Ayah 38:1صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ۔ (صٓ: 1)
(صٓ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔ )
ص حروفِ مقطعات میں سے ہے اور حروفِ مقطعات کی تشریح سورة البقرۃ کے آغاز میں کی جا چکی ہے۔
آیت میں قسم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم
وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ وائو حرف قسم ہے اور اس کے بعد کا جملہ قسم ہے۔ اس بات کا تذکرہ متعدد دفعہ ہوچکا ہے کہ قرآن کریم میں بالعموم جس لفظ یا جس جملے سے قسم کھائی جاتی ہے وہ دلیل اور شاہد کا کام دیتا ہے اور اس کا مقسم علیہ دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھائی گئی ہے لیکن ساتھ اس کی صفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جس طرح سورة یٰسین میں قرآن کی قسم حکیم کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ یوں تو قرآن کریم کسی صفت کا محتاج نہیں، آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ لیکن انسان کی فکری کوتاہی کو دیکھتے ہوئے بعض دفعہ ایسے حقائق کو بھی بعض صفات کے ساتھ ذکر کرنا پڑتا ہے جن کی طرف سے انسانی تغافل ایک معمول بن کر رہ جائے۔ قرآن کریم کے حجت، واضح اور ہدایت ہونے میں کسی شک یا انکار کی گنجائش نہیں۔ لیکن قرآن کے نزول کے وقت بھی اس کے انکار کرنے والوں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی اور آج بھی دنیا میں اس کے منکرین کی کمی نہیں۔ اس لیے یہاں اس کے دلیل اور حجت ہونے کو واضح کرنے کے لیے اس کے لیے ذکر کی صفت لائی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے ذکر کا معنی بزرگ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے بزرگ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ ہر لحاظ سے سب سے اعلیٰ و افضل ہے۔ لیکن بعض اہل علم اس کا ترجمہ نصیحت یا یاددہانی کرتے ہیں۔ قرآن کریم کے نصیحت ہونے میں کون شبہ کرسکتا ہے۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی خیرخواہی کے لیے جو کچھ قرآن کریم نے کہا اور کیا ہے اس لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کا یہ فیضان کہیں رکنے والا نہیں، جب تک لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے رہیں گے وہ ان کے لیے خیرخواہی کا سامان کرتا رہے گا۔ یاد رہے نصیحت درحقیقت خیرخواہی ہی کا نام ہے۔ جہاں تک اس کی یاد دہانی کا تعلق ہے وہ بھی بالکل واضح ہے۔ اس لحاظ سے وہ آدمی کے دل و دماغ کو اپیل کرتا ہے، انسانی فطرت کو پکارتا ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ کون سے حقائق ہیں جو فطرت کے اندر ودیعت کیے گئے ہیں۔ لیکن انسان انھیں بھول چکا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کی یاد دلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رحمت کے استحقاق کے لیے جو سنت اللہ ہے قرآن کریم اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔ اور تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں قوموں کو جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کی بھی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔
وہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ دوبارہ جی کے اٹھنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے حاضر ہونا اور پھر جزاء و سزا کے مرحلوں سے گزرنا ایک ایسی حقیقت ہے جو تاریخِ انسانی کی ابتداء ہی میں انسان کو بتادی گئی تھی۔ لیکن انسان بار بار اس کو بھولتا رہا۔ قرآن کریم نہایت تاکید اور تکرار کے ساتھ اس کی یاددلاتا ہے۔ اور یہ تمام کام وہ اس لیے کرتا ہے کہ اس کی صفت ذِی الذِّکْرِ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس قسم کا مقسم علیہ کون ہے ؟ اور قرآن کریم کو یہاں بطور دلیل کے پیش کیا گیا ہے تو دعویٰ کیا ہے ؟ آیت قرآنی کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ دعویٰ یا مقسم علیہ قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ اور یہ طریقہ یعنی مقسم علیہ کا قسم کے اندر مضمر ہونا قرآن کریم کے اسلوب کے لیے اجنبی نہیں، بلکہ جہاں بھی قسم کی نوعیت ایسی ہو کہ مقسم علیہ ذکر کیے بغیر قسم سے مترشح ہورہا ہو تو عموماً وہاں مقسم علیہ کو قسم کے اندر مضمر کردیا جاتا ہے۔ یہاں قسم کے الفاظ پر غور کیجیے کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے اسے یاد دہانی والا قرآن کہا گیا ہے۔ یعنی یہ کتاب ایسی ہے جو یاددہانیوں سے بھرپور ہے۔ اور وہ یاددہانیاں اس بات پر شاہد ہیں کہ آج قریش کو جن باتوں کی تذکیر کی جارہی ہے وہ بالکل ناقابلِ انکار ہیں۔ اگر قریش ان کو نہیں مان رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جارہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔ یا آنحضرت ﷺ ان کے سامنے تبلیغ و دعوت میں کوئی کمی کررہے ہیں بلکہ اس کا سبب محض ان کی انانیت اور مخاصمت جاہلانہ نخوت اور ہٹ دھرمی ہے۔
Ayah 38:2بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ۔ (صٓ: 2)
(بلکہ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کیا ہے وہی سخت تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ )
قرآن کی مخالفت کا اصل سبب
پیشِ نظر آیت کریمہ اوپر کی بات کی تائید کررہی ہے۔ یعنی قرآن کریم جو نصیحت اور یاددہانیوں سے معمور ہے اس سے اگر لوگ نصیحت حاصل نہیں کررہے اور اسے ماننے سے انکار کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کی تذکیر میں کوئی کمی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا انکار کرنے والے تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ بڑی سے بڑی نصیحت بھی اس شخص پر کوئی اثر نہیں کرتی جس کی انانیت اور ہٹ دھرمی اس کی پوری شخصیت کا احاطہ کرچکی ہو۔ آدمی کی ذات کا خول اتنا شدید ہوتا ہے کہ عموماً نصیحت اس میں راستہ بنانے سے معذور رہتی ہے۔
Ayah 38:3کَمْ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ۔ (صٓ: 3)
(ان سے پہلے ہم نے کتنی قومیں ہلاک کردیں، انھوں نے اس وقت چیخ و پکار کی جب بچنے کا وقت نہ رہا۔ )
سابقہ مضمون کی معذب قوموں کے حالات سے تائید
قریش اور دیگر لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم انانیت کے گنبد سے باہر نہیں نکلتی اور تکبر اور ہٹ دھرمی حق اور صحیح بات کو قبول کرنے کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے تو پھر ایسی قوم کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے پہلی معذب قوموں کے حالات بیان کیے گئے اور بتایا گیا کہ ہم نے کتنی ایسی قومیں ہلاک کر ڈالیں جو ان سے پہلے گزری ہیں صرف اس بات پر کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کردیا اور جب عذاب کا کوڑا ان کے سر پر برسا تو پھر انھوں نے چیخ و پکار کی، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پکارا، اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی۔ لیکن پھر ان کی ایک نہ سنی گئی۔ کیونکہ استغفار اور توبہ اور ایمان لانے کی کوشش اس وقت تک بارآور ہوتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا۔ اور جب عذاب آجاتا ہے تو پھر بچنے اور مفر کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم بڑی تیزی سے وقت ضائع کرتے جارہے ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب تم فریاد کرو گے لیکن سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔
لاَتَ اصل میں لاَ ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ” ت “ کا اضافہ کردیا گیا ہے جس طرح ثُمَّ اور رُبَّ پر بھی ” ت “ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں یہ وقت کی نفی کے لیے خاص ہوجاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہے۔
Ayah 38:4وَعَجِبُوْا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ ز وَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (صٓ: 4)
(اور ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ایک ڈرانے والا خود ان ہی میں سے آگیا، اور کافروں نے کہا، یہ ساحر ہے، سخت جھوٹا ہے۔ )
مخالفین کے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراضات
قریش اور دیگر مخالفین آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت کا انکار کرتے ہوئے مختلف طریقے اختیار کرتے تھے تاکہ حتی الامکان لوگوں کو آپ کی شخصیت سے متاثر ہونے کا موقع نہ دیں اور آپ کی بات کو زیادہ سے زیادہ غیرمعتبر ٹھہرائیں۔ کبھی تو وہ آپ کی نبوت کا صاف صاف انکار کرتے۔ اور قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور کبھی آپ کے دعویٰ نبوت پر تعجب کا اظہار کرتے اور لوگوں کے قریب ہو کر ان کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ کہتے کہ یارو ! باقی باتیں تو چھوڑو، ہمیں تو اس بات پر تعجب ہورہا ہے کہ آخر ہم انسانوں میں سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے منذر بن کر کیسے آگیا۔ اللہ تعالیٰ کا منذر ہونا اس کا وائسرائے ہونے کے مترادف ہے۔ تو کیا اتنا بڑا منصب انسانوں میں سے ایک انسان کو دے دیا جائے گا۔ کہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور کہاں انسان ذرہ ناچیز۔ وہ اس کی پیغام بری کا حق کیسے ادا کرسکتا ہے۔ بشر ایک حقیر مخلوق کا نام ہے اور نبوت اللہ تعالیٰ کی نمائندگی ہے۔ اس لیے اس سے بڑھ کر تعجب کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ زمین پر رینگنے والے ایک انسان کو کائنات اور عرش و کرسی کے مالک کا نمائندہ سمجھ لیا جائے۔ چلیے اگر اس بات کو بھی گوارا کرلیا جائے تو اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے ایک عام آدمی جو اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اس کا کوئی خاص حوالہ نہیں۔ وہ یتیم پیدا ہوا، بچپن میں بکریاں چراتا رہا اور مالی لحاظ سے ابھی سنبھلنے نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھ دیا گیا۔ کیا نبوت کوئی ایسا گیا گزرا منصب ہے کہ وہ ایک نہایت نادار اور بےحیثیت آدمی کے سر پر سجا دیا جائے۔ اگر یہ منصب دینا ہی تھا تو کیا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا تھا۔
قریش کا اظہارِ تعجب اپنی جگہ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ جن باتوں کی وجہ سے ان کو تعجب پیدا ہوا ہے وہ باتیں تو حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانوں کی اصلاح کے لیے کسی آسمانی مخلوق کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ انسانوں کی اصلاح کیسے کرسکتی۔ کیونکہ ہر جنس اپنی ہم جنس کی ضروریات کو سمجھتی ہے۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اگر انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق بھیجی جاتی وہ یقینا انسانی حالات، جذبات اور ضروریات سے بیخبر ہوتی تو انسان کی رہنمائی کیسے کرتی۔ اور اگر انسانوں میں سے کسی اجنبی آدمی کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو اہل مکہ اس کی صداقت کو کیسے جانتے، انھیں کیسے خبر ہوتی کہ یہ شخص بھروسے کا آدمی ہے یا نہیں، انھیں اس کی سیرت و کردار کے بارے میں کیسے اطمینان ہوتا۔
آنحضرت ﷺ کو ساحر قرار دینے کی وجہ
دوسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی ہے کہ یہ شخص پیغمبر نہیں بلکہ ساحر ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخالفین کا ساحر قرار دینا درحقیقت اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ جو شخص اس پیغمبر پر ایمان لے آتا ہے ہزار کوشش اور اذیت کے باوجود وہ ایمان سے منہ نہیں پھیرتا۔ اسے کسی تعلق کے کٹ جانے اور کسی نقصان پہنچنے کی پرواہ نہیں ہوتی۔ باپ کو بیٹا اور بیٹے کو باپ چھوڑ دیتا ہے، بیوی شوہر سے الگ ہوجاتی ہے اور شوہر بیوی سے جدا ہوجاتا ہے۔ ہجرت کی نوبت آئے تو دامن جھاڑ کر وطن سے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی بھی قیامت گزر جائے وہ شخص اپنے ایمان سے کبھی منحرف نہیں ہوتا، یہ جادو نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے کسی کے سامنے کبھی زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ لیکن وہ جس کلام کو کلام خداوندی کہہ کر پیش کرتا ہے اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت انسان کو مسحور کرکے رکھ دیتی ہے۔ قرآن کریم کا پیش کردہ نظام زندگی ہر طرح کے اختلاف سے پاک ہے۔ اس کی پیشگوئیاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی صداقت منوا چکی ہیں۔ وہ ان تمام باتوں کے جواب میں صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس شخص کے کلام میں جو تأثیر و تذکیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی اترتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادوگر ہے۔ اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔
اور تیسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی ہے کہ یہ شخص پیغمبر نہیں بلکہ کذاب ہے جس کا معنی ہے جھوٹا، لپاٹیا اور لاف زن۔ یعنی یہ شخص کلام کا جادوگر ہی نہیں بلکہ عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لیے نبوت کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر نازل ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے منذر ہو کر آیا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، یہ اپنے ہر دعوے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے ایک رسول بھیجا، ان کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ایک منذر کو مبعوث کیا، ان کے لیے ایک یاددہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی، لیکن وہ غرور اور تکبر کے مارے ہوئے لوگ اس بات پر تعجب کررہے ہیں کہ ان ہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے لیے کیسے آگیا۔ اور وہ اپنی رعونت اور تکبر میں نہ جانے اللہ تعالیٰ کے رسول کو کیا کیا کہہ رہے ہیں۔
Ayah 38:5اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰـھًا وَّاحِدًا صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ عُجَابٌ۔ (صٓ: 5)
(کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود کردیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ )
قریش کا عجیب پروپیگنڈا
قریش اور دیگر مخالفین کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز پر اعتراض تھا وہ آپ کی توحید کی دعوت تھی۔ آپ پوری قوت سے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں واحد اور یکتا قرار دیتے تھے۔ نہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ اس کے سوا کوئی غیرمشروط مطاع ہے۔ جس طرح وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے۔ اور اس کی ذات وصفات کے تقاضوں کے طور پر جو حقوق اس کے لیے لازم ہیں ان میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ مخالفین کے لیے یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ بہت تکلیف دینے والا تھا۔ کیونکہ ہر قبیلے نے اپنا ایک الگ خدا بنا رکھا تھا۔ اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا۔ کعبۃ اللہ میں سینکڑوں بتوں کے ہونے کا سبب یہی تھا کہ ہر قبیلے نے اپنا بت وہاں رکھا ہوا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ گھر تمام خدائوں کا تیرتھ ثابت ہو۔ اور سارے قبائل والہانہ کھنچے چلے آئیں۔ قریش ان کی اس عقیدت اور محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائل کی عصبیت کو بھڑکانے کے لیے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کرکے ایک معبود بنا ڈالا ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ اور معبود بھی اس نے وہ رکھا ہے جس کو وہ خود معبود مانتا اور اس کی بوجا کرتا ہے، دوسرے تمام معبودوں کی خدائی اس نے ختم کردی ہے۔ اور یہ ایک ایسی حرکت ہے جس کا سراغ ہم اپنے آبائواجداد میں بھی نہیں پاتے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس آیت کے آخر میں ” عجاب “ کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ ” عجاب “ کے اندر عجیب کے مقابلے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی توحید اور واحدنیت ایک ایسی بات تھی کہ جس سے زیادہ عجیب بات اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس طرح سے قریش نے تمام قبائل میں ایک طرح سے آگ لگانے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
Ayah 38:6وَانْطَلَقَ الْمَـلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ ۔ (صٓ: 6)
(اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں پر، بیشک یہ بات کسی اور مقصد کے لیے کہی جارہی ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متعلق بدگمانی
ہم سورة کے تعارف میں یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ایک موقع پر سردارانِ قوم حضرت ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ آپ اپنے بھتیجے سے ہمارے معاملات کا تصفیہ کرا دیں۔ آخر انھوں نے تجویز یہ پیش کی کہ آپ اپنے بھتیجے کو پابند کریں کہ وہ ہمارے خدائوں کی مذمت نہ کریں تو ہم اس کی عبادت پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ وہ اپنے پروردگار کی جیسے چاہے عبادت کرے، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ اسی طرح اسے بھی اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور کس کس بت کے بارے میں ہمارے کیا تصورات ہیں۔ چناچہ یہی بات حضرت ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کے سامنے رکھی۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں تم سب لوگوں کے سامنے ایک کلمہ پیش کرتا ہوں اگر تم اسے قبول کرلو تو تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم تمہارے سامنے جھک جائے گا۔ قریش کے سرداروں نے پوچھا، وہ کلمہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا لاَاِلٰـہَ اِلاَّاللّٰہ۔ یہ سن کر وہ بہت برہم ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس مجلس سے نکل گئے کہ یہاں سے چلو اور اپنے خدائوں کی عبادت پر جمے رہو۔ یہ بظاہر تو بڑی سادہ سی بات کہہ رہا ہے، حقیقت میں اس کا مطلب کچھ اور ہے۔ اس کے پیش نظر یہ ہے کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کو بطور مطاع کے قبول کرلیا جائے۔ اس کی حکمرانی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال لیا جائے۔ اور اس طرح سے وہ رفتہ رفتہ ہمارا حکمران بن جائے۔ محض ایک کلمے کے قبول کرلینے سے عرب و عجم کا مطیع ہوجانا محض ایک سخن سازی ہے، حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنی حکومت کے لیے راستہ صاف کیا جارہا ہے۔
Ayah 38:7مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ صلے ج اِنْ ھٰذَآ اِلاَّ اخْتِلاَقٌ۔ (صٓ: 7)
(ہم نے یہ بات آخری ملت میں کسی سے نہیں سنی، یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔ )
قریش کا اپنی تاریخ سے استدلال
قریش اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا وارث سمجھتے تھے۔ اور ساتھ ہی انھیں ان کی اولاد ہونے پر بھی فخر تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان ہی مزعومات کی بنا پر بطورخاص ملت ابراہیمی کی تاریخ بیان فرمائی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) نے اللہ تعالیٰ کا جو گھر تعمیر کیا اور قریش کو جس کے متولی ہونے پر ناز تھا اور اسی کی وجہ سے انھیں بیشمار فوائد حاصل تھے۔ اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو خصوصی طور پر بیان کرتے ہوئے یہ بات واضح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو توحید کا مرکز بنایا تھا۔ اور اسی گھر میں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) نے نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری اور اپنی اولاد میں سے ایک امت مسلمہ کے برپا کرنے کی دعائیں مانگی تھیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے اسی دعا کا ثمر ہیں اور یہ گھر اسی توحید کا مرکز ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے صاحبزادے نے محنت فرمائی تھی۔ اور پھر قرآن کریم نے جابجا اس بات کو واضح کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد چاہے وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے ہو یا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے انھیں توحید ہی کا وارث بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے قریش کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ملت ابراہیمی کا تو وارث ہونے کا دعویٰ کریں لیکن ملت ابراہیمی کی اساس اور اس کی علامت یعنی توحید کو ماننے سے انکار کردیں۔ لیکن قریش کسی طرح بھی اس کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ بار بار یہ بات کہتے تھے کہ اگر ملت ابراہیمی کی اصل شناخت توحید ہوتی تو ہمارے قریب کے زمانے میں یعنی ملت ابراہیمی کے آخری دور میں جو ہمارے آبائواجداد گزرے ہیں یا ہمارے قریب ملکوں میں جن دوسرے مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے، کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان صرف ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔ آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرسکتا ہے۔ بیشمار آستانے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں سے مرادیں مانگی جارہی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اپنے تصرفات کے ذریعے لوگوں کی مرادیں پوری کررہے ہیں۔ اب یہ ہمیں ایک نئی بات سنائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور اس کی خدائی میں کسی کا حصہ نہیں۔ اور پوری کی پوری خدائی بس ایک اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اس بات کو کیسے تسلیم کرلیں۔ یہ تو محض ایک من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 38:8ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ م بَیْنِنَا ط بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ ج بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ ۔ (صٓ: 8)
(کیا ہمارے درمیان میں سے اسی ایک شخص پر ذکر نازل کردیا گیا ؟ بلکہ یہ لوگ میرے ذکر پر شک کررہے ہیں، بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ )
قریش کے پندار پر چوٹ
مشرکینِ مکہ کو جس طرح اسلام کے تصورتوحید کا شدت سے انکار تھا اسی طرح انھیں یہ بات بھی گوارا نہ تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کریں۔ وہ اپنے جاہلانہ تصورات کے پیش نظر رسالت اور بشریت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی پیغام بری کے لیے کسی فرشتے کو آنا چاہیے، انسان اس قابل کہاں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پیغام وصول کرسکے اور انسانوں تک پہنچائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ان کا اعتراض ایک اور پہلو سے بھی تھا، وہ یہ کہ چلیے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بشر رسول ہوسکتا ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ جس آبادی میں اللہ تعالیٰ کا رسول اٹھایا جائے وہ آبادی کا سب سے غریب آدمی ہو۔ کیونکہ نبوت و رسالت ایک بہت معزز منصب ہے۔ اس منصب پر کسی بڑے رئیس کو اگر فائز کیا جائے تو یہ سمجھا جائے گا کہ واقعی ایک بڑی عزت سے اس آدمی کو نوازا گیا ہے جو پہلے بھی عزت کے بہت سے انتسابات رکھتا ہے۔ وہ دولت مند ہے، بارسوخ ہے، قبائل میں اس کا بےپناہ احترام ہے، اس کی بات سنی جاتی ہے، اسے معاشرے میں ایک بڑی حیثیت اور عظمت حاصل ہے۔ لیکن جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دولت مندوں اور معززین کی موجودگی میں اس شخص کو اس منصب پر فائز کردیا جائے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے۔ انھیں یہ بات تسلیم تھی کہ آپ سیرت و کردار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ آپ شہر بھر میں نہایت نیک نام ہیں، لیکن چونکہ آپ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوئے، اس لیے نبوت کے کسی طرح بھی اہل نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت اسی پندار اور تکبر کا اظہار تھا جس کا اس سورة کے آغاز میں فِیْ عِزَّۃٍ کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ پروردگار نے اس کے جواب میں فرمایا کہ درحقیقت انھیں آنحضرت ﷺ کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کی راست بازی کے قائل رہے ہیں۔ انھیں اگر شبہ ہے تو وہ دراصل میرے ذکر کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب آپ کے سپرد کی تو یہ آپ کی صداقت پر شک کرنے لگے، حالانکہ وہ اس سے پہلے آپ کی راست بازی کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حقائق کو سمجھ بوجھ کر ماننے کے عادی نہیں ہیں۔ انھیں یا تو منفعت کی زبان سمجھ میں آتی ہے اور یا طاقت اور شدت کی زبان۔ انھیں بار بار آنحضرت ﷺ نے ان کی تکذیب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا ہے۔ لیکن وہ اسے محض ہَوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت انھیں مانے بغیر چارہ نہیں ہوگا جب عذاب کا کوڑا ان کے سروں پر برسے گا۔ لیکن اس وقت ان کا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
Ayah 38:9اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِالْوَھَّابِ ۔ (صٓ: 9)
(کیا تیرے رب کی رحمت کے خزانے جو عزیز اور وہاب ہے ان کے قبضے میں ہیں۔ )
قریش کی رعونت کا جواب
سابقہ آیت کریمہ میں قریش اور دیگر مخالفین نے آنحضرت ﷺ کو نبوت دیئے جانے پر جو اعتراض کیا تھا پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا یہ کہنا کہ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور اور بہت بڑے منصب ہیں۔ ان کا اہل اگر کوئی ہوسکتا ہے تو صرف وہ شخص ہوسکتا ہے جو لوگوں کی نگاہ میں عزت سے دیکھا جاتا ہو۔ اور جس کے سر پر دولت کا تاج ہو اور جسے انسانی معاشرے میں بڑی قدرومنزلت حاصل ہو۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت سہی، لیکن اس کا مستحق کون ہے ؟ کیا وہ شخص جس کا فیصلہ مکہ کے اصحابِ ثروت کریں یا اس کے فیصلے کا اختیار پروردگارِعالم کو ہے۔ اگر انھیں اصرار ہے کہ نبوت کے لیے ہمارے معیار کو تسلیم کیا جانا چاہیے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے دراصل ان کی تحویل میں دے دیئے گئے ہیں۔ اب ان خزانوں سے جو چیز بھی نکلے گی ان کے اختیار سے نکلے گی۔ حالانکہ کوئی مجہول شخص بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے قبضے میں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو عزیز ہے یعنی سب پر غالب ہے، کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا۔ اور وہ وہاب ہے یعنی اس قدر عطا کرنے والا ہے کہ اس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ وہ بلاشرکت غیرے ہر چیز پر مالک اور متصرف ہے۔ وہ اپنی عطا و بخشش میں کسی کے زیراثر نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے زمین کے خزف ریزے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخشتا ہے۔ کیونکہ جو عزیز ہوگا اس پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اور جو وہاب ہوگا اس کی عطا و بخشش کسی کی پابند نہیں ہوسکتی۔
Ayah 38:10اَمْ لَھُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا قف فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ۔ (صٓ: 10)
(کیا آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی ان ہی کے اختیار میں ہے، تو پھر چاہیے کہ وہ آسمانوں کے اندر چڑھ جائیں۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اسی کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر انھیں اصرار ہے کہ نبوت کے بارے میں فیصلے ان کی مرضی اور اختیار کے مطابق ہونے چاہئیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان بھی ان ہی کی فرمانروائی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر انھیں چاہیے کہ آسمانوں پر چڑھ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں، تاکہ فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرکے وہ تمام کائنات میں اپنی مرضیات کو مسلط کرسکیں۔ پھر وہ جسے چاہیں نبوت کے منصب پر فائز کریں۔ اور جس پر چاہیں وحی کا نزول ہو۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر انھیں اپنی حدود کو پہچان کر اس کے مطابق بات کرنی چاہیے۔ انھیں اس بات سے انکار نہیں ہوگا کہ وہ زمین پر بسنے والے بندے ہیں، خدا نہیں۔ لیکن جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ بندگی نہیں، خدائی ہے۔
یاد رہے اسباب سے مراد اسباب السموات ہے۔ اور یہ لفظ کسی چیز کے اطراف اور متعلقات کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اسی کو ملحوظ رکھا ہے۔
Ayah 38:11جُنْدٌمَّا ھُنَا لِکَ مَھْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ۔ (صٓ: 11)
(جتھوں میں سے ایک جتھہ اسی جگہ شکست دیا جائے گا۔ )
قریش کے لیے تنبیہ بھی اور پیش گوئی بھی
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی ہے اور قریش اور دیگر مخالفین کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے۔ ھُنَا لِکَ سے شاید مکہ معظمہ کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اور قریش کی یہ تمام مجہول باتیں اور ان کی تمام تعلیاں اسی شہر کی داستان ہیں۔ چناچہ قصہ ٔ زمین برسرزمین کے طور پر پروردگار انھیں وارننگ دے رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو، ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسی شہر میں جو تمہاری رعونتوں کا مرکز ہے تم اپنی ساری رعونتوں اور تکبروں سمیت شکست خوردہ لشکر کی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے کھڑے ہو گے اور نہایت لجاجت کے ساتھ اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگو گے۔ اور جس پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو آج تم حقیر سمجھ رہے ہو انھیں کے سامنے تم غلاموں کی طرح کھڑے کیے جاؤ گے۔ اور تمہاری قسمتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے رسول کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ ایمان لانے والے عزت کی علامت ہوں گے اور کفر کے بڑے بڑے سردار غلاموں کی طرح سرجھکائے کھڑے ہوں گے۔ آج ہی فیصلہ کرلو تمہیں کس طرف کھڑے ہونا ہے۔
Ayahs 38:12–14کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌوَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ ۔ وَثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ ط اُوْلٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ ۔ اِنْ کُلٌّ اِلاَّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۔ (صٓ: 12 تا 14)
(ان سے پہلے نوح کی قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے تکذیب کی۔ اور ثمود، قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی، یہ جتھے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا۔ )
تاریخ سے استشہاد
قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے انھیں تاریخ کا آئینہ دکھایا گیا ہے کہ تم جس روش پر چل رہے ہو اور جس طرح تم نے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کو اپنا طرزعمل بنا لیا ہے تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم سے پہلے بڑی بڑی قومیں حکومت و ریاست کی ہیبت و قوت کے باوجود صرف اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں اور انھیں دنیا سے مٹا دیا گیا کہ جو رسول ان کی طرف آئے تھے ان پر ایمان لانے کی بجائے انھوں نے ان کی تکذیب کر ڈالی۔ یہ قومیں تمہاری جانی پہچانی ہیں، تم اپنے تجارتی اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے ہو جہاں ان کے کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کھنڈرات سے ان کی وسعت اقتدار اور قوت وہیبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن وہ اپنی تمام تر قوت وہیبت اور ٹھاٹ باٹھ کے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ کیونکہ پروردگار تکذیبِ رُسل کے جرم کو کبھی معاف نہیں فرماتا۔ ان میں قوم نوح اور قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کو بغیر کسی لاحقہ کے ذکر کیا ہے۔ لیکن فرعون کی وسعت اقتدار اور غیرمعمولی قوت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ذوالْاَوْتَادِ کا لاحقہ لگایا گیا ہے۔ اوتاد، وتد کی جمع ہے اور وتد میخ یا خیمے کو کہتے ہیں۔ اور ذوالْاَوْتَادِ کا معنی ہوگا میخوں والا یا خیموں والا۔ درحقیقت اس کا معنی تو میخوں والا ہے، لیکن اس کا اطلاق خیموں پر بھی ہوتا ہے۔ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے کثیرالتعداد لشکر جہاں بھی ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں اور اگر اس کا معنی خیمے کیا جائے تو مفہوم پھر بھی وہی رہتا ہے کہ اس کے لشکر کی تعداد چونکہ بہت زیادہ تھی، وہ جہاں بھی پڑائو ڈالتا، اس کا لشکر چونکہ خیموں میں ٹھہرتا تھا تو دور تک خیمے ہی خیمے نظر آتے تھے۔ اور یا اسے ذوالْاَوْتَادِ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ایک ظالم شخص تھا، وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے جسم میں میخیں ٹھونک کر اس کو عذاب دیتا تھا۔ ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرامِ مصر ہوں جو زمین کے اندر میخوں کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔
اصحاب الایکہ کا مفہوم
آیت میں اصحاب الایکہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد اصحابِ مدین ہیں۔ ایکہ کا معنی جنگل کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مدین کے پاس کوئی بہت بڑا جنگل ہوگا، اس وجہ سے مدین کو ایکہ بھی کہا جاتا ہے۔ تو جس طرح تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں مذکورہ قوموں پر عذاب آیا، اسی طرح اہل مدین بھی اس عذاب کی گرفت میں آئے۔ کیونکہ وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک تھے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جن قوموں کا ہم نے ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں یہ کوئی چھوٹی موٹی قومیں نہیں تھیں بلکہ یہ انسانوں کے بڑے بڑے جتھے تھے۔ یہ اپنے غلط عقائد پر نہایت استقامت کے ساتھ جمے ہوئے تھے۔ اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ دیگر وسائل میں بھی خودکفیل تھے۔ فوجوں کی کثرت کی وجہ سے وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ باایں ہمہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ ان کی رعونت اور تکبر ان کے لیے پناہ نہ بن سکے۔ اور آج تاریخ میں ان کے نام کے سوا کوئی بات زندہ نہیں۔ اور تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہو کر رہا۔ قریش کے لوگو ! تم بھی اسی جرم کا ارتکاب کررہے ہو۔ سوچ لو، اس عذاب سے تم کیسے بچ سکتے ہو۔
Ayahs 38:15–16وَمَا یَنْظُرُ ھٰٓـؤُلَآئِ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ ۔ وَقَالُوْا رَبّنَا عَجِّلْ لَّـنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 15، 16)
(اور یہ لوگ بس ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔ اور انھوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! روزِحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ )
قریش کا متکبرانہ رویہ اور اس کا جواب
پہلی آیت میں قریش کے اس رویئے کا ذکر ہے جو ان کے انکارِ حق اور اصرارِ باطل سے پیدا ہوا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے اس طنطنہ اور غرور کی طرف اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زبانوں پر ایسے الفاظ آگئے ہیں جو کوئی شخص بھی اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک کہ غرور اس کی عقل پر غالب نہ آجائے۔ پہلی آیت میں ان کے طرزعمل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں حق کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار انھیں ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں تو وہ بجائے ایمان لانے کے آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب آپ انھیں تنبیہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہیں تو وہ بجائے عذاب سے ڈرنے کے عذاب کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے اس رویئے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ انھیں خوب معلوم ہے کہ پہلی قوموں پر عذاب آچکا ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ڈانٹ یا ایک دھماکے نے ان کا کام تمام کردیا۔ اور پھر انھیں سنبھلنے کی مہلت نہیں ملی، یہ بھی شاید یہی چاہتے ہیں۔ ” فواق “ دراصل اس وقفے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کا دودھ ایک دفعہ سونت لینے کے بعد دوبارہ تھنوں میں دودھ اترنے تک ہوتا ہے۔ یہ ایک محدود وقت ہے جسے ڈھیل کے لیے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کا خیال شاید یہ ہے کہ عذاب آنے کے بعد ہمیں سنبھلنے کا موقع دیا جائے گا، حالانکہ عذاب خاتمے کا نام ہے، سنبھلنے کا موقع دینے کا نہیں۔
دوسری آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قریش کی اندھی رعونت کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کے سلسلے میں جب انھیں بتایا گیا کہ پہلی قومیں اسی جرم کی پاداش میں تباہ کی گئی ہیں تو وہ بجائے اس کے کہ انھیں اپنے انجام کی فکر ہوتی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر تلافی کی کوشش کرتے، وہ اس کے بالکل برعکس منہ پھاڑ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اگر یہ پیغمبر اپنی دعوت میں سچا ہے تو جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جارہا ہے یا جس عذاب قیامت کا ذکر کیا جارہا ہے اسے قیامت تک اٹھا رکھنے کی بجائے دنیا ہی میں ہم پر نازل کردیا جائے۔ قریش کے اسی طرح کے مطالبے کا ذکر سورة الانفال میں بھی کیا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ عذاب ہی کا مطالبہ ہو جس سے آنحضرت ﷺ انھیں ڈراتے تھے۔ اور یا اس سے جنگ بدر کی فتح و شکست کا تعلق ہو جس کے لیے جنگ بدر کے ارادے سے نکلنے سے پہلے بیت اللہ کے پردے پکڑ کر ابوجہل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی۔ دونوں صورتوں میں ان کی رعونت اور ہٹ دھرمی کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جاہلیت پر کس قدر اڑے ہوئے تھے اور حق کے لیے کس طرح ان کے دلوں کے دروازے بند ہوچکے تھے۔ سورة الانفال میں فرمایا گیا ہے کہ
وَاِذْقَالُوا اللَّھُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔
” اور جبکہ انھوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہو، تیرے پاس سے تو ہم پر پتھر برسا دے آسمان سے یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر نازل کر۔ “
Ayah 38:17اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ ج اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 17)
(اے پیغمبر ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے دائود زور و قوت والے کا حال بیان کیجیے، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کا نمونہ آنحضرت ﷺ کے لیے بھی اور قریش کے لیے بھی
اس سے پہلے سورة الانبیاء، نمل اور سبا میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات کسی حد تک تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑی شخصیت کے واقعات کو واقعات کے طور پر یا تاریخ کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے مقرب بندے چونکہ انسانی زندگی کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے بطور نمونہ اور بطورہدایت ان کی زندگی کے واقعات میں سے ان واقعات کو ذکر کیا جاتا ہے جو سلسلہ کلام میں جاری بحث کی ضرورت کا تقاضا ہوں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات کے سلسلے میں بھی دیگر انبیاء کی طرح یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ پیش نظر سلسلہ ٔ بیان میں دکھایا گیا ہے کہ قریش تکبر اور نخوت میں مبتلاء ہو کر اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے انتہائی تعنت اور نخوت کا ثبوت دیتے ہوئے آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں اور آپ کی دعوت کو روکنے کے لیے ہر طرح کی اذیت رسانی سے کام لیا جارہا ہے۔ آپ اور صحابہ کرام ان کی اس یا وہ گوئی سے سخت انقباض میں ہیں۔ چناچہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے واقعات سے ایک طرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ دیکھئے حضرت دائود (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ انتہائی طاقت اور قوت رکھنے والے تھے لیکن وہ اپنے مخالفوں کی دلآزار باتوں پر برہم یا پریشان ہونے کی بجائے انتہائی صبر اور بردباری سے کام لیتے تھے۔ اور جب کبھی فیصلہ کرنے کا وقت آتا تو لوگوں کے حددرجہ ناگوار رویئے کے باوجود نہایت عدل اور ہمدردی کے ساتھ ان کے معاملات کا فیصلہ فرماتے تھے۔ بلکہ دوسروں کے واقعات سے اپنے لیے سبق حاصل کرنا اور نصیحت اخذ کرنا ان کی طبیعت کا حیرت انگیز واقعہ تھا۔ آپ بھی ان کی زندگی کے ان واقعات سے تسلی حاصل کریں۔ اور آپ کے صحابہ کو بھی اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہی وہ رویہ ہے جو بالآخر کامیابیوں کی ضمانت بنتا ہے۔
دوسری طرف قریش کو بھی ان واقعات سے سبق دینا مقصود ہے کہ تم ہمارے بندے دائود کو دیکھو، وہ کس قدر دولت و حشمت کے مالک اور کس قدر مناصب و اقتدار پر فائز تھے۔ باایں ہمہ غرور و استکبار انھیں چھو کر بھی نہ گیا تھا۔ وہ ہر معاملے میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ ایک تم ہو کہ ان کے مقابلے میں تمہاری دولت و حشمت اور تمہارا اقتدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اس معمولی حیثیت میں تمہیں غرور و استکبار نے اندھا کردیا ہے۔ تم بھی اگر اپنے لیے عافیت چاہتے ہو تو حضرت دائود (علیہ السلام) کے رویئے سے سبق سیکھو۔
آیتِ کریمہ میں ” اُذْکُرْ “ کے لفظ سے شاید متذکرہ بالا دونوں مفہوموں کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو بھی حضرت دائود (علیہ السلام) کے حالات پڑھ کر سنایئے اور خود بھی ان کو یاد کیجیے تاکہ آپ بھی ان واقعات کو دیکھ کر تسلی حاصل کریں اور قریش ان واقعات کو پڑھ کر اگر چاہیں تو سبق حاصل کریں۔
ذَا الْاَیْدِ اس کا لفظی معنی تو ہاتھوں والا ہے، لیکن عربی زبان میں ہی نہیں بلکہ دیگر زبانوں میں بھی اسے قوت وقدرت کے لیے استعارے کے طور پر بولا جاتا ہے۔ آیت کریمہ میں بھی یہی معنی مقصود معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) بڑی قوتوں کے مالک تھے اور جتنی بھی انسانی خیال میں قوتیں قابل قدر ہوسکتی ہیں ان میں سے کوئی ایسی نہ تھی جو ان کو عطا نہ کی گئی ہو۔ مثلاً آپ جسمانی طاقت میں بھی بےمثال تھے اور اس کا مظاہرہ انھوں نے جالوت سے جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ حالانکہ جالوت غیرمعمولی قدآور جنگجو اور بہادر شخص تھا اور حضرت دائود (علیہ السلام) اس وقت بکریاں چرانے والے ایک نوعمر چرواہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے جالوت کو بری طرح شکست دی اور قتل کردیا۔ آپ فوجی اور سیاسی طاقت کے مالک تھے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اس وقت کی مخالف مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی۔ اخلاقی طاقت میں بھی آپ کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہی عطا کی، لیکن آپ ہمیشہ فقیر بن کر رہے، ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اس کے حدود کی پابندی کرنے والے تھے۔ حضرت ابوالدردا سے امام بخاری نے اپنی تاریخ میں یہ روایت بیان کی ہے کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر آتا تو آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے کَانَ اَعْبَدَالْبَشَرِ ” وہ سب سے زیادہ عبادت گزار آدمی تھے۔ “
اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ وہ اپنے رب کی طرف بہت رجوع ہونے والے بندے تھے۔ اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کی خشیت وانابت کا اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی، حالت سکون کا ہو یا حالت اشتعال کا، معاملہ غم کا ہو یا خوشی کا، ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ حالانکہ حکومت و اقتدار ہر صاحب اقتدار کو خودپرستی کی طرف مائل کردیتا ہے۔ بلکہ اقتدار اس وقت تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک اس کے سامنے بےاختیار سر جھکنے نہیں پاتے۔ گویا تکبر اور غرور اس جلنے والی آگ کا ایسا ایندھن ہے جس کے بغیر اقتدار کا چولھا روشن نہیں ہوتا۔ لیکن وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اس کی طرف رجوع ہونے والے بندے تھے۔
Ayahs 38:18–19اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ ۔ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً ط کُلٌّ لَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 18، 19)
(بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے، وہ شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اور پرندے سمٹ آتے، سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی اوّابّیت کا نمونہ
اس سے پہلے کی آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی صفت کی وضاحت کی جارہی ہے کہ ان کی اوّابیّت کا حال یہ تھا کہ وہ صبح و شام دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت میں کیسی برکت دی تھی کہ دن بھر لوگوں کے معاملے سنتے اور انھیں انصاف دیتے، ملک بھر سے آئی ہوئی اطلاعات سے متعلق فیصلے کرتے، مخالف قوتوں سے چھیڑچھاڑ جاری رہتی تھی اس لیے وقتاً فوقتاً جہاد کا فرض بھی انجام دیتے۔ ایک بہت بڑی آبادی کے حکمران ہونے کی وجہ سے معاملات و تنازعات کا ہجوم ہوتا، لیکن آپ نہایت احسن طریق سے ان سے عہدہ برآ ہوتے۔ ان تمام مصروفیات کے باوجود صبح بھی اور شام بھی جب خلق خدا سو رہی ہوتی آپ پہاڑوں کے دامن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو لحن دائودی عطا فرمایا تھا اس سے زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور اڑتے ہوئے پرندے بھی آپ کے اردگرد اتر آتے اور جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر آپ کے سُر میں اپنے سُر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ جانے ان کے پرسوز لحن میں کیسی تاثیر اور تسخیر رکھی تھی کہ اردگرد کی پوری فضاء ان کی صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی۔
بعض لوگوں نے اسے تأویل کے خراد پر چڑھانے کی کوشش کی ہے اور بعض لوگوں نے الفاظ کے طوطے مینا اڑائے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہاں ایک عظیم پیغمبر کا تذکرہ ہورہا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے جن عظیم نعمتوں سے نوازا ہے اس کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ نہ جانے جن لوگوں کو اس صورتحال کی قبولیت سے انکار ہے کیا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بدگمان ہیں یا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کے معجزات کے منکر ہیں۔ رہیں ان کی تأویلیں تو وہ اگر آیت کے الفاظ ہی پر غور کریں تو وہ تأویلیں الفاظ کا بھی ساتھ نہیں دیتیں۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ خود پروردگار کا ارشاد ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اسے سمجھتے نہیں۔ اب اگر حضرت دائود (علیہ السلام) کو وہ قوت سماعت دے دی گئی جو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیحات کو سن اور سمجھ سکتی تھیں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے۔ اور یا ان کی تسبیح وتحمید کو اللہ تعالیٰ نے وہ پذیرائی بخشی کہ پہاڑ اور جانور بھی اس میں شریک کردیئے گئے اور ایک غیرمعمولی بات پیدا کردی گئی تو اس میں بھی حیرانی کی بات کیا ہے۔ دکھانا تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی اوّابیّت کو وہ پذیرائی عطا فرمائی کہ پورا ماحول ان کی برکت سے اس صفت سے موصوف ہوگیا اور ہر طرف سے تسبیح وتحمید کی آوازیں گونجنے لگیں۔
Ayah 38:20وَشَدَدْنَا مُلْـکَہٗ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 20)
(ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی مستحکم حکومت کا اصل سبب
اوپر آیت 17 میں ذَا الْاَیْدِ کے لفظ سے حضرت دائود (علیہ السلام) کی قوت و صولت کو بیان کیا گیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اسی کی وضاحت ہے کہ ہم نے دائود کو جو ہیبت و صولت عطا کی تھی اس کا سبب یہ تھا کہ ہم نے انھیں ایک مستحکم حکومت سے نوازا تھا۔ اور اس حکومت کے استحکام کے لیے ہم نے ان کو حکمت بھی عطا کی تھی اور فصلِ خطاب سے بھی بہرہ ور فرمایا تھا۔ یعنی ایسا نہیں کہ غیرمعمولی طریقے سے ہم نے انھیں حکومت تو دے دی ہو لیکن وہ کما حقہ اس کو چلانے پر قادر نہ ہوں۔ ہم نے اس صلاحیت سے بھی انھیں مالامال کیا تھا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ انسانوں کے شیرازے کو باندھ کے رکھنا، ان کے معاملات میں خرابی پیدا نہ ہونے دینا، انسانوں کو طبقات میں تقسیم ہونے سے بچانا، وسائلِ زندگی کی منصفانہ تقسیم اور ہر شخص تک سستا انصاف پہنچنا، کمزور آدمی کو جرأت دلانا اور مضبوط آدمی کو حدود میں رکھنا، خیر اور بھلائی کی قوتوں کو توانا کرنا اور شر اور فساد کے سوتوں کو خشک کرنا کیونکر ممکن ہوتا ہے۔ ہر معاملے کو گہرائی تک جانچنا اور وقت سے پہلے اٹھنے والے طوفانوں کا اندازہ کرنا اور اس کے سامنے بند باندھنا یہ وہ حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو بہرہ ور فرمایا تھا اور ساتھ ہی دوسری چیز یہ بھی عطا فرمائی تھی کہ وہ ہر بات کی تہہ تک اترنے اور ہر معاملے کی حقیقت کو جاننے اور پھر اس کو پورے دلائل کے ساتھ مخاطب تک پہنچانے اور فیصلے کی صورت دینے کی بھی انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملے کی حقیقت ان پر پنہاں نہ رہتی تھی۔ اور مشکل سے مشکل بات کو پانی کردینا ان کے لیے بہت آسان بات تھی۔ وہ ہر بات کو دوٹوک انداز میں بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں عقل و فہم میں کمال بخشا تھا اسی طرح ان کو اعلیٰ درجے کی قادرالکلامی بھی عطا فرمائی تھی۔
Ayahs 38:21–22وَھَلْ اَتٰـکَ نَبَؤُا الْخَصْمِ م اِذْتَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ قَالُوْا لاَ تَخَفْ ج خَصْمٰنِ بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلاَ تُشْطِطْ وَاھْدِنَـآ اِلٰی سَوَآئِ الصِّرَاطِ ۔ (صٓ: 21، 22)
(کیا آئی ہے تمہارے پاس خبر ان فریقوں کی جبکہ وہ دیوار پھاند کرمحراب میں گھس گئے۔ جبکہ وہ دائود کے پاس پہنچے تو وہ ان سے گھبرایا، وہ بولے ڈریئے نہیں ہم دو فریقِ معاملہ ہیں۔ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے، کوئی بےانصافی نہ کیجیے، اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کیجیے۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی حکمت و دانش کے اثرات
اوپر کی آیات میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی حکمت و دانش، آپ کی عبادت و ریاضت، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آپ کا والہانہ عشق، آپ کی مضبوط حکومت، آپ کا عدل و انصاف اور اس حوالے سے بات کی تہ تک پہنچنا اور پھر نہایت سلیقے سے فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت جیسی خوبیوں کو بیان کرنے کے بعد ایک ایسا واقعہ بیان کیا جارہا ہے جس سے آپ کی تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔
اس واقعہ کو پڑھ کر فوری طور پر جو تأثرات ذہن میں ابھرتے ہیں ان میں پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) عدل و انصاف میں جس غیرمعمولی طریقے پر عامل تھے ان میں سب سے پہلی بات یہ تھی کہ آپ کی نگاہ میں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ تھا۔ کوئی غریب شخص اگر اپنا ایک جائز حق رکھتا تھا تو اس کی غربت اس کے لیے کمزوری کا باعث نہ تھی۔ اور کوئی امیر شخص بغیر حق کے اگر کسی چیز کا دعویدار تھا تو اس کی امارت اس کے لیے معاون نہیں بن سکتی تھی۔ ان کی عدالت سے ہر شخص کو بےلاگ انصاف ملتا تھا۔
دوسری بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ ان کے مسلسل عادلانہ رویئے سے لوگوں میں ایک ایسا اعتماد پیدا ہوگیا تھا کہ ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی ظلم کا ستایا ہوا ہو آپ کی عدالت میں پہنچ کر اور بےجھجک اپنا معاملہ آپ کے سامنے رکھ کر مطمئن ہوجاتا تھا کہ اب میرے حق کے ملنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس اعتماد نے لوگوں میں ایک ایسی جسارت پیدا کردی تھی کہ وہ وقت اور بےوقت آپ سے انصاف کے حصول کے لیے آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ وقت چاہے آپ کے آرام کا ہوتا یا آپ کی عبادت کا، انھیں ہرگز اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ ایسے بےوقت جانے سے آپ ناراض ہوسکتے ہیں۔ بلکہ انھیں خیال یہ تھا کہ جتنا ایک حق کا طلبگار اپنے حق کے لیے بےچین ہوتا ہے حضرت دائود (علیہ السلام) حقدار کو حق پہنچانے میں اس سے زیادہ بےچین ہوتے ہیں۔
اور تیسری بات جو نہایت حیران کن ہے وہ یہ تھی کہ آپ کو دوسروں کے معاملات سنتے ہوئے اگر کبھی اپنی کسی کوتاہی پر تنبہ ہوجاتا تو آپ استغفار کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے میں تاخیر نہیں کرتے تھے۔ چناچہ ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اس واقعہ کو دیکھتے ہیں جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے تو اس واقعہ کی اصل روح سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔
چند مشکل الفاظ کی تشریح
ھَلْ اَتٰـکَ کا اسلوبِ خطاب ہمیشہ واحد کے لیے نہیں بلکہ جمع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ جب کسی واقعہ کی خبر اس اسلوب سے دی جاتی ہے تو بالعموم اس کی اہمیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
الْخَصْمِ فریق، مقابل اور دشمن کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ لفظی اعتبار سے واحد ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اِذْتَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ، تَسَوَّرُ کے اصل معنی تو دیوار پر چڑھنے کے ہیں، لیکن کبھی کبھی یہ داخل ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے یہ دونوں معنی کو متضمن ہے۔ یعنی اس میں چڑھنا اور داخل ہونا دونوں معنی شامل ہیں۔
الْمِحْرَابَاس کا معنی محل بھی ہوتا ہے اور محل کا کوئی کمرہ بھی۔ بعض دفعہ ہر عمارت کے سامنے کے حصے پر بھی محراب کا اطلاق ہوتا ہے۔
اصل واقعہ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک معاملے میں دو فریقوں کا آپس میں جھگڑا ہوا، دونوں میں سے ایک امیر آدمی ہے اور دوسرا غریب۔ غریب نے امیر سے کہا کہ تم جس بات کے لیے مجھ پر دبائو ڈال رہے ہو، بہتر ہے ہم اس کا فیصلہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے کروا لیں۔ اس نے ممکن ہے عدالت کا وقت گزر جانے کا عذر کیا ہو۔ لیکن غریب آدمی نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزاج کو جانتے ہوئے اصرار کیا کہ کوئی بات نہیں ہم کسی وقت بھی ان کے پاس پہنچ جائیں، ہمیں ان سے انصاف ضرور ملے گا۔ چناچہ دونوں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایسے وقت میں آپ کے پاس پہنچے جو وقت آپ کی عبادت کے لیے مخصوص تھا۔ فصلِ مقدمات کا وقت گزر چکا تھا۔ صدر دروازے پر پہرہ داروں نے انھیں اس ناوقت محل کے اندر داخل ہونے سے روکا۔ لیکن یہ کسی طرح پہرہ داروں کی نظر بچا کر کسی دوسری طرف سے محل میں جا گھسے اور اچانک حضرت دائود (علیہ السلام) کے سامنے جا پہنچے۔ ان کا اس طرح دیوار پھاند کر ناوقت حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس پہنچنا یقینا ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس لیے حضرت دائود (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرائے۔ آپ نے خیال کیا کہ یہ کوئی ڈاکو ہیں اور یا میرے دشمن ہیں۔ لیکن داخل ہونے والوں نے ان کو اطمینان دلایا کہ ہم دشمن نہیں ہیں آپ ہم سے کوئی اندیشہ نہ کریں، بلکہ ایک مقدمہ ہم آپ کے پاس لے کے آئے ہیں اور ہم دونوں مقدمہ کے فریق ہیں۔ اس مقدمے میں ہم میں سے ایک نے دوسرے سے زیادتی کی ہے اس لیے آپ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی طبعی فیاضی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ فیصلہ میں کسی طرح کی طرفداری اور ناانصافی نہ کریں، بلکہ صراط مستقیم کی طرف ہمیں رہنمائی بخشیں۔ اگرچہ ان لوگوں نے ڈاکوئوں کی طرح محل میں گھس کر اور ناوقت آپ کے پاس پہنچ کر اور حد سے بڑھی ہوئی بےباکی سے گفتگو کرکے اچھے اخلاق کا ثبوت نہیں دیا تھا بلکہ ان میں سے ہر بات سزا کی طالب تھی۔ لیکن حضرت دائود (علیہ السلام) نے ان میں سے کسی بات کا نوٹس نہیں لیا، آپ فوراً ان کے معاملے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
Ayah 38:23اِنَّ ھٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ قف فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 23)
(بیشک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، پس میرے اس بھائی نے کہا کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور جھگڑے میں اس نے مجھے دبا لیا۔ )
تنازع کی تفصیل
ان دونوں کے درمیان جو تنازع چل رہا تھا یہ اس کی تفصیل ہے۔ جس فریق کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ جو میرے ساتھ دوسرا فریق ہے یہ میرا بھائی ہے، بھائی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا دینی بھائی ہے یا ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں یا ہماری برادری ایک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں۔ یعنی یہ ایک امیر آدمی ہے اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ اپنی ایک دنبی بھی اس کے حوالے کردوں۔ میں نے جب اسے اپنی دنبی دینے سے انکار کیا تو اس نے مجھ سے جھگڑا شروع کردیا۔ اور اب حال یہ ہے کہ یہ جھگڑے میں مجھ پر غالب آگیا ہے۔ یعنی یا تو اس نے اپنی امارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اتنے حمایتی پیدا کرلیے ہیں کہ وہ سب اس کی تائید کرتے ہیں اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زور بیان میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس نے دلائل کے زور سے مجھے خاموش کردیا ہے۔ اب ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان بےلاگ فیصلہ فرمائیں۔