39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsروح القرآن

Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کے کسی کام نہ آیا جو وہ کماتے تھے

قَدْ قَالَھَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الزمر : 50) (یہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کے کسی کام نہ آیا جو وہ کماتے تھے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں انسان کی جس گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کرکے اسے نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ تکلیف کو بھی بھول جاتا ہے اور نعمتیں دینے والے کو بھی۔ بلکہ ان نعمتوں اور خوشحالیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرنے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کی ذہنی صلاحیت اور قوت بازو کا نتیجہ ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج یہی بات قریش بھی کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے یہی بات ہر دور کے بگڑے ہوئے مترفین کہتے رہے ہیں۔ اور قرآن کریم نے قارون کا اس حوالے سے خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ جب اس کی قوم نے اسے اس کے بگاڑ کی طرف توجہ دلائی اور اسے یاد دلایا کہ یہ دولت تیرے اللہ کا احسان ہے، اسے یاد رکھو اور زمین میں فساد پھیلانے والے مت بنو۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ یہ سب کچھ میرے علم کی بدولت حاصل ہوا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا کیا دخل۔ لیکن جب اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور اس کی پکڑ آئی تو وہ مال و دولت اور وہ غیرمعمولی خزانے اس کے کسی کام نہ آئے۔ وہ اپنے آپ کو تجارت اور مالیات کا بہت بڑا ماہر سمجھتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا پکڑا کہ اس کا سارا خزانہ اس کے سمیت زمین میں دھنسا دیا اور پھر اس کی کوئی تدبیر اس کو بچا نہ سکی۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اور ان لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے اور یہ ہم کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں

فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَاکَسَبُوْا ط وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ھٰٓـؤُلَآئِ سَیُصِیْبُھُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا لا وَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (الزمر : 51) (پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اور ان لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے اور یہ ہم کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں۔ ) ہر قوم اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتی ہے اس آیت کریمہ میں یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتی ہے اور اس میں کسی قوم کا استثنیٰ نہیں۔ ہر دور کے لوگ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ سمجھ کر ناشکری پر تل جاتے ہیں اور پھر ان پر خدا کی پکڑ آتی ہے تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہیں آتی۔ اگر یہ مسلمہ حقیقت ہے تو قریش میں جو لوگ اس گمراہی میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے سرکشی اور تمرد ان کی زندگی کا وطیرہ بن گیا ہے اور اس طرح سے انھوں نے اپنی فکری اور عملی دونوں طرح کی قوتوں پر ظلم ڈھایا ہے وہ بھی عنقریب اپنے برے اعمال کے نتائج بھگتیں گے۔ اور جب ہم ان کو پکڑیں گے تو پھر ان کی کوئی تدبیر ان کو ہماری پکڑ سے بچا نہیں سکے گی۔ آج جن قوتوں اور وسائل پر وہ فخر کرتے ہیں ان میں سے کوئی چیز ان کے کام آنے والی نہیں ہوگی۔ کیونکہ مخلوق کی کوئی طاقت بھی خالق کی طاقت اور تدبیر کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّـؤْمِنُوْنَ ۔ (الزمر : 52) (کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ ) رزق و فضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس پر مشاہدے سے استشہاد گزشتہ آیات میں انسان کی اس گمراہی پر کھل کر تنقید کی گئی ہے کہ انسان جو کچھ کماتا ہے اور جو کچھ اسے ملتا ہے وہ اس کی اپنی تدبیر اور اس کی سعی اور کاوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس تصور کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونے کی بجائے سرکشی اور تمرد کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کی عبدیت آہستہ آہستہ فنا ہوجاتی ہے اور اس کے اندر سے ایک طاغوتی قوت ابھرتی ہے جو اس کی شخصیت اور اس کے ماحول اور اس کے گردوپیش کو گمراہیوں کی نذر کردیتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی بات کو انسانی مشاہدے کے حوالے سے بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کی بحث اپنی جگہ، انسان کا اپنا مشاہدہ بھی اس بات پر دلیل ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی انسان کی اپنی محنت اور ذہنی تدبیر کا نتیجہ نہیں۔ کیونکہ ہر شخص اپنے گردوپیش میں دیکھتا ہے کہ کتنے لوگ ہیں جو منہ میں چاندی یا سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی وہ خاندانی رئیس ہوتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب انھیں لوگ نان شبینہ کا محتاج دیکھتے ہیں۔ اسی طرح کتنے لوگ ہیں جو رات دن دنیا کی فکر میں سر کھپاتے ہیں، لیکن اپنی تمام تر شب و روز کی محنت کے باوجود بہت زیادہ مال و دولت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح ہم ایسے لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ جو ایک دن تخت و تاج کے مالک ہوتے ہیں اور اگلے دن کسی جیل میں پڑے ہوتے ہیں۔ ایک دن ان کے کاروبار کا چرچا ہوتا ہے اور منڈیوں اور کمپنیوں پر ان کی دھاک بیٹھی ہوتی ہے۔ لیکن انقلاب کی ایک لہر انھیں ہر چیز سے محروم کردیتی ہے۔ یہ ہمارے وہ مشاہدات ہیں جن سے اس کے سوا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ رزق کی تنگی و کشادگی میں انسان کی اہلیت و قابلیت یا اس کے اچھا اور برا ہونے کا اتنا دخل نہیں جتنا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کو ہے۔ جو شخص بھی اس معاملے میں غور کرتا ہے اور اس بسط و تقدیر کا مشاہدہ کرتا ہے اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں، ان میں دو تو بہت نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسے سب سے پہلے اس بات کا یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کی حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کے خزانوں کی چابیاں اس کے پاس ہیں، وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے، کسی اور کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اس لیے ایک مومن کو صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلانا چاہیے کیونکہ وہی ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے۔ دوسری یہ بات کہ وہ اس بات پر مطمئن ہوجاتا ہے کہ رزق کی کمی بیشی بھی اس کی حکمت کا نتیجہ ہے۔ وہ اگر کسی کو اس دنیا میں زیادہ عطا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے اور اگر وہ کسی پر تنگی مسلط کردیتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ وہ زیادہ دے کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوتا ہے یا نہیں۔ اور کم دے کر اس کے صبر کو آزمانا چاہتا ہے۔ اس طرح سے وہ دلوں میں یہ بات اتار دیتا ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالانعام نہیں۔ اس میں ہر شخص کا امتحان ہورہا ہے، کہیں شکر کی صورت میں، کہیں صبر کی صورت میں۔ نتائج کا اعلان قیامت کو ہوگا کہ کون کامیاب رہا اور کس نے ناکامی سے اپنا مقدر گہنا لیا۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے میرے بندوں جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو، یقینا اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بڑا ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط اِنَّـہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (الزمر : 53) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے میرے بندوں جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ، یقینا اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بڑا ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) خطاب کا مفہوم آیت کے شروع میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں سے یہ بات کہیں۔ اس کے فوراً بعد اے میرے بندو ! کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے ان الفاظ کی عجیب تأویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خود ” اے میرے بندو “ کہہ کر لوگوں سے خطاب کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا سب انسان نبی کریم ﷺ کے بندے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک ایسی تأویل ہے جسے تأویل نہیں بلکہ قرآن کی بدترین معنوی تحریف اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ کھیل کہنا چاہیے۔ جاہل عقیدت مندوں کا کوئی گروہ تو اس نکتے کو سن کر جھوم اٹھے گا۔ لیکن یہ تأویل اگر صحیح ہو تو پھر پورا قرآن غلط ہوا جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن تو ازاول تا آخر انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ قرار دیتا ہے۔ اور اس کی ساری دعوت ہی یہ ہے کہ تم ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ محمد ﷺ خود بندے تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے رب نہیں بلکہ رسول بنا کر بھیجا تھا اور اس لیے بھیجا تھا کہ خود بھی اسی کی بندگی کریں اور لوگوں کو بھی اسی کی بندگی سکھائیں۔ آخر کسی صاحب عقل آدمی کے دماغ میں یہ بات کیسے آسکتی ہے کہ مکہ معظمہ میں کفارِقریش کے درمیان کھڑے ہو کر ایک روز نبی کریم ﷺ نے یکایک یہ اعلان کردیا ہوگا کہ تم عبدالعزیٰ اور عبدشمس کی بجائے دراصل عبدمحمد ہو۔ اعاذنا اللہ من ذلک (تفہیم القرآن) غلط فہمی کا ازالہ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ کفار میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جنھوں نے دورجاہلیت میں بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا تھا اور بہت سی عزتوں کے فانوس بجھائے تھے۔ جب انھیں ایمان لانے کی دعوت دی گئی اور اسلامی تعلیمات کو انھوں نے غور سے دیکھا اور سنا تو وہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ و دعوت سے تو متأثر ہوئے لیکن یہ بات ان کے ذہن میں نہیں آتی تھی کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد بھی ہمارے بہت بڑے بڑے گناہ کیسے معاف ہوجائیں گے۔ ہم اسلام لا کر ایک طرف تو اپنے قبیلے سے کٹ جائیں اور ان تمام مصائب کا نشانہ بنیں جسے مسلمان اسلام لانے کی وجہ سے برداشت کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے گناہ بھی معاف نہ ہوں تو پھر اسلام قبول کرنے سے کیا فائدہ۔ بعض لوگوں کا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی عظیم اور اتنی بلند ہے کہ اس تک کسی کی رسائی ممکن نہیں۔ کم از کم گنہگار تو وہاں کسی طور بار نہیں پاسکتے۔ یہ سوچ کر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے مایوس ہونے لگتے۔ اس مایوسی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ان کے ذہن میں آتا کہ ہم ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی یہاں اپنا سفارشی بنائیں یا اپنی بات اللہ تعالیٰ پہنچانے کا ذریعہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔ اس طرح سے شاید ہماری مغفرت کا کوئی سامان ہوسکے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے ان دونوں غلط تصورات سے نکالنے کے لیے اس آیت کریمہ کا نزول فرمایا۔ یاعبادی کہہ کر انھیں حوصلہ دیا کہ تم نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں، اس کے باوجود تم میرے بندے ہو۔ فرق اتنا ہی ہے کہ تم فرمانبردار بندے نہیں بلکہ نافرمان بندے ہو۔ جس طرح کوئی شخص نافرمان ہو کر بھی اپنے نسب کا انکار نہیں کرسکتا، اسی طرح کوئی شخص نافرمان ہو کر بھی اپنی عبدیت کا انکار نہیں کرسکتا۔ تم نے گناہوں کے ارتکاب سے اپنے اوپر بہت زیادتی کی کہ جس خالق نے تمہیں تخلیق کیا، تمہیں پروان چڑھایا، تمہیں اعضاء وجوارح دیئے، تمہیں قوت عقل سے نوازا، مختلف نعمتیں تمہیں عطا کی جاتی رہیں۔ کیا اس کا یہ نتیجہ ہونا چاہیے تھا کہ اسی کے عطا کردہ اعضاء وجوارح اور عقل و شعور کو تم اسی کی نافرمانی میں استعمال کرو۔ اس کی بیشمار نعمتیں پا کر تم بجائے شکر کے کفرانِ نعمت کرو۔ اس طرح تم نے اپنے جسم کے ایک ایک جوڑ اور اپنی عقل و دانش کی ایک ایک لہر پر ظلم توڑا اور زیادتی کی۔ لیکن ان سب کے باوجود تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنی عبدیت کے احساس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ جب وہ سب دروازے بند کرکے اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پر آبیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ کیونکہ وہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور لوٹ آئو اپنے رب کی طرف، اور اس کے مطیع بن جائو، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آدھمکے، پھر تم مدد نہیں کیے جائو گے

وَاَنِیْبُـوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَـہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ ۔ (الزمر : 54) (اور لوٹ آئو اپنے رب کی طرف، اور اس کے مطیع بن جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آدھمکے، پھر تم مدد نہیں کیے جاؤ گے۔ ) رحمت کے طلب گاروں کے لیے رہنمائی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس طریقے کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف متوجہ ہونے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی شخصیت، اپنی صلاحیتوں، اپنے رویوں اور اپنے رجحانات کا رخ بدلو۔ آج تک تم نے کبھی تو خواہشات کی پیروی کی، کبھی شیطان کی اطاعت کی، کبھی مفادات کی ہوس نے تمہیں اپنے راستے پر لگایا، کبھی مال و دولت کی محبت کے تم اسیر رہے، کبھی قوت و شوکت کے آستانے تمہاری سجدہ گاہ بنے رہے، تمہیں ان تمام حوالوں سے کٹ کر صرف پنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی کی بندگی کرنی ہے، اسی سے محبت کا تعلق قائم کرنا ہے، اسی کی خوشنودی کے حصول کو اپنا مقصود بنانا ہے۔ اس طرح سے فکر کا قبلہ درست ہوجانے کے بعد تم نے اطاعت بھی صرف اللہ تعالیٰ کی کرنی ہے۔ اپنی ذات کو بہمہ وجوہ اسی کے حوالے کردینا ہے۔ اور یہ کام اس یقین کے ساتھ کرنا ہے کہ اس کام میں تاخیر عذاب کا باعث بھی بن سکتی ہے اور عذاب آجانے کے بعد پھر کسی تدبیر کے روبعمل لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اسی طرح اس عذاب کے ظہور کے بعد ایمان کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔ عذاب سے مراد وہ عذاب بھی ہوسکتا ہے جو رسول کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد تکذیب کے نتیجے میں آیا کرتا ہے اور اس عذاب سے آخرت کا عذاب بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آخرت کا عذاب یوں تو بہت قریب نہیں، لیکن موت کا تو کوئی وقت مقرر نہیں، وہ تو انسان کے پائوں کے تسمے سے بندھی ہوئی ہے۔ اور موت کے بعد پھر صرف قیامت ہی باقی رہ جاتی ہے، مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے اب صرف نتیجے کا ظہور باقی ہوتا ہے۔
Ayah 39:55

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو اس کی خبر بھی نہ ہو

وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ۔ (الزمر : 55) (اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔ ) گزشتہ مضمون کی وضاحت گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے رب نے جو بہترین چیز تمہاری طرف نازل کی ہے اس کی پیروی کرو۔ یہاں بہترین چیز سے مراد قرآن کریم ہے۔ کیونکہ اسی سورة کی آیت 23 میں قرآن کریم کو احسن الحدیث سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہی احسن الحدیث یہاں مراد ہے، یعنی قرآن کریم۔ اور پھر قرآن کریم کا تمام آسمانی کتابوں سے افضل اور احسن ہونا یہ ایسی بات نہیں جو آسمانی صحیفوں کو پڑھنے والے سے مخفی ہو۔ وہ تمام کتابیں اپنے اپنے دور میں انسان کی اصلاح کا بہترین نسخہ بن کر آئیں۔ لیکن اپنی طبعی عمر گزار کر منسوخ ہوگئیں اور افادیت کے لحاظ سے محدود ہوگئیں۔ لیکن یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جس کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اور اس کی افادیت قیامت تک کے انسانوں کے لیے باقی رکھی گئی ہے اس لیے یہ سب سے کامل کتاب ہے۔ پہلی کتابوں کے صرف ترجمے باقی ہیں، اصل زبان میں صرف قرآن کریم باقی ہے۔ ترجمے کبھی تحریف سے محفوظ نہیں رہتے اور اصل زبان میں تحریف اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے۔ اور پھر قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کی مثال لانا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ بنابریں اس کے الفاظ میں تحریف اور ترمیم بھی ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ اس کے احسن اور سب سے بہتر ہونے کے بیشمار دلائل ہیں جن میں سے بعض کا ذکر خود قرآن کریم نے کیا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو تاریخ نے ہمارے حوالے کیے ہیں۔ اور بعض قرآن کریم کے بیان کردہ نظام زندگی کے حوالے سے ہیں جو کسی بھی صاحب علم سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے آخر میں فرمایا کہ اس قرآن کریم کی پیروی کرو اس سے پہلے کہ اچانک تم پر عذاب آجائے۔ اس میں تخویف کے پہلو کو مزید نمایاں کردیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس آخری ہدایت کو لوگ قبول نہیں کریں گے اور معذب قوموں کی طرح اس کی تکذیب کردیں گے تو پھر وہ عذاب ضرور آئے گا جو تکذیب کے نتیجے میں آیا کرتا ہے اور وہ اس طرح اچانک بھی آسکتا ہے جس کا کسی کو اندازہ نہ ہوسکے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا عذاب کبھی دوپہر کو بھی اس طرح آتا ہے کہ لوگ کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور کبھی رات کو آتا ہے جبکہ لوگ نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لو اور اس سے فائدہ اٹھانے میں بالکل تاخیر نہ کرو۔
Ayah 39:56

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کہے، ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں کرتا رہا، اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے بنا رہا

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَافَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَ ۔ (الزمر : 56) (ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کہے، ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں کرتا رہا، اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے بنا رہا۔ ) اَنْ … سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی طرف لوٹنے اور قرآن پاک کا اتباع کرنے کا حکم دیا ہے یہ اس لیے ہے کہ ایسا نہ ہو کہ محاسبہ کا وقت آجائے اور جو لوگ غفلت سے وقت گزار رہے ہیں انھیں پچھتانا پڑے اور وہ تأسف کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہیں کہ ہائے افسوس اللہ تعالیٰ کے بارے میں مجھ سے بڑی کوتاہی ہوئی کہ میں حُبِ دنیا میں ایسا ڈوبا کہ مجھے کبھی اس بات کا ہوش نہ آیا کہ آخرت میں اگر جواب دہی کرنا پڑی اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو وہاں میں کیا جواب دوں گا۔ میری خدا فراموشی تو یہاں تک پہنچی کہ جو لوگ مجھے آخرت سے متعلق متوجہ کرتے اور مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کہتے تو میں ان کا مذاق اڑاتا۔ لیکن اس وقت اظہارِافسوس کے سوا کچھ نہیں ہوسکے گا۔
Ayah 39:57

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت عطا فرماتا تو میں بھی ڈرنے والوں میں سے ہوتا

اَوْتَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدٰنِیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمَتَّقِیْنَ ۔ (الزمر : 57) (یا کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت عطا فرماتا تو میں بھی ڈرنے والوں میں سے ہوتا۔ ) انسان جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو پھر اس کے پچھتاو وں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ اپنی کوتاہیوں میں سے کبھی کسی کا ذکر کرتا ہے اور کبھی کسی کا۔ اسی طرح اس مصیبت سے بچنے کے جو اسباب ہوسکتے تھے ان میں سے بھی کبھی کسی کی بات چھیڑتا ہے اور کبھی کسی کی۔ یہاں ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر قرآن کریم کی پیروی نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ کل کو جب اپنے انجام میں پکڑے جائیں تو ان کے پچھتاو وں کا یہی عالم ہو۔ چناچہ انھیں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی شخص یہ بھی کہے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں میں سے ہوتا۔ اور پھر ظاہر ہے کہ میں اس مصیبت میں کبھی گرفتار نہ ہوتا۔ حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں اتار کر ہدایت ہی کا سامان کیا تھا۔ لیکن انھوں نے کبھی اس کو مان کر نہ دیا۔ لیکن آج وہ اسے اپنی کوتاہی سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کریں گے کہ اس نے ہمیں ہدایت کیوں نہ دے دی۔ حالانکہ نہ وہ کسی کو زبردستی ہدایت دیتا ہے اور نہ زبردستی گمراہ کرتا ہے۔
Ayah 39:58

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کوئی یہ کہے جس وقت وہ عذاب کو دیکھے کہ کاش مجھے (دنیا میں جانے کا) ایک موقع ملے تو میں نیک عمل کرنے والوں میں سے بن جائوں گا

اَوْتَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الزمر : 58) (یا کوئی یہ کہے جس وقت وہ عذاب کو دیکھے کہ کاش مجھے (دنیا میں جانے کا) ایک موقع ملے تو میں نیک عمل کرنے والوں میں سے بن جاؤں گا۔ ) حق کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں تو اس تمنا کا اظہار کرنے لگیں کہ کاش ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم اللہ تعالیٰ کے نیکوکار بندوں میں سے بن جائیں گے۔ لیکن ان کی اس تمنا کی کوئی قیمت نہیں ہوگی کیونکہ یہ دارالجزا ہے، دارالعمل نہیں، اس کا دور گزر گیا۔
Ayah 39:59

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

کیوں نہیں، میری آیات تمہارے پاس آئیں، پر تم نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے بنے رہے

بَلٰی قَدْ جَآئَ تْـکَ اٰیٰـتِیْ فَـکَذَّبْتَ بِھَا وَاسْتَـکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الزمر : 59) (کیوں نہیں، میری آیات تمہارے پاس آئیں، پر تم نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے بنے رہے۔ ) گزشتہ سے پیوستہ آیت میں جو عذر پیش کیا گیا، یہ اس کا جواب ہے، کہ تم یہ کہتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم متقین میں سے ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے تو تم میں سے ایک ایک کے پاس اپنی آیات بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ایک ایک کا گریبان پکڑ کر کھینچا۔ دکھ اٹھا کر بھی اللہ تعالیٰ کا دین اس کے بندوں تک پہنچایا۔ لیکن تم نے اسے قبول کرنے کی بجائے ان آیات کو جھٹلایا اور تکبر کا اظہار کیا۔ کبھی آنحضرت ﷺ کی غربت کا مذاق اڑایا، کبھی آپ پر ایمان لانے والوں کی کمزور حالت پر آوازے کسے۔ لیکن آپ نے برابر تمہاری ہدایت کے لیے کوششیں کیں، لیکن تمہارا تکبر ہمیشہ آڑے آتا رہا۔ آپ کی کوششوں کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ تم ہدایت کی طرف آتے، تم ہمیشہ کافروں کے ساتھی بنے رہے۔ تو اب تمہارا یہ کہنا کہ ہمیں ہدایت نہیں دی گئی، ایک عذرلنگ کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کام لوگوں کو اپنی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے۔ چناچہ وہ اپنے رسول بھیج کر ایسا سامان کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ لوگوں پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اسے قبول کرتے ہیں یا رد کرتے ہیں۔ تمہارے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ لیکن تم نے اپنے تکبر کی وجہ سے اپنی بدنصیبی کو دعوت دی۔
Ayah 39:60

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

تم قیامت کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں، کیا ان متکبرین کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا

وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْھُھُمْ مُّسْوَدَّۃٌ ط اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّـلْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (الزمر : 60) (تم قیامت کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں، کیا ان متکبرین کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا۔ ) مشرکین کی دروغ گوئی کا انجام جو لوگ قیامت کے دن یہ کہیں گے کہ کاش ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا تو ہم بھی اس سے ڈرنے والوں میں سے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کی ہدایت کے لیے اپنی آیات نازل کیں۔ لیکن بجائے ان سے فائدہ اٹھانے کے انھوں نے اپنے تکبر کے باعث اپنے شرک اور اپنے غلط عقائد کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ یعنی جب ان سے یہ کہا گیا کہ تم نے جو بعض قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور تم نے تحلیل و تحریم کے جو عجیب و غریب فیصلے کر رکھے ہیں تو اس کی تمہارے پاس سند کیا ہے۔ تو وہ بڑی ڈھٹائی سے یہ جواب دیتے کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے، یقینا ان کے کسی بڑے پر اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نازل کی ہوگی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ایسا کرتے آئے ہیں۔ اس جھوٹ اور غلط انتساب کی وجہ سے قیامت کے دن ان پر یہ مار پڑے گی کہ ان کے چہرے سیاہ کردیئے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف سزا ہی کے مستحق نہیں ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ ان کو رسوا بھی کیا جائے گا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ کیا ان متکبروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے خودسر جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہوئے ذرا حجاب مانع نہ ہو، کیا ایسے لوگوں کے سزاوارِجہنم ہونے میں کسی کو شبہ ہوسکتا ہے ؟ یقینا اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، یہ واقعی اس قابل ہیں کہ ان سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے اور یہ فی الواقع جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے، ان کے مامن میں، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِہِمْ ز لاَ یَمَسُّھُمُ السُّوْٓئُ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (الزمر : 61) (اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے، ان کے مامن میں، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام کفار کے انجام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے جو زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ سے ڈرتے رہے اور ہمیشہ اس کے احکام کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کا اتباع کیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے پر ہول دن میں انھیں ان کے مامن میں یعنی جنت میں پہنچا دے گا۔ اور اس طرح سے وہ ہر دکھ اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔ نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا انھیں پریشان کرے گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ ان کی یکسوئی میں خلل انداز ہوگا۔ ہم نے اس آیت کے لفظ مفَازَۃِ کا ترجمہ مامن کیا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کامیابی کیا ہے اور مراد اس سے کامیابی کے اسباب لیے ہیں، اس کے صحیح ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ بچائو کی جگہ کیا ہے، یہ بھی یقینا صحیح ہے۔ اور سب کی مراد ایک ہی ہے۔
Ayahs 39:62–63

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں

اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ ز وَّھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ وَّکِیْلٌ۔ لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الزمر : 62، 63) (اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ ) خلاصہ بحث اوپر کی آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کا خلاصہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ جو چیز بھی دنیا میں وجود میں آئی ہے وہ اسی کے خلق کرنے سے آئی ہے۔ اور یہ وہ بات ہے جسے مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن انھیں شاید غلط فہمی یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اسے چھوڑ چکا ہے۔ اب کائنات کے انتظام و انصرام اور معاملات کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں۔ اس نے یہ کام ان لوگوں کے سپرد کر رکھا ہے اور انھیں اختیارات دے رکھے ہیں جن کو مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اسی طرح وہ ہر چیز پر نگہبان بھی ہے۔ وہ ہر چیز کی خبر گیری کررہا ہے۔ جن چیزوں کو اس نے وجود بخشا ہے ان کے وجود کا ترقی کرنا، پھلنا پھولنا اور ایک خاص عمر تک باقی رہنا یہ بھی اسی کی قدرت کی وجہ سے ہے۔ زمین پر بسنے والے انسانوں کی آسمان سے برسنے والے شہاب ثاقب اور فضاء میں پھیلی ہوئی مختلف گیسز اور ہَوائوں کا مختلف علاقوں میں گھٹتا اور بڑھتا دبائو اور موسمی اثرات کی شدت سے بچائو کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ اہل زمین کی نگہبانی نہ فرمائے۔ زمین میں پھیلے ہوئے سمندر اگر ان کے کنارے اللہ تعالیٰ کی قدرت نہ باندھے تو اہل زمین کبھی زمین پر محفوظ نہ رہ سکیں۔ پہاڑوں کو اگر اللہ تعالیٰ نے زمین پر میخوں کی طرح نہ گاڑا ہوتا اور زمین کے نیچے پلیٹوں کی حرکت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضے میں نہ رکھا ہوتا تو انسان کسی وقت بھی زلزلوں کی نذر ہو کر تباہ ہوسکتا تھا۔ غرضیکہ صرف اس کی ربوبیت ہی نہیں بلکہ اس کی نگہبانی بھی زمین پر بسنے والی مخلوقات اور دیگر کُرّوں کی مخلوقات کی بقاء کی ضامن ہے۔ اسی طرح زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے قبضے میں ہیں۔ زمین روئیدگی کے خزانوں سے بھرپور ہے، سورج سے انرجی کے خزانے ابل رہے ہیں، پہاڑوں میں اور سمندر میں بیشمار خزانے ہیں جن میں سے بیشتر سے ابھی تک انسان واقف نہیں ہوسکا۔ قدرت کی کوئی چیز بھی منفعت کے خزانے سے کم نہیں۔ لیکن ان سب پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تالے چڑھے ہوئے ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے مخلوقات کو نوازتا ہے۔ اور جو کچھ بھی انسانوں کو مل رہا ہے اسی کی بخشش سے حاصل ہورہا ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی جو کچھ ملے گا وہ سب کچھ اسی کی عنایت سے ملے گا۔ لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت، اس کے بےپایاں علم اور اس کی ربوبیتِ کاملہ سے انکار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں اور پھر اپنے اس کفر و شرک پر جمے ہوئے ہیں وہی خسارے میں پڑے ہوئے ہیں۔ دنیا و آخرت دونوں میں اپنی اس حماقت کی سزا بھگتیں گے۔
Ayahs 39:64–66

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے جاہلو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

حالانکہ آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے، اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور اسی کے شکرگزار بن کر رہیں

قُلْ اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَاالْجٰھِلُوْنَ ۔ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ ج لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الزمر : 64 تا 66) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے جاہلو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ حالانکہ آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے، اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور اسی کے شکرگزار بن کر رہیں۔ ) مشرکین کے رویے پر تعجب یہ جان لینے کے بعد کہ اللہ ہی ساری کائنات کا خالق ہے اور اسی کی ربوبیت کا فیضان سب کی بقاء کا ضامن ہے، وہی سب کی نگہبانی فرما رہا ہے۔ کائنات کی بیشمار نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہیں، جس کو جو ملتا ہے اسی کی بخشش سے ملتا ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے علم سے کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ جس طرح کائنات کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں، اسی طرح کائنات کی ربوبیت، اس کی بقاء اور اس کی نگہبانی میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ تنہا ساری کائنات کی تدبیر کررہا ہے۔ اور اس کا بےپایاں علم اور اس کی ناپیدا کنار قدرت ہر مخلوق کے حالات سے واقف اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے۔ ان تمام باتوں کے ادراک اور تسلیم کے بعد بھی اے نادانو ! تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے لگوں۔ کیا کبھی کسی نے محتاج کے سامنے ہاتھ پھیلایا ہے، کیا کبھی بےآب و گیا صحرا میں کسی نے پانی تلاش کیا ہے، کیا کبھی کسی نے ذرے اور آفتاب کو کسی بات میں شریک سمجھا ہے۔ تو آخر کس بنیاد پر تم مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے اور ان کی بوجا پاٹ کرنے کی دعوت دیتے ہو، جبکہ تم لوگ اس بات سے ناواقف نہیں کہ جتنے بھی رسول دنیا میں آئے ہیں سب نے توحید کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیا ہے اور وہ اپنے تمام بلند مراتب کے باوجود اس بات سے باخبر کیے گئے ہیں کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کیا تو تم نے دین کے فروغ اور تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان میں سے ایک ایک عمل ضبط ہوجائے گا۔ کیونکہ جو عمل بھی شرک کے ساتھ آلودہ ہوتا ہے وہ ضائع اور لاحاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی مشرک کے کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ اس بنا پر اگر اللہ تعالیٰ کے نبی بھی شرک کا ارتکاب کریں تو ان کے اعمال بھی حبط یعنی ضائع ہوجائیں گے۔ اسی طرح یہی وحی میری طرف بھی کی گئی ہے حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ہوں۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی کبھی شرک کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں محض توحید کی اہمیت اور شرک کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اسلوبِ بیان اختیار فرمایا گیا ہے تاکہ لوگ اچھی طرح سے اس کی اہمیت کو سمجھ لیں۔ مزید فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لائو۔ کیونکہ جب تک ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے یعنی وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے جس طرح مجھے کوئی اور وجود دینے پر قادر نہیں اسی طرح میرے وجود کے بقاء کے سامان پر بھی قادر نہیں۔ شکر اور توحید میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو موحد ہوگا وہ شکرگزار بھی ہوگا، اور جو شکرگزار ہوگا وہ موحد بھی ہوگا۔ یاد رہے کہ جاہل اس شخص کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کی بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ اس کے سامنے دلائل و شواہد کا انبار بھی لگا دیا جائے تب بھی وہ اس سے اثر قبول نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک آباء پرستی، خواہشِ نفس اور کسی چیز سے جذبات کی وابستگی سب سے بڑے دلائل ہیں اور وہ ہمیشہ اسی گنبد کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کی قدر جاننے کا حق ہے، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ صلے ق وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُـہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ م بِیَمِیْـنِہٖ ط سُبْحٰنَـہٗ وَتَعٰـلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الزمر : 67) (اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کی قدر جاننے کا حق ہے، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ) قَبْضَۃٌ … مٹھی کو بھی کہتے ہیں اور اتنی چیز کو بھی جو ایک بار مٹھی میں اٹھا لی جائے۔ اور یمین دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں۔ اب اگر ان دونوں لفظوں کو لغوی معنی میں لیا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے مٹھی اور ہاتھ ہونا لازم آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔ لیکن اسلاف متقدمین کے نزدیک یہ الفاظ اپنے لغوی اور حقیقی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ مگر اس آیت کا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور ہمیں اس کے جاننے کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ بس اس پر ایمان لانا ضروری ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس سے مراد لیا ہے وہ صحیح ہے۔ علماء متاخرین نے اس آیت کو ایک تمثیل و مجاز قرار دے کر یہ معنی بیان کیے ہیں کہ کسی چیز کا مٹھی میں ہونا اور داہنے ہاتھ میں ہونا کنایہ ہوتا ہے، اس پر پوری طرح قبضہ وقدرت سے۔ یہاں بھی یہی مراد ہے۔ شرک کا سبب اللہ تعالیٰ کی شان سے بیخبر ی ہے آیتِ کریمہ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کا اپنے شرک پر اصرار درحقیقت اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدر و منزلت کو نہ پہچان سکے۔ وہ اس کی شان اور عظمت کے بارے میں بہت بیخبر اور نادان واقع ہوئے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ایک شہنشاہ سمجھا۔ اور شہنشاہ اپنے تمام تر اقتدار کے باوجود انسانی احتیاجات رکھتا اور انسانوں ہی جیسی محدودات میں سمٹا رہتا ہے۔ وہ ہر کام لینے میں دوسروں کا محتاج ہے۔ نہ اس کا علم بےپایاں، نہ اس کی قدرت غیرمحدود۔ اگر اس کی فوج اس سے بغاوت کردے یا اس کی انتظامیہ خودسر ہوجائے تو وہ ایک دن بھی برسراقتدار نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی زندگی بھی معرض خطر میں ہوتی ہے۔ اس تصور میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ساری کائنات کا نظام تنہا اللہ تعالیٰ کے اختیار اور تدبیر میں سمجھ لیا جائے۔ لازماً یہ بات ماننا پڑے گی کہ اللہ تعالیٰ کی فوجیں ہیں، اس کے کارکنان قضاء و قدر ہیں، اس کا انتظام درجہ بدرجہ بیشمار لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنا نظام چلانے میں ان سب کا محتاج ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے شرک پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کے نہ سمجھنے پر قائم ہے۔ اس لیے اصل مرض کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کو نہ سمجھ سکے۔ اور اس کی قدر نہ جان سکے جیسے اس کی قدر جاننے کا حق ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ ساری زمین اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ایک مشت خاک کے برابر اور تمام آسمانوں کی بساط اس کے ہاتھ پر لپٹی ہوئی ہوگی۔ جس عظیم ہستی کی شان و عظمت کا یہ عالم ہو کہ ساری زمین اس کی مٹھی میں سمٹ جائے اور سارے آسمان اس کے ہاتھ میں رومال کی طرح لپٹ جائیں اس سے کسی مخلوق کی کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ ذرہ اور آفتاب میں بھی مخلوق ہونے کی نسبت ہے، اسی طرح قطرہ اور سمندر میں بھی یہی نسبت قائم ہے۔ اس کے باوجود کوئی شخص بھی قطرہ کو سمندر سے اور ذرہ کو آفتاب سے تشبیہ نہیں دے سکتا۔ کیسے نادان لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیویوں او دیوتائوں اور بعض دوسری مخلوق کا جوڑ لگاتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک وسہیم بناتے ہیں۔ متعدد حدیث کی کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایات نقل کی گئی ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دوران خطبہ میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، اور فرمایا اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں، یعنی سیاروں کو اپنی مٹھی میں لے کر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھیراتا ہے۔ اور فرمائے گا، میں ہوں خدائے واحد، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں جبار، میں ہوں کبریائی کا مالک۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر، یہ کہتے کہتے حضور ﷺ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور اس روز صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب مر کر گرجائیں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ زندہ رکھنا چاہے، پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو دفعتاً وہ کھڑے ہو کر تاکنے لگیں گے

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ط ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ۔ (الزمر : 68) (اور اس روز صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب مر کر گرجائیں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ زندہ رکھنا چاہے، پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو دفعتاً وہ کھڑے ہو کر تاکنے لگیں گے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل یہ سابقہ مضمون کا تسلسل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کو کیا جانیں، اس کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ جس طرح اس نے اس کائنات کی بساط بچھائی ہے اسی طرح جب وہ اس بساط کو لپیٹنا چاہے گا تو اس کے حکم سے صور پھونکا جائے گا جس کا اثر یہ ہوگا کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں سب بےہوش ہو کر گرجائیں گی اور اس کے بعد مرجائیں گی۔ اور جو پہلے مرچکے ہیں ان کی روحیں بےہوش ہوجائیں گی۔ البتہ اس میں صرف وہ زندہ رہے گا جس کو اللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہے۔ دُرِمنثور کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جنھیں حاملینِ عرش کہا جاتا ہے۔ اور انھیں میں حضرت جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت بھی شامل ہیں۔ ان کے استثنیٰ کا مطلب یہ ہے کہ نفخ صور کے اثر سے ان کو موت نہیں آئے گی مگر اس کے بعد ان کو بھی موت آجائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور زندہ نہیں ہوگا۔ ابن کثیر بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ان سب میں آخر میں ملک الموت کو موت آئے گی۔ اس کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ حیرت سے ادھر ادھر تاکنے لگیں گے۔ اندازہ فرمائیے کہ ایسی صورتحال میں کس کی مجال ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے آگے ناز و تذلل کے ساتھ بڑھ کر کسی کی وکالت یا سفارش کرسکے۔ اور جس کی قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ ایک نفخ صور سے ساری خدائی مرجائے گی اور پھر بیدار ہوجائے گی کون ہے جو اس کا ہمسر ہونے کا مدعی ہوسکے۔ اس آیت کریمہ میں دو مرتبہ نفخ صور کا ذکر آیا ہے۔ لیکن سورة النمل میں ان دونوں سے پہلے ایک اور نفخہکا ذکر بھی ہے جس سے زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی۔ اسی بنا پر احادیث میں تین نفخوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک نفخۃ الفزع ہے یعنی گھبرا دینے والا صور۔ دوسرا نفخۃ الصعق ہے یعنی مار گرانے والا صور۔ تیسرا نفخۃ القیام لرب العالمین، یعنی وہ صور جسے پھونکتے ہی تمام انسان جی اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنے مرقدوں سے نکل آئیں گے۔
Ayahs 39:69–70

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر متنفس کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِرَبِّھَا وَوُضِعَ الْـکِتٰبُ وَجِایْٓ ئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَٓائِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (الزمر : 69، 70) (اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر متنفس کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ ) حشر قائم ہونے کے بعد کا منظر قیامت برپا ہوجائے گی، میدانِ حشر میں لوگ جمع ہوجائیں گے اور یہ میدانِ حشر ایک نئی زمین ہوگا کیونکہ اس سے پہلے زمین اور آسمان توڑے جا چکے ہوں گے۔ اور یہ زمین نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آچکی ہوگی۔ ہماری یہ زمین تو سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے، لیکن قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ کے نور سے روشن ہوگی، پھر کتاب اعمال لا کر سامنے رکھی جائے گی۔ یہ لوگوں کے اعمال کا وہ دفتر ہے جس میں ہر شخص کے اعمال کی تفصیل درج ہوگی۔ اس کی وسعت کا کیا عالم ہوگا، اس کی شکل و صورت کیسی ہوگی، اسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ پھر انبیائے کرام اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) سے اس دن ان کی امتوں کے مقابل میں گواہی دلوائے گا کہ انھوں نے لوگوں کو کیا تعلیم دی اور لوگوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ لفظِ شہداء میں وسعت و عمومیت ہے جس میں انبیاء (علیہم السلام) بھی شریک ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے وَجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَہِیْدٍ ” اور فرشتے بھی گواہوں میں ہوں گے۔ “ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے مَعَہَاسَائِقُ وَّشَہِیْدٌ اس میں سائق اور شہید سے فرشتے مراد ہیں۔ اور ان گواہوں میں اس امت کے مجددین، صدیقین اور صالحین بھی ہوں گے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے وَتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِاور ان گواہوں میں خود انسان کے اعضاء وجوارح بھی ہوں گے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے تُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْہَدُاَرْجُلُھُمْاس عدالت و شہادت کے بعد لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اگلی آیت میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص نے جو کچھ کیا ہوگا اس کا پورا پورا صلہ اس کو دیا جائے گا۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ ہر شخص اپنے ہی اعمال کا پھل دیکھے گا اور اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا۔ اور یہ بھی نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کسی کا عمل بھول جائے۔ کیونکہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے اور ہر چیز اس کتاب اعمال میں درج ہے جو اس دن میدانِ حشر میں لا کے رکھی جائے گی۔ یہ تمام تفصیل مشرکین کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ تم جو یہ سمجھ رہے ہو کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آہی گئی تو تمہارے شرکاء و شفعاء تمہارے کام آئیں گے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اس تفصیل سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ انسان نے زندگی میں جو کچھ کیا ہے اس کا ایک ایک عمل اس دن اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر اس وقت گواہیاں بھی کی جائیں گی، پھر انصاف کے تقاضے کے مطابق اس پر جزاء و سزا ہوگی۔ کوئی سہارا اس دن ایمان و عمل کے بغیر کام نہیں آئے گا۔ اس لیے آج کی تمہاری یہ سوچ ایسی خام خیالی ہے جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمارے پاس تمہیں میں سے رسول تمہارے رب کی آیتیں سناتے اور اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوئے نہیں آئے تھے۔ وہ جواب دیں گے، ہاں، آئے تھے مگر کافروں پر کلمہ عذاب پورا ہو کر رہا

وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَھَنَّمَ زُمَرًا ط حَتّٰی اِذَا جَآئُ وْ ھَا فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَـتُـھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْـکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَـکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا ط قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الٰـکٰفِرِیْنَ ۔ (الزمر : 71) (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمارے پاس تمہیں میں سے رسول تمہارے رب کی آیتیں سناتے اور اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوئے نہیں آئے تھے۔ وہ جواب دیں گے، ہاں، آئے تھے مگر کافروں پر کلمہ عذاب پورا ہو کر رہا۔ ) کفار کا انجام گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر نیک و بد کا فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا ان میں ایک گروہ وہ ہوگا جنھوں نے کفر کیا ہوگا۔ ان سے مراد مشرکین بھی ہیں۔ کیونکہ کفر اور شرک دو مختلف چیزیں نہیں بلکہ اپنے انجام کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اور مزید یہ بات کہ شرک کے علاوہ اور بھی بعض ایسے جرائم ہیں جنھیں کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی سا ایسا جرم جو کفر و شرک کو لازم کرتا ہو اس کا ارتکاب کرنے والے گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے یعنی انھیں فرشتے ہانکتے ہوئے جہنم میں لے جائیں گے۔ اور جب یہ لوگ جہنم کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ جس طرح قیدی جیل کے دروازے پر پہنچتا ہے تو اس کے لیے جیل کا دروازہ کھلتا ہے۔ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہوں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سارے کافر ایک درجے کے نہیں ہوں گے بلکہ اپنے اپنے جرائم کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ دروازوں سے داخل کیے جائیں گے اور الگ الگ حصوں میں رکھے جائیں گے۔ جب یہ لوگ جہنم میں پہنچیں گے تو جہنم کے داروغے ان سے سوال کریں گے کہ بدبختو ! تم جو اس انجام کو پہنچے ہو تو کیا تمہارے پاس کوئی رسول نہیں آیا تھا جس نے تمہیں اس کی خبر دی ہو۔ تو وہ اقرار کریں گے کہ ہاں ہمارے پاس رسول آئے لیکن ہم نے اپنی بدبختی کو خود دعوت دی۔ سورة الملک میں اس کی وضاحت کی گئی ہے، ارشاد ہے : کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَتُھَا اَلَمْ یَأتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْجَاَئَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وُقُلْنَا مَانَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلاَلٍ کَبِیْرٍ ط وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْنَعْقِلُ مَاکُنَّا فِیْ اَصْحَابِ السَّعِیْرِ ۔ (8 تا 10) ” جب ان کی کوئی بھیڑ جہنم میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک آگاہ کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز ہی نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بہت بڑی گمراہی میں ہو، اور وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سننے اور سمجھنے والے ہوتے تو دوزخ والوں میں سے نہ بنتے۔ “ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان پر کلمہ عذاب ثابت ہوجائے گا۔ کلمہ عذاب سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جو اس نے ابلیس کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم اور تمہاری پیروی کرنے والے سب عذاب کا شکار ہوں گے اور میں تم سب سے جہنم کو بھروں گا۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجائو، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے بس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کا

قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (الزمر : 72) (کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کا۔ ) جن کافروں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور جہنم کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب تم اس جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یہ ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ تمہیں یہیں رہنا ہے۔ اور آیت کے آخر میں ان کے اصل مرض کی نشان دہی بھی فرمائی کہ ان کا حق سے اعراض اور ایمان کی قبولیت سے انکار درحقیقت تکبر کی وجہ سے تھا۔ دنیا کی دولت و رفاہیت نے انھیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونے کی بجائے ایسا خودسر اور متکبر بنایا کہ انھوں نے حق کو قبول کرنے سے ہی انکار کردیا۔ تو آج ان کا ٹھکانہ اس لیے جہنم ہوگا کہ متکبرین کا اصل ٹھکانہ یہی ہے۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس جنت کے پاس پہنچیں گے اس حال میں کہ اس کے دروزے کھول دیئے گئے ہوں اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے، تم پر سلام ہو، تم خوش رہو، پس اس میں سدا رہنے کے لیے داخل ہوجائو

وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا ط حَتّٰی اِذَا جَآئُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَـتُھَا سَلٰـمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ ۔ (الزمر : 73) (اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس جنت کے پاس پہنچیں گے اس حال میں کہ اس کے دروزے کھول دیئے گئے ہوں اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے، تم پر سلام ہو، تم خوش رہو، پس اس میں سدا رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ ) متقین کا انجام سِیْقَ … سَوق سے فعل ماضی مجہول ہے۔ یہ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ سازگار ہَوائیں ابرِرحمت کو باغوں کی طرف لے جاتی ہیں اس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور قیدیوں اور مجرموں کو سپاہی ہانکتے اور مارتے ہوئے جیل کی طرف لے جاتے ہیں تو اس کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ فرق صرف محل استعمال سے پیدا ہوتا ہے لفظ کے استعمال سے نہیں۔ اس لیے پہلی آیت میں یہی لفظ اہل جہنم کو ہانک کرلے جانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اور یہاں یہ لفظ اہل جنت کو جلوس کی شکل میں فرشتوں کے جھرمٹ میں تہنیت کے شور میں نہایت عزت کے ساتھ لے جانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہاں ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ کافر جو بالآخر انجام کے طور پر جہنم میں داخل کیے گئے، یہ وہ لوگ تھے جن کا اصل مرض تکبر اور غرور تھا۔ اسی وجہ سے وہ حق کی بات کو قبول کرنے سے قاصر رہے کیونکہ حق جس واسطے سے ان تک پہنچ رہا تھا ان کے نزدیک نہایت کمزور واسطہ تھا، وہ صرف طاقت اور قوت کی زبان سے واقف تھے۔ شرافت، سنجیدگی، للٰہیت جو بےکس اور بےبس زبانوں سے نکلے اس کا سننا ان کے تکبر کے لیے مشکل تھا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان کا تکبر ایمان کے راستے میں حائل ہوگیا اور وہ کفر کی وادیوں میں کھو کر جہنم کا ایندھن بن گئے۔ لیکن جو لوگ جنت میں پہنچے یہ وہ صاحب ایمان تھے جن کے اندر تقویٰ موجود تھا۔ خشیتِ الٰہی جن کا زیور تھی۔ جب بھی انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی بات سنی تو فوراً اس کی قبولیت کے لیے لپکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ایمان و عمل میں ایسی پاکیزگی پیدا ہوئی اور ایسی ترقی ہوئی کہ آخر وہ جنت میں پہنچ گئے۔ یہ لوگ چونکہ نہایت اعزاز کے ساتھ جنت میں لے جائے جائیں گے اور ایک جمِ غفیر ان کا استقبال کرے گا تو ان کے اعزاز میں پہلے سے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ کیونکہ مہمان کے پہنچنے پر مہمان خانے کا دروازہ کھلنا یہ عزت کی علامت نہیں۔ البتہ پہلے سے دروازوں کا کھلنا اور دروازوں پر استقبال کرنے والوں کا کھڑا ہونا یہ مہمان کی عزت افزائی کی علامتیں ہیں۔ اس لیے فرمایا گیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے دروازے کھل چکے ہوں گے اور جنت کے نگہبان اور داروغے جیسے ہی ان کے استقبال سے فارغ ہوں گے تو انھیں سلامتی اور شادمانی کی دعائیں دیں گے اور ساتھ ہی یہ مژدہ سنائیں گے کہ یہ جنت صرف آپ کی مہمانی کے لیے ہی نہیں بلکہ آپ کی سکونت کے لیے ہے جس میں آپ ہمیشہ رہیں گے۔ اس سے نکلنے کا کبھی کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔