39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsروح القرآن

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ زبردست اور حکیم کی جانب سے

تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الزمر : 1) (یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ زبردست اور حکیم کی جانب سے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور منکرین کو تنبیہ اس کتاب کو تھوڑا تھوڑا دھیرے دھیرے نازل کیا گیا ہے جو اس کے خصوصی اہتمام پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس بات پر بھی کہ مخالفین کے رویئے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دعوت کی ضرورت میں بھی تبدیلی آتی ہے، جس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں نئی ہدایت، نئی رہنمائی اور نئے احکام دیئے جائیں۔ اور مخالفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا بروقت جواب دیا جائے اور مخالفت سے جو ایک نفسیاتی فضا پیدا ہوتی ہے اس میں حوصلہ دینے کے لیے نئی نصیحت کا نزول ہو۔ چناچہ ان حقائق کی طرف اشارہ کرنے کے لیے تنزیل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور اس میں یہ بھی تأثر دیا گیا کہ اس کلام کے لکھنے والے یا مرتب کرنے والے نبی کریم ﷺ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس کی تبلیغ و دعوت آنحضرت ﷺ پر ایک فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ ﷺ ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔ اور چونکہ اس کا مقصد انسانوں کی ہدایت ہے اس لیے قریش اور دیگر مخالفین کو اس کا نزول چاہے کتنا ہی برا لگے وہ ایک اٹل حقیقت ہے جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ اور جس ذات نے اسے اتارا ہے وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ نبی کریم ﷺ اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے کیسے بھی ناموافق حالات سے دوچار ہوں اس میں ناکامی اور مایوسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس ذات عزیز نے اسے اتارا ہے اس کے ارادوں میں کوئی حائل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح مخالفین کو بھی یہ یقین رکھنا چاہیے کہ چونکہ اس کا نازل کرنے والا عزیز ہے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کی نازل کردہ کتاب کی مخالفت کے انجام سے دیر تک مامون نہیں رہ سکتے۔ انھیں ایک نہ ایک دن اپنی مخالفت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کرنا پڑے گی۔ رہی یہ بات کہ اس سلسلے میں مزاحمتیں پیش آرہی ہیں اور آئندہ بھی آئیں گی تو انھیں خدا کی حکمت پر محمول کرنا چاہیے۔ کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وجود میں نہیں آتی اور اس کا ہر کام حکمت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
Ayahs 39:2–3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے، پس آپ اللہ ہی کی بندگی کریں، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

خبردار کہ اطاعت خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں، اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو

اِنَّـآ اَنْزَلْـنَـآ اِلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِاللّٰہِ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصْ ط وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ م مَا نَعْبُدُھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَـآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی ط اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَاھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ 5 ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ۔ (الزمر : 2، 3) (بےشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے، پس آپ اللہ ہی کی بندگی کریں، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار کہ اطاعت خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں، اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو۔ ) قرآن کریم کی حیثیت اور اس کی تعلیم کی قطعیت گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول کی ضرورت و اہمیت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح فرما دی کہ چونکہ اس کا نازل کرنے والی ایک ایسی ذات ہے جو عزیز اور حکیم ہے۔ اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ مخالفت اور استہزاء سے اس کتاب کا نزول رک جائے گا اور اذیت رسانیوں سے اس کی دعوت روک دی جائے گی، اسے بہرحال اترنا بھی ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے وہ کام بھی کرنا ہے جس کے لیے اسے نازل کیا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اس کتاب کے نزول کا وہ اصل مقصد بیان کیا گیا ہے جس کے فقدان کے باعث انسان کی قسمت بگڑ گئی ہے اور بروبحر میں فساد پھیل گیا ہے۔ دنیا میں اصلاح کے نام سے بہت سی آوازیں اٹھتی رہی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایسی دعوت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی جو سراسر حق ہو۔ دنیا نے ہمیشہ اس میں شرک اور غیر اللہ کی بندگی کی آمیزش کرنے کی کوشش کی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ایسی کتاب نازل کی جائے جو قول فیصل بن کر آئے اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کا فیصلہ حتمی اور یقینی ہو۔ چناچہ اسی یقینی اور حتمی بات کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں، دین کو اس کے لیے خالص کردیں۔ لوگوں نے حق کے تصور کو جس طرح بگاڑا اس بگاڑ کی سب سے بڑی صورت یہ رہی ہے کہ عبادت کے تصور کو بالکل بگاڑ کر رکھ دیا۔ اور اسی طرح دین کو بھی اس کے اصلی مفہوم سے بیگانہ کردیا۔ اس لیے اس کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ عبادت اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے سزاوار نہیں۔ کیونکہ عبادت دو تصورات کا مجموعہ ہے ایک ہے پوجا اور پرستش اور دوسرا ہے عاجزانہ اطاعت اور فرماں برداری۔ اور چونکہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اس لیے اس سے وہ عبادت مراد ہے جس کا تعلق پوجا اور پرستش سے بھی ہے اور عاجزانہ اطاعت اور فرماں برداری سے بھی۔ لیکن عام معنوں میں یہ لفظ ہمیشہ غلامی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ اس کا مادہ عبد ہے اور یہ لفظ ہمیشہ حر کے متضاد کے طور پر ہمیشہ استعمال ہوتا ہے۔ غلامی کے لفظ پر جب ہم غور کرتے ہیں اور اس کے استعمالات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کا مفہوم چار تصورات سے مکمل ہوتا ہے اور ان چار تصورات کے مجموعے پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا تصور یہ ہے کہ غلامی وہ طرززندگی ہے جس میں غلام کو حق ملکیت حاصل نہیں ہوتا۔ وہ اپنی صلاحیتوں، توانائیوں اور مشقتوں سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اس کا مستحق اس کا آقا ہوتا ہے اور وہی اس کا مالک کہلاتا ہے۔ دوسرا تصور یہ ہے کہ غلام اپنی مرضی کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ کسی کام سے متعلق اپنی مرضی کا اظہار نہیں کرسکتا۔ نہ اپنی ذات سے متعلق وہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہے اور نہ اپنی ذات سے باہر کوئی رائے دے سکتا ہے۔ اس کا کام اپنے آقا کے فیصلوں اور اس کی مرضی پر سرتسلیم خم کرنا ہے۔ اور تیسرا تصور یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے نصب العین کے تعین کا حق نہیں رکھتا۔ وہ اپنی زندگی کو کس مقصد کے مطابق گزارے اور اپنے آپ کو کس قالب میں ڈھالے اس کے فیصلے کا اسے کوئی حق نہیں۔ اس کا آقا اس کے لیے جو نصب العین طے کردے وہ اس کے مطابق زندگی گزارنے کا پابند ہے۔ چوتھا تصور یہ ہے کہ اس کا آقا اسے جس حال میں رکھے اسے اس پر شکایت کا کوئی حق نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی ضروریات کا اظہار کرسکتا ہے لیکن آقا کے فیصلوں پر اعتراض اور شکایت نہیں کرسکتا۔ عبادت کا یہی مفہوم ہے کہ انسان درحقیقت اللہ تعالیٰ کا غلام ہے۔ ایمان کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی غلامی کو قبول کرنا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی غلامی بھی شامل ہے اور اس کی اطاعت بھی شامل ہے۔ لیکن گمراہ قوموں نے اولاً تو اس تصور کو قبول ہی نہیں کیا اور اگر قبول کیا بھی ہے تو صرف اس حد تک کہ بندے کو اپنے اللہ کی پرستش کرنی چاہیے، یعنی اسے اللہ کی پوجا پاٹ کرنی چاہیے، اس کی عبادت کرنی چاہیے، اس سے مناجات کرنی چاہیے، اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔ یعنی اپنی پرائیویٹ زندگی میں اس سے تعلق قائم کرنا چاہیے۔ رہی پبلک زندگی، معاشرتی، معاشی، عدالتی، سیاسی، ثقافتی اور حکومتی حوالوں سے اس کی زندگی آزاد ہے، وہ اپنے فیصلے خود کرنے کا مجاز ہے۔ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ تمہاری اطاعت بھی خالص اسی کے لیے ہو۔ کسی دوسری اطاعت کی اس پر پرچھائیں بھی نہ پڑے۔ غیرمشروط اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے سزاوار ہے۔ اور پھر اس پر دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو کہ خالص دین یعنی اطاعت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے ایک ایسا بیجا تصور ہے جسے عقل قبول نہیں کرسکتی۔ یہ کسی عجیب بات ہے کہ خالق اور پروردگار کوئی اور ہو اور عبادت کا حقدار کوئی اور ہو۔ اور اسی طرح عبادت کا حقدار کوئی اور ہو اور اطاعت کا حق کسی اور کو دے دیا جائے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے نہ عقل کے پاس اس کے جواز کی کوئی دلیل ہے اور نہ دنیا کے مسلمات میں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کل بھی دنیا نے اس معاملے میں ٹھوکر کھائی اور آج کی بھی روشن خیال تہذیب اور آج کا علم و دانش کا پیکر انسان نہ صرف یہ ٹھوکر کھا رہا ہے بلکہ اسے اس بات پر اصرار ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق انسان کا ایک پرائیویٹ تعلق ہے، اس کی پبلک لائف اور عملی زندگی سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب انسان عبادت گاہ میں جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوتا ہے اور جب وہ عبادت گاہ سے نکل کر زندگی کے دوسرے دوائر میں داخل ہوتا ہے تو پھر وہ اپنے نفس یا شیطان کا بندہ بن جاتا ہے۔ اس فکری اور عملی تضاد سے بچانے کے لیے واضح طور پر فرمایا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور غلامی صرف پرستش کا نام نہیں بلکہ پرستش اور اطاعت دونوں کا نام ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی ہو، اس میں کسی اور کی لاگ تک نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم اپنا مال دیتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ اس نے پوچھا ! اگر اللہ تعالیٰ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : ان اللہ تعالیٰ لایقبل الا من اخلص لہ ” اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔ اس کے بعد حضور نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ مشرکین شرک کے جواز کے لیے ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے چلے آئے ہیں کہ جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کارساز بنا رکھا ہے انھیں وہ خدا سمجھ کر پرستش نہیں کرتے بلکہ ہم تو اس لیے ان کی عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اتنی بلند ہے کہ جس تک ہماری رسائی نہیں ہوسکتی۔ ہم ان بزرگ ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ تک ہماری دعائیں اور التجائیں پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی کتاب میں واضح طور پر ان باتوں کی تردید فرما دی ہے اور اس بات میں کوئی اخفاء نہیں رہنے دیا کہ جس طرح عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اسی طرح اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی اطاعت میں کوئی شریک ہے۔ لیکن جو لوگ اب بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے لوگوں کا فیصلہ فرمائے گا۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح فرمائی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہو کر اس کی ناشکری کرتے ہیں اور شرک کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے جھوٹ بولتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر یہ جھوٹ باندھتے ہیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنا رکھا ہے۔ ایسے جھوٹے اور ناشکرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا، وہ اس سے پاک ہے، وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا

لَوْ اَرَادَاللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لاَّصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَایَشَآئُ لا سُبْحٰنَـہٗ ط ھُوَاللّٰہُ الْوَاحِدُالقَہَّارُ ۔ (الزمر : 4) (اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا، وہ اس سے پاک ہے، وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا۔ ) مشرکین کے عقیدے پر تعریض جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی نہ کسی کو شریک کیا ہے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کی ہے۔ وہ مشرکینِ عرب میں بھی تھے اور یہودونصاریٰ میں بھی۔ اس آیت کریمہ میں ان کے عقیدے پر تعریض کی گئی ہے کہ مشرک لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کو اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد کا عقیدہ اختیار کیا ہے کیونکہ ان کا خیال یہ ہے کہ اولاد قرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ حالانکہ اگر وہ تھوڑا سے تدبر سے کام لیتے تو انھیں اندازہ ہوتا کہ اس سے بڑھ کر حماقت اور سفاہت کی بات اور کوئی نہیں۔ کیونکہ اولاد کے لیے چند باتوں کے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ 1 باپ اور بیٹے کا ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ باپ کسی اور جنس سے ہو اور بیٹا کسی اور جنس سے تعلق رکھتا ہو۔ اس بات کو تسلیم کرلینے کے بعد خودبخود یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ وہ کسی جنس کا فرد نہیں۔ اگر اس کے لیے بیٹا فرض کیا جائے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کا ہم جنس ہونا چاہیے۔ تو جسے ہم اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیں گے وہ اللہ تعالیٰ کا ہم جنس ہونے کی وجہ سے یقینا اپنے اندر خدائی صفات رکھتا ہوگا۔ 2 باپ کے اندر بیٹے کی طلب دو وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک تو اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ میں فانی ہوں، میرے بعد کسی کو تو میرے نام کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اور وہ ظاہر ہے بیٹا ہی ہوسکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹا تسلیم کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کو فانی ماننا پڑے گا۔ اور یہ سراسر کفر اور خلاف عقل ہے۔ بیٹے کی طلب کے لیے دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ باپ اپنے آپ کو محتاج سمجھتا ہے۔ اور اس کی یہ احتیاج مرورایام کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بیٹے کو اپنی لاٹھی سمجھتا ہے۔ کیونکہ بڑھاپا اسے اس قدر لاغر کردیتا ہے کہ وہ سہارے کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا۔ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ اگر پروردگار صاحب اولاد ہے تو یقینا ایک دن اس پر ایسا وقت آئے گا جب وہ کائنات کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوگا اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات کے خلاف ہے۔ 3 اولاد بیوی کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ اس لیے اولاد ماننے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی بھی تسلیم کرنا پڑے گی۔ اور بیوی کو اپنے شوہر کا ہم جنس ہونا چاہیے۔ اس لیے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی اس کی ہم جنس ہے، یعنی وہ بھی خدا ہے حی اور لایموت ہے۔ اسی طرح میاں بیوی میں ازدواجی تعلق قائم ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اولاد کا کوئی تصور ازدواج کے بغیر ممکن نہیں۔ اندازہ کریں کہ جو انتہائی احمق شخص اللہ کریم کے بارے میں ایسے تصورات رکھتا ہے وہ اس پروردگار کو یکتا اور یگانہ ہستی کیسے قرار دے سکتا ہے۔ ان تمام مقدمات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ تو پھر ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلوقات میں سے جس مخلوق کو چاہے اپنے لیے بیٹے کے طور پر منتخب فرما لے۔ لیکن اس صورت میں ایک بہت بڑی قباحت لازم آتی ہے کہ بیٹے کے طور پر جسے بھی انتخاب کیا جائے گا وہ یقینا مخلوقات میں سے ہونے کی وجہ سے ایک مخلوق ہوگا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ خالق اور بیٹا مخلوق، آخر اس میں کیا تک ہے۔ اس لیے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایک ہے، کوئی دوسرا اس کا ہم جنس نہیں ہوسکتا، اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، وہ سب کا سنبھالنے والا ہے، اسے کسی سہارے کی ضرورت کیا ہے، اس پر کبھی کمزوری یا اضمحلال طاری نہیں ہوگا۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر ڈھانکتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ چلا جارہا ہے۔ یاد رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ج یُکَوِّرُالَّیْلَ عَلَی النَّھَارِ وَیُکَوِّرُالنَّھَارَ عَلَی الَّیْلِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلُّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّے ط اَلاَ ھُوَالْعَزِیْزُالْغَفَّارُ ۔ (الزمر : 5) (اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر ڈھانکتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ چلا جارہا ہے۔ یاد رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔ ) انسان کے بگاڑ کا ایک سبب انسانوں میں شرک کے پیدا ہونے اور جاری رہنے کے جو اسباب ہیں ان میں سے ایک سبب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نیکی اور بدی کے معیارات پر پورا اترنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا یہ انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔ قدم قدم پر خواہشات کی گرفت اور مفادات کی ہوس آدمی کو غلط کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچنے کے لیے اگر کوئی آسان اور یقینی صورت ہوسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کچھ قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں سفارشی تسلیم کیا جائے اور ان کی سفارش کے بھروسے پر زندگی گزاری جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ یہ ہمارے سفارشی ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ یعنی ایک مقصد کے ساتھ پیدا فرمایا۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہے اور حکیم کا کوئی کام کبھی بھی بےمقصد نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے اجرامِ فلکی جن پر ہمارے بیشتر زندگی کے معاملات کا دارومدار ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی مقصد دے کر پیدا کیا ہے اور وہ اسی مقصد کی تکمیل میں شب و روز اپنا فرض انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی ایسی نہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی وظیفہ حیات مقرر نہ کیا ہو۔ اس کے باوجود انسان کا یہ سمجھنا کہ اس کے اعمال و عقائد کچھ بھی ہوں۔ وہ کاروبارِحیات میں مفید ثابت ہوا ہو یا نقصان دہ، بس اگر اس نے اپنے کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں تو پھر اسے عاقبت کا کوئی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تصور اگر ایک طرف باقی تمام مخلوقات کے اسلوبِ حیات سے بالکل ہٹا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خیروشر، نیکی اور بدی، ایثار اور خودغرضی، خیرخواہی اور بدخواہی، ذہنی بالیدگی اور ذہنی پراگندگی، قلب کی پاکیزگی اور قلب کا انتشار سب برابر ہوں۔ ایک خوش خصال آدمی بھی اسی نظر سے دیکھا جائے جیسے ایک بدخصلت اور ایک بدمعاش آدمی کو دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ تصور اللہ تعالیٰ کی صفات، تاریخِ مذاہب اور انسانی اقدار کے یکسر خلاف ہے اور کوئی عقل سلیم اسے باور نہیں کرسکتی۔ اس صورتحال کو قبول کرنے کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ضرور ہے، لیکن نہ اس کے پاس قدرت ہے اور نہ اختیار۔ نہ اس کے پاس بےپایاں علم ہے اور نہ انسانوں کی بھلائی کا کوئی تصور۔ چناچہ اسی کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تخلیق کے بعد کائنات سے لاتعلق نہیں ہوگئی بلکہ وہ روز و شب کے اختلاف اور زمین کی گردش کے ایک ایک مرحلے پر اپنی گرفت رکھتا ہے۔ اور اپنی حکمت کے مطابق اس نظام عالم کو چلا رہا ہے۔ مزید فرمایا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ سورج کی گرمی سے اہل زمین کے چولہے جل رہے ہیں، اسی کے اثرات سے بارشیں برس رہی ہیں، اسی کی تپش سے غلے پکتے اور انسانی غذا کا سروسامان ہوتا ہے اور چاند کی حلاوت سے پھلوں میں گداز اور مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بیشمار انسانی مفادات ہیں جو ان دونوں سے وابستہ ہیں۔ لیکن یہ دونوں کُرّے اپنی عظمت اور وسعت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسخر کر رکھے ہیں اور اس کے مقرر کردہ نظام الاوقات کے مطابق گردش کررہے ہیں۔ مجال نہیں کہ ان کی پابندیِ اوقات میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہوجائے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور غفار بھی۔ اگر وہ کسی بھی انسانی گروہ کو عذاب دینا چاہے تو کوئی طاقت اس کی مزاحمت نہیں کرسکتی۔ اس کے اذن کے بغیر نہ کوئی اس کے ہاں رسائی حاصل کرسکتا ہے اور نہ کسی کے لیے کوئی سفارش کرسکتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ کرم بھی ہے کہ لوگ گستاخیوں پر گستاخیاں کرتے ہیں لیکن وہ ان کو سزا دینے میں کبھی تعجیل سے کام نہیں لیتا بلکہ مہلت پہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ حالانکہ عزیز ہونے کی وجہ سے وہ ہر چیز پر غالب ہے لیکن غفار ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں کو سزا دینے میں کبھی جلدی نہیں کرتا۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا، اور اتاریں اس نے تمہارے لیے چوپایوں کی آٹھ قسمیں، وہ تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے پیدا کرتا ہے ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں تین تین باریک پردوں کے اندر، یہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تم کدھر سے پھرائے جارہے ہو

خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَاَنْزَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ط یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ لَـہُ الْمُلْکُ ط لَآاِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ۔ (الزمر : 6) (اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا، اور اتاریں اس نے تمہارے لیے چوپایوں کی آٹھ قسمیں، وہ تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے پیدا کرتا ہے ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں تین تین باریک پردوں کے اندر، یہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تم کدھر سے پھرائے جارہے ہو۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل یہ گزشتہ مضمون کا تسلسل ہے۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی وضاحت کے لیے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور کائنات کا نظام چلانے کی دلیل کے طور پر شب و روز پر اپنی گرفت اور اپنی قدرت کا اظہار فرمایا۔ اور اسی کی مزید وضاحت کے لیے شمس و قمر کی تسخیر کو بطور دلیل پیش کیا۔ اب بعض مزید دلائل کو پیش پا افتادہ حقائق کے طور پر پیش فرمایا جارہا ہے کہ زمین و آسمان کی وسعتوں کو تم کیا جانو، البتہ تمہیں یہ تو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو ایک نفس سے پیدا فرمایا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر اسی جوڑے سے نسل انسانی اس طرح زمین پر پھیلی کہ آج زمین کا کوئی گوشہ اس سے خالی نظر نہیں آتا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین مختلف بَرِاعظموں میں تقسیم ہے۔ جغرافیائی تقسیم نے انسانوں کو الگ الگ شناخت بخشی ہے اور پھر ان کے رنگ و آہنگ میں بھی قابل ذکر تفاوت پایا جاتا ہے۔ باایں ہمہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ زمین کے ہر گوشے میں پیدا ہونے والا انسان مرد و عورت کی شکل میں اس تناسب کے ساتھ پیدا کیا جارہا ہے کہ کبھی کسی خطے میں یہ سوال پیدا نہیں ہوا کہ مرد و عورت دونوں میں سے کسی کو اتنی بڑی تعداد میں پیدا کردیا گیا ہے کہ ان دونوں میں بری طرح تناسب بگڑ کے رہ گیا ہے۔ ان دونوں میں معمولی افرادی تفاوت تو بہت ساری حکمتوں پر دلیل ہے، البتہ ایسا تفاوت جو تناسب اور ازدواجی زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو، کسی خطے میں ظہورپذیر نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آدم کا پیدا ہونا اور پھر اسی کی جنس سے نوع انسانی کا ایک تناسب کے ساتھ ظہورپذیر ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ثمر ہے اور اسے تم بھی تسلیم کرتے ہو۔ تو پھر تم نے دوسرے معبود کے لیے گنجائش کہاں سے پیدا کرلی۔ صفتِ تخلیق کے بعد صفت ربوبیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس نے تمہیں یونہی پیدا کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ تمہاری تخلیق کے ساتھ ہی اس نے تمہاری ربوبیت یعنی پرورش کا سامان بھی کیا۔ اس کے لیے جہاں اس نے زمین میں قوت روئیدگی رکھی اور آسمان سے بارش کے برسنے کا انتظام کیا اور سورج اور چاند کو غلہ پکانے اور پھلوں میں مٹھاس پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی، وہیں اس نے ایسے چارپائے بھی پیدا کیے جن پر ترقی کے دور سے پہلے تمہارے معاش کا انحصار تھا۔ ان سے مراد وہ پالتو چوپائے ہیں جو اہل عرب میں معروف تھے اور جن پر ان کی معیشت کا بہت حد تک دارومدار تھا۔ ان سے مراد چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری اور بڑے چوپایوں میں اونٹ اور گائے تھے۔ اور انعام کا لفظ انہی پر بولا جاتا ہے۔ انھیں یہاں ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍسے تعبیر فرمایا۔ ازواج کا لفظ جوڑے کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی۔ یہاں دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان کو اگر نر و مادہ میں تقسیم کردیا جائے تو ان کی تعداد آٹھ ہوجاتی ہے۔ عرب انھیں کا دودھ پیتے تھے، انھیں کی اون سے کپڑا بنتے تھے، انھیں کے چمڑوں سے جوتے، خیمے اور بعض دوسری چیزیں بنائی جاتی تھیں۔ انھیں کا گوشت ان کی خوراک کا اہم حصہ تھا۔ چناچہ ان کی افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی تخلیق کو اَنْزَلَ لَـکُمْ سے تعبیر کیا ہے۔ لوہے کے لیے بھی یہی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ یہ دونوں اپنی افادیت میں چونکہ سب سے پیش پیش ہیں اس لیے بجائے یہ کہنے کہ ہم نے اسے پیدا کیا، یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لیے نازل کیا۔ اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنی ربوبیت کا دسترخوان بچھا دیا۔ خلق اور ربوبیت کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، کاریگری اور اپنے احاطہ علم کا ذکر فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس طرح پیدا فرماتا ہے کہ پانی کی ایک بوند رحم مادر میں داخل ہوتی ہے اور پھر وہ ایسے حیرت انگیز طریقے سے تبدیلیوں کے مراحل طے کرتی ہے کہ اگر یہ تجربہ ہمارے سامنے نہ ہو تو کبھی کسی انسان کی عقل اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کریم نے سورة المومنون میں ان مختلف مراحل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ثُمَّ خَلَقَنَا النُّطْفَۃَ عَلَـقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَـقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَاالْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَانَاہُ خَلْقًا اٰخِرَ ۔ ” پھر ہم نطفہ کو خون کی پھٹکی کی شکل میں کردیتے ہیں اور خون کی پھٹکی کو گوشت کا لوتھڑا بنا دیتے ہیں، پھر لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کردیتے ہیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتے ہیں، پھر اس کو نئی خلقت میں کردیتے ہیں۔ “ غور فرمائیے کہ پانی کی ایک بوند کا پیٹ کے اندر ان تبدیلیوں کے مراحل سے گزرنے کے بعد ایک ایسی مخلوق میں تبدیل ہوجانا جو کل کو کائنات کا گُلِ سرسبد بننے والا ہے، کس قدر حیرت انگیز ہے۔ اور اس پر بھی مزید تعجب اس بات پر ہے کہ یہ اتنا بڑا کام اور قدرت کا غیرمعمولی ظہور اور اللہ تعالیٰ کے بےپایاں علم کا منہ بولتا ثبوت کسی روشنی میں وجود پذیر نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کچھ تاریکی کے تین پردوں میں ہوتا ہے کہ سب سے پہلے پیٹ کی تاریکی، پھر رحم مادر کی تاریکی اور پھر اس جھلی کی تاریکی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے اور اسے مشیمہ کہتے ہیں۔ کیا یہ اس بات کی کافی شہادت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جلی و خفی چیز کو محیط ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جس ذات کی تخلیق ربوبیت اور بےپایاں علم کی یہ شانیں ہیں وہی تمہارا اللہ ہے اور وہی تمہارا رب ہے۔ یعنی وہی تمہارا آقا ہے، وہی تمہارا حاکم اور مالک ہے۔ کائنات کی ہر چیز اسی کی ملکیت اور تمام زمین و آسمان پر اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اور اس کے معبود ہونے پر جتنے دلائل دیئے گئے ہیں، ان میں سے کسی دلیل میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ ہر ایک دل میں اتر جانے والی اور دماغ کے لیے نہایت سہل اور سادہ۔ تو پھر کچھ سمجھ نہیں آتی کہ تمہاری عقلوں کو کیا ہوجاتا ہے۔ یعنی ایسے حقائق دیکھنے اور سننے کے بعد عقل کے لیے کسی اور سمت جانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن اچانک یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان باتوں کے سننے والے ان باتوں کو قبول کرنے کی بجائے اچانک دوسری طرف چل پڑتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی باگ کسی اور کے ہاتھ میں دے رکھی ہے اور وہ انھیں باگ سے پکڑے جدھر چاہتا ہے لیے پھرتا ہے۔ چناچہ اسی حیران کن نتیجے کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہاں تُصْرَفُوْنَ مجہول کا صیغہ لایا گیا ہے تاکہ سلسلہ ٔ ہدایت و ضلالت کا مسافر یہ سمجھنے کی زحمت کرسکے کہ میں ایک عقل و شعور رکھنے والا آدمی ہوں، لیکن کس قدر بدنصیبی کی بات ہے کہ چند گمراہ کرنے والوں کے ہاتھوں میں اس قدر بےبس ہوچکا ہوں کہ میں کبھی اپنی عقل کو استعمال کرنے کا موقع نہیں پاتا۔ اس سے ممکن ہے کہ مخالفین میں وہ لوگ جو طبقہ خواص سے تعلق نہیں رکھتے وہ غور و فکر کرنے اور آزادانہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے صراط مستقیم کی دولت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے

اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْـکُمْ قف وَلاَ یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْـکُفْرَ ج وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَـکُمْ ط وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط ثُمَّ اِلٰی رَبِّـکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَـبِّـئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الزمر : 7) (اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) لوگوں کے کفر و ایمان سے اللہ تعالیٰ کی بےنیازی نہایت محکم دلائل سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اس کی وحدانیت، اس کی ربوبیت اور اس کی حاکمیت کو واضح کرنے کے بعد جس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ سننے والے اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکرگزار ہوں، لیکن اگر وہ ان سب کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں یعنی اس کی ناشکری کرتے ہیں، اس کے ماننے سے انکار کرتے ہیں، اس کے احکام بجالانے میں لیت و لعل کرتے ہیں تو پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی خدائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس کی خدائی کا تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق نہیں۔ تم مانو تو بھی وہ خدا ہے اور نہ مانو تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرمانروائی اپنے زور پر چل رہی ہے کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشادِگرامی ہے : کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یاعبادی لوان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی افجرقلب رجل منکم مانقص من ملکی شیئا ” اے میرے بندوں اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے کسی فاجر سے فاجر شخص کے دل کی طرح ہوجاؤ تو تب بھی میری بادشاہی میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ “ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تمہارے کفر اور ناشکری سے اس کی الوہیت میں تو کوئی کمی نہیں آتی لیکن تمہاری زندگی معرض خطر میں پڑجاتی ہے، تمہارے وجود کا جواز ختم ہوجاتا ہے، تمہاری عبدیت شیطنت کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تمہارے کفر اور ناشکری کو اللہ تعالیٰ برداشت تو فرمائے گا لیکن وہ اسے پسند نہیں کرتا۔ یعنی جب گرفت کا وقت آئے گا تو تم اپنے کفر کی پاداش میں پکڑے جاؤ گے اور قیامت کے روز اس سزا کے مستحق ٹھہرو گے جو پروردگار نے کافروں کے لیے مقدر کر رکھی ہے۔ اس سے ہمیں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بعض اعمال کو برداشت تو کرتا ہے لیکن وہ انھیں پسند نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جو نظام نافذ ہے اس میں فی الجملہ انسان کو آزادی حاصل ہے، وہ جو چاہے کرے اس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ لیکن اس کے افکار و اعمال کے دو حصے ہیں ایک وہ ہے جسے شریعت نے جائز قرار دیا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہے اور دوسرا وہ ہے جس سے شریعت نے روکا ہے اور اسے کسی طرح کی سندجواز حاصل نہیں۔ یہ وہ افکار و اعمال ہیں جنھیں وقوع پذیر ہونے سے پروردگار نہیں روکتا لیکن قیامت کے دن اس پر سزا دے گا۔ کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا وابستہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز، صحیح ہو یا غلط وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہوتا ہے۔ یعنی اس کے ہونے پر اس کی طرف سے ایک عام اجازت حاصل ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ کوئی پابندی نہیں۔ لیکن اگر شریعت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی تو اللہ تعالیٰ کی رضا اس میں شامل نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھ لیجئے کہ اگر ایک شخص حرام خوری کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے یعنی وہ سمگلنگ کرتا ہے، رشوت لیتا ہے، چوری کرتا ہے، ڈاکہ ڈالتا ہے، غبن کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے انھیں ذرائع سے رزق عطا فرمائے گا۔ یہ ہے اس کی مشیت۔ مگر مشیت کے تحت چور یا ڈاکو یا رشوت خوار کو رزق دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چوری، ڈاکے اور رشوت کو اللہ تعالیٰ پسند بھی کرتا ہے۔ یہی بات یہاں بھی ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تمہاری بندگی کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم ہرحال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو۔ لیکن اگر تم شکر کے بجائے کفر کارویہ اختیار کرو تو ہم تمہیں زبردستی روک کر مومن نہیں بنائیں گے اور شکر ادا کرنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ البتہ یہ رویہ پروردگار کو پسند نہیں کہ تم بندے ہو کر اپنے خالق و پروردگار سے کفر کرو۔ مختصر یہ کہ جزا و سزا کی تمام تر سکیم کا دارومدار اسی رضا اور عدم رضا پر ہے۔ اور انسان کی فی الجملہ آزادی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے۔ اس آیت کریمہ میں مزید ایک بات فرمائی گئی ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی ہر شخص کی ذمہ داری اس کے اپنے اوپر ہے، دوسرا اس کی طرف سے جواب دہی کرنے والا نہیں بنے گا۔ یہ دراصل مشرکین کی دو طرح کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ جس طرح ہم سورة العنکبوت میں پڑھ چکے ہیں کہ جب کوئی نوجوان اسلام قبول کرتا تھا تو سارے خاندان میں پریشانی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔ خاندان کے بزرگ اکٹھے ہوتے تو سختی کی بجائے ابتداء میں نرمی سے کام لیتے۔ اور یہ کہتے کہ ہماری روایت یہ ہے کہ ہمیشہ فیصلے خاندان کے بزرگوں کی رائے سے ہوتے رہے ہیں، تم نے اپنی زندگی کی روش بدلنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ فیصلہ تمہیں تنہا نہیں بلکہ بزرگوں کی رائے سے کرنا چاہیے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اسلام اس قابل نہیں کہ اسے فکروعمل کا ضابطہ سمجھ کر اپنی زندگی کا رویہ بنا لیا جائے اور زندگی کو یکسر تبدیل کردیا جائے۔ رہی یہ بات کہ تمہیں گمان یہ ہے کہ قیامت آئے گی اور اس میں جواب دہی کرنا پڑے گا۔ تو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری ہم اپنے سر لے لیں گے اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے فکر و عمل کے لیے جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل اور قوت امتیاز بخشی ہے اور فی الجملہ ایک آزادی عطا فرمائی ہے۔ اس لیے وہ شخصی طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے، کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ دوسری غلط فہمی ان کی یہ تھی کہ کوئی شخص کیسی بھی بدتر زندگی گزار کے جائے اسے سزا کا کوئی اندیشہ نہیں، کیونکہ اس کے دیوی دیوتا اس کی وکالت و شفاعت کرکے اسے خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ گویا کہ اس شفاعت کے غلط عقیدے نے انھیں جواب دہی کے تصور سے بالکل بےفکر بنا رکھا تھا۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ کیونکہ تم سب کی واپسی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہونے والی ہے وہاں کوئی شخص بھی جواب دہی سے نہیں بچے گا، ہر شخص کے سامنے اس کے اعمال کا پورا دفتر رکھ دیا جائے گا اور پروردگار چونکہ ہر شخص کے دل کے بھیدوں سے بھی واقف ہے اس لیے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نہ وہاں کوئی یہ کہنے کی جرأت کرسکے گا کہ میں فلاں کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے علم سے بھی بڑھ کر ہے۔ تو اس طرح سے ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑا جائے گا۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے صرف اسی کی طرف متوجہ ہوکر، پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کچھ دنوں اپنے کفر کا فائدہ اٹھا لو، تم یقینا آگ والوں میں سے ہو

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَ عَارَبَّـہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَـہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَاکَانَ یَدْعُوْٓا اِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّـیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلاً صلے ق اِنَّـکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۔ (الزمر : 8) (جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے صرف اسی کی طرف متوجہ ہوکر، پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کچھ دنوں اپنے کفر کا فائدہ اٹھا لو، تم یقینا آگ والوں میں سے ہو۔ ) انسان کی کمزوری سیاقِ کلام قرینہ ہے اس بات کا کہ یہاں انسان سے مراد، ناشکرا انسان ہے جس نے ناشکری کی وجہ سے کفر یا شرک کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ ایسا انسان جن شخصی کمزوریوں کا شکار ہوتا ہے ان میں سے ایک کمزوری یہ ہے کہ اس کی زندگی کا مجموعی رویہ اس کی خواہشِ نفس کے تابع ہوتا ہے۔ وہ ہر وہ کام کرتا ہے خواہشِ نفس جس کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ فطرت دب کے رہ جاتی ہے۔ عام معمول کی زندگی میں اسے کبھی سر اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ البتہ جب کوئی بڑی آفت یا مصیبت آپہنچتی ہے اور اس کی خواہشِ نفس اس مصیبت کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوجاتی ہے اور جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا ان کو بار بار پکارنے کے باوجود کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچتی، تو اس کی فطرت کو سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اس انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تیرا ایک فاطر اور خالق بھی ہے جس نے تجھے فطرتِ اسلام پر پیدا کیا تھا، جس کی یاد میں ہمیشہ تیرا دل دھڑکتا تھا اور ہر طرح کے مصائب میں تو ہمیشہ اسے پکارتا تھا۔ اب تجھے خواہشاتِ نفس نے ایسا اسیر بنا رکھا ہے اور تیرے غلط اعتقادات نے تیرے دل و دماغ کو ایسا مسحور کر رکھا ہے کہ تو اپنی فطرت کی پکار سننے سے بھی عاجز ہوگیا ہے۔ مصیبت میں چونکہ اس کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں۔ اس لیے پھر وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، ہر طرف سے کٹ کر صرف اسی کی طرف متوجہ ہو کر اس یقین کے ساتھ کہ مجھے اس مصیبت سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس کی بےبسی پر رحم کھا کر جب اسے اس مصیبت سے نکال دیتا ہے اور اپنے فضل و کرم سے اسے نوازتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بالکل بھول جاتا ہے جس میں اس نے اپنے اللہ کو پکارا تھا۔ اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اس مصیبت سے میں اپنے حسن تدبر سے نکلا ہوں۔ اور یا یہ سمجھتا ہے کہ فلاں دیوی دیوتا یا فلاں بزرگ کی وجہ سے مجھے اس مصیبت سے نجات ملی ہے۔ اس طرح سے نہ صرف وہ خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی مزید گمراہی میں مبتلا کرتا ہے کہ یہ کتنے پہنچے ہوئے بزرگ ہیں اور ان کے پاس کتنی قوتیں ہیں کہ ان کے دست تصرف کی یہ عنایت ہے۔ چناچہ دوسرے لوگ بھی ان معبودانِ غیر اللہ کے معتقد بن جاتے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ خود تو یہ گمراہ تھا ہی اور بھی کئی لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ آیت کے آخر میں آنحضرت ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ایسے تمام لوگوں کو متنبہ کردیجیے کہ تم مہد سے لے کر لحد تک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہو۔ زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہیں جس میں تم اس کی بیشمار نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ لیکن اس کے باوجود نہ تم اس کا شکر بجا لاتے ہو کہ اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا کیں اور نہ تم اس کی توحید کے قائل ہوتے ہو کہ ان نعمتوں کے ادا کرنے میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ تمہارا رویہ حیوانات سے مختلف نہیں کہ انھیں صرف چارہ کھانے اور غذا حاصل کرنے سے کام ہے اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتے کہ یہ غذا کہاں سے آئی ہے اور اس عطا کرنے والے نے ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد کررکھی ہیں۔ تم اپنے اس کافرانہ اور مشرکانہ رویئے سے شتر بےمہار کی طرح جتنا متمتع ہوسکتے ہو، ہولو۔ لطف و لذت کے مواقع سے جتنا حظ اٹھا سکتے ہو، اٹھا لو۔ یہ چند روزہ مہلت ہے اس کے بعد تمہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تمہارا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم جہنم کے آگ کا ایندھن بننے والے ہو۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو عاجزی کرنے والا ہے شب کے اوقات میں اپنے رب کے آگے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کی حالت میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے (اور دوسرا جو ان صفات سے عاری ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوجائیں گے) ان سے پوچھئے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہیں، نصیحت تو عقل والے ہی قبول کرتے ہیں

اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَـآئَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّقَـآئِمًا یَّحْذَرُالْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہِ ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُاُوْلُوالْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 9) (کیا وہ شخص جو عاجزی کرنے والا ہے شب کے اوقات میں اپنے رب کے آگے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کی حالت میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے (اور دوسرا جو ان صفات سے عاری ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوجائیں گے) ان سے پوچھئے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہیں، نصیحت تو عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔ ) اسلوب کی وضاحت اس آیت کریمہ کے مفہوم کی وضاحت سے پہلے اس کے اسلوب کو سمجھ لینا چاہیے۔ اس کا اسلوب استفہامیہ ہے، لیکن سوال کے دونوں اجزا کو واضح کرنے کی بجائے ایک جز کو بیان کیا گیا ہے اور دوسرے جز کو سامع یا قاری کی ذہانت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ سوال اتنا واضح ہے کہ تھوڑا سا ذہن پر زور دے کر سوال کے دوسرے جز کو بڑی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اور یہ اسلوب قرآن کریم میں اجنبی نہیں بلکہ مختلف مواقع پر اس کو استعمال کیا گیا ہے۔ شفاعتِ باطل کا عقیدہ حق و باطل کا امتیاز ختم کردیتا ہے پیشِ نظر آیت کریمہ میں اس سوال کے اگر دونوں اجزا کو کھولا جائے تو اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ ایک شخص جو نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ شب کے اوقات میں اپنے رب کے حضور کبھی سجدہ میں اسے یاد کرتا ہے اور کبھی قیام میں۔ اس قدر عبادت کے باوجود وہ آخرت سے ڈرتا ہے کہ نہ جانے وہاں میرے اعمال قبول کیے جائیں گے یا نہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے کہ وہ بارگاہ ایسی ہے کہ اس بارگاہ کے فقیر کبھی محروم نہیں رہتے۔ اور اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ہے جسے اس کی عرفی حیثیت اور مال و دولت کی کثرت نے ایک پندار میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ کبھی بھول کر بھی اپنے رب کو یاد نہیں کرتا۔ اس کے باوجود اسے آخرت کا کوئی اندیشہ نہیں اور نہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی کوئی پرواہ ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوجائیں گے۔ اس میں غور کرکے دیکھئے کہ سوال کے پہلے جز کے بعد دوسرا جز خودبخود کھلتا نظر آتا ہے۔ اور جب دونوں جز مل کر سوال مکمل ہوجاتا ہے تو اس کے جواب کے تعین میں بھی کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ ہر عقل رکھنے والا شخص یہ کہے گا کہ یقینا یہ دونوں شخص برابر نہیں ہوسکتے، ان کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ تو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص خواہ کیسی ہی بدعملی کی زندگی گزارے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ چاہے کیسا ہی نامناسب ہو اس میں اور اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے اور اس کے احکام سے انحراف نہیں کرتا، ان دونوں کے انجام میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ پہلا شخص اگر اپنے حُسنِ عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے تو دوسرا شخص کسی نہ کسی کی سفارش سے اللہ تعالیٰ کے یہاں باریاب ہوجائے گا۔ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ بندے کی جو صفات بیان کی ہیں وہ نہایت قابل توجہ ہیں جن میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ قانت ہے۔ قنوت کا مفہوم تواضع، فروتنی، عاجزی اور نیازمندی ہے۔ یوں تو اس کا اظہار اعمال سے بھی ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا تعلق دل کی حالت سے ہے جس کا اظہار بندوں کے سامنے بالعموم نہیں کیا جاتا تاکہ ریا کا شبہ نہ ہو۔ البتہ اس کا صحیح محل رات کی تنہائیاں ہیں۔ جب آدمی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزی کا سرمایہ لے کر حاضر ہوتا ہے۔ کبھی وہ سجدے میں گر کر اپنی بندگی اور فروتنی کا سرمایہ اللہ تعالیٰ کے حضور نذر کرتا ہے اور کبھی غلاموں کی طرح کھڑے ہو کر اس کی غلامی کا اقرار اور اس سے وفا کا عہد کرتا ہے۔ اور سجود اور قیام کے تقابل پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے رب کو راضی کرنے کی ایک بےچینی ہے جس نے اس بندے کو اس طرح بےچین کر رکھا ہے کہ کبھی وہ کھڑا ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے اور کبھی اس کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔ فرائض کی ادائیگی کے بعد راتوں کی یہ عبادت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بندہ بندگی کا حق ادا کرنے کے لیے کس قدر جان کھپاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے اپنے رب کی بےنیازیوں کا گہرا احساس ہے اور اپنی بےبضاعتی کا بھی اقرار ہے۔ اس لیے کبھی اسے خوف آپکڑتا ہے تو آخرت کو یاد کرکے روتا ہے اور کبھی امید کا دیا روشن ہوتا ہے تو اپنے رب کی رحمت سے امیدیں باندھ لیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک مومن کے ایمان کے یہ دو پر ہیں جو اس کی پرواز کے ضامن ہیں۔ لیکن وہ ان دونوں میں کبھی توازن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ اور امید باندھتا ہے جہاں تک امید کا میدان ہے۔ وہ خوف اور ڈر کو اپنے اوپر اتنا سوار نہیں ہونے دیتا کہ مایوسی اور قنوطیت پیدا ہوجائے۔ اور امید کا دامن اتنا دراز نہیں ہونے دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ادب سے بےنیازی کا واہمہ ہونے لگے۔ اس کے بالمقابل دوسرا آدمی جس کو یہاں محذوف رکھا گیا ہے وہی ہوسکتا ہے جو ان تمام صفات سے تہی دامن ہو۔ تو جو شخص آخرت کا انکار کرتا ہے یا غلط شفاعت کے بھروسے پر ایمان و عمل کو بیکار سمجھتا ہے وہ یقینا ایسے دونوں شخصوں کو برابر سمجھتا ہے اور یہ سراسر جہالت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اللہ تعالیٰ کے رسول کے اسوہ حسنہ ہونے پر ایمان، اس کی نازل کردہ شریعت کے واجب العمل ہونے پر ایمان، قیامت اور آخرت پر ایمان، یہ یقینا ان لوگوں کو نصیب ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ علم سے اپنے آپ کو آراستہ کرچکے ہوں۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے، برابر ہوسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہاں علم سے وہی علم مراد ہے جو زندگی کے لیے رہنمائی کا فرض انجام دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں سے انسانوں کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام علوم وہ اپنی ذات میں چاہے کیسے ہی وقیع ہوں وہ انسان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔ نہ انسان کی رہنمائی کرتے ہیں اور نہ انسان کو منزل کی خبر دیتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ زندگی کے یہ حقائق اور علم کی یہ نزاکتیں صرف عقل والوں کی سمجھ میں آسکتی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی عقلوں کو صرف معدے کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے سر پر کلغی سجانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا نہ یہ موضوع ہیں اور نہ ان کی عقل کی گرفت میں آنے والی ہیں۔ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ اگر قریش اور دیگر اہل مکہ آپ کی دعوت کو قبول کرکے نہیں دیتے تو اس سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ لوگ درحقیقت علم سے بھی محروم ہیں اور عقل سے بھی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی عقلوں کو بےمحل استعمال کرکے حقیقی استعمال کی صلاحیت سے محروم کرلیا ہے۔ تو ان کا آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنا یہ ان کی حماقت کی دلیل ہے نہ کہ آپ کی کسی کوتاہی کی۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو، جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسعت رکھنے والی ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب پورا کیا جائے گا

قُلْ یٰعِبَادِالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّـکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاَسِعَۃٌ ط اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (الزمر : 10) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو، جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسعت رکھنے والی ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب پورا کیا جائے گا۔ ) غریب مسلمانوں کو تسلی قریش کو تنبیہ اور باخبر کرنے کے بعد ان غریب مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے جو قریش کے ہاتھوں بری طرح اذیتوں کا شکار تھے۔ آنحضرت ﷺ کو ہدایت کی جارہی ہے کہ آپ مسلمانوں کو بتا دیجیے کہ تمہارا ایسے ناموافق حالات میں ایمان قبول کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ لیکن صرف بیج کا کاشت کردینا کافی نہیں جب تک اس کی نمود و پرداخت اور برگ و بار لانے کے امکانات نہ پیدا کیے جائیں اور اس کی مسلسل دیکھ بھال کی محنت نہ کی جائے۔ تم نے ایمان قبول کرکے اپنے دل کی صالح زمین میں ایک صالح بیج کاشت کیا ہے۔ لیکن اب یہ ضروری ہے کہ تقویٰ کے مراحل سے گزرا جائے۔ یعنی جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو۔ اور جن سے روکا ہے ان کے قریب مت جاؤ۔ اور ہر قدم اٹھانے سے پہلے یہ اطمینان پیدا کرو کہ تمہارا کوئی قدم غلط سمت میں تو نہیں اٹھ رہا، کہیں کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تو نہیں ہورہی، تمہارے دماغ سے اٹھنے والی کوئی سوچ غلط رخ کی طرف تو نہیں بڑھ رہی، تمہارے دل کا میلان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف تو نہیں ہورہا۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اچھا صلہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی زندگی بسر کریں گے۔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی غیرمشروط اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے رسول کا اتباع کریں گے۔ اسی سے ڈریں گے اور اسی سے امیدیں باندھیں گے، اسی کی محبت میں ان کے دل دھڑکیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر بھروسہ اور تکیہ کرنا سب سے بڑا جرم سمجھیں گے۔ اس لیے اے مسلمانو ! تم بھی ایمان لانے کے بعد ان چیزوں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ یقینا اللہ آپ کو اجر وثواب سے مالامال کردے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے لیے ایمان پر استقامت مشکل بنادی گئی ہے۔ قدم قدم پر مصائب و شدائد منہ کھولے آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تم یقینا نہایت پامردی کے ساتھ ان کا مقابلہ کررہے ہو۔ لیکن اگر کبھی دیکھو کہ تمہارے وطن کی سرزمین تمہارے اوپر تنگ کردی گئی ہے تو مایوس اور بددل نہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے۔ وطن کی سرزمین کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی وسیع سرزمین کا ارادہ کرکے نکلو، تم دیکھو گے کہ آبادیاں تمہارا استقبال کریں گی۔ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی سرزمین میں پہنچا دے گا جہاں تم بےخوف و خطر اس کو یاد کرسکو گے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب حق و باطل کی کشمکش نہایت نازک صورت اختیار کرچکی تھی۔ اور مسلمان اپنے مستقبل کے بارے میں اندیشوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہجرت کا اشارہ فرمایا جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد حبشہ کی طرف ہجرت کرگئی اور وہاں انھیں اللہ تعالیٰ نے امن و عافیت کی سکونت عطا فرمائی۔ نجاشی کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے نوازا اور وہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کا محافظ اور پاسبان رہا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اپنے وطن سے ہجرت کرنا یقینا ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنا اور زندگی بھر کے تعلقات سے لاتعلق ہوجانا اور اپنے وسائلِ معیشت کو ترک کرکے محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر غیریقینی صورتحال کو قبول کرلینا کوئی آسان کام نہیں۔ اسی طرح جو لوگ وطن ہی میں رہ کر استقامت کی تصویر بنے رہیں اور قریش کے ہر طرح کے مظالم کو برداشت کرتے رہیں یہ بھی بہت بڑے صبر کا کام ہے۔ دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ بھی اس راہ میں صبر اور استقامت کا ثبوت دیں گے ہم انھیں ان کی توقعات اور ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر صلہ عطا کریں گے۔