Ayahs 38:62–63وَقَالُوْا مَالَنَا لاَ نَرٰی رِجَالاً کُنَّا نَعُدُّھُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ ۔ اَتَّخَذْنٰـہُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْہُمُ الْاَبْصَارُ ۔ (صٓ: 62، 63)
(اور وہ آپس میں کہیں گے کیا بات ہے، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنھیں ہم دنیا میں اشرار میں سے شمار کرتے تھے۔ کیا ہم نے یونہی ان کو مذاق بنایا تھا یا ان سے نگاہیں چوک رہی ہیں۔ )
پھر اچانک انھیں خیال آئے گا کہ ہم تو دنیا میں یہ کہا کرتے تھے کہ جس پروردگار نے ہمیں دنیا کی دولت اور سربلندی سے سرفراز کیا ہے وہ یقینا ہم سے خوش ہے۔ اور ہمیں اس کی رضا حاصل ہے۔ اس رضا کا لازمی نتیجہ ہے کہ اگر قیامت آ ہی گئی تو بجائے سزا کے ہمیں وہاں بھی نوازا جائے گا۔ اور یہ مسلمان جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے مقبول و منظور بندے سمجھتے ہیں۔ یہ جس طرح دنیا میں پامال اور مہجور ہیں قیامت کے دن بھی یہ بدترین عذاب کا شکار ہوں گے اور آج جس طرح سے انھوں نے ہمارے دیوتائوں کی توہین کی ہے اور ہماری قومی وحدت کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اس جرم میں مزید پکڑے جائیں گے۔ اس لحاظ سے ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کو اشرار میں شمار کرتے تھے۔ لیکن آج ہم یہاں انھیں کہیں نہیں دیکھ رہے۔ اس کے دو ہی مطلب ہوسکتے ہیں یا تو یہ کہ وہ لوگ اشرار میں سے نہیں بلکہ اخیار میں سے تھے، اور ہم نے بلاوجہ ان کا مذاق بنا رکھا تھا۔ اور یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہیں کہیں ہوں گے لیکن ان سے ہماری نگاہیں چوک رہی ہیں اور وہ ہمیں کہیں نظر نہیں آرہے۔
Ayah 38:64اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ۔ (صٓ: 46)
(بےشک اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا اور توتکار واقعی حق اور امرواقعی ہے۔ )
آیاتِ بالا میں اہل دوزخ کی جس باہمی توتکار اور جھگڑے کا ذکر فرمایا گیا ہے اسے کوئی شخص زیب داستان نہ سمجھے، یہ ایک حقیقت اور امرواقعی ہے۔ قیامت کے دن ایسا ہی ہوگا۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں مختلف کردار ادا کررہے ہیں، کوئی رہنمائی کا فرض انجام دے رہا ہے اور کوئی سپوٹ کررہا ہے۔ جب قیامت میں اپنے انجام کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالیں گے۔ اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے۔ لیکن یہ جھگڑا اور باہمی لڑائی ان کے کسی کام نہیں آئے گی، دونوں اپنے بدترین تھکانوں کے حوالے کردیئے جائیں گے۔
Ayah 38:65قُلْ اِنَّمَـآ اَنَا مُنْذِرٌ صلے ق وَّمَا مِنْ اِلٰـہٍ اِلاَّ اللّٰہُ الْوَاحِدُالْقَھَّارُ ۔ (صٓ: 65)
(کہہ دیجیے کہ میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں اور کوئی حقیقی معبود نہیں، مگر اللہ، جو یکتا ہے اور سب کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کا منصب اور مخالفین کو انذار
یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی اصل حیثیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ گزشتہ رکوعوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید پر مخالفین نے اعتراضات کیے، اسی طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر بھی جابجا سوالات اٹھائے۔ اور قرآن کریم نے وہیں ان کا جواب بھی دیا۔ یہاں پھر اسی مضمون کا اعادہ کرتے ہوئے اسلوب میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور دلائل میں بھی۔ نہایت حکیمانہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ان لوگوں سے کہیے کہ تم میری نبوت و رسالت کا انکار کر کے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے ہو بلکہ درحقیقت اپنے انجام کی طرف سے بےاعتنائی کا شکار ہورہے ہو۔ میں تو صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں خبردار کروں کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی توحید کو اختیار نہ کیا اور اسی کو اِلٰہ مان کر باقی سب معبودوں کے انکار پر اپنے افکار و اعمال کی بنیاد نہ رکھی تو تم دنیا میں بھی خطرے کی زد میں ہو اور آخرت میں بھی بڑی سخت صورتحال پیش آنے والی ہے۔ اس لیے میری نصیحت پر کان دھرو اور اس بات پر یقین پیدا کرو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں، وہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے اور پوری کائنات کو وہ تنہا کنٹرول کرنے والا ہے۔ قہر کا معنی وہ نہیں جو اردو میں استعمال ہوتا ہے بلکہ عربی میں اس کا معنی کنٹرول کرنا ہے۔ اور قہار کنٹرول کرنے والے کو کہتے ہیں۔ اور یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ مشرکین کو بالعموم یہ اشکال تھا کہ جس طرح بڑے سے بڑا شہنشاہ بھی تنہا اپنی مملکت کا نظام چلانے سے قاصر ہے اسے لازماً درجہ بدرجہ عمال حکومت کا تقرر کرنا پڑتا ہے، وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں نظم مملکت چلاتے ہیں اور درجہ بدرجہ شہنشاہ تک اس کی رپورٹ پہنچاتے ہیں۔ یہی حال پروردگارِعالم کا بھی ہے۔ وہ کائنات کا نظام تنہا نہیں چلاتا بلکہ اس نے اپنے اختیارات مختلف قوتوں کے سپرد کر رکھے ہیں اور ان کی مدد سے کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ قہار ہے، اسے کسی اور کی مدد کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اس کا علم بھی بےحد و بےکنار ہے اور اس کی قدرت بھی لاانتہاء ہے۔ وہ واحد و یکتا ہونے کے باوجود اپنی ہر مخلوق کے قریب ہے۔ جب کوئی اسے پکارنے والا پکارتا ہے وہ اس کی پکار سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے۔
Ayah 38:66رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاالْعَزِیْزُالْغَفَّارُ ۔ (صٓ: 66)
(وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، غالب اور بخشنے والا۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی آسمانوں، زمینوں اور ان دونوں کے درمیان کی تمام مخلوقات کا خالق اور مالک اور روزی رساں ہے۔ ہر مخلوق کی ضرورتیں اس کے سامنے کھلی رہتی ہیں۔ وہ کسی مخلوق کی نہ کسی ضرورت سے بیخبر ہوتا ہے اور نہ اس کے احساسات سے۔ جو اسے پکارتا ہے اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہے۔ ایسی ذات جو پوری کائنات کی مالک ہو اور اس کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کو روزی پہنچانے والی ہو اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت اور کوئی احساس اس کے علم سے باہر نہ ہو، اس کے سوا کوئی اور اِلٰہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا میں اس لیے گرفت نہیں فرماتا کیونکہ وہ غفار ہے۔ لیکن اتمامِ حجت کے بعد بعض دفعہ گرفت بھی فرماتا ہے۔ لیکن قیامت کا دن چونکہ یوم جزاء اور انصاف کا دن ہے اس لیے وہاں سب سے جواب طلبی کرے گا اور اس وقت یہ بات کھل جائے گی کہ وہ سب پر غالب اور زبردست ہے کوئی اس کے حکم اور گرفت سے باہر نہیں۔ دوسرا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عزیز ہے یعنی کسی حال میں کوئی شخص بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب اور مقتدر ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ غفار بھی ہے۔ اس لیے جو اس کی رحمت و مغفرت کے حقدار ہوں گے ان کو بہت بخشنے والا ہے۔ کوئی ذات ایسی نہیں جو اس کے جودوکرم پر پہرہ بٹھا سکے اور کسی کو اس کی بخشش سے محروم کرسکے۔ ان دونوں صفات کو جب ملا کر دیکھیں تو اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح کوئی نافرمانی اور سرتابی کرنے والا اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اسی طرح اس کے فرماں بردار بندوں کو کسی ظلم یا ناانصافی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ آدمی کا ایمان و عمل اللہ تعالیٰ کے فضل کے لیے سب سے بڑی سفارش ہے جو سفارشی لوگوں نے فرض کر رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayahs 38:67–68قُلْ ھُوَ نَبَـؤٌا عَظِیْمٌ۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ۔ (صٓ: 67، 68)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ وہ ایک عظیم خبر ہے۔ اور تم اس سے اعراض کررہے ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت
نبی کریم ﷺ کی حیثیت اور آپ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں جس بات سے انذار کررہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس کے اقرار و انکار پر تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ کیونکہ جیسے پہلے رکوع میں کہا گیا کہ تمہارے لیے یہ بات نہایت اچنبھے کی ہے کہ تمہیں یہ کہا جائے کہ تم نے جو متعدد معبود اور اِلٰہ بنا رکھے ہیں، یہ سب غلط ہیں، اِلٰہ صرف ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور ان کے درمیان رہنے والی تمام مخلوقات کا رب ہے۔ تو تمہیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی اور تم اسے بہت عجیب بات اور خطرناک بات سمجھتے ہو۔ حالانکہ اس کائنات کی حقیقت معرض خطر میں پڑجاتی ہے اگر اس کے خالق ومالک کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ اس کے خالق ومالک اور اِلٰہ کی وحدانیت ہی اس کائنات کے وجود کی وہ حقیقی توجیہ ہے جس سے کائنات کی ایک ایک چول ٹھیک بیٹھ جاتی ہے۔ ورنہ بیشمار سوالات ہیں جن کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ اسی طرح انسان کے زمین پر خلیفہ ہونے اور اس کی زندگی کا ایک مقصد متعین ہونے اور پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور کو قبول کرنے پر انسان کی تمام تر زندگی کا دارومدار ہے اور اسی سے اس کی دنیا و آخرت میں ایک رابطہ پیدا ہوتا ہے اور اسی سے اس کی زندگی کو ٹھیک نہج اور منزل ملتی ہے۔ اور اس کے لیے ایک صراط مستقیم کا تصور واضح ہوتا ہے۔ اندازہ کیجیے اگر اس کا انکار کردیا جائے تو یہ کتنے بڑے خطرے کی بات ہے۔ لیکن حیرانی یہ ہے کہ تم مسلسل اس سے اعراض کررہے ہو۔ تم نے شرک کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات کو نہ جانے کہاں کہاں تقسیم کر رکھا ہے، اپنی زندگی کو بےمقصد ٹھہرا کر اپنے آپ کو شتر بےمہار کا درجہ دے رکھا ہے۔ دنیا ہی کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دے کر اپنی قوت تسخیر پر پہرے بٹھا رکھے ہیں اور اپنی ذات کو بلندیوں سے اتار کر حیوان کی سطح پر محدود کردیا ہے۔ اس کے جو خطرناک نتائج دنیا و آخرت میں نکلنے والے اور نکل رہے ہیں میں تمہیں اس سے خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں۔
Ayahs 38:69–70مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍ م بِالْمَلَاِالْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلاَّ ٓاَنَّمَـآ اَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (صٓ: 69، 70)
(مجھے ملائِ اعلیٰ کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے۔ یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیرمبین ہوں۔ )
آپ ﷺ کے نذیر ہونے پر دلیل
آپ کے نذیر مبین ہونے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جو تمہیں ایسی بڑی بڑی خبریں دے رہا ہوں جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے تو اس سے تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں یہ سب باتیں اپنی طرف سے بنا کر تمہیں مرعوب کرنے کے لیے ایسا کررہا ہوں۔ اس سے پہلے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کی میں نے جو خبر تمہیں دی ہے وہ محض کوئی افسانہ نہیں جسے میں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کے لیے مبعوث کیا ہے اور مجھے تمہاری طرف نذیرمبین بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی اور نبی اور رسول آنے والا نہیں۔ میں اہل دنیا کو پوری طرح آگاہ کرنے کے لیے آیا ہوں کہ اگر انھوں نے ان حقائق کو تسلیم نہ کیا تو وہ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ اسی وجہ سے یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہیں اور میں ایک نذیرمبین کی حیثیت سے لوگوں تک ان باتوں کو پہنچاتا ہوں۔
اہلِ عرب کی یہ عادت تھی کہ جب ان میں سے کسی شخص کو اچانک یہ خبر ہوتی کہ کوئی قبیلہ ان پر شب خون مارنے والا ہے یا کوئی بڑی فوج ان پر حملہ آور ہورہی ہے تو وہ اپنے قبیلے یا اپنی قوم کو تباہی سے بچانے کے لیے سرپٹ اپنی سواری پر دوڑ پڑتا۔ اگر اونٹ پر سوار ہوتا تو اونٹ کی ناک چیر دیتا، اپنے کپڑے پھاڑ دیتا اور انتہائی دہشت ناک آواز میں لوگوں کو اس خطرے کی طرف متوجہ کرتا۔ ایسے شخص کو نذیر عریان کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے والا۔ قرآن کریم چونکہ نہایت مہذب اور سنجیدہ کتاب ہے اس لیے اس نے عریان کو مبین سے بدل دیا ہے۔ مفہوم اس کا وہی ہے کہ جس طرح وہ ڈرانے والا انتہائی بےچینی، بےکلی اور پوری قوت سے چیخ چیخ کر اپنی قوم کو خطرے سے آگاہ کرتا ہے، میں بھی تمہیں آنے والے خطرے سے آگاہ کررہا ہوں۔ اور یہ اس لیے نہیں کہ یہ میرا اپنا احساس ہے بلکہ میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی مجھ پر اترتی ہے اور اس کی وجہ سے میں اس خطرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کوہ صفا پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ نے اپنی قوم سے جب یہ اطمینان حاصل کرلیا کہ وہ آپ کو انتہائی سچا انسان سمجھتی ہے اور آپ کی ہر خبر پر یقین رکھتی ہے تب آپ نے فرمایا :
کہا گر مری بات یہ دلنشیں ہے
تو سمجھو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے
کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
پھر اس کی تائید میں فرمایا کہ ملائِ اعلیٰ میں جب پروردگار نے آدم کو خلیفہ بنانے کا اظہار فرمایا تو فرشتوں نے اس پر بعض سوالات کیے اور پروردگار نے نہایت شفقت سے اس کا جواب ارشاد فرمایا۔ قرآن کریم نے شفقت ہی کے انداز میں فرشتوں کے سوالات کو اختصام سے تعبیر کیا جس کا ہم عام طور پر جھگڑے سے ترجمہ کرتے ہیں۔ لیکن دنیا میں اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو بتائیے کہ میں یہ پورا واقعہ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ میری طرف یہ باتیں وحی کی جاتی ہیں۔ کیونکہ میرے نذیر مبین ہونے کے لیے ان باتوں کا جاننا ضروری ہے تاکہ میں تمہیں ان کے نتائج سے آگاہ کرسکوں۔
Ayahs 38:71–74اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُـہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَـہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط اِسْتَـکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (صٓ: 71 تا 74)
(اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ بجز ابلیس کے، اس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ )
اس بات کی تائید میں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر وحی کی جاتی ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا ماجرا بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ماجرا پیچھے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ گزر چکا ہے اور وہاں پوری طرح اس کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، بالخصوص سورة البقرۃ میں اس کے ایک ایک جزو کی وضاحت گزر چکی ہے اس لیے یہاں ہر بات کی وضاحت کی ضرورت تو نہیں البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ واقعہ یہاں کیوں لایا گیا ہے۔
اس واقعہ کے تذکرہ کے اسباب
اس واقعہ کو یہاں لانے کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ آنحضرت ﷺ کا توحید پر اصرار تھا۔ لیکن مشرکین کسی طرح بھی اپنے مشرکانہ رویئے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ بہت سی مخلوقات میں عظمت و قوت کے مظاہر کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو ان سے پست سمجھتے تھے اس لیے ان کے سامنے جھکتے، استمداد کرتے اور بندگی بجا لاتے تھے۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ واقعہ لا کر بتایا گیا ہے کہ تم حضرت آدم کی اولاد ہو۔ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے پاکیزہ اور سب سے عزت والے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے جدِامجد ملائکہ کے مسجود ہیں۔ اس لحاظ سے تمہیں ملائکہ پر بھی برتری حاصل ہے۔ رہیں باقی مخلوقات ان کا درجہ تو بہت بعد میں ہے۔ تو جب تم ملائکہ یا دوسری مخلوقات کے سامنے جھکتے ہو، انھیں اپنا مرجع و ماویٰ بنا کر اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم کس قدر غلطی کا ارتکاب کرتے ہو۔ کیا مسجود کبھی اپنے ساجد کے سامنے جھکتا ہے۔ کیا بہتر کہتر کے سامنے بندگی بجا لاتا ہے۔ تم کس قدر غلط فیصلے کرتے ہو۔
دوسری وجہ اس واقعہ کو لانے کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ مخالفین کے ہاں یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت کا تاج اس شخص کے سر پر رکھنا چاہیے جو دولت و ثروت کے لحاظ سے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ ہم لوگ اور ہمارے سردار چونکہ دولت و ثروت میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور نبوت کا دعویٰ کرنے والا دولت و ثروت دونوں سے تہی دامن ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص جسے معاشرے میں عزت و عظمت حاصل ہے اور جسے اس کی امارت کے باعث بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے وہ اس غریب اور نادار آدمی کو نبی تسلیم کرلے جسے معاشرے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ اس واقعہ کا آئینہ دکھا کر قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم بھی تکبر اور نخوت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اور یہی وہ گھمنڈ اور استکبار ہے جس نے ابلیس کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکنے سے روک دیا۔ اور اس کی پاداش میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کا مستحق ٹھہرا۔ تم بھی اسی راستے پر چل کر اور ابلیس کی سنت کو دہرا کر یقینا اس انجام کی طرف بڑھ رہے ہو جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہوا ہے۔ تم خود اندازہ کرسکتے ہو کہ تمہارا یہ رویہ کس قدر غلط ہے۔
Ayah 38:75قَالَ یٰٓـاِبْلِیْسُ مَامَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَلِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ط اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ۔ (صٓ: 75)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابلیس ! کس چیز نے تجھے اس چیز کو سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، یہ تو نے تکبر کیا یا تو اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ہے۔ )
ابلیس پر عتاب اور استفسار
اللہ تعالیٰ نے ابلیس پر عتاب فرماتے ہوئے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح فرمائی کہ جس ذات کو تمہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تم نے صرف اس کی ذات کو دیکھا اور ان بنیادی عناصر پر توجہ کی جس سے اس کا قالب تیار ہوا تھا۔ لیکن تم نے یہ نہ دیکھا کہ اسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اسے خاص اہتمام سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو اس کے شرف اور کرامت پر دلالت کرتا ہے جبکہ تم اور باقی مخلوقات تخلیق کے عام طریقے کے مطابق وجود میں آئے ہو۔ تمہیں اس سے یہ بات سمجھ لینا چاہیے تھی کہ یہ نئی بننے والی مخلوق یقینا اپنے اندر وہ فضیلت رکھتی ہے جو دوسری مخلوقات کو حاصل نہیں۔ لیکن اس قدر نمایاں حقیقت کو نظرانداز کرنے کی دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا تو تم نے تکبر سے کام لیا ہے جو انتہائی قابل نفرت خصلت ہے۔ اور یا تم اپنے آپ کو اونچے درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہو۔
Ayah 38:76قَالَ اَنَا خَیْرٌمِّنْہُ ط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ۔ (صٓ: 76)
(اس نے جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے مٹی سے پیدا کیا۔ )
ابلیس کی فکری کجی
ابلیس نے جواب دیا کہ میرے سجدہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس سے بہتر اور برتر ہوں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے، اور آگ مٹی سے افضل ہے۔ کیونکہ آگ کی سرشت میں بلندی کی طرف اٹھنا اور پرواز کرنا ہے۔ اور مٹی کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہے۔ تو بلندی پستی کے سامنے کیسے جھک سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ابلیس نے اپنی برتری کی بنیاد صفات پر نہیں بلکہ صرف نسب اور خاندان پر رکھی ہے۔ حالانکہ برتری صفات سے ملتی ہے، نسب اور خاندان سے نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے اگر اپنی قدرت سے مٹی کے ایک لوندے سے اپنا ایک شاہکار تیار کردیا تو اس کا اس لیے انکار کردیا جائے کہ وہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ غلط بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور یہی وہ منطق ہے جو اشرافِ قریش نبی کریم ﷺ اور آپ کے غریب ساتھیوں کے مقابلے میں پیش کرتے تھے کہ اگر نبوت کے لیے کسی کو منتخب کرنا ہی تھا تو ہم میں سے کسی کو منتخب کیا جاتا۔ محمد ﷺ جیسا بےمایہ آدمی کس طرح اس کا سزاوار ہوسکتا ہے۔ اور اب اگر وہ یہ دعویٰ کررہا ہے تو ہم اسے کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔
Ayahs 38:77–78قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّـکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْٓ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (صٓ: 77، 78)
(حکم ہوا، تو یہاں سے نکل جا، بیشک تو مردود ہے۔ اور بیشک تیرے اوپر جزاء کے دن تک میری لعنت ہے۔ )
رجیم کا معنی مردود، پھینکا ہوا اور دھتکارا ہوا کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے سورة الاعراف میں اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ فَاخْرُجْ اِنَّـک مِنَ الصَّاغِرِیْنَ ” پس نکل جا، تو ذلیل ہستیوں میں سے ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے مردود ہونے میں ذلیل ہونا بھی شامل ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملے جو ابلیس کو برا نہ کہتا ہو اور اس سے نفرت نہ کرتا ہو۔
سوال یہ ہے کہ ابلیس کو کہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعض اہل علم نے بات کو لپیٹتے ہوئے کہا کہ جس جگہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اور جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے آگے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا اور جہاں ابلیس نے حکم سے سرتابی کی، وہی جگہ مراد ہے۔ لیکن اکثر آئمہ تفسیر اس سے جنت مراد لیتے ہیں کہ اس سے پہلے یہ فرشتوں کے ساتھ جنت ہی میں رہتا تھا، پھر وہاں سے اسے نکال دیا گیا۔
یہ جو فرمایا گیا ہے کہ یوم الجزاء تک تجھ پر میری لعنت ہوگی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یوم الجزاء کے بعد اس پر لعنت نہ ہوگی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزاء تک تو اس پر لعنت اس حکم عدولی کی وجہ سے ہوگی جو اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرکے کی ہے اور اس کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیقِ آدم کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے۔
Ayahs 38:79–81قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّـکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (صٓ: 79 تا 81)
(ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس وقت تک کے لیے مہلت دے دے، جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ پروردگار نے فرمایا : تجھ کو مہلت دی گئی۔ وقت معین تک کے لیے۔ )
قیامت تک لعنت کی سزا سننے کے بعد ابلیس نے گمان کیا کہ شاید اس کی مہلت عمل ختم کی جارہی ہے جبکہ وہ دل میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ میرے جنت سے نکلنے اور میرے تمام مناصب سے محروم ہونے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیئے جانے کا سبب چونکہ آدم ہوئے ہیں، اس لیے جب تک میں زندہ ہوں میں اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ اور اس طرح سے میں آدم اور اس کی اولاد سے انتقام لینے کی کوشش کروں گا۔ اس لیے اس نے فوراً پروردگار سے درخواست کی کہ اسے اس دن تک کے لیے مہلت دی جائے جس دن لوگ اپنے اعمال کے حساب کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی۔
Ayahs 38:82–83قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (صٓ: 82، 83)
(اس نے کہا تیری عظمت کی قسم، میں ان سب کو بہکا کر رہوں گا۔ بجز تیرے ان بندوں کے جنھیں تو نے خاص کرلیا ہے۔ )
جیسے ہی اسے مہلت ملی اور اسے اطمینان ہوگیا کہ اب میں اپنی انتقامی کارروائی میں آزاد ہوں تو اس نے نہایت طنطنہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت کی قسم کھا کر کہا کہ اب میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ میں ان میں سے ہر ایک کو بہکائوں گا اور یہ میرے بہکانے کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ بجز ان لوگوں کے جنھیں تو نے بندگی کے لیے خاص کرلیا ہے۔ اس طرح سے میں یہ ثابت کردوں گا کہ میرا آدم کو سجدہ نہ کرنا کوئی غلط فیصلہ نہ تھا۔ وہ اس عزت و شرف کا ہرگز اہل نہ تھا جو اسے عطا کردیا گیا۔
Ayahs 38:84–85قَالَ فَالْحَقُّ ز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ ۔ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْـکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (صٓ: 84، 85)
(ارشاد ہوا، پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں۔ کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے جہنم کو بھردوں گا۔ )
شیطان کے چیلنج کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا اور نہایت بےنیازی سے فرمایا کہ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم سب کو گمراہ کرکے چھوڑو گے، تو میں تم سے یہ کہتا ہوں اور تم خوب جانتے ہو کہ یہی بات حق ہے اور میں ہمیشہ حق ہی کہتا ہوں کہ میں تمہیں بھی اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو بھی جہنم میں ڈالوں گا اور ایسے ہی لوگوں سے جہنم کو بھروں گا۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ میں تجھ سے اور تیرے پیرو کاروں سے جہنم کو بھروں گا تو اس سے مراد صرف ابلیس نہیں بلکہ پورا گروہ شیاطین جو اس کے ساتھ مل کر نوع انسانی کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے، مراد ہے۔
Ayahs 38:86–88قُلْ مَـآ اَسْئَـلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍوَّمَـآ اَنَا مِنَ الْمُتَـکَلِّفِیْن۔ َ اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ ۔ (صٓ: 86 تا 88)
(اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی عوض نہیں مانگتا، اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہاں والوں کے لیے۔ اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تم اس کی دی ہوئی خبر کو جان لو گے۔ )
تین قابل توجہ حقائق
بڑے سے بڑا کام کرنے والوں اور عظیم سے عظیم شخصیتوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں تین ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر کام کرنے والے کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ شخص جو اتنی جان مار کر کام کررہا ہے اور اتنی مخالفتیں برداشت کررہا ہے اور اس نے اسے زندگی کی سب سے بڑی ترجیح بنا رکھا ہے یقینا اس کا اس میں کوئی نہ کوئی مفاد ہے۔ اسے کہیں نہ کہیں سے اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ ہر کام کرنے والے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذاتی شہرت اور اپنی ذات کی بڑائی اور اپنے آپ کو ناگزیر ثابت کرنے کے لیے وہ ایسی باتوں کا دعویٰ کررہا ہے جن کا اس سے کسی طرح کا تعلق نہیں۔ جیسے ہی اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اب وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے تو پھر وہ کبھی بھول کر بھی ان باتوں کا نام نہیں لے گا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اصل میں اس شخص کے دو چہرے ہیں، حقیقت کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور۔
اور تیسری یہ بات کہ وہ اپنی بات کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں جن خدشات کا اظہار کرتا ہے اور اپنی بات کے وقوع پذیر ہونے کو جس حتمی انداز میں پیش کرتا ہے یہ سراسر دعوے ہیں، انھیں شاید کبھی تعبیر نہ مل سکے۔ یہی تینوں باتیں نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی کہی جاتی تھیں۔ ان تین آیتوں میں ان ہی تین باتوں کا جواب دیا گیا ہے اور جواب بھی آنحضرت ﷺ سے دلوایا گیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں جو دعوت تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں میں اس پر تم سے کسی صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں صلہ سے محروم رہ جاؤں گا۔ میں تو اس عظیم کام کے لیے اپنا وقت، اپنا کاروبار، اپنا سرمایہ، اپنے تعلقات، اپنی قرابتداریاں، غرضیکہ سب جھونک چکا ہوں۔ اگر اس میں کسی مفاد اور صلے کی آمیزش ہوتی تو میں یہ قربانیاں کبھی نہ کرتا۔ اس لیے تمہیں یکسو ہوجانا چاہیے کہ یہ ایک فریضہ ہے جسے میں ادا کررہا ہوں اور فرائض صلے کی امید پر ادا نہیں کیے جاتے۔
دوسری یہ بات کہ میں نے یہ بارگراں خود اپنی خواہش سے نہیں اٹھایا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک ذمہ داری ہے جسے میں ادا کررہا ہوں۔ میری چالیس سالہ زندگی اس پر گواہ ہے کہ مجھ سے کبھی کسی شخص نے اس مقصد کے حوالے سے ایک لفظ تک نہیں سنا تھا۔ اور اپنے آپ کو آگے بڑھانے کے لیے کبھی کسی نے میرے اندر اس کی بو تک نہیں سونگھی تھی۔ اب جبکہ چالیس سال کی عمر کے بعد جوانی کے ولولے سرد ہوگئے ہیں اور اپنی ذات کے لیے کچھ کر گزرنے کی خواہشیں بھی دم توڑ گئی ہیں تو کیا اس عمر میں، میں بہ تکلف اپنے آپ کو اس انداز میں پیش کروں گا جو درحقیقت میں نہیں ہوں تو یہ سوچ سراسر حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
اور تیسری یہ بات کہ میں جس طرح محکم انداز میں اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی دعوت پیش کررہا ہوں اور جس طرح یقین کے ساتھ آنے والی ہر بات کی خبر دے رہا ہوں اگر آج اس کو نہیں مانا جائے گا تو وہ وقت دور نہیں کہ ان میں سے ہر بات ہو کر رہے گی اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب آکر رہے گا۔