39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsروح القرآن

Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

اے پیغمبر ! بیشک آپ بھی مرنے والے ہیں اور یقینا وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے

اِنَّـکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّـکُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ۔ (الزمر : 30، 31) (اے پیغمبر ! بیشک آپ بھی مرنے والے ہیں اور یقینا وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔ ) مَیِّتٌ ” یا “ کی تشدید کے ساتھ، اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور مَیْت ” یا “ کے سکون کے ساتھ اس کو کہتے ہیں جو مرچکا ہو۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے اور مخالفین کے لیے تہدید اور تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ جس طرح نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں توحید کی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہیں اس سے کسی بھی صاحب فہم آدمی کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ان کج فہموں کا حال یہ ہے کہ یہ اسے قبول کرنے کی بجائے آپ کی دعوت کے مقابلے اور اذیت رسانی کے عمل میں اور تیز ہوگئے اور اس اٹھتی ہوئی صداقت کو دبانے کے لیے ہر طریقہ آزمانے پر تل گئے۔ لیکن آپ اس سے پریشان نہ ہوں۔ نہ آپ کو اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور نہ یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ ایک نہ ایک دن آپ بھی موت سے دوچار ہوں گے اور یہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ کیونکہ موت سے کسی کو رستگاری نہیں، جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن جانا بھی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا اٹل قانون ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر بھی بےنیاز نہیں۔ امیر مینائی نے ٹھیک کہا : جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا جب احمد مرسل ﷺ نہ رہے کون رہے گا آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری ہوگی تو یہ جو آج توحید اور شرک کی بحث چل رہی ہے اور آپ جن صداقتوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کے حوالے سے ان کے سامنے پیش کررہے ہیں اور یہ ہر ممکن طریقے سے ان کو دبانے کے لیے کوشاں ہیں یہ سارے معاملات آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے اور وہاں سے اس کا فیصلہ صادر ہوگا۔ اس روز سرخرو وہی ہوگا جو حق پر قائم رہا۔ حضرت ابن عباس ( رض) نے الفاظ کو حالت جمع میں دیکھ کر یہ گمان فرمایا ہے کہ یہاں مقدمات و نزاعات خاص نہیں بلکہ تمام مراد ہیں جو لوگ اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے۔ لیکن سیاق کلام سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ جو بحث توحید اور شرک کے حوالے سے چل رہی تھی اور یہی آنحضرت ﷺ کی دعوت کا اصل موضوع تھا اسی کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائیں گے کہ کون حق پر تھا اور کون حق کے راستے میں روڑے اٹکا رہا تھا۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جھٹلا دیا، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآئَ ہٗ ط اَلَـیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الزمر : 32) (تو اس سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جھٹلا دیا، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا۔ ) اللہ تعالیٰ کی عدالت کا فیصلہ توحید اور شرک پر مشتمل یہ مقدمہ جو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اس کا جو فیصلہ ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس کی پیشگی اطلاع دے دی ہے۔ اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون شخص ہوگا کہ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ یعنی اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کوئی دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں۔ اور جب اس سے اس کا ثبوت مانگا گیا تو اس نے یہ دعویٰ کرنے کی جسارت کی کہ ہمارے آبائواجداد کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت بخشی تھی اور انھوں نے جو مشرکانہ عقیدے اختیار کیے تھے وہ ان کے اپنے اختراع کردہ نہ تھے بلکہ ان کے آبائواجداد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا اتہام اور ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی اور کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ اور مزید ظلم انھوں نے یہ کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آئے اور ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے توحید کا صحیح علم نازل فرمایا اور وہ سچائی ظاہر فرمائی جسے یہ لوگ بھول چکے تھے۔ تو بجائے اس سچائی کو قبول کرنے کے انھوں نے اس کی تکذیب کردی۔ یعنی صاف صاف یہ کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے اس سچائی کی انھیں خبر دی بلکہ آپ نے مسلسل دلائل کے ساتھ اس طرح اسے مستحکم کیا اور مبرہن فرمایا کہ وہ سچائی کھل کر ان کے سامنے آگئی۔ بالکل اس طرح جیسے ایک مجسم چیز سامنے آکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ اسی فیصلے میں یہ بھی بات واضح فرما دی گئی کہ جو ایسے کٹڑ کافر ہوں کہ نہ وہ معقولیت کو تسلیم کریں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول جیسے صاحب کردار شخص کی خبر کو سچا سمجھیں۔ تو کیا ایسے لوگوں کو ٹھکانہ جہنم کے سوا کہیں اور بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ یقینا جہنم ہی کا ایندھن بننے کے لائق ہیں۔ اس لیے پروردگار ان کو جہنم ہی میں جھونک دے گا۔
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں

وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ (الزمر : 33) ( اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ ) جو مقدمہ اللہ تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن پیش ہوگا اس کے دو فریق ہوں گے، ایک تو وہ کافر جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بھی تکذیب کی۔ اس فریق کے بارے میں فیصلہ اوپر کی آیت میں سنا دیا گیا اور ان کے انجام کی بھی خبر دے دی گئی۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں دوسرے فریق کے بارے میں فیصلہ سنایا جارہا ہے۔ اس فریق میں ایک تو نبی کریم ﷺ ہیں اور دوسرے آپ کے فرمانبردار اور متبع لوگ ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں اور یہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ رہے ان کے بلند مقامات اور درجات، اس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ذکر آپ کے نام سے نہیں بلکہ یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول جو سچائی لے کر آئے۔ صدق اور سچائی سے مراد قرآن کریم ہے۔ نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل کیا گیا اور آپ اس عظیم نعمت اور امانت کو لے کر لوگوں کے پاس تشریف لائے۔ کس شان سے آئے، کس طرح لوگوں کے سامنے اسے پیش کیا، اس کی آپ نے کیا قیمت ادا کی، آپ نے اس تبلیغ و دعوت کے حوالے سے کیا کیا دکھ اٹھائے اور آپ نے کیسی کیسی استقامت کی مثالیں قائم کیں اور کس طرح مخالفین کی اذیتوں کے مقابلے میں ہمدردی اور غمگساری کی بینظیر روایات قائم کیں۔ یہ تمام تفصیلات اور تمام دل کو ہلا دینے والے تجربات ان دو لفظوں میں شامل ہیں۔ اور پھر آپ کے فرماں بردار اور جاں نثار امتیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس سچائی کی تصدیق کی۔ یعنی جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کے ایک ایک لفظ کے شاہد بنے۔ قولی گواہی بھی دی اور عملی شہادت بھی قائم کی۔ نبی کریم ﷺ کے نقوش قدم کی پیروی کو انھوں نے زندگی کا معمول بنایا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس بات کی خبر دی انھوں نے یقین کامل کے ساتھ اسے اپنے دل میں اتار لیا۔ اس راستے میں آنے والی مشکلات کو اپنے لیے آخرت کا سرمایہ سمجھا اور آپ کی ہر بات کی تصدیق زبان سے بھی کی اور عمل سے بھی۔ اور مسلسل قربانیاں دے کر اس تصدیق کو زندہ جاوید بنادیا۔ اس فیصلے میں یہ بات واضح کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کے دو ہی معیار ہیں۔ ایک ہے قرآن کریم جیسی سچائی کو اس طرح لوگوں کے سامنے پیش کرنا جیسے آنحضرت ﷺ نے کیا۔ اور دوسرا معیار ہے کہ اس سچائی کی تصدیق کی جائے۔ چناچہ اس کا سب سے اعلیٰ نمونہ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کی ذات گرامی ہے۔ آپ ( رض) سب سے پہلے ایمان لائے، آنحضرت ﷺ کی حفاظت میں سب سے پہلے مار کھائی، اپنی چار نسلیں اسلام کی آغوش میں دے دیں، اپنا سارا کاروبار اسلام پر قربان کردیا، اپنا تمام مال و دولت اسلام پر خرچ کر ڈالا، وہ کمزور غلام جو اسلام لانے کی پاداش میں بری طرح اذیتوں کا شکار تھے انھیں خریدا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں آزاد کردیا، تبلیغ و دعوت میں آنحضرت ﷺ کے رفیق رہے، کوئی قابل ذکر موقع ایسا نہیں جب آپ ( رض) نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ غارثور کی تنہائیوں میں بھی آپ حضور ﷺ کے رفیق تھے، ہجرت میں آپ ﷺ کے ہمسفر رہے، ہجرت کے بعد بھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب کسی اور نے آپ کی رفاقت کا آپ سے بڑھ کر حق ادا کیا ہو۔ حتیٰ کہ مرض الوفات میں آپ نے آنحضرت ﷺ کے حکم سے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور آپ کی وفات حسرت آیات کے بعد آپ ﷺ کے خلیفہ بنے اور سوا دو سال بعد ہی آپ ﷺ کی محبت میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے اور قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کے پہلو میں آرام کررہے ہیں۔ اقبال نے نہایت سادہ سے شعر میں آپ ( رض) کی زندگی کی ایسی تصویر کھینچ دی ہے کہ جس سے بہتر تصویر ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس آج بھی حق و باطل کی کشمکش میں مسلمانوں کے لیے یہی دونوں مقامات ہیں جو ان کے ایمان و اسلام کی گواہی دے سکتے ہیں کہ ہر مومن کو یا تو اسلام کا علم بردار ہونا چاہیے اور یا کسی علم بردار کا اسے سپورٹر ہونا چاہیے۔ یعنی یا وہ آگے بڑھ کر اسلام کا جھنڈا اٹھائے اور یا وہ جھنڈا اٹھانے والے کا ساتھ دے۔ یعنی یا خود جہاد کے لیے نکلے اور یا جہاد کرنے والوں کی ہر ممکن مدد کرے۔ اس کے سوا تیسرا کوئی مقام نہیں جو حق و باطل کی کشمکش میں ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی بازپرس سے بچا سکتا ہو۔
Ayahs 39:34–35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہ ہے بہترین نیکی کرنے والوں کی جزا

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ مٹا دے ان سے ان کے بدترین اعمال کو جو انھوں نے کیے تھے، اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر عطا فرمائے

لَہُمْ مَّا یَشَّآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ ۔ لِیُکَفِّرَاللّٰہُ عَنْھُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الزمر : 34، 35) (ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہ ہے بہترین نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ اللہ مٹا دے ان سے ان کے بدترین اعمال کو جو انھوں نے کیے تھے، اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر عطا فرمائے۔ ) قرآن کی علمبرداری کرنے والوں کے لیے حیران کن انعامات جنھوں نے قرآن اور اسلام کی علمبرداری کی اور جن لوگوں نے ان کی تصدیق کی اور انھیں سپورٹ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو وہ سب کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ یہ ایک ایسی حیران کن بات ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ممکن ہے، کسی اور کے لیے نہیں۔ کیونکہ بیشمار خواہشیں انسان کی ایسی ہیں جنھیں پورا کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اس پر بڑھاپا کبھی نہ آئے، کبھی اسے کوئی گزند نہ پہنچے، وہ کبھی ناکامی کا منہ نہ دیکھے۔ لیکن یہ انسان کی استطاعت سے ماورا چیز ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے : ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے لیکن یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں کہ ان کی بڑی سے بڑی چاہت اور بڑی سے بڑی خواہش فوراً پوری کردی جائے گی۔ اور مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر خواہش کا پورا ہونا صرف جنت ہی میں نہیں ہوگا بلکہ یہاں عِنْدَ رَبِّہِمْ کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی ایک مومن کی روح قفس عنصری سے پرواز کرے گی، وہ اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گی۔ چناچہ اسی وقت سے لے کر دخول جنت تک ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی یہ عنایات اسے حاصل رہیں گی۔ وہ عذاب دوزخ سے روزقیامت کی سختیوں سے، حساب کی سخت گیری سے، میدانِ حشر کی رسوائی سے، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا چاہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ایک مومن نے ایمان لانے کے بعد جس طرح زمانہ جاہلیت کے ہر داغ کو مٹایا اور اپنی زندگی کو کفر کے ہر دھبے سے پاک کردیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کو یہ صلہ عطا فرمائے گا کہ دورجاہلیت میں اس سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں اور بڑے بڑے گناہ صادر ہوئے وہ اس کے حساب سے محو کردے گا۔ اور جنت میں اس کو جو انعامات دیئے جائیں گے وہ ان اعمال کے لحاظ سے ہوں گے جو اس کے نامہ عمل میں سب سے بہتر ہوں گے۔
Ayahs 39:36–37

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ آپ کو اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ط وَیُخَوِّفُوْنَـکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ وَمَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّضِلٍّ ط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ ۔ (الزمر : 36، 37) (اے پیغمبر ! کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ آپ کو اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور جس کو اللہ ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں۔ ) قریش کی ایک فطری گمراہی کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی قریش کی ایک فکری گمراہی کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے۔ وہ گمراہی یہ تھی کہ ان کے گمان میں جو شخص بھی ان کے اصنام و آلہہ کی مخالفت کرتا ہے اور ان سے استمداد اور پرستش کے حوالے سے ان کی کمزوری اور بےبسی کو نمایاں کرتا ہے وہ یقینا ان معبودانِ باطلہ کے قہر و غضب سے محفوظ نہیں رہ سکتا وہ اسے کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اب اسی فکری گمراہی کے حوالے سے وہ آنحضرت ﷺ کو بھی بار بار ڈرانے کی کوشش کرتے کہ تم جو ہمارے معبودانِ باطلہ پر تنقید کرتے رہتے ہو ہمیں ڈر ہے کہ تم کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس یا وہ گوئی پر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ تو اس عظیم ذات کے بندے اور پرستش کرنے والے ہیں جو ساری کائنات کی خالق ومالک ہے اور اس نے آپ کو اپنا رسول اور نمائندہ بنا کے بھیجا ہے۔ ان لوگوں کی گمراہی کا کیا کہنا کہ یہ اپنے مصنوعی اور بےاختیار معبودانِ باطلہ سے آپ کو ڈراتے ہیں جبکہ آپ کی حفاظت اور نگہداشت کی ذمہ داری اس خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے جس کی مرضی اور علم کے بغیر جنگل میں کوئی پتہ تک نہیں گرتا، اور کوئی چھوٹی بڑی قوت اس کی اجازت کے بغیر نہ وجود میں آتی ہے اور نہ حرکت کرسکتی ہے۔ لیکن ان کی فکری کج روی گمراہی کی اس انتہا تک پہنچی ہوئی ہے کہ وہ اپنے ان بےبس معبودانِ باطلہ کی نام نہاد قوتوں پر تو یقین رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر انھیں یقین نہیں۔ جس شخص کی گمراہی اس انتہا کو پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے سماع قبول سے ہی محروم نہیں کیا بلکہ حقیقت شناسی کی ہر قدر سے محروم کردیا ہے۔ اور وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے قانونِ ضلالت کی گرفت میں آچکا ہے۔ ایسے شخص کو کوئی ہدایت دینے والا بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازتا ہے تو جس طرح گزشتہ آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اس کے دل کی تنگی انشراح میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کو اس طرح مانتا اور یقین رکھتا ہے کہ گویا وہ بچشم سر اسے دیکھ رہا ہے۔ ایسے شخص کو کوئی ہزار کوشش کرے کہ گمراہی کے راستے پر ڈال دے، کبھی ممکن نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں ہیں جو ہدایت و ضلالت کے معاملے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عزیز ہے اور وہ ہر معاملے میں اپنے بندوں کی حفاظت و کفالت کرتا ہے اور کوئی طاقت اسے اس سے روک نہیں سکتی کیونکہ اس کے عزیز ہونے کا یہی تقاضا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ ذی انتقام بھی ہے کہ جب مخالفت کرنے والوں کی مخالفت حدود سے گزر جاتی ہے اور اس کے بندوں پر تعدی کرنے والے حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں تو پھر وہ اس کے انتقام کا نشانہ بنتے ہیں۔ قریش بھی اس ضابطے سے باہر نہیں۔ اگر انھوں نے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش نہ کی تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ہدف بنے بغیر نہیں رہیں گے۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے اللہ نے، آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ چیزیں جن کو تم پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یہ کیا مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی یا اللہ مجھ پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کیا یہ اس کے فضل کو روکنے والی ہوسکتی ہیں، کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ھَلْ ھُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ھَلْ ھُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ ط قُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ط عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (الزمر : 38) (اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے اللہ نے، آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ چیزیں جن کو تم پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یہ کیا مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی یا اللہ مجھ پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کیا یہ اس کے فضل کو روکنے والی ہوسکتی ہیں، کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ) مشرکین کا تضاد فکر قریش کے خیالات و اعتقادات پر تنقید جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ عجیب فکری تضاد کا شکار ہیں اور مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ انھیں اس کا احساس بھی نہیں۔ ایک طرف تو ان کا حال یہ ہے کہ اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو جواب دیں گے کہ اللہ ہے۔ لیکن دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے چند مخلوقات کو اس کا شریک بنائے بیٹھے ہیں اور انھیں کے غضب سے آپ کو بھی ڈرا رہے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق تو ہے لیکن وہ اس میں متصرف نہیں۔ وہ کائنات کی تخلیق کے بعد اس کے کسی گوشے میں آرام کررہا ہے اور کائنات کے تمام تصرفات چند مخلوقات کے حوالے کردیئے ہیں حالانکہ قریش بھی کھلے طریقے سے اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انھیں اس بات سے انکار نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق دیتا ہے، زندگی اور موت کا وہی مالک ہے، خیر و شر اسی کے قبضے میں ہیں۔ باایں ہمہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے شرکاء پر اصرار بھی ہے۔ چناچہ انھیں کے مسلمات میں سے ایک چھوٹی سی بات کے حوالے سے ان سے براہ راست سوال کیا جارہا ہے کہ اے پیغمبر آپ ان سے پوچھئے کہ جن چیزوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنا معبود بنا رکھا ہے کیا وہ اس قابل ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ مجھے بچا لیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے کسی فضل سے نوازنا چاہے تو یہ اس کا ہاتھ پکڑ لیں۔ یقینا تمہارے خیال میں بھی وہ ایسا نہیں کرسکتیں۔ تو پھر تم ہی بتائو کہ آخر تمہارے اس شرک کا جواز کیا ہے اور تم اپنی زندگی میں اس کی کہاں ضرورت محسوس کرتے ہو۔ اور پھر ان کی ہٹ دھرمی اور ضد کو دیکھتے ہوئے پروردگار نے آنحضرت ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ آپ انھیں چھوڑ دیجیے بلکہ آپ صاف صاف ان سے اظہارِ براءت کرتے ہوئے ان سے کہئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، مجھے اس کے سوا کسی کا خوف نہیں، میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے ہمیشہ اسی پر بھروسہ کرتے رہے ہیں کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر بھروسہ کیا اس نے ہمیشہ اپنی قسمت کھوٹی کی، اور اس نے اپنا گھروندا ریت پر تعمیر کیا۔ آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد جسے ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ( رض) سے نقل کیا ہے اس مضمون کو مزید کھول دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من احب ان یکون اقوی الناس فلیتوکل علی اللہ ومن احب ان یکون اغنی الناس فلیکن بما فی یداللہ عزوجل اوثق منہ بما فی یدیہ، ومن احب ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ عزوجل۔ ” جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے، جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے، بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ عزوجل سے ڈرے۔ “
Ayahs 39:39–40

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دیجیے ! کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو اور میں اپنا کام کرتا رہوں، عنقریب تم جان لو گے

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردیتا ہے، اور کس پر وہ عذاب آتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہے

قُلْ یٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔ (الزمر : 39، 40) (کہہ دیجیے ! کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو اور میں اپنا کام کرتا رہوں، عنقریب تم جان لو گے۔ کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردیتا ہے، اور کس پر وہ عذاب آتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین سے براءت کا اعلان ان آیات کے لب و لہجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہیں جب نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ قریش اور دیگر اہل مکہ کی آویزش اور مخالفت انتہائی عروج پر تھی۔ آنحضرت ﷺ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے تبلیغ و دعوت میں اپنا پورا زور صرف کررہے تھے اور قریش اس دعوت کے اثرونفوذ کو روکنے کے لیے بد سے بدتر طریقہ استعمال کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ ان کی اس ضد اور ہٹ دھرمی پر ازبس پریشان اور دل گرفتہ تھے۔ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اظہارِ براءت کا حکم دیا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہماری مخالفت میں جو کچھ بھی کرنا چاہو کر گزرو، لیکن میں تمہاری ہمدردی اور خیرخواہی کی وجہ سے تبلیغ و دعوت سے رکنے والا نہیں۔ سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا کیے جاؤ میخوارو کام اپنا اپنا لیکن وہ وقت دور نہیں جب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عذاب کس پر نازل ہوتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور یا وہ عذاب کس پر نازل ہوتا ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں ہوتا، بلکہ جس قوم پر نازل ہوتا ہے اسے جڑپیڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو جھٹلانے کے نتیجے میں قوموں پر دو طرح کے عذاب آتے ہیں۔ ایک وہ عذاب ہوتا ہے جو آزمائش بن کر آتا ہے جس سے مقصود مخالفین کو تنبیہ کرنا اور حق کی قبولیت کے لیے آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے عذاب ایک سے زیادہ مرتبہ بھی آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سعید روحیں حق کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔ اور جن کی قسمت میں خیر سے محرومی لکھی ہوتی ہے وہ بار بار توجہ دلانے پر بھی حق کو قبول کرنے پر مائل نہیں ہوتے۔ ایک وقت آتا ہے جب اہل حق سرافراز ہوتے ہیں اور مخالفت پر جمے رہنے والے شکست اور ناکامی کی ذلت کا شکار ہو کر ہمیشہ کی موت مرجاتے ہیں۔ دوسرا عذاب وہ ہے جو اس قوم پر نازل ہوتا ہے جس میں قبولیتِ حق کے سوتے بالکل خشک ہوجاتے ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب پر رکے رہنے کی بجائے رسول کے قتل کے درپے ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب نازل کرتا ہے جس سے ان کی زندگی کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے اور وہ تاریخ میں ایک داستان بن کر رہ جاتے ہیں۔ قریش کو ان دونوں عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے باوجود مکہ میں قبولیتِ ایمان کا سلسلہ رکا نہیں، بلکہ یہ آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی۔ اس طرح سے یہ قوم اس ختم کردینے والے عذاب سے بچ گئی۔ لیکن جہاں تک اس عذاب کا تعلق ہے جو رسوا کرتا ہے تو جنگ بدر اس عذاب کی پہلی قسط تھی جس نے اہل مکہ کی نخوت اور غرور کو خاک میں ملا دیا۔ ان کی قیادت کی پہلی صف تہ تیغ ہوگئی اور دوسری صف اسارت کی ذلت کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوگئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سرافراز کیا جنھیں اشرافِ قریش مذاق اور تمسخر کا ہدف بنایا کرتے تھے۔
Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ہم نے سب لوگوں کی ہدایت کے لیے آپ پر کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے، اب جو ہدایت حاصل کرے گا اپنے لیے کرے گا، اور جو گمراہ ہوگا اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیے گئے ہو

اِنَّـآ اَنْزَلْـنَا عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ج فَمَنِ اھْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا ج وَمَـآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الزمر : 41) (اے پیغمبر ! ہم نے سب لوگوں کی ہدایت کے لیے آپ پر کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے، اب جو ہدایت حاصل کرے گا اپنے لیے کرے گا، اور جو گمراہ ہوگا اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیے گئے ہو۔ ) رسول پر ذمہ داری صرف اتمامِ حجت کی ہے اللہ تعالیٰ کے رسول کے دل میں انسانوں کے لیے جو غایت درجہ ہمدردی اور محبت ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہدایت کو قبول نہ کرنے والوں کے سلسلے میں انتہائی پریشان رہتا ہے۔ گزشتہ آیت میں اظہارِبراءت کے باوجود آنحضرت ﷺ اس احساس کی گرفت سے نکل نہیں سکے تھے۔ اس لیے پروردگار نے مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپ پر جو کتاب نازل کی اور رسالت کی ذمہ داری سے آپ کو گراں بار کیا۔ اس کا مقصد صرف تھا کہ اس کتاب کے ذریعے حق و باطل کو بالکل ممیز کردیا جائے اور آپ کی رسالت کے واسطے سے حق کی قبولیت کو ان کے لیے آسان کردیا جائے۔ چناچہ آپ نے اس ذمہ داری کو مقدور سے بڑھ کر انجام دیا۔ آپ نے اپنی پوری شخصیت اپنی ساری توانائیاں اور اپنے تمام تر وسائل اس راستے میں جھونک دیئے۔ اس لیے کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ آپ نے احقاقِ حق، ابطالِ باطل اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں خدا نہ کرے کسی کوتاہی کا ثبوت دیا ہے۔ آپ اپنی ذمہ داری ادا کرچکے۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ ایمان و اسلام سے محروم رہے تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ کتاب کے نزول اور منصب رسالت پر آپ کے تقرر کے بعد آپ نے جس خوش اسلوبی سے اللہ تعالیٰ کے دین کو لوگوں کے لیے آسان کیا، دماغوں کو اس کی قبولیت کے لیے کھولا، اشتباہات و اشکالات کے کانٹے چن چن کر نکالے اور حق کے حق ہونے اور باطل کے باطل ہونے کو اس طرح مبرہن کردیا کہ عقل کے اندھوں کے سوا ہر شخص اس کی روشنی کو دیکھ سکتا تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس کی قبولیت سے محروم رہتا ہے تو اس کا وبال اس پر پڑے گا۔ اور جو اس ہدایت کے سرچشمے سے سیراب ہوتا ہے تو وہ اپنی قسمت کو سنوارے گا۔ آپ اپنی ذمہ داری ادا کرچکے، ہم نے اسی حد تک آپ کو ذمہ دار بنایا تھا۔ آپ پر یہ ذمہ داری ہرگز نہیں ڈالی گئی تھی کہ آپ ضرور ان کو ایمان و اسلام کے راستے پر لا کھڑا کریں۔ آپ بفضلہ تعالیٰ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئے ہیں اب اس دعوت کے جو مخاطب ہیں ان کی قسمت ترازو میں ہے۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ کھینچ لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں کھینچ لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کردیتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک واپس بھیج دیتا ہے، بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں

اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَا مِھَا ج فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْھَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰٓی اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الزمر : 42) (اللہ کھینچ لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں کھینچ لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کردیتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک واپس بھیج دیتا ہے، بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ ) تفسیرِ مظہری کی وضاحت صاحبِ معارف القرآن نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں تفسیر مظہری سے نقل کیا ہے کہ قبض روح کے معنی اس کا تعلق بدن انسانی سے قطع کردینے کے ہیں، کبھی یہ ظاہراً و باطناً بالکل منقطع کردیا جاتا ہے۔ اسی کا نام موت ہے اور کبھی صرف ظاہراً منقطع کیا جاتا ہے باطناً باقی رہتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ صرف حِس اور حرکت ارادیہ جو ظاہری علامتِ زندگی ہے وہ منقطع کردی جاتی ہے اور باطناً تعلق روح کا جسم کے ساتھ باقی رہتا ہے جس سے وہ سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے اور صورت اس کی یہ ہوتی ہے کہ روح انسانی کو عالم مثال کے مطالعہ کی طرف متوجہ کرکے اس عالم سے غافل اور معطل کردیا جاتا ہے تاکہ انسان مکمل آرام پا سکے۔ اور کبھی یہ باطنی تعلق بھی منقطع کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم کی حیات بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ آیت مذکور میں لفظ تَوَفِّیْ بمعنی قبض بطور عموم مجاز کے دونوں معنی پر حاوی ہے۔ موت اور نیند دونوں میں قبض روح کا یہ فرق جو اوپر بیان کیا گیا ہے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے ایک قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے انھوں نے فرمایا کہ سونے کے وقت انسان کی روح اس کے بدن سے نکل جاتی ہے مگر ایک شعاع روح کی بدن میں رہتی ہے جس سے وہ زندہ رہتا ہے اور اسی رابطہ شعاعی سے وہ خواب دیکھتا ہے۔ پھر یہ خواب اگر روح کے عالم مثال کی طرف متوجہ رہنے کی حالت میں دیکھا گیا تو وہ سچا خواب ہوتا ہے اور اگر اس طرف سے بدن کی طرف واپسی کی حالت میں دیکھا تو اس میں شیطانی تصرفات ہوجاتے ہیں وہ رُؤیَایٔ صادقہ نہیں رہتا۔ اور فرمایا کہ نیند کی حالت میں جو روح انسانی اس کے بدن سے نکلتی ہے تو بیداری کے وقت آنکھ جھپکنے سے بھی کم مقدار وقت میں بدن میں واپس آجاتی ہے۔ (معارف القرآن) آیت کے آخر میں فرمایا کہ اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں کی حقیقت تک پہنچنا تو ہم جیسے ناچیز لوگوں کے بس میں نہیں۔ البتہ اس میں ایک طرح کی دعوت بھی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے غور کرنے کی کچھ بھی صلاحیت عطا کی ہے اسے ان آیات میں غور و فکر کرنا چاہیے۔ بنابریں جب ہم ان آیات میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی نشانی جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح کائنات کی تخلیق اور پھر اس کے نظم و نسق کی تدبیر سراسر اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں، اسی طرح زندگی اور موت بھی تمام تر اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ جسے زندگی دینا چاہے کوئی اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، اور جس کی زندگی کا سلسلہ منقطع کرنا چاہے، کوئی اس کی زندگی کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح اس زندگی کی بقاء و انقطاع میں بھی کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ انسانی زندگی مہد سے لحد تک ہے۔ یعنی اس کی ہمہ ہمی موت وحیات کا درمیانی فاصلہ ہے۔ اور یہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ انسان اپنی دولت، اثرورسوخ یا اقتدار کے زور پر اس میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ تو پھر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جس کے قبضے میں زندگی اور موت کی لگام ہے انسان اس سے غافل یا منحرف ہو کر زندگی بسر کرے۔ اگر اسے اس بات کا یقین ہے کہ وہ مجھے کسی وقت بھی موت کی نیند سلا سکتا ہے اور پھر قیامت کے دن مجھ سے میرے معمولاتِ زندگی کے حوالے سے بازپرس کرنے والا ہے۔ تو آدمی اس کے سامنے سرکشی اور جحود کا رویہ اختیار کرے تو اسے نادانی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ دوسری نشانی جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک آدمی حقیقی موت سے دوچار نہیں ہوتا موت کی بہن یعنی نیند سے اسے روزانہ موت کا تجربہ کرایا جاتا ہے۔ جب کسی شخص پر گہری نیند طاری ہوتی ہے تو بجز اس کے کہ اس کی سانس کی آمدورفت جاری رہتی ہے اور زندگی کی کوئی علامت اس کے اندر دکھائی نہیں دیتی۔ وہ احساس و شعور، فہم و ادراک اور اختیار و ارادہ کی قوتوں سے یکسر محروم ہوجاتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا تجربہ ہے کہ انسان ہر روز اپنی زندگی میں کبھی دن کے وقت اور کبھی رات میں نیند کی آغوش میں جاتا ہے اور اس وقت وہ اپنے آپ میں نہیں بلکہ کسی اور کے قبضے میں ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اسی نیند کو حقیقی موت میں تبدیل کردے تو چاہے اسے واپس دنیا میں بھیج دے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جس شخص کو روزانہ موت کا تجربہ ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مکمل گرفت بھی دیکھتا ہے لیکن غفلت کے دام سے نکلنے کی کبھی کوشش نہیں کرتا۔ تیسری نشانی جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب سونے والا نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اسے دراصل اس بات کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے کہ بعث و نشر بھی ایک حقیقت ہے۔ جو ذات بیداری پر نیند کو غالب کرتی اور پھر نیند کے پردے کو توڑ کر انسان کو بیداری میں لاتی ہے اس کے لیے انسان کو موت سے دوچار کرنا اور پھر موت سے دوبارہ اٹھانا اور میدانِ حشر میں پہنچا دینا آخر کیوں ناممکن ہے۔ نیند کی طرح زندگی کا بھی ایک وقت معین ہے اس وقت زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اپنے آپ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جب تک چاہے انسان زندگی کے مزے لوٹتا ہے اور جب وہ چاہے تو اس کی روح قبض کرسکتا ہے۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بنا رکھا ہے، ان سے کہئے اگرچہ نہ یہ کچھ اختیار رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہوں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شَُفَعَآئَ ط قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لاَ یَمْلِکُوْنَ شَیْئًاوَّلاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (الزمر : 43) (کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بنا رکھا ہے، ان سے کہئے اگرچہ نہ یہ کچھ اختیار رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہوں۔ ) مشرکین کی بیوقوفی پر تعجب اس سوال میں تعجب کا اظہار بھی ہے اور تنبیہ کا انداز بھی، کہ جب یہ بات ہر شخص پر روشن ہے کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ جس طرح اس نے کائنات کو پیدا کیا اور پھر اپنی حکمت و مشیت کے مطابق کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور جس طرح کائنات کے ذرے ذرے پر اس کی گرفت ہے، اس کے بعد اس تصور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو اپنا سفارشی بنا لے کہ اگر کسی بات پر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر گرفت فرمائی تو میرے یہ سفارشی مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کی ناراضگی سے بچا لیں گے۔ اس لیے کہ اس تصور کو قبول کرنے کے نتیجے میں چند باتیں تسلیم کرنا ضروری ہوجاتی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کبھی کسی شخص پر ناحق یعنی خلاف عدل بھی ہوسکتی ہے۔ اور وہ بغیر کسی سبب کے بھی کسی شخص کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ تصور اسی کے ذہن میں آسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ایک عادل ذات سمجھنے کی بجائے محض ایک دنیوی حکمران سمجھتا ہو۔ بادشاہ بعض دفعہ کسی ناحق بات پر خوش ہوتے ہیں اور حق بات پر بگڑ جاتے ہیں۔ اگر اللہ کریم کے بارے میں ایسے تصورات باندھ لیے جائیں تو پھر اس پر ایمان لانا یا نہ لانا دونوں برابر ہیں۔ دوسری بات جو اس سلسلے میں تسلیم کرنا پڑے گی وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی پر عتاب اس لیے بھی ہوسکتا ہے کہ وہ معاملے کی حقیقت کو پوری طرح نہیں جانتا۔ جس بات پر اس نے کسی کی گرفت فرمائی ہے وہ براہ راست اس بات کے حقائق سے واقف نہیں۔ جیسے کچھ حقائق اسے بتائے گئے اس نے ان پر یقین کرکے کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا تصور کرنے والا اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب والشہادۃ نہیں سمجھتا، اور یہ سراسر کفر ہے۔ جن کو کسی شخص نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے اور وہ یقین رکھتا ہے کہ معاملہ اچھا ہو یا برا وہ ہر معاملے پر میری سفارش کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش ماننے پر مجبور ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زور آور بھی ہے کہ وہ جب چاہے سفارش کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس جاسکتا ہے۔ اور وہ معاملات کی اتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ اپنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کے حضور کفر سے بھی بدتر ہیں۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے

قُلْ لِّـلّٰـہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا ط لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الزمر : 44) (کہہ دیجیے کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ) شفاعتِ حق کی وضاحت آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ انھوں نے شفاعت کا جو غلط عقیدہ اختیار کر رکھا ہے اس کا سبب دراصل یہ ہے کہ انھوں نے اپنے طور پر یہ گمان کرلیا ہے کہ بعض ہستیاں اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت مقبول اور زورآور ہیں۔ اس تصور کی بنیاد پر انھوں نے شفاعت کی امیدیں ان سے وابستہ کرلیں اور اپنی قربانیوں اور مختلف اعمال سے وہ ان نام نہاد ہستیوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی سفارش کریں۔ اس بنیادی سبب کو رد کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ شفاعت تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جس طرح آسمانوں اور زمین کی حکومت اور اس کی ملکیت میں اللہ وحدہ لاشریک ہے، کسی کا اس میں کوئی ساجھا نہیں۔ تمام بڑے چھوٹے سب اس کی مخلوق اور ملک ہیں۔ اسی طرح سفارش اور شفاعت میں بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اور پھر قیامت کے روز تمام جن و اِنس کی حاضری اللہ تعالیٰ کے حضور ہوگی، کسی اور ہستی کے سامنے نہیں۔ بلکہ وہ ہستیاں جن کے بارے میں مشرکین عجیب و غریب تصورات رکھتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حضور حاضر ہوں گے۔ تو یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ قیامت کے دن سب کی پیشی تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہوگی تو مولیٰ اور مرجع ہونے میں کوئی دوسرا کیسے شریک بن سکے گا۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و اولیاء کو شفاعت کا اعزاز بخشے گا، لیکن اس کے بارے میں بھی قرآن کریم نے جا بجا وضاحت کردی ہے کہ سفارش وہی کرے گا جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن ملے گا۔ اور اسی کے حق میں کرے گا جس کے بارے میں اجازت ملے گی۔ اور وہی بات کہے گا جو بالکل صحیح ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری دی جائے گی۔ علی الاطلاق شفاعت جس میں اللہ تعالیٰ کا اذن شامل نہ ہو، یہ کسی کا حق نہیں۔ یہ ایسی صفت ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہے۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں

وَاِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ ج وَاِذَا ذُکِرَالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۔ (الزمر : 45) (جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں۔ ) انسان کی کمزوری یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جن عظمتوں کو تسلیم کرتا اور ان سے ایمان کا رشتہ رکھتا ہے ان کو برابری کا درجہ نہیں دیتا بلکہ جن سے اس کی قلبی وابستگی زیادہ وہوتی ہے ہمیشہ ان کے ذکر سے خوش ہوتا اور ہمیشہ انھیں کے ذکر سے اپنی مجلسوں کو سجاتا ہے۔ اسی سے انسان کے قلبی تعلق اور قلبی وابستگی کی ترتیب کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ وہ جس سے زیادہ محبت رکھتا ہے اس کا ذکر بار بار کرتا اور بار بار سنتا ہے۔ اور جس سے تعلق میں محبت کی سرگرمی شامل نہیں اس کا ذکر یا تو ہوتا نہیں اور یا کثرت سے نہیں ہوتا۔ یہی حال مشرکینِ عرب کا بھی تھا۔ اور قریش اور دیگر اہل مکہ بھی ان احساسات میں انھیں کے نمائندہ تھے، کہ جب ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ذکر کیا جاتا یعنی اس کی توحید کا بیان ہوتا، اس کی صفات بیان کی جاتیں اور انسان پر اس کے احسانات کا تذکرہ ہوتا تو وہ کچھ وقت کے بعد اس ذکر سے اکتانے لگتے۔ اور اگر یہ ذکر مزید طویل ہوجاتا تو وہ کڑھتے اور کبیدہِ خاطر ہوجاتے۔ اور اگر ان کے مصنوعی اصنام و آلہہ کا ذکر ہوتا تو وہ نہایت خوش ہوتے اور گھنٹوں اسے سننا پسند کرتے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنا خالق ومالک تو مانتے ہیں لیکن اس سے اس درجہ کی محبت نہیں رکھتے جیسے اس کے ہمسروں سے رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے سورة البقرۃ میں ان کی اس عادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَخِذُ اَنَدْاَدًا یُّحِبُوْنَھُمْ کَحُبِ اللّٰہِ ” لوگوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے شرکاء اور ہمسروں سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے اللہ سے محبت کی جاتی ہے۔ “ یعنی ان کی محبت اللہ تعالیٰ سے کم اور ان شریکوں سے زیادہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جن سے محبت زیادہ ہوگی انہی کے ذکر سے فرحت اور مسرت بھی ہوگی۔ نہایت دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں یہ بیماری لاحق ہے۔ اگر ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس کی ذات، صفات اور حقوق کا تذکرہ ہو تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور وہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ جو شخص یہ تذکرہ کررہا ہے وہ ضرور بزرگوں اور اولیاء کا منکر ہے۔ جب ہی تو بس اللہ ہی کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر ان کے سامنے بزرگوں اور اولیاء کا تذکرہ کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل جاتی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی محبت اصل میں کس سے ہے۔ علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک وفات یافتہ بزرگ کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ میں نے کہا : اللہ کے بندے، اللہ کو پکار۔ وہ خود فرماتا ہے کہ وَاِذَا سَألَـکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّعِ اِذَا دَعَانِ ” جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو آپ ان سے کہیے) کہ میں بہت قریب ہوں، میں ہر پکارنے والے کی بات قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔ “ میری یہ بات سن کر اسے سخت غصہ آیا اور بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس کو یہ کہتے بھی سنا کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضروغائب کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کے باب میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

قُلِ اللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَاکَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الزمر : 46) (اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضروغائب کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کے باب میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ) مشرکین کے رویہ کے خلاف آنحضرت ﷺ کی دعا گزشتہ آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ مشرکین کا رویہ، جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وحدت اور الوہیت کا ذکر فرماتے یہ ہوگیا تھا کہ وہ اس ذکر سے ہی کبیدہِ خاطر ہوتے اور کڑھنے لگتے۔ چناچہ اس رویئے کے پیش نظر آنحضرت ﷺ کو دعا سکھائی گئی کہ جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر بھی اچھا نہیں لگتا تو وہ توحید کی دعوت کو قبول کیا کریں گے۔ اس لیے آپ ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں۔ یہ لوگ دنیا کو ایک خیالی جنت بنا کر اس میں دادعیش دے رہے ہیں۔ انھیں دوسری کسی زندگی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا سان گمان بھی نہیں۔ ایسے لوگوں سے قبولیتِ ایمان کی توقع بہت مشکل ہے۔ اس لیے آپ ان کی فکر چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے اور غائب و حاضر کو جاننے والے، تو ایک دن اپنے بندوں میں ان تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا جن میں تیرے بندے اختلاف کررہے ہیں۔ یعنی انھیں اصرار ہے کہ جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں۔ اس دنیا پر کبھی زوال نہیں آئے گا، قیامت کبھی برپا نہیں ہوگی، ہمیں کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہیں ہونا پڑے گا جبکہ تیرے عدل کا تقاضا ہے کہ تو ایک دن ایسا ضرور لائے جس میں تیرے کامل عدل کا ظہور ہو اور بیشمار انسان جو اپنے دکھوں کا مداوا نہ ہونے اور اپنے اوپر کیے ہوئے مظالم کا انصاف نہ ملنے پر محرومیوں کا شکار ہیں ان کی محرومیوں کو ان کا اصل صلہ ملے۔ چونکہ اسی عدل کامل کے ظہور پر اس دنیا کی حقیقی توجیہ کا دارومدار ہے، اس لیے آنحضرت ﷺ کو دعا سکھائی گئی اور اس سے بالواسطہ انسانی عقل اور انسانی قلوب کو ایک روشنی ملی۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے قرآن کریم کی ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اس کو پڑھ کر آدمی جو دعا کرتا ہے قبول ہوتی ہے۔ پھر انھوں نے یہی آیت پڑھ کر بتلائی۔ (قرطبی)
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اگر ان لوگوں کے پاس جنھوں نے شرک کیا، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی، تو یہ روزقیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتے تھے

وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَـہٗ مَعَہٗ لاَ فْتَدَوْا بِہٖ مِنْ سُوْٓئِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط وَبَدَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَـکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ ۔ (الزمر : 47) (اگر ان لوگوں کے پاس جنھوں نے شرک کیا، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی، تو یہ روزقیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتے تھے۔ ) مشرکین کو ایک تنبیہ آج جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے تنہا ذکر سے تکلیف ہونے لگتی ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں۔ کاش انھیں اس بات کا اندازہ ہوتا کہ قیامت کے دن ان کو کیسی ہولناک صورتحال سے واسطہ پڑے گا۔ آج جس مال و دولت اور ثروت و رفاہیت کے غرور کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں، وہ دولت ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ قیامت کے ہولناک عذاب سے بچنے کے لیے تمنا کریں گے کاش زمین کی ساری دولت انھیں مل جاتی اور وہ اسے فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاتے۔ لیکن وہاں انھیں جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا اس کا انھیں کبھی سان گمان بھی نہیں گزرا تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہمارے اعمال اور ہمارے طوراطوار اللہ تعالیٰ کی ناخوشی کا باعث ہوتے تو وہ یقینا دنیا میں ہمیں اس کی سزا دیتا۔ لیکن جب دنیا میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہوئی تو آخر قیامت کے دن ان ہی اعمال کی وجہ سے ہمیں کیوں پکڑا جائے گا۔ لیکن جب وہ قیامت کو دیکھیں گے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کا عدل و انتقام پوری طرح کارفرما ہے، ہر مستحق کو اس کا صلہ مل رہا ہے اور ہر گنہگار اعمال کی سزا پا رہا ہے، تو تب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور انھیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جتنا بڑا کریم ہے اتنا ہی بڑا عادل اور منتقم بھی ہے۔
Ayah 39:48

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور سامنے آجائیں گے ان کے اعمال کے برے نتائج، اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے

وَبَدَا لَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاکَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الزمر : 48) (اور سامنے آجائیں گے ان کے اعمال کے برے نتائج، اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے۔ ) ایک اور تنبیہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ ہزار بگاڑ میں مبتلا ہو کر بھی ہمیشہ اپنے اعمال کی وکالت کرتا ہے۔ اور اگر کبھی کسی غلطی کو محسوس بھی کرے تو ہمیشہ اپنے آپ کو الائونس دینے کی کوشش کرتا ہے۔ فکر وعمل کی گمراہیاں اور اس کے نتائج کبھی اس کے سامنے کھلنے میں نہیں آتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول ایسے لوگوں کو اگر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کبھی انھیں خاطر میں نہیں لاتے۔ چناچہ ان ہی گمراہیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن ان کی بداعمالیاں اور اس کے نتائج کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے۔ ان کی بداعمالیوں اور فکری کوتاہیوں نے کیسے کیسے برے نتائج پیدا کیے اور کیسے زہریلے برگ و بار نکالے، ایک ایک چیز کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم جن اعمال کو اچھا سمجھتے تھے ان کی حقیقت کیا تھی۔ اور جنھیں معمولی سمجھتے تھے وہ نتائج کے اعتبار سے کتنے بڑے تھے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ برائیوں کی سزا جو ان کے یہاں واہمہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جس کا یہ ہمیشہ تمسخر اڑاتے تھے آج یہ سب کچھ ان کو اپنے گھیرے میں لے لے گا۔ لیکن اب پچھتاوے کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اسے اپنے فضل سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَعَانَا ز ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا لا قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُـہٗ عَلٰی عِلْمٍ ط بَلْ ھِیَ فِـتْـنَـۃٌ وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 49) (جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اسے اپنے فضل سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ) انسانی طبیعت کے تضادات انسانی طبیعت اپنے اندر عجیب تضادات رکھتی ہے جب تک انسان اللہ تعالیٰ سے وابستگی پیدا نہیں کرتا اور اسلامی تعلیمات کو اپنا نظام زندگی نہیں بناتا اس وقت تک نہ اسے جہتِ سفر ملتی ہے اور نہ اس کی منزل کا تعین ہوتا ہے بلکہ اس کی زندگی تضادات سے عبارت رہتی ہے۔ خوشی کے لمحات میں وہ کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف آپہنچے تو اس کے خیالات میں تبدیلی آتے دیر نہیں لگتی۔ ان ہی تضادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اس وقت اپنے خالق حقیقی کو پکارتا ہے اور اس سے مدد کی التجا کرتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت کو دور کرکے اس کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ یکلخت اپنی مصیبت کو بھی بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھی۔ اس نعمت کو کبھی تو وہ دوسرے لوگوں کی طرف منسوب کرتا ہے کہ فلاں فلاں کی برکت سے وہ اس مصیبت سے نکلا ہے۔ اور یا اسے اپنی تدبیر اور اپنے علم کا کرشمہ قرار دیتا ہے۔ یعنی وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے علمی طور پر دوسروں پر جو تفوق حاصل ہے اور یا اللہ تعالیٰ کے یہاں اسے جو خاص مرتبہ اور مقام حاصل ہے اس کے نتیجے میں وہ ان غیرمعمولی نعمتوں سے نوازا گیا ہے۔ کیونکہ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُـہٗ عَلٰی عِلْمٍسے یہ دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس نعمت کا اہل ہوں اس لیے اس نے مجھے یہ نعمت عطا کی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ میرے اندر جو صلاحیت اور قابلیت ہے اسے بروئے کار لا کر میں نے یہ سب کچھ حاصل کیا ہے۔ پروردگار دونوں باتوں کی تردید فرماتا ہے کیونکہ یہ دونوں تصورات درحقیقت شرک کا شاخسانہ ہیں۔ کیونکہ کوئی نعمت بھی جو آدمی کو میسر آتی ہے وہ اگر کسی اور کی وساطت سے ملتی ہے تو تب بھی اس کا حقیقی فاعل اللہ ہی ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اس کی اپنی محنت کے نتیجے میں بظاہر حاصل ہوتی ہے تو اس کی محنت کا جذبہ اور اس کی صلاحیت بھی اللہ ہی کی دین ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر سیرت و کردار کا حامل ہوں اس لیے مجھے یہ نعمتیں میسر آئی ہیں، تو یہ بات اس لیے غلط ہے کہ اگر خوشحالی حُسنِ کردار کا نیتجہ ہوتا تو کوئی نیک شخص بدحالی میں مبتلا نہ ہوتا۔ اور اگر بدحالی بدکرداری کی وجہ سے ہوتی تو کوئی بدکردار شخص مال و دولت کا مالک نہ ہوتا، جبکہ ہم دونوں طرح کی مثالیں جابجا دیتے ہیں۔ اس لیے اس کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور وہ اس کے ذریعے سے بندے کا امتحان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار ہوتا ہے یا غرورونخوت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی نعمت سے کسی کو محروم کرتا ہے تو اس سے بھی وہ اس بات کا امتحان لیتا ہے کہ آیا وہ شخص اس بات پر صبر کرتا ہے یا بےصبری کرکے کفر کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس بات کو چونکہ بیشتر لوگ نہیں سمجھتے اس لیے وہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔