Ayah 39:74وَقَالُوا الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ فَنِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ (الزمر : 74)
(اور اہل جنت کہیں گے، شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، بس کیا ہی خوب صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ )
اہلِ جنت کا اظہارتشکر
اہلِ جنت جب دیکھیں گے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ جنت اور اس کی نعمتوں کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے سب پورے کردیئے۔ اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے ایفاء نہ ہونے کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن انسانوں کا کوئی عمل ایسا نہیں جو بتمام و کمال ناتمامی اور کمزوری سے پاک ہو۔ اس لیے اس بات کا ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے ہمارے ایمان و عمل اور اخلاص وتقویٰ کے حوالے سے کیے ہیں وہ ہماری کمزوریوں کے باعث شاید پورے نہ کیے جاسکیں۔ اور ممکن ہے کہ اشارہ اس بات کی طرف بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کسی وعدے کو پورا کرنا محض اس کا فضل و کرم ہے وہ کسی بات کا پابند نہیں۔ لیکن اہل جنت جب جنت کی بیشمار نعمتوں کو دائیں بائیں فراوانی سے دیکھیں گے تو بےساختہ ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے کلمات جاری ہوجائیں گے۔ اور یہ دیکھ کر تو ان کی خوشیوں کی انتہا نہیں رہے گی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے صرف جنت میں ٹھہرنے کا اعزاز نہیں بخشا بلکہ اسے ہماری وراثت بنادیا ہے۔ اب ہم جہاں چاہیں رہیں، آئیں جائیں، فروکش ہوں، کوئی راستے میں حائل ہونے والا نہیں۔ آخر میں نہایت خفیف انداز میں ایک بڑی اہم بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ کیا ہی خوب صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے وہ ہر شخص کے عمل کا نتیجہ ہے اور یہ عمل ہی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو دعوت دی ہے۔ نہ اس میں کسی کی سفارش کام آئی ہے اور نہ کسی نسبت نے اپنا کام دکھایا ہے۔ تو جو لوگ فرضی سفارشوں پر بھروسہ کرکے بیٹھے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنت عمل کرنے والوں کی جگہ ہے سفارشیں ڈھونڈنے والوں کی نہیں۔
Ayah 39:75وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِرَبِّہِمْ ج وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الزمر : 75)
(اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش الٰہی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہیں، اپنے رب کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ کرتے ہوئے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب خوبی اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ )
حاملینِ عرش کا حال
جب جزاء و سزا کا عمل جاری ہوگا، اصحابِ ایمان و عمل اور اصحابِ تقویٰ کو جنت میں پہنچا دیا جائے گا اور اہل کفر کو جہنم کی نذر کیا جارہا ہوگا تو تم فرشتوں کو دیکھو گے جو ڈرے سہمے ہوئے، لرزاں و ترساں عرش الٰہی کے گرد حلقہ بنائے کھڑے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہوں گے۔ اور یہ وہ فرشتے ہیں جنھیں حاملینِ عرش کہا جاتا ہے۔ جو بعض روایات کے مطابق اس وقت بھی زندہ رکھے جائیں گے جب نفخہِ اولیٰمیں سب مخلوق موت کی نیند سو جائے گی۔ لیکن قیامت کی ہولناکی سے متأثر ہو کر انھیں اس بات کا ہوش نہ ہوگا کہ وہ آگے بڑھ کر کسی کی سفارش کرسکیں۔ رہے عام فرشتے جو ان کے مقابلے میں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہیں ان کے بارے میں مشرکینِ عرب کا یہ خیال کہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انھیں بچا لیں گے اس کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے۔ اس وقت تو ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی وہ دوسرے کسی کے کیا کام آئے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ قیامت میں تمام لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک انصاف اور حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ جو جس صلے اور معاوضے کا اہل ہوگا اسے دے دیا جائے گا۔ نہ اہل جنت کے مراتب میں کمی کی جائے گی اور نہ اہل جہنم پر ظلم ہوگا۔ یہ سب کچھ انصاف اور عدل کے مطابق ہوگا، کسی کی مداخلت اور سفارش کام نہیں آئے گی اور نہ کوئی مداخلت کی جرأ ت کرسکے گا۔ جب ہر طرف انصاف اور عدل کا پھریرا لہرائے گا اور ہر طرف عدل کی روشنی پھیلے گی اور ہر کوئی بچشمِ سر اللہ تعالیٰ کے انصاف کو بروئے کار آتا دیکھے گا تو پکار اٹھے گا کہ ہر طرح کی تعریف اور شکر کا سزاوار وہ اللہ ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس لیے کہ جو چیز ہمیشہ مشکل رہی ہے اور اس کا اشکال انسان کے دل و دماغ کا حصہ بن چکا ہے وہ مکمل طور پر عدل کا نافذ ہونا ہے اور نیک و بد کے فرق و امتیاز کا قائم ہونا ہے۔ جب قیامت کے دن پوری طرح اس عدل کا ظہور ہوگا اور ہر طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت چھا رہی ہوگی تو یقینا میدانِ حشر کے ہر گوشے سے اللہ تعالیٰ کی حمد کا ترانہ بلند ہوگا۔