39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsروح القرآن

Ayahs 39:11–12

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

اے نبی کہہ دیجیے ! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰہَ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (الزمر : 11، 12) (اے نبی کہہ دیجیے ! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔ ) مخالفین سے بےنیازی مسلمانوں کے لیے کلماتِ تحسین اور ان کے لیے بےحد و حساب اجروثواب کی بشارت دینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ حالات چاہے کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں آپ مخالفین کو صاف صاف بتادیں کہ افہام و تفہیم اور ابلاغ و تبلیغ میری ذمہ داری ہے اس کے لیے میں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی اسے جاری رکھوں گا۔ لیکن تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ دین اپنی فلاح و کامرانی کے لیے تمہارا محتاج نہیں۔ تم اسے مانو یا نہ مانو، اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو یا نہ کرو مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کروں، اس کے لیے دین یعنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں نہ جانے کس کس کو شریک کر رکھا ہے۔ اور جہاں تک اطاعت کا تعلق ہے وہ تم صرف اپنی خواہشاتِ نفس کی کرتے ہو۔ لیکن میرا طریقہ بالکل واضح ہے۔ میں نہ تو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت میں کسی کو شریک کرنے کے لیے تیار ہوں اور نہ میں عبادت و اطاعت میں فرق کرنے کا مجاز ہوں۔ میری وہ عبادت اور بندگی بالکل بےمعنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی غیرمشروط اطاعت شامل نہیں۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی وہ اطاعت بھی اپنے اندر کوئی خوبی نہیں رکھتی جہاں اس کی عبادت خالص اس کے لیے اور ہر آلودگی سے پاک اور صاف نہ ہو۔ اسی طرح مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں، یعنی میں سب سے پہلے اسلام کا قلادہ اپنے گلے میں ڈالوں۔ ان دونوں آیتوں میں دو حکم دیئے گئے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے اور اسی کے لیے اسلام لانے کا۔ گویا دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ہی پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا دین جسے اسلام کہا گیا ہے اسی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈالتا ہوں۔ میں جس طرح اپنے رب کا بندہ ہوں اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتا، اسی طرح میں مسلم ہوں کسی اور مذہب اور نظام زندگی کو میں قبول نہیں کرتا۔ اسلام کا معنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح میرا دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد اور میرے اعضاء وجوارح اسی کی اطاعت میں متحرک اور خمیدہ ہیں، اسی طرح میں اپنا سب کچھ اس کے سپرد کرچکا ہوں، میری ذات بھی اسی کے حوالے ہے اور میرا مال بھی اسی کا ہے اور مجھے ان دونوں باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الزمر : 13) (کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کو بتا دیجیے کہ میرے مقامات و مراتب اپنی جگہ لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی اطاعت کا تعلق ہے میں اس میں کسی طرح کی کمی نہیں کرسکتا۔ اگر میں کسی معاملے میں بھی اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا نبی کبھی اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور اس کی اطاعت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا رسول بھی اس میں کوتاہی کرے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ جس طرح اس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے تمہیں بھی یہی حکم میرے واسطے سے پہنچا دیا گیا ہے، تم بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرو گے تو ایک بڑے دن کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے، یعنی قیامت کے روز تمہیں اس کی سزا ملے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کے نبی کے لیے اس معاملے میں کوئی رخصت نہیں تو دوسرا کوئی شخص آخر کس شمار و قطار میں ہے۔
Ayahs 39:14–15

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دیجیے میں تو اللہ ہی کی بندگی کروں گا، اللہ ہی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو، کہہ دیجیے بیشک حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا، خوب سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے

قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّـہٗ دِیْنِیْ ۔ فَاعْبُدُوْا مَاشِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ ط قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ (الزمر : 14، 15) (کہہ دیجیے میں تو اللہ ہی کی بندگی کروں گا، اللہ ہی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو، کہہ دیجیے بیشک حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا، خوب سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے۔ ) اعلانِ براء ت اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ نہایت واضح الفاظ میں مخالفین سے بےتعلقی کا اعلان کردیجیے کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کروں گا، اسی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ یعنی میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا کہ عبادت میں کسی کو شریک کروں یا کسی کی غیرمشروط اطاعت کروں یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کسی دوسری اطاعت کی آمیزش ہونے دوں۔ یہی بات میں تم سے بھی کہہ رہا ہوں لیکن تم اگر اسے مان کے نہیں دے رہے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی چاہو بندگی کرتے پھرو، میں تمہارے اس فعل سے براءت کا اعلان کرتا ہوں۔ البتہ ایک بات تم پر واضح کیے دیتا ہوں کہ اصل نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو نقصان میں ڈال دیا۔ یہ وہ کھلا ہوا خسارہ ہے کہ جس سے بڑا خسارہ اور نقصان اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ خسارہ دراصل اس دیوالہ کو کہتے ہیں کہ کاروبار میں آدمی کا لگایا ہوا سارا سرمایہ ڈوب جائے اور بازار میں اس پر دوسروں کے مطالبے اتنے چڑھ جائیں کہ اپنا سب کچھ دے کر بھی وہ ان سے عہدہ برآ نہ ہوسکے۔ اسی نقصان کے لیے یہاں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ انسان کی زندگی، اس کی عقل، اس کا شعور، اس کی تمام صلاحیتیں اور اس کے پاس موجود تمام ذرائع، یہ درحقیقت وہ سرمایہ ہے جسے وہ حیات دنیا کے لیے کاروبار میں لگاتا ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے۔ اسی نے ہر شخص کو پیدا کیا اور اسی نے یہ سارا سرمایہ ہر شخص کو عطا کیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر اس سرمائے کو حیات دنیا کے کاروبار میں لگاتا ہے کہ میں ایک خود رو پودے کی طرح خودبخود وجود میں آگیا ہوں میرا کوئی خالق ومالک نہیں، مجھے کسی کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش نہیں ہونا اور زندگی کے اعمال کا مجھ سے کوئی محاسبہ نہیں ہوگا اور اگر بالفرض قیامت ایک حقیقت ثابت ہوئی تو جن کو میں نے اپنا سفارشی سمجھ رکھا ہے وہ میری سفارش کریں گے اور مجھے بچا لیں گے۔ تو یہ وہ شخص ہے جس نے اپنا سرمایہ غلط مفروضوں پر لگایا اور اپنے لیے خسارے اور نقصان کا سامان کیا۔ جن لوگوں کو اس نے ان مفروضوں میں شامل رکھا ان کے خسارے کا بھی باعث بنا۔ اور اپنے ان ہی تصورات کی بنا پر وہ جن جن لوگوں پر ظلم کرتا رہا اور بےلگام ہو کر اپنے نفس اور اپنی صلاحیتوں پر بھی زیادتی کرتا رہا اور اس نے زندگی بےہنگم طریقے سے ان راہوں پر گزاری جو سراسر تباہی کے راستے تھے۔ اس طرح سے اس نے نہ صرف اپنے آپ کو تباہ کیا بلکہ اور بھی بیشمار لوگوں کے لیے خسران کا باعث بنا۔ تو یہ ہے وہ خسرانِ مبین جسے قرآن کریم نے یہاں بیان فرمایا۔ اور مزید ایک بات اس آیت کریمہ میں یہ بھی فرمائی گئی ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی اور اپنی صلاحیتوں کے بارے میں غلط مفروضوں کی بنیاد پر اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی شریک کیا اور بگاڑا اور وہ بھی ان ہی تصورات کے وارث ٹھہرے جن تصورات نے اس کی زندگی کو تباہ کیا۔ تو اس شخص نے نہ صرف اپنا نقصان کیا بلکہ اپنی اولاد اور اپنے پسماندگان کو بھی تباہی کے راستے پر ڈالنے کی وجہ سے ان کا بھی نقصان کیا۔ اس لیے اسے قیامت کے دن نہ صرف اپنے حوالے سے جواب دینا پڑے گا بلکہ جن جن کی تربیت کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر تھی ان کے لیے بھی جواب دہی کرنا پڑے گا۔ اس طرح سے اس کے خسران اور نقصان میں اضافے پر اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ تو اس خسران کو خسرانِ مبین کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے پردے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی، یہ ہے وہ چیز جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو ! پس میرے غضب سے بچو

لَہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ط ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ط یٰـعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ ۔ (الزمر : 16) (ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے پردے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی، یہ ہے وہ چیز جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو ! پس میرے غضب سے بچو۔ ) جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں انحراف کا راستہ اختیار کیا یا انھوں نے اس میں خیانت کی، شرک کا ارتکاب کیا یا اللہ کی اطاعت میں دوسروں کی اطاعت بھی شامل کی تاکہ اقتدار کے کسی دائرے میں انھیں نقصان اٹھانے کا اندیشہ نہ ہو۔ ایسے لوگوں کا انجام اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ظُلَلٌ، ظُلَّۃٌکی جمع ہے۔ اس کے معنی بالعموم چھتری کے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہر ڈھانک لینے والی چیز کو ظُلَّۃٌ کہا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ چھتریاں کرنے کی بجائے پردوں سے کیا ہے۔ کیونکہ پردے بھی ڈھانکنے کے کام آتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ان خاسرین کا انجام یہ ہوگا کہ جہنم میں آگ ہی ان کا اوڑھنا ہوگی اور آگ ہی بچھونا ہوگی۔ یعنی اوپر سے بھی انھیں آگ ڈھانک لے گی، اور نیچے سے بھی۔ ان کا چلنا بھی آگ پر ہوگا، بیٹھنا بھی آگ پر اور لیٹنا بھی آگ پر ہوگا۔ اور ان کے اوپر تہ بہ تہ آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ جس طرح سمندر کے سفر میں رات کی تاریکی، پھر اس پر بادلوں کا اندھیرا، یوں لگتا ہے جیسے ظلمتیں ایک دوسرے پر چھا گئی ہیں۔ یہی حال جہنم میں ان لوگوں کا بھی ہوگا۔ کوئی آدمی تصور کی نگاہ سے اس صورتحال کا اندازہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے اپنے تصور میں بھی آگ لگتی ہوئی محسوس ہوگی۔ اور وہ محسوس کرے گا کہ ساراجہان آگ میں جل رہا ہے۔ اس انجام سے زیادہ خطرناک انجام کا تصور بھی محال دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ یہ ہے وہ چیز یا یہ ہے وہ انجام جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اور دنیا میں ایسے ہولناک انجام کی خبر دے کر قبل از وقت بندوں کو اس سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آخر میں نہایت پرسوز انداز میں اسی بات کا اعادہ فرمایا، جس طرح ہمدردی و غمگساری میں ڈوبا ہوا کوئی شخص اپنے نہایت عزیز کو خطرات سے بچانے کی انتہائی کوشش کے بعد جاتے جاتے آخری دفعہ پھر اپنی بات کو دہراتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے دل کی کرچیاں بھی اس میں شامل ہوگئی ہیں۔ پروردگار نے بھی ایسا ہی انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بندو ! یہ انجام بہت خطرناک انجام ہے۔ اس سے بچنا چاہتے ہو تو میرے عذاب سے، میری ناراضگی سے اور میری نافرمانی سے بچو۔
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے، پس میرے ان بندوں کو خوشخبری پہنچا دو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو غور سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَا بُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی ج فَبَشِّرْ عِبَادِ ۔ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَـہٗ ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰہُمُ اللّٰہُ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 17، 18) (اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے، پس میرے ان بندوں کو خوشخبری پہنچا دو ۔ جو بات کو غور سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ ) طاغوت کا مفہوم طاغوت، طغیان سے ہے۔ بعض اہل علم اس سے ہر اس ذات کو مراد لیتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بندگی کی جاتی ہے۔ خواہ وہ اصنام ہوں یا جنّات و شیاطین یا اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت سے برگشتہ کرنے والے لیڈر اور مذہبی پیشوا۔ بعض اہل علم کے نزدیک طاغوت کے معنی سرکشی کے ہیں۔ طاغی سرکش کو کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا اسم فاعل ہے۔ جب کسی کو طاغی کہنے کی بجائے طاغوت کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ کیونکہ اسم فاعل کی جگہ پر مصدر کا استعمال مبالغے کے معنی کو پیدا کرتا ہے۔ مثلاً کسی شخص کو حسین کہنے کی بجائے حسن کہا جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ شخص خوبصورتی میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ ان اہل علم کے نزدیک طاغوت ہر وہ قوت ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی بندگی پر زور دیتی اور اپنی غیرمشروط اطاعت پر اصرار کرتی ہے۔ فلاح پانے والوں کی صفات اور ان کو بشارت گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا جو انتہائی نقصان اٹھانے والے یعنی خاسرین ہیں۔ اور اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو مفلحین ہیں یعنی جنھیں فوزوفلاح کی بشارت دی گئی ہے۔ ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی میں کسی اور کو شریک نہیں کرتے۔ بڑے سے بڑا طاغوت انھیں اپنے سامنے نہیں جھکا سکتا۔ ان کی گردن کاٹی جاسکتی ہے لیکن جھکائی نہیں جاسکتی۔ وہ باطل کو حق تسلیم کرنے میں اس سے زیادہ گریزاں ہیں جتنا کوئی بھی عقلمند آدمی سیاہ کو سفید کہنے سے گریز کرتا ہے۔ ان کی پوری زندگی صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت میں گزرتی ہے۔ اور دوسری صفت ان کی یہ ہے کہ جس طرح وہ کبھی غیر اللہ کی عبادت و اطاعت میں ملوث نہیں ہوتے، اسی طرح ان کی زندگی کی شناخت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے اور وہ اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ معاملہ احکام کا ہو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور اگر معاملہ خوف و خطر کا ہو تو گھبرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرمائے تو اسے ذاتی محنت کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہی عطا اور بخشش قرار دیتے ہیں۔ اور تیسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نہایت سلیم الطبع لوگ ہیں کہ جب بھی ان کے سامنے کبھی کوئی بات پیش کی جاتی ہے تو چاہے خلاف طبع ہی کیوں نہ ہو وہ کہنے والے سے الجھنے کی بجائے کہی جانے والی بات کو دیکھتے اور نہایت توجہ سے سنتے اور اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ بات کو سن کر غور و فکر کرتے ہیں اور جو بات حق ہوتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ اور چونکہ ان کی طبیعت میں سلامتی ہے اس لیے وہ بات کو غلط معنی پہنانے کی بجائے اس کے اچھے اور بہتر پہلو کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صفات کے حاملین کو پیش نظر دونوں آیتوں میں دو طرح کے انعامات کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک تو انھیں فوزوفلاح کی بشارت دی گئی، اور دوسرا انعام یہ دیا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو درحقیقت عقل والے ہیں۔ اور اسی عقل سلیم کے باعث وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور اس کی آیات سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کا قانون چسپاں ہوچکا، تو کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو آگ میں ہے

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ ط اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ۔ (الزمر : 19) (تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کا قانون چسپاں ہوچکا، تو کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو آگ میں ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ دو آیتوں میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں کامیاب ٹھہرایا ہے انھیں اخروی فلاح کی بشارت بھی دی گئی اور دنیا میں ان کی عقلمندی کی تحسین بھی کی گئی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ آپ کی دعوت کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور ہزار کوششوں کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لاتے آپ ان پر دل گرفتہ نہ ہوں، وہ درحقیقت کلمۃ العذاب کی گرفت میں آچکے ہیں۔ اور یہ کلمہ ان پر چسپاں ہوچکا یا ثابت ہوچکا ہے۔ اور اس کلمے سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے اولادِآدم کو گمراہ کرنے کے چیلنج کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ تم جن لوگوں کو گمراہ کرو گے، میں تمہارے سمیت ان سب کو جہنم میں ٹھونس دوں گا۔ جس طرح وہ جہنم کے عذاب کا شکار ہوں گے، اسی طرح تمہیں بھی جہنم کی وادیوں کی نذر کردیا جائے گا۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس کلمۃ العذاب سے درحقیقت اللہ تعالیٰ کا وہ قانون مراد ہے جو ہر انسان کی سرکشی اور ہر قوم کی تکذیب کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرکت میں آتا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو توڑتا یا سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے آئینہ قلب پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ استغفار اور توبہ سے اس دھبے کو دھو ڈالتا ہے تو آئینہ قلب مصفا ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ مسلسل سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب اس کا دل سیاہ دھبوں سے اس طرح بھر جاتا ہے کہ اس کی کوئی جگہ خالی نہیں رہتی۔ یہ وقت ہوتا ہے جب ہدایت سے محرومی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو قوم اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کرتی ہے اور رسول کی تمام تر دعوتی کوششوں کے باوجود وہ اس کے قتل پر تل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد وہ قوم عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ کی تمام تر مساعی جمیلہ کے باوجود ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو، آپ ان پر پریشان نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے یہ لوگ جہنم میں داخل کردیئے گئے ہیں تو کیا آپ اہل جہنم کو بچا سکیں گے۔ ظاہر ہے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا، اس فیصلے میں تبدیلی ممکن نہیں۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بالاخانے اور بالا خانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا

لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ لا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ 5 ط وَعْدَاللّٰہِ ط لاَ یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ ۔ (الزمر : 20) (البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بالاخانے اور بالا خانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ) مَبْنِیَّۃٌاس کا فعل ماضی بنیٰ ہے۔ بنیٰ الدار کا معنی ہوتا ہے اس نے گھر بنایا۔ اس لحاظ سے مَبْنِیَّۃٌ کا معنی ہوگا، بنایا گیا یا بنایا ہوا۔ عام طور پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے اسی لیے اکثر مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے غلط نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اس کا ایک دوسرامعنی بھی ہے، وہ ہے آراستہ و پیراستہ۔ اگر اس آیت کریمہ میں مَبْنِـیَّـۃٌٌ کا یہ دوسرا معنی کیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے تقویٰ کی زندگی گزاری اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے رہے اور خشیت الٰہی ہمیشہ ان کے دلوں کا زیور رہی، اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں ایسے بالاخانے عطا فرمائے گا جو نہایت آراستہ و پیراستہ ہوں گے۔ یعنی انھیں نہایت سجایا گیا ہوگا۔ اس سے پہلے کافروں کا انجام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جہنم میں ان کا اوڑھنا بچھونا بھی آگ ہوگی۔ وہ بری طرح آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ چناچہ اس کے جواب میں اہل جنت کو جو رہائش دی جائے گی وہ نہایت آراستہ و پیراستہ ہوگی۔ اس کے فرش سے لے کر اس کی چھت تک خوبصورتی اور زیبائش کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ اور پھر ان بالاخانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی جو ان کے محلات میں غیرمعمولی خوبصورتی کا باعث بنیں گی۔ لوگ اسے محض سخن سازی نہ سمجھیں یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتا۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے زمین کے اندر چشمے جاری کردیئے، پھر وہ اس پانی کے ذریعے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالتا ہے، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں ایک سبق ہے عقل والوں کے لیے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُـہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُـہٗ حُطَامًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 21) (کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے زمین کے اندر چشمے جاری کردیئے، پھر وہ اس پانی کے ذریعے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالتا ہے، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں ایک سبق ہے عقل والوں کے لیے۔ ) ایک مثال سے زوال کی وضاحت قریشِ مکہ اور دیگر اصحابِ ثروت کے سامنے نبی کریم ﷺ جب دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی دائمی اور ابدی زندگی کا ذکر فرماتے اور انھیں بار بار اس بات پر توجہ دلاتے کہ تم اپنی دولت و ثروت پر جس طرح گھمنڈ کرتے ہو اور اپنی حکومت و سیادت پر تم جس طرح فریفتہ ہو، تمہیں اندازہ نہیں کہ یہ ایسی ڈھلتی چھائوں ہے جس کا کوئی بھروسہ نہیں۔ کسی وقت بھی تم سے یہ سب کچھ چھن سکتا ہے اور تمہارے اس اقتدار پر کسی وقت بھی زوال آسکتا ہے۔ لیکن وہ آنحضرت ﷺ کی باتوں پر متوجہ ہونے کی بجائے مذاق اڑاتے۔ انھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ان کی موجودہ حالت کیسے تبدیل ہوسکتی ہے اور وہ کس طرح زوال کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انھیں نہایت آسان مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بارش برستی ہے، جابجا پانی کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں، پھر اس پانی کے ذریعے سے کتنی قسموں کی نباتات اور کھیتیاں اگتی ہیں، پھر زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ یہ لہلہاتی فصل اور زمین پر بچھا ہوا مخملی فرش مرجھانے لگتا اور خشک ہونے لگتا ہے۔ کل تک ہر طرف سبزے کی بہار تھی، اب ہر طرف زردی چھائی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ کیا تمہیں اس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینتیں سب عارضی ہیں۔ یہاں کی ہر بہار چند روزہ ہے اور انجام اس کا خزاں ہے۔ کوئی شباب ایسا نہیں جو ضعیفی اور موت کے حملے سے محفوظ رہ سکے۔ ہر عروج آخر زوال کا شکار ہوتا ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے انسان اس کے حسن پر فریفتہ ہو کر خدا اور آخرت کو بھول جاتا ہے۔ عقلمند آدمی وہ ہے جس کی نظر اس چند روزہ بہار سے مسحور نہ ہو، بلکہ وہ اس ذات سے اپنا تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے جس کی قدرت سے یہاں سب کچھ ظہورپذیر ہوتا اور اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ وہی تمام چیزوں کو وجود میں لانے والی اور تمام تغیرات کی خالق ہے۔ ایک عقلمند آدمی کو اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ میں جن چیزوں کے سحر سے مسحور ہوتا ہوں ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے اختیار میں آزاد نہیں۔ اصل اختیار اس ذات کے قبضے میں ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا ہے۔ وہ جس چیز کو چاہتا ہے برگ و بار پیدا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے خستہ و خراب کردیتا ہے۔ کسی کے بس میں نہیں جو اس کے ارادے کو روک سکے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کرسکے۔ عقل کا مزید ایک قدم اگر آگے بڑھے تو یہ بات بھی سمجھنا مشکل نہیں کہ آسمان سے زمین تک ہر چیز کو جس نے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے وہ لوگوں کو یونہی نہیں چھوڑ دے گا بلکہ ایک ایسا دن بھی یقینا آنا ہے جس میں وہ ہر شخص سے اس کی نیکیوں اور بدیوں کا حساب لے گا اور انصاف کے مطابق اس کی جزا یا سزا دے گا۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل سخت ہوچکا ہو) تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِـلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ ط فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ مِّنْ ذِکْرِاللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الزمر : 22) (کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے، (اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل سخت ہوچکا ہو) تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ ) شرح صدر کا مفہوم شرح کے لفظی معنی کھولنے، پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں۔ شرح صدر وسعت قلب کو کہتے ہیں۔ اس کا مقابل ضیق صدر بھی ہے اور قساوتِ قلب بھی۔ قرآن کریم میں ایک اور جگہ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیْقًا حَرَجًا اور اس جگہ لِلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ اسی شرح صدر کے بالمقابل آیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتا ہے (جس سے احکامِ الٰہیہ کا سمجھنا اور عمل کرنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے) ۔ ہم نے عرض کیا اس شرح صدر کی علامت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اَلاِنَابَۃُ اِلٰی دَارِالْخَلُوْدِ وَالتَّجَافِیْ عَنْ دَارِالْغُرُوْرِ وَالتَـأَھَّبِ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُوْلِہٖ ” ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب اور مائل ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا کی لذائذ اور زینت سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا۔ “ فیض بقدر استعداد پہنچتا ہے شرح صدر کے مفہوم کے ذکر کے بعد اب ہم آیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ سب سے پہلی چیز جس کی طرف توجہ دینا پر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت کا اسلوب استفہامیہ ہے۔ اسی لیے اسے حرف استفہام سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پروردگار نے قرآن کریم کے مخاطبوں کے سامنے ایک سوال رکھا ہے جس کے پہلے جز کو ذکر فرما دیا ہے اور دوسرا جز سننے والوں کی ذہانت پر چھوڑ دیا ہے۔ یعنی وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے شرح صدر عطا فرمایا یعنی اسلام کے لیے اس کے دل کی کیفیت اس طرح کی ہوگئی ہے کہ اس کے دل میں اسلام کی کسی بات کے بارے میں کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا۔ اسے قرآن و سنت کی ہر بات اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ شرعی تقاضے اسے طبعی تقاضے معلوم ہوتے ہیں اور اسلام کی راہ میں پیش آنے والا ہر خطرہ اور نقصان اس کے لیے ایک جانی پہچانی چیز بن جاتا ہے۔ بڑے سے بڑے خطرے کو انگیخت کرنا اور برداشت کرنا اس کے لیے نہایت سہل ہوجاتا ہے۔ وہ ہر آنے والی مشکل کو اللہ تعالیٰ کی یاد کا ذریعہ اور اپنی بندگی کے لیے چیلنج سمجھتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں دوسرا شخص وہ ہے جسے اسلام کی ہر بات اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کے بارے میں شبہات لاحق ہوتے ہیں۔ وہ اسلامی احکام کو اپنی لیے ناروا پابندیاں سمجھتا ہے۔ تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ یقینا نہیں ہوسکتے۔ اب یہ دوسرا شخص کبھی تو اسلام کے بارے میں دل کی تنگی کا شکار ہوتا ہے یعنی اس کے دل کے اندر اسلامی احکام اتر نہیں پاتے۔ اور کبھی وہ دل کی نرمی سے محروم ہو کر اس طرح کا ہوجاتا ہے کہ اس کے پہلو میں دل نہیں بلکہ پتھر ہے جو نہ کسی بات پر پسیجتا ہے اور نہ کسی دلیل سے قائل ہوتا ہے۔ ایسے پتھر دلوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے، کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ان کے سامنے ہوتا ہے تو بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں فرحت و انبساط پیدا ہو اور وہ شوق سے اس کی طرف بڑھیں، ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جیسے کسی چٹان سے کوئی چیز ٹکرا کے واپس آجائے۔ ارشاد فرمایا : کہ یہی وہ لوگ ہیں اور جو کھلی گمراہی میں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ قریش پر تعریض کی جارہی ہے کہ ان پر چونکہ آنحضرت ﷺ کی کوئی بات اثر نہیں کررہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پہلو میں دل نہیں بلکہ پتھر ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ وحی الٰہی بارش کی مانند ہے۔ بارش برستی ہے تو جس زمین میں صلاحیت ہوتی ہے وہ اس سے مستفید ہوتی ہے اور لہلہا اٹھتی ہے لیکن جو بنجر ہوتی ہے اس کی ویرانی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ان کے کفر اور انکار سے آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے یہ اپنی فطری صلاحیتیں کھو چکے ہیں اس لیے یہ آپ اور قرآن کے فیض سے محروم ہی رہیں گے۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں جو دہرائی جانے والی ہے اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر جھک جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف، یہ اللہ کی ہدایت ہے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت بخشتا ہے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے اسے پھر کوئی ہدایت دینے والا نہیں

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِھَا مَّثَانِیْ صلے ق تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُالَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ ج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُھُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِاللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (الزمر : 23) (اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں جو دہرائی جانے والی ہے اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر جھک جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف، یہ اللہ کی ہدایت ہے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت بخشتا ہے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے اسے پھر کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ ) قرآن کریم کے تعارف میں چند باتیں قریش اور دیگر کفار قبولیتِ حق کے سلسلے میں جن کے دل پتھر ہوچکے تھے ان کا سب سے زیادہ زور اس بات پر صرف ہوتا تھا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب نہیں، اسے آنحضرت ﷺ نے خود مرتب کیا ہے۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں، بلکہ یہ محض ان کا دعویٰ ہے۔ ان کے ان تصورات کو رد کرتے ہوئے قرآن کریم کے تعارف اور تعریف میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ سب سے بہتر کلام ہے۔ قریش اسے اگر اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے تو پھر انھیں قرآن کریم کے چیلنج کو قبول کرنا چاہیے کہ وہ اس جیسی کتاب یا اس کی دس سورتوں جیسی دس سورتیں یا قرآن کی خصوصیات کی حامل کوئی ایک آیت بنا کے لے آئیں اور یہ ثابت کردیں کہ اس کلام جیسا کلام ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو انسان اس کی مثال کبھی پیش نہ کرسکتا۔ لیکن قریش اور دیگر اہل عرب آج تک قرآن کریم کا چیلنج قبول نہ کرسکے۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا بہترین کلام ہے جس کی مثال لانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم کی چند صفات کو بیان فرمایا گیا ہے جس کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کا ہر جز دوسرے جز کے ساتھ ہم رنگ اور ہم آہنگ ہے۔ اس کے مضامین ایک دوسرے سے مربوط اور مماثل ہیں۔ جس کی ایک آیت کی تشریح و تصدیق دوسری آیت سے ہوجاتی ہے۔ اس کلام میں تضاد اور تعارض کا نام نہیں۔ پوری کتاب اول سے آخر تک ایک ہی مدعا، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظام فکروعمل کو پیش کرتی ہے۔ دوسری صفت اس کی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ مثانی ہے جو مثنیٰ کی جمع ہے، جس کے معنی مکرر کے ہیں۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ قرآن کریم میں ایک مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لیے بار بار دہرایا جاتا ہے، کیونکہ یہ کتاب ہدایت ہے۔ اور اس کا موضوع انسان کی اصلاح ہے۔ جس طرح انسانی زندگی کا ایک رنگ نہیں، اس میں ہر لحظہ تغیرات کام کرتے ہیں، اس کے افکار میں اتارچڑھائو ہوتا ہے، اس کے اعمال میں کبھی صلابت ہوتی ہے اور کبھی اضمحلال، کبھی اس میں اخلاص ہوتا ہے اور کبھی انجماد، کبھی اس پر فعلیت غلبہ پاتی ہے اور کبھی انفعالیت، کبھی وہ حالت غضب میں غیرمعتدل فیصلے کرتا ہے اور کبھی ہراس اور مایوسی کا شکار ہو کر بےبسی کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایسے انسان کی اصلاح کے لیے جو کتاب نازل ہوگی وہ اصلاح کا کوئی ایک نسخہ تجویز کرکے مطمئن نہیں ہوسکتی، وہ کبھی ایک بات کی نصیحت کو تبدیلی کا ضامن قرار نہیں دے سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مضامین کو دل و دماغ میں راسخ کرنے کے لیے تکرار سے کام لے۔ اور نصیحت کو موثر بنانے کے لیے بار بار اسالیب کو بھی بدلے اور پیرایہ بیان کو بھی، وہ کبھی اجمال سے کام لے اور کبھی تفصیل سے، کبھی وہ ایک بات کو زرودار لہجے میں کہے اور پھر اسی بات کو نہایت نرم اور ملائم لہجے میں کہے۔ ان تمام خصوصیات کو دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ایسی کتاب کو مثانی ہونا چاہیے۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ اس کی تمام سورتیں جوڑے جوڑے ہیں۔ اور مثانی سے اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس بات کو بالکل نظرانداز تو نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کی ہر دو سورتوں کو مثنیٰ قرار دینا حقیقت سے زیادہ سخن سازی ہے۔ قرآن کریم کی تأثیر کے حوالے سے فرمایا گیا ہے : کہ جن کے دلوں میں خدا کی خشیت اور خوف ہے وہ جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو قرآن کریم کی تأثیر کی وجہ سے ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دور نبوت میں تو اس کی مثالیں بکثرت ہیں۔ اور آج بھی جو شخص قرآن کریم کی زبان کو سمجھتا اور اس کے اسلوب کی نزاکتوں کو پہچانتا ہے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن کریم کی تأثیر سے بےنیاز ہوسکے۔ البتہ وہ لوگ جن کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے بالکل بےنیاز ہیں اور وہ پتھر کی طرح سخت ہوچکے ہیں ان پر یقینا قرآن کریم کی تأثیر بھی اثرانداز نہیں ہوتی۔ اقبال نے ٹھیک کہا : پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بےاثر یاد رہے کہ جلود کا لفظ جس طرح رونگٹوں پر بولا جاتا ہے، اسی طرح کھالوں اور پورے جسم پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں جلود کا لفظ دو دفعہ آیا ہے، لیکن پہلی دفعہ رونگٹے کے معنی میں آیا ہے اور پھر کھالوں یا جسم کے معنوں میں آیا ہے۔ چناچہ اس حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی تأثیر سے متأثر ہوتے ہیں اور قرآن کریم ان کے دلوں میں گداز پیدا کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اور ان کے جسم اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعضاء وجوارح اس کے اندرونی احساسات کے تابع ہیں۔ چناچہ جب قرآن کریم کی تأثیر سے اندر کی دنیا میں ایک تبدیلی عمل میں آتی اور ایک ہلچل سے مچتی ہے تو اس کا لازمی اثر انسانی دلوں اور انسانی جسموں پر بھی پڑتا ہے۔ ہم نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جو شخص کسی کی عظمت کا قائل نہیں، وہ اس کے سامنے جھکنا تو درکنار اسے ملنا بھی پسند نہیں کرتا۔ لیکن جب کسی کی عظمت اس کے دل میں اتر جاتی ہے تو اب خودبخود اس سے ملنے کو بھی جی چاہتا ہے اور ملاقات کے دوران آپ سے آپ جسم اس کے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے۔ کفار نے بھی جب تک قرآن کریم کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا تو کبر و غرور کی وجہ سے ان کی گردن تنی رہی ہے۔ لیکن جب قرآن کریم کی تأثیر سے اللہ تعالیٰ کا خوف ان کے دلوں میں اتر گیا تو ان کے اندر خودبخود عاجزی اور فروتنی پیدا ہوگئی اور ان کے جسم اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے گئے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے، یعنی اس کی نازل کردہ ہدایت۔ جو لوگ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سمجھتے ہیں اور اس کو وحی الٰہی سمجھ کر اس کی عظمت کے قائل ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے۔ کیونکہ اس کی سنت یہ ہے کہ جو آدمی اس سے ہدایت کا طلبگار ہوتا ہے اور ہدایت کی شروعات کو اختیار کرکے اس سے توفیق مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت کا راستہ کھول دیتا ہے۔ لیکن جو شخص اس راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور قرآن کریم کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور ہدایت کے حصول کے لیے اس کے اندر کوئی طلب نہیں، تو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے اور گمراہی اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔ کوئی ہدایت دینے والا ہزار کوشش کے باوجود بھی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس میں ایک طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ایسے لوگوں کی طرف سے پریشان نہ ہوں، ان کا ہدایت سے دور رہنا آپ کی کسی کوتاہی کا نتیجہ نہیں، بلکہ انھوں نے اپنے رویئے سے اپنی قسمت پھوڑی ہے، اس لیے آپ ان کے لیے غم نہ کھائیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو قیامت کے روز بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہے، (اور وہ جو اس سے محفوظ ہوگا دونوں یکساں ہوں گے) اور ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ جو تم نے کمائی کی ہے اس کا مزہ چکھو

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَـکْسِبُوْنَ ۔ (الزمر : 24) (کیا وہ شخص جو قیامت کے روز بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہے، (اور وہ جو اس سے محفوظ ہوگا دونوں یکساں ہوں گے) اور ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ جو تم نے کمائی کی ہے اس کا مزہ چکھو۔ ) متکبرین کی بےبسی یہ جملہ بھی استفہامیہ ہے اور اس میں بھی سوال کے ایک حصے کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور دوسرا حصہ چونکہ تھوڑے سے غور و فکر سے سمجھ میں آجاتا ہے، اسے چھوڑ دیا گیا ہے اور ہم نے ترجمے میں اسے واضح کردیا ہے۔ اس آیت میں درحقیقت ان متکبرین کی بےبسی کی تصویر کھینچی گئی ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں نہایت رعونت کا ثبوت دیتے تھے اور جزا و سزا کے دن کو مذاق میں اڑاتے تھے۔ قیامت میں ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوں گے اور جب عذاب کی مار ان پر پڑے گی تو ہاتھوں کے بندھے ہونے کے باعث وہ مجبور ہوں گے کہ اپنے چہروں سے اس عذاب کا دفاع کریں۔ جبکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ ہاتھ اور پائوں سے ہر حملے کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اور حتی الامکان چہرے کو اس سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ان کی بےبسی کا عالم یہ ہوگا کہ ان پر جو کچھ گزرے گی اپنے چہروں کو سامنے کرکے اسے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اور چہروں کو بچانے کی بجائے ان سے ڈھال کا کام لیں گے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ چیخیں گے اور رحم کی درخواست کریں گے لیکن بجائے رحم کھانے کے نہایت بےنیازی سے انھیں جواب دیا جائے گا کہ ظالمو ! جو کچھ تم پر گزر رہی ہے یہ تمہارے اپنے کسب یعنی اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ تم نے قرآن کی تکذیب کی، قیامت کا انکار کیا، اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت پر کان نہ دھرا۔ اس طرح تم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے جو کچھ تم آج دیکھ رہے ہو۔ اس لیے آج تم پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں آج اپنی کمائی کا مزہ چکھنا چاہیے۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، تو ان پر عذاب وہاں سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جاسکتا تھا

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑی چیز ہے، کاش یہ لوگ جانتے

کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتٰـھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَاَذَا قَھُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 25، 26) (ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، تو ان پر عذاب وہاں سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جاسکتا تھا۔ پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑی چیز ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔ ) قریش کو تنبیہ نبی کریم ﷺ جب قریش اور دیگر مخالفین کو دیکھتے کہ وہ کسی طرح بھی راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہیں تو آپ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا تو کسی وقت بھی تم پر عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ بےجھجھک اور بےدریغ آپ کا مذاق اڑاتے اور یہ کہتے کہ ہماری سطوت و عظمت اور ہماری دولت و حشمت کے ذرائع نہایت محفوظ ہیں، ہمیں کسی طرف سے بھی ایسی تباہی کا خطرہ نہیں جو ہمیں تباہ کردے۔ اس لیے ہم اس عذاب کو ایک دھمکی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے، آپ محض اپنی دھونس جمانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ ان سے پہلے بھی جو قومیں گزری ہیں انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو جھٹلایا، ان کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے بھی تیار نہ ہوئے، انھوں نے ہرچند کوشش کی لیکن یہ ان کی تکذیب پر اڑے رہے اور نہایت تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔ حتیٰ کہ جب ہر لحاظ سے اتمامِ حجت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں انھیں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھایا۔ اور وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انھیں سان گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ بھی تمہاری طرح یہی سمجھتے تھے کہ ان پر کسی عذاب کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان کی بستیاں نہایت محفوظ، ان کے لیے حالات نہایت مناسب اور ان کی حکومتیں نہایت مستحکم تھیں۔ لیکن جب ان پر عذاب آیا تو ان کو ایسا تباہ کیا کہ وہ اپنے پیچھے رسوائی کی داستان چھوڑ گئے۔ تمہیں ان کی تباہی اور بربادی سے سبق سیکھنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس صورتحال سے دوچار ہوجاؤ۔ اور پھر آخر میں فرمایا کہ مت سمجھو کہ اس عذاب دنیا کے بعد آخرت کا عذاب نہیں ہوگا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عذاب اس عذاب کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا، وہ عذاب سب سے بڑا اور سب سے عظیم ہے۔ کاش یہ لوگ اس بات کو سمجھتے اور اپنی تباہی سے بچنے کی کوشش کرتے۔
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردیں تاکہ وہ دھیان کریں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ایک عربی قرآن کی صورت میں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں تاکہ وہ برے انجام سے بچیں

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ (الزمر : 27، 28) (ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردیں تاکہ وہ دھیان کریں۔ ایک عربی قرآن کی صورت میں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں تاکہ وہ برے انجام سے بچیں۔ ) قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب ضربِ مثل کا معنی ہے مثال بیان کرنا۔ لیکن اس سے مراد بالعموم حکمت و مؤعظت کی کسی بات کو تمثیل کے انداز میں یا بغیر تمثیل کے بیان کرنا ہے۔ حکمت و مؤعظت تو تمام آسمانی کتابوں کا موضوع رہا ہے۔ البتہ تمثیل کا پیرایہ بھی آسمانی کتابوں میں ہمیں جابجا ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خطبات میں بھی بکثریت اس کا استعمال ہوا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صحیفہ حکمت کا نام ہی امثال ہے۔ تمثیل کے اسلوب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جن باتوں کو عقلی پیمانوں سے بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے انھیں تمثیل کے انداز میں بیان کرنا اور فی الجملہ ایک تأثر دل و دماغ میں بٹھا دینا آسان ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں نے ضرورت کے مطابق اس پیرایہ بیان کو اختیار کیا۔ مقصود چونکہ تمام آسمانی کتابوں کا لوگوں کو توجہ دلانا، یاددہانی کرانا اور نصیحت کرنا رہا ہے اس لیے اس صنف کلام سے کام لیا گیا تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کریم اس صنف کے ساتھ ساتھ بعض دوسری اصنافِ کلام اور اوصافِ کلام سے بھی کام لے کر لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین کو سمجھنے کے لیے آسان کردیتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو عربی ہے تاکہ اہل عرب اس کو بخوبی سمجھ سکیں اور مزید یہ کہ اس زبان میں کوئی ایچ پیچ نہیں، بلکہ نہایت فصیح اور بلیغ زبان ہے اور نہایت سادہ اسلوب میں تمام باتیں بیان کی گئی ہیں جن کا بیان کرنا ضروری تھا۔ قرآن کریم نے بعض مواقع پر مشکل علمی موضوعات کو بھی چھیڑا ہے اور پھر عالم برزخ، عالم آخرت اور عالم غیب کی باتیں بھی کی ہیں۔ لیکن کسی جگہ بھی ایسی زبان استعمال نہیں کی جو اہل زبان کی دسترس میں نہ آسکتی ہو۔ اور پھر لب و لہجہ ایسا دلآویز اور ایسا شیریں ہے کہ ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی اس کی دلآویزی کے سحر سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص زندگی کے معمولات کے بارے میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان کا انداز نہایت سہل اور نہایت دلنشیں ہے۔ پیش نظر صرف یہ ہے کہ لوگ قرآنی دعوت کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس طرح سے اس برے انجام یعنی ہولناک انجام سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں جو انسان کو عالم آخرت میں بہرحال پیش آنے والا ہے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام کی جس کی ملکیت میں کئی مختلف الاغراض، کج خلق آقا شریک ہیں، اور ایک دوسرے غلام کی جو پورے کا پورا ایک آقا کی ملک ہے، کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوگا ! الحمدللہ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلاً فِیْہِ شُرَکَآئُ مُتَشٰکِسُوْنَ وَرَجُلاً سَلَمًا لِّرَجُلٍ ط ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلاً ط اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ج بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 29) (اللہ مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام کی جس کی ملکیت میں کئی مختلف الاغراض، کج خلق آقا شریک ہیں، اور ایک دوسرے غلام کی جو پورے کا پورا ایک آقا کی ملک ہے، کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوگا ! الحمدللہ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ) مُتَشٰکِسُوْنَ ، اس کا مصدر تَشَاکُسْ ہے۔ اس کا معنی تخالف ہے۔ شُرَکَآئُ مُتَشٰکِسُوْنَ ، ایسے شرکاء کو کہتے ہیں جو مختلف الاغراض ہوں، کج خلق ہوں، باہمی چشمک اور رقابت رکھتے ہوں۔ اور رَجُلٌ سے مراد غلام ہے۔ توحید اور شرک کے نتائج کی تمثیل اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی حقیقت اور اس کے نتائج کو ایک تمثیل سے واضح فرمایا ہے۔ اور نہایت مختصر لفظوں میں ایک بڑے وسیع مضمون کو سمیٹ دیا گیا ہے۔ مشرک کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک ایسا غلام ہے جو بیک وقت کئی آقائوں کی غلامی کا اسیر ہے۔ یعنی اس کی غلامی اور ملک میں کئی آقا شریک ہیں۔ اور یہ آقا ایسے ہیں جو اس غلام سے مختلف اغراض رکھتے ہیں۔ کوئی اس سے ذاتی خدمت چاہتا ہے، کوئی اسے گھر کی ذمہ داریاں سونپنا چاہتا ہے اور کوئی اسے اپنی تجارت پر لگانا چاہتا ہے، کوئی اس سے اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرانے کی فکر میں ہے، کسی نے اس کے لیے مزدوری کا پیشہ طے کر رکھا ہے اور مزید لطف یہ ہے کہ یہ تمام آقا ایسے کج خلق اور ایسے بدمزاج ہیں کہ وہ غلام سے کام لینے میں مل بیٹھ کر کوئی ایک ٹائم ٹیبل بنانے پر تیار نہیں۔ اور نہ ان میں سے کسی کو یہ گوارا ہے کہ جب وہ غلام سے خدمت لے رہا ہو تو کوئی دوسرا آقا اسے اپنی خدمت کے لیے بلائے۔ اب آپ اندازہ کریں کہ یہ شخص جو مختلف آقائوں کی غلامی میں ہے اس کی زندگی کس قدر اذیت کی زندگی ہوگی۔ اور اس کی جان کس عذاب میں پھنسی ہوئی ہوگی۔ وہ تمنا کرے گا کہ کاش مجھے موت آجائے اور ان ظالموں سے میری جان چھوٹے۔ دوسری مثال ایک توحید پرست اور موحد کی مثال ہے۔ یہ ایک ایسا غلام ہے جس کا صرف ایک آقا ہے۔ وہ ایک آقا کی غلامی کا اسیر ہے، کوئی دوسرا اس کا آقا نہیں۔ وہ اگر ایک آقا کی خدمت کرکے اسے خوش کرلیتا ہے تو اس کی زندگی میں پریشانی پیدا کرنے والی اور کوئی چیز نہیں۔ اس کا آستانہ صرف آقا کا آستانہ ہے، اس کی چوکھٹ صرف آقا کی چوکھٹ ہے، اسے صرف ایک آقا کی خدمت کی فکر ہے، صرف ایک آقا کی رضا کا حصول اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ غلام، غلامی کی تہمت کے بغیر اور کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ تو کیا یہ دونوں غلام اپنی حالت کے اعتبار سے یکساں ہوں گے، کیا دونوں ایک طرح کے احساسات کے حامل ہوں گے، کیا دونوں ایک ہی طرح زندگی سے محظوظ ہورہے ہوں گے، یقینا ایسا نہیں، دونوں کی حالت میں باہمی کوئی نسبت نہیں۔ بالکل یہی حال ایک موحد اور مشرک کا ہے۔ موحد صرف ایک اللہ کی غلامی کا قلادہ گلے میں ڈالتا ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے استمداد اور دعا کے لیے اس کا ہاتھ پھیلتا ہے، اس کی زندگی کا صرف یہی ایک سہارا ہے، اس کے سوا وہ ہر سہارے سے انکار کرچکا ہے، اس آستانے پر جھک کر وہ ہر آستانے سے بےنیاز ہوچکا ہے۔ کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہ اسے جھکا سکتی ہے اور نہ بڑے سے بڑا لالچ اسے بہکا سکتا ہے۔ دوسری مثال مشرک کی ہے جس نے مختلف قوتوں کو اپنا آقا بنا رکھا ہے۔ کسی کے سامنے سر جھکاتا ہے، کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے، کسی سے اولاد مانگتا ہے، کسی سے رزق کا طالب ہوتا ہے، کبھی کسی دیوتا کے سامنے اپنی بندگی کا سرمایہ ڈھیر کرتا ہے اور کبھی کسی دیوی کو پوجتا ہے۔ اور جدید دنیا میں کسی کے سامنے وہ عبادت کے لیے جھکتا ہے اور کسی اور کے سامنے قانون سازی کے لیے، کسی دروازے سے تہذیب مانگتا ہے تو کسی دروازے پر تمدن کے لیے کشکول لیے کھڑا ہے، کہیں سے وہ معیشت کے اصول سیکھتا ہے اور کہیں سے وہ سیاست کے آداب کی تعلیم حاصل کرتا ہے، کسی کی عظمت کے سامنے اس لیے جھکتا ہے کہ اس کا اقتدار اس کے قبضے میں ہے اور کسی کو اس لیے خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ معیشت کا سررشتہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اتنے مختلف الاغراض آقا ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے مخلص نہیں۔ ہر ایک اسے اپنی خدمت اور اپنی چاکری کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ یہ اپنے آقائوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن کے رہ جاتا ہے۔ کھلونا ٹوٹتے بھی دیر لگتی ہے اس کی شکست و ریخت میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ اس کے زیرتصرف وسائل ان کی نازبرداری کے لیے صرف ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام چاکریوں اور خدمتوں کے باوجود سارے آقا کبھی اس سے خوش نہیں ہوتے۔ وہ کبھی اسے معاشی سزا دیتے ہیں اور کبھی سیاسی، کبھی قانون کی چوٹ لگاتے ہیں تو کبھی مذہب کا وار کرتے ہیں۔ غور کیجیے کیا یہ دونوں طرح کے غلام اپنی حالت میں یکساں ہوسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ فطرتِ سلیمہ اور عقل سلیم کا ایک ہی جواب ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں یکساں نہیں ہیں۔ لیکن جب یہ سوال آنحضرت ﷺ نے مشرکین کے سامنے رکھا تو ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ صحیح جواب دے کر اپنی غلطی کو تسلیم کریں، اس لیے انھوں نے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی۔ تو قرآن نے خود اس کا جواب دیا۔ الحمدللہ، یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دنوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو۔ اور تم میں سے کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں رکھتا کہ ایک آقا کی بندگی سے بہت سے آقائوں کی بندگی بہتر ہے۔ یا دونوں یکساں ہیں۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہ صحیح ہے کہ ایک آقا کی غلامی بہت سے آقائوں سے بہتر ہے۔ لیکن کیا غلامی بجائے خود انسان کے لیے بہت بڑا عیب نہیں ؟ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی غلامی بھی کیوں قبول کی جائے۔ انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے، تو کیا اسے اللہ تعالیٰ کی غلامی سے آزاد نہیں رکھا جاسکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غلامی انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ اس کے اندر جو افتقار اور امتیاج ہے اللہ تعالیٰ کی غلامی کے سوا اس کا کوئی حل نہیں۔ انسان اپنی تخلیق، اپنی ربوبیت، زندگی کے امکانات، زندگی کی احتیاجات اپنے مائوف لمحوں میں کسی کی یاد جیسی بہت سی احتیاجات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کہیں سے پوری نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح زندگی کا صحیح نصب العین، صحیح طرزعمل، صحیح طرزفکر اور منزل کا صحیح تعین، اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا صحیح علم اور آخرت کی تفصیلات اور اس کے لیے تیاری اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے سوا کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ یہ وہ بنیادی احتیاجات ہیں جس نے اللہ تعالیٰ کی غلامی کو انسان کی فطرت اور اس کے باطن کی پکار بنادیا ہے۔ اور یہ ایک ایسی غلامی ہے جس کے قبول کرلینے کے بعد ہر طرح کی غلامیوں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات آخر میں فرمایا کہ اکثر لوگ اس سامنے کی حقیقت کو نہیں جانتے، کیونکہ ان کی فطرت بگڑ چکی، ان کا باطن مکدر ہوگیا اور ان کی عقل خواہشاتِ نفس کی پیروی نے مسموم کردی ہے۔