعون بھی اپنے اعیانِ سلطنت کی تائید کے بغیر یہ اقدام کرنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون کا اعیانِ سلطنت سے اجازت مانگنا صرف اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اپنے دل کا خوف اس کے لیے رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ وہ دل میں یہ بات جان چکا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اس لیے ان کے قتل کے درپے ہونا اپنے آپ کو تباہی کی نذر کرنا ہے۔ اس لیے وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے اربابِ حکومت سے اجازت طلب کررہا تھا۔
Ayah 40:27وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَـکَبِّرٍ لاَّیُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (المؤمن : 27)
(اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے پناہ لے لی ہے اپنے رب کی اور تمارے رب کی، ہر اس متکبر کے شر سے جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب پر غیرمتزلزل اعتماد
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ بات کہی، کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت وہ دربار میں موجود تھے اور فرعون نے ان کی موجودگی میں ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، یا انھیں یہ بات کسی ذمہ دار کے واسطے سے پہنچی۔ اور انھوں نے اپنے پیروئوں کی مجلس میں یہ بات کہی جس کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ بات واضح ہے کہ فرعون کی دھمکی ان کے دل میں ذرہ برابر بھی خوف کی کیفیت پیدا نہ کرسکی۔ اور انھوں نے نہایت اطمینان کے ساتھ ایسے خطرناک موقع پر بھی اپنے رب کی پناہ مانگی۔ اور جہاں تک ربکم کا تعلق ہے تو اگر تو آپ نے یہ بات اپنے پیروکاروں کے درمیان کہی ہے تو پھر تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے تھے۔ لیکن ایسے خطرناک موقع پر اللہ تعالیٰ کی پناہ لینا یہ ایک طرح سے بنی اسرائیل کے لیے تربیت کا ذریعہ بھی تھا۔ لیکن اگر یہ بات آپ نے فرعون کے سامنے کہی ہے تو اس سے آپ کا اللہ تعالیٰ پر غیرمتزلزل یقین کا اظہار ہوتا ہے اور فرعون کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو تو تم اپنے تمام حکومتی کروفر کے باوجود میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور اس میں آپ نے خصوصیت سے فرعون کا ذکر نہیں کیا بلکہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑی ہے ہر اس متکبر کے شر سے جو روزحساب پر یقین نہیں رکھتا۔ کیونکہ روزحساب پر یقین رکھنے والا کسی کی جان کے درپے نہیں ہوتا، وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ لیکن جو شخص اس تصور سے تہی دامن ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ ایسے شخص کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ کارآمد ہوسکتی ہے۔ یہ وہ عقیدہ اور ایمان ہے جو ہر پیغمبر نے اپنے ماننے والوں کو دیا ہے۔
Ayah 40:28وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ صلے ق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیمَانَـہٗٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ ط وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ ج وَاِنْ یَّـکُ صَادِقًایُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ۔ (المؤمن : 28)
(اور کہا آل فرعون میں سے ایک مردمومن نے جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کیا تم ایک شخص کو صرف اس بنا پر قتل کردو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے کر آیا ہے، اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا وبال خود اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو اس کا کوئی حصہ تم کو پہنچ کر رہے گا جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے، بیشک اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو۔ )
ایک مردمومن کی جرأت اور اس کی سرگزشت
جب فرعون نے عمائدینِ سلطنت کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے ارادے کا اظہار کیا تو اسی کے عمائدین میں سے ایک شخص جو درحقیقت ایک مردمومن تھا لیکن اس نے اب تک اپنے ایمان کو چھپایا ہوا تھا، وہ بول اٹھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ مردمومن کون تھا ؟ آل فرعون کے لفظ سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ وہ فرعون کے قرابت داروں میں سے تھا۔ ہمارے بعض آئمہ تفسیر کا خیال یہ ہے کہ یہ فرعون کا چچازاد بھائی تھا۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پاکیزہ سیرت واطوار کی وجہ سے نبوت سے پہلے ہی آپ کا گرویدہ اور معترف تھا اور دل سے آپ کے اصلاحی کاموں کا قدردان تھا۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی کا اتفاقی قتل ہوگیا اور اعیانِ حکومت نے ان کے قتل کے مشورے شروع کردیئے تو یہی وہ شخص تھا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اعیانِ حکومت کے ارادے سے باخبر کیا۔ چناچہ آپ اس کے مشورے سے مصر سے نکلے اور مدین چلے گئے۔ پھر مدین سے واپسی پر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ آپ پر ایمان لے آیا۔ لیکن اس نے اس مصلحت کے تحت اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا کہ میں اس طرح سے دربار کے اندر اعیانِ حکومت کے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کروں گا۔ اور اندر کی اطلاعات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچاتا رہوں گا۔ اور ممکن ہے کہ اندر ہی اندر میں بعض لوگوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ شروع ہی میں اپنے ایمان کو ظاہر کردیتے تو شاہی خاندان کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے وہ جن شاہی حقوق و مراعات سے بہرہ مند تھے یقینا اس سے محروم ہوجاتے اور حکومت انھیں لوگوں کی نگاہ میں قومی غدار کی حیثیت سے پیش کرتی۔ اس لیے انھوں نے ایک وقت تک جب تک کہ ایمان کے اخفاء کا فائدہ تھا اپنے آپ کو چھپایا۔ لیکن جب دیکھا کہ اب اخفاء کی بجائے اظہار ہونا چاہیے اور اسی سے دین کو تقویت ملے گی تو پھر انھوں نے آہستہ آہستہ اپنے ایمان کا اظہار شروع کیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کو خطرے میں دیکھا تو انھوں نے ساری احتیاطوں کو بالائے طاق رکھا اور کھل کر میدان میں آگئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اصل میں تو اقرار اور اظہار ہی سے مکمل ہوتا ہے لیکن اگر مصلحت اس میں ہو اور اسی میں اللہ تعالیٰ کے دین کی بھلائی ہو تو ایک حد تک اسے چھپایا بھی جاسکتا ہے۔ چناچہ جب فرعون نے آپ کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس مردمومن نے برسردربار اٹھ کر کہا کہ کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کردینا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بینات یعنی واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔ مردِمومن کی اس بات سے ایک تو یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ فرعون اگرچہ اپنے آپ کو رب کہلواتا تھا اور سورج کے اوتار ہونے کی حیثیت سے اہل مصر پر حکومت کررہا تھا۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ مساعی کے شاید اثرات ابھی تک باقی تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کو یقینی طور پر اپنا رب مانتے تھے اور یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس سے اختلاف کی گنجائش بہت کم تھی۔ تو مردمومن نے شاید اسی حوالے سے یہ کہا کہ یہی بات اگر موسیٰ تم سے کہہ رہے ہیں تو اس میں ایسی کیا بات ہے کہ انھیں گردن زدنی قرار دے دیا جائے جبکہ وہ صرف اللہ کے رب ہونے اور اپنے رسول ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کررہے بلکہ ساتھ ہی ایسے روشن دلائل بھی پیش کررہے ہیں جن کا انکار بہت مشکل ہے۔ بینات سے مراد یہاں وہ دلائل بھی ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور وحدانیت اور اپنی رسالت پر رکھتے تھے۔ اور وہ معجزات بھی ہیں جو آپ کے لیے سندماموریت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ نو نشانیاں ہوں جس کا ذکر قرآن کریم نے مختلف مواقع پر کیا ہے۔ اور جن کا ظہور مختلف وقتوں میں ہوتا رہا ہے۔ مردِمومن نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان صریحی نشانیوں کے باوجود تم اسے جھوٹا سمجھتے ہو تو تب بھی اسے قتل کرنے کا تو کوئی جواز نہیں، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، وہ تو خود جھوٹوں پر لعنت بھیجتا ہے اور جھوٹ کو بہت بڑا عیب بتاتا ہے۔ تو اگر وہ خود جھوٹا ہوگا تو یقینا اس کے جھوٹ کا وبال اس پر پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہوا جیسا کہ وہ فی الحقیقت ہے تو پھر سوچ لو اس پر ہاتھ ڈالنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ رسولوں کی تکذیب کے سلسلے میں قوموں پر جس طرح کے عذاب آتے رہے ہیں اور تمہیں بھی وہ ان عذابوں سے ڈراتا ہے بہت ممکن ہے کہ ویسا عذاب تم پر بھی آدھمکے۔ پھر سوچ لو اس سے تمہیں کون بچا سکتا ہے۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ موسیٰ کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور کوئی آخری اقدام کرنے کی جرأت مت کرو۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مردِمومن نے مزید کہا کہ ہر عقلمند آدمی یہ جانتا ہے کہ ایک شخص کی ذات میں راست روی جیسی خوبی اور کذب وہ افترا جیسی برائی جمع نہیں ہوسکتی۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ موسیٰ ایک نہایت پاکیزہ سیرت اور کمال درجہ کا بلند کردار انسان ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ کیونکر گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ نبوت کا بےبنیاد دعویٰ لے کر اٹھے اور اللہ کی طرف اسے منسوب کرے۔ لیکن اس کے سیرت و کردار کی بلندی میں کوئی فرق نہ آئے۔
Ayah 40:29یٰـقَوْمِ لَـکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظٰہِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ ز فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْ م بَاْسِ اللّٰہِ اِنْ جَآئَ نَا ط قَالَ فِرْعَوْنُ مَـآ اُرِیْکُمْ اِلاَّ مَـآ اَرٰی وَمَـآ اَھْدِیْکُمْ اِلاَّ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۔ (المؤمن : 29)
(اے میری قوم کے لوگو ! آج تمہاری حکومت ہے اور اس ملک کی سرزمین پر تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہماری مدد کرے گا، فرعون نے کہا کہ میں تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اور میں تمہاری رہنمائی ٹھیک سیدھی راہ کی طرف کررہا ہوں۔ )
مردِمومن کا سلسلہ کلام اور فرعون کی مداخلت
مردِمومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مراد اس سے اعیانِ سلطنت ہیں۔ تمہیں اس سرزمین پر بلاشبہ اقتدار حاصل ہے۔ تم اس سرزمین پر پوری طرح چھائے ہوئے ہو اور تمہارے غلبے کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں۔ تم جو چاہو کرو، تمہارا کوئی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ لیکن میں نہایت ہمدردی اور خیرخواہی سے تمہیں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا تو پھر مجھے بتلائو ہمیں اس عذاب سے کون بچا سکتا ہے ؟ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد ہماری قسمت ترازو میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور رسول کی تکذیب اور اس کے قتل کے ارادے ہمیشہ امتوں پر عذاب آنے کا سبب بنے ہیں۔ اگر ہم نے بھی ایسے اقدامات کیے تو اندیشہ ہے کہ کہیں ہم پر عذاب نہ آجائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔ اور جب اس کا عذاب آتا ہے تو پھر حکومتیں اپنی تمام تر قوتوں کے باوجود اس کا راستہ نہیں روک سکتیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ مردمومن بھرے دربار میں نہایت جرأت و استقامت کے ساتھ سچائی کا اظہار کررہے تھے اور فرعون دیکھ رہا تھا کہ اگر یہ سلسلہ کلام جاری رہا تو جس دلسوزی کے ساتھ یہ شخص اعیانِ سلطنت سے مخاطب ہے وہ اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ اس نے فوراً مداخلت کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ لیکن نہایت زیرک حکمران کی طرح بجائے اس مردمومن کو مخاطب کرنے کے براہ راست اپنے اعیانِ سلطنت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے تمہیں موسیٰ کے قتل کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے وہ میری نہایت سوچی سمجھی رائے ہے، کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے محض جذبات میں آکر ایک بات کہہ دی ہے جس کے نتائج و عواقب پر اچھی طرح غور نہیں کیا گیا۔ میں نے ہر پہلو سے اس بات پر غور کرنے کے بعد آپ کے سامنے رائے پیش کی ہے اور میری اصابتِ رائے سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ اس لیے ہمیں وقت ضائع کیے بغیر اسی رائے پر عمل کرنا ہے۔ اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ملک کے لیے خطرناک حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
فرعون نے جو کچھ کہا یہ کوئی نئی بات نہ تھی، ہر دور کے مطلق العنان حکمران جب اپنی حکمرانی کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو ہمیشہ ہر اس زبان کو گدی سے کھینچ لیتے ہیں جس زبان سے ان کے اقتدار کے خلاف بات نکلتی ہے۔ اور ہر اس سر کو کاٹ دینا چاہتے ہیں جو ان کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ظلم کی بقاء بھی ظلم ہی سے ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی ظلم ان کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ لیکن وقتی طور پر وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔
Ayahs 40:30–31وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ ۔ مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِھِمْ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ ۔ (المؤمن : 30، 31)
(اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر اسی طرح کے دن کا خوف رکھتا ہوں جس طرح کا دن گروہوں پر آیا۔ جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں چاہتا۔ )
مردِمومن کی جرأت و استقامت
مردِمومن کی جرأت اور اپنے ایمان پر استقامت کی جتنی تعریف بھی کی جائے کم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ فرعون ابھی تک اس شخص کے ایمان لانے کا اندازہ نہیں کرسکا، تاہم وہ جو کچھ کہہ رہا تھا اس میں ایمان کا اظہار بھی تھا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ان باتوں سے ڈرانے کی کوشش بھی، جن باتوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کو ڈراتے تھے۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس نے فرعون کی مداخلت کی پرواہ کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔ اور صاف صاف عمائدینِ سلطنت سے کہا کہ میں ایک بہت بڑا خطرہ محسوس کررہا ہوں۔ اس لیے خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ میں تمہیں اس سے آگاہ کروں۔ وہ خطرہ یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ان کی ہدایت کے لیے آنے والے پیغمبر کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور آیا ہے۔ نہ جانے کتنی قومیں اس عذاب کا شکار ہوچکی ہیں۔ ان میں سے بعض قوموں سے تم بھی واقف ہو۔ قوم عاد اور قوم ثمود ہمارے پڑوس میں رہی ہیں۔ اور ہم ان کے حالات سے بھی واقف ہیں۔ وہ قومیں بھی اس لیے عذاب کا شکار ہوئیں کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو گزند پہنچانے کی کوشش کی تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ اگر تم بھی موسیٰ کے قتل سے باز نہ آئے اور ایسا کوئی اقدام کر ڈالا تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔ وہ تو بڑا ہی رحیم و کریم ہے۔ اس لیے اگر لوگ اپنے طرزعمل کو بدل لیں، توبہ و استغفار سے اپنے اللہ کو راضی کرلیں تو اس کی رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ لیکن اگر تم نے اس کی اس ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے رسول کو قتل کرنے کی کوشش کی تو پھر اللہ تعالیٰ کا عدل ظہورپذیر ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت حرکت میں آئے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں آپکڑے گا۔ لیکن یہ عذاب تمہارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے عدل کے لازمی نتیجے کے طور پر حرکت میں آئے گا۔
Ayahs 40:32–33وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّـنَادِ ۔ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ ج مَالَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ج وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (المؤمن : 32، 33)
(اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر خوف رکھتا ہوں ہانک پکار کے دن کا۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کے بھاگو گے، اور تم کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا۔ )
یَوْمَ التَّـنَادِ کا مفہوم
یَوْمَ التَّـنَادِ ، ہانک پکار کا دن۔ ہمارے بعض مفسرین نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ اور ہانک پکار کو انھوں نے مختلف آوازوں کا ہم معنی قرار دیا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی مختلف اعلانات کرے گا۔ کبھی مختلف گروہوں کو الگ الگ ہونے کا حکم دے گا، کبھی لوگوں کی جزا و سزا کا اعلان کرے گا، کبھی کسی کی عزت افزائی کی جائے گی اور کبھی کسی کی رسوائی کا اعلان کیا جائے گا۔ لیکن بعض اہل علم سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے اس ہانک پکار کے دن سے یوم عذاب مراد لیتے ہیں۔ مقصود اس سے لوگوں کو یہ بتلانا ہے کہ آج جبکہ تم پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے اور کسی بات کو سننا تمہیں گوارا نہیں، لیکن تمہارے ان کرتوتوں کی پاداش میں جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا تو یہ تمہارا کروفر اور ٹھاٹ باٹ سب دھرا رہ جائے گا۔ تم میں سے ہر شخص اس عذاب کی ہولناکی کو دیکھتے ہوئے پریشانی کے عالم میں مختلف آوازیں نکالے گا، جس طرح اچانک کوئی آفت آجائے تو لوگ سراسیمہ ہو کر دوڑ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے جاننے والوں سے بھی شور مچاتے ہوئے کہتے ہیں، دوڑو، بھاگو، اس کو پکڑو اس کو تھامو۔ ایسا ہی اس وقت بھی ہوگا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ عذاب ہی کی تعبیر معلوم ہوتا ہے۔ اور یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اس دن پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوگے۔ اور تم دیکھو گے کہ اس دن اس عذاب سے بچانے والا تمہیں کوئی نہیں ہوگا۔ کیونکہ کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اس تباہی سے بڑی قوت درکار ہوتی ہے جو اس تباہی کا راستہ روک دے۔ لیکن دنیا میں ایسی قوت کہیں نہیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکتی ہو۔ مردِمومن عمائدینِ سلطنت کو نہایت دلسوزی سے سمجھاتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے تم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو۔ تم موسیٰ کے قتل کے ارادوں سے باز آجاؤ، اس کی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ لیکن اگر تم پر میری یہ باتیں اثر کرنے سے عاجز رہتی ہیں تو پھر میرا کام تو صرف سمجھانا ہے، میں اس سے زیادہ کسی بات کی استطاعت نہیں رکھتا۔ میری نصیحت کو ماننا یا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے۔ لیکن میری تمام کوششوں کے باوجود اگر آپ نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا اور جس اقدام کا آپ ارادہ کررہے ہیں اس سے نہ رکے تو پھر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے سمجھانے کے ذرائع پیدا فرمائے ہیں، لیکن جو شخص ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے دشمنی پر اتر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آجاتا ہے۔ اس سے قبولیت کی استعداد چھین لی جاتی ہے، وہ ہدایت سے محروم ہو کر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتا ہے۔
Ayahs 40:34–35وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَـبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْـتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَ کُمْ بِہٖ ط حَتّٰیٓ اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّـبْـعَثَ اللّٰہُ مِنْ م بَعْدِہٖ رَسُوْلاً ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ نِ ۔ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـہُمْ ط کَبُرَمَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ وَعِنْدَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ۔ (المؤمن : 34، 35)
(اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے، مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے ہمیشہ شک ہی میں پڑے رہے، حتیٰ کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا، اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شبہات میں پڑے رہنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ کی آیات کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑتے ہیں، اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک وہ نہایت مبغوض ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ ہر متکبر و جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ )
تاریخی ہٹ دھرمی پر ملامت
مردِمومن نے اپنی تقریر کے دوران فرعون اور اس کے عمائدینِ سلطنت کی بےاعتنائی اور حق سے بےنیازی کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا کہ یہ لوگ میری باتوں سے اثر قبول کرنے والے نہیں۔ تو پھر آپ نے ان کی تاریخی ہٹ دھرمی کا ذکر کرتے ہوئے ان کو شرم دلائی کہ تمہارا یہ رویہ کوئی نئی بات نہیں، تم تو اپنے محسنوں کے ساتھ بھی تاریخ میں یہی کچھ کرتے آئے ہو۔ تمہیں یاد ہے کہ تمہارے آبائواجداد کے زمانے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) غیرمعمولی طریقے سے ملک کے اقتدار میں شریک ہوئے اور تم نے قدم قدم پر خود ان کی زندگی کو معجزہ کی حیثیت سے دیکھا۔ تمہارے بادشاہ نے ایک انتہائی خطرناک خواب دیکھا جس کی تعبیر کو کوئی نہ پاسکا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی صحیح تعبیر دے کر تمہیں سات برس کے خوفناک قحط کی تباہ کاریوں سے بچا لیا۔ پھر انھوں نے ملک میں ایک ایسا نظام حکومت نافذ کیا جس سے بےخوف و خطر ہر گھر کی دہلیز پر انصاف پہنچا۔ اور لوگوں نے نہایت خوشدلی سے دوسروں کے حقوق ادا کیے اور اپنے حقوق حاصل کیے۔ اس طرح سے ملک بھر میں فارغ البالی کا دور دورہ ہوا۔ لیکن ان تمام احسانات کے اعتراف کے باوجود تم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت کو مان کر نہ دیا۔ بلکہ ان کی تعلیمات کو نفس کی خواہشوں کے خلاف پا کر ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کرتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ تم نے بادشاہِ وقت کی ان کے ساتھ غیرمعمولی عقیدت کو دیکھتے ہوئے کوئی معاندانہ رویہ اختیار نہ کیا۔ لیکن ان کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے بھی تیار نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم اپنی روش پر غور کرنے کی بجائے اس بات پر شکر ادا کرنے لگے کہ چلیے ہماری جان چھوٹی۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی اور رسول نہیں بھیجے گا جو ہمیں ہماری خواہشات کے خلاف محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزارنے کی ترغیب دے۔ ممکن ہے تم میں ایسے لوگ بھی ہوں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی غیرمعمولی خوبیوں کے اعتراف میں یہ کہتے ہوں کہ ایسی خوبیوں کا مالک اب دوسرا کوئی رسول نہیں آسکتا۔ لیکن اس کا نتیجہ انھوں نے بھی یہی نکالا کہ جب ایسی خوبیوں کا کوئی دوسرا حامل ہو ہی نہیں سکتا تو ظاہر ہے کہ کسی دوسرے پر ایمان لانے کا کیا سوال ہے۔
ہدایت و ضلالت کے بارے میں چند وضاحتیں
اس آیت کا آخری جملہ اور اس کے بعد کی آیت یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردمومن کی تقریر میں اضافہ فرمایا ہے اور اس کی وضاحت میں چند باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ تمہاری گمراہی اور تم سے پہلے گزرنے والے آبائواجداد کی گمراہی کے اسباب ایک ہی جیسے تھے۔ اور جب بھی کوئی قوم ان اسباب کے تحت زندگی گزارتی اور زندگی کے فیصلے کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی پسند کردہ ضلالت ہی کے ڈگر پر ان کے لیے چلنا آسان فرما دیتا ہے اور وہ اس پر بگٹٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلی گمراہی یہ ہے کہ لوگ صرف کسی گمراہی کے ارتکاب تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس گمراہی کو اپنی عادت بناتے ہیں پھر وہ وقت کا چلن بن جاتی ہے اور پھر اس کا ارتکاب پڑھے لکھے لوگوں کے لیے باعث فخر ہوجاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو حد سے گزر جانا کہتے ہیں۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف خواہشِ نفس کے تحت بعض دفعہ کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اسے برائی سمجھتا ہے اس لیے اسے چھپا کے کرتا ہے اور کبھی کبھی اس پر نادم بھی ہوتا ہے لیکن جب یہ ارتکاب بڑھتا چلا جاتا ہے تو پھر وہ اس کی عادت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب جب بھی وہ اس کا ارتکاب کرتا ہے تو نہ اسے ندامت ہوتی ہے اور نہ وہ اسے چھپانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ آخر ایک وقت آتا ہے جب وہی برائی اسے اچھائی معلوم ہونے لگتی ہے اور وہ بڑے لوگوں کی بڑائی کی شناخت بن جاتی ہے، کسی بھی معاشرے کی بالائی کلاس اس کا ارتکاب اس لیے کرتی ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی ایک پہچان بن کر رہ گئی ہے اور عوام ہمیشہ خواص کی پیروی کرتے ہیں۔ جب وہ برائی اس سطح کو پہنچ جاتی ہے تو وقت کا چلن بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ بہت زمانہ نہیں گزرا کہ رشوت نہ صرف ایک برائی تھی بلکہ جب معلوم ہوتا کہ فلاں شخص رشوت دیتا یا لیتا ہے تو لوگ اس سے نفرت کرتے تھے، پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بننے لگی، ہر دفتر کا چلن بن کر رہ گئی اور اب حال یہ ہے کہ جن محکموں میں زیادہ رشوت لی جاتی ہے ان میں ملازمت کا حصول ایک مقصد بن کر رہ گیا ہے۔ اور جو شخص ایسے محکموں میں ملازمت حاصل کرلیتا ہے تو وہ دوسروں سے اپنے آپ کو ممتاز سمجھتا ہے اور دوسرے بھی دل میں اس کی عظمت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس کو حد سے گزر جانا کہتے ہیں اور جب کوئی شخص یا کوئی قوم اس سطح تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔
دوسری برائی یہ ہے کہ جب کوئی شخص نظریاتی فساد میں حد سے گزر جاتا ہے یا عمل کی خرابیاں اس کے لیے اچھائیاں بن جاتی ہیں تو پھر ایسے شخص کا ایک خاص مزاج بن جاتا ہے جو کسی بھی اچھی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور ہر اچھاعمل اور ہر اچھائی اس کے لیے تمسخر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ انھیں توحید اور آخرت کی باتیں اجنبی معلوم ہوتی ہیں اور خواہشِ نفس کو روک دینے والی نصیحتیں ان کے نزدیک دقیانوسی اور پسماندگی کی علامت بن جاتی ہیں۔ وہ ساترلباس جو کل تک شرافت کی دلیل تھا ایسے لوگوں کے یہاں دیہاتی پن کہلاتا ہے۔ اور وہ قومی روایات جو کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہیں وہ ان کے نزدیک جدید شعور سے بیگانگی کی علامت بن جاتی ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک ہر اچھی بات اور مذہب کی ہر حقیقت اور اخلاق کی ہر قدر شک و شبہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ ایسے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے راندہ درگاہ قرار دیئے جاتے ہیں اور قبولیتِ ایمان کی استعداد ان سے چھین لی جاتی ہے اور ان کی گمراہی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
اور تیسری گمراہی جو خواہشِ نفس کی پیروی میں حد سے گزر جانے اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی ہر بات میں شک و شبہ کا اظہار کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بظاہر اللہ تعالیٰ کی کتاب کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن جب اس کی آیات پر گفتگو کرتے ہیں تو اس میں نہ کسی عقلی استدلال سے کام لیتے ہیں اور نہ کسی ایسی دلیل کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو۔ بلکہ ان کی گفتگو میں ہر وہ چیز دلیل کا درجہ اختیار کر جاتی ہے جس کو وہ خود صحیح سمجھتے ہوں۔ یا وقت کے دانشوروں میں سے جن سے وہ مرعوب ہیں کے اقوال اس کی تائید کرتے ہوں۔ اور اگر کوئی ان سے یہ کہنے کی کوشش کرے کہ آپ قرآن کریم کی آیات پر گفتگو کرنے چلے ہیں لیکن آپ قرآن کریم کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہیں، تو کیا آپ کو علمی طور پر اس کا حق پہنچتا ہے کہ آپ اس پر گفتگو کریں۔ تو وہ نہایت ڈھٹائی سے جواب دیتے ہیں کہ دین پر کسی کا اجارہ نہیں۔ ہم بھی اس پر کلام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی کلاس کے سوا کسی ایسے شخص کو بات کرنے کا حق دینے کو تیار نہیں یا اس کی علمی عظمت کو وہ کبھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں جس کے پاس دولت نہ ہو اور یا ان کی طرح وہ خاص اسلوبِ زندگی نہ رکھتا ہو۔ یہ ان کا وہ جھوٹا پندار ہے جس کی بنا پر وہ حق کے آگے سر جھکانے کو اپنی حیثیت سے کمتر خیال کرتے ہیں۔ اور یہ وہ تکبر ہے جو ان کے اور حق کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اشرافِ قریش میں کتنے ایسے لوگ تھے جو محض اپنے اثرورسوخ اور دولت کے پندار کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو چھوٹوں کے حقوق کو پامال کرتا اور ظلم اور جبر کے ذریعے اپنی شخصیت کو بالابلند کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کی ہر پابندی کو اس لیے ماننے سے انکار کردیتا ہے کہ اس سے اس کے جبر کو لگام ملتی ہے اور اس کی شخصیت عبدیت کی بو سونگھنے لگتی ہے۔ ایسے شخص کو جبار کہتے ہیں۔ جس شخص میں پہلی تین صفات ہوں اور پھر وہ ان کے ساتھ ساتھ تکبر اور جبر کے نتیجے میں ہٹ دھرمی کا شکار بھی ہو۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے۔ یعنی وہ قبولیتِ ایمان، قبولیتِ حق اور ہر اچھائی کو قبول کرنے سے محروم کردیئے جاتے ہیں۔
Ayahs 40:36–37وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰـھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ ۔ اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰـہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لاَ ظُنُّـہٗ کَاذِبًا ط وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُؤٓئُ عَمَلِہٖ وَصُدَّعَنِ السَّبِیْلِ ط وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلاَّ فِیْ تَبَابٍ ۔ (المؤمن : 36، 37)
(فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنوا تاکہ میں اطراف میں پہنچوں) آسمانوں کے اطراف میں، اور موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی تدبیر برباد ہو کے رہ گئی۔ )
اقتدار کی چالیں
مردِمومن کی تقریر سے فرعون کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کے دل سے نکلی ہوئی باتیں عمائدینِ سلطنت کے دلوں میں نہ اتر جائیں۔ ان میں چند آدمی بھی اس کے ہم خیال ہوگئے تو حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ اس نے فوراً ایک نیا اشغلہ چھوڑا جس سے اس نے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ میرے نزدیک ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس لیے تم بھی ان باتوں کو دوسرے کان سے نکال دو ۔ نہایت بےپروائی کے انداز میں اس نے اپنے نہایت معتمد وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک بلند وبالا عمارت بنوائو تاکہ میں آسمانوں کے اطراف میں پہنچ کر دیکھوں کہ کیا وہاں موسیٰ کا وہ رب موجود ہے جس کی طرف سے اسے رسول بن کر آنے کا دعویٰ ہے۔ میں تو گمان کرتا ہوں کہ موسیٰ ایک بالکل جھوٹا آدمی ہے، اس نے محض ایک بات بنا رکھی ہے، لیکن اس کی تصدیق یا تردید کے لیے ضروری ہے کہ میں خود اوپر جا کر دیکھوں۔ اندازہ کیجیے کہ جو لوگ اقتدار کے نشے میں اندھے ہوجاتے ہیں اور ہٹ دھرمی کا شکار ہو کر کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ان کی حماقت کا کیا حال ہوتا ہے۔ اس نے اپنے تئیں یہ فرض کرلیا کہ موسیٰ کا رب آسمان میں رہتا ہے۔ تو میں جب اس کے قریب پہنچوں گا تو وہ یقینا کہیں نہ کہیں مجھے دکھائی دے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح اچھائی ہر دور میں موجود رہی ہے اسی طرح حماقت آمیز برائیاں بھی ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ فرعون کا زمانہ تو کہا جاسکتا ہے کہ قرون مظلمہ میں شامل ہے۔ لیکن ہمارا زمانہ تو علم و ہنر کی روشنی کا زمانہ ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ حقیقت نہیں کہ روس کے ایک بہت بڑے لیڈر نے یہ بات کہی تھی کہ مسلمان نہ جانے کس خدا کی بات کرتے ہیں، ہمارے خلانورد کائنات کی وسعتوں میں گھوم پھر کر آئے ہیں انھیں تو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ سائنسدان آج تک کائنات کی وسعتوں کے سامنے بےبس کھڑے ہیں وہ آج تک آسمان کو دریافت نہیں کرسکے۔ ہمیں جو نیلی چھت نظر آتی ہے اسے وہ حدِنگاہ سمجھتے ہیں۔ اور چاند تک جانے کے دعوے ضرور ہیں لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی ہے کہ چاند تو ہمارے قریب ترین سیاروں میں سے ہے، دور کے سیاروں کی انسان کو کچھ خبر نہیں۔ لیکن اقتدار میں سرمست آدمی کیسے کیسے دعوے کرتا ہے۔ اسی کا ایک نمونہ فرعون بھی ہے۔ مفسرین یہ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی عمارت بنائی ہی نہیں گئی کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اور اگر بالفرض ایسی کوشش ہوئی بھی ہے تو وہ عمارت تکمیل پذیر ہونے سے پہلے زمین بوس ہوگئی۔
ایک سوال کا جواب
اس کے بعد ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ فرعون تاریخ کی شہادت کے مطابق اپنے دور کا ایک کامیاب حکمران تھا۔ اور اس نے بڑی کامیابی سے ایک وسیع خطے پر حکومت قائم کر رکھی تھی۔ اور اس کی قوت کا عالم یہ تھا کہ دوسری کوئی حکومت کبھی اس کو چیلنج نہ کرسکی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو شخص کامیاب طریقے سے حکومت کرسکتا ہے اسے اتنا غبی تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور آپ کی دلآویز شخصیت کو دیکھ کر بھی ان کی نبوت کی سچائی کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو اس کے تکبر اور بدعملی پر اصرار کے نتیجے میں سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے تزیینِ اعمال کے فتنے میں مبتلا کردیتا ہے۔ یعنی وہ جن اعمال کی گرفت میں ہوتا ہے انھیں وہ حقائق کا درجہ دیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس کو عقل کا تقاضا سمجھتا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی کو فکری پختگی سمجھتے ہوئے اپنے برے اعمال پر اصرار جاری رکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے اسے روک دیا جاتا ہے اور وہ شیطان کے رستے کا مسافر ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہی کچھ فرعون کے ساتھ بھی ہوا۔ اس نے مسلسل اپنی حکومت کی بقاء اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناکام کرنے کے لیے تدبیریں کیں۔ لیکن اس کی ہر تدبیر کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔
Ayah 40:38وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوَمِ اتَّبِعُوْنِ اَھْدِکُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۔ (المؤمن : 38)
(اور مردمومن نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو، میں تمہیں صحیح راستہ بتارہا ہوں۔ )
مردِمومن نے فرعون کی مداخلت کی پرواہ نہیں کی اور اس کی بات کو اَن سنی کرتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھا۔ فرعون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ میں تمہیں سیدھی اور صحیح راہ کی طرف رہنمائی کررہا ہوں۔ اس کے جواب میں مردمومن نے کہا کہ فرعون جس راہ پر تمہیں چلانا چاہتا ہے وہ ہدایت کی راہ نہیں بلکہ گمراہی کا راستہ ہے۔ اگر تم فرعون کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں تباہی کی طرف لے جائے گا۔ لیکن اگر تم صحیح راستے پر چلنا چاہتے ہو جس میں تمہیں دوعالم کی کامرانیاں نصیب ہوں تو اس کی طرف میں تمہیں رہنمائی کررہا ہوں، اس لیے میری پیروی کرو۔
Ayah 40:39یٰـقَوْمِ اِنَّمَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ ز وَّاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ھِیَ دَارُالْقَرَارِ ۔ (المؤمن : 39)
(اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ متاع ہے اور ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔ )
دنیادار کا اصل مرض
اس آیت میں جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے یوں تو اس کا مخاطب ہر شخص ہے کیونکہ دنیا کا کوئی شخص ہی ایسا ہوگا جو دنیا کی چند روزہ زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح نہیں دیتا۔ لیکن جن لوگوں میں یہ بیماری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے اور وہ توجہ دلانے پر بھی اپنے رویئے میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں کرتے، وہ بادشاہ کے اہل دربار، حاشیہ بردار اور اس کے عمائدینِ سلطنت ہیں وہ علم و دانش کے حامل ہونے کے باوجود زندگی کے مقاصد کے تعین میں سب سے زیادہ کوتاہ فکر اور کوتاہ ہمت واقع ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہدف حیات چند روزہ کا عیش و آرام ہوتا ہے۔ اور یہ چیز انھیں چونکہ حاکم وقت کی ہاں میں ہاں ملانے سے ملتی ہے اس لیے وہ حاکم وقت کو ناراض کرنے یا اس کی کسی بات کی مخالفت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس لیے بطورخاص ان سے خطاب کرتے ہوئے مردِمومن نے کہا کہ یہ دنیا کی زندگی متاع چند روزہ کے سوا کچھ نہیں۔ اصل زندگی وہ ہے جو آخرت میں ملے گی، جس کے عیش و آرام میں کبھی خلل واقع نہیں ہوگا۔ اور جس کی کسی نعمت کو کبھی زوال نہیں ہوگا۔ تو اس کے مقابلے میں اگر یہ چند روزہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ وہ بھول ہے جس کا کوئی تدارک نہیں ہوسکتا۔
دارِ دنیا کی سجاوٹ پر نہ جا
آخرت میں اپنا اصلی گھر سجا